Explained with ayahs 45–48
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی۔
اللہ کے ان دونوں رسولوں نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لئے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے۔ اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالم کی طرف سے ان کی تشفی کردی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 18 (الف)
معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت موسیٰ مصر پہنچ گئے اور حضرت ہارون عملاً ان کے شریک کار ہوگئے۔ اس وقت فرعون کے پاس جانے سے پہلے دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ گزارش کی ہوگی۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(جب یہ حکم دونوں صاحبوں کو پہنچ چکا تو) دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم تبلیغ کے لئے حاضر ہیں لیکن) ہم تبلیغ کے لئے حاضر ہیں لیکن) ہم کو اندیشہ ہے کہ (کہیں) وہ ہم پر (تبلیغ سے پہلے ہی) زیادتی نہ کر بیٹھے (کہ تبلیغ ہی رہ جاوے) یا یہ کہ (عین تبلیغ کے وقت اپنے کفر میں) زیادہ شرارت نہ کرنے لگے کہ اپنی بک بک میں تبلیغ نہ سنے نہ سننے دے جس سے وہ عدم تبلیغ کے برابر ہوجاوے) ارشاد ہوا کہ (اس امر سے مطلق) اندیشہ نہ کرو (کیونکہ) میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب سنتا دیکھتا ہوں (میں تمہاری حفاظت کروں گا اور اس کو مرعوب کردوں گا جس سے پوری تبلیغ کرسکو گے جیسا دوسری آیت میں ہے وَنَجْعَلُ…
Read the full tafseer →آیت 45
ایک اندیشہ کا اظہار
دونوں ہی حضرات نے یہ عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ معاملہ پر غور کرنے سے پہلے ہی یا تو ہم پر ہاتھ ڈال دے گا یا یہ ہوگا کہ ہماری بات سنتے ہی، برہم ہو کر، اس ظلم و ستم میں اور اضافہ کر دے گا جو وہ اب تک بنی اسرائیل پر کرتا رہا ہے۔ فرط کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی کے خلاف عاجلانہ اقدام کے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون تو پہلے ہی غصہ سے بھرا بیٹھا ہے۔ بھلا وہ ہمیں زبان کھولنے کی اجازت کب دے گا ! وہ بات سننے سے پہلے یہ یا تو ہمیں ختم کردینے کی تدبیر کرے گا یا اس کی سرکشی اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ یہاں دعا میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
46۔ 1 تم فرعون کو جا کر کہو گے اور اس کے جواب میں جو کہے گا، میں وہ سنتا اور تمہارے اور اس کے طرز عمل کو دیکھتا رہوں گا۔ اس کے مطابق میں تمہاری مدد اور اس کی چالوں کو ناکام کروں گا، اس لئے اس کے پاس جاؤ، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–49
19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔
Read the full tafseer →قالا ابنا اننا۔۔۔۔۔۔ علی من کذب و تولی ( 54 تا 84 ) ” ۔
اس سے قبل جو طویل بحث ہوئی تھی اور جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رب تعالیٰ کے ساتھ وادی طوی میں ہم کلام تھے ‘ اس میں حضرت ہارون موجود نہ تھے۔ وہ ایک طویل مناجات تھی اور وسیع سوال و جواب اس میں ہوتے رہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں کا یہ جواب
اننا نخاف ان۔۔۔۔۔۔ ان یطغیٰ (02 : 54) ” دونوں نے عرض کیا پروردگار ‘ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا “۔ وادی طوی میں مناجات کی جگہ میں نہ تھا۔ قرآن کریم کا قصص کے بارے میں یہ طریقہ ہے کہ وہ قصص کے غیر ضروری حصے درمیان میں سے کاٹ دیتا ہے اور قصص کے جو مناظر وہ دکھاتا ہے اس…
Read the full tafseer →9 یعنی اس کے ڈرنے کی امید تو بعد کو ہوگی، فی الحال اپنی بےسروسامانی اور اس کے جاہ و جلال پر نظر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سننے کے لیے بھی آمادہ ہوگا یا نہیں۔ ممکن ہے ہماری پوری بات سننے سے پہلے ہی وہ بھبک پڑے یا سننے کے بعد غصہ میں بپھر جائے اور تیری شان میں زیادہ گستاخی کرنے لگے۔ یا ہم پر دست درازی کرے جس سے اصل مقصد فوت ہوجائے۔ (تنبیہ) موسیٰ (علیہ السلام) کے اس خوف اور شرح صدر میں کچھ منافات نہیں۔ کاملین بلاء کے نزول سے پہلے ڈرتے ہیں اور استعاذہ کرتے ہیں لیکن جب آپڑتی ہے اس وقت پورے حوصلہ اور کشادہ دلی سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ”
اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
30 فرعون کے ہاں جانے کے خدشات :۔ مصر پہنچ جانے کے بعد جن دونوں بھائی فرعون کے ہاں جانے کو تیار ہوئے اور فرعون جابر اور خود سر بادشاہ کے پاس جاکر اسے دعوت دینے کا خیال کیا تو اپنے پروردگار سے عرض کیا کہ ہم تعمیل ارشاد کو حاضر ہیں مگر اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سننے پر آمادہ بھی ہوگا یا نہیں یا بات سن لینے پر غصہ سے بھڑک نہ اٹھے گا یا ہم پر بھی دست درازی کرے یا آپ کی شان میں مزید گستاخانہ باتیں کہنے لگے۔ جس سے اصل مقصد ہی فوت ہوجائے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کیونکہ میں بھی تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن اور دیکھ رہا ہوں۔ وہ تمہارا…
Read the full tafseer →45۔ (کہ اول الذکر صورت میں ہماری تبلغ دھری کی دھری رہ جائے، وہ ہمیں اس کا موقع ہی نہ دے، اور آخری صورت میں کہیں اس کا جرم اور بڑھ نہ جائے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–54
آیت نمبر 43 تا 54
ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…
Read the full tafseer →قالا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) نے کہا اے ہمارے رب ہم کو
اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کر بیٹھے یا یہ کہ زیادہ شرارت نہ کرنے لگے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اَنْ یَفْرُطَ عَلَیْنَاکا یہ مطلب ہے کہ تکمیل دعوت اور اظہار معجزات سے پہلے ہی کہیں وہ ہم کو قتل کرنے اور عذاب دینے کا حکم نہ دے بیٹھے۔
عربی محاورہ میں فَرَطَ عَلَیْہِکا معنی ہوتا ہے دکھ پہنچانے میں عجلت کی۔ اصل میں فَرَطَکا معنی ہے آگے بڑھ گیا فارِطٌآگے بڑھنے والا۔
اَوَْ ان یَّطْغٰیکا یہ مطلب ہے کہ کہیں وہ اور زیادہ سرکش نہ ہوجائے ‘ تیری شان میں مزید گستاخی کرنے لگے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(45۔ 46) دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں وہ اس سے پہلے ہم پر ہمیں مارنے کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھے یا یہ کہ ہمیں قتل ہی کر ڈالے اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کے مارنے اور قتل کے ساتھ زیادتی نہ کربیٹھے یا یہ کہ ہمیں قتل ہی کرڈالے اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کے مارنے اور قتل کرنے کا خوف مت کرو میں تمہارا مددگار ہوں جو تمہیں کو وہ جواب دے گا اس کو میں سنتا ہوں اور جو وہ تمہارے ساتھ کا رو وائی کرے گا اسے دیکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →قَالَا رَبَّنَآ اِنَّنَا نَخَافُ۔۔ : موسیٰ ؑ نے مصر پہنچ کر ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور دونوں بھائیوں نے اپنی بےسرو سامانی اور فرعون کی سرکشی، حاکمانہ تسلط اور ظلم و ستم پر غور کیا تو انسانی فطرت کے مطابق ڈرے اور اپنے رب سے اس کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہم تو ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرتے ہوئے ہمیں قید یا قتل نہ کر دے، یا کوئی اور خوف نا ک سزا نہ دے، یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے اور وہ کفر اور گمراہی میں مزید بڑھ جائے، یا تیری ذات وصفات کے بارے میں کوئی نامناسب بات کہہ گزرے، جس سے ہمیں ہر تکلیف سے زیادہ تکلیف پہنچے۔
Read the full tafseer →(تفسیر 45) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ضحاک نے کہا : یفرط کا معنی تجاوز کرنا ہے۔ نحاس نے کہا : یفرط علینا منہ امر ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی طرف سے ہم پر تجاوز ہوگا۔ فراء نے کہا : اس کی طرف سے امر جلدی ہوگا۔ فراء نے کہا : افراط کا معنی اسرع (جلدی کرنا) ہے اور فرمایا : فرط کا معنی چھوڑ دینا ہے اور جمہور کی قرأت یفرط یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ اس کا معنی ہے ہمیں سزا دینے میں وہ جلدی کرے گا۔ کہا جاتا ہے : فرط منی امر جلدی ہوا۔ اسی سے الفارط فی الماء ہے وہ شخص جو پانی تک لوگوں سے پہلے پہنچ جاتا ہے یعنی وہ ہمیں گناہ میں سبقت لے جانے والے کے عذاب کی طرح عذاب دے گا ؛ یہ مبرد کا قول ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–47
1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “
رسول اللہ ﷺ کی دعاء :
2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…
Read the full tafseer →[قَالَا : دونوں نے کہا ] [رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [اننَا نَخَافُ : بیشک ہم ڈرتے ہیں ] [ان : کہ ] [يَّفْرُطَ : وہ زیادتی کرے ] [عَلَيْنَآ : ہم پر ] [اَوْ ان : یا یہ کہ ] [يَّــطْغٰي : وہ سرکشی کرے (پیغام سے)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔
اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
26:۔ فرعون کے پاس جا کر اسے نرمی سے وعظ کرنا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کرے یا اس کے دل میں خوف خدا آجائے۔ تذکر اور خشیۃ میں فرق یہ ہے کہ تذکر سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہاری تبلیغ سے اس قدر متاثر ہو کہ انکار توحید سے باز آجائے اور ساتھ ہی مسئلہ توحید کو مان بھی لے اور خشیۃ سے مراد یہ ہے کہ یا کم از کم توحید کے انکار ہی سے باز آجائے ” لَعَلَّهٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی “ فلیرجع من انکارہ الی الاقرار و ان ینتقل من الانکار الی الاقرار لکنہ یحصل فی قلبہ الخوف فیترک الانکار وان کان لا ینتقل الی الاقرار الخ (کبیر ج 6 ص 55) ۔ اور حضرت شیخ فرماتے ہیں تذکر سے مراد یہ ہے کہ معجزہ دیکھے بغیر ہی مان لے اور تخشی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
1
Read the full tafseer →قَالَا رَبَّنَآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ يَّفْرُطَ عَلَيْنَآ اَوْ اَنْ يَّطْغٰي 45
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
تفسیر : باہمی گفتگو کے بعد فرعون نے جبکہ دربار میں موسیٰ کے معجزے دیکھے یہ کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے۔ جادو کے زور سے لوگوں کو یہاں سے باہر لے جانا چاہتا ہے۔ سو ہم بھی اس کے مقابلہ میں ایسا ہی سحر لا ویں گے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کی ٹھہری اور وقت مقرر کرایا۔ موسیٰ نے کہا یوم الزینۃ جشن کا دن۔ مصریوں کے ہاں سال بھر کے بعد ایک بڑا جشن ہوتا تھا جس طرح ہندوئوں کے میلے ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کے لیے یہ اس لیے کہ اسی روز مجمع عام ہوگا سب لوگوں کو امر حق معلوم ہوجائے گا۔ فرعون نے جابجا بڑے بڑے جادوگروں کے پاس آدمی بھیجے اور ان کو انعام کا وعدہ دیا اس عہد میں طلسم ونیر نجات کا ازحد چرچا تھا…
Read the full tafseer →قَالاَ رَبَّنَـآ اِنَّـنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَـآ اَوْ اَنْ یَّطْغٰی۔ (طٰـہٰ : 45)
(دونوں نے عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرے یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے۔ )
” فَرَطَ “ کا صلہ جب علیٰ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی کے خلاف عاجلانہ اقدام کے ہوتے ہیں۔
دونوں بھائیوں کی طرف سے اندیشے کا اظہار
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے گزارش کی کہ الٰہی ! ہمیں فرعون کے پاس جانے میں تو کوئی تأمل نہیں لیکن ہمیں اندیشہ اس بات کا ہے کہ وہ بہت زودرنج اور مشتعل آدمی ہے۔ بات شروع ہوتے ہی بھڑک اٹھے اور کوئی بات سنے بغیر ہم پر چڑھ دوڑے اور یا پھر جتنا وہ پہلے سرکش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ عظیم معجزات پانے کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنے سے پہلے بتلا دیا گیا تھا کہ فرعون بغاوت اور نافرمانی میں تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے ہاں پرورش پائی تھی وہ اسے بہت قریب سے جانتے تھے کہ فرعون بڑا ہی ظالم اور سفاک انسان ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر کو اس لیے چھوڑا تھا کہ وہاں ان کے ہاتھوں حکمران پارٹی کا سھوًا ایک آدمی قتل ہوگیا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر حضرت موسیٰ اور ہارون نے اپنے…
Read the full tafseer →45: قَالَا رَبَّنَـآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَا (موسیٰ و ہارون نے کہا اے میرے رب ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ کہیں ہم پر زیادتی نہ کر بیٹھے) سزا میں جلد بازی کرے یفرطؔ سے الفارط ہے کہا جاتا ہے فرط علیہ۔ ای عجل جلدی کی اَوْ اَنْ یَّطْغٰی (یا وہ سرکشی نہ کرنے لگے) ہمارے ساتھ بدسلوکی میں حد سے تجاوز نہ کرے۔
Read the full tafseer →45۔ قالا، ، حضرت موسیٰ و ہارون دونوں کہنے لگے، ربنااننا نخاف ان یفرط علینا، ابن عباس کا قول ہے کہ کہ ، ان یفرط علینا کا مطلب یہ ہے کہ تکمیل دعوت اور اظہار معجزات سے پہلے ہی کہیں وہ ہم کو قتل کرنے اور عذاب دینے کا حکم نہ دے بیٹھے۔ عربی محاورے میں فرط علیہ کا معنی ہوتا ہے دکھ پہنچانے میں جلدی کرنا۔ اصل میں یہ فرط کا معنی ہے ، آگے بڑھ گیا، فارط آگے بڑھنے والا۔ اور ان یطغی، اس کا مطلب یہ کہیں کہ وہ اور زیادہ سرکش نہ ہوجائے تیری شان میں مزید گستاخی کرنے لگ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
45۔ 47:۔ فرعون بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک فرعونی مارا گیا تھا اس کا بھی خوف تھا کہ فرعون جب دیکھے گا ضرور بدلہ لے گا اس سبب سے حضرت موسیٰ اور ہارون نے مل کر خدا سے التجا کی کہ یا اللہ فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرنے پائے اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین فرمائی کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسکین ہے کہ انبیاء کے ساتھ اللہ ہے باوجود اختیارات بادشہاہی کے فرعون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر کچھ زیادتی نہ کرسکا تو اے نبی اللہ کے ! اہل مکہ تم پر کیا زیادتی کرسکتے ہیں اللہ کا وعدہ سچا ہے مکہ میں باوجودیکہ سب قوم آنحضرت کے مخالف تھی مگر کسی سے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
آیت 41
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو دین، وحی، راسلت اور قبولیت دعا سے نوازا۔۔۔ اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چناچہ فرمایا : (ولقد مننا علیک مرۃ اخری) ” اور ہم نے تجھ پر احاسن کیا دوسری مرتبہ “ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انہیں حضرت موسیٰ کے بارے میں سخت خوف لاحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →39 حضرت موسیٰ و ہارون کو فرعون سے زیادتی کا اندیشہ : سو ان دونوں نے عرض کیا " مالک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ کہیں ہم پر زیادتی نہ کر دے "۔ کہ دعوت و تبلیغ کی تکمیل اور معجزہ کے اظہار سے پہلے ہی وہ بدبخت ہم پر ٹوٹ پڑے اور ہمیں اپنی بات پوری کرنے اور اپنے معجزے کے اظہار کا موقع ہی نہ دے۔ اور کہیں وہ اس سے پہلے ہی ہمارا کام تمام نہ کر دے کہ وہ بہرحال ایک جابر اور ظالم حکمران ہے۔ اور ظلم و جبر کیلئے اس کے پاس تمام آلات و اسباب اور ذرائع و وسائل بھی بھرپور طور پر موجود ہیں۔ سو اس سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اب یہاں دیکھیے ایک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں
تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی انہیں آزاد کر دے تاکہ وہ تیرے ملک کو چھوڑ کر جہاں ا ہیں چلے جائیں۔
Read the full tafseer →(20:45) یفرط علینا۔ ہم پر زیادتی کرے۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب فرطمصدر (باب نصر) افراط حد سے بہت زیادہ بڑھ جانا۔ زیادتی (کمی کی ضد) ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وکان امرہ فرطا۔ (18:28) اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا۔ اس کی ضد تفریط ہے۔ یعنی تقدم میں کوتاہی کرنا۔ کمی ۔ قرآن مجید میں ہے ما فرطنا فی الکتب (6:38) ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے ) میں کوتاہی نہیں کی۔ نخاف ان یفرط علینا۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا۔
او ان یطغی۔ یا زیادہ سرکشی کرنے لگے۔ زیادہ سرکش ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–46
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46
یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔
تشریح : آیت نمبر 25 تا 46
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فرعون بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک فرعونی مارا گیا تھا۔ اس کا خوف بھی تھا کہ فرعون دیکھے گا تو بدلہ ضرور لے گا۔ اس سبب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مل کر خدا سے دعا کی کہ ” یا اللہ ! فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرنے پائے “۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین فرمائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، ہر وقت تمہاری اور فرعون کی باتیں سنتا رہوں گا، اور جو معاملہ وہ تمہارے ساتھ کرے گا، اسے دیکھتا بھی رہوں گا۔ پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور جا کر کہو :” ہم تیرے پروردگار کی طرف سے پیغمبر ہیں۔ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو کر دے، اور ان کو تکلیف نہ دے۔ اور ہم اپنے دعویٰ کے ثبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
شیریں گفتار ہونا مبلغ کیلئے ضروری ہے :
(ف 1) فرعون کے پاس بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جو نصیحتیں ارشاد فرمائی ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ وہ آج کل کے علماء کو آب زر سے لکھ لینا چاہئے ارشاد ہوتا ہے ، کہ دیکھنا میری یاد سے غافل نہ ہوجانا ، اور ہر وقت عبودیت اور نیاز مندی کے تعلقات کو قائم رکھنا کیونکہ یہی چیز ہے جس سے دلوں میں پاکیزگی موجود رہتی ہے اور انسان دنیا کی تمام لذتوں کو آخرت کے مقابلہ میں حقیر سمجھتا ہے ، ذکر وشغل کی برکات سے روح میں نزہت وتواناہی پیدا ہوتی ہے اور دل و دماغ مجلے اور روشن ہوجاتے ہیں یہی وہ اکسیر ہے جس کے باعث چہروں پر نور اور قلب میں سرور موجزن ہوتا ہے ،…
Read the full tafseer →-45 اس حکم کے بعد دونوں بھائیوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہم اس بات سے ڈرتے ہیں اور ہم کو اس امر کا اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر کوئی زیادتی نہ کر بیٹھے یا وہ اور زیادہ سرکشی نہ کرنے لگے۔ یعنی تبلیغ سے پہلے ہی کوئی زیادتی کرے یا دوران تبلیغ میں کافرانہ حرکات کا مرتکب ہو اور ان حرکات میں حد سے تجاوز کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔
Read the full tafseer →دونوں نے بیک وقت یہی کہا کہ ہم ڈرتے ہیں کہ وہ زیادتی کرے گا :
45۔ وہی بات جو پہلے اکیلے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہی تھی اب ایک اور ایک گیارہ ہونے کے بعد بھی وہی کہی کہ ” اے پروردگار ! ہم کو اندیشہ ہے کہ فرعون ہماری مخالفت میں جلدی نہ کرے یا سرکشی پر نہ اتر آئے ؟ “ مطلب یہ ہے کہ وہ معاملہ پر غور کرنے پہلے ہی ہم پر ہاتھ ڈال دے یا یہ کہ ہماری بات سنتے ہی برہم ہر کو ظلم وستم پر اتر آئے اور ہماری قوم کو مزید مشکلات کا سامنا ہو اور ہماری قومی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوجائے ، اس میں تفہیم کی بات صرف یہ ہے کہ بات کرنے کا ایک انداز شک کی بنا پر ہوتا ہے اور ایک مآل اور نتہجو معلوم کرنے کے لئے ، یہاں…
Read the full tafseer →Commentary
Why was Sayyidna Musa (علیہ السلام) afraid?
The words إِنَّنَا نَخَافُ (We are afraid) signifies that here Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Sayyidna Harun (علیہ السلام) expressed twofold fear before Allah. The first fear is pointed out by the word أَن يَفْرُطَ which means to cross all boundaries. So the meaning of the sentence is 'perhaps the Pharaoh would attack even before listening to us'. The other fear is mentioned with the words أَن يَطْغَىٰ - which means that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was apprehensive that the Pharaoh might, after listening to his demands, become so…
Read the full tafseer →18a. It appears that they implored Allah thus before going before Pharaoh when Prophet Moses (peace be upon him) had reached Egypt and Aaron had joined him in the propagation of the mission.
Read the full tafseer →