Taa-Haa 20:42

Taa-Haa · from ayah 42

20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَاَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَلَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْ ۟ۚاِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ بِاٰيٰتِىۡ وَلَا تَنِيَا فِىۡ ذِكۡرِى‌ۚ

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Go, you and your brother, with My signs and do not slacken in My remembrance.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:42

جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ ا ور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراه لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ، اور میرا ذکر کرنے میں سستی نہ کرنا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم اور تمہارا بھائی (ہارون) میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اور تیرا بھائی میری آیات لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اب تم اور تمہارا بھائی دونوں میرے معجزات لے کر جاؤ اور میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم اور تمہارا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جائو اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس اب جاؤ تم بھی اور تمہارے بھائی بھی میری آیتوں کے ساتھ اور سستی نہ کرنا تم دونوں میری یاد میں،

— مولانا اسحاق مدنی

(سو اب) تم اور تمہارے بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جاؤ تم اور تمہارا بھائی میری ان نشانیوں کے ساتھ اور میرے ذکر سے سستی نہ کرنا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So go forth, both you and your brother, with My Signs, and do not slacken in remembering Me.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Go, you and your brother, with My signs, and do not be slack in My remembrance.

— Muhammad Taqi Usmani

Go, you and your brother, with My signs, and do not be slack in My remembrance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Go you and your brother with My Ayat, and do not, you both, slacken and become weak in My remembrance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Go, thou and thy brother, with My tokens, and be not faint in remembrance of Me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Go, you and your brother, with My signs and do not slacken in My remembrance.

— Saheeh International

"Go with your brother. Take My miracles and do not be reluctant in preaching My message.

— Muhammad Sarwar

Go you and your brother with My communications and be not remiss in remembering Me;

— Muhammad Habib Shakir

Go thou and thy brother with My signs, and slacken not in remembrance of Mine.

— Abdul Majid Daryabadi

"Go, thou and thy brother, with My Signs, and slacken not, either of you, in keeping Me in remembrance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

موسیٰ ؑ فرار کے بعد۔ حضرت موسیٰ ؑ سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت آدم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کی ملاقات ہوئی تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 38–44

سورة طٰهٰ 18 آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–44

اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ ، موسیٰ ؑ کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں فرمایا ہے وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کی آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس) یا آپ کو مبتلائے آزمائش کیا بار بار (قالہ الضحاک) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس آئی ہے وہ یہ ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مفصل قصہ حدیث الفتون کے نام سے طویل حدیث سنن نسائی کتاب التفسیر میں بروایت ابن عباس نقل کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی اس کو پورا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس روایت کو مرفوع یعنی نبی کریم ﷺ کا بیان قرار…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 42 یہ اس حکم کا اعادہ ہے جو آیت 24 میں دیا گیا کہ فرعون کے پاس جائو اور اس کو انذار کور۔ بیچ کی آیات حضرت موسیٰ کی تسکن و تسلی کے لئے ہیں۔ ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت اور ان پر سابق افضال و عنایات کا حوالہ دینے کے بعد پھر ہدایت ہوئی کہ میری نشانیوں کے ساتھ بےخوف و خطر، فرعون کے پاس جائو۔ پہلے صرف حضرت موسیٰ کو حکم ہوا تھا لیکن اب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کو حکم ہوا اس لئے کہ حضرت موسیٰ کی درخواست پر حضرت ہارون بھی شریک نبوت بنا دیئے گئے تھے۔ ذکر سے مراد ولاتنیا فی ذکری اسی ہدایت کی تاکید مزید ہے جو آیت 14 میں دی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑھنا ذکر سے مراد جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–42

42۔ 1 اس میں اللہ سے دعا کے لئے بڑا سبق ہے کہ انھیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا چاہئے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–49

19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–44

اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔ تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جس کام کے لیے بنائے گئے ہو، وقت آگیا ہے کہ اپنے بھائی ہارون کو ساتھ لے کر اس کے لیے نکل کھڑے ہو اور جو دلائل و معجزات تم کو دیے گئے ہیں ضرورت کے وقت ظاہر کرو۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) پیشتر دعا کرتے وقت کہہ چکے تھے (كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا 33؀ۙ وَّنَذْكُرَكَ كَثِيْرًا 34؀ۭ ) 20 ۔ طہ :33) یہاں (وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ ) 20 ۔ طہ :42) کہہ کر وہ بات یاد دلا دی۔ یعنی اللہ کے نام کی تبلیغ میں پوری مستعدی دکھلاؤ اور تمام احوال و اوقات میں عموماً اور دعوت تبلیغ کے وقت خصوصاً اللہ کو کثرت سے یاد کرو کہ اہل اللہ کے لیے کامیابی کا بڑا ذریعہ اور دشمن کے مقابلہ میں بہترین ہتھیار یہی ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 41–47

آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ” اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–43

28 اللہ کے ذکر کا فائدہ :۔ پہلے صرف سیدنا موسیٰ کو یہی بات کہی تھی کہ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سر اٹھا ہے۔ اب جب سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا کرکے ان کا مددگار بنادیا گیا تو ان دونوں سے وہی بات کہی گئی اور اب ان دونوں کو تاکید کی کہ میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا کیونکہ اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جو اللہ والوں کی کامیابی کا ذریعہ اور دشمن کے مقابلہ میں بہترین ہتھیار ہے۔ اس سے اللہ کی طرف لو لگائے رکھنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس راہ میں جو مصائب پیش آئیں ان کو صبر و استقلال سے برداشت کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

41۔ اہل حق کا اصلی مشغلہ وفریضہ یہی یاد الہی ہے جس کی تاکید سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ پیغمبر بھیجے ہی جاتے ہیں تذکر وتذکیر کے لیے دنیوی نظام حکومت قائم کرنے کی حیثیت ثانوی اور ضمنی ہوتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تعلیم میں برکت جب ہی پیدا ہوتی ہے جب معلم خود بھی ذکر میں مشغول ہو۔ (آیت) ” ایتی “۔ سے مراد وہ معجزات ہیں، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وحضرت ہارون (علیہما السلام) کو عطا ہوچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–42

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذہب انت واخوک بایتی تم اور تمہارے بھائی میرے (عطاکردہ) نشانات یعنی معجزات کے ساتھ جاؤ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا آیات سے مراد ہیں وہ نو معجزات جو حضرت موسیٰ کو دیئے گئے تھے۔ ولا تنیا فی ذکری۔ اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرنا (سدی) یا کمی نہ کرنا (محمد بن کعب) قاموس میں ہے ونی بروزن فتٰی تھکان 1 ؂۔ سستی۔ یہ وحی حضرت موسیٰ کو ہوئی تھی ‘ حضرت ہارون اس زمانہ میں مصر میں تھے۔ اللہ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ ہارون کے پاس جاؤ ادھر ہارون کو وحی بھیجی کہ تم موسیٰ سے ملو۔ حسب الحکم حضرت ہارون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے ملنے مصر سے نکل کر ایک منزل آئے تھے کہ ملاقات ہوگئی یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 42–43

(42۔ 43) تم اور ہارون ؑ دونوں میری نشانیاں یعنی یدبیضاء اور عصا لے کر جاؤ اور میری عبادت میں سستی مت کرنا یا یہ کہ فرعون کی طرف تبلیغ رسالت میں کسی قسم کی کوئی غفلت نہ کرنا، لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت تکبر اور کفر اختیار کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْهَبْ اَنْتَ وَاَخُوْكَ بِاٰيٰتِيْ : یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے موسیٰ ؑ کی پرورش فرعون کے گھر میں اور پھر مدین میں کی گئی، چونکہ اس وقت وہاں ہارون ؑ موجود نہیں تھے، اس لیے موسیٰ ؑ کو مصر پہنچ کر انھیں ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ ”بِاٰيٰتِيْ“ یعنی تم فرعون کے پاس خالی ہاتھ نہیں جاؤ گے بلکہ میری نشانیاں عصا اور ید بیضا تمہارے پاس ہوں گی، اس لیے بلاجھجک جاؤ اور میرا پیغام پہنچاؤ۔ وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ : ”وَلَا تَنِيَا“ ”وَنٰی یَنِيْ وَنْیًا“ بروزن ”وَعَدَ یَعِدُ“ سستی کرنا، کوتاہی کرنا، تھک کر رہ جانا۔ یعنی میری یاد میں کمی نہ کرنا، اس سے تمہارا عزم قوی اور قدم ثابت رہے گا، کیونکہ جب تم مجھے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–42

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واصطنعتک لنفسی۔ حضرت ابن عبن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے اپنی وحی اور رسالت کے لیے تمہیں چن لیا ہے۔ بعض نے فرمایا : اصطنعتک کا معنی ہے میں نے تجھے پیدا کیا۔ یہ الصنعۃ سے ماخوذ ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے میں نے تجھے قوت دی اور علم سکھایا تاکہ آپ میرا حکم اور میری نہی میرے بندوں تک پہنچائیں۔ اذھب انت واخوک بایتی حضرت ابن عبب اس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد نو آیات ہیں جو آپ پر نازل کی گئیں۔ و لا تینا فی ذکری۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : امر رسالت میں کمزور نہ ہونا ؛ اور یہ قتادہ کا بھی قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے سست نہ ہونا۔ شاعر نے کہا :۔ فما…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذْهَبْ : آپ (علیہ السلام) جائیں ] [انتَ : آپ (علیہ السلام) ] [وَاَخُوْكَ : اور آپ (علیہ السلام) کے بھائی ] [بِاٰيٰتِيْ : میری نشانیوں کے ساتھ ] [وَلَا تَنِيَا : اور آپ (علیہ السلام) دونوں سستی نہ کریں ] [فِيْ ذِكْرِيْ : میری یاد میں ] و ن ی [وَنْیًا : (ض) ] سست ہونا۔ تھکنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 42

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–48

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–43

25:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پانچواں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ” اِذْھَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْکَ “ انعامات یاد دلانے کے بعد فرمایا تم اور تمہارا بھائی دونوں معجزات کے ساتھ جاؤ اور میرے ذکر اور میری توحید کی تبلیغ میں سستی ہرگز نہ کرنا۔ ” اِذْھَبَا اِلیٰ فِرْعَوْنَ “ یہ پہلے ” اِذْھَبَا “ سے بدل ہے۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْہَبْ اَنْتَ وَاَخُوْكَ بِاٰيٰتِيْ وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ۝ 42ۚ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–43

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–43

وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ۔ اِذْھَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰ یٰـتِیْ وَلاَ تَنِیَا فِیْ ذِکْرِیْ ۔ اِذْھَبَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰی۔ (طٰـہٰ : 41، 42، 43) (میں نے تمہیں اپنی ذات (کارِ خاص) کے لیے مخصوص کرلیا ہے۔ اب تم اور تمہارا بھائی میری آیات لے کر جاؤ، اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنا۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ ) دونوں بھائیوں کو ادا رسالت کے لیے جانے کا حکم آپ ( علیہ السلام) کو جس عظیم منصب کے لیے ہم نے چنا ہے اور اب تک کی زندگی جس کے لیے ٹریننگ کے طور پر گزری ہے، اب اس منصب کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مصر اور دور دور کا علاقہ کفر اور گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–44

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو منتخب کیا تھا اس کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلا حکم۔ انبیاء (علیہ السلام) میں موسیٰ (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا کرنے کے ساتھ ہی دو عظیم معجزے عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالتے تو وہ سورج سے زیادہ روشن دکھائی دیتا اپنا عصا پھینکتے تو اللہ کے حکم سے وہ اژدھا بن جاتا اس کے ساتھ کئی کام لیتے اس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی ہارون کو نبوت دینے اور اپنی زبان کی لکنت دور کرنے کی درخواست کی دونوں درخواستوں کو من و عن قبول…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42: اِذْھَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰیٰتِیْ (تم اور تمہارا بھائی میرے معجزات لے کر جائو) آیات سے یہاں معجزات مراد ہیں۔ وَلَا تنِیَا (اور تم دونوں سستی نہ کرنا) تھکنا، سستی کرنا۔ یہ الونی سے ہے جس کا معنی کمی اور تھکاوٹ ہے۔ فِیْ ذِکْرِی : (میری یاد میں) تم دونوں میری یاد کو اپنے دو پروں بنائو جس سے تم نے پرواز کرنا ہے۔ 2: الذکر سے مراد تبلیغ رسالت ہے۔ ذکر کے لفظ کا اطلاق تمام عبادات پر ہوتا ہے اور تبلیغ رسالت تو عظیم ترین عبادات میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42۔ اذھب انت واخوک بایاتی، ، میری دلالت سے، ابن عباس کا قول ہے کہ آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ کو دیے گئے تھے ۔ ولاتنیا، اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، سدی (رح) کا قول ہے کہ میرے ذکر میں کمی نہ کرنا، محمد بن کعب کا بیان ہے کہ سستی نہ کرنا، فی ذکری، ،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41۔ 44:۔ بچپن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کئی طرح کی آزمائش میں پڑے اول تو اس سال میں پیدا ہوئے جب بنی اسرائیل کے لڑکے فرعون قتل کر رہا تھا پھر صندوق میں بند ہو کردیا میں ڈالے گئے پھر دودھ کسی انا کا نہ پیا پھر فرعون کی ڈاڑھی نوچ لینے سے قتل کے قابل قرار پائے پھر آخر زبان جل گئی پھر قبطی کے ان کے ہاتھ سے مارے جانے کے سبب سے فرعونی لوگ ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے پھر بھوکے پیاسے مدین کا سفر کرنا پڑا اس قصہ میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے انبیاء کو قدیم سے دنیا میں تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں پھر آخرت میں ان تکلیفوں کے بدلہ راحتیں ہیں اور دنیا میں بھی وقت مقررہ پر قدیم سے انبیاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–45

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو دین، وحی، راسلت اور قبولیت دعا سے نوازا۔۔۔ اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چناچہ فرمایا : (ولقد مننا علیک مرۃ اخری) ” اور ہم نے تجھ پر احاسن کیا دوسری مرتبہ “ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انہیں حضرت موسیٰ کے بارے میں سخت خوف لاحق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–43

34 حضرت موسیٰ کی حفاظت کی تدبیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تمہاری بہن تمہاری خبرگیری کیلئے چلی جارہی تھیں "۔ دریا کے کنارے کنارے۔ اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق۔ تمہاری دیکھ بھال اور اطلاع و خبرگیری کے لئے۔ کیونکہ ان کی والدہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ تم دور سے ہو کر موسیٰ کے اس صندوق کو دیکھتی اور اس کی نگرانی کرتی جاؤ کہ یہ صندوق کدھر جاتا ہے اور کہاں جاکر رکتا ہے۔ سو وہ دور سے ہو کر اس کو اس طرح دیکھتی رہیں کہ ان لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہ چلنے پائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح اس طرح فرمائی گئی ۔ { وَقَالَتْ لاُخْتِہ قُصِّیْہِ فَبَصُرَتْ بِہ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لاَ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–43

ف 9 یعنی بڑی شرارت اور سرکشی پر کمر باندھ لی ہے حتی کہ خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:42) ولا تنیا۔ فعل نہی۔ تثنیہ مذکر حاضر۔ تم دونوں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں سست نہ ہودنی مصدر (باب ضرب)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–42

ان آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کو فرعون کی ہدایت کے لئے جانے کا حکم ہوا۔ اور فرمایا کہ فرعون سے نرم لفظوں سے بات چیت کرنا۔ کیونکہ سخت بات سے آدمی کو غصہ آجاتا ہے۔ جس کے سبب سے سمجھ میں آتی ہوئی بات کو بھی آدمی نہیں سمجھتا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو پہلے مہلت دیتا ہے، جب مہلت کے زمانہ میں وہ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو کسی سخت عذاب میں ان کو پکڑ لیتا ہے “ اللہ نے اپنی عادت کے موافق فرعون اور اس کی قوم کو بہت بڑی مہلت دی ، اور اس زمانہ میں دو بنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ان لوگوں کی فہمائش کے لئے بھیجے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–48

[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–43

(ف 1) ام موسیٰ کی جانب وحی کے معنی یہ ہیں کہ بذریعہ الہام ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں صندوق میں رکھ کر بہا دو ، وہ امن وسل امتی کے ساتھ حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل کرے گا ، ام موسیٰ کا ایمان ملاحظہ ہو کہ لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک رہی ہیں کتنا زبردست عقیدہ ہے کس قدر محکم یقین ہے کہ نتائج سے بےپروا ہو کر اپنے بیٹے کو دریا کی موجوں کے سپرد کر رہی ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ کی عنایت دیکھئے کہ اس نے ام موسیٰ (علیہ السلام) کے تقویت ایمان کے ثمرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شاہی محلات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-42 اب تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں اور معجزات لے کر جائو اور تم دونوں میری یاد اور میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ یعنی وہ نشانیاں جن کی تعداد نو ہے اور جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لکڑی اور ہاتھ کے روشن ہونے کی طرف اشارہ ہو اور جمع کا لفظ ان کی عظمت اور تعداد اعجاز کی وجود کے اعتبار سے ہو بہرحال ! دلائل و معجزات کے ہمراہ جانے کا حکم ہوا اور لاتینآ محض اہتمام کے لئے فرمایا ورنہ انبیاء علیہم ال صلوۃ والسلام تو ذکر الٰہی میں خود ہی بہت چست ہوتے ہیں چونکہ سخت دشمن سے مقابلہ تھا اس لئے ذکر الٰہی میں تاکید فرمائی کیونکہ ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–51

ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم : 42۔ آپ کو یاد ہوگا موسیٰ (علیہ السلام) تو مدین سے مصر کی طرف آ رہے تھے کہ رات کے وقت آگ کو دیکھ کر اس آگ کی طرف بڑھے تھے تاکہ راستہ معلوم کریں اور وہاں سے آگ کا کوئی انگارہ لا کر الاؤ جلائیں اور اپنے بیوی بچوں کو تپائیں لیکن وہاں جا کر ایک دوسرا ہی منظر نظر آیا کہ آگ کی بجائے نبوت و رسالت پر آپ کو فائز کیا گیا اور حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ لیکن آپ نے اپنے گزشتہ حالات کے پیش نظر رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں عرض کی کہ میرے ساتھ میرے بھائی ہاروں کو بھی رسول بنا کر بھیجا جائے تو میں بات وضاحت سے کر پاؤں گا ورنہ میرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–44

رَ‌بُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ Our Lord is He who gave everything its shape, then guidance - 20:50. The Pharaoh then asked them what they wanted. He charged Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the murder of the Egyptian and at the same time reminded him how he had brought him up in his own palace and the great kindness he had shown towards him. The reply which Sayyidna Musa (علیہ السلام) gave on both these points is mentioned in the Qur'an. That is, the murder of the Egyptian was a mistake for which he had asked Allah's forgiveness. As for the second point, he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–44

18. The only two ways of bringing a man to the right way are: (1) To convince him by argument and admonition, or (2) To warn him of the consequences of deviation.

Read the full tafseer →