Explained with ayahs 41–44
موسیٰ ؑ فرار کے بعد۔
حضرت موسیٰ ؑ سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت آدم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کی ملاقات ہوئی تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
سورة طٰهٰ 18
آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ ، موسیٰ ؑ کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں فرمایا ہے وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کی آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس) یا آپ کو مبتلائے آزمائش کیا بار بار (قالہ الضحاک) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس آئی ہے وہ یہ ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ کا مفصل قصہ
حدیث الفتون کے نام سے طویل حدیث سنن نسائی کتاب التفسیر میں بروایت ابن عباس نقل کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی اس کو پورا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس روایت کو مرفوع یعنی نبی کریم ﷺ کا بیان قرار…
Read the full tafseer →اذھبا الی فرعون انہ طغنی 43
فرعون کے طغیان کی تفصیل آیت 24 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ خطاب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں سے ہے اس وجہ سے لازماً یہ بات بعد کے مرحلہ کی ہے جب حضرت موسیٰ مصر پہنچ چکے ہیں اس لئے کہ حضرت ہارون وادی طویٰ میں حضرت موسیٰ کے ساتھ نہیں تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
44۔ 1 یہ وصف بھی اللہ سے دعا کے لئے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ سختی سے لوگ بدکتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں اور نرمی سے قریب آتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں اگر وہ ہدایت قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–49
19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔
تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت…
Read the full tafseer →7 پہلے جانے کا حکم دیا تھا۔ اب مقام بتلا دیا کہ کہاں کس کے پاس جانا ہے اور یہ جملہ آگے آنے والے کلام کی تمہید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ”
اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
28 اللہ کے ذکر کا فائدہ :۔ پہلے صرف سیدنا موسیٰ کو یہی بات کہی تھی کہ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سر اٹھا ہے۔ اب جب سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا کرکے ان کا مددگار بنادیا گیا تو ان دونوں سے وہی بات کہی گئی اور اب ان دونوں کو تاکید کی کہ میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا کیونکہ اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جو اللہ والوں کی کامیابی کا ذریعہ اور دشمن کے مقابلہ میں بہترین ہتھیار ہے۔ اس سے اللہ کی طرف لو لگائے رکھنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس راہ میں جو مصائب پیش آئیں ان کو صبر و استقلال سے برداشت کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →42۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 24۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–54
آیت نمبر 43 تا 54
ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…
Read the full tafseer →اذہبا الی فرعون انہ طغی۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ (اور اس کو نصیحت کرو) وہ بہت نکل چکا ہے کہ
خدا ہونے کا مدعی بن بیٹھا ہے۔ اللہ نے شروع میں حضرت موسیٰ کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا ‘ پھر دوبارہ دونوں بھائیوں کو ملا کر حکم دیا۔ اس لئے کلام میں تکرار نہیں ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ پہلا حکم مطلق تھا اور دوسرا حکم مقید ہے۔ (آگے قید لگا دی ہے کہ نرمی سے کلام کرنا شاید وہ نصیحت قبول کرلے۔۔ ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
(42۔ 43) تم اور ہارون ؑ دونوں میری نشانیاں یعنی یدبیضاء اور عصا لے کر جاؤ اور میری عبادت میں سستی مت کرنا یا یہ کہ فرعون کی طرف تبلیغ رسالت میں کسی قسم کی کوئی غفلت نہ کرنا، لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت تکبر اور کفر اختیار کرلیا ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّهٗ طَغٰى : ”طُغْیَانٌ“ کا اصل معنی حد سے بڑھ جانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ) [ الحاقۃ : 11 ] ”بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا، تمہیں کشتی میں سوار کیا۔“ فرعون کی طغیانی اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ذکر فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب اعلیٰ ہونے کا دعوے دار تھا۔ (نازعات : 24) وہ بلاشرکت غیرے معبود (الٰہ) ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ (قصص : 38) اس نے بنی اسرائیل کو یہ باتیں نہ ماننے کی وجہ سے غلامی اور بدترین عذاب کا نشانہ بنا رکھا تھا، ان کے بیٹے نہایت بےرحمی سے قتل کرتا، عورتوں کو زندہ رکھ کر اپنی اور اپنی قوم کی زیادتیوں کا نشانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(تفسیر 43-44) اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھبا، آیت کے آغاز میں فرمایا : اذھب انت واخوک بایتنی اور یہاں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کو دعوت پہنچانے کا حکم دیا پہلے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو علیحدہ خطاب فرمایا ان کو شرف بخشنے کے لیے پھر تاکید کے لیے مکرر فرمایا۔ بعض نے فرمایا : اس سے واضح کیا کہ ایک کا جانا کافی نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا : پہلا تمام لوگوں کی طرف جانے کا حکم تھا اور دوسرا حکم فرعون کی طرف جانے کا تھا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقولا لہ قولا لینا یہ امر بالمعروف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–47
1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “
رسول اللہ ﷺ کی دعاء :
2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →[اِذْهَبَآ : آپ (علیہ السلام) دونوں جائیں ] [اِلٰى فِرْعَوْنَ : فرعون کی طرف ] [انهٗ : بیشک اس نے ] [طَغٰى: سرکشی کی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔
اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
25:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پانچواں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ” اِذْھَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْکَ “ انعامات یاد دلانے کے بعد فرمایا تم اور تمہارا بھائی دونوں معجزات کے ساتھ جاؤ اور میرے ذکر اور میری توحید کی تبلیغ میں سستی ہرگز نہ کرنا۔ ” اِذْھَبَا اِلیٰ فِرْعَوْنَ “ یہ پہلے ” اِذْھَبَا “ سے بدل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
1
Read the full tafseer →اِذْہَبَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰى 43ۚۖ
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔
طغی
طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–43
تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ۔ اِذْھَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰ یٰـتِیْ وَلاَ تَنِیَا فِیْ ذِکْرِیْ ۔ اِذْھَبَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰی۔ (طٰـہٰ : 41، 42، 43)
(میں نے تمہیں اپنی ذات (کارِ خاص) کے لیے مخصوص کرلیا ہے۔ اب تم اور تمہارا بھائی میری آیات لے کر جاؤ، اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنا۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ )
دونوں بھائیوں کو ادا رسالت کے لیے جانے کا حکم
آپ ( علیہ السلام) کو جس عظیم منصب کے لیے ہم نے چنا ہے اور اب تک کی زندگی جس کے لیے ٹریننگ کے طور پر گزری ہے، اب اس منصب کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مصر اور دور دور کا علاقہ کفر اور گمراہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو منتخب کیا تھا اس کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلا حکم۔
انبیاء (علیہ السلام) میں موسیٰ (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا کرنے کے ساتھ ہی دو عظیم معجزے عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالتے تو وہ سورج سے زیادہ روشن دکھائی دیتا اپنا عصا پھینکتے تو اللہ کے حکم سے وہ اژدھا بن جاتا اس کے ساتھ کئی کام لیتے اس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی ہارون کو نبوت دینے اور اپنی زبان کی لکنت دور کرنے کی درخواست کی دونوں درخواستوں کو من و عن قبول…
Read the full tafseer →43: اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ (تم دونوں فرعون کے پاس جائو) یہ دوبارہ لائے کیونکہ اول مطلق ہے۔ اور ثانی مقید ہے۔ اِنَّہٗ طَغٰی (بیشک وہ سرکش ہوگیا) ربوبیت کا دعو ٰی کر کے حد سے تجاوز کیا ہے۔
Read the full tafseer →43۔ اذھبا الی فرعون انہ طغی، ابوعمرو اور اہل حجاز نے اسی طرح پڑھا ہے۔ لنفسی، اذھب۔۔ فی ذکری، ، اذھبا۔۔ ان قومی اتخذوا۔۔۔ من بعدی اسمہ، ، سب مقامات میں یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے اس کو یاء ساکن کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 44:۔ بچپن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کئی طرح کی آزمائش میں پڑے اول تو اس سال میں پیدا ہوئے جب بنی اسرائیل کے لڑکے فرعون قتل کر رہا تھا پھر صندوق میں بند ہو کردیا میں ڈالے گئے پھر دودھ کسی انا کا نہ پیا پھر فرعون کی ڈاڑھی نوچ لینے سے قتل کے قابل قرار پائے پھر آخر زبان جل گئی پھر قبطی کے ان کے ہاتھ سے مارے جانے کے سبب سے فرعونی لوگ ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے پھر بھوکے پیاسے مدین کا سفر کرنا پڑا اس قصہ میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے انبیاء کو قدیم سے دنیا میں تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں پھر آخرت میں ان تکلیفوں کے بدلہ راحتیں ہیں اور دنیا میں بھی وقت مقررہ پر قدیم سے انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
آیت 41
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو دین، وحی، راسلت اور قبولیت دعا سے نوازا۔۔۔ اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چناچہ فرمایا : (ولقد مننا علیک مرۃ اخری) ” اور ہم نے تجھ پر احاسن کیا دوسری مرتبہ “ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انہیں حضرت موسیٰ کے بارے میں سخت خوف لاحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
34 حضرت موسیٰ کی حفاظت کی تدبیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تمہاری بہن تمہاری خبرگیری کیلئے چلی جارہی تھیں "۔ دریا کے کنارے کنارے۔ اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق۔ تمہاری دیکھ بھال اور اطلاع و خبرگیری کے لئے۔ کیونکہ ان کی والدہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ تم دور سے ہو کر موسیٰ کے اس صندوق کو دیکھتی اور اس کی نگرانی کرتی جاؤ کہ یہ صندوق کدھر جاتا ہے اور کہاں جاکر رکتا ہے۔ سو وہ دور سے ہو کر اس کو اس طرح دیکھتی رہیں کہ ان لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہ چلنے پائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح اس طرح فرمائی گئی ۔ { وَقَالَتْ لاُخْتِہ قُصِّیْہِ فَبَصُرَتْ بِہ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لاَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں
تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ف 9 یعنی بڑی شرارت اور سرکشی پر کمر باندھ لی ہے حتی کہ خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →(20:43) طغی۔ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 20:924)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–46
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46
یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔
تشریح : آیت نمبر 25 تا 46
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فرعون بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک فرعونی مارا گیا تھا۔ اس کا خوف بھی تھا کہ فرعون دیکھے گا تو بدلہ ضرور لے گا۔ اس سبب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مل کر خدا سے دعا کی کہ ” یا اللہ ! فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرنے پائے “۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین فرمائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، ہر وقت تمہاری اور فرعون کی باتیں سنتا رہوں گا، اور جو معاملہ وہ تمہارے ساتھ کرے گا، اسے دیکھتا بھی رہوں گا۔ پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور جا کر کہو :” ہم تیرے پروردگار کی طرف سے پیغمبر ہیں۔ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو کر دے، اور ان کو تکلیف نہ دے۔ اور ہم اپنے دعویٰ کے ثبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
(ف 1) ام موسیٰ کی جانب وحی کے معنی یہ ہیں کہ بذریعہ الہام ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں صندوق میں رکھ کر بہا دو ، وہ امن وسل امتی کے ساتھ حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل کرے گا ، ام موسیٰ کا ایمان ملاحظہ ہو کہ لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک رہی ہیں کتنا زبردست عقیدہ ہے کس قدر محکم یقین ہے کہ نتائج سے بےپروا ہو کر اپنے بیٹے کو دریا کی موجوں کے سپرد کر رہی ہیں ۔
اب اللہ تعالیٰ کی عنایت دیکھئے کہ اس نے ام موسیٰ (علیہ السلام) کے تقویت ایمان کے ثمرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شاہی محلات…
Read the full tafseer →-43 تم دونوں فرعون کے پاس جائو کیونکہ وہ حد سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ یعنی شرع کی حد سے بڑھ گیا ہے اور عبودیت کی حد سے آگے نکل گیا ہے ظلم اور سفاکی پر کمر باندھ لی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔
Read the full tafseer →دونوں مل کر فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ بہت سرکش ہوگیا :
43۔ اس سے زیادہ سرکشی اور کیا ہوگی کہ اس نے ایک پوری قوم کو اچھوت بنا کر رکھ دیا اور ان سے بیگار لینے کے سوا اس کو کچھ نہیں سوجھتا اس نے ایسے قانون بنائے جس کے تحت بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو موت کے گھاٹ اتارا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھ کر ان سے خدمت کا کام بھی لیا اور اپنی قوم کی نفسانی خواہشوں کا ازالہ بھی انہی سے کیا اور اس طرح اس نے جو حرکت کی وہ ایک سے ایک بڑھ کر بری تھی اور ظلم کی انتہا کردی ۔ غور کرو کہ فرعون نے جو کچھ بنی اسرائیل کو دوسری قوم سمجھتے ہوئے کیا آج کے یہ سرمایہ دار اور جاگیردار اپنی قوم کے عوام سے کر رہے ہیں اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ
Our Lord is He who gave everything its shape, then guidance - 20:50.
The Pharaoh then asked them what they wanted. He charged Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the murder of the Egyptian and at the same time reminded him how he had brought him up in his own palace and the great kindness he had shown towards him. The reply which Sayyidna Musa (علیہ السلام) gave on both these points is mentioned in the Qur'an. That is, the murder of the Egyptian was a mistake for which he had asked Allah's forgiveness. As for the second point, he…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
18. The only two ways of bringing a man to the right way are: (1) To convince him by argument and admonition, or (2) To warn him of the consequences of deviation.
Read the full tafseer →