Explained with ayahs 39–40
اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کردیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا حضرت موسیٰ ؑ کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کرسکتے ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بےادبی کیوں کریں ؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ ؑ کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔ دوسری جماعت نے کہا محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ حضرت ہارون ؑ نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے تمہارا رب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
سورة طٰهٰ 18
آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ ، موسیٰ ؑ کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں فرمایا ہے وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کی آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس) یا آپ کو مبتلائے آزمائش کیا بار بار (قالہ الضحاک) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس آئی ہے وہ یہ ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ کا مفصل قصہ
حدیث الفتون کے نام سے طویل حدیث سنن نسائی کتاب التفسیر میں بروایت ابن عباس نقل کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی اس کو پورا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس روایت کو مرفوع یعنی نبی کریم ﷺ کا بیان قرار…
Read the full tafseer →اس آیت میں حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا ایک بہت بڑا حصہ سمیٹ دیا گیا ہے۔ جن باتوں کی تذکیر اس موقع پر ضروری نہیں تھی ان کو حذف کر کے صرف چند باتوں کی طرف اجمالی اشارہ ہے اور پھر آگے سلسلہ کلام اصل موضوع بحث سے مربوط ہوگیا۔
حضرت موسیٰ کے اپنی ماں کی طرف لوٹائے جانے کے لئے غدائی تدبیر
اذ تمشی اختک … الایۃ یہ اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دریا میں ڈالے جانے کے بعد حضرت موسیٰ کو ان کی ماں کی طرف لوٹائے جانے کے لئے اختیار فرمائی۔ اوپر سورة قصص آیت 7 کے حوالہ سے گزر
1۔ تورات میں فرعون کی بیوی کے بجائے اس کی لڑکی کا ذکر آتا ہے کہ ہو اور اس کی سہیلیاں بچہ کو اٹھا کر لائیں۔ قرآن نے اس کی تصحیح…
Read the full tafseer →40۔ 1 یہ اس وقت ہوا، جب ماں نے تابوت دریا میں پھینک دیا تو بیٹی سے کہا، ذرا دیکھتی رہو، یہ کہاں کنارے لگتا ہے اور اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے ؟ جب اللہ کی مشیت سے موسیٰ ؑ فرعون کے محل میں پہنچ گئے، شیرخوارگی کا عالم تھا، چناچہ دودھ پلانے والی عورتوں اور آیاؤں کو بلایا گیا لیکن موسیٰ ؑ کسی کا دودھ نہ پیتے موسیٰ ؑ کی بہن خاموشی سے سارا منظر دیکھ رہی تھی،
بالآخر اس نے کہا میں تمہیں ایسی عورت بتاتی ہوں جو تمہاری یہ مشکل دور کر دے گی، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، چناچہ وہ اپنی ماں کو، جو موسیٰ ؑ کی بھی ماں تھی، بلا لائی، جب ماں نے بیٹے کو چھاتی سے لگایا تو موسیٰ ؑ نے اللہ کی تدبیر و مشیت سے غٹا غٹ دودھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
16: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو ان کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بےچین تھیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا۔ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پہنچ گئیں جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو موقع مل گیا، اور انہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پر پیش کی، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اذ تمشی اختک۔۔۔۔۔۔ عینھا ولا تحزن (02 : 04) ” یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جا کر کہتی ہے ” میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے۔ اس طرح ہم نے تجھے پھر اپنی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو “۔ اس سلسلے میں اللہ کی تدبیریوں تھی کہ بچہ کسی دودھ پلانے والی کا پستان منہ میں نہ لیتا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ کسی ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو اس بچے کی پرورش کرے ‘ جس کو دریا نے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ماں کی طرف سے اشارہ پا کر کہتی ہے کہ میں تمہیں…
Read the full tafseer →1 پورا قصہ دوسری جگہ آئے گا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ صندوق نہر میں چھوڑنے کے بعد بمقتضائے بشریت بہت غمگین اور پریشان تھیں کہ بچہ کا کیا حشر ہوا ہوگا، معلوم نہیں زندہ ہے یا جانوروں نے کھالیا۔ حضرت موسیٰ کی بہن کو کہا کہ خفیہ طور پر پتہ لگا۔ ادھر مشیت ایزدی سے یہ سامان ہوا کہ حضرت موسیٰ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے تھے۔ بہت سی انائیں بلائی گئیں، کامیابی نہ ہوئی۔ موسیٰ کی بہن جو تاک میں لگی ہوئی تھی بولی کہ میں ایک عورت کو لاسکتی ہوں، امید ہے کہ کسی طرح دودھ پلا کر بچہ کو پال سکے گی۔ حکم ہوا بلاؤ۔ وہ موسیٰ کی والدہ کو لے کر پہنچی۔ چھاتی سے لگاتے ہی بچہ نے دودھ پینا شروع کردیا۔ فرعون کے گھر بڑی خوشیاں…
Read the full tafseer →آیت 40 اِذْ تَمْشِیْٓ اُخْتُکَ ”
اور وہ چلتے چلتے فرعون کے محل تک پہنچ گئی جہاں بچے کو فوری طور پر دودھ پلانے کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کسی بھی عورت کا دودھ پینے سے منع کردیا تھا۔ جب بہت سی عورتیں بلائی گئیں اور وہ سب کی سب آپ علیہ السلام کو دودھ پلانے میں ناکام رہیں تو آپ علیہ السلام کی بہن جو یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی بول پڑی :
فَتَقُوْلُ ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہٗ ط ”
آپ علیہ السلام کی بہن نے اپنی ہی والدہ کے بارے میں ان لوگوں کو مشورہ دیا۔ چناچہ جب آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ علیہ السلام نے ان کا دودھ فوراً پی…
Read the full tafseer →23 تابوت کا فرعون کے سامنے پیش کیا جائے :۔ تابوت کو دریا کی موجوں کے حوالے کرنے تک کا کام تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے سرانجام دیا۔ اس سے بعد کے سب کام اللہ تعالیٰ کے اپنے کارنامے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر احسانات ہیں۔ دریا کی موجوں نے تابوت کو دریائے نیل کی اس شاخ کے رخ دھکیل دیا۔ جس پر فرعون کا محل واقع تھا۔ اس مقام پر ایک لہر اٹھی۔ جس نے اس تابوت کو ساحل پر فرعون کے محل کے پاس پھینک دیا۔ پھر اتفاق کی بات کہ یہ تابوت فرعون کے سامنے پیش کیا گیا جو اے موسیٰ ! میرا بھی دشمن تھا اور تمہاری بھی دشمن تھا۔ تو میرا اس لحاظ سے کہ وہ میرا نافرمان تھا اور میرے مقابلہ پر اپنی خدائی کا…
Read the full tafseer →35۔ صندوق دریا میں بہا دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن بھی اجنبی اور انجان بن کر شاہی محل کی طرف چلیں کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ محل میں پہنچیں اور جب دیکھا کہ بچہ مچلا ہوا ہے تو خوش تدبری کے ساتھ اپنی اور ان کی ماں ہی کو رضاعت کے لیے بلوایا۔ توریت میں ہے :”۔ تب اس کی بہن نے فرعون کی بیٹی کو کہا کہ کہئے تو میں جا کے عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تجھ پاس لے آؤں تاکہ وہ تیرے لیے اس لڑکے کو دودھ پلائے فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ جا وہ چھوکری گئی۔ اور لڑکے ماں کو بلایا فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ اس لڑکے کو لے اور میرے لیے دودھ پلا۔ میں تجھے درماہہ دوں گی، اس عورت نے لڑکے کو لیا اور دودھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–42
آیت نمبر 25 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…
Read the full tafseer →اذ تمشی اکتک فتقول ہل ادلکم علی من یکفلہ فرجعنک الی امک کی تقر عینہا ولا تحزن (یہ قصہ اس وقت کا ہے) جب تمہاری بہن چلتی ہوئی آئی پھر کہنے لگی کیا میں تم کو ایسی عورت کا پتہ بتاؤں جو اس
(بچہ) کو (اچھی طرح سے) پالے رکھے اس تدبیر سے ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ رہے۔
یعنی حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی بہن مریم موسیٰ : ( علیہ السلام) کی خبر لینے یونہی چلتی چلتی ادھر بھی آپہنچی جہاں موسیٰ : ( علیہ السلام) کو نوکروں چاکروں نے صندوق سے باہر نکالا اور دودھ پلانے والی عورتوں کو بلوالیا تھا مگر بچہ کسی کا دودھ نہیں پی رہا تھا تو اس نے کہا میں تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(40۔ 41) یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ تمہاری بہن تمہاری تلاش میں فرعون کے گھر تک آئیں اور اجنبی بن کر کہنے لگیں کیا آپ کو ایسی آیا چاہیے جو اس کی اچھی طرح پرورش کرے چناچہ اس طریقے سے ہم نے تمہیں تمہاری ماں پاس پھر پہنچا دیا تاکہ ان کا دل خوش ہوجائے اور اپنے بیٹے کی ہلاکت کا خوف نکل جائے۔
اور تم نے غلطی سے ایک قبطی کو مار ڈالا تھا اور پھر قوم کے انتقام کے خوف سے بھی ہم نے تمہیں نجات دی اور بار بار ہم نے تمہیں آزمائشوں میں ڈالا پھر اس کے بعد مدین والوں میں دس سال تک رہے پھر ایک خاص وقت پر جو میرے علم میں تمہاری رسالت اور ہم کلامی کے لیے مقرر تھا تم یہاں آئے اور اے موسیٰ ؑ یہاں آنے پر میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
”اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (11 تا 13) اور ”وَقَتَلْتَ نَفْسًا“ سے آخر آیت تک کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (14 تا 28)۔
وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا : ”فُتُوْنًا“ ”فَتَنَ یَفْتِنُ“ کا مصدر ہے، جیسا کہ ”قُعُوْدٌ“ اور ”خُرُوْجٌ“ وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔“ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بےسروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(تفسیر 36-42) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال قد اوتیت سولک یموسیٰ ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور معاملہ کی تیسیر کا سوال کیا تو جواباً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اور انہیں ان کی طلب اور مرغوب چیز عطا فرما دی۔ مسول سے مراد طلب ہے یہ فعل بمعنی مفعول ہے، خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ یعنی اس سے پہلے بھی تم پر ہم نے احسان فرمایا۔ اور وہ احسان دشمنوں کے شر سے آپ کی حفاظت ہے اور یہ ذبح کے وقت تھا ؛ واللہ اعلم۔ المن کا مطلب احسان کرنا اور مہربانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا وحینا الی امک ما یوحی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–47
1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “
رسول اللہ ﷺ کی دعاء :
2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [تمشِيْٓ: چلتی تھیں ] [اُخْتُكَ : آپ (علیہ السلام) کی بہن ] [فَتَقُوْلُ : تو انھوں نے کہا ] [هَلْ : کیا ] [اَدُلُّكُمْ : میں پتہ دوں تم لوگوں کو ] [عَلٰي مَنْ : اس کا جو ] [يَّكْفُلُهٗ : پال پوس دے اس کو ] [فَرَجَعْنٰكَ : تو ہم نے واپس کیا آپ (علیہ السلام) کو ] [اِلٰٓى اُمِّكَ : آپ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف ] [كَيْ : تاکہ ] [تَقَرَّ : ٹھنڈی ہو ] [عَيْنُهَا : ان کی آنکھ ] [وَلَا تَحْزَنَ : اور وہ غمگین نہ ہوں ] [وَقَتَلْتَ : اور آپ (علیہ السلام) نے قتل کیا ] [نَفْسًا : ایک جان کو ] [فَنَجَّيْنٰكَ : تو ہم نے نجات دی آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنَ الْغَمِّ : غم سے ] [وَفَتَنّٰكَ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن میں تابوت میں ڈال کر بہا دیا جانا پھر فرعون کے گھر والوں کا اٹھا لینا اور فرعون کے محل میں ان کی تربیت ہونا
چونکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتے تھے اس لیے مصر سے چلے جانے کی ضرورت تھی لیکن فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کو یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ انہیں وہاں سے جانے دیں۔ پھر مزید بات یہ ہوئی کہ کاہنوں نے فرعون کو یہ بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت کے زوال کا ذریعہ بنے گا لہٰذا اس نے یہ کام شروع کردیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوتا تھا اسے قتل کردیتا تھا اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اسے زندہ رہنے دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →22:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا انعام ہے۔ جب بچے کو دودھ پلانے کے لیے بہت سی عورتیں بلائی گئیں تو انہوں نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ یہاں تک کہ آپ کی ہمشیرہ نے یہ صورت حال دیکھ کر کہا کہ میں بھی تمہیں ایک عورت بتاتی ہوں اسے لاؤ۔ شاید یہ بچہ اس کا دودھ پی لے۔ چناچہ ان کی والدہ کو بلایا گیا تو انہوں نے فورًا اس کا دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی والدہ کی گود میں واپس کرنے کا سامان مہیا فرما دیا۔
23:۔ یہ اللہ کا تیسرا انعام ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک دن باہر تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر وادی طویٰ میں پہنچے تو آپ کو اللہ نے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو شرف ہمکلامی حاصل ہوا۔ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے وقت آپ کو اپنے راستے میں جو مشکلات نظر آئیں ، ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ نے اللہ کے حضور دعا کی۔ آپ نے اپنی زبان کی گرہ کشائی ، اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے تعاون اور سارے معاملے کی آسانی کے لئے رب العزت سے درخواست کی۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے اور اس طرح تمہارے سوال کو پورا کردیا گیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے ہارون (علیہ السلام) کو منصب رسالت پر فائز کیا ، زبان کی…
Read the full tafseer →اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي مَنْ يَّكْفُلُہٗ 0ۭ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُہَا وَلَا تَحْزَنَ 0ۥۭ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا 0ۥۣ فَلَبِثْتَ سِنِيْنَ فِيْٓ اَہْلِ مَدْيَنَ 0ۥۙ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰي قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى 40
مشی
المشي : الانتقال من مکان إلى مکان بإرادة . قال اللہ تعالی: كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ
[ البقرة/ 20] ، وقال : فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ، إلى آخر الآية . يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] ، ويكنّى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–43
تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…
Read the full tafseer →ِاذْتَمْشِیْٓ اُخْتُکَ فَـتَـقُوْلُ ھَلْ اَدُلُّـکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْـفُلُـہٗ ط فَرَجَعْنٰـکَ اِلٰٓی اُمِّکَ کَیْ تَقَرَّعَیْنُھَا وَلاَ تَحْزَنَ 5 ط وَقَـتَلْتَ نَفْسًا فَـنَجَّیْنٰـکَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنّٰـکَ فُتُوْنًا قف 5 فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ 5 لا ثُمَّ جِئْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 40)
(جبکہ تمہاری بہن جاتی اور یہ کہتی تھی کہ کیا میں تمہیں بتائوں وہ شخص جو اس کی پرورش کرسکتا ہے، پس ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمناک نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی، ہم نے تمہیں خوب اچھی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا…
Read the full tafseer →40: اِذْ تَمْشِیْ (جب چلتی ہوئی آئی) یہ اِذْ اوحیناؔ سے بدل ہے کیونکہ بہن کا چل کر آنا یہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان تھا۔ اُخْتُکَ فَتَقُوْلُ ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہٗ (تمہاری بہن۔ پس وہ کہہ رہی تھی کیا میں تم کو ایسی عورت کا پتہ بتادوں جو اس کو پالے) روایت میں ہے کہ ان کی بہن مریم ان کی اطلاع معلوم کرنے کیلئے آئیں تو اس کا سامنا ایسے لوگوں سے ہوگیا جو ایسی دودھ پلانے والی عورت ڈھونڈ رہے تھے۔ جس کے دودھ کو وہ بچہ قبول کرلے۔ اب تک موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی عورت کا دودھ قبول نہ کیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا کہ تمہیں ایسے لوگ نہ بتلا دوں جو اپنے ہاں رکھ کر اس کی…
Read the full tafseer →40۔ اذ تمشی اختک، ، ان کا نام مریم تھا۔ ان کی خبر لینے کے لیے ان کے پیچھے پیچھے چلتی تھیں، فتقول ھل ادلکم علی من یکفلہ، ایسی عورت پر جو حضرت موسیٰ کو دودھ پلائے اور اس کو اپنے ساتھ لائے، کیونکہ حضرت موسیٰ کسی عورت کادودھ نہیں پی رہے تھے تو جب انہوں نے ان کی بات سنی تو کہنے لگے کہ ان کو لے آئیں۔ جب حضرت موسیٰ کی والدہ آئیں تو انہوں نے دودھ پلایا تو وہ پینے لگے۔
” فرجعناک الی امک کی تقر عینھا، ، تمہاری ملاقات سے ، ولاتحزن ، تاکہ اس پر غم چلاجائے۔ وقتلت نفسا، ابن عباس عنہما کا قول ہے کہ فرمایا کہ ایک قبطی کافر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کروادیا۔ کعب احبار کا بیان ہے اس وقت آپ کی عمر بارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
37۔ 40:۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے خواب میں ایک آگ دیکھی جو شام کے ملک سے پیدا ہو کر مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ جو کہلاتا تھا سوائے اس محلہ کے مصر کے اور سب گھر جل گئے فرعون نے اس وقت کے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے سبب سے فرعونی سلطنت برباد ہوجائے گی۔ فوعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لیے یہ تدبیر نکالی ہے کہ بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
آیت 36
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل کر کے انہیں نبوت عطا کردی اور انہیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا : (اذھب الی فرعون انہ طغی) ” فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہوگیا ہے۔ “ یعنی وہ، اپنے کفر و فاسد میں، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتی کہ اس نے ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کردیا۔۔۔ قبحہ اللہ۔۔۔ یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت…
Read the full tafseer →موسیٰ پر آزمائشیں
قول باری ہے (وفتناک فتونا اور ہم نے تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا) سعید بن جبیر کا قول ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا۔” ابن جبیر ! دن کے وقت میں اس پر نئے سرے سے غور کر کے تمہیں بتائوں گا۔ “ پھر آپ ﷺ نے اس کا مفہوم یہ بتایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پے در پے آزمائشوں میں مبتلا کئے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان تمام آزمائشوں سے خلاصی عطا فرمائی۔ پہلے تو آپ کا استقرار حمل ان سالوں میں ہوا جن میں فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کروا دیا کرتا تھا۔ پھر آپ کو سمندر میں ڈالا گیا۔ پھر ماں کی چھاتی کے سوا کسی اور عورت کا دودھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
34 حضرت موسیٰ کی حفاظت کی تدبیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تمہاری بہن تمہاری خبرگیری کیلئے چلی جارہی تھیں "۔ دریا کے کنارے کنارے۔ اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق۔ تمہاری دیکھ بھال اور اطلاع و خبرگیری کے لئے۔ کیونکہ ان کی والدہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ تم دور سے ہو کر موسیٰ کے اس صندوق کو دیکھتی اور اس کی نگرانی کرتی جاؤ کہ یہ صندوق کدھر جاتا ہے اور کہاں جاکر رکتا ہے۔ سو وہ دور سے ہو کر اس کو اس طرح دیکھتی رہیں کہ ان لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہ چلنے پائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح اس طرح فرمائی گئی ۔ { وَقَالَتْ لاُخْتِہ قُصِّیْہِ فَبَصُرَتْ بِہ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لاَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں
تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →ف 4 ہوا یہ کہ فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ کو اٹھا لیا لیکن جب اسے دودھ پلانے کے لئے دایائوں کا انتظام کیا گیا تو وہ کسی بھی دایہ کا دودھ پلانے کے لئے دایائوں کا انتظام کیا گیا تو وہ کسی بھی دایہ کا دودھ پینے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ جیسے فرمایا :” وحرمنا علیہ المراضع من قبل اس سے پہلے ہم نے ان پر تمام دو جھ پلانے والیوں کو حرام کردیا تھا۔ (قصص :12) اس موقع پر ان کی بہن وہاں پہنچی اور یہ منظر دیکھ کر فرعون اور اس کی بیوی حضرت آسیہ سے کہنے لگی۔5 بیچ کی تفصیل چھوڑدی گی ہے کہ فرعون کے گھر والوں نے رضامندی ظاہر کردی اور حضرت موسیٰ کی بہن گھر آئی اور اپنی والدہ کو ساتھ لے کر فرعون کے ہاں پہنچ گئی…
Read the full tafseer →(20:40) اذ تمشی۔ یہ اذ اوحینا کا بدل ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا (موقعہ پر) چلے جانا بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک احسان تھا کہ اس کے نتیجے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رضاعت ان کی والدہ کے سپرد ہوئی۔ اذ تمشی۔ جب وہ چلتی چلتی آگئیں۔
فتقول۔ پھر کہا۔ پھر کہتے لگی۔ یعنی جب اہل خانہ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلانے کے لئے کسی دائی کی تلاش میں تھے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی کا دودھ پینے کے لئے تیار نہ تھے تو ان کی بہن نے جو وہاں آگئی تھی کہا ھل ادلکم الخ۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہوا ہے وحرمنا علیہ المراضع من قبل فقالت ہل ادلکم الخ (28:12) اور ہم نے حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–46
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46
یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔
تشریح : آیت نمبر 25 تا 46
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فرعون کی ہلاکت کا ذکر
ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک اور واقعہ کا ذکر فرمایا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی قوم کے ایک کافر قطبی کو مارا تھا، وہ مرگیا۔ کہا گیا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی۔ اس واقعہ پر آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا تو مدین ایک شہر جو مصر سے آٹھ منزل کے فاصلے پر ہے، یہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) رہتے تھے، کے پاس آئے۔ اور کئی برس تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے، اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر چالیس برس کی ہوگئی۔ اور نبوت کے ملنے کا زمانہ قریب آگیا۔ اس…
Read the full tafseer →[9] ان واقعات کی تفصیل سورة قصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارات کئے گئے ہیں۔
[10] یعنی مدین سے نکل کر راستہ بھول گئے اور تقدیر سے یہاں پہنچ گئے جس کا تمہیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
(ف 1) ام موسیٰ کی جانب وحی کے معنی یہ ہیں کہ بذریعہ الہام ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں صندوق میں رکھ کر بہا دو ، وہ امن وسل امتی کے ساتھ حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل کرے گا ، ام موسیٰ کا ایمان ملاحظہ ہو کہ لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک رہی ہیں کتنا زبردست عقیدہ ہے کس قدر محکم یقین ہے کہ نتائج سے بےپروا ہو کر اپنے بیٹے کو دریا کی موجوں کے سپرد کر رہی ہیں ۔
اب اللہ تعالیٰ کی عنایت دیکھئے کہ اس نے ام موسیٰ (علیہ السلام) کے تقویت ایمان کے ثمرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شاہی محلات…
Read the full tafseer →-40 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب تیری بہن اجنبی بنی ہوئی فرعون کے گھر چلتی ہوئی آئی اور فرعون والوں سے کہنے لگی تم کہو تو میں تم کو ایک ایسی شخصیت باتئوں اور کسی ایسی شخصیت کا پتہ بتادوں جو اس کی پرورش اور کفالت کرسکے پس اس تدبیر سے ہم نے تجھ کو تیری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم نہ کھائے اور اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تو نے ایک شخص یعنی قبطی کو مار ڈالا تھا پھر ہم نے تجھ کو اس کی پریشانی اور غم سے نجات دی اور بچا لیا اور ہم نے تجھ کو کئی کئی طرح امتحان میں مبتلا کیا پھر تو مدین والوں میں کئی سال قیام پذیر رہا اور آخر کار ایک وقت خاص پر جو مقدر تھا تو یہاں آیا۔
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 4۔ اور مار کر غم ہوا خوف عقاب سے بھی اور خوف انتقام سے بھی۔
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو ہدایت ان کی والدہ ماجدہ کی طرف سے :
40۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ نے اپنے پروگرام کے مطابق جو مشیت ایزدی سے طے ہوا تھا جس سے یقینا آسیہ بھی واقف تھیں ایسا ہی کیا اور جب دریا میں بہا بیٹھیں تو ساتھ ہی اپنی بیٹھی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو مامور کیا کہ وہ اس صندوق کے بہاؤ کے ساتھ کنارے کنارے چل کر صندوق کو نگاہ میں رکھے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت ونگہبانی کا وعدہ کس طرح پورا کرتا ہے جیسا کہ اوپر کیا گیا کہ یہ سارا پروگرام مرضی خداوندی سے طے پایا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو یہ بشارت سنا…
Read the full tafseer →إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ (When your sister was going - 20:40). The story of the sister of Sayyidna Musa (علیہ السلام) following the box along the river and the subsequent events are alluded to in this verse, which ends with the words وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا (We tested you with a great ordeal - 20:40). According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ these words mean "We tried you repeatedly", while Dahhak (رح) has translated them as "We subjected you to severe trials". Full details of this story have been given in a long Hadith reported by Imam an-Nisa'i (رح) in his book on the authority of Sayyidna Ibn `…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
18. The only two ways of bringing a man to the right way are: (1) To convince him by argument and admonition, or (2) To warn him of the consequences of deviation.
Read the full tafseer →