ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرأیل نے مار ڈالا ہے فرعون نے حکم جاری کردیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہوجانے کی صورت میں اسے بھی قتل کردو۔ پولیس نے ہرچند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن حضرت موسیٰ ؑ پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ ؑ کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ ؑ اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کو بھی اس کا یہ بار بار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
سورة طٰهٰ 18
آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →اِذْ اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓي، یعنی جبکہ وحی بھیجی ہم نے آپ کی والدہ کے پاس ایک ایسے معاملہ کی جو صرف وحی سے ہی معلوم ہوسکتا تھا وہ یہ کہ فرعونی سپاہی جو اسرائیلی لڑکوں کو قتل کرنے پر مامور تھے ان سے بچانے کے لئے ان کی والدہ کو بذریعہ وحی الہٰی بتلایا گیا کہ ان کو ایک تابوت میں بند کر کے دریا میں ڈال دیں اور ان کے ہلاک ہونے کا اندیشہ نہ کریں ہم ان کو حفاظت سے رکھیں گے اور پھر آپ کے پاس ہی واپس پہنچا دیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں عقل و قیاس کی نہیں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور ان کی حفاظت کا ناقابل قیاس انتظام صرف اسی کی طرف سے بتلانے پر کسی کو معلوم ہوسکتا ہے۔
کیا وحی کسی غیر نبی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 39-37
ماضی کے ایک فضل خاص کی یاد دہانی
ولقد مننا علیک الایہ حضرت موسیٰ کا اضطراب رفع کرنے کے لئے جس طرح ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت سنائی گی اسی طرح ان کے اوپر اپنے اس فضل خاص کی بھی یاد دہانی فرما دی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس وقت فرمایا جب ان کی ولادت ہوئی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ فرعون اسرائیلی بچوں کیق تل کی جو ظالمانہ اسکیم 1
1۔ یہ ظالمانہ اسکیم جن سیاسی خطرات کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں نے چلائی تھی ان کی وضاحت سورة اعراف کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر سورة اعراف آیات 1/9- 112
حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لئے خدائی انتظامات
چلا رہا ہے اس کی زد میں وہ بھی آجائیں گے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
39۔ 1 مراد فرعون ہے جو اللہ کا بھی دشمن اور حضرت موسیٰ ؑ کا بھی دشمن تھا۔ یعنی لکڑی کا وہ تابوت تیرتا ہوا جب شاہی محل کے کنارے پہنچا تو اسے باہر نکال کر دیکھا گیا، تو اس میں ایک معصوم بچہ تھا، فرعون نے اپنی بیوی کی خواہش پر پرورش کے لئے شاہی محل میں رکھ لیا۔
39۔ 2 یعنی فرعون کے دل میں ڈال دی یا عام لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی۔
39۔ 3 چناچہ اللہ کی قدرت کا اور اس کی حفاظت و نگہبانی کا کمال اور کرشمہ دیکھئے کہ جس بچے کی خاطر، فرعون بیشمار بچوں کو قتل کروا چکا، تاکہ وہ زندہ نہ رہے، اسی بچے کو اللہ تعالیٰ اس کی گود میں پلوا رہا ہے، اور ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، لیکن اس کی اجرت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
11: اگرچہ تسبیح اور ذکر تنہا بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اچھے رفقاء میسر ہوں، اور ماحول ساز گار ہو تو یہ رفاقت خود بخود اس تسبیح اور ذکر کا داعیہ بن جاتی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
و لقد مننا علیک۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (73 تا 14) ”
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے بادشاہ کے دربار میں پیغام حق پہنچانے کے لیے جارہے ہیں جو اس وقت اس کرئہ ارض پر نہایت ہی سرکش ‘ ظالم اور داداگیر بادشاہ تھا ، وہ کفر و ایمان کے معف کہ میں داخل ہو رہے تھے ‘ وہ پہلی بار فرعون کے دربار میں جارہے تھے۔ وہاں ان کے لیے مسائل ‘ واقعات اور مشکلات کے پہاڑ کھڑے تھے۔ پھر ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل عرصہ ذلت اور غلامی کی زندگی گزارتے گزارتے وہ اس کی خ اگر ہوگئے تھے۔ ان کی فطرت ہی بدل گئی موسیٰ (علیہ السلام) اگر اپنی مہم میں کامیاب ہوئے بھی تو ان کی قوم اس آزادی کے لئے نہ موزوں ہے نہ تیار۔ ان کے رب…
Read the full tafseer →12 یعنی خواب میں یا بیداری میں بطور الہام کے یا اس زمانہ کے کسی نامعلوم الاسم نبی کی زبانی تیری ماں کو وہ حکم بھیجا۔ جس کا بھیجا جانا مناسب تھا (اس کی تفصیل آگے مذکور ہے۔ " اَنِ اقْذِفِیْہِ " الخ) (تنبیہ) لفظ " ایحاء " سے حضرت موسیٰ کی والدہ کا نبیّہ ہونا ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ تقریر بالا سے ظاہر ہے۔ نبی وہ ہے جس کی طرف احکام کی وحی آئے اور ان کی تبلیغ کا مامور ہو۔ یہاں یہ تعریف صادق نہیں آتی۔
Read the full tafseer →آیت 38 اِذْ اَوْحَیْنَآ اِلآی اُمِّکَ مَا یُوْحٰٓی ”
یعنی اب ہم آپ علیہ السلام کو وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی والدہ کو اس وقت ہم نے کیا وحی کی تھی ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے زمانے میں بھی فرعون کا حکم تھا کہ بنی اسرائیل میں سے کسی کے ہاں اگر بیٹا پیدا ہو تو اسے قتل کردیا جائے اور صرف ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو وحی یا الہام کے ذریعے ان کے نومولود بچے کے بارے میں ہدایت کی :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
21 مطالبات کی منظوری :۔ یعنی جو کچھ درخواستیں تم نے پیش کی ہیں وہ سب کی سب منظور کی جاتی ہیں۔ ان احسانات کے علاوہ پہلے بھی ہم تم پر احسان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کرکے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ احسانات یاد دلاتے ہیں جو ان کی پیدائش سے لے کر تاحال ان پر کئے گئے ہیں اور ان کی تفصیل سورة قصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ تم خاص اسی مہم کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور اسی کام کے لئے ہماری زیرنگرانی تمہاری پرورش ہوتی رہی ہے۔ فرعون جیسے جابر بادشاہ سے ٹکر لینے کے لئے جن صفات کی ضرورت تھی۔ وہ تمہیں ودیعت کرکے اس کام کے لئے تمہارا انتخاب کرلیا ہے۔
Read the full tafseer →32۔ (اپنی اہمیت کی بناء پر) یہ وحی، وحی نبوت نہ تھی، وحی الہام تھی، اور الہام غیر انبیاء کے لیے بھی جائز وثابت ہے۔ بعض مسیحی فاضلوں نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ماجد عمران کا گھر لب دریا تھا۔ نیل اسی طرف سے بہتا ہوا فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتا تھا، اور ایک وقت مقررہ پر دختر فرعون (قرآن نے اس کی تصحیح کرکے بتایا کہ نہیں بلکہ آسیہ زوجہ فرعون) کے حضور تک پہنچ جائے۔ عورتیں یوں بھی نرم دل اور ترس کھانے والی ہوتی ہیں پھر یہ بچہ تو ہے بھی اس قدر پیاری اور موہنی صورت والا۔ عجب کیا جو اس محترم خاتون کو اس پر رحم آجائے، اور خود فرعون پر بھی اگر اثر کسی کے کہنے سننے کا ہوسکتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–42
آیت نمبر 25 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…
Read the full tafseer →اذ اوحینا الی امک ما یوحی۔ جب کہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام سے بتائی جو الہام سے بتانے کی
تھی۔ (حضرت مفسر نے اَوْحَیْنَاکی تشریح میں فرمایا) الہام سے بتایا یا خواب میں یا اس وقت کے کسی نبی کی زبانی یا فرشتے کی معرفت۔ لیکن فرشتے کی معرفت اگر وحی کی گئی تو بطریق نبوت نہ تھی۔
فائدہ وحی اور تشریعی نبوت کے لئے انبیاء مخصوص ہیں اور انبیاء سب کے سب مردہی ہوئے رسول اللہ ﷺ پر اس نبوت کا خاتمہ ہوگیا البتہ وحی غیر تشریعی انبیاء کے لئے مخصوص نہیں ہے خواہ بطریق الہام ہو یا بکلام ملائکہ نہ اس کے لئے مردوں کی خصوصیت ہے جس طرح حضرت مریم سے فرشتے نے کلام کیا تھا ‘ اولیاء کے پاس بھی یہ وحی آتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(37۔ 38) اور ہم تو اس احسان کے علاوہ ایک مرتبہ پہلے بھی تم پر احسان کرچکے ہیں، جب کہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام سے بتلائی جو الہام سے بتانے کے قابل تھی۔
Read the full tafseer →اِذْ اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓي : جب کسی چیز کی عظمت بیان کرنا مقصود ہو تو یہ انداز اختیار کیا جاتا ہے ”جو وحی کی جاتی تھی“ یعنی اس کی عظمت محدود الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی، جیسا کہ (فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُم) [ طٰہٰ : 78 ] اور (فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى) [ النجم : 10 ] میں ہے۔
3 یہاں موسیٰ ؑ کی والدہ کو بتانے اور مطمئن کرنے کے لیے ”اَوْحَيْنَآ“ (ہم نے وحی کی) اور ”يُوْحٰٓي“ (جو وحی کی جاتی تھی) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وحی کے لفظی معنی اشارۂ سریعہ یا دل میں کوئی بات ڈال دینے کے ہیں۔ اصطلاح میں جب یہ لفظ کسی نبی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(تفسیر 36-42) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال قد اوتیت سولک یموسیٰ ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور معاملہ کی تیسیر کا سوال کیا تو جواباً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اور انہیں ان کی طلب اور مرغوب چیز عطا فرما دی۔ مسول سے مراد طلب ہے یہ فعل بمعنی مفعول ہے، خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ یعنی اس سے پہلے بھی تم پر ہم نے احسان فرمایا۔ اور وہ احسان دشمنوں کے شر سے آپ کی حفاظت ہے اور یہ ذبح کے وقت تھا ؛ واللہ اعلم۔ المن کا مطلب احسان کرنا اور مہربانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا وحینا الی امک ما یوحی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–47
1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “
رسول اللہ ﷺ کی دعاء :
2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [اِلٰٓى اُمِّكَ : آپ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف ] [مَا : وہ جو ] [يُوْحٰٓي : وحی کیا گیا ]
نوٹ۔ 1: لفظ وحی کے لغوی معنی ایسے خفیہ کلام کے ہیں جو صرف مخاطب کو معلوم ہو، اور دوسرے اس پر مطلع نہ ہوں۔ اس لغوی معنی کے اعتبار سے وحی کسی کے لئے مخصوص نہیں، نبی و رسول اور عام مخلوق بلکہ جانور تک اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کو بذریعہ وحی تلقین و تعلیم کرنے کا ذکر اسی معنی کے اعتبار سے ہے۔ (آیت 16:68) موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف وحی بھی اسی لغوی معنی کے اعتبار سے ہے۔ اس سے ان کا نبی یا رسول ہونا لازم نہیں آتا۔ جیسے بی بی مریم کو ارشادات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن میں تابوت میں ڈال کر بہا دیا جانا پھر فرعون کے گھر والوں کا اٹھا لینا اور فرعون کے محل میں ان کی تربیت ہونا
چونکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتے تھے اس لیے مصر سے چلے جانے کی ضرورت تھی لیکن فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کو یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ انہیں وہاں سے جانے دیں۔ پھر مزید بات یہ ہوئی کہ کاہنوں نے فرعون کو یہ بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت کے زوال کا ذریعہ بنے گا لہٰذا اس نے یہ کام شروع کردیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوتا تھا اسے قتل کردیتا تھا اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اسے زندہ رہنے دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
20:۔ اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دعا قبول ہونے کی خوشخبری سنائی اور ان کی پانچ درخواستوں کے جواب میں پانچ انعامات کا ذکر فرمایا جو ان پر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیے تھے۔ ” اِذْ اَوْحَیْنَا الخ “ یہ پہلا انعام ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ اسرائیلیوں کے یہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ آپ کی والدہ متفکر تھیں کہ اگر فرعون کے آدمیوں کو میرے بچے کا پتہ چل گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ تدبیر ڈال دی کہ وہ بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں پھینک دے۔ ” اوحینا “ یعنی ہم نے اس کے دل میں یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر وادی طویٰ میں پہنچے تو آپ کو اللہ نے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو شرف ہمکلامی حاصل ہوا۔ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے وقت آپ کو اپنے راستے میں جو مشکلات نظر آئیں ، ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ نے اللہ کے حضور دعا کی۔ آپ نے اپنی زبان کی گرہ کشائی ، اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے تعاون اور سارے معاملے کی آسانی کے لئے رب العزت سے درخواست کی۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے اور اس طرح تمہارے سوال کو پورا کردیا گیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے ہارون (علیہ السلام) کو منصب رسالت پر فائز کیا ، زبان کی…
Read the full tafseer →اِذْ اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓي 38ۙ
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی،
( و ح ی ) الوحی
کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–43
تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً اُخْرٰٓی۔ اِذْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَا یُوْحٰٓی۔ اَنِ اقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْہُ عَدُوٌّلِّیْ وَعَدُوٌّلَّـہٗ ط وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ 5 ج وَلِتُصَنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ ۔ (طٰـہٰ : 37، 38، 39)
(اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا۔ جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وحی کی جو آگے وحی کی جارہی ہے۔ کہ اس کو صندوق میں رکھ دو پھر اس کو دریا میں ڈال دو ، پس دریا اس کو کنارے پر ڈال دے کہ اس کو اٹھا لے وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے، میں نے تم پر اپنی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا…
Read the full tafseer →ولادت کے وقت احسانات کا تذکرہ :
38: اِذْاَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَایُوْحٰٓی (جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات بتلائی جو الہام سے بتانے کی تھی) وحی کا معنی یہاں الہام ہے۔ نمبر 2۔ خواب۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ فرعون تیرے ہم مثلوں کو قتل کر رہا تھا۔ اذؔ یہ منناؔ کا ظرف ہے۔ پھر ما یوحیؔ کی تفسیر اس ارشاد سے فرمائی۔
Read the full tafseer →38۔ اذ اوحینا الی امک ، ، یہ وحی الہام ہے۔ مایوحی ، جو الہام ہوتا ہے ۔ پھر الہام کی تفسیر بیان کی اور آپ پر جو نعمتیں کی ہیں ان کو شمار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
37۔ 40:۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے خواب میں ایک آگ دیکھی جو شام کے ملک سے پیدا ہو کر مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ جو کہلاتا تھا سوائے اس محلہ کے مصر کے اور سب گھر جل گئے فرعون نے اس وقت کے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے سبب سے فرعونی سلطنت برباد ہوجائے گی۔ فوعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لیے یہ تدبیر نکالی ہے کہ بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
آیت 36
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل کر کے انہیں نبوت عطا کردی اور انہیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا : (اذھب الی فرعون انہ طغی) ” فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہوگیا ہے۔ “ یعنی وہ، اپنے کفر و فاسد میں، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتی کہ اس نے ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کردیا۔۔۔ قبحہ اللہ۔۔۔ یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–38
سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں
قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…
Read the full tafseer →31 امِّ موسیٰ کی طرف وحی کا مطلب ؟ : یعنی وحی کا لفظ یہاں پر اس القا والہام کے معنیٰ میں ہے جو کہ اللہ پاک اپنی قدرت اور رحمت سے اپنی مخلوق میں سے کسی کو فرما دیتا ہے۔ نہ کہ نبوت و رسالت کی وہ وحی جس سے حضرات انبیاء ورسل کو نوازا جاتا ہے۔ سو اس آیت کریمہ میں وحی کے لفظ کا استعمال ویسے ہی ہے جیسا کہ سورة نحل میں شہد کی مکھی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ } ۔ (النحل :68) سو یہ لغوی وحی ہے نہ کہ شرعی اور اصطلاحی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت سے حضرت موسیٰ کی والدہ ماجدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنے بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر سمندر میں ڈال دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں
تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ف 1 یہاں بتانے اور بیان کرنے کے لئے ” اوھینا “ (ہم نے وحی بھیجی) اور ” یوحی “ (وحی کیا جاتا ہے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وحی کے لفظ معنی اشارہ سریعہ یا دل میں کوئی بات ڈال دینے کے ہیں۔ اصطلاح میں جب یہ لفظ کسی نبی کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی فرشتہ کے ذریعے پیغام بھیجنا ہوتے ہیں اور قرآن میں دونوں معنی کے اعتبار سے وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ کی والدہ کی طرف جو وحی بھیجی گئی وہ بھی لفظی معنی کے اعتبار سے تھی یعنی خواب ہیں یا کسی خفیہ طریقہ سے ان کے دل میں بات ڈال دی گی کیونکہ اس بات پر تقریباً علما کا اتفاق ہے کہ اللہ کے جتنے نبی ہوئے ہیں مردوں میں سے ہوئے ہیں عورتوں…
Read the full tafseer →(20:38) اوحینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے وحی کی۔ ایحاء مصدر (افعال) یہاں اوحینا سے مراد الھمنا ہے یعنی ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں یہ تدبیر ڈال دی۔ ما یوحی۔ جو وحی (ہی) کی جاتی ہے۔ جو الہام کرنے کی بات تھی جو الہام ہی کئے جانے کے قبل تھی۔ یوحی مضارع مجہول واحد مذکر غائب وحی کیا جاتا ہے الہام کیا جاتا ہے۔ اندرونی القاء کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–46
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46
یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔
تشریح : آیت نمبر 25 تا 46
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فرعون کی ہلاکت کا ذکر
ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک اور واقعہ کا ذکر فرمایا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی قوم کے ایک کافر قطبی کو مارا تھا، وہ مرگیا۔ کہا گیا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی۔ اس واقعہ پر آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا تو مدین ایک شہر جو مصر سے آٹھ منزل کے فاصلے پر ہے، یہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) رہتے تھے، کے پاس آئے۔ اور کئی برس تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے، اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر چالیس برس کی ہوگئی۔ اور نبوت کے ملنے کا زمانہ قریب آگیا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–38
[5] یعنی میری زبان کی لکنت دور کردے کہ خطاب و کلام پوری طرح رواں ہوجائے اور میری بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا :
(ف 1) جب نبوت مل چکی ، اور کام کی نوعیت بھی بتا دی گئی ، کہ فرعون سے مقابلہ ہے اس کی سرکشی اور طغیان کے خلاف جہاد ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس خاص باب میں توفیق اعانت چاہی فرمایا ، میرے سینہ کو انشراح وضاحت کے انوار سے بہرہ ورکر ، میرے کام میں آسانیاں بہم پہنچا ، زبان میں حلاوت وبلاغت پیدا کر ، کہ وہ بےحس دلوں کی گہرائیوں تک پہنچ سکے ، اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی میرا شریک کار بنا دے ، تاکہ ہم دونوں مل کر تیری تسبیح خوانی کریں ، تیرا پیغام بنی اسرائیل کے ہر فرد تک پہنچا دیں ، اے اللہ تو ہمارے حالات سے آگاہ ہے ، ہماری ضروریات کو…
Read the full tafseer →-38 وہ احسان اس وقت کیا جب کہ ہم نے تیری ماں کو وہ بات الہام کی جو الہام سے بتانے کے قابل تھی۔ یعنی یا تو براہ راست موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو خواب میں تعلیم کی گئی یا کسی نامعلوم الاسم نبی کو وحی کی گئی ہو اور انہوں نے موسیٰ کی والدہ کو باخبر کیا ہو۔ بہرحال ! حضرت موسیٰ کی والدہ کا نبیہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان کی ماں کو یہ بات خواب میں کہی اس سے دو پیغمبر نہیں ہوگئیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 1۔ جو کہ رب اشرح الخ میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →وہ وقت یاد کرو جب تمہاری والدہ ماجدہ کو اشارہ کیا گیا :
38۔ جب وہ بہت ہی پریشان ہوئیں تو اللہ رب العزت نے اس کی مدد فرمائی اور والدہ کے دل میں کسی طرح ایک بات بٹھا دی اور اس طرح کا اشارہ ہوا کہ ایک تابوت کی طرح کا صندوق بناؤ جس پر رال اور روغن کی خوبصورت پالش کرو تاکہ پانی اندر اثر نہ کرسکے اور اس میں اس بچہ کو محفوظ طریقہ سے رکھ دو اور پھر اس صندوق کو نیل کے بہاؤ پر چھوڑ دو ، ہوتے ہوتے یہ بات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں پیوست ہوگئی اور والدہ نے ایسا ہی کیا جیسا کہ اس کا دل وقتی یقین پا گیا ۔
زیر نظر آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا کہ ” اور ہم…
Read the full tafseer →إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰ (When We revealed to your mother what was to be revealed - 20:38) It means that the information given to the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was about a matter which could be learnt only through Divine revelation. This was that the Pharaoh's soldiers had orders to put to death all the male children belonging to the tribe of Bani Isra'il. She was told by means of a revelation that in order to save the life of her son she should put him in a box and float it down the river. She was re-assured not to entertain any apprehensions about his safety…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
18. The only two ways of bringing a man to the right way are: (1) To convince him by argument and admonition, or (2) To warn him of the consequences of deviation.
Read the full tafseer →