Taa-Haa 20:36

Taa-Haa · from ayah 36

20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰی ۟قَالَ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَـكَ يٰمُوۡسٰى‏

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "You have been granted your request, O Moses.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:36

فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جناب باری تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سواﻻت پورے کر دیئے گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے فرمایا : موسیٰ ! تم نے جو کچھ مانگا ہے تمہیں دے دیا گیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے موسٰی! تمہاری ہر مانگ تمہیں عطا کردی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا بیشک تجھے تیرا سوال عطا کردیا گیا اے موسیٰ !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : موسیٰ ! جو کچھ تم نے مانگا وہ تمہیں دیا جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا، تمہاری درخواست منظور ہوئی، اے موسیٰ !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جواب ملا موسیٰ تمہاری مذکورہ بالا ہر دعا منظور کرلی گئی

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا تمہاری درخواست منظور کی گئی اے موسیٰ ؑ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرمایا : اے موسیٰ ؑ تمہیں عطا کردیا گیا جو تم نے طلب کیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمایا موسیٰ ! تمہاری دعا قبول کی گئی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "Moses, your petition is granted.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :You have been granted your request O Musa.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :You have been granted your request O Musa.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) said: "You are granted your request, O Musa!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Thou art granted thy request, O Moses.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "You have been granted your request, O Moses.

— Saheeh International

The Lord said, "Moses, your request is granted.

— Muhammad Sarwar

He said: You are indeed granted your petition, O Musa

— Muhammad Habib Shakir

He said: surely thou art granted thy petition, O Musa!

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) said: "Granted is thy prayer, O Moses!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

موسیٰ ؑ کا بچپن۔ حضرت موسیٰ ؑ کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کردیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–37

سورة طٰهٰ 17 اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو ایک ایک کر کے وہ احسانات یاد دلاتا ہے جو پیدائش کے وقت سے لے کر اس وقت تک اس نے ان پر کیے تھے۔ ان واقعات کی تفصیل سورة قصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارات کیے گئے ہیں جن سے مقصود حضرت موسیٰ کو یہ احساس دلانا ہے کہ تم اسی کام کے لیے پیدا کیے گئے ہو اور اسی کام کے لیے آج تک خاص طور پر سرکاری نگرانی میں پرورش پاتے رہے ہو جس پر اب تمہیں مامور کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دعائیں یہاں ختم ہوگئیں آخر میں حق تعالیٰ کی طرف سے ان سب دعاؤں کے قبول ہوجانے کی بشارت دے دی گئی قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤ ْلَكَ يٰمُوْسٰى، یعنی آپ کی مانگی ہوئی سب چیزیں آپ کو دے دی گئیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–36

آیت 25-26 نبی اور دنیا پرست لیڈروں میں فرق حضرت موسیٰ کے علم میں جو نیہ یہ بات آئی کہ ان پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گی ہیں اور اب انہیں فرعون کے پاس خدا کے رسول کی حیثیت سے انذار و تبلیغ کے لئے جانا ہے تو انہوں نے فوراً یہ دعا کی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس بوجھ کو کتنا بھاری محسوس کیا ہے اور کس دل سوزی کے ساتھ اس بارگراں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے مدد و رہنمائی کے لئے التجا کی ہے۔ دنیا پرست لیڈروں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ لیڈری ہی کی ہوس میں جیتے اور اسی کے عشق میں مرتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا سینہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ، اللہ تعالیٰ نے زبان کی لکنت کو بھی دور فرما دیا ہوگا۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ موسیٰ ؑ نے چونکہ پوری لکنت دور کرنے کی دعا نہیں کی تھی، اس لئے کچھ باقی رہ گئی تھی۔ باقی رہا فرعون کا یہ کہنا (وَّلَایَکَادُ یُبِیْنُ) ' یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا ' یہ ان کی تحقیق گزشتہ کیفیت کے اعتبار سے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–38

11: اگرچہ تسبیح اور ذکر تنہا بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اچھے رفقاء میسر ہوں، اور ماحول ساز گار ہو تو یہ رفاقت خود بخود اس تسبیح اور ذکر کا داعیہ بن جاتی ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال قد اوتیت سولک یمٰوسیٰ (63) ” فرمایا “ دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! “۔ ایک ہی فقرہ میں تمام سوالات منظور ‘ ایک ہی اجمالی آرڈر کردیا گیا۔ تفصیلات دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ وعدہ بھی نہیں بلکہ فائنل منظوری بلکہ دستی تعمیل۔ جو مانگا وہی دے دیا گیا۔ نہ دیر اور نہ بار بار کا مطالبہ۔ درخواست کی منظوری کے ساتھ ساتھ لطف و کرم کا اظہار بھی ہے ‘ تعظیم و تکریم بھی ہے ‘ پھر محبت کا اظہار یوں نام لے کر (اے موسیٰ ) اس سے بڑھ کر تکریم اور کیس ہو سکتی ہے۔ کہ پوری کائنات کی مجلس میں اللہ ایک بندے کا نام لے کر اس کے مطالبے منظور کرے۔ یہاں تک آپ نے دیکھا کہ اللہ کے فضل وکرم کی تکمیل کس قدر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت 36 قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰمُوْسٰی ” تمہاری درخواست ہم نے من و عن قبول کرلی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

20 سیدنا موسیٰ کے دل میں ہیأات :۔ اللہ کا یہ حکم سن کر آپ نے اپنی حالت کا جائزہ لیا اور چند معروضات پیش کردیں۔ ایک یہ کہ مجھے اتنا حوصلہ عطا فرما کہ میں یہ کام سرانجام دے سکوں اور مجھے اس کام کے کرنے کی توفیق عطا فرما۔ دوسرے یہ کہ میری زبان سے لکنت دور کردے۔ کہتے ہیں کہ بچپن میں آپ نے اپنی زبان پر آگ کا کوئلہ رکھ لیا تھا جس سے آپ کی زبان میں گرہ پڑگئی تھی اور آپ ہکلا کر بات کرتے تھے۔ اس گرہ کو دور کردینے کی آپ نے درخواست کی تاکہ میں وضاحت سے بات کرسکوں اور لوگ میری بات آسانی سے سمجھ سکیں اور تیسرے یہ کہ اس گرانار ذمہ داری کے کام کے لئے مجھے ایک مددگار بھی عطا فرما اور چوتھے یہ کہ اس کام کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 36–37

31۔ یعنی اب کی تمہاری درخواست پر کیوں نہ تمہارے ساتھ لطف ونوازش کا معاملہ ہوگا۔ تمہارے ساتھ تو ہمارا یہ معاملہ بلاتمہاری خواہش و درخواست کے ایک بار بہت پہلے ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–42

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال قد اوتیت سولک یموسی۔ اللہ نے فرمایا موسیٰ تمہارا سوال پورا کردیا گیا ‘ یعنی تمہاری سب مانگیں تم کو دے دی گئیں۔ سُؤْلٌبروزن فعل بمعنی مسؤل جیسے خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(36) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا حضرت موسیٰ ؑ تمہاری منظور کی گئی یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا حوصلہ بڑھا دیا اور ان کے کام کو آسان کردیا اور زبان کی لکنت دور کردی اور حضرت ہارون ؑ کو ان کا مددگار اور رسول بنا دیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى۔۔ : یعنی تم نے منہ مانگی مراد پالی اور ہم نے تمہاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔ سینہ کھل گیا، کام آسان ہوگیا، زبان کی گرہ بھی مکمل یا بقدر ضرورت کھل گئی۔ چناچہ اس کے بعد ہر جگہ موسیٰ ؑ نے خود ہی فرعون اور جادوگروں سے بحث کی ہے، کہیں ہارون ؑ کا ذکر نہیں آیا اور ہارون ؑ کو بھی نبی بنا کر وزیر بنادیا گیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–40

(تفسیر 36-42) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال قد اوتیت سولک یموسیٰ ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور معاملہ کی تیسیر کا سوال کیا تو جواباً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اور انہیں ان کی طلب اور مرغوب چیز عطا فرما دی۔ مسول سے مراد طلب ہے یہ فعل بمعنی مفعول ہے، خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ یعنی اس سے پہلے بھی تم پر ہم نے احسان فرمایا۔ اور وہ احسان دشمنوں کے شر سے آپ کی حفاظت ہے اور یہ ذبح کے وقت تھا ؛ واللہ اعلم۔ المن کا مطلب احسان کرنا اور مہربانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا وحینا الی امک ما یوحی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [قَدْ اُوْتِيْتَ : آپ (علیہ السلام) کو دی جا چکی ہے ] [سُؤْلَكَ : آپ (علیہ السلام) کی التجا ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–36

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شرح صدر اور طاقت لسان کے لیے دعا کرنا اور اپنے بھائی ہارون کو شریک کار بنانے کی درخواست کرنا اور دعا کا قبول ہونا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرما کر اور دو بڑی بڑی نشانیاں (عصا اور یدبیضاء) عطا فرما کر فرعون کے پاس جانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب جس کام کا حکم فرمایا ہے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیجئے اور میرے کام کو آسان فرمائیے۔ شرح صدر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا (اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) جب شرح صدر ہوتا ہے تبھی کام کرنے کی ہمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–38

20:۔ اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دعا قبول ہونے کی خوشخبری سنائی اور ان کی پانچ درخواستوں کے جواب میں پانچ انعامات کا ذکر فرمایا جو ان پر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیے تھے۔ ” اِذْ اَوْحَیْنَا الخ “ یہ پہلا انعام ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ اسرائیلیوں کے یہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ آپ کی والدہ متفکر تھیں کہ اگر فرعون کے آدمیوں کو میرے بچے کا پتہ چل گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ تدبیر ڈال دی کہ وہ بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں پھینک دے۔ ” اوحینا “ یعنی ہم نے اس کے دل میں یہ بات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–36

ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے سفر کرتے ہوئے وادی مقدس طویٰ میں پہنچے تو وہاں پر آپ کے سامنے حجاب ناری یا حجاب نوری ظاہر ہوا ، اور اللہ نے آپ سے کلام کیا۔ پھر اللہ نے اپنی واحدنیت کا ذکر کرکے حکم دیا کہ اے موسیٰ خاص میری عبادت کرو ، نماز قائم کرو اور وقوع قیامت پر یقین رکھو۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ وقوع قیامت کے منکر یا اس میں شک وتردد کا شکار ہیں آپ ان سے علیحدگی اختیار کریں۔ فرمایا ، قیامت کے دن ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی لاٹھی کے متعلق سوال کیا اور پھر لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ ظاہر کیا۔ اللہ نے یدبیضا کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 35–36

قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى۝ 36 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–43

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰـمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 36) (فرمایا ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسیٰ (تیری درخواست منظور ہوئی) ۔ سُؤْلَ … سوال کا ہم معنی ہے۔ درخواست اور التجا کو بھی کہتے ہیں۔ اجابت ِدعا اس مختصر سے جملے میں اللہ تعالیٰ کی شان بھی جھلکتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پیار بھی برس رہا ہے اور آپ ( علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی عنایات کا اظہار بھی ہورہا ہے۔ ادھر دعائیں ختم ہوئیں، ادھر بشارت سنا دی گئی۔ جیسے کوئی حکمران بیک جنبشِ قلم کسی کی درخواست کو منظور کرلیتا ہے۔ اے موسیٰ ! ، کا خطاب بھی اپنے اندر بہت معنویت رکھتا ہے۔ اس میں جو اپنایت اور پیار ہے اس کا تو کیا ہی کہنا لیکن ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–41

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر ان کا جواب مرحمت فرمایا : 36: قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰـمُوْسٰی (کہا اے موسیٰ تمہارا سوال تمہیں دیدیا گیا) جو تم نے مانگا وہ عنایت کردیا گیا۔ اللغۃ : السُول طلب کو کہا جاتا ہے اس کا وزن فعل ہے اور بمعنی مفعول ہے جیسا کہ خبز بمعنی مخبوز آتا ہے۔ (اکل بمعنی ماکول) قراءت : ابو عمرو نے سولک کو بلا ہمزہ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36۔ قال اللہ تعالیٰ نے فرمایا، قداوتیت ، تونے عطا کیا۔ سوء لک، وہ تمام اشیاء جن کا میں نے تم سے سوال کیا۔ یاموسی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–40

آیت 36 جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر وحی نازل کر کے انہیں نبوت عطا کردی اور انہیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا : (اذھب الی فرعون انہ طغی) ” فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہوگیا ہے۔ “ یعنی وہ، اپنے کفر و فاسد میں، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتی کہ اس نے ربوبیت اور الوہیت کا دعویٰ کردیا۔۔۔ قبحہ اللہ۔۔۔ یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–37

30 ذکر و تسبیح کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے ذکر و تسبیح اور خاص کر اجتماعی ذکر و تسبیح کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ سو اس ارشاد سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تسبیح و تقدیس اور اجتماعی ذکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ " تاکہ ہم دونوں تیرا ذکر کریں " کہ تیری تسبیح و تقدیس اور تیرا ذکر ہی شاہ کلید اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ کیونکہ تسبیح میں تنزیہ ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ کی ہر نقص و عیب اور شائبہ شرک و ضعف سے۔ اور تسبیح کے ساتھ ذکر میں اشارہ ہے اس کی صفات کمال کی طرف۔ سو وہی ہے جو ہر نقص و عیب سے پاک اور ہر خوبی و کمال کا مالک ہے۔ اور وہی مدد کرسکتا ہے اپنے بندے کی۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی تم نے منہ مانگی مراد پا لی اور ہم نے تمہاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:36) اوتیت۔ ایتاء (باب افعال) سے ماضی مجہول واحد مذکر حاضر۔ تجھ کو دیا گیا تجھ کو عطا کیا گیا۔ اور جگہ ارشاد ہے ولم یؤت سعۃ من المال (2:247) اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی۔ قد اوتیت سؤلک۔ تمہاری درخواست منظور کی گئی۔ تمہارا سوال منظور کیا گیا یعنی جس کا تم نے سوال کیا تھا وہ تمہیں عطا کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–38

[5] یعنی میری زبان کی لکنت دور کردے کہ خطاب و کلام پوری طرح رواں ہوجائے اور میری بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–38

موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا : (ف 1) جب نبوت مل چکی ، اور کام کی نوعیت بھی بتا دی گئی ، کہ فرعون سے مقابلہ ہے اس کی سرکشی اور طغیان کے خلاف جہاد ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس خاص باب میں توفیق اعانت چاہی فرمایا ، میرے سینہ کو انشراح وضاحت کے انوار سے بہرہ ورکر ، میرے کام میں آسانیاں بہم پہنچا ، زبان میں حلاوت وبلاغت پیدا کر ، کہ وہ بےحس دلوں کی گہرائیوں تک پہنچ سکے ، اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی میرا شریک کار بنا دے ، تاکہ ہم دونوں مل کر تیری تسبیح خوانی کریں ، تیرا پیغام بنی اسرائیل کے ہر فرد تک پہنچا دیں ، اے اللہ تو ہمارے حالات سے آگاہ ہے ، ہماری ضروریات کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-36 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسیٰ ! ﷺ تمہاری درخواستیں اور تمہاری سب مانگیں پوری کردی گئیں۔ یعنی تم نے جو کچھ مانگا وہ تم کو عطا کردیا گیا اور رب اشرح لی صدی سے لیکر حضرت ہارون ﷺ کو نبی بنانے تک کی سب مانگیں تجھ کو دیدی گئیں اور ان درخواستوں کی قبولیت پر ہی کیا موقوف ہے ہم تو تم کو اپنے کر ہائے بےکراں سے نوازتے ہی رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کو دعا کی منظوری کی اطلاع دے دی گئی : 36۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست جس کو ہم ” دعا “ کے نام سے موسوم کرتے آرہے ہیں کہ منظور کرلیا گیا اور آپ کو اطلاع دے دی گئی کہ اسے موسیٰ ہارون کا نبی بنانا ہمارے ہاں طے تھا اس لئے ہم نے اس کو نبی ورسول بنا دیا اور آپ کی دعا قبول ہوئی اور علاوہ ازیں بھی جو کچھ تو نے طلب کیا وہ تجھے دیا گیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی احسانات کا ذکر فرمایا جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر اس سے پہلے ہی کئے جا چکے تھے جب کہ ان کے متعلق آپ نے سوال بھی نہیں کیا تھا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Here Sayyidna Musa (علیہ السلام) ended his petition, and he was rewarded with the good news that Allah Ta` ala, the Almighty, had granted all his requests قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ (you have been granted your request 0 Musa - 20:36).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–37

17. Allah recounts the favors He had shown to Prophet Moses (peace be upon him) since his birth in order to impress upon him the fact that he had been brought up under divine care right from his birth for the purpose of appointing him as a Messenger. Here mere references have been made but in Surah Al-Qasas details of the favors have been given.

Read the full tafseer →