Taa-Haa 20:44

Taa-Haa · from ayah 44

20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰی ۟فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوۡ يَخۡشٰى

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And speak to him with gentle speech that perhaps he may be reminded or fear [Allah]."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:44

اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جاکر دونوں اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے، یا (اللہ سے) ڈر جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو تم دونوں اس سے نرم (انداز میں) گفتگو کرنا شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا (میرے غضب سے) ڈرنے لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

دیکھو، اسے نرمی سے بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا (اللہ سے) ڈر جائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اس کو نرمی کے ساتھ دعوت دو ، شاید وہ یاد دہانی حاصل کرے یا ڈرے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی تم دونوں اس سے بات نرمی ہی سے کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا عذاب سے ڈر جائے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس سے گفتگو نرم کرنا۔ شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر ہی جائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (دیکھو !) اس کے ساتھ نرم (انداز میں) بات کرنا شاید کہ اس طرح وہ سوچے یا ڈرے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and speak to him gently, perhaps he may take heed or fear (Allah)."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So speak to him in soft words. May be, he accepts the advice or fears (Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani

So speak to him in soft words. May be, he accepts the advice or fears (Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And speak to him mildly, perhaps he may accept admonition or fear (Allah).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And speak unto him a gentle word, that peradventure he may heed or fear.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And speak to him with gentle speech that perhaps he may be reminded or fear [Allah]."

— Saheeh International

Both of you must speak with him in a gentle manner so that perhaps he may come to himself or have fear (of God)."

— Muhammad Sarwar

Then speak to him a gentle word haply he may mind or fear.

— Muhammad Habib Shakir

Then say to him a gentle saying; haply he may be admonished or he may fear.

— Abdul Majid Daryabadi

"But speak to him mildly; perchance he may take warning or fear (Allah)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

موسیٰ ؑ فرار کے بعد۔ حضرت موسیٰ ؑ سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت آدم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کی ملاقات ہوئی تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 38–44

سورة طٰهٰ 18 آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–44

اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ ، موسیٰ ؑ کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں فرمایا ہے وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کی آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس) یا آپ کو مبتلائے آزمائش کیا بار بار (قالہ الضحاک) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس آئی ہے وہ یہ ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مفصل قصہ حدیث الفتون کے نام سے طویل حدیث سنن نسائی کتاب التفسیر میں بروایت ابن عباس نقل کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی اس کو پورا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس روایت کو مرفوع یعنی نبی کریم ﷺ کا بیان قرار…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 44 انبیاء کا طریق دعوت یہ طریق دعوت سے متعلق ہدایت ہے کہ دعوت بہرحال نرمی کے ساتھ دی جائے۔ اس ہدایت کی ضرورت صرف اس پہلو سے نہیں تھی کہ اب حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے ایک بےبس اسرائیلی کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدا کے ایک سفیر کی حیثیت سے جا رہے تھے اور ہاتھ میں عصائے موسوی بھی تھا بلکہ لنیت اور نرمی دعوت تھی کہ فطرت ہے۔ حضرات انبیاء کی بعثت تعلیم و اصلاح کے لئے ہوئی اس وجہ سے ان کی دعوت اور ان کے انذار میں ایک مسلم کی شفقت اور ایک غمگسار کی دل سوزی ہمیشہ نمایاں رہی ہے کسی نبی کے متعلق بھی یہ بات علم میں نہیں آئی کہ اس نے ہیکٹری جتائی اور دھونس جمائی ہو۔ سخت سے سخت حالات میں بھی ان کا طرز خطاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 43–44

44۔ 1 یہ وصف بھی اللہ سے دعا کے لئے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ سختی سے لوگ بدکتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں اور نرمی سے قریب آتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں اگر وہ ہدایت قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–49

19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–44

اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔ تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی دعوت و تبلیغ وعظ و نصیحت کے وقت نرم، آسان، رقت انگیز اور بلند بات کہو۔ گو اس کے تمردو طغیان کو دیکھتے ہوئے قبول کی امید نہیں۔ تاہم تم یہ خیال کر کے کہ ممکن ہے کہ وہ کچھ سوچ سمجھ کر نصیحت حاصل کرلے یا اللہ کے جلال و جبروت کو سن کر ڈر جائے اور فرمانبرداری کی طرف جھک پڑے، گفتگو نرمی سے کرو۔ اس سے دعاۃ و مبلغین کے لیے بہت بڑا دستور العمل معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ دوسری جگہ صاف ارشاد ہے۔ (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ) 16 ۔ النحل :125)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 41–47

آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ” اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 دعوت کے لئے قوم کا لہجہ ضروری ہے :۔ کسی کے راہ راست پر آنے اور اسے قبول کرنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دعوت کو پوری سمجھ کر حق بات قبول کرلے اور دوسری یہ کہ اپنے برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجائے۔ یہ دونوں باتیں بتلا دیں اور انھیں تاکید کردی کہ فرعون سے جو بات کہیں نرمی کے لہجہ میں کہیں۔ کیونکہ سختی سے بات کرنے سے بسا اوقات الٹا اثر ہوتا ہے۔ مخاطب اصل بات سمجھنے کی بجائے طرز تخاطب اور لہجہ کی بنا پر ضد اور مخالفت پر اتر آتا ہے۔ گویا تبلیغ اور دعوت دین کا کام کرنے والوں کے لئے یہ ایک نہایت اہم سبق ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43۔ (کہ یہ مؤثر ترین طریق تبلیغ ہے اور شروع میں خشونت ودرشتی کو باوجود اشتعال طبع اپنے قریب نہ آنے دینا) فقہاء نے اس سے مسئلہ یہ نکالا ہے کہ قوت ونصرت کے یقین کے باوجود بھی (جیسا کہ یہاں حضرت موسیٰ کو نصرت غیبی کا پورا یقین تھا) مبلغ کے لیے پوری طرح جائز ہے کہ انداز تبلیغ نرم رکھے۔ فی ھذا جواز الامر بالمعروف والنھی عن المنکر باللین لمن معہ القوۃ وضمنت لہ العصمۃ (ابن العربی) محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت کے اندر اخلاق کا بہت بڑا سبق موجود ہے کہ باوجود اس نے کہ فرعون کے طغیان وتمرد کا ذکر ابھی ابھی ہوچکا ہے۔ اس پر بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے مقبول و برگزیدہ بندہ کو حکم اسی کا ملتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–54

آیت نمبر 43 تا 54 ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقولا لہ قولا لینا پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ بات کرنے میں درشتی نہ کرنا۔ عکرمہ اور سدی نے کہا (نام نہ لینا بلکہ) کنیت کہہ کر کلام کرنا ‘ فرعون کی کنیت ابوالعباس یا ابوالولید تھی مقاتل نے کہا نرم کلام کرنے سے مراد ہے اس طرح کہنا ہَلْ لَکَ ۔ اِلٰی اَنْ تَزَکّٰی وَاَہْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰیایسا کلام دعوت ایمان ہے مگر بطور مشورہ نرم کلامی کے حکم کی وجہ یہ تھی کہ اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں فرعون پر حمیت جاہلیت سوار نہ ہوجائے اور وہ دونوں پر حملہ نہ کر بیٹھے (اور بات بھی نہ سنے) بعض نے کلام میں نرمی اختیار کرنے کے حکم کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ فرعون کے زیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(44) اس کو نرمی کے ساتھ کلمہ ”۔ لا الہ الا اللہ“۔ کی تبلیغ کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کر کے یا ڈر کر اسلام لے آئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون ؑ کو حکم دیا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت نرم بات کہیں، جس میں ترغیب ہو، اسے غصہ دلانے والی نہ ہو۔ ہر داعی کو یہی اسلوب اختیار کرنا لازم ہے، کیونکہ دعوت الی اللہ سے مقصود مخاطب کی ہدایت اور اصلاح ہوتی ہے نہ کہ اپنی برتری ثابت کرنا، یا سخت کلامی سے دل کا غصہ نکالنا۔ دیکھیے سورة نحل (125) اور آل عمران (159) اللہ تعالیٰ نے وہ نرم بات بھی خود ہی سکھا دی، جیسا کہ آگے آیت (47) میں آ رہا ہے اور دیکھیے سورة نازعات (18، 19) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَا عَاءِشَۃُ ! إِنَّ اللّٰہَ رَفِیْقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ وَیُعْطِيْ عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 43–44

(تفسیر 43-44) اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھبا، آیت کے آغاز میں فرمایا : اذھب انت واخوک بایتنی اور یہاں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کو دعوت پہنچانے کا حکم دیا پہلے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو علیحدہ خطاب فرمایا ان کو شرف بخشنے کے لیے پھر تاکید کے لیے مکرر فرمایا۔ بعض نے فرمایا : اس سے واضح کیا کہ ایک کا جانا کافی نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا : پہلا تمام لوگوں کی طرف جانے کا حکم تھا اور دوسرا حکم فرعون کی طرف جانے کا تھا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقولا لہ قولا لینا یہ امر بالمعروف اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَقُوْلَا : پھر تم دونوں کہنا ] [لَهٗ : اس سے ] [قَوْلًا لَّيِّنًا : نرم بات ] [لَّعَلَهٗ : شاید کہ وہ ] [يَتَذَكَّرُ : نصیحت حاصل کرے ] [اَوْ يَخْشٰى: یا وہ ڈرے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–48

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–45

26:۔ فرعون کے پاس جا کر اسے نرمی سے وعظ کرنا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کرے یا اس کے دل میں خوف خدا آجائے۔ تذکر اور خشیۃ میں فرق یہ ہے کہ تذکر سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہاری تبلیغ سے اس قدر متاثر ہو کہ انکار توحید سے باز آجائے اور ساتھ ہی مسئلہ توحید کو مان بھی لے اور خشیۃ سے مراد یہ ہے کہ یا کم از کم توحید کے انکار ہی سے باز آجائے ” لَعَلَّهٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی “ فلیرجع من انکارہ الی الاقرار و ان ینتقل من الانکار الی الاقرار لکنہ یحصل فی قلبہ الخوف فیترک الانکار وان کان لا ینتقل الی الاقرار الخ (کبیر ج 6 ص 55) ۔ اور حضرت شیخ فرماتے ہیں تذکر سے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے اور تخشی سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّہٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى۝ 44 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ لين اللِّينُ : ضدّ الخشونة، ويستعمل ذلک في الأجسام، ثمّ يستعار للخلق وغیره من المعاني، فيقال : فلان لَيِّنٌ ، وفلان خشن، وكلّ واحد منهما يمدح به طورا، ويذمّ به طورا بحسب اختلاف المواقع . قال تعالی: فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ [ آل عمران/ 159] ، وقوله : ثُمَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

اور فقولا لہ قولا لینا اس سے نرمی سے بات کرنا کیونکہ عموماً نرمی نصیحت کے لیے ایسی ہے کہ جیسا جسم کے لیے روح۔ سختی سے دل پر اثر نہیں ہوتا۔ خصوصاً جبار اور بھی بگڑ جاتے ہیں اس لیے فرمایا کہ لعلہ یتذکر اویخشیٰ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ازخود اپنے بھائی کی طرف سے بھی (کیونکہ اس وقت ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) مصر میں تھے) عذر کیا کہ اس میں ان کے ظلم و سرکشی کا خوف ہے۔ قال ربنا الخ خدا تعالیٰ نے ان کی تسلی کی لا تخافا الخ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں فاتیہ اس کے پاس جا کر فقولا یہ کہو انارسول ربک الخ یہاں سے لے کر من کذب وتولی تک اسی پیغام کی تقریر ہے۔ پھر قال فمن ربکما سے فرعون اور حضرت (علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَـقُوْلاَ لَـہٗ قَوْلاً لَّـیِّنًا لَّعَلَّـہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْیَخْشٰی۔ (طٰـہٰ : 44) (پس اسے نرمی سے دعوت دو ، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈرنے لگے۔ ) طریق دعوت سے متعلق ہدایت اس آیت کریمہ میں طریق دعوت سے متعلق ہدایت دی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو ہدایت کی جارہی ہے کہ فرعون کے پاس جا کر نہایت نرمی سے اس کے سامنے دعوت پیش کرو۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ( علیہ السلام) دونوں کمزور ہیں۔ اگر آپ ( علیہ السلام) نے کوئی سختی سے بات کہی تو وہ بگڑ کر نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں وہ عصا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ہیبت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ فرعون کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–44

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو منتخب کیا تھا اس کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلا حکم۔ انبیاء (علیہ السلام) میں موسیٰ (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا کرنے کے ساتھ ہی دو عظیم معجزے عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالتے تو وہ سورج سے زیادہ روشن دکھائی دیتا اپنا عصا پھینکتے تو اللہ کے حکم سے وہ اژدھا بن جاتا اس کے ساتھ کئی کام لیتے اس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی ہارون کو نبوت دینے اور اپنی زبان کی لکنت دور کرنے کی درخواست کی دونوں درخواستوں کو من و عن قبول…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

44: فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا (پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا) تم دونوں اس سے مطابقت سے بات کرنا۔ اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اس کا حق تربیت تھا۔ نمبر 2۔ اس کو کنیت سے بلانا۔ اس کی تین کنیتیں تھیں۔ نمبر 1۔ ابو العباس نمبر 2۔ ابو الولید۔ نمبر 3۔ ابو مرّۃ نمبر 3۔ اس کو ایسی جوانی کا وعدہ کرنا جس کے بعد بڑھاپا نہیں اور ایسی بادشاہی جو اس سے موت کے علاوہ چھینی نہ جائے گی۔ نمبر 4۔ یا اس سے وہ ارشاد مراد ہے جو دوسرے مقام پر ہے۔ ھل لک الی ان تزکّی واَھْدِیَکَ الی ربک فتخشٰی کلام کا ظاہر استفہام اور مشورہ ہے۔ لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ (شاید کہ وہ نصیحت پذیر ہوجائے) نصیحت قبول کرلے اور غور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

44۔ فقولالہ قولا لینا ، ابن عباس کا قول ہے کہ بات کرنے میں درشتی نہ کرنا۔ سدی اور عکرمہ کا بیان ہے کہ کنیت کہہ کر کلام کرنا چونکہ فرعون کی کنیت ابوالعباس یا ابوالولید تھی ، مقاتل نے کہا کہ نرم کلام کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس طرح کہنا ، ھل لک الی ان تزکی واھدیک الی ربک فتخشی، ، اور بعضنے کہا کہ نرم کلام کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فرعون کے زیر پرورش موسیٰ رہ چکے تھے اسی کو حق تربیت حاصل تھا۔ سدی کا بیان ہے کہ نرم کلام یہ تھا کہ حضرت موسیٰ نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر تم ایمان لاتے ہو تو تم کو دوبارہ ایسی جوانی مل جائے گی جو کبھی پیری میں تبدیل نہیں ہوگی اور مرتے دم تک تمہاری حکومت قائم رہے گی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41۔ 44:۔ بچپن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کئی طرح کی آزمائش میں پڑے اول تو اس سال میں پیدا ہوئے جب بنی اسرائیل کے لڑکے فرعون قتل کر رہا تھا پھر صندوق میں بند ہو کردیا میں ڈالے گئے پھر دودھ کسی انا کا نہ پیا پھر فرعون کی ڈاڑھی نوچ لینے سے قتل کے قابل قرار پائے پھر آخر زبان جل گئی پھر قبطی کے ان کے ہاتھ سے مارے جانے کے سبب سے فرعونی لوگ ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے پھر بھوکے پیاسے مدین کا سفر کرنا پڑا اس قصہ میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے انبیاء کو قدیم سے دنیا میں تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں پھر آخرت میں ان تکلیفوں کے بدلہ راحتیں ہیں اور دنیا میں بھی وقت مقررہ پر قدیم سے انبیاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–45

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو دین، وحی، راسلت اور قبولیت دعا سے نوازا۔۔۔ اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چناچہ فرمایا : (ولقد مننا علیک مرۃ اخری) ” اور ہم نے تجھ پر احاسن کیا دوسری مرتبہ “ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انہیں حضرت موسیٰ کے بارے میں سخت خوف لاحق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

38 دعوت حق کی سلسلے میں نرمی برتنے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت موسیٰ و ہارون کو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر بھی تم دونوں فرعون سے نرمی ہی کی بات کرنا "۔ اس سے دعوت و تبلیغ کے کام کے سلسلہ میں ایک عظیم اور اہم اصول کی راہنمائی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ فرعون ایک بدترین کافر ہے جو کہ ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کا دعویٰ کرتا ہے اور تم دونوں اللہ کے رسول اور اپنے دور کے عظیم اور پاکیزہ ترین انسان ہو مگر اس سب کے باوجود تم اس کے ساتھ حق کی بات نرمی ہی سے کرنا تاکہ اس پر حجت تمام ہوجائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر کار دعوت کے بارے میں ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:44) قولا۔ فعل امر، تثنیہ مذکر حاضر۔ قول مصدر۔ تم دونوں کہو۔ تو تم دونوں گفتگو کرو۔ قولا لینا۔ موصوف صفت۔ نرم گفتگو۔ نرم کلام۔ لین کی جمع لینون اور الیناء ہے لان یلین لین (باب ضرب) نرمی کرنا۔ نرم ہونا۔ لعلہ یتذکر۔ شاید وہ نصیحت قبول کرلے۔ یہاں لعل تعلیل کے لئے ہے اور کی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اویخشی۔ یا (میرے غضب سے) ڈرجائے۔ یا اپنے کفر و انکار کے مال کو جان کر ڈر جائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–45

فرعون بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک فرعونی مارا گیا تھا۔ اس کا خوف بھی تھا کہ فرعون دیکھے گا تو بدلہ ضرور لے گا۔ اس سبب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مل کر خدا سے دعا کی کہ ” یا اللہ ! فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرنے پائے “۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین فرمائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، ہر وقت تمہاری اور فرعون کی باتیں سنتا رہوں گا، اور جو معاملہ وہ تمہارے ساتھ کرے گا، اسے دیکھتا بھی رہوں گا۔ پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور جا کر کہو :” ہم تیرے پروردگار کی طرف سے پیغمبر ہیں۔ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو کر دے، اور ان کو تکلیف نہ دے۔ اور ہم اپنے دعویٰ کے ثبوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–48

[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–46

شیریں گفتار ہونا مبلغ کیلئے ضروری ہے : (ف 1) فرعون کے پاس بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جو نصیحتیں ارشاد فرمائی ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ وہ آج کل کے علماء کو آب زر سے لکھ لینا چاہئے ارشاد ہوتا ہے ، کہ دیکھنا میری یاد سے غافل نہ ہوجانا ، اور ہر وقت عبودیت اور نیاز مندی کے تعلقات کو قائم رکھنا کیونکہ یہی چیز ہے جس سے دلوں میں پاکیزگی موجود رہتی ہے اور انسان دنیا کی تمام لذتوں کو آخرت کے مقابلہ میں حقیر سمجھتا ہے ، ذکر وشغل کی برکات سے روح میں نزہت وتواناہی پیدا ہوتی ہے اور دل و دماغ مجلے اور روشن ہوجاتے ہیں یہی وہ اکسیر ہے جس کے باعث چہروں پر نور اور قلب میں سرور موجزن ہوتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-44 پھر تم وہاں جا کر فرعون سے نرم بات اور نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا شاید و ہ نصیحت قبول کرلے۔ یا اللہ تعالیٰ کے ذاب اور اس کی گرفت سے ڈر جائے۔ یعنی موقعہ نرمی کرنے کا ہے سختی اور درشتی کا نہیں کبھی ایسا نہ ہو کہ گفتگو کی تلخی سے حق بات کو قبول نہ کرے اور اچٹ جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–51

ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم دونوں فرعون کے پاس جا کر واضح اور زور دار بات کو سلیقہ سے کرو : 44۔ یہ سوانگ رچانے والے کتنی زور دار بات کرتے ہیں ‘ آپ کو معلوم ہی ہے لیکن ان کی اس زور دار بات میں وزن کتنا ہوتا ہے اور سلیقہ کتنا ؟ فرمایا تم دونوں کو ہدایت یہ ہے کہ بات وزنی کرو لیکن سلیقہ شعاری کے ساتھ کہ گویا تم دونوں کسی بڑی حکومت کے سفیر بن کر جا رہے ہو اور عصا بھی تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے لیکن اس لئے نہیں کہ جاتے ہی اس پر تابڑتوڑ لاٹھی برسانا شروع کر دو بلکہ نرم لہجہ اور سلجھے ہوئے انداز کے ساتھ بات کرو تم کو پولیس افسر بنا کر نہیں بلکہ مبلغ اور مربی بنا کر بھیجا جارہا ہے ، تم اللہ کے رسول اور نبی ہو اور انبیاء ورسل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–44

رَ‌بُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ Our Lord is He who gave everything its shape, then guidance - 20:50. The Pharaoh then asked them what they wanted. He charged Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the murder of the Egyptian and at the same time reminded him how he had brought him up in his own palace and the great kindness he had shown towards him. The reply which Sayyidna Musa (علیہ السلام) gave on both these points is mentioned in the Qur'an. That is, the murder of the Egyptian was a mistake for which he had asked Allah's forgiveness. As for the second point, he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–44

18. The only two ways of bringing a man to the right way are: (1) To convince him by argument and admonition, or (2) To warn him of the consequences of deviation.

Read the full tafseer →