Taa-Haa 20:24

Taa-Haa · from ayah 24

20:24

اِذْهَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰی ۟۠اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى

تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juzع

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:24

اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اب) فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ سرکشی میں حد سے نکل گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم فرعون کے پاس جاؤ وہ (نافرمانی و سرکشی میں) حد سے بڑھ گیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرعون کی طرف جا، بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اب تم فرعون کے پاس جاؤ (کیونکہ) وہ سرکش ہوگیا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم فرعون کے پاس جائو۔ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جاؤ فرعون کے پاس کہ بیشک وہ حد سے بڑھ گیا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

(اب) تم فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب تم جاؤ فرعون کی طرف وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And go to Pharaoh now for he has transgressed all bounds."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Go to Pharaoh. He has really exceeded all bounds.

— Muhammad Taqi Usmani

Go to Pharaoh. He has really exceeded all bounds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Go to Fir`awn! Verily, he has transgressed."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Go thou unto Pharaoh! Lo! he hath transgressed (the bounds).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed."

— Saheeh International

Go to the Pharaoh; he has become a rebel."

— Muhammad Sarwar

Go to Firon, surely he has exceeded all limits.

— Muhammad Habib Shakir

Go thou unto Fir'awn; verily he hath waxen exorbitant.

— Abdul Majid Daryabadi

"Go thou to Pharaoh, for he has indeed transgressed all bounds."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–35

معجزات کی نوعیت۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لئے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کرلیں۔ فرعون کے سامنے کلمہ حق۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب ؒ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–25

سورة طٰهٰ 14 یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی، اس لیے آپ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر، وہ ثبات، وہ تحمل، وہ بےخوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ ، اپنے رسول کو دو عظیم الشان معجزوں سے مسلح کرنے کے بعد ان کو حکم دیا گیا کہ فرعون سرکش کو دعوت ایمان دینے کے لئے چلے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اذھب الی فرعون انہ طغی 24 فرعون کا طغیان یہ وہ پہلی مہم ہے جس پر حضرت موسیٰ مامور فرمائے گئے۔ حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جائو وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ فرعون کی سرکشی کی تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ وہ اپنے زعم میں خودب رب اعلیٰ تھا اور مصریوں کے سب سے بڑے دیوتا، سورج کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے اسٹیچو اور بت سارے مصر میں پوجے جاتے تھے۔ خدا کے بندوں ج کے ساتھ اس کا جو معاملہ تھا اس کا اندازہ کرنے کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ اس نے اپنی ساری مملکت میں یہ حکم جاری کر رکھا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جتنے بیٹے پیدا ہوں وہ قتل کردیئے جائیں یا دریا میں پھینک دیئے جائیں صرف لڑکیاں لونڈیوں کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 23–24

24۔ 1 فرعون کا ذکر اس لئے کیا کہ اس نے حضرت موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کے ظلم روا رکھتا تھا۔ علاوہ ازیں اس کی سرکشی و طغیانی بھی بہت بڑھ گئی تھی حتٰی کہ وہ دعویٰ کرنے لگا تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79۔ النازعات :24) ' میں تمہارا بلند تر رب ہوں '

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–26

9: یعنی جب ہاتھ کو بغل سے نکالو گے تو سفیدی سے چمک رہا ہوگا، اور یہ سفید برص وغیرہ کی کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوگی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

لنریک من ایتنا۔۔۔۔ انہ طغی (32۔ 42) ” اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ اب تو فرعون کے پاس جا ‘ وہ سرکش ہوگیا ہے “۔ یہ نشانیاں اور معجزات جس کا حسن اظہار ہو رہا ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) پہلے آپ کو دکھائی جارہی ہیں تاکہ تم مطمئن ہو کر اور ان سے مسلح ہو کر فرعون کے پاس جائو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ وہ اس عظیم مہم اور اس عظیم منصب کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ فرعون کون ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی اس کے گھر میں تھے ‘ اس کی سرکشی اور سخت داروگیر سے وہ وقف تھے۔ وہ بنی اسرائیل پر جو مظالم ڈھا رہا تھا اس سے بھی واقف تھے ‘ وہ اس وقت چونکہ بارگاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 24–25

3 یعنی حلیم و بردبار اور حوصلہ مند بنا دے کہ خلاف طبع دیکھ کر جلد خفا نہ ہوں اور ادائے رسالت میں جو سختیاں پیش آئیں ان سے نہ گھبراؤں بلکہ کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کروں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی ” فرعون کی سر کشی اب حد سے تجاوز کر رہی ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام جائیں اور اسے بھلائی اور دین حق کی دعوت دیں۔ اسے یہ بھی کہیں کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم نہ کرے اور انہیں واپس اپنے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–33

19 موسیٰ (علیہ السلام) پہلے مدین سے مصر کو جارہے تھے۔ راستہ میں یہ واقع پیش آگیا۔ آپ کو نبوت عطا کی گئی اور معجزات عطا کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب جاؤ اور جاکر مصر کے بادشاہ فرعون سے جاکر ٹکر لو۔ وہ اللہ کا نافرمان اور خدائی کا دعوے دار بنا بیٹھا ہے اس کو راہ راست کی دعوت دو ۔ اور فرعون جیسے جابر اور قاہر بادشاہ سے مقابلہ کے لئے آپ کو جو سروسامان عطا کیا گیا وہ صرف یہ دو معجزات تھے۔ اسی بات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انبیاء و رسل پر جو ذمہ داری ڈالی جاتی ہے وہ کس قدر گرانبار ہوتی ہے۔ اس حکم کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال سے کیا سلوک ؟ اس بارے میں کتاب و سنت خاموش ہیں۔ اغلاب خیال یہی ہے کہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ فرعون یعنی بادشاہ مصر۔ اس پر توریت اور ساری تاریخوں کا اتفاق ہے کہ جو فرعون حضرت موسیٰ کا معاصر تھا، وہ متکبر، جابر وفاسق تھا، اور خدا کا اوتار تو بہرحال ہر فرعون مصر سمجھا ہی جاتا تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–24

آیت نمبر 15 تا 24 ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت حد سے نکل گیا ہے۔ یعنی یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو اللہ کی عبادت کی دعوت دو وہ نافرمانی اور سرکشی میں حد سے آگے بڑھ چکا ہے ‘ یہاں تک کہ الوہیت کا مدعی بن بیٹھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) تاکہ ہم تمہیں اپنی قدرت کی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھائیں اب یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت بڑائی تکبر اور کفر اختیار کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ۔۔ : نبوت اور معجزات عطا کرنے کے بعد حکم ہوا کہ یہ معجزات لے کر فرعون کے پاس جاؤ جو تکبر اور سرکشی میں ہر حد سے تجاوز کر گیا ہے، حتیٰ کہ بندہ ہو کر رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کر بیٹھا ہے۔ اس حکم کی مزید تفصیل آگے آیات (42 تا 48) میں آرہی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–32

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھب الیٰ فرعون انہ طغی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید سے مانوس کردیا اور اسے معجزات دکھا دئیے جو ان کے رسول ہونے پر دلیل تھے تو انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا کہ اسے دعوت دیں۔ طغیٰ کا معنی ہے اس نے نافرمانی کی، تکبر کیا، کفر کیا، جبر کیا اور حد سے بڑھا۔ قال رب اشرح لی صدری۔ ویسرلی امری۔ واحلل عقدۃ من لسانی۔ یفھوا قولی۔ واجعل لی وزیر من اھلی۔ ھرون اخی۔ رسالت کی تبلیغ کے لیے اعانت طلب کی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتا دیا تھا کہ اس نے فرعون کے دل پر مہر لگا دی ہے وہ ایمان نہیں لائے گا تو حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–24

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔ قیامت کی گھڑی مخفی ہے : 2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذْهَبْ : (اب) آپ (علیہ السلام) جائیں ] [اِلٰى فِرْعَوْنَ : فرعون کی طرف ] [انهٗ : بیشک اس نے ] [طَغٰي : سرکشی کی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–24

(قَالَ اَلْقِھَا یٰمُوْسٰی) (باری تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوا کہ اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو ) فالقاھا (سو اسے انہوں نے ڈال دیا) (فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی) (سوا چانک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گئی) سورة نمل میں ہے کہ جب انہوں نے اسے سانپ کی شکل میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا (خُذْھَا وَلَاتَخَفْ ) (اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں) سورة نمل میں یہ الفاظ بھی ہیں (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (کہ میرے سامنے پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ (چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر ہاتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” طَغٰی الخ “ طغیان سے ہے جس کے معنی انتہائی سرکشی کے ہیں۔ فرعون کی سرکشی کی انتہا یہ تھی کہ اس نے خود خدائی کا دعوی کر رکھا تھا چناچہ ” اَنَا رَ بُّکُمُ الْاَعْلٰی “ اور ” مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِيْ “ اس کا اعلان تھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–24

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْہَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰي۝ 24ۧ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰے۔ (طٰـہٰ : 24) (تم فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ادا رسالت کے لیے پہلا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی گئی اور پھر انھیں سندماموریت کے طور پر اور ظالم حکمران کے دفاع کے لیے معجزات عطا فرمانے کے بعد جو پہلا حکم دیا گیا وہ یہ تھا کہ تم فر عون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ اس کی سرکشی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بھی تھی اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی سرکشی کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ کہلاتا تھا۔ وہ مصریوں کے سب سے بڑے دیوتا سورج کا اپنے آپ کو اوتار کہتا تھا اور مصریوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو اژدھا کا معجزہ دکھلانے کے بعد دوسرا معجزہ عطا کیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب پوری طرح اطمینان ہوا کہ یہ وہی لاٹھی ہے جو میرے ہاتھ میں تھی جس سے میں مذکورہ بالا کام لیا کرتا ہوں تو اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھیں جب اسے بغل سے نکالیں گے تو وہ کسی تکلیف اور نقص کے بغیر تیرے سامنے چمک رہا ہوگا۔ اس طرح موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو عظیم معجزے عنایت کیے گئے جن کے بعد موسیٰ کو حکم ہوا کہ اب فرعون کی طرف جائیں کیونکہ وہ بڑا ہی باغی اور نافرمان شخص ہے۔ اسی سورة کی چند آیات کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24: اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی (تو فرعون کے پاس جا بیشک وہ سرکش ہوگیا) عبودیت کی حد سے تجاوز کر کے ربوبیت کے دعویٰ کی طرف بڑھ گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 24۔ اذھب الی فرعون انہ طغی، ، وہ نافرمانی میں حد سے تجاوز کرچکا ہے اس کو میری عبادت کی طرف دعوت دو ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–24

25 حضرت موسیٰ کے لیے ید بیضا کا معجزہ : سو حضرت موسیٰ کو ارشاد ہوا کہ " اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دے دو ۔ وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی عیب (اور بیماری) کے "۔ جیسا کہ برص کی بیماری وغیرہ سے ہوجاتا ہے ۔ اللہ ہر بیماری سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ سو حضرت موسیٰ کو بتایا اور اطمینان دلایا گیا کہ آپ اس طرح کے معجزے سے خوف نہیں کھانا کہ یہ نہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوگا اور نہ ہی یہ کوئی عیب ہوگا بلکہ معجزہ ہوگا۔ جس سے آپ کو بطور خاص نوازا جائے گا۔ سو حضرت موسیٰ کے دو خاص معجزے تھے۔ یعنی عصا اور ید بیضا۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–24

ف 6 یعنی بڑی شرارت اور سرکشی پر کمر باندھ لی ہے حتی کہ خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:24) طغی۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ حد سے نکل گیا۔ اس نے سرکشی کی۔ اس نے سر اٹھایا۔ طغی یطغی (فتح) اور طغی یطغی (سمع) طغیان مصدر۔ طغی الرجل ظلم و نافرمانی میں حد سے گذر گیا۔ طغی الماء پانی کا بلند ہوجانا۔ انہ طغی وہ بیحد سرکش ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–24

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24 یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 24 گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–34

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-24 توحید اور نبوت کی تعلیم دینے کے بعد تبلیغ کے لئے ارشاد ہوا اے موسیٰ تو فرعون کی طرف جا کیونکہ وہ عبودیت کی حد سے آگے بڑھ گیا ہے۔ یعنی بجائے بندگی کا اظہار کرنے کے خود خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ہے ۔ لہٰذا یہ نشانیاں لے کر اس کے پاس جا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–35

ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے موسیٰ ! تو فرعون کی طرف جا ‘ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے : 24۔ فرمایا اے موسیٰ یہ جو نشانات آپ کو دیئے گئے ہیں اور ان کا مشاہدہ آپ کو کروایا گیا ہے اور انجام بھی سمجھا دیا گیا ہے اب بےفکر ہو کر جاؤ فرعون اور اس کی قوم کو راہ ہدایت دکھاؤ انہوں نے بہت سرکشی اختیار کر رکھی ہے اور اپنے غرور وتکبر اور انتہاء ظلم کے ساتھ انہوں نے تیری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے سو اپنی قوم کو غلامی سے رستگاری دلاؤ اس جگہ تو ذکر نہیں دوسری جگہ یہ ذکر بھی موجود ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ رسول بنائے جانے کی اپیل کی جو منظور ہوئی اور دونوں کو ملا کر فرعون کی طرف روانہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ (Go to the Pharaoh - 20:24). Having suitably armed him with two great miracles, Allah Ta` ala commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) to proceed to Egypt and invite the Pharaoh to accept the true faith because he had exceeded all bounds in his tyranny and misdeeds.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

14. That is, fill my heart with the courage that may enable me to perform the obligations connected with the great mission of a Messenger, and give me the confidence for its fulfillment. Prophet Moses (peace be upon him) prayed for this because he realized the grave responsibilities of the great mission.

Read the full tafseer →