Explained with ayahs 45–48
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی۔
اللہ کے ان دونوں رسولوں نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لئے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے۔ اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالم کی طرف سے ان کی تشفی کردی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
سورة طٰهٰ 19
اس واقعے کو بائیبل اور تلمود میں جس طرح بیان کیا گیا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھ لیجیے تاکہ اندازہ ہو کہ قرآن مجید انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کس شان سے کرتا ہے اور بنی اسرائیل کی روایات میں ان کی کیسی تصویر پیش کی گئی ہے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پہلی مرتبہ جب خدا نے موسیٰ سے کہا کہ " اب میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے " تو حضرت موسیٰ نے جواب میں کہا " میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں "۔ پھر خدا نے حضرت موسیٰ کو بہت کچھ سمجھایا، ان کی ڈھارس بندھائی، معجزے عطا کیے، مگر حضرت موسیٰ نے پھر کہا تو یہی کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب کچھ سنتا اور دیکھتا رہوں گا۔ معیت سے مراد نصرت و امداد ہے جس کی پوری حقیقت و کیفیت کا ادراک انسان کو نہیں ہو سکتا۔
موسیٰ ؑ نے فرعون کو دعوت ایمان کے ساتھ اپنی قوم کو معاشی مصیبت سے بھی چھڑانے کی دعوت دی
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) جیسے خلق خدا کو ہدایت ایمان دینے کا منصب رکھتے ہیں اسی طرح اپنی امت کو دنیوی اور معاشی مصائب سے آزاد کرنا بھی ان کے منصب میں شامل ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت فرعون میں دونوں چیزیں شامل ہیں اول اللہ پر ایمان، دوسرے بنی اسرائیل کی آزادی خصوصاً…
Read the full tafseer →آیت 47
انا رسولا ربک اگرچہ رسول کی حیثیت صرف حضرت موسیٰ ہی کو حاصل تھی، حضرت ہارون صرف ایک نبی تھے لیکن یہاں علی سبیل التغلیب دونوں ہی حضرات کے لئے رسول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
فارسل معنا نبی اسرائیل ولاتعذبھم اس آیت کی تفسیر سورة اعراف کی آیات 105-104 کے تحت گزر چکی ہے۔ ہاں ہم نے وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے اور ان لوگوں کے خیال کی تردید بھی کی ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ کی دعوت کو ایک قوم پرست لیڈر کی تحریک آزادی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
آیت سے مراد
قد جئنک بایۃ من ربک یہاں آیت سے مراد دلیل و حجت ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کی تعداد کیا یہ۔…
Read the full tafseer →47۔ 1 یہ سلام تحیہ نہیں ہے، بلکہ امن و سلامتی کی طرف دعوت ہے۔ جیسے نبی ﷺ نے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام مکتوب میں لکھا تھا، و اَسْلِمْ ، تَسْلَمْ ، (اسلام قبول کرلے، سلامتی میں رہے گا) اس طرح مکتوب کے شروع میں آپ نے (وَالسَّلٰمُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى) 20۔ طہ :47) بھی تحریر فرمایا، (ابن کثیر) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مکتوب یا مجلس میں مخاطب کرنا ہو تو اسے انہی الفاظ میں سلام کہا جائے، جو مشروط ہے ہدایت کے اپنانے کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–49
19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فاتیہ فقولاً ……وتولی (83) (02 : 83-83) ” جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “
اللہ نے آغاز ہی میں بتا دیا کہ ان کی رسالت کی دعوت کیا ہے۔
انا رسول ربک (83) ” ہم تیرے رب کے دو فرستادے ہیں۔ “ پہلی آاز میں اس کو یہ بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ اور ایک ذات رب ہے ، لوگوں کا بھی رب ہے ، یہ صرف وسیٰ اور ہارون کا خدا اور رب نہیں۔ نہ وہ صرف بنی اسرائیل کا رب…
Read the full tafseer →11 اس میں تین چیزوں کی طرف دعوت دی گئی۔ (1) فرعون کا اور سب مخلوقات کا کوئی رب ہے جو رسول بھیجتا ہے (2) ہم دونوں اس کے رسول ہیں لہذا ہماری اطاعت اور رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ گویا اس جملہ میں اصل ایمان کی دعوت دی گئی اس کو " نازعات " میں اس طرح ادا کیا ہے۔ (فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى 18ۙ وَاَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى 19ۚ ) 79 ۔ النازعات :19-18) آگے (3) تیسری چیز وہ ہے جس کی اس وقت خاص ضرورت تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی ذلت آمیز اور درد انگیز غلامی سے نجات دلانا۔ مطلب یہ ہے کہ اس شریف و نجیب الاصل خاندان پر ظلم و ستم مت توڑ اور ذلیل ترین غلامی سے آزادی دے کر ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ”
اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
31 فرعون کو دعوت دینے پانچ کلمات :۔ گویا فرعون کے سامنے دعوت کا پانچ نکاتی پروگرام ان پیغمبروں کو دیا گیا۔ ان میں سے چار تو دعوت دین کے بنیادی نکات اور ایک مطالبہ ہے۔ پہلی بات یہ تھی کہ اسے کہنے کہ ہم تمہارے پروردگار کے رسول ہیں۔ اس میں دو نکات آگئے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے پروردگار تم نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا، ہمارا اور خصوصا ً تمہارا بھی پروردگار ہے، دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دونوں اسی پروردگار کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں خود نہیں آئے۔ گویا اس ایک حملہ میں توحید و رسالت کا ذکر آگیا۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کر اور انھیں ہمارے…
Read the full tafseer →47۔ (بےقصور وبے خطا جب تک وہ تیرے ملک میں مقیم ہیں) فرعون کے مظالم اب حد سے بڑھ گئے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی طرف سے مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے وطن کنعان (صوبہ شام) واپس چلے جانے کی اجازت دے دی جائے، فرعون حکومت ان لوگوں سے بیگار کا اور ادنی قسم کی مزدوری کا کام لیتی رہتی تھی، اس لیے اس مطالبہ کو بھی نہیں مان رہی تھی، آج ہمارے ہاں کا بھی کون ظالم زمیندار یہ گوارا کرتا ہے کہ اس کی ادنی رعایا بھی اس کی زمین سے نکل جائے، توریت میں ہے :۔” بعد اس کے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) آئے اور فرعون کو کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–54
آیت نمبر 43 تا 54
ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…
Read the full tafseer →فاتیہ فقولا انا رسولا ربک فارسل معنا بنی اسراء یل ولا تعذبہم سو تم اس سے جا کر
کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے فرستادے ہیں لہٰذا ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے اور ان کو تکلیفیں مت پہنچا۔
اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَہم دونوں تیرے رب کے فرستادے ہیں یعنی ہم کو تمہاری طرف بھی بھیجا گیا ہے اور بنی اسرائیل کی طرف بھی۔
فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِی اِسْرَآءِ یْلَیعنی ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو ملک شام کو چلے جانے دے ان کو اپنی عملداری سے آزاد کر دے اور اپنے کاموں کے بار سے سبکدوش کر دے اور اپنی عبادت پر مجبور نہ کر اللہ کی عبادت آزادی کے ساتھ کرنے دے۔
وَلاَ تُعَذِّبْہُمْیعنی ان کو سخت تکلیفیں اور دکھ نہ دے…
Read the full tafseer →(47) لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دو تاکہ میں ہم انھیں ان کی سرزمین میں لے جائیں۔
اور ان کو مشقتوں میں ڈال کر اور ان کے بیٹوں کو ذبح کرکے اور ان کی عورتوں سے خدمت لے کر ان کو تکلیف میں مت ڈال اس لیے کہ وہ آزاد ہیں اور ہم اس دعوی پر معجزہ بھی لے کر آئے ہیں یعنی یدبیضاء اور یہ پہلا نشان تھا جو کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو دکھایا۔
اور فرمایا کہ ایسے کے لیے سلامتی ہو جو توحید کا قائل ہو۔
Read the full tafseer →فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے فرعون کو تین چیزوں کی دعوت پہنچانے کا حکم دیا، ایک دعوت توحید کہ رب تو نہیں بلکہ وہ ہے جو تیرا بھی رب ہے اور جب وہ تیرے جیسے رب کہلانے والوں کا رب ہے تو باقی تمام مخلوق کا رب ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ دوسری دعوت رسالت کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس کا پیغام لے کر تیرے پاس آئے ہیں اور تیسری قوم کی آزادی کا مطالبہ کہ رب تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت پر ایمان کی دعوت کے بعد خاص تیری طرف یہ پیغام بھی لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ اللہ کی زمین میں جہاں آزاد رہ سکیں چلے جائیں اور یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(تفسیر 47-50) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتیہ فقولا انا رسولا ربک اس کلام میں حذف ہے یعنی یہ ہے کہ وہ فرعون کے پاس آئے اور اسے یہ کہا : فارسل معنا بنی اسرآء یل یعنی ان کو چھوڑ دے۔ ولا تعذبھم محنت و مشقت اور کام میں تھکانے کے ساتھ۔ بنو اسرائیل فرعون کے پاس سخت عذاب میں تھے وہ ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں سے خدمت لیتا تھا اور مٹی اور اینٹیں بنانے اور شہر تعمیر کرنے کی تکلیف مالا یطاف دیتا تھا۔ قد جئنک بایتہ من ربک حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت سے مراد عصا اور ہاتھ میں ہے۔ بعض نے فرمایا : فرعون نے پوچھا وہ نشانی کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی قمیض کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–47
1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “
رسول اللہ ﷺ کی دعاء :
2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →[فَاْتِيٰهُ : پس تم دونوں پہنچو اس کے پاس ] [فَقُوْلَآ : پھر تم دونوں کہو ] [انا : کہ ہم دونوں ] [رَسُوْلَا رَبِكَ : تیرے رب کے رسول ہیں ] [فَاَرْسِلْ : پس تو بھیج ] [مَعَنَا : ہمارے ساتھ ] [بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ : بنی اسرائیل کو ] [وَلَا تُعَذِّبْهُمْ : اور تو عذاب مت دے ان کو ] [قَدْ جِئْنٰكَ : ہم آئے ہیں تیرے پاس ] [بِاٰيَةٍ : ایک نشانی کے ساتھ ] [مِّنْ رَّبِكَ : تیرے رب (کی طرف) سے ] [وَالسَّلٰمُ : اور سلامتی ہے ] [عَلٰي مَنِ : اس پر جس نے ] [اتَّبَعَ : پیروی کی ] [الْهُدٰى: ہدایت کی ]
نوٹ۔ 1: آیات 47 ۔ 48 ۔ میں فرعون کو اللہ کا جو پیغام دیا گیا، اس پر سنجیدہ طریقے سے غور کرنے کے بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔
اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
27:۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ تم بےخوف و خطر جا کر میرا پیغام پہنچاؤ میری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ قال العلماء لما لحقھما ما یلحق البشر من الخوف علی انفسھما عرفھما اللہ سبحانہ ان فرعون لا یصل الیھما ولا قومہ (قرطبی ج 11 ص 202) ۔ ” فَاْتِیٰهُ “ لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے صاف کہہ دو ہم تیرے رب کے پیغمبر ہیں، اس لیے تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو اور ان کو عذاب مت دو ۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات لے کر آئے ہیں اور یاد رکھو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے سلامتی صرف اس شخص کے لیے ہے، جس نے وہ ہدایت قبول کرلی جو ہم لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کرکے حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی ہے کہ مشکلات پیش آنے پر دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں۔ سورة ہذا کے نزول کے زمانے میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ بڑی اذیتیں برداشت کر رہے تھے اور بعض حبشہ کی طرف ہجرت بھی کرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے جانے والے احسانات کا ذکر بھی کیا ہے۔ اللہ نے آپ کو اپنا خاص تقرب عطا فرمایا ، آپ سے کلام کیا نیز فرمایا واصطنعتک لنفسی میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے منتخب کیا ہے لہٰذا تم ہمہ وقت میری مرضیات پر چلتے رہو۔
ذکر…
Read the full tafseer →فَاْتِيٰہُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 0ۥۙ وَلَا تُعَذِّبْہُمْ 0ۭ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَۃٍ مِّنْ رَّبِّكَ 0ۭ وَالسَّلٰمُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰى 47
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
تفسیر : باہمی گفتگو کے بعد فرعون نے جبکہ دربار میں موسیٰ کے معجزے دیکھے یہ کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے۔ جادو کے زور سے لوگوں کو یہاں سے باہر لے جانا چاہتا ہے۔ سو ہم بھی اس کے مقابلہ میں ایسا ہی سحر لا ویں گے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کی ٹھہری اور وقت مقرر کرایا۔ موسیٰ نے کہا یوم الزینۃ جشن کا دن۔ مصریوں کے ہاں سال بھر کے بعد ایک بڑا جشن ہوتا تھا جس طرح ہندوئوں کے میلے ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کے لیے یہ اس لیے کہ اسی روز مجمع عام ہوگا سب لوگوں کو امر حق معلوم ہوجائے گا۔ فرعون نے جابجا بڑے بڑے جادوگروں کے پاس آدمی بھیجے اور ان کو انعام کا وعدہ دیا اس عہد میں طلسم ونیر نجات کا ازحد چرچا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فَاْ تِیٰـہُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ 5 لا وَلاَ تُعَذِّبْھُمْ ط قَدْجِئْنٰـکَ بِاٰیـَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ ط وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔ اِنَّا قَدْ اَوْحِیَ اِلَیْنَا اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ (طٰـہٰ :) 47، 48
(پس اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو دکھ نہ پہنچا، ہم تیرے رب کی طرف سے ایک بڑی نشانی بھی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس شخص پر ہے جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ ہم پر یہ وحی کی گئی ہے کہ ان لوگوں پر عذاب ہے جو جھٹلائیں اور روگردانی کریں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ عظیم معجزات پانے کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنے سے پہلے بتلا دیا گیا تھا کہ فرعون بغاوت اور نافرمانی میں تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے ہاں پرورش پائی تھی وہ اسے بہت قریب سے جانتے تھے کہ فرعون بڑا ہی ظالم اور سفاک انسان ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر کو اس لیے چھوڑا تھا کہ وہاں ان کے ہاتھوں حکمران پارٹی کا سھوًا ایک آدمی قتل ہوگیا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر حضرت موسیٰ اور ہارون نے اپنے…
Read the full tafseer →دو بنیادی مطالبات اور ان کے پیش کرنے کا طریقہ :
47: فَاْ تِیٰـہُ (پس تم دونوں جائو) فرعون کے پاس فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَ (پس تم دونوں کہو ہم تیرے رب کے قاصد ہیں) تیری طرف فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ (پس تو بھیج ہمارے ہمراہ بنی اسرائیل کو) ان کو غلامی سے آزاد کرو۔ وَلَا تُعَذِّبْھُمْ (اور ان کو تکلیفیں مت پہنچا) دشوار ترین مشقت کے کام لے کر۔ قَدْ جِئْنَاکَ بِاٰ یَۃٍ (ہم تیرے پاس معجزہ لے کر آئے ہیں) آیت یہاں دلیل نبوت یعنی معجزے کیلئے استعمال ہوا۔ مِنْ رَّبِّکَ (تیرے رب کی طرف سے) اس کی سچائی پر جو ہم نے دعوٰی کیا۔ یہ جملہ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَکیلئے بمنزلہ بیان اور…
Read the full tafseer →47۔ فاتیہ فقولا انارسولاربک، ہم دونوں کو تیری طرف بھیجا ہے۔ فارسل معنا بنی اسرائیل، یعنی ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو ملک شام چلے جانے کی اجازت دیں۔ ان کو اپنی ماتحتی سے آزاد کردے۔ ولاتعذبھم ، ان کو سخت تکلیفیں اور دکھ نہ دے فرعون بنی اسرائیل سے دشوار ترین مشقت کے کام لیا کرتا تھا۔ قد جئناک بایۃ من ربک، فرعون نے کہا کہ وہ نشانی کیا ہے اس کے لیے حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ نکالا وہ چمکنے لگا جیسے سورج چمکتا ہے۔ والسلام علی من التبع الھدی، ، اس سلام سے مراد سلام تحیر نیہں ہے بلکہ اس کا معنی ہے کہ جو شخص اسلام لاتا ہے وہ اللہ کے عذاب سے سلامت رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
45۔ 47:۔ فرعون بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک فرعونی مارا گیا تھا اس کا بھی خوف تھا کہ فرعون جب دیکھے گا ضرور بدلہ لے گا اس سبب سے حضرت موسیٰ اور ہارون نے مل کر خدا سے التجا کی کہ یا اللہ فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرنے پائے اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین فرمائی کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسکین ہے کہ انبیاء کے ساتھ اللہ ہے باوجود اختیارات بادشہاہی کے فرعون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر کچھ زیادتی نہ کرسکا تو اے نبی اللہ کے ! اہل مکہ تم پر کیا زیادتی کرسکتے ہیں اللہ کا وعدہ سچا ہے مکہ میں باوجودیکہ سب قوم آنحضرت کے مخالف تھی مگر کسی سے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت 46
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا : (اذھب انت واخوک) ” جاتو اور تیرا بھائی۔ “ یعنی ہارون (بایتی) ” میری نشانیوں کے ساتھ “ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً یدبیضا اور عصا سمیت نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس جائیں۔ (ولا تنیا فی ذکری) ” اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔ “ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمیطور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جی اس کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ (کی نسبح کثیراً ، ونذکرک کثیراً ) طہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
42 فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے فرمایا گیا کہ " تم جا کر فرعون سے کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ پس تو ۔ اے فرعون ۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کیلئے چھوڑ دے اور ان کو عذاب نہ دے "۔ جیسا کہ تو اب تک کرتا آیا ہے۔ اور ان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر تو نے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سو یہ دوسرا بڑا فریضہ تھا جو حضرت موسیٰ پر دعوت حق اور تبلیغ رسالت کے فریضہ کے بعد عائد ہوتا تھا اور جس کیلئے آنجناب کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی کی جکڑ بندیوں سے رہائی دلانا پہلی اور اصل ذمہ داری تو آپکی بہرحال تبلیغِ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں
تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 1 یعنی وہ کون ہے جسے تم نے مجھے چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا ہے ؟ واضح رہے کہ فرعون اپنے آپ کو مصر کا رب اعلیٰ بھی سمجھتا تھا۔ (نازعات :24) اور اللہ یعنی معبود بھی چناچہ قصص میں ہے۔ یایھا الملاء ما علمت لکم من الہ غیری کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور اللہ بھی ہو۔ (آیت 38)
Read the full tafseer →(20:47) فاتیہپس تم دونوں اس کے پاس جائو۔ فعل امر تثنیہ مذکر حاضر۔ اتیانمصدر۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب (اس کا مرجع فرعون ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56
ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
فرعون کا قصہ اور قدرت کی نشانیاں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ارشاد ہے کہ فرعون سے تم یوں کہنا کہ ہم کو بذریعہ وحی بھی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا، اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں، ان کو نہ مانے گا، تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا سورة الشعراء (پارہ 19) میں آوے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا۔ اسی واسطے اگرچہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے اوپر کی آیتوں میں فرعون سے یہ کہا تھا کہ ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے رسول ہیں لیکن فرعون نے غرور کے مارے ان لفظوں کو نہیں دھرایا، بلکہ موسیٰ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(ف 2) فرمایا فرعون سے جا کر بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرو ، اس سے کہو ، ہم اللہ کے رسول ہیں ، اور اس بات پر مامور ہیں کہ بنی اسرائیل کی غلامی اور رقیت کو آزادی اور حریت سے بدل دیں اب تمہیں زیبا نہیں ، کہ مزید تکلیفات اور عذاب میں ہماری قوم کو مبتلا رکھو ہم تمہارے پاس معجزات اور خوارق لے کر آئے ہیں ، سل امتی اور بہبودی اسی میں ہے کہ ہدایت ورشد کو قبول کرلو ، اور ان مظالم سے باز آجاؤ ۔
حل لغات :
طغی : سرکش ہوگیا حدود فطرت سے آگے بڑھ گیا ۔
Read the full tafseer →-47 اچھا تو اب تم اس فرعون کے پاس جائو اور جا کر اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے فرستادے اور رسول ہیں لہٰذا تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دے اور ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہونچا بلاشبہ ہم تیرے پروردگار کی جانب سے تیرے پاس نشان لے کر آئے ہیں اور اس شخص پر امن و سلامتی کا نزول یا سایہ ہو جو صحیح راہ کی پیروی کرے اور سیدھی راہ چلے۔ چونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کو ہر قسم کی قیود کا پابند کر رکھا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے ان کی آزادی کے لئے اپیل کی اور سمجھایا کہ ان کو تکلیف نہ پہونچا اور ان کے جانے آنے پر جو پابندیاں عائد کر رکھی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔
Read the full tafseer →تم دونوں جاؤ اور اس کو کہو کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے :
47۔ ” تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں ۔ پس بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ رخصت کر دے اور ان پر سختی نہ کر ۔ “ اس میں سے پہلا فقرہ ہی فرعون کے لئے ایک ایٹم بم سے کم نہ تھا ” کہ ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں ۔ “ وہ تو خود ” الہ “ اور ” رب “ بنا ہوا تھا اس نے ” تیرے رب “ کا لفظ سنا تو چونک گیا کہ یہ کیا انہوں نے کہہ دیا ‘ فرعون نے ان کی بات سن کر بجائے اس کے کہ ان سے مخاطب ہو کر کوئی جواب دیتا یا کوئی بات کرتا وہ اپنے اعوان وانصار سے مخاطب ہو کر بولا ” اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
Allah said,إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ "I am surely with you both. I hear and I see." - 20:46) Here the word "with you" is used in the sense of divine help and support which human senses cannot perceive.
Sayyidna Musa (علیہ السلام) called upon the Pharaoh to embrace the True Faith and also to deliver the Bani Isra'il from bondage
This shows that the prophets have the duty of guiding mankind towards their salvation as well as to liberate their people from worldly and economic bondages. Therefore, in this verse Sayyidna Musa (علیہ السلام) is reminded of both these duties.
God…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
19. A comparative study of this incident as given in the Bible and the Talmud will show that the Quran does not copy the stories from these books, but gives its own version in order to portray the Messengers in their true glory and dignity. According to the Bible, when God said to Moses (peace be upon him) that He would send him to Pharaoh, Moses (peace be upon him) replied: Who am I, that I should go unto Pharaoh, and that I should bring forth the children of Israel out of Egypt? (Exodus 3: 11). God persuaded and encouraged Moses (peace be upon him) by giving him signs but he was still…
Read the full tafseer →