Explained with ayahs 39–40
اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کردیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا حضرت موسیٰ ؑ کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کرسکتے ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بےادبی کیوں کریں ؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ ؑ کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔ دوسری جماعت نے کہا محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ حضرت ہارون ؑ نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے تمہارا رب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
سورة طٰهٰ 18
آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بالسَّاحِلِ ، اس جگہ یم بمعنے دریا سے بظاہر نہر نیل مراد ہے آیت میں ایک حکم تو موسیٰ ؑ کی والدہ ماجدہ کو دیا گیا ہے کہ اس بچے (موسیٰ علیہ السلام) کو صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں، دوسرا حکم بصیغہ امر دریا کے نام ہے کہ وہ اس تابوت کو کنارہ پر ڈال دے فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بالسَّاحِلِ ، دریا چونکہ بظاہر بےحس و بےشعور ہے اس کو حکم دینے کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا اس لئے بعض حضرات نے یہ قرار دیا کہ اگرچہ یہاں صیغہ امر بمعنی الحکم استعمال ہوا ہے مگر مراد اس سے حکم نہیں بلکہ خبر دینا ہے کہ دریا اس کو کنارہ پر ڈال دے گا۔ مگر محققین علماء کے نزدیک امر اپنے ظاہر پر امر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 39-37
ماضی کے ایک فضل خاص کی یاد دہانی
ولقد مننا علیک الایہ حضرت موسیٰ کا اضطراب رفع کرنے کے لئے جس طرح ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت سنائی گی اسی طرح ان کے اوپر اپنے اس فضل خاص کی بھی یاد دہانی فرما دی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس وقت فرمایا جب ان کی ولادت ہوئی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ فرعون اسرائیلی بچوں کیق تل کی جو ظالمانہ اسکیم 1
1۔ یہ ظالمانہ اسکیم جن سیاسی خطرات کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں نے چلائی تھی ان کی وضاحت سورة اعراف کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر سورة اعراف آیات 1/9- 112
حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لئے خدائی انتظامات
چلا رہا ہے اس کی زد میں وہ بھی آجائیں گے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
39۔ 1 مراد فرعون ہے جو اللہ کا بھی دشمن اور حضرت موسیٰ ؑ کا بھی دشمن تھا۔ یعنی لکڑی کا وہ تابوت تیرتا ہوا جب شاہی محل کے کنارے پہنچا تو اسے باہر نکال کر دیکھا گیا، تو اس میں ایک معصوم بچہ تھا، فرعون نے اپنی بیوی کی خواہش پر پرورش کے لئے شاہی محل میں رکھ لیا۔
39۔ 2 یعنی فرعون کے دل میں ڈال دی یا عام لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی۔
39۔ 3 چناچہ اللہ کی قدرت کا اور اس کی حفاظت و نگہبانی کا کمال اور کرشمہ دیکھئے کہ جس بچے کی خاطر، فرعون بیشمار بچوں کو قتل کروا چکا، تاکہ وہ زندہ نہ رہے، اسی بچے کو اللہ تعالیٰ اس کی گود میں پلوا رہا ہے، اور ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، لیکن اس کی اجرت بھی…
Read the full tafseer →12: فرعون کو کسی نجومی نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تمہاری سلطنت کو ختم کرے گا۔ اس لیے اس نے یہ حکم جاری کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ کو فکر ہوئی کہ ان کو بھی فرعون کے آدمی قتل کر ڈالیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر الہام فرمایا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دیائے نیل میں ڈال دو۔
13: چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، اور فرعون کے کارندوں نے بچے کو اٹھا کر فرعون کے پاس پیش کیا، اور اس کی بیوی حضرت آسیہ نے اسے آمادہ کرلیا کہ اسے اپنا بیٹا بنا کر…
Read the full tafseer →والقبت علیک۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے “۔ اے قادر مطلق تیری قدرت کے کیا کرشمے ہیں کہ تو اس باتواں پر محبت کا پردہ ڈال دیتا ہے ‘ نرم و نازک محبت اس کے لئے دفاع بن جاتی ہے۔ تمام ضربات کو یہ سہ لیتی ہے اور ڈھال بن جاتی ہے ‘ موجوں کے تھپیڑے آکر رک جاتے ہیں۔ شر اور سرکشی کی تمام قوتیں دیکھتے ہی موم ہوجاتی ہیں۔ اور کوئی اسے بری نظروں سے دیکھتا ہی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایک فلک ناتواں ہے ، دودھ پینے والا ‘ نہ چل پھر سکتا ہے ‘ نہ اپنا دفاع و بچائو کرسکتا ہے بلکہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔
اس منظر کی تصویر میں نمایاں…
Read the full tafseer →13 یعنی موسیٰ کو (جو اس وقت نوزائیدہ بچہ تھے) صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دے، دریا کو ہمارا حکم ہے کہ اسے بحفاظت تمام ایک خاص کنارہ پر لگائے گا جہاں سے اس کو وہ شخص اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس بچہ کا بھی، واقعہ یہ ہے کہ فرعون اس سال نجومیوں کے کہنے سے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو چن چن کر قتل کر رہا تھا۔ جب موسیٰ پیدا ہوئے ان کی والدہ کو خوف ہوا کہ فرعون کے سپاہی خبر پائیں گے تو بچہ کو مار ڈالیں گے اور والدین کو بھی ستائیں گے کہ ظاہر کیوں نہیں کیا۔ اس وقت حق تعالیٰ کی طرف سے یہ تدبیر الہام ہوئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے صندوق نہر میں ڈال دیا۔ دریا کی ایک شاخ فرعون کے…
Read the full tafseer →فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بالسَّاحِلِ یَاْخُذْہُ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُوٌّ لَّہٗ ط ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف کی جانے والی وحی کے بارے میں یہاں مزید تفصیل بیان نہیں فرمائی گئی ‘ بلکہ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے براہ راست خطاب شروع ہو رہا ہے۔ یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے کہ کچھ چیزیں پڑھنے اور سننے والے پر چھوڑ دی جاتی ہیں کہ وہ سیاق وسباق کے مطابق خود سمجھ جائے۔ بہر حال اس واقعہ کی مزید تفصیلات یوں ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کو صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ آپ علیہ السلام کی بڑی بہن اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق صندوق پر نظر رکھے ساحل کے ساتھ…
Read the full tafseer →22 سیدنا موسیٰ کی پیدائش اور صندوق میں ڈالنا :۔ ہوا یہ تھا کہ فرعون کو ایک ڈراؤنا سا خواب آیا جس کی تعبیر اسے درباری نجومیوں نے یہ بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہونے والا ہے جو تمہاری سلطنت کو تہ وبالا کردے گا اور تمہاری ہلاکت کا موجب بنے گا اس کا توڑ فرعون نے یہ سوچا کہ آئندہ بنی اسرائیل کے ہاں جتنے لڑکے پیدا ہوں ان کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالا جائے اور اس حکم کی تعمیل کے لئے اس نے اپنے تمام اہل کاروں کو ہدایات جاری کردیں اور دائیوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ جس وقت کسی بنی اسرائیل کے فرد یا سبطی کے ہاں لڑکا پیدا ہو وہ فورا ً حکومت کو اس کی اطلاع کرے۔ دراصل فرعون کی اپنی سلطنت کو بچانے کی یہ…
Read the full tafseer →33۔ (اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اور تمہیں محبوب بنا دیا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قدیم تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ بڑے حسین و جمیل تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ توریت وانجیل دونوں میں یہی مذکور ہے :۔ ’ انہوں نے دیکھا کہ بچہ خوبصورت ہے “ (عبرانیون۔ 11: 23) ” موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوا جو نہایت خوبصورت تھا “ (اعمال۔ 7 : 20) (آیت) ” عدو لی وعدولہ “۔ فرعون کا مراد ہونا بالکل ظاہر ہے جو حق تعالیٰ کا بھی دشمن تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی۔
34۔ سحر، نجوم، کہانت کے فنون اس زمانہ کے مہذب ومتمدن ملکوں میں اسی طرح پھیلے ہوئے تھے، جیسے آج مادی علوم وفنون ہیں۔ اور مصر تو ان قدیم فنون کا ایک مرکز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–42
آیت نمبر 25 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…
Read the full tafseer →ان اقذ فیہ فی التابوت فاقذفیہ فی الیم فلیلقہ الیم بالساحل یاخذہ عدو لی وعدو لہ
کہ موسیٰ کو ایک صندوق میں رکھ پھر موسیٰ کو (معہ صندوق) دریائے نیل) میں ڈال دے پھر موسیٰ : ( علیہ السلام) کو دریا کنارے پر لے آئے گا (آخرکار) موسیٰ کو ایک ایسا شخص لے لے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔
فَلْیُلْقِہٖگو امر کا صیغہ ہے لیکن بمعنی خبر ہے یعنی دریا اس کو لا ڈالے گا۔ بعض نے کہا امر اپنے اصلی معنی پر ہے یعنی اللہ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ صندوق کو کنارہ پر لے جائے۔ دریا صاحب عقل نہیں اس لئے اپنے ارادے سے تعمیل حکم نہیں کرسکتا لیکن یہاں امر تکوینی ہے جس کے لئے ذی عقل ہونے کی ضرورت نہیں۔ بیضاوی…
Read the full tafseer →(39) کہ حضرت موسیٰ ؑ کو ایک بند صندوق میں رکھ دو اور پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو پھر دریا ان کو کنارے تک لے آئے گا آخر کار فرعون ان کو پکڑ لے گا جو کافر ہونے کی وجہ سے میرا بھی دشمن ہے اور قتل کرنے کے ارادہ سے ان کا بھی دشمن ہے۔
اور اے موسیٰ ؑ میں نے اس وقت تمہارے چہرے پر اپنی طرف سے ایک اثر محبت ڈال دیا تھا تاکہ جو تمہیں دیکھے پیار کرے اور تمہارے ساتھ جو کچھ اس وقت معاملہ ہو رہا تھا وہ میری خاص نگرانی میں ہو رہا تھا۔
Read the full tafseer →اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ۔۔ : یعنی تمہارا کام بس اتنا ہے کہ صندوق میں ڈال کر دریا (نیل) میں ڈال دو۔ آگے دریا کو ہمارا حکم یہ ہے کہ اسے راستے میں روکنے یا لے جا کر سمندر میں ڈالنے کے بجائے عین فرعون کے محل کے پاس ساحل پر لگا دے۔ اس واقعہ کی پوری تفصیل سورة قصص (7 تا 13) میں ہے۔
وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ۔۔ : یعنی تمہاری صورت ایسی بنائی اور اس میں اپنی طرف سے ایسی انوکھی دل ربائی رکھی کہ جو کوئی تمہیں دیکھتا بےاختیار محبت کرنے لگتا۔ ”وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ“ کا عطف ”وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ“ سے حاصل ہونے والے مفہوم پر ہے، جس کی تقدیر یوں ہوگی : ”وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(تفسیر 36-42) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال قد اوتیت سولک یموسیٰ ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور معاملہ کی تیسیر کا سوال کیا تو جواباً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اور انہیں ان کی طلب اور مرغوب چیز عطا فرما دی۔ مسول سے مراد طلب ہے یہ فعل بمعنی مفعول ہے، خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ یعنی اس سے پہلے بھی تم پر ہم نے احسان فرمایا۔ اور وہ احسان دشمنوں کے شر سے آپ کی حفاظت ہے اور یہ ذبح کے وقت تھا ؛ واللہ اعلم۔ المن کا مطلب احسان کرنا اور مہربانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا وحینا الی امک ما یوحی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–47
1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “
رسول اللہ ﷺ کی دعاء :
2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →[ان : کہ ] [اقْذِفِيْهِ : آپ ڈال دیں اس (بچے) کو ] [فِي التَّابُوْتِ : اس صندوق میں ] [فَاقْذِفِيْهِ : پھر آپ ڈال دیں اس (صندوق) کو ] [فِي الْيَمِّ : پانی میں ] [فَلْيُلْقِهِ : پھر چاہیے کہ ڈال دے اس کو ] [الْيَمُّ : پانی ] [بِالسَّاحِلِ : ساحل پر ] [يَاْخُذْهُ : تو پکڑے اس کو ] [عَدُوٌّ لِيْ : میرا دشمن ] [وَعَدُوٌّ لَهٗ : اور اس (بچے) کا دشمن ] [وَاَلْقَيْتُ : اور میں نے ڈال دی ] [عَلَيْكَ : آپ پر (کے لئے)] [مَحَبَّةً : ایک محبت ] [مِّنِّيْ : اپنی طرف سے ] [وَلِتُصْنَعَ : اور تاکہ آپ (علیہ السلام) پروان چڑھائے جائیں ] [عَلٰي عَيْنِيْ : میری آنکھ کے سامنے ]
ق ذ
[قَذْفًا : (ض) ] (1) کوئی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن میں تابوت میں ڈال کر بہا دیا جانا پھر فرعون کے گھر والوں کا اٹھا لینا اور فرعون کے محل میں ان کی تربیت ہونا
چونکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتے تھے اس لیے مصر سے چلے جانے کی ضرورت تھی لیکن فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کو یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ انہیں وہاں سے جانے دیں۔ پھر مزید بات یہ ہوئی کہ کاہنوں نے فرعون کو یہ بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت کے زوال کا ذریعہ بنے گا لہٰذا اس نے یہ کام شروع کردیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوتا تھا اسے قتل کردیتا تھا اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اسے زندہ رہنے دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →21:۔ یعنی میں نے ہر ایک کے دل میں تمہاری محبت ڈال دی اور ہر ایک تجھ سے محبت کرنے لگا۔ ” وَلِتُصْنَع عَلیٰ عَیْنِیْ “۔ اپنی نگرانی میں تیری تربیت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر وادی طویٰ میں پہنچے تو آپ کو اللہ نے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو شرف ہمکلامی حاصل ہوا۔ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے وقت آپ کو اپنے راستے میں جو مشکلات نظر آئیں ، ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ نے اللہ کے حضور دعا کی۔ آپ نے اپنی زبان کی گرہ کشائی ، اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے تعاون اور سارے معاملے کی آسانی کے لئے رب العزت سے درخواست کی۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے اور اس طرح تمہارے سوال کو پورا کردیا گیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے ہارون (علیہ السلام) کو منصب رسالت پر فائز کیا ، زبان کی…
Read the full tafseer →اَنِ اقْذِفِيْہِ فِي التَّابُوْتِ فَاقْذِ فِيْہِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِہِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَاْخُذْہُ عَدُوٌّ لِّيْ وَعَدُوٌّ لَّہٗ 0ۭ وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّۃً مِّنِّيْ 0ۥۚ وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ 39ۘ
قذف
الْقَذْفُ : الرّمي البعید، ولاعتبار البعد فيه قيل : منزل قَذَفٌ وقَذِيفٌ ، وبلدة قَذُوفٌ: بعیدة،
وقوله : فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِ [ طه/ 39] ، أي : اطرحيه فيه، وقال : وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ [ الأحزاب/ 26] ، بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ [ الأنبیاء/ 18] ، يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ [ سبأ/ 48] ، وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جانِبٍ دُحُوراً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–43
تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً اُخْرٰٓی۔ اِذْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَا یُوْحٰٓی۔ اَنِ اقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْہُ عَدُوٌّلِّیْ وَعَدُوٌّلَّـہٗ ط وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ 5 ج وَلِتُصَنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ ۔ (طٰـہٰ : 37، 38، 39)
(اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا۔ جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وحی کی جو آگے وحی کی جارہی ہے۔ کہ اس کو صندوق میں رکھ دو پھر اس کو دریا میں ڈال دو ، پس دریا اس کو کنارے پر ڈال دے کہ اس کو اٹھا لے وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے، میں نے تم پر اپنی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا…
Read the full tafseer →39: اَنِ اقْذِفِیْہِ (اس کو تو رکھ) ڈال دو فِی التَّابُوْتِ (صندوق میں) ان مفسرہ ہے کیونکہ وحی یہاں قول کے معنی میں ہے۔ فَاقْذِِفِیْہِ فِی الْیَمِّ (پھر اس کو ڈال دو دریا میں) یعنی دریائے نیل میں۔ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ (پس موسیٰ کو دریا کنارے پر لے آئے گا) ۔
اللغۃ : الساحلؔ۔ جانب کو کہتے ہیں اس کو ساحل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ پانی اس کو چھیلتا ہے۔
نکتہ : امر کا صیغہ ماقبل کی مناسبت سے لایا گیا مگر وہ خبر کے معنی میں ہے۔ یعنی یلقیہ الیم بالساحل۔ دریا اس کو ساحل پر لا ڈالے گا۔ یَاْ خُذْہُ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُ وٌّ لَّہٗ (اس کو ایسا شخص لے لے گا۔ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن…
Read the full tafseer →39۔ ان اقذفیہ فی التابوت۔ ہم نے ان کو الہام کیا کہ اس کو تابوت میں ڈال دو ۔ فاقذ فیہ فی الیم، ، اس کو نیل کے سمندر میں ڈال دے۔ فلیلقہ الیم بالساحل، دریا اس کو نہر میں لاڈالے گا یہ امر ہے بمعنی خبر کے ۔ یعنی دریا اس کو لاڈالے گا۔ یاخذہ عدولی وعدولہ، فرعون جو اس کا دشمن ہے اس کو لے لے لگا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ نے ایک صندوق لے کر اس کے اندر دھنی ہوئی روئی بچھائی اور موسیٰ کو اس میں رکھ کر سرپوش ڈھانک کر تمام دراڑیں اور شگاف روغن قیر سے بند کرکے صندوق کو نیل میں ڈال دیا، نیل سے ایک نہر نکل کر فرعون کے مکان کے اندر جاتی تھی ، صندوق بہتا بہتا اس شاخ کے اندر چلا گیا، فرعون اپنی بی بی آسیہ کے ساتھ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
37۔ 40:۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے خواب میں ایک آگ دیکھی جو شام کے ملک سے پیدا ہو کر مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ جو کہلاتا تھا سوائے اس محلہ کے مصر کے اور سب گھر جل گئے فرعون نے اس وقت کے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے سبب سے فرعونی سلطنت برباد ہوجائے گی۔ فوعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لیے یہ تدبیر نکالی ہے کہ بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
آیت 36
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل کر کے انہیں نبوت عطا کردی اور انہیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا : (اذھب الی فرعون انہ طغی) ” فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہوگیا ہے۔ “ یعنی وہ، اپنے کفر و فاسد میں، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتی کہ اس نے ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کردیا۔۔۔ قبحہ اللہ۔۔۔ یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت…
Read the full tafseer →قول باری ہے (والقیت علیک محبۃ منی اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی) یعنی میں نے ایسی کیفیت پیدا کردی کہ جو شخص تمہیں دیکھتا اس کے دل میں تمہاری محبت پیدا ہوجاتی حتی کہ فرعون کی نظروں میں بھی تم محبوب قرار پائے تھے اور اس طرح تم اس کے شر سے محفوظ ہوگئے تھے۔ دوسری طرف اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں تمہارے لئے محبت پید اہو گئی تھی جس کی بنا پر اس نے تمہیں اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔
قول باری ہے (ولتصنع علی عینی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے) قتادہ کا قول ہے ” تاکہ میری محبت اور میرے ارادے کے سائے میں تیری پرورش ہو۔ “
Read the full tafseer →32 حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لیے قدرت کا کرشمہ : کہ آنجناب کی حفاظت ان کے دشمن سے کرائی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اس کو اٹھا لے وہ شخص جو دشمن ہے میرا بھی اور اس کا بھی "۔ یعنی فرعون جس کی تباہی اور خاتمے کا فیصلہ آنجناب کے ذریعے طے اور مقدر ہوچکا تھا۔ سو اس نے حضرت موسیٰ کی دشمنی کی بناء پر اور ان کے خاتمے کیلئے کتنے بیگناہوں کا خون بہایا تھا۔ قدرت کے غیبی ہاتھ کی کرشمہ سازی ملاحظہ ہو کہ اسی دشمن کے ذریعے موسیٰ کی پرورش کا سامان کیا جا رہا ہے۔ سو حفاظت دراصل اسی وحدہ لاشریک کی حفاظت ہے۔ اس کی حفاظت و عنایت اگر حاصل ہو تو انسان کا دشمن بھی اس کی حفاظت میں لگ جاتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کا قصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں
تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →ف 2 چناچہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے وہ صندوق دریا میں ڈال دیا اور فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا۔ (راجع قصص :8) کیسے اٹھایا اور فرعون کے گھر والوں میں سے کس نے اٹھایا ؟ اس کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں اور نہ اس کا جاننا ہی کوئی ضروری ہے۔3 یعنی تمہاری صورت ایسی بنادی کہ جو کوئی تمہیں دیکھنا اس کا دل نرم ہوجاتا اور وہ تم سے محبت کرنے لگتا۔
Read the full tafseer →(20:39) ان۔ کہ یعنی ہم نے جو الہام کیا وہ یہ تھا کہ۔ اقذفیہ۔ اقذفی۔ قذف سے (باب ضرب سے) فعل امر واحد مؤنث حاضر کا صیغہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ اقذفی تو ڈال دے۔ تو پھینک دے۔ اقذفیہ تو اس کو ڈال دے۔ القذف (ضرب) کے معنی دور پھینکنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے و قذف فی قلوبہم الرعب (33:26) اور اس نے ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی۔ اور یقذفون من کل جانب دحورا (37:8) اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔ قذف بطور استعارہ عیب لگانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
التابوت۔ صندوق۔ فاقذ فیہ۔ اور اس کو ڈال دے۔ یہاں ہ ضمیر مفعول کا مرجع یا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–46
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46
یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔
تشریح : آیت نمبر 25 تا 46
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فرعون کی ہلاکت کا ذکر
ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک اور واقعہ کا ذکر فرمایا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی قوم کے ایک کافر قطبی کو مارا تھا، وہ مرگیا۔ کہا گیا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی۔ اس واقعہ پر آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا تو مدین ایک شہر جو مصر سے آٹھ منزل کے فاصلے پر ہے، یہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) رہتے تھے، کے پاس آئے۔ اور کئی برس تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے، اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر چالیس برس کی ہوگئی۔ اور نبوت کے ملنے کا زمانہ قریب آگیا۔ اس…
Read the full tafseer →[6] فرعون مصر کو نجومیوں کے ذریعے سے معلوم ہوگیا تھا کہ عنقریب بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو فرعون اور اس کی حکومت کے زوال کا سبب بنے گا۔ چناچہ فرعون نے حکم جاری کردیا کہ اسرائیلیوں میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسی وقت ختم کردیا جائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ کی والدہ بہت پریشان ہوئیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تدبیر الہام ہوئی کہ بچے کو صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہا دیا جائے۔
[7] یعنی فرعون۔ اسے اللہ کا دشمن اس لئے کہا گیا کہ وہ اللہ کے بالمقابل اِلٰہ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن اس لئے فرمایا کہ آگے چل کر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
(ف 1) ام موسیٰ کی جانب وحی کے معنی یہ ہیں کہ بذریعہ الہام ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں صندوق میں رکھ کر بہا دو ، وہ امن وسل امتی کے ساتھ حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل کرے گا ، ام موسیٰ کا ایمان ملاحظہ ہو کہ لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک رہی ہیں کتنا زبردست عقیدہ ہے کس قدر محکم یقین ہے کہ نتائج سے بےپروا ہو کر اپنے بیٹے کو دریا کی موجوں کے سپرد کر رہی ہیں ۔
اب اللہ تعالیٰ کی عنایت دیکھئے کہ اس نے ام موسیٰ (علیہ السلام) کے تقویت ایمان کے ثمرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شاہی محلات…
Read the full tafseer →-39 وہ بات یہ کہ موسیٰ کو ایک صندوق میں رکھ دے پھر اس صندوق کو جس میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں دریا میں ڈال دو پھر دریا اس موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کو کنارے جا لگائے گا کہ موسیٰ کو ایک ایسا شخص پکڑے اور اٹھا لے جو میرا بھی دشمن ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی دشمن ہے اور اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت ڈال دی تاکہ جو دیکھے وہ تجھ سے محبت کا برتائو کرے اور تاکہ تو میری نگرانی میں اور میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے۔ یعنی حضرت موسیٰ کی پیدائش جس سال ہوئی وہ سال وہ تھا جس میں فرعون پیدا شدہ بچوں کو قتل کراتا تھا ان کی والدہ کو خوف ہوا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔…
Read the full tafseer →ف 2۔ خواہ فی الحال بوجہ اس کے کہ سب بچوں کو قتل کرتا تھا خواہ آئندہ ان کا خاص طور دشمن ہوگا۔
3۔ تاکہ جو کہ تم کو دیکھے پیار کرے۔
Read the full tafseer →بچہ کو ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں بہا دے اور قدرت کی کرشمہ سازی دیکھ :
39۔ جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ ایک بہترین صندوق تیار کرکے اس میں بچہ کو ڈال کر دریا کے بہاؤ پر چھوڑ دے اور قدرت کی نیرنگیاں مشاہدہ کرتی رہ ۔ چونکہ دل میں بات کا بیٹھنا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق تھا اور قدرت الہی نے جو بات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دل میں پیوستہ کی ان کے لئے حالات بھی سازگار فرما دئیے اور اس کے متعلق قرآن کریم نے یہ اشارہ فرمایا کہ ” ہم نے اس کو سمجھا دیا تھا کہ بچے کو ایک صندوق میں ڈال دے اور پھر صندوق کو دریا میں…
Read the full tafseer →فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ (Then let the river throw it by the shore - 20:39.). The word يَمّ (Yamm) means river and here it refers most probably to the river Nile. In this verse the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has been commanded by Allah Ta` ala to place the baby in a box and set him afloat in the river Nile. Simultaneously the river has been commanded to cast the box on its bank. But the question arises as to how a river can be commanded to do something while it has no sense or understanding.
Some scholars have answered this query with the argument that although here the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
18. The only two ways of bringing a man to the right way are: (1) To convince him by argument and admonition, or (2) To warn him of the consequences of deviation.
Read the full tafseer →