Taa-Haa 20:22

Taa-Haa · from ayah 22

20:22

وَاضْمُمْ یَدَكَ اِلٰی جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰی ۟ۙوَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ اٰيَةً اُخۡرٰىۙ

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگالو وہ کسی عیب (وبیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ (یہ) دوسری نشانی (ہے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And draw in your hand to your side; it will come out white without disease - another sign,

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:22

اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ دوسری نشانی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگالو وہ کسی عیب (وبیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ (یہ) دوسری نشانی (ہے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال لے تو وه سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے یہ دوسرا معجزه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دباؤ، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید ہو کر نکلے گا۔ یہ (تمہاری نبوت کی) ایک اور نشانی ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے ایک اور نشانی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (حکم ہوا:) اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا لو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمک دار ہو کر نکلے گا (یہ) دوسری نشانی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو کی طرف ملا، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکتا ہوا) نکلے گا، اس حال میں کہ ایک اور نشانی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دباؤ۔ یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کی طرف سکیڑ لو، وہ وہاں سے ایک دوسری نشانی بن کر، چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، برآمد ہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے بعد دوسرے معجزے کے لئے) اپنی بغل میں دے دو اپنے ہاتھ کو وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی عیب (اور بیماری) کے، (ہماری طرف سے) ایک اور عظیم الشان نشانی کے طور پر،

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دے لو وہ بلا کسی عیب کے روشن ہو کر نکلے گا (یہ) دوسری نشانی ہوئی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ذرا اپنا ہاتھ ملاؤ اپنی بغل کے ساتھ وہ نکلے گا چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے یہ دوسری نشانی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنا ہاتھ بغل سے نکالو وہ کسی بیماری یا عیب کے بغیر سفید چمکتا دمکتا نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And place your hand in your armpit, it will come forth shining white, without blemish. This is another Sign of Allah,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And press your hand under your arm, and it will come out (brightly) white without any disease, as another sign,

— Muhammad Taqi Usmani

And press your hand under your arm, and it will come out (brightly) white without any disease, as another sign,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And press your (right) hand to your (left) side: it will come forth white (and shining), without any disease as another sign,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And thrust thy hand within thine armpit, it will come forth white without hurt. (That will be) another token.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And draw in your hand to your side; it will come out white without disease - another sign,

— Saheeh International

"Now - as another Sign - place your hand under your arm and it will come out sheer white without harm (or stain).

— Muhammad Sarwar

And press your hand to your side, it shall come out white without evil: another sign:

— Muhammad Habib Shakir

And press thy hand to thy side, it will come forth white, without hurt, as anot her sign.

— Abdul Majid Daryabadi

"Now draw thy hand close to thy side: It shall come forth white (and shining), without harm (or stain),- as another Sign,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–35

معجزات کی نوعیت۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لئے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کرلیں۔ فرعون کے سامنے کلمہ حق۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب ؒ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–22

سورة طٰهٰ 13 یعنی روشن ایسا ہوگا جیسے سورج ہو، مگر تمہیں اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ بائیبل میں ید بیضاء کی ایک اور ہی تعبیر کی گئی ہے جو وہاں سے نکل کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گئی۔ وہ یہ کہ حضرت موسیٰ نے جب بغل میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو پورا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید تھا، پھر جب دوبارہ اسے بغل میں رکھا تو وہ اصلی حالت پر آگیا۔ یہی تعبیر اس معجزے کی تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ فرعون کو برص کی بیماری تھی جسے وہ چھپائے ہوئے تھا۔ اس لیے اس کے سامنے یہ معجزہ پیش کیا گیا کہ دیکھ یوں آناً فاناً برص کا مرض پیدا بھی ہوتا ہے اور کافور بھی ہوجاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–23

وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ، جناح، دراصل جانور کے بازو کو کہا جاتا ہے اس جگہ اپنے بازو کے یعنی بغل میں ہاتھ لگا لینے کا حکم ہوا ہے تاکہ یہ دوسرا معجزہ حضرت موسیٰ ؑ کو عطا کیا جاوے کہ جب بغل کے نیچے ہاتھ ڈال کر نکالیں تو آفتاب کی طرح چمکنے لگے حضرت ابن عباس سے تَخْرُجْ بَيْضَاۗءَ کی یہی تفسیر منقول ہے۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضآء من غیر سوآء ایۃ اخری 22 یدبیضا کا معجزہ ساتھ ہی دوسری ہدایت یہ ہوئی کہ اپنے ہاتھ کو اپنی بغل کی طرف سکیٹر لو، پھر جب تم اس کو بغل سے نکالو گے تو وہاں سے چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، ایک دوسری نشانی بن کر برآمد ہوگا۔ تورات کے ایک بیان کی تردید یہ دوسرا معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ کو عطا ہوا۔ یہاں بیضاء کے ساتھ من غیر سوء کی قید اس شبہ کے ازالہ کے لئے ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کسی مرض کے سبب سے نہیں ہوگی بلکہ اللہ کی ایک نشانی کے طور پر ہوگی۔ اس سے تورات کی اس روایت کی تردید ہوجاتی ہے کہ جب موسیٰ نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ برص سے سفید نکلا۔ یہ امر بھی یاد رکھیے کہ حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 بغیر عیب اور روگ کے، کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کا اس طرح سفید اور چمک دار ہو کر نکلنا، کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ برص کے مریض کی چمڑی سفید ہوجاتی ہے۔ بلکہ یہ دوسرا معجزہ ہے، جو ہم تجھے عطا کر رہے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر ان دونوں معجزوں کا ذکر فرمایا (فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕه) 28۔ القصص :32) ' پس یہ دو دلیلیں ہیں تیرے پروردگار کی طرف سے، فرعون اور اس کے سرداروں کے لئے '

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–26

9: یعنی جب ہاتھ کو بغل سے نکالو گے تو سفیدی سے چمک رہا ہوگا، اور یہ سفید برص وغیرہ کی کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوگی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واضمم یدک الیٰ ۔۔۔۔۔ ایتہ اخری (22) ” موسیٰ نے ہاتھ اپنی بغلوں میں دبائے۔ یہاں قرآن کریم نے ہاتھ اور بغل کے لئے پر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ پروں میں خوبصورتی اور حرکت ہے ‘ ہلکا پن ہے اور یہ مقام ایسا ہے کہ اس میں انسانیت زمین کی بوجھل فضا سے ہلکی ہو کر عالم بالا کی طرف پرواز کر رہی ہے اور یہ ہاتھ سفید ہر کر نکلے ‘ مرض کی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ معجزانہ سفید بغیر بیماری کے سفید ہوگا۔ اور عصا کے بعد یہ دوسری نشانی ہوگی آپ کی نبوت کی سچائی پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ہاتھ گریبان میں ڈال کر اور بغل سے ملا کر نکالو گے تو نہایت روشن سفید چمکتا ہوا نکلے گا۔ اور یہ سفیدی برص وغیرہ کی نہ ہوگی جو عیب سمجھی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

آیت 21 قَالَ خُذْہَا وَلَا تَخَفْوقفۃ ” سورۃ النمل آیت 10 اور سورة القصص آیت 31 میں اس واقعہ کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خوفزدہ ہوجانے کا ذکر بھی آیا ہے : فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”جب انہوں نے دیکھا کہ وہ لاٹھی حرکت کر رہی ہے جیسے کہ وہ ایک سانپ ہو ‘ تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا“۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ ڈریں نہیں بلکہ واپس آئیں اور اس کو پکڑ لیں۔ بہر حال یہاں پر وہ تفصیل بیان نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 دوسرا معجزہ یہ دیا گیا کہ آپ اپنی بغل میں اپنا دایاں ہاتھ رکھتے پھر نکالتے تو وہ اس قدر چمکتا ہوا نکلتا تھا کہ اس سے نگاہیں خیرہ ہوجاتی تھیں۔ اس سے نہ تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ تکلیف ہوتی تھی اور نہ ہی یہ کسی بیماری کی علامت تھی اور یہ اس وقت تک چمکتا رہتا تھا جب تک آپ دوبارہ اس اپنی بغل میں نہ لے جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ (ہماری قدرت اور تمہاری نبوت کی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو متعدد معجزات عطا ہوئے تھے، ان میں سے یہ دو معجزے شروع ہی سے عنایت ہوگئے تھے اور ان کا ذکر بھی خاص اہتمام سے کیا گیا ” یدبیضا “ جو ہمارے ہاں زبان زد ہے یہی مشہور معجزہ ہے۔ (آیت) ” من غیرسوا “۔ مراد یہ ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کوئی مرض وغیرہ کی صورت نہیں، قرآن کو تصریح کے ساتھ یہ ٹکڑ اس لیے کہنا پڑا کہ توریت والوں نے صورت واقعہ کو مسخ کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برص کا مریض ہی بنا دیا ! خود توریت کے الفاظ ہیں :۔” پھر خداوند نے اسے کہا کہ تو اپنا ہاتھ اپنی چھاتی پر چھپا کر رکھ، چناچہ اس نے اپنا ہاتھ اپنی چھپا کر رکھا، اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–24

آیت نمبر 15 تا 24 ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضآء من غیر سوء آیۃ اخری اور تم اپنا (دایاں) ہاتھ اپنی (بائیں) بغل میں دے لو (پھر نکالو) وہ بغیر کسی خرابی (یعنی مرض) کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا کہ یہ دوسری نشانی ہوگی۔ یَدْ سے مراد ہے دائیں ہتھیلی ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ جناح سے مراد ہے بائیں بغل ‘ بغوی نے الی کا ترجمہ نیچے کیا ہے اور مجاہد کی طرف اس کو منسوب کیا ہے (یعنی بائیں بغل کے اندر دائیں ہتھیلی کو لے جاؤ) آدمی کا بازو بغل کے اندر تک جناح کہلاتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے اصل میں جناح پرندہ کا بازو ہوتا ہے ‘ انسان کے لئے جناح کا استعمال بطور استعارہ کیا جاتا ہے۔ قاموس میں ہے سینہ کی طرف کی پسلیاں جو انح کہلاتی ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) اور نیز تم دایاں ہاتھ اپنی بائیں بغل میں دے کر پھر نکالو، وہ بغیر کسی برص بیماریی کے روشن ہو کر چمکتا ہوا نکلے گا یہ عصا کے ساتھ دوسری نشانی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ۔۔ : دوسری جگہ اس کی تفصیل آئی ہے کہ حکم ہوا کہ اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پہلو کے ساتھ لگاؤ گے تو وہ چمکتا ہوا سفید نکلے گا، مگر وہ سفیدی برص وغیرہ جیسا عیب نہیں ہوگی، بلکہ ایک معجزہ ہوگی۔ ”کسی عیب کے بغیر“ کی تصریح اس لیے فرمائی کہ برص کو بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واضمم یدک الی جناحک، غیر قرآن میں ضم میم کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ جائز ہے، کیونکہ التفائے ساکنین پایا گیا ہے۔ اور فتحہ عمدہ ہے کیونکہ وہ خفیف ہے اور کسرہ اصل کی بنا پر ہے اور ضمہ اتباع کی بنا ہے۔ یداصل میں یدی فعل کے وزن پر ہے اس پر دلیل جمع اید ہے تصغیر بیۃ ہے۔ الجناح سے مراد بازو ہے ؛ مجاہد نے یہ کہا ہے کہ فرمایا : الیٰ بمعنی تحت ہے۔ قطرب نے کہا : جناحک سے مراد الی جبیبک ہے۔ اسی سے زاجز کا قول ہے : اضمہ للصدر والجناح بعض نے فرمایا : الیٰ جنبک کو الی جناحک سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ جناح کے محل میں مائل ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب الی عندک ہے۔ مقاتل نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–24

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔ قیامت کی گھڑی مخفی ہے : 2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاضْمُمْ : اور آپ (علیہ السلام) ملائیں ] [يَدَكَ : اپنا ہاتھ ] [اِلٰى جَنَاحِكَ : اپنی بغل کی طرف (یعنی سے)] [تَخْرُجْ : تو وہ (ہاتھ) نکلے گا ] [بَيْضَاۗءَ : سفید ہوتے ہوئے ] [مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ : کسی بھی برائی کے بغیر ] [اٰيَةً اُخْرٰى: ایک دوسری نشانی ہوتے ہوئے ] ض م م [ضَمًّا : (ن) ] دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو باہم ملا دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 22

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–24

(قَالَ اَلْقِھَا یٰمُوْسٰی) (باری تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوا کہ اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو ) فالقاھا (سو اسے انہوں نے ڈال دیا) (فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی) (سوا چانک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گئی) سورة نمل میں ہے کہ جب انہوں نے اسے سانپ کی شکل میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا (خُذْھَا وَلَاتَخَفْ ) (اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں) سورة نمل میں یہ الفاظ بھی ہیں (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (کہ میرے سامنے پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ (چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر ہاتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ یہ دوسرا معجزہ تھا۔ یعنی اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر باہر نکالو۔ وہ روشن اور سفید ہوگا۔ ان دونوں معجزوں کا تجربہ وہیں وادی طوی میں کرادیا۔ تاکہ ان کو پہلے سے ان کی حقیقت کا عین الیقین حاصل ہوجائے۔ اور جب ضرورت پیش آئے تو وہ بلا جھجک انہیں پیش کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–24

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاۗءَ مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ اٰيَۃً اُخْرٰى۝ 22ۙ ضم الضَّمُّ : الجمعُ بين الشّيئين فصاعدا . قال تعالی: وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلى جَناحِكَ [ طه/ 22] ، وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ [ القصص/ 32] ، والإِضْمَامَةُ : جماعةُ من النّاس أو من الکتب أو الرّيحان أو نحو ذلک «1» ، وأسد ضَمْضَمٌ وضُمَاضِمٌ: يَضُمُّ الشّيءَ إلى نفسه . وقیل : بل هو المجتمع الخلق، وفرس سبّاقُ الأَضَامِيمِ : إذا سبق جماعة من الأفراس دفعة واحدة . ( ض م م ) الضم ( ن) کے معنی دو زیادہ دو سے زیادہ دو چیزوں کو باہم ملا دینا کے ہیں قرآن میں ہے :۔ وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلى جَناحِكَ [ طه/ 22 اور تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓئٍ اٰیَۃً اُخْرٰی۔ (طٰـہٰ : 22) (اور دبا لو اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے وہ وہاں سے ایک دوسری نشانی بن کر چٹا سفید بغیر کسی مرض کے برآمد ہوگا۔ ) یدبیضا، دوسرا معجزہ عصائے موسیٰ کے سانپ بن جانے کے معجزے کے بعد دوسرا معجزہ پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ عطا فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ بغل میں دبا ئو۔ جب تم اس کو بغل سے نکالو گے تو وہ اس طرح چمکتا ہوا نکلے گا جیسے سورج چمکتا ہے۔ بَیْضَآئَ کا اطلاق ایسی سفید چیز پر ہوتا ہے جو روشن اور چمکدار ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکالتے تھے تو وہ ایسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو اژدھا کا معجزہ دکھلانے کے بعد دوسرا معجزہ عطا کیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب پوری طرح اطمینان ہوا کہ یہ وہی لاٹھی ہے جو میرے ہاتھ میں تھی جس سے میں مذکورہ بالا کام لیا کرتا ہوں تو اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھیں جب اسے بغل سے نکالیں گے تو وہ کسی تکلیف اور نقص کے بغیر تیرے سامنے چمک رہا ہوگا۔ اس طرح موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو عظیم معجزے عنایت کیے گئے جن کے بعد موسیٰ کو حکم ہوا کہ اب فرعون کی طرف جائیں کیونکہ وہ بڑا ہی باغی اور نافرمان شخص ہے۔ اسی سورة کی چند آیات کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22: وَاضْمُمْ یَدَک اِلٰی جَنَا حِکَ (اور ملائو تم اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بازو کے ساتھ) پھر دوسری آیت کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔ واضمم یدک الی جناحک ملائو تم اپنے ہاتھ کو اپنے پہلو کے ساتھ یعنی اپنے پہلو کی طرف بازو کے نیچے۔ انسان کے دونوں بازو دونوں طرفین ہیں۔ اور اصل جو ہے مستعار منہ پرندے کے دو بازو ہیں۔ ان کو جناح کہا گیا کیونکہ اڑنے کے وقت وہ ان کو ہلاتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس کو اپنے بازو کے نیچے داخل کرو۔ تَخْرُجْ بَیْضَآ ئَ (وہ سفیدہو کر نکلے گا) مطلب یہ ہے کہ اس کی شعائیں سورج کی شعائوں کی طرح آنکھوں کو ڈھانپ لیں گی۔ مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ (برص وغیرہ کی بیماری کے بغیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22۔ واضمم یدک الی جناحک، ، اپنی بغل سے اپنے ہاتھ نکالیں، مجاہد کا بیان ہے کہ اپنے پہلو سے نکالو، جناح آدمی کا بازو بغل کے اندر تک جناح کہلاتا ہے۔ تخرج بیضائ، وہ چمکتا ہوانظر آئے گا، من غیر سوء ، بغیر کسی کے عیب سے سوء سے مراد یہاں برص ہے ، ابن عباس کا قول ہے حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے روشن، چمک دار نور برآمد ہوتا تھا، جو دن میں یا رات میں ہر وقت چاند سورج کی طرح جھلکتا تھا، آیۃ اخری، یہ دوسری نشانی ہے آپ کی صداقت پر عصا کے علاوہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–24

25 حضرت موسیٰ کے لیے ید بیضا کا معجزہ : سو حضرت موسیٰ کو ارشاد ہوا کہ " اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دے دو ۔ وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی عیب (اور بیماری) کے "۔ جیسا کہ برص کی بیماری وغیرہ سے ہوجاتا ہے ۔ اللہ ہر بیماری سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ سو حضرت موسیٰ کو بتایا اور اطمینان دلایا گیا کہ آپ اس طرح کے معجزے سے خوف نہیں کھانا کہ یہ نہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوگا اور نہ ہی یہ کوئی عیب ہوگا بلکہ معجزہ ہوگا۔ جس سے آپ کو بطور خاص نوازا جائے گا۔ سو حضرت موسیٰ کے دو خاص معجزے تھے۔ یعنی عصا اور ید بیضا۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–22

ف 5 ایک نشانی عصا اور دوسری ” ید بیضا “ ہاتھ کے بےعیب ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اگرچہ سفید ہو کر چمکے گا مگر اس میں کوئی روگ نہ ہوگا جیسے کوڑھ کی بیماری سے ہاتھ سفید ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:22) اضمم۔ ضم یضم ضم سے فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے تو ملالے الضم (نصر) دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو باہم ملا دینا۔ واضمم یدک الی جناحک اپنے بازو کو اپنے بغل سے ملا لو۔ ضم الشیٔ الیہ۔ اپنی طرف کھینچنا۔ ضم علی الشیٔ قبضہ کرنا۔ ضمہ الی صدرہ گلے ملنا۔ معانقہ کرنا۔ جناحک۔ مضاف مضاف الیہ۔ تیرا بازو۔ تیرا پہلو۔ واضمم یدک الی جناحک اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے ملا لے مجاہد نے الی بمعنی تحت لیا ہے اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے ملالو۔ جناح واحد ہے اس کی جمع اجنحۃ ہے۔ جناح پرندے کے بازو کو بھی کہتے ہیں مادہ ج ن ح سے۔ جناح جمع جنوح بمعنی گناہ ہے۔ تخرج۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مؤنث غائب خروج…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–24

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24 یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 24 گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–34

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-22 اور اپنے ہاتھ کو اپنی بغل سے ملا دے وہ بغیر کسی برائی اور عیب کے روشن اور چمکدار ہو کر نکل آئے گا درآحالی کہ یہ دوسرا معجزہ ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی آزار سے سفید نہیں۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ دو معجزے ظاہر فرمائے ایک لاٹھی کا اژدھا ہو کر پھر لاٹھی ہوجانا دوسرے ید بیضا یعنی ہاتھ کو بغل سے ملا کر نکالنے پر اس کا چمکدار بن کر نکلنا اور یہ سفیدی کسی عیب سے یا مرض سے جیسے برص وغیرہ کی نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–35

ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے موسیٰ اپنا بازو بغل کی طرف سکیڑ کر کشادہ کر وہ بالکل سفید نکلے گا : 22۔ پہلی ” آیت بینہ “ جس کو عوام معجزہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں لاٹھی کا سانپ اور سانپ کا لاٹھی بننے کا تھا جس کے اندر کے مضمون کو ہم نے بیان کردیا اور اب دوسری (آیۃ بینہ) کا ذکر کیا جا رہا ہے اور ہدایت دی جا رہی ہے کہ اے موسیٰ اپنا ہاتھ اپنے پہلو میں رکھ کر نکال اور دیکھ کہ وہ بحمد للہ چٹا سفید ہے اور چمکتا ہوا تیری بغل سے نکلے گا ، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہدایت الہی کے مطابق عمل کیا تو جو نتیجہ بتایا گیا تھا وہ صاف صاف سامنے آگیا ۔ ہاتھ کا سفید نکلنا فی الواقعہ تھا اور یہ گویا استعارہ تھا ان دلائل کا جو موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ (And put your hand under your arm - 20:22). The word جَنَاحِ means fore-limb of an animal or wing of a bird. Here Sayyidna Musa (علیہ السلام) was commanded to press his hand under his armpit so that when he brings it out it will shine as brilliantly as the sun, and this will be the second miracle granted to him. This is the meaning given to the words by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ (Mazhari).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

13. That is, your hand will shine brightly like the sun, but it will not cause any hurt to you. It is strange that the Bible interprets this miracle, saying that his hand was leprous as snow but it was turned again as his other flesh. The Talmud also interprets the miracle in the same way and adds that this was a miracle which was meant for Pharaoh who was suffering from leprosy. It is a pity that the same interpretation has been adopted by our own commentators, though the correct interpretation is the one that has been adopted by us, and many former commentators. Obviously, it is bad taste…

Read the full tafseer →