Taa-Haa 20:23

Taa-Haa · from ayah 23

20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰی ۟ۚلِنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡـكُبۡـرٰى‌ۚ‏

تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That We may show you [some] of Our greater signs.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:23

اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(یہ ہم اس لیے کر رہے ہیں) تاکہ اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ تمہیں دکھائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اس لئے (کر رہے ہیں) کہ ہم تمہیں اپنی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ ہم تجھے اپنی چند بڑی نشانیاں دکھائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اس لئے کہ ہم تمہیں اپنی اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھلانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض کا تمہیں مشاہدہ کرائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور یہ اس لئے کہ) تاکہ ہم دکھائیں تمہیں اپنی بڑی نشانیوں میں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ ہم تمہیں اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ دکھائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں تمہیں دکھائیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ ہم تمہیں اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

for We shall show you some of Our greatest Signs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that We may show you some of Our great signs.

— Muhammad Taqi Usmani

so that We may show you some of Our great signs.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"That We may show you (some) of Our greater signs."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That We may show thee (some) of Our greater portents,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That We may show you [some] of Our greater signs.

— Saheeh International

This We have done to show you some of Our greater miracles.

— Muhammad Sarwar

That We may show you of Our greater signs:

— Muhammad Habib Shakir

That We may shew thee of Our Signs the greatest.

— Abdul Majid Daryabadi

"In order that We may show thee (two) of our Greater Signs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–35

معجزات کی نوعیت۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لئے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کرلیں۔ فرعون کے سامنے کلمہ حق۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب ؒ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–25

سورة طٰهٰ 14 یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی، اس لیے آپ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر، وہ ثبات، وہ تحمل، وہ بےخوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–23

وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ، جناح، دراصل جانور کے بازو کو کہا جاتا ہے اس جگہ اپنے بازو کے یعنی بغل میں ہاتھ لگا لینے کا حکم ہوا ہے تاکہ یہ دوسرا معجزہ حضرت موسیٰ ؑ کو عطا کیا جاوے کہ جب بغل کے نیچے ہاتھ ڈال کر نکالیں تو آفتاب کی طرح چمکنے لگے حضرت ابن عباس سے تَخْرُجْ بَيْضَاۗءَ کی یہی تفسیر منقول ہے۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لنریک من ایتنا الکبری 23 یہ حضرت موسیٰ کے لئے مستقبل کی فتوحات کی بشارت ہے کہ بظاہر تو یہ دوہی معجزے ہیں لیکن یہ نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر ہمارے بہت سے دوسرے بڑے بڑے معجزے بند ہیں۔ آگے جب امحتان کے مراحل آئیں گے تو تم دیکھو گے کہ ان سے ہماری قدرت و قہر مانیت کے کیا کیا کرشمے اور خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ چناچہ فرعون کے مقابل میں ان کے جو کرشمے ظاہر ہوئے ان کی تفصیلات تورات میں موجود ہیں۔ خود قرآن میں عطا کے جو کرشمے مذکور ہیں ان کی عظمت ظاہر ہے۔ اسی عصا نے ان کے لئے سمندر سے راہ نکالی اور اسی سے انہوں نے ایک پہاڑی سے اکٹھے بارہ چشمے جاری کر لئے۔ معجزات کے باب میں حضرت موسیٰ کے ساتھ خاص معاملہ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 23–24

24۔ 1 فرعون کا ذکر اس لئے کیا کہ اس نے حضرت موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کے ظلم روا رکھتا تھا۔ علاوہ ازیں اس کی سرکشی و طغیانی بھی بہت بڑھ گئی تھی حتٰی کہ وہ دعویٰ کرنے لگا تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79۔ النازعات :24) ' میں تمہارا بلند تر رب ہوں '

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–26

9: یعنی جب ہاتھ کو بغل سے نکالو گے تو سفیدی سے چمک رہا ہوگا، اور یہ سفید برص وغیرہ کی کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوگی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

لنریک من ایتنا۔۔۔۔ انہ طغی (32۔ 42) ” اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ اب تو فرعون کے پاس جا ‘ وہ سرکش ہوگیا ہے “۔ یہ نشانیاں اور معجزات جس کا حسن اظہار ہو رہا ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) پہلے آپ کو دکھائی جارہی ہیں تاکہ تم مطمئن ہو کر اور ان سے مسلح ہو کر فرعون کے پاس جائو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ وہ اس عظیم مہم اور اس عظیم منصب کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ فرعون کون ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی اس کے گھر میں تھے ‘ اس کی سرکشی اور سخت داروگیر سے وہ وقف تھے۔ وہ بنی اسرائیل پر جو مظالم ڈھا رہا تھا اس سے بھی واقف تھے ‘ وہ اس وقت چونکہ بارگاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی عصا اور یدبیضا کے معجزے ان بڑی نشانیوں میں سے دو ہیں جن کا دکھلانا تم کو منظور ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

آیت 21 قَالَ خُذْہَا وَلَا تَخَفْوقفۃ ” سورۃ النمل آیت 10 اور سورة القصص آیت 31 میں اس واقعہ کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خوفزدہ ہوجانے کا ذکر بھی آیا ہے : فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”جب انہوں نے دیکھا کہ وہ لاٹھی حرکت کر رہی ہے جیسے کہ وہ ایک سانپ ہو ‘ تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا“۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ ڈریں نہیں بلکہ واپس آئیں اور اس کو پکڑ لیں۔ بہر حال یہاں پر وہ تفصیل بیان نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 یہ دو معجزات تو نبوت ملنے کے ساتھ ہی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دے دیئے گئے اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ آئندہ بھی عندالضرورت ہم آپ کو اپنے معجزات دکھلاتے رہیں گے۔ اور یہ دونوں معجزے آپ کو نبوت کی صداقت کے طور پر دیئے گئے تھے۔ پہلے معجزے میں جبروت الٰہی کا اظہار مقصود تھا۔ جو فرعون جیسے سرکش بادشاہ کے لئے ضرورت بات تھی اور دوسرے معجزہ میں ہدایت کے روشن راستے کی طرف اشارہ تھا جو مقصود انبیاء (علیہم السلام) ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ وہ ” بڑی نشانیاں “ کیا تھیں ؟ عام طور سے مراد دوسرے اور عظیم تر معجزات سے لی گئی ہے جو آپ کو بعد میں عطا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–24

آیت نمبر 15 تا 24 ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لنریک من ایتنا الکبری۔ تاکہ ہم تم کو اپنی قدرت کی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ید بیضاء حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا سب سے بڑا معجزہ تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) تاکہ ہم تمہیں اپنی قدرت کی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھائیں اب یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت بڑائی تکبر اور کفر اختیار کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى : یہاں ”مِنْ“ بعض کے معنی میں ہے، یعنی ہم نے عصا اور ید بیضا تمہیں اپنے چند بڑے معجزے دکھانے کے لیے عطا کیے ہیں۔ یہ معنی بھی ہے کہ ہم نے یہ معجزے تمہیں اپنے کچھ مزید بڑے معجزے دکھانے کے لیے دیے ہیں۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واضمم یدک الی جناحک، غیر قرآن میں ضم میم کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ جائز ہے، کیونکہ التفائے ساکنین پایا گیا ہے۔ اور فتحہ عمدہ ہے کیونکہ وہ خفیف ہے اور کسرہ اصل کی بنا پر ہے اور ضمہ اتباع کی بنا ہے۔ یداصل میں یدی فعل کے وزن پر ہے اس پر دلیل جمع اید ہے تصغیر بیۃ ہے۔ الجناح سے مراد بازو ہے ؛ مجاہد نے یہ کہا ہے کہ فرمایا : الیٰ بمعنی تحت ہے۔ قطرب نے کہا : جناحک سے مراد الی جبیبک ہے۔ اسی سے زاجز کا قول ہے : اضمہ للصدر والجناح بعض نے فرمایا : الیٰ جنبک کو الی جناحک سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ جناح کے محل میں مائل ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب الی عندک ہے۔ مقاتل نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–24

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔ قیامت کی گھڑی مخفی ہے : 2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِنُرِيَكَ : تاکہ ہم دکھائیں آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى: اپنی بڑی نشانیوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–24

(قَالَ اَلْقِھَا یٰمُوْسٰی) (باری تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوا کہ اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو ) فالقاھا (سو اسے انہوں نے ڈال دیا) (فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی) (سوا چانک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گئی) سورة نمل میں ہے کہ جب انہوں نے اسے سانپ کی شکل میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا (خُذْھَا وَلَاتَخَفْ ) (اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں) سورة نمل میں یہ الفاظ بھی ہیں (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (کہ میرے سامنے پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ (چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر ہاتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ یہ فعل مقدر کے متعلق ہے ای فعلنا ما فعلنا لنریک (روح) ۔ ” مِنْ اٰیٰتِنَا “ اس سے دریائے نیل میں بارہ راستوں کا نمودار ہونا، بنی اسرائیل کا ان سے صحیح سلامت گذر جانا اور فرعون کا مع لاؤ لشکر غرق ہوجانا مراد ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–24

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى۝ 23ۚ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰـتِنَا الْکُبْرٰی۔ (طٰـہٰ : 23) (تاکہ ہم اپنی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض کا تمہیں مشاہدہ کرائیں۔ ) دو معجزات دینے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ صرف انہی دو معجزات پر اکتفا کیا جائے گا بلکہ آئندہ چل کر ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بڑی بڑی فتوحات سے نوازیں گے۔ یہ دو معجزات تو تمہید کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے آئندہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں مزید معجزات کی ضرورت پڑے گی اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی مزید تائید اور نصرت کی حاجت محسوس ہوگی تو ہماری قدرت و قہرمانیت اور خوارق ظہور پذیر ہوں گے۔ چناچہ اسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو اژدھا کا معجزہ دکھلانے کے بعد دوسرا معجزہ عطا کیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب پوری طرح اطمینان ہوا کہ یہ وہی لاٹھی ہے جو میرے ہاتھ میں تھی جس سے میں مذکورہ بالا کام لیا کرتا ہوں تو اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھیں جب اسے بغل سے نکالیں گے تو وہ کسی تکلیف اور نقص کے بغیر تیرے سامنے چمک رہا ہوگا۔ اس طرح موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو عظیم معجزے عنایت کیے گئے جن کے بعد موسیٰ کو حکم ہوا کہ اب فرعون کی طرف جائیں کیونکہ وہ بڑا ہی باغی اور نافرمان شخص ہے۔ اسی سورة کی چند آیات کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23: لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْکُبْرٰی (تاکہ ہم آپ کو اپنی بڑی نشانیاں دکھائیں) یعنی یہ نشانی بھی لو اس کے بعد کہ لاٹھی کو سانپ بنایا گیا۔ تاکہ ہم ان آیات کے ساتھ اور بعض بڑی آیات دکھائیں۔ نمبر 2۔ تاکہ آپ کو ان دونوں کے ذریعہ ہماری آیات میں سے بڑی آیات دکھائیں۔ نمبر 3۔ یا معنی یہ ہے ہم نے یہ کیا تاکہ تمہیں اپنی بڑی آیات دکھائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23۔ لنریک من آیاتناالکبری، ، کبرذکر نہیں کیا، اور بعضنے کہا کہ اس میں اضمار ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ تاکہ ہم اس کے ذریعے سے بڑے بڑے معجزے دکھائیں۔ اس پر حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر بڑی بڑی نشانیاں واضح ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–24

25 حضرت موسیٰ کے لیے ید بیضا کا معجزہ : سو حضرت موسیٰ کو ارشاد ہوا کہ " اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دے دو ۔ وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی عیب (اور بیماری) کے "۔ جیسا کہ برص کی بیماری وغیرہ سے ہوجاتا ہے ۔ اللہ ہر بیماری سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ سو حضرت موسیٰ کو بتایا اور اطمینان دلایا گیا کہ آپ اس طرح کے معجزے سے خوف نہیں کھانا کہ یہ نہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوگا اور نہ ہی یہ کوئی عیب ہوگا بلکہ معجزہ ہوگا۔ جس سے آپ کو بطور خاص نوازا جائے گا۔ سو حضرت موسیٰ کے دو خاص معجزے تھے۔ یعنی عصا اور ید بیضا۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–24

ف 6 یعنی بڑی شرارت اور سرکشی پر کمر باندھ لی ہے حتی کہ خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:23) لنریک من ایتنا الکبری۔ لام تعلیل کا ہے تاکہ۔ اس لئے کہ۔ نریمضارع جمع متکلم کضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ من بمعنی بعض۔ ایتنا الکبری موصوف وصفت۔ ہماری بڑی بڑی نشانیاں۔ یعنی ہم نے عصا اور یدبیضاء کے معجزے اس لئے عطا کئے تاکہ اپنی بڑی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں آپ کو دکھائیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–24

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24 یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 24 گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–34

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-23 ہم نے یہ اس لئے کیا تاکہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھا دیں ۔ یعنی اس لئے تجربہ کرا دیا کہ معجزے کے ظہور کے وقت کوئی گھبراہٹ نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–35

ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابھی دو ہی نشانیاں دکھائی گئی ہیں اور کتنی ہیں جو دکھائی جانا ہمارے پروگرام میں ہے : 23۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے مستقبل کی فتوحات کی بشارات ہیں کہ بظاہر تو یہ دوہی نشانات آپ کو دیئے گئے ہیں ۔ لیکن جوں جوں آگے چلیں گے ان سے بہت بڑے بڑے نشانات آپ کو دکھائیں گے بلکہ ان کے اندر اس سے بھی بڑے بڑے نشانات بند ہیں جوں جوں ان کو کھولیں گے تو اندر سے نایاب وشاندار دلائل نکلتے آئیں گے اور یہ عین فطرت کے مطابق ہے کہ جب ایک حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کے تاریک پہلو اس قدر دبائے جاتے ہیں کہ یا تو کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا اور اگر کسی کو معلوم ہوتا ہی ہے تو وہ آنکھیں بند کردیتا ہے اور اس کو بطور دلیل اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ (And put your hand under your arm - 20:22). The word جَنَاحِ means fore-limb of an animal or wing of a bird. Here Sayyidna Musa (علیہ السلام) was commanded to press his hand under his armpit so that when he brings it out it will shine as brilliantly as the sun, and this will be the second miracle granted to him. This is the meaning given to the words by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ (Mazhari).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

14. That is, fill my heart with the courage that may enable me to perform the obligations connected with the great mission of a Messenger, and give me the confidence for its fulfillment. Prophet Moses (peace be upon him) prayed for this because he realized the grave responsibilities of the great mission.

Read the full tafseer →