Taa-Haa 20:25

Taa-Haa · from ayah 25

20:25

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۟ۙقَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِىۡ صَدۡرِىْ

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "My Lord, expand for me my breast [with assurance]

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:25

موسیٰؑ نے عرض کیا " پروردگار، میرا سینہ کھول دے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : پروردگار ! میری خاطر میرا سینہ کھول دیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے میرا سینہ کشادہ فرما دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے رب ! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے عرض کیا ! پروردگار ! میرا سینہ کھول دے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لئے کھول دے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر موسیٰ نے عرض کیا اے میرے پروردگار، میرا سینہ کھول دے،

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) کہا اے میرے پروردگار میرا حوصلہ اور فراخ کردے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے میرے سینے کو کھول دے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا میرے رب ! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said: "Lord! Open my breast for me;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My Lord, put my heart at peace for me,

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My Lord, put my heart at peace for me,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O my Lord! Open for me my chest."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Moses) said: My Lord! relieve my mind

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "My Lord, expand for me my breast [with assurance]

— Saheeh International

Moses said, "Lord, grant me courage.

— Muhammad Sarwar

He said: O my Lord! Expand my breast for me,

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord! expand for me my breast.

— Abdul Majid Daryabadi

(Moses) said: "O my Lord! expand me my breast;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–35

معجزات کی نوعیت۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لئے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کرلیں۔ فرعون کے سامنے کلمہ حق۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب ؒ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–25

سورة طٰهٰ 14 یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی، اس لیے آپ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر، وہ ثبات، وہ تحمل، وہ بےخوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلا صہ تفسیر (جب موسیٰ ؑ کو معلوم ہوا کہ مجھ کو پیغمبر بنا کر فرعون کی فہمائش کے لئے بھیجا جا رہا ہے تو اس وقت اس منصب عظیم کے مشکلات کی آسانی کے لئے درخواست کی اور) عرض کیا کہ اے میرے رب میرا حوصلہ (اور زیادہ) فراخ کر دیجئے (کہ تبلیغ میں انقباض یا تکذیب و مخالفت میں ضیق نہ ہو) اور میرا (یہ) کام (تبلیغ کا) آسان فرما دیجئے (کہ اسباب تبلیغ کے مجتمع اور موانع تبلیغ کے مرتفع ہوجاویں) اور میری زبان پر سے بستگی (لکنت کی) ہٹا دیجئے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، اور میرے واسطے میرے کنبے میں سے ایک معاون مقرر کر دیجئے یعنی ہارون کو جو میرئے بھائی ہیں ان کے ذریعہ سے میری قوت کو مستحکم کر دیجئے اور ان کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 25–36

آیت 25-26 نبی اور دنیا پرست لیڈروں میں فرق حضرت موسیٰ کے علم میں جو نیہ یہ بات آئی کہ ان پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گی ہیں اور اب انہیں فرعون کے پاس خدا کے رسول کی حیثیت سے انذار و تبلیغ کے لئے جانا ہے تو انہوں نے فوراً یہ دعا کی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس بوجھ کو کتنا بھاری محسوس کیا ہے اور کس دل سوزی کے ساتھ اس بارگراں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے مدد و رہنمائی کے لئے التجا کی ہے۔ دنیا پرست لیڈروں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ لیڈری ہی کی ہوس میں جیتے اور اسی کے عشق میں مرتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا سینہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–32

32۔ 1 کہتے ہیں کہ موسیٰ ؑ جب فرعون کے شاہی محل میں زیر پرورش تھے تو کھجور یا موتی کی بجائے آگ کا انگارا منہ میں ڈال لیا تھا جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس میں لکنت پیدا ہوگئی (ابن کثیر) جب اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ فرعون کے پاس جا کر میرا پیغام پہنچاؤ تو حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں دو باتیں آئیں ایک تو یہ کہ وہ بڑا جابر اور متکبر بادشاہ ہے بلکہ رب ہونے تک کا دعویدار ہے دوسرا یہ کہ موسیٰ ؑ کے ہاتھوں اس کی قوم کا ایک آدمی مارا گیا تھا اور جس کی وجہ سے موسیٰ کو اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکلنا پڑا تھا یعنی ایک فرعون کی عظمت وجباریت کا خوف اور دوسرا اپنے ہاتھوں ہونے والے واقعہ کا اندیشہ اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–26

9: یعنی جب ہاتھ کو بغل سے نکالو گے تو سفیدی سے چمک رہا ہوگا، اور یہ سفید برص وغیرہ کی کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوگی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–29

قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ” اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 24–25

3 یعنی حلیم و بردبار اور حوصلہ مند بنا دے کہ خلاف طبع دیکھ کر جلد خفا نہ ہوں اور ادائے رسالت میں جو سختیاں پیش آئیں ان سے نہ گھبراؤں بلکہ کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کروں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 25–27

آیت 25 قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ” یہ بہت اہم دعا ہے اور یہ ہر اس شخص کو یاد ہونی چاہیے جو دین کی دعوت کا مشن لے کر نکلا ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! تو نے جو عظیم الشان مشن میرے حوالے کیا ہے اس کے لیے اپنی خصوصی مدد میرے شامل حال کر دے اور اس کام کے لیے میرے سینے کو کھول دے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–33

19 موسیٰ (علیہ السلام) پہلے مدین سے مصر کو جارہے تھے۔ راستہ میں یہ واقع پیش آگیا۔ آپ کو نبوت عطا کی گئی اور معجزات عطا کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب جاؤ اور جاکر مصر کے بادشاہ فرعون سے جاکر ٹکر لو۔ وہ اللہ کا نافرمان اور خدائی کا دعوے دار بنا بیٹھا ہے اس کو راہ راست کی دعوت دو ۔ اور فرعون جیسے جابر اور قاہر بادشاہ سے مقابلہ کے لئے آپ کو جو سروسامان عطا کیا گیا وہ صرف یہ دو معجزات تھے۔ اسی بات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انبیاء و رسل پر جو ذمہ داری ڈالی جاتی ہے وہ کس قدر گرانبار ہوتی ہے۔ اس حکم کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال سے کیا سلوک ؟ اس بارے میں کتاب و سنت خاموش ہیں۔ اغلاب خیال یہی ہے کہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ (کہ تبلیغ میں انقباض اور مخالفت وتکذیب سے دل تنگی نہ ہو اور میں سفارت خداوندی اور رسالت کے بار عظیم کا تحمل پوری طرح کرسکوں) (آیت) ” صدری “۔ صدر کے لفظی معنی سینہ کے ہیں لیکن راغب نے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں لفظ قلب یا صدر آیا ہے، وہاں مراد عضوجسمانی نہیں، بلکہ علم وعقل اور انسان کے سارے قوائے باطنی ہیں، اور اس آیت کی شرح میں لکھا ہے کہ مراد اس سے اپنے قوائے باطن کی اصلاح کی دعا کرنا ہے۔ ابن زید تابعی سے معنی جرأت وہمت کے منقول ہیں (ابن جریر) اور اور بھی سب نے یہاں صدر کے معنی مجاز ہی لیے ہیں۔ یعنی تحمل شدائد کا حوصلہ۔ اشرح الصدر بسطہ من رانی ومسکنۃ من جھۃ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–42

آیت نمبر 25 تا 42 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے (حوصلہ زیادہ کر دے یعنی میرے سینہ کو وسیع کر دے تاکہ (بار) رسالت کا متحمل ہوسکے، اور میرے لئے میرا یہ (تبلیغ) کا کام آسان فرما دے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے جو کہ اس چنگاری سے جلنے کی وجہ سے پڑگئی تھی کہ جس کو بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا تاکہ لوگ پیغام رسانی کے وقت میری بات سمجھ سکیں، اور میرا کوئی وزیر کار رسالت میں معاون میرے خاندان میں سے مقرر کر دیجئے ہارون مفعول ثانی ہے اور اَخِیْ ہارون سے عطف بیان ہے یعنی ہارون کو جو کہ میرے بھائی ہیں اس کے ذریعہ میری پیٹھ مضبوط کر دیجئے اور اس کو میرے معاملہ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب اشرح لی صدری۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرے سینہ کو میرے لئے کھول دے کہ اس کے اندر وہ معرفت وجدانیہ سما جائے جس کو کوئی عقل بطور نظر حاصل نہیں کرسکتی۔ تیری ذات کے علاوہ پھر مجھے کسی کے اندر نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نظر نہ آئے اور فرعون اور اس کی حکومت کا خوف میرے دل سے جاتا رہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تشریح میں بیان کیا موسیٰ ( علیہ السلام) یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں تیرے سوا پھر کسی سے نہ ڈروں۔ بات یہ تھی کہ فرعون اور اس کے لشکر و اقتدار کی وہ شان و شوکت تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی اس سے خوف محسوس ہوتا تھا (اس لئے آپ نے شرح صدر اور بےخوف ہوجانے کی دعا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–28

(25۔ 28) نبوت ملنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی کہ اے اللہ میرا حوصلہ بڑھائیے تاکہ میں اس سے تبلیغ میں نہ ڈروں اور فرعون کی طرف تبلیغ رسالت کا جو میرا کام ہے اس کو آسان فرما دیجیے اور میری زبان سے لکنت ہٹا دیجیے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ۔۔ : دوسری جگہ فرمایا : (وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ) [ الشعراء : 13 ] ”اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔“ یعنی اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے سے میرے دل میں جو تنگی محسوس ہوتی ہے وہ دور فرما دے اور اس منصب عظیم کا بوجھ اٹھانے کے لیے جس ہمت، پامردی اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے وہ میرے دل میں پیدا فرما دے اور میرا تبلیغ رسالت کا کام میرے لیے آسان فرما دے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–32

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھب الیٰ فرعون انہ طغی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید سے مانوس کردیا اور اسے معجزات دکھا دئیے جو ان کے رسول ہونے پر دلیل تھے تو انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا کہ اسے دعوت دیں۔ طغیٰ کا معنی ہے اس نے نافرمانی کی، تکبر کیا، کفر کیا، جبر کیا اور حد سے بڑھا۔ قال رب اشرح لی صدری۔ ویسرلی امری۔ واحلل عقدۃ من لسانی۔ یفھوا قولی۔ واجعل لی وزیر من اھلی۔ ھرون اخی۔ رسالت کی تبلیغ کے لیے اعانت طلب کی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتا دیا تھا کہ اس نے فرعون کے دل پر مہر لگا دی ہے وہ ایمان نہیں لائے گا تو حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–47

1:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ رسول اللہ ﷺ کی دعاء : 2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [اشْرَحْ : تو کشادہ کر دے ] [لِيْ : میرے لئے ] [صَدْرِيْ : میرے سینے کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–36

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شرح صدر اور طاقت لسان کے لیے دعا کرنا اور اپنے بھائی ہارون کو شریک کار بنانے کی درخواست کرنا اور دعا کا قبول ہونا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرما کر اور دو بڑی بڑی نشانیاں (عصا اور یدبیضاء) عطا فرما کر فرعون کے پاس جانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب جس کام کا حکم فرمایا ہے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیجئے اور میرے کام کو آسان فرمائیے۔ شرح صدر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا (اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) جب شرح صدر ہوتا ہے تبھی کام کرنے کی ہمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

16:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ انہیں بہت بڑے کام پر بھیجا جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ سے اسباب کی تسہیل اور اس کام کی تکمیل کے سلسلے میں پانچ درخواستیں کیں (1) ” رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِيْ “۔ شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ ان کے سینے کو نور سکینہ و طمانیت سے معمور کردیا جائے تاکہ وہ بتقاضائے بشریت اس کام سے بیدل نہ ہوں اور کبھی نہ اکتائیں۔ اور شدائد و مصائب کی وجہ سے ان کے دل میں اضطراب اور بےچینی پیدا نہ ہو۔ (2) ” وَ یَسِّرْ لِیْ اَمْريْ “ اور یہ تبلیغ رسالت کا کام میرے لیے آسان فرما دے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–36

ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے سفر کرتے ہوئے وادی مقدس طویٰ میں پہنچے تو وہاں پر آپ کے سامنے حجاب ناری یا حجاب نوری ظاہر ہوا ، اور اللہ نے آپ سے کلام کیا۔ پھر اللہ نے اپنی واحدنیت کا ذکر کرکے حکم دیا کہ اے موسیٰ خاص میری عبادت کرو ، نماز قائم کرو اور وقوع قیامت پر یقین رکھو۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ وقوع قیامت کے منکر یا اس میں شک وتردد کا شکار ہیں آپ ان سے علیحدگی اختیار کریں۔ فرمایا ، قیامت کے دن ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی لاٹھی کے متعلق سوال کیا اور پھر لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ ظاہر کیا۔ اللہ نے یدبیضا کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ۝ 25ۙ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–43

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–32

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِی۔ وَیَسِّرْلِیْٓ اَمْرِیْ ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ ۔ یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ ۔ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ۔ ہٰرُوْنَ اَخِیْ ۔ اشْدُدْبِہٖٓ اَزْرِیْ ۔ وَاَشْرِکْہُ فِیْٓ اَمْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 25 تا 32) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لیے کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کردے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔ اور میرے خاندان سے میر وزیر بنا دے۔ میرے بھائی ہارون کو۔ اس سے مضبوط کر میری کمر کو۔ اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک بنا۔ ) منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے دعا حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون کے پاس جانے سے پہلے اپنے رب کے حضور دو التجائیں۔ دعوت توحید کا کام ہر دور میں مشکل رہا ہے لیکن کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو یہ کام بالکل ہی غیر معمولی اور انتہائی مشکل حالات میں کرنا پڑا۔ جن میں چار انبیائے کرام (علیہ السلام) سرفہرست ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخرالزمان ﷺ نے جن حالات میں دعوت توحید کا کام کیا وہ تاریخ عالم میں مشکل ترین ادوار سمجھے جاتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال محنت فرمائی بالآخر دعا کی کہ الٰہی اب تو کفار کا ایک گھر بھی باقی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سرکش فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا اور ان سے انہوں نے سمجھ لیا کہ ان پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ جس کے لئے وسیع سینہ کی ضرورت ہے جس میں خوب قوت برداشت ہو۔ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ (کہا اے میرے رب تو میرے لئے میرے سینے کو کھول دے) اس کو وسیع کر دے تاکہ وحی دیگر مشقتوں کو برداشت کرے۔ اور فرعون اور اس کے لشکر کی بدسلو کی کو سہہ سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔ قال، ، حضرت موسیٰ نے فرمایا، رب اشرح لی صدری، ، حق کے لیے میرے سینے کو کشادہ کردے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں تیرے سوا کسی سے بھی نہ ڈروں۔ بات یہ تھی کہ فرعوں اور اس کے لشکر اور اقتدار کی وہ شان و شوکت تھی کہ حضرت موسیٰ کو بھی اس سے خوف محسوس ہوتا تھا۔ اس لیے آپ نے شرح صدر اور بے خوف ہوجانے کی دعا کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–26

27 حضرت موسیٰ کی دعا کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور ایک خاص دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا۔ سو اس موقعہ پر حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے شرح صدر کی دعاء و درخواست کی۔ تاکہ میں اس عظیم الشان بار امانت کے اٹھانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے قابل ہو سکوں۔ اور وقت کے سب سے بڑے کافر کے سامنے حق کو صحیح طور پر اور پوری صراحت و وضاحت سے بیان کرنے کا حوصلہ پاسکوں۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کو جب منصب نبوت و رسالت سے سرفرازی کے بعد اس عظیم الشان مہم پر جانے کا حکم وارشاد فرمایا گیا اور آپ پر فریضہ رسالت کی ادائیگی کی یہ بھاری ذمہ داری ڈالی گئی تو آپ نے فورا اپنے خالق ومالک کے حضور اپنی یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–48

سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی اس منصب عظیم کے بار کو اٹھانے کے لئے جس ہمت، صبر، پامردی اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے وہ میرے دل میں پیدا کر دے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:25) رب۔ ای ربی۔ اے میرے رب۔ اشرح۔ شرح مصدر سے (باب فتح) فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو کھول دے تو کشادہ کر دے۔ شرحت اللحم وشرحتہ کے اصل معنی گوشت (وغیرہ کے لمبے لمبے ٹکڑے کاٹ کر) پھیلانے کے ہیں اسی سے شرح صدر ہے یعنی نور الٰہی اور سکون و اطمینان کی وجہ سے سینے میں وسعت پیدا ہوجانا۔ اور جگہ ارشاد ربانی ہے الم نشرح لک صدرک (94:1) (اے محمد ﷺ ) کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–46

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 46 یسر آسان کر دے۔ امری میرے کام۔ احلل کھول دے۔ عقدۃ گرہ۔ یفقھو وہ سمجھ لیں۔ اشدد مضبوط کر دے۔ ازری میری قوت۔ کی تاکہ۔ اوتیت تجھے دیدیا گیا۔ سول مانگا۔ سوال کیا گیا۔ مننا ہم نے احسان کیا۔ اقذ ڈالدے۔ الیم دریا سمندر۔ عدد دشمن۔ القیت میں نے ڈال دیا۔ لتصنع تاکہ پرورش پائے۔ یکفل نگرانی کرتا ہے، پرورش کرتا ہے۔ رجعنا ہم نے لوٹا دیا۔ کئی تقر تاکہ ٹھنڈی رہیں۔ قدر مقدار، مقرر، مدت اصطنعت میں نے بنایا۔ لینا آسان، سہل بات۔ یفرط وہ زیادتی کرے گا۔ اسمع میں سنتا ہوں۔ اری میں دیکھتا ہوں۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 46 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقدس وادی ” وادی طویٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–26

[4] یعنی میرا حوصلہ بڑھا دے تاکہ ادائے رسالت میں جو سختیاں پیش آئیں ان سے نہ گھبراؤں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–34

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-25 حضرت موسیٰ نے جب دیکھا کہ مجھ کو نبوت عطا کی گئی ہے اور فرعون کی طرف تبلیغ کی غرض سے بھیجا جا رہا ہے تو حضرت حق کی جناب میں عرض کیا۔ اے میرے پروردگار میرا سینہ کھول دے اور کشادہ کر دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–35

ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر طلب کیا : 25۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اب مجھ پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں اور اب مجھے صرف مصر میں جانا ہی نہیں بلکہ ایک رسول بن کر جانا ہے تو آپ نے بارگاہ رب العزت میں درخواست پیش کی اور آپ کی درخواست کا ایک ایک فقرہ بھی بتا رہا ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اس بار کو کس قدر مشکل سمجھ رہے ہیں اور اس کا اٹھانے کے لئے اس لئے تیار ہیں کہ یہ پروردگار کی طرف سے فیصلہ ہے اور اس کے فیصلہ سے انکار آخر ممکن ہی کیسے ہے ؟ بہرحال پہلے ہی فقرہ میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر طلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary When Sayyidna Musa (علیہ السلام) received the high honour of conversing with Allah Ta` ala and was granted the mission of prophethood, then, instead of relying on his own self and on his own ability, he turned to Allah Ta` ala and sought His help in the discharge of his duties without which it would be impossible for him to endure and persevere in the face of the trials and tribulations inherent in the performance of his mission. He, therefore, prayed to Allah Ta` ala to grant him five favours. The first prayer was اشْرَ‌حْ لِي صَدْرِ‌ي ! (Put my heart at peace for me - 20:25).…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

14. That is, fill my heart with the courage that may enable me to perform the obligations connected with the great mission of a Messenger, and give me the confidence for its fulfillment. Prophet Moses (peace be upon him) prayed for this because he realized the grave responsibilities of the great mission.

Read the full tafseer →