Taa-Haa 20:37

Taa-Haa · from ayah 37

20:37

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤی ۟ۙوَلَـقَدۡ مَنَـنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰٓىۙ‏

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We had already conferred favor upon you another time,

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:37

ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے تو تجھ پرایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے تم پر ایک اور مرتبہ بھی احسان کیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے تجھ پر ایک بار اور احسان فرمایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے تم پر ایک اور بار (اس سے پہلے بھی) احسان فرمایا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ پر ایک اور بار بھی احسان کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے تم ہر ایک اور مرتبہ بھی احسان کیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی اپنا فضل کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم تو تمہاری درخواست کے بغیر اس سے پہلے ایک اور مرتبہ بھی تم پر ایک احسان کرچکے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم تو ایک دفعہ اور بھی تمہارے اوپر احسان کرچکے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم تو تم پر احسان کرچکے ہیں ایک مرتبہ پہلے بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے تم پر ایک اور بھی احسان کیا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have again bestowed Our favour upon you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We had bestowed Our favour on you another time,

— Muhammad Taqi Usmani

And We had bestowed Our favour on you another time,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And indeed We conferred a favor on you another time (before)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And indeed, another time, already We have shown thee favour,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We had already conferred favor upon you another time,

— Saheeh International

It is the second time that We have bestowed upon you Our favor.

— Muhammad Sarwar

And certainly We bestowed on you a favor at another time;

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We conferred a benefit on thee anot her time.

— Abdul Majid Daryabadi

"And indeed We conferred a favour on thee another time (before).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

جس سال قتل موقوف تھا اس سال تو حضرت ہارون ؑ پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا اس برس حضرت موسیٰ ؑ تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا ؟ بےاندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چناچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہوگیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ چناچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا جب صندوق نظروں سے اوجھل ہوگیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کردیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–37

سورة طٰهٰ 17 اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو ایک ایک کر کے وہ احسانات یاد دلاتا ہے جو پیدائش کے وقت سے لے کر اس وقت تک اس نے ان پر کیے تھے۔ ان واقعات کی تفصیل سورة قصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارات کیے گئے ہیں جن سے مقصود حضرت موسیٰ کو یہ احساس دلانا ہے کہ تم اسی کام کے لیے پیدا کیے گئے ہو اور اسی کام کے لیے آج تک خاص طور پر سرکاری نگرانی میں پرورش پاتے رہے ہو جس پر اب تمہیں مامور کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ہم تو اور دفعہ اور بھی (اس کے قبل بےدرخواست ہی) تم ہر احسان کرچکے ہیں جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام سے بتلائی جو (بوجہ مہتم بالشان ہونے کے) الہام سے بتلانے کے (قابل) تھی (وہ) یہ کہ موسیٰ کو (جلادوں کے ہاتھ سے بچانے کے لئے) ایک صندوق میں رکھو، پھر ان کو (مع صندوق کے) دریا میں (جس کی ایک شاخ فرعون کے محل تک بھی گئی تھی) ڈال دو پھر دریا ان کو (مع صندوق کے) کنارہ (کے پاس) تک لے آوے گا (آخر کار) ان کو ایک ایسا شخص پکڑے گا جو (کافر ہونے کی وجہ سے) میرا بھی دشمن ہے اور ان کا بھی دشمن ہے (خواہ فی الحال بوجہ اس کے کہ سب بچوں کو قتل کرتا تھا خواہ آئندہ ان کا خاص طور پر دشمن ہوگا)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 37–39

آیت 39-37 ماضی کے ایک فضل خاص کی یاد دہانی ولقد مننا علیک الایہ حضرت موسیٰ کا اضطراب رفع کرنے کے لئے جس طرح ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت سنائی گی اسی طرح ان کے اوپر اپنے اس فضل خاص کی بھی یاد دہانی فرما دی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس وقت فرمایا جب ان کی ولادت ہوئی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ فرعون اسرائیلی بچوں کیق تل کی جو ظالمانہ اسکیم 1 1۔ یہ ظالمانہ اسکیم جن سیاسی خطرات کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں نے چلائی تھی ان کی وضاحت سورة اعراف کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر سورة اعراف آیات 1/9- 112 حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لئے خدائی انتظامات چلا رہا ہے اس کی زد میں وہ بھی آجائیں گے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 قبولیت دعا کی خوشخبری کے ساتھ مزید تسلی اور حوصلے کے لئے اللہ تعالیٰ بچپن کے اس احسان کا ذکر فرما رہا ہے، جب موسیٰ ؑ کی ماں نے قتل کے اندیشے سے اللہ کے حکم سے، جب وہ شیر خوار بچے تھے تابوت میں ڈل کر دریا کے سپرد کردیا تھا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–38

11: اگرچہ تسبیح اور ذکر تنہا بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اچھے رفقاء میسر ہوں، اور ماحول ساز گار ہو تو یہ رفاقت خود بخود اس تسبیح اور ذکر کا داعیہ بن جاتی ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–38

و لقد مننا علیک۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (73 تا 14) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے بادشاہ کے دربار میں پیغام حق پہنچانے کے لیے جارہے ہیں جو اس وقت اس کرئہ ارض پر نہایت ہی سرکش ‘ ظالم اور داداگیر بادشاہ تھا ، وہ کفر و ایمان کے معف کہ میں داخل ہو رہے تھے ‘ وہ پہلی بار فرعون کے دربار میں جارہے تھے۔ وہاں ان کے لیے مسائل ‘ واقعات اور مشکلات کے پہاڑ کھڑے تھے۔ پھر ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل عرصہ ذلت اور غلامی کی زندگی گزارتے گزارتے وہ اس کی خ اگر ہوگئے تھے۔ ان کی فطرت ہی بدل گئی موسیٰ (علیہ السلام) اگر اپنی مہم میں کامیاب ہوئے بھی تو ان کی قوم اس آزادی کے لئے نہ موزوں ہے نہ تیار۔ ان کے رب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی ہم تو پہلے ایک مرتبہ بےمانگے تجھ پر بڑا بھاری احسان کرچکے ہیں، پھر اب ایک مناسب چیز مانگنے پر کیوں نہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 36 قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰمُوْسٰی ” تمہاری درخواست ہم نے من و عن قبول کرلی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–38

21 مطالبات کی منظوری :۔ یعنی جو کچھ درخواستیں تم نے پیش کی ہیں وہ سب کی سب منظور کی جاتی ہیں۔ ان احسانات کے علاوہ پہلے بھی ہم تم پر احسان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کرکے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ احسانات یاد دلاتے ہیں جو ان کی پیدائش سے لے کر تاحال ان پر کئے گئے ہیں اور ان کی تفصیل سورة قصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ تم خاص اسی مہم کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور اسی کام کے لئے ہماری زیرنگرانی تمہاری پرورش ہوتی رہی ہے۔ فرعون جیسے جابر بادشاہ سے ٹکر لینے کے لئے جن صفات کی ضرورت تھی۔ وہ تمہیں ودیعت کرکے اس کام کے لئے تمہارا انتخاب کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 36–37

31۔ یعنی اب کی تمہاری درخواست پر کیوں نہ تمہارے ساتھ لطف ونوازش کا معاملہ ہوگا۔ تمہارے ساتھ تو ہمارا یہ معاملہ بلاتمہاری خواہش و درخواست کے ایک بار بہت پہلے ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–42

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ اور ہم ایک بار اور بھی (بغیر درخواست کے) تم پر احسان کرچکے ہیں۔ یعنی اس سے پہلے ایک اور وقت۔ بعض نے کہا یہ ہی بار مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–38

(37۔ 38) اور ہم تو اس احسان کے علاوہ ایک مرتبہ پہلے بھی تم پر احسان کرچکے ہیں، جب کہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام سے بتلائی جو الہام سے بتانے کے قابل تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً اُخْرٰٓى : اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی، نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہونے، عصا و ید بیضا کے معجزے عطا ہونے، ان کا آنکھوں سے مشاہدہ کرنے اور اس موقع پر کی ہوئی چاروں دعاؤں کی قبولیت میں سے ہر ایک عظیم احسان تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے کیے گئے آٹھ احسانات کا ذکر فرمایا۔ مقصد یہ کہ میں نے تم پر پہلے بھی احسان کیے، اب بھی کیے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا، کیونکہ میں نے تمہیں بنایا ہی خاص اپنے لیے ہے، فرمایا : (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي) [ طٰہٰ : 41 ] ”اور میں نے تجھے اپنے لیے خاص طور پر بنایا ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو آئندہ کے وعدے کا یقین دلانے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–40

(تفسیر 36-42) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال قد اوتیت سولک یموسیٰ ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور معاملہ کی تیسیر کا سوال کیا تو جواباً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اور انہیں ان کی طلب اور مرغوب چیز عطا فرما دی۔ مسول سے مراد طلب ہے یہ فعل بمعنی مفعول ہے، خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ یعنی اس سے پہلے بھی تم پر ہم نے احسان فرمایا۔ اور وہ احسان دشمنوں کے شر سے آپ کی حفاظت ہے اور یہ ذبح کے وقت تھا ؛ واللہ اعلم۔ المن کا مطلب احسان کرنا اور مہربانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا وحینا الی امک ما یوحی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ مَنَنَا : اور بیشک ہم احسان کرچکے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) پر ] [مَرَّةً اُخْرٰٓى: ایک اور بار (بھی)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–40

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن میں تابوت میں ڈال کر بہا دیا جانا پھر فرعون کے گھر والوں کا اٹھا لینا اور فرعون کے محل میں ان کی تربیت ہونا چونکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتے تھے اس لیے مصر سے چلے جانے کی ضرورت تھی لیکن فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کو یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ انہیں وہاں سے جانے دیں۔ پھر مزید بات یہ ہوئی کہ کاہنوں نے فرعون کو یہ بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت کے زوال کا ذریعہ بنے گا لہٰذا اس نے یہ کام شروع کردیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوتا تھا اسے قتل کردیتا تھا اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اسے زندہ رہنے دیتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–38

20:۔ اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دعا قبول ہونے کی خوشخبری سنائی اور ان کی پانچ درخواستوں کے جواب میں پانچ انعامات کا ذکر فرمایا جو ان پر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیے تھے۔ ” اِذْ اَوْحَیْنَا الخ “ یہ پہلا انعام ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ اسرائیلیوں کے یہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ آپ کی والدہ متفکر تھیں کہ اگر فرعون کے آدمیوں کو میرے بچے کا پتہ چل گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ تدبیر ڈال دی کہ وہ بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں پھینک دے۔ ” اوحینا “ یعنی ہم نے اس کے دل میں یہ بات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–41

ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر وادی طویٰ میں پہنچے تو آپ کو اللہ نے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو شرف ہمکلامی حاصل ہوا۔ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوتے وقت آپ کو اپنے راستے میں جو مشکلات نظر آئیں ، ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ نے اللہ کے حضور دعا کی۔ آپ نے اپنی زبان کی گرہ کشائی ، اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے تعاون اور سارے معاملے کی آسانی کے لئے رب العزت سے درخواست کی۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے اور اس طرح تمہارے سوال کو پورا کردیا گیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے ہارون (علیہ السلام) کو منصب رسالت پر فائز کیا ، زبان کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّۃً اُخْرٰٓى۝ 37ۙ منن والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164] والثاني : أن يكون ذلک بالقول، وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن ذكرها عند الکفران قيل : إذا کفرت النّعمة حسنت المنّة . وقوله : يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] فالمنّة منهم بالقول، ومنّة اللہ عليهم بالفعل، وهو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–43

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 37–39

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً اُخْرٰٓی۔ اِذْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَا یُوْحٰٓی۔ اَنِ اقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْہُ عَدُوٌّلِّیْ وَعَدُوٌّلَّـہٗ ط وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ 5 ج وَلِتُصَنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ ۔ (طٰـہٰ : 37، 38، 39) (اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا۔ جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وحی کی جو آگے وحی کی جارہی ہے۔ کہ اس کو صندوق میں رکھ دو پھر اس کو دریا میں ڈال دو ، پس دریا اس کو کنارے پر ڈال دے کہ اس کو اٹھا لے وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے، میں نے تم پر اپنی طرف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–41

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37: وَلَقَدْ مَنَنَّا (اور ہم احسان کرچکے) انعام کرچکے عَلَیْکَ مَرَّۃً (تم پر ایک مرتبہ) ایک بار اُخْرٰی (دوسری) اس سے پہلے۔ اس کی وضاحت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37۔ ولقد مننا علیک، ، ہم نے آپ پر نعمت دی۔ مرۃ اخری، یعنی اس سے پہلے ایک اور وقت بعض نے کہا یہ ایک ہی بار مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–40

37۔ 40:۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے خواب میں ایک آگ دیکھی جو شام کے ملک سے پیدا ہو کر مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ جو کہلاتا تھا سوائے اس محلہ کے مصر کے اور سب گھر جل گئے فرعون نے اس وقت کے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے سبب سے فرعونی سلطنت برباد ہوجائے گی۔ فوعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لیے یہ تدبیر نکالی ہے کہ بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–40

آیت 36 جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل کر کے انہیں نبوت عطا کردی اور انہیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا : (اذھب الی فرعون انہ طغی) ” فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہوگیا ہے۔ “ یعنی وہ، اپنے کفر و فاسد میں، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتی کہ اس نے ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کردیا۔۔۔ قبحہ اللہ۔۔۔ یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–37

30 ذکر و تسبیح کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے ذکر و تسبیح اور خاص کر اجتماعی ذکر و تسبیح کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ سو اس ارشاد سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تسبیح و تقدیس اور اجتماعی ذکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ " تاکہ ہم دونوں تیرا ذکر کریں " کہ تیری تسبیح و تقدیس اور تیرا ذکر ہی شاہ کلید اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ کیونکہ تسبیح میں تنزیہ ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ کی ہر نقص و عیب اور شائبہ شرک و ضعف سے۔ اور تسبیح کے ساتھ ذکر میں اشارہ ہے اس کی صفات کمال کی طرف۔ سو وہی ہے جو ہر نقص و عیب سے پاک اور ہر خوبی و کمال کا مالک ہے۔ اور وہی مدد کرسکتا ہے اپنے بندے کی۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 37–38

ف 1 یہاں بتانے اور بیان کرنے کے لئے ” اوھینا “ (ہم نے وحی بھیجی) اور ” یوحی “ (وحی کیا جاتا ہے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وحی کے لفظ معنی اشارہ سریعہ یا دل میں کوئی بات ڈال دینے کے ہیں۔ اصطلاح میں جب یہ لفظ کسی نبی کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی فرشتہ کے ذریعے پیغام بھیجنا ہوتے ہیں اور قرآن میں دونوں معنی کے اعتبار سے وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ کی والدہ کی طرف جو وحی بھیجی گئی وہ بھی لفظی معنی کے اعتبار سے تھی یعنی خواب ہیں یا کسی خفیہ طریقہ سے ان کے دل میں بات ڈال دی گی کیونکہ اس بات پر تقریباً علما کا اتفاق ہے کہ اللہ کے جتنے نبی ہوئے ہیں مردوں میں سے ہوئے ہیں عورتوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:37) مننا۔ من مصدر سے ماضی جمع متکلم (باب نصر) ہم نے بڑا احسان کیا۔ ہم نے بڑی نعمت دی المنۃ جمع المنن احسان۔ مہربانی۔ نعمت۔ یہ دوطرح سے ہے ایک منت بالفعل جیسے لقد من اللہ علی المؤمنین (3:164) خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ اور اسی معنی میں آیت ہذا میں ہے۔ دوسرا معنی منت بالقول ہے جیسے لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:264) اپنے صدقوں کو احسان جتلا کر اور اذیت پہنچا کر باطل نہ کریں۔ مرۃ اخری۔ اور ہم نے ایک مرتبہ پہلے بھی تم پر احسان کیا تھا۔ یہاں ایک بار سے مراد شمار نہیں ہے کیونکہ قبل ازیں خداوند تعالیٰ نے صرف ایک احسان ہی نہیں فرمایا تھا بلکہ متعدد احسانات کئے جن کا ذکر آگے آرہا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–38

[5] یعنی میری زبان کی لکنت دور کردے کہ خطاب و کلام پوری طرح رواں ہوجائے اور میری بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–38

موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا : (ف 1) جب نبوت مل چکی ، اور کام کی نوعیت بھی بتا دی گئی ، کہ فرعون سے مقابلہ ہے اس کی سرکشی اور طغیان کے خلاف جہاد ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس خاص باب میں توفیق اعانت چاہی فرمایا ، میرے سینہ کو انشراح وضاحت کے انوار سے بہرہ ورکر ، میرے کام میں آسانیاں بہم پہنچا ، زبان میں حلاوت وبلاغت پیدا کر ، کہ وہ بےحس دلوں کی گہرائیوں تک پہنچ سکے ، اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی میرا شریک کار بنا دے ، تاکہ ہم دونوں مل کر تیری تسبیح خوانی کریں ، تیرا پیغام بنی اسرائیل کے ہر فرد تک پہنچا دیں ، اے اللہ تو ہمارے حالات سے آگاہ ہے ، ہماری ضروریات کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-37 اور یقینا ہم تو تجھ پر بےمانگے ایک دفعہ اور بھی بہت بھاری احسان کرچکے ہیں۔ یعنی ہم تو بدون تمہاری درخواست کے تم پر احسان کرچکے ہیں آگے اس احسان کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ہم تو اس سے پہلے بھی تجھ پر احسان کرچکے ہیں : 37۔ زیر نظر آیت میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت کا ذکر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) یوکا بد کے بطن سے اس وقت پیدا ہوئے جب کہ فرعون مصر اسرائیلی لڑکوں کا فیصلہ کرچکا تھا اس لئے ان کی ولدہ اور ان کے خاندان کے لوگ ان کی ولادت سے سخت پریشان تھے کہ کسی طرح بچہ کو قاتلوں کی نگاہ سے محفوظ رکھیں بہرحال جوں توں کر کے کچھ وقت تک ان کی نظر سے اوجھل رکھا اور اس بچہ کے پیدا ہونے کی کسی کو خبر نہ دی تاہم وہ دیر تک اس واقعہ کو چھپا نہ سکتے تھے ، چونکہ یہ گھرانا بہت ہی اچھے اور نیک لوگوں کا تھا اور فرعون کی بیوی آسیہ بھی ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّ‌ةً أُخْرَ‌ىٰ (And We have bestowed Our favour on you once more - 20:37). Having bestowed His gifts and special favours on Sayyidna Musa (علیہ السلام) such as the honour of conversation with Allah, the grant of prophethood and miracles etc. Allah Ta'ala reminds him of the benefits and favours which He had showered on him throughout his life - from his birth uptill that time and how He had saved his life from numerous risks and hazards. In relation to time, these benefits (which will be discussed in the following pages) pertain to an earlier period.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–37

17. Allah recounts the favors He had shown to Prophet Moses (peace be upon him) since his birth in order to impress upon him the fact that he had been brought up under divine care right from his birth for the purpose of appointing him as a Messenger. Here mere references have been made but in Surah Al-Qasas details of the favors have been given.

Read the full tafseer →