Taa-Haa 20:41

Taa-Haa · from ayah 41

20:41

وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْ ۟ۚوَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِى‌ۚ

اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لئے بنایا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And I produced you for Myself.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:41

میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لئے بنایا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرما لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں نے تمہیں خاص اپنے لیے بنایا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اب) میں نے تمہیں اپنے (امرِ رسالت اور خصوصی انعام کے) لئے چن لیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں نے تجھے اپنے لیے خاص طور پر بنایا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں نے تمہیں اپنے کام کا بنا لیا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں نے اپنے کار خاص کے لئے تمہیں منتخب کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں نے تمہیں خاص اپنے لیے بنایا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں نے تم کو اپنے لئے منتخب کرلیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں نے تم کو بنایا ہے خاص اپنے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میں نے تم کو اپنے کام کے لیے بنایا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I have chosen you for My service.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I have fashioned you for Myself.

— Muhammad Taqi Usmani

I have fashioned you for Myself.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And I have chosen you for Myself.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And I produced you for Myself.

— Saheeh International

I chose you for Myself.

— Muhammad Sarwar

And I have chosen you for Myself:

— Muhammad Habib Shakir

And formed thee for Myself.

— Abdul Majid Daryabadi

"And I have prepared thee for Myself (for service)"..

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

موسیٰ ؑ فرار کے بعد۔ حضرت موسیٰ ؑ سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت آدم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کی ملاقات ہوئی تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 38–44

سورة طٰهٰ 18 آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–44

اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ ، موسیٰ ؑ کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں فرمایا ہے وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کی آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس) یا آپ کو مبتلائے آزمائش کیا بار بار (قالہ الضحاک) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس آئی ہے وہ یہ ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مفصل قصہ حدیث الفتون کے نام سے طویل حدیث سنن نسائی کتاب التفسیر میں بروایت ابن عباس نقل کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی اس کو پورا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس روایت کو مرفوع یعنی نبی کریم ﷺ کا بیان قرار…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واصعلنعتک لنفسی آیت 41 اصطناع کا اصل مفہوم کسی کو کسی خاص مقصد کے لئے تربیت اور ٹریننگ دینے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے جو تمہیں اتنی بھٹیوں میں تپایا اور اتنے امتحانوں سے گزارا ہے تو اپنے ایک کار خاص کے لئے یہ تمہاری تربیت کی ہے اور اب وہ کار خاص میں تمہارے سپرد کر رہا ہوں سو تم اس ذمہ داری کو اٹھائو اور میرے اعتماد پر اس کی انجام دہی کے لئے آگے بڑھو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–42

42۔ 1 اس میں اللہ سے دعا کے لئے بڑا سبق ہے کہ انھیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا چاہئے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–41

16: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو ان کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بےچین تھیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا۔ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پہنچ گئیں جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو موقع مل گیا، اور انہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پر پیش کی، اور…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–41

اذ تمشی اختک۔۔۔۔۔۔ عینھا ولا تحزن (02 : 04) ” یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جا کر کہتی ہے ” میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے۔ اس طرح ہم نے تجھے پھر اپنی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو “۔ اس سلسلے میں اللہ کی تدبیریوں تھی کہ بچہ کسی دودھ پلانے والی کا پستان منہ میں نہ لیتا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ کسی ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو اس بچے کی پرورش کرے ‘ جس کو دریا نے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ماں کی طرف سے اشارہ پا کر کہتی ہے کہ میں تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اپنی وحی و رسالت کے لیے تیار کر کے اپنے خواص و مقربین میں داخل کیا اور جس طرح خود چاہا تیری پرورش کرائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 41–47

آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ” اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 یہ تمہاری تربیت کا سارا اہتمام اسی غرض کے تحت کیا گیا ہے کہ تمہیں اس مہم کے لئے فرعون کے پاس بھیجا جائے اور میں نے اسی کام کے لئے تمہاری اسی انداز سے تربیت کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

40۔” اپنے لئے “ یعنی اپنا نبی بنانے کے لیے۔ اے لوحی ورسالتی (ابن عباس ؓ اخترتک لاقامۃ حجتی (روح۔ عن الزجاج) الاصطناع الاخلاص بالالطاف ومعنی لنفسی لنصرف علی ارادتی وحجتی (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–42

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واصطنعتک لنفسی۔ اور میں نے تم کو اپنے لئے منتخب کرلیا یعنی تمہاری تربیت اپنے لئے کی اور اپنے لئے تم کو چن لیا تاکہ میرے علاوہ تم کسی اور سے دل نہ لگاؤ نہ ظاہر میں نہ باطن میں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تم کو مکارم اخلاق کے لئے بنایا ہے اور اس طرح تربیت دی ہے کہ تم مجھ سے خطاب کرنے میرے قریب آنے اور میرا پیام پہنچانے کے قابل ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 40–41

(40۔ 41) یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ تمہاری بہن تمہاری تلاش میں فرعون کے گھر تک آئیں اور اجنبی بن کر کہنے لگیں کیا آپ کو ایسی آیا چاہیے جو اس کی اچھی طرح پرورش کرے چناچہ اس طریقے سے ہم نے تمہیں تمہاری ماں پاس پھر پہنچا دیا تاکہ ان کا دل خوش ہوجائے اور اپنے بیٹے کی ہلاکت کا خوف نکل جائے۔ اور تم نے غلطی سے ایک قبطی کو مار ڈالا تھا اور پھر قوم کے انتقام کے خوف سے بھی ہم نے تمہیں نجات دی اور بار بار ہم نے تمہیں آزمائشوں میں ڈالا پھر اس کے بعد مدین والوں میں دس سال تک رہے پھر ایک خاص وقت پر جو میرے علم میں تمہاری رسالت اور ہم کلامی کے لیے مقرر تھا تم یہاں آئے اور اے موسیٰ ؑ یہاں آنے پر میں نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–41

”اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (11 تا 13) اور ”وَقَتَلْتَ نَفْسًا“ سے آخر آیت تک کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (14 تا 28)۔ وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا : ”فُتُوْنًا“ ”فَتَنَ یَفْتِنُ“ کا مصدر ہے، جیسا کہ ”قُعُوْدٌ“ اور ”خُرُوْجٌ“ وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔“ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بےسروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–42

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واصطنعتک لنفسی۔ حضرت ابن عبن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے اپنی وحی اور رسالت کے لیے تمہیں چن لیا ہے۔ بعض نے فرمایا : اصطنعتک کا معنی ہے میں نے تجھے پیدا کیا۔ یہ الصنعۃ سے ماخوذ ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے میں نے تجھے قوت دی اور علم سکھایا تاکہ آپ میرا حکم اور میری نہی میرے بندوں تک پہنچائیں۔ اذھب انت واخوک بایتی حضرت ابن عبب اس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد نو آیات ہیں جو آپ پر نازل کی گئیں۔ و لا تینا فی ذکری۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : امر رسالت میں کمزور نہ ہونا ؛ اور یہ قتادہ کا بھی قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے سست نہ ہونا۔ شاعر نے کہا :۔ فما…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاصْطَنَعْتُكَ : اور میں نے اہتمام سے پروان چڑھایا آپ (علیہ السلام) کو ] [لِنَفْسِيْ : اپنے آپ کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–48

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–43

25:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پانچواں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ” اِذْھَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْکَ “ انعامات یاد دلانے کے بعد فرمایا تم اور تمہارا بھائی دونوں معجزات کے ساتھ جاؤ اور میرے ذکر اور میری توحید کی تبلیغ میں سستی ہرگز نہ کرنا۔ ” اِذْھَبَا اِلیٰ فِرْعَوْنَ “ یہ پہلے ” اِذْھَبَا “ سے بدل ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–41

ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر وادی طویٰ میں پہنچے تو آپ کو اللہ نے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو شرف ہمکلامی حاصل ہوا۔ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے وقت آپ کو اپنے راستے میں جو مشکلات نظر آئیں ، ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ نے اللہ کے حضور دعا کی۔ آپ نے اپنی زبان کی گرہ کشائی ، اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے تعاون اور سارے معاملے کی آسانی کے لئے رب العزت سے درخواست کی۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے اور اس طرح تمہارے سوال کو پورا کردیا گیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے ہارون (علیہ السلام) کو منصب رسالت پر فائز کیا ، زبان کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ۝ 41ۚ اصْطِنَاعُ : المبالغة في إصلاح الشیء، وقوله : وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي[ طه/ 41] ، وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، إشارة إلى نحو ما قال بعض الحکماء : (إنّ اللہ تعالیٰ إذا أحبّ عبدا تفقّده كما يتفقّد الصّديق صدیقه) . الاصطناع کسی چیز کی نہایت زور اور توجہ سے اصلاح کرنا ۔ اور آیت کریمہ : وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي[ طه/ 41] اور میں نے تم کو اپنے کام کے ) لئے بنایا ہے ۔ اور آیت : وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ ۔ میں حکماء کے اس قول کی طرف اشارہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اس کی اس طرح دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–43

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–43

وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ۔ اِذْھَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰ یٰـتِیْ وَلاَ تَنِیَا فِیْ ذِکْرِیْ ۔ اِذْھَبَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰی۔ (طٰـہٰ : 41، 42، 43) (میں نے تمہیں اپنی ذات (کارِ خاص) کے لیے مخصوص کرلیا ہے۔ اب تم اور تمہارا بھائی میری آیات لے کر جاؤ، اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنا۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ ) دونوں بھائیوں کو ادا رسالت کے لیے جانے کا حکم آپ ( علیہ السلام) کو جس عظیم منصب کے لیے ہم نے چنا ہے اور اب تک کی زندگی جس کے لیے ٹریننگ کے طور پر گزری ہے، اب اس منصب کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مصر اور دور دور کا علاقہ کفر اور گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–41

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41: وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ (اور میں نے تمہیں اپنے لئے منتخب کرلیا) چن لیا۔ اور اپنی وحی اور رسالت کیلئے تمہارا انتخاب کرلیا تاکہ تم میرے ارادہ اور محبت کے مطابق کام کرو۔ زجاج (رح) کہتے ہیں میں نے تمہیں اپنے کام کیلئے چنا۔ اور تمہیں اپنی محبت کو قائم کرنے والا بنایا۔ اور اپنے اور مخلوق کے درمیان واسطہ بنایا تاکہ میرا خطاب سن کر مخلوق کو پہنچائو۔ گویا میں نے تمہارے ذریعہ ان پر حجت قائم کردی اور ان کو براہ راست مخاطب کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 41۔ واصطنعتک لنفسی، ، یعنی ہم نے آپ کو اپنے لیے منتخب کرلیا اور چن لیا اپنی وحٰ اور اپنی رسالت کو یہ سب کچھ آپ کو اس لیے دیا کہ آپ نے کامل محبت صرف اللہ ہی سے کی ۔ زجاج کا قول ہے کہ آپ نے ہمارے حکم کو اختیار کیا اور تمہیں اپنی حجت کے لیے قائم کردیا اور مخاطب ہمارے اور مخلوق کے درمیان آپ کو بنایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41۔ 44:۔ بچپن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کئی طرح کی آزمائش میں پڑے اول تو اس سال میں پیدا ہوئے جب بنی اسرائیل کے لڑکے فرعون قتل کر رہا تھا پھر صندوق میں بند ہو کردیا میں ڈالے گئے پھر دودھ کسی انا کا نہ پیا پھر فرعون کی ڈاڑھی نوچ لینے سے قتل کے قابل قرار پائے پھر آخر زبان جل گئی پھر قبطی کے ان کے ہاتھ سے مارے جانے کے سبب سے فرعونی لوگ ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے پھر بھوکے پیاسے مدین کا سفر کرنا پڑا اس قصہ میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے انبیاء کو قدیم سے دنیا میں تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں پھر آخرت میں ان تکلیفوں کے بدلہ راحتیں ہیں اور دنیا میں بھی وقت مقررہ پر قدیم سے انبیاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–45

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو دین، وحی، راسلت اور قبولیت دعا سے نوازا۔۔۔ اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چناچہ فرمایا : (ولقد مننا علیک مرۃ اخری) ” اور ہم نے تجھ پر احاسن کیا دوسری مرتبہ “ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انہیں حضرت موسیٰ کے بارے میں سخت خوف لاحق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–43

34 حضرت موسیٰ کی حفاظت کی تدبیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تمہاری بہن تمہاری خبرگیری کیلئے چلی جارہی تھیں "۔ دریا کے کنارے کنارے۔ اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق۔ تمہاری دیکھ بھال اور اطلاع و خبرگیری کے لئے۔ کیونکہ ان کی والدہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ تم دور سے ہو کر موسیٰ کے اس صندوق کو دیکھتی اور اس کی نگرانی کرتی جاؤ کہ یہ صندوق کدھر جاتا ہے اور کہاں جاکر رکتا ہے۔ سو وہ دور سے ہو کر اس کو اس طرح دیکھتی رہیں کہ ان لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہ چلنے پائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح اس طرح فرمائی گئی ۔ { وَقَالَتْ لاُخْتِہ قُصِّیْہِ فَبَصُرَتْ بِہ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لاَ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–43

ف 9 یعنی بڑی شرارت اور سرکشی پر کمر باندھ لی ہے حتی کہ خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:41) اصطنعتک۔ ماضی واحد متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر (باب افتعال) میں نے تم کو بنایا۔ اصطناع مصدر جس کے معنی کسی شے کی درستی اور بنانے میں مبالغہ کرنے کے ہیں۔ اصطنعتک لنفسی۔ ای اخترتک واصطنیتک لنفسی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لئے بنایا ہے۔ میں نے تجھے اپنا بنا لیا ہے۔ میں نے تجھے منتخب کرلیا ہے اپنے لئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–42

ان آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کو فرعون کی ہدایت کے لئے جانے کا حکم ہوا۔ اور فرمایا کہ فرعون سے نرم لفظوں سے بات چیت کرنا۔ کیونکہ سخت بات سے آدمی کو غصہ آجاتا ہے۔ جس کے سبب سے سمجھ میں آتی ہوئی بات کو بھی آدمی نہیں سمجھتا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو پہلے مہلت دیتا ہے، جب مہلت کے زمانہ میں وہ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو کسی سخت عذاب میں ان کو پکڑ لیتا ہے “ اللہ نے اپنی عادت کے موافق فرعون اور اس کی قوم کو بہت بڑی مہلت دی ، اور اس زمانہ میں دو بنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ان لوگوں کی فہمائش کے لئے بھیجے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–48

[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–43

(ف 1) ام موسیٰ کی جانب وحی کے معنی یہ ہیں کہ بذریعہ الہام ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں صندوق میں رکھ کر بہا دو ، وہ امن وسل امتی کے ساتھ حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل کرے گا ، ام موسیٰ کا ایمان ملاحظہ ہو کہ لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک رہی ہیں کتنا زبردست عقیدہ ہے کس قدر محکم یقین ہے کہ نتائج سے بےپروا ہو کر اپنے بیٹے کو دریا کی موجوں کے سپرد کر رہی ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ کی عنایت دیکھئے کہ اس نے ام موسیٰ (علیہ السلام) کے تقویت ایمان کے ثمرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شاہی محلات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-4 1 اور میں نے تجھ کو خاص اپنے لئے منتخب کیا اور بنایا ہے۔ یعنی اپنی توحید کی تبلیغ کے لئے ہم نے تمہارا انتخاب کیا ہے اور تمہاری ساخت اس لئے کی ہے کہ جہاں ہم کہیں تم ہمارا پیام لے کر وہاں جائو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–41

ف 4۔ اور مار کر غم ہوا خوف عقاب سے بھی اور خوف انتقام سے بھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان احسانات کے بعد سب سے بڑا احسان یہ کہ میں نے اپنے لئے تجھے پسند کرلیا : 41۔ فرمایا اے موسیٰ ! میں نے تجھے اپنے لئے پسند کرلیا کیونکہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کا مقصد حیات ہی اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے اور اپنے جسم وجان سے لوگوں کے سامنے بطور اسوہ حسنہ پیش کرنا ہوتا ہے اور یہ کام اتنا بڑا ہے جتنا کہ اس کا بیان کرنا آسان نظر آتا ہے دنیا میں سب سے مشکل چیز کردار واخلاق ہے اور اس کام کے لئے یہی سرمایہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تجھے اپنے لئے انتخاب کرلیا اور ” اصطناع “ کا اصل مفہوم ہی یہ ہے کہ کسی شخص کو کسی خاص مقصد کے لئے تربیت اور ٹریننگ دی جائے تاکہ جس کام کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–44

رَ‌بُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ Our Lord is He who gave everything its shape, then guidance - 20:50. The Pharaoh then asked them what they wanted. He charged Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the murder of the Egyptian and at the same time reminded him how he had brought him up in his own palace and the great kindness he had shown towards him. The reply which Sayyidna Musa (علیہ السلام) gave on both these points is mentioned in the Qur'an. That is, the murder of the Egyptian was a mistake for which he had asked Allah's forgiveness. As for the second point, he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–44

18. The only two ways of bringing a man to the right way are: (1) To convince him by argument and admonition, or (2) To warn him of the consequences of deviation.

Read the full tafseer →