Taa-Haa 20:21

Taa-Haa · from ayah 21

20:21

قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۥ— سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰی ۟قَالَ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ‌ ۖ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى‏

خدا نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت۔ ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "Seize it and fear not; We will return it to its former condition.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:21

فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت۔ ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوباره ﻻ دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے فرمایا : اسے پکڑ لو، اور ڈرو نہیں۔ ہم ابھی اسے اس کی پچھلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد فرمایا: اسے پکڑ لو اور مت ڈرو ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا اسے پکڑ اور ڈر نہیں، عنقریب ہم اسے اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسے پکڑو اور ڈرو نہیں۔ ہم جلد ہی اسے اس کی پہلی حالت پر لے آئیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا اس کو اٹھا لو اور ڈرو نہیں، ہم اس کو پھر اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ارشاد ہوا اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں، ہم اس کو ابھی لوٹائے دیتے ہیں اس کی پہلی حالت میں،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ نے) فرمایا اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر کئے دیئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرمایا : اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ابھی ہم اس کو لوٹا دیں گے اس کی پہلی حالت پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے فرمایا کہ ”اسے پکڑلو اور ڈرنا مت ہم ابھی اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then He said: "Seize it and have no fear. We shall restore it to its former state.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Pick it up, and be not scared. We shall restore it to its former state.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Pick it up, and be not scared. We shall restore it to its former state.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah said: "Grasp it and fear not; We shall return it to its former state."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Grasp it and fear not. We shall return it to its former state.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "Seize it and fear not; We will return it to its former condition.

— Saheeh International

The Lord said, "Hold the serpent and do not be afraid; We will bring it back to its original form."

— Muhammad Sarwar

He said: Take hold of it and fear not; We will restore it to its former state:

— Muhammad Habib Shakir

Allah said: take hold of it, and fear not; We shall restore it to its former state.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) said, "Seize it, and fear not: We shall return it at once to its former condition"..

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–21

حضرت موسیٰ ؑ کو معجزات ملے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ یہ سوال اس لئے تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی گھبراہٹ دور ہوجائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے یہ جیسی کچھ ہے تجھے معلوم ہے اب یہ جو ہوجائے گی وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ عرض کرتے ہیں یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–22

سورة طٰهٰ 13 یعنی روشن ایسا ہوگا جیسے سورج ہو، مگر تمہیں اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ بائیبل میں ید بیضاء کی ایک اور ہی تعبیر کی گئی ہے جو وہاں سے نکل کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گئی۔ وہ یہ کہ حضرت موسیٰ نے جب بغل میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو پورا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید تھا، پھر جب دوبارہ اسے بغل میں رکھا تو وہ اصلی حالت پر آگیا۔ یہی تعبیر اس معجزے کی تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ فرعون کو برص کی بیماری تھی جسے وہ چھپائے ہوئے تھا۔ اس لیے اس کے سامنے یہ معجزہ پیش کیا گیا کہ دیکھ یوں آناً فاناً برص کا مرض پیدا بھی ہوتا ہے اور کافور بھی ہوجاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–21

فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعٰي، حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھ میں جو عصا تھی بحکم ربانی اس کو ڈال دیا تو وہ سانپ بن گئی، اس سانپ کے بارے میں قرآن کریم کی آیات میں ایک جگہ تو یہ آیا ہے كَاَنَّهَا جَاۗنٌّ، جان عربی لغت میں چھوٹے اور پتلے سانپ کو کہتے ہیں۔ اور دوسری جگہ آیا ہے فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ، ثعبان کے معنے اژدھا اور بڑے موٹے سانپ کے ہیں، اور اس آیت میں جو لفظ حیة آیا ہے یہ عام ہے ہر چھوٹے بڑے اور پتلے موٹے سانپ کو حیہ کہا جاتا ہے۔ تطبیق ان آیات کی اس طرح ہو سکتی ہے کہ یہ سانپ شروع میں پتلا اور چھوٹا ہو پھر موٹا اور بڑا ہوگیا، یا یہ کہ سانپ تو بڑا اور اژدہا سرعت سیر کے اعتبار سے چھوٹے سانپ کی طرح…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–21

قال القھا یموسی فالقھما فاذا ھی حیۃ تسعی 20-19 عصا کا معجزہ ارشاد ہوا کہ اس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھو ! چناچہ حضرت موسیٰ نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعتاً ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ قال خذھا ولا تخف وقفہ سنعیدھا سیرتھا الاولی 21 سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امر بعی ہے چناچہ حضرت موسیٰ اس منظر کو دیکھ کر ڈرے کہ ہاتھ کی لٹھیا جو سانپ کو مارنے والی بن سکت تھی وہ خود ساپن بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، اس کو بےجھجک پکڑ لو، تمہارے پکڑتے ہی ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر کردیں گے۔ یہ جیس لٹھیا تھی ویسی ہی لٹھیا بن جائے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–21

21۔ 1 یہ حضرت موسیٰ ؑ کو معجزہ عطا کیا گیا جو عصائے موسیٰ ؑ کے نام سے مشہور ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–21

7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–21

قال القھایموسی۔۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (91 تا 12) ”“۔ ۔ یہ خارق عادت معجزہ ظہور پذیر ہوگیا ‘ یہ معجزہ اس کائنات میں ہر لمحہ ہر طرف ظاہر ہوتا رہتا ہے ‘ لیکن لوگوں کی سوچ اس طرف نہیں جاتی۔ یعنی ” زندگی “ کا معجزہ ۔ ایک عصا سانپ بن گئی۔ اس دنیا میں ہر سیکنڈ میں عصا کی طرح اربوں مردہ ذرے زندگی پاتے ہیں اور زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں لیکن انسان انہین اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح وہ ایک بڑی عصا کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اس لیے کہ انسان اپنے حواس کا بندہ اور اپنے تجربات کا قیدی ہے۔ وہ اپنے تصورات میں حواس کے دائرے سے آگے جانے کی تکلیف نہیں کرتا۔ ایک عصا کا زندہ ہو کر سانپ بن جانا اور پھر چلنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی ہاتھ میں آکر پھر لاٹھی ہوجائے گی۔ کہتے ہیں ابتداء میں موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی آخر کپڑا ہاتھ میں لپیٹ کر پکڑنے لگے۔ فرشتہ نے کہا " موسیٰ کیا خدا اگر بچانا نہ چاہے تو یہ چیتھڑا تجھے بچا سکتا ہے ؟ موسیٰ نے کہا " نہیں، لیکن میں کمزور مخلوق ہوں، اور ضعف سے پیدا کیا گیا ہوں۔ " پھر حضرت موسیٰ نے ہاتھ سے کپڑا ہٹا کر اژدھے کے منہ میں دے دیا۔ ہاتھ ڈالنا تھا کہ وہی لاٹھی ہاتھ میں دیکھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

آیت 21 قَالَ خُذْہَا وَلَا تَخَفْوقفۃ ” سورۃ النمل آیت 10 اور سورة القصص آیت 31 میں اس واقعہ کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خوفزدہ ہوجانے کا ذکر بھی آیا ہے : فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”جب انہوں نے دیکھا کہ وہ لاٹھی حرکت کر رہی ہے جیسے کہ وہ ایک سانپ ہو ‘ تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا“۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ ڈریں نہیں بلکہ واپس آئیں اور اس کو پکڑ لیں۔ بہر حال یہاں پر وہ تفصیل بیان نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں عصا کو زمین پر جو پھینکا تو وہ اسی وقت سانپ بن گیا اور سانپ بنتے ہی دوڑنے بھی لگا۔ جب وہ آپ کی طرف آیا تو آپ خود بھی اس سے خوف زدہ ہوگئے کہ کہیں گزند نہ پہنچائے۔ یہ صورت حال دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اب اسے جرأت کرکے پکڑ لو تو تمہارے ہاتھ لگاتے ہی پھر یہ اپنی پہلی حالت پر آجائے گا یعنی تمہارا وہی پہلا عصا بن جائے گا۔ عصائے موسیٰ کے سانپ کے نام اور اوصاف :۔ لاٹھی کے اس طرح سانپ بن جانے کے لئے قرآن نے مختلف مقامات پر تین الفاظ استعمال کئے ہیں (1) اس مقام پر حیۃ کا لفظ ہے جو ہر قسم کے سانپ کے لئے بولا جاسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ یعنی یہ پھر سے عصا بنا جاتا ہے۔ اور تمہیں کوئی گزند نہ پہنچے گا۔ س۔ ” ابھی “ یعنی تمہارے اسے پکڑتے ہی۔ ایسے خوارق عادات انبیاء کی تاریخ میں کچھ نئے یا انوکھے نہیں۔ معجزہ میں پیغمبر کے کسی ذاتی کمال یا کوشش کو دخل نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمامتر ایک فعل خدا وندی ہی ہوتا ہے۔ براہ راست اور بلاتوسط اسباب عادیہ۔ اس حقیقت کی خاص نظیر یہ عصا والا واقعہ بھی ہے۔ معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا، اور آپ خود ہی اس سے ڈرے بھی ! ” موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈرجانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–24

آیت نمبر 15 تا 24 ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قا خذہا ولا تخف سنعیدہا سیرتہا الاولی۔ اللہ نے فرمایا اس کو پکڑ لو کچھ اندیشہ نہ کرو (میرے پاس آ کر پیغمبر کسی سے نہیں ڈرتے) میں دوبارہ لوٹا کر اس کی پہلی حالت اور ہیئت کر دوں گا۔ سیرت بروزن فعلۃ ایک بار چلنا مجازاً مراد ہے طریقہ ‘ ہیئت ‘ حالت۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت موسیٰ اس وقت اونی چغہ پہنے ہوئے تھے جب حکم ہوا خُذْہا اس کو پکڑ لو تو آپ نے چغہ کا دامن ہاتھ کو لپیٹ کر پکڑنا چاہا اللہ نے حکم دیا ہاتھ کھول دو (چغہ کا دامن ہاتھ پر مت لپیٹو) حضرت نے ہاتھ کھول دیا۔ بعض اہل روایت کا بیان ہے جب حضرت موسیٰ نے ہاتھ پر چغہ کا دامن لپیٹ لیا تو ایک فرشتہ نے کہا دیکھو آپ کو جس بات کا خوف ہے اگر اسی کے واقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(21) اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت موسیٰ ؑ اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ہم ابھی اس کو پہلی حالت پر لاٹھی بنادیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–21

اللہ تعالیٰ کے حکم پر موسیٰ ؑ نے اپنا عصا پھینکا تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑتا تھا، یعنی حقیقی اور زندہ سانپ تھا۔ قرآن مجید میں اس کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں ”حَیَّةٌ“ (سانپ) ، ”جَانٌّ“ (پتلا چھڑی جیسا چمکتا ہوا سانپ) اور ”ثُعْبَانْ“ (بہت بڑا اژدہا)۔ معلوم ہوا کہ لاٹھی پھینکتے ہی پتلے سانپ جیسی بنی، پھر بڑھتے بڑھتے بہت بڑا اژدہا بن گئی۔ موسیٰ ؑ خوف زدہ ہو کر بےاختیار بھاگ اٹھے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ دیکھیے سورة نمل (10) اور قصص (31) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے پکڑو اور ڈرو نہیں، ہم اسے دوبارہ پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ 3 اہل علم نے لاٹھی کے ایک لمحہ میں سانپ اور پھر دوبارہ لاٹھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذاھی حیۃ تسعیٰ ۔ نحاس نے کہا : حیۃ بھی جائز ہے۔ کہا جاتا ہے : خرجت فاذا ازید جالس وجالسا۔ حیہ پر وقف ھا کے ساتھ ہے۔ السعی کا معنی جلدی اور پھرتی سے چلنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : وہ عصا بڑا سانپ بن گیا تھا وہ پتھروں اور درختوں کو نگل لیتا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ تو ہر چیز کو نگل رہا ہے تو وہ اس سے خوفزدہ ہوئے اور اس سے دور ہوئے۔ بعض سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السللام اس سے اس لیے خوف زدہ ہوئے کیونکہ آپ کو معلوم تھا جو اس ڈنڈے کی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) نے برداشت کیا تھا۔ بعض نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لا تخف (ڈرو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–24

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔ قیامت کی گھڑی مخفی ہے : 2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [خُذْهَا : آپ (علیہ السلام) پکڑیں اس کو ] [وَلَا تَخَفْ : اور مت ڈریں ] [سَنُعِيْدُهَا : ہم لوٹا دیں گے اس کو ] [سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى: اس کی پہلی خصلت پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–24

(قَالَ اَلْقِھَا یٰمُوْسٰی) (باری تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوا کہ اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو ) فالقاھا (سو اسے انہوں نے ڈال دیا) (فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی) (سوا چانک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گئی) سورة نمل میں ہے کہ جب انہوں نے اسے سانپ کی شکل میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا (خُذْھَا وَلَاتَخَفْ ) (اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں) سورة نمل میں یہ الفاظ بھی ہیں (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (کہ میرے سامنے پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ (چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر ہاتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–21

12:۔ اس سے مقصود لاٹھی کی تعیین کرانا ہے کہ یہ وہی لاٹھی ہے جس سے تم یہ کام لیتے ہو کہا وہی ہے تو فرمایا ” اَلْقٰهٰا “ اسے زمین پر ڈال دو ۔ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ وہ اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ حکم ہوا ڈرو مت اسے پکڑ لو۔ ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ یہ ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–24

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کرکے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر حجاب نوری یا ناری کا مشاہدہ کیا ، تو وہاں سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھو۔ ایسا ہی حکم اللہ نے حضور ﷺ کو بھی دیا ہے اتل ما اوحی الیک……… …………والمنکر (العنکبوت 45) ہماری ازل کردہ کتاب یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ نماز اللہ کا ذکر ہی تو ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من نسی عن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ خُذْہَا وَلَا تَخَف ْ۝ 0۪ سَنُعِيْدُہَا سِيْرَتَہَا الْاُوْلٰى۝ 21 أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ خُذْھَا وَلاَ تَخَفْ وقفۃ سَنُعِیْدُھَا سِیْرَتَھَا الْاُوْلٰی۔ (طٰـہٰ : 21) (اللہ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرو نہیں، ہم اس کو پھر اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ ) جیسے ہی آپ ( علیہ السلام) کا عصا سانپ کی صورت میں ظاہر ہوا تو آپ ( علیہ السلام) اسے دیکھ کر ڈر گئے کیونکہ سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امرطبعی ہے۔ ہر انسان اچانک سانپ کو دیکھے تو ڈر جاتا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تو خواب و خیال میں بھی نہ ہوگا کہ میری لاٹھی اچانک سانپ بن جائے گی۔ وہ جس لاٹھی کے بارے میں یہ خیال کرتے تھے کہ اسے سانپ مارنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تو وہ خود سانپ بن گئی، تو آپ ( علیہ السلام) کا اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–21

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فکر آخرت کا سبق دے کر یہ بات سمجھائی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کے پیچھے لگنے اور اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرعون پرلے درجے کا نافرمان، باغی اور ظالم انسان تھا جس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلی وحی کے وقت بتلا یا اور سمجھایا گیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک فرعون حد سے بڑھا ہوا ظالم اور نافرمان ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے خوف کی وجہ سے آپ کو اس کی کسی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔ اگر آپ خوف یا کسی وجہ سے حق بات کہنے سے رک گئے یا خوف کی وجہ سے اس کے سامنے جھک گئے تو یاد رکھیں آپ بھی ہلاک ہونے والوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: قَالَ خُذْھَا وَلَا تَخَفْ ( کہا اس کو پکڑ و اور کچھ اندیشہ نہ کرو) جب اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا کہ پکڑو اور ڈر نہیں ان کا خوف اس طرح دور ہوگیا کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دیا اور اس کے دونوں جبڑوں سے پکڑ لیاسنُعِیْدُہَا (عنقریب ہم اس کو لوٹا دیں گے) سِیْرَتَھَا الْاُوْلٰی (اس کی پہلی حالت میں) الاولی اول کی مؤنث ہے اور سیرت اس حالت کو کہتے ہیں جس پر انسان ہو خواہ کسبی ہو خواہ طبعی ہو یہ اصل میں سیر سے فعلۃٌ کا وزن ہے۔ جیسے رکبۃ رکوب سے ہے پھر حالت اور طریقہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا ظرفیت کی بنا پر یہ منصوب ہے ای سنعیدھا فی طریقتہا فالاولٰی یہاں طریقہ بمعنی اس حال کے ہے۔ جس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21۔ قال خذھا، دائیں ہاتھ سے اس کو پکڑ لیجے، ولاتخف سنعیدھا سیرتھا الاولی، ، ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے اس کو عصا بنادیں گے ۔ حضرت موسیٰ اس وقت اونی چغہ پہنے ہوئے تھے ، جب حکم ہوا، خذھا، اس کو پکڑ لو تو آپ نے چغہ کا دامن ہاتھ کو لپیٹ کر پکڑنا چاہا، اللہ نے حکم دیا کہ ہاتھ کھول دو ، حضرت موسیٰ نے ہاتھ سے اس کو کھول دیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے ہاتھ پر دامن کا چغہ لپیٹ لیا، تو فرشتے نے کہا، دیکھو آپ کو کس بات کا خوف ہے ؟ اگر اس کے واقع ہوجانے کا اللہ حکم دے دے توکیایہ چغہ اس کو دور کرسکتا ہے ۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا نہیں لیکن میں کمزور ہوں اور میراضعف خلقی ہے اس کے بعد آپ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–36

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–35

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–38

سوال عصائے موسٰی پر جواب موزوں قول باری ہے (وما تلک بیمینک یا موسیٰ قالھی عصای اتوکا علیھا ۔ اور اے موسیٰ ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔” یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں۔ “) ایک قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لاٹھی کے متعلق پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی جائے کہ اس وقت جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ لاٹھی ہی ہے اور اس کے بارے میں اچھی طرح بات سمجھ لینے اور جانچ پرکھ کرلینے کے بعد جب لاٹھی کی کارکردگی ظاہر ہو تو اس وقت اس کے اعجاز کی حیثیت اور معجز نمائی کیفیت پوری طرح واضح ہو۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے جواب میں عرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–21

23 حضرت موسیٰ کے لیے معجزئہ عصا کا ذکر : سو حضرت موسیٰ کی لاٹھی معجزانہ طور پر ایک ایسا سانپ بن گئی جو کہ چستی اور پھرتی میں تو باریک سانپ کی طرح تھا۔ اس لئے دوسرے مقام پر اس کو " جانّ " فرمایا گیا۔ مگر جسم کے اعتبار سے وہ بھاری اور ایک بڑے اژدھے کی شکل میں تھا۔ اسی لئے ایک دوسرے مقام پر اس کو " ثعبان مبین " بھی فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ (الاعراف : 106، الشعرائ :32) میں ذکر فرمایا گیا۔ بہرکیف موسیٰ کو جب حق تعالیٰ کی طرف سے حکم وارشاد فرمایا گیا کہ اسے زمین پر ڈال دو تو آپ نے اس کو فورا ڈال دیا۔ اور جونہی آپ نے اس کو زمین پر ڈالا تو وہ یکایک ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ اور اس طرح آنجناب کو عصا کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–22

ف 5 ایک نشانی عصا اور دوسری ” ید بیضا “ ہاتھ کے بےعیب ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اگرچہ سفید ہو کر چمکے گا مگر اس میں کوئی روگ نہ ہوگا جیسے کوڑھ کی بیماری سے ہاتھ سفید ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:21) سنعیدھا۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے نعید اعادۃ (افعال) سے مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ ہم لوٹا دیں گے۔ ہم لوٹا کر پھر کردیں گے۔ ھاکا مرجع حیۃ ہے۔ سیرتھا۔ اس کی سیرت اس کی حالت۔ مضاف مضاف الیہ۔ سنعیدھا سیرتھا الاولی۔ ہم ابھی اسے اس کی پہلی حالت کی طرف پھیر دیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–24

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24 یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 24 گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–37

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–34

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-2 1 حضرت حق نے ارشاد فرمایا اس سانپ کو پکڑ لے اور ڈر نہیں ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹائے دیتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی پھر لاٹھی ہو جاوئے گی۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–35

ف 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈر جانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے، اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الحقیقت حق تعالیٰ ہی سے ڈرنا ہے جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبرا جانا۔ حدیثوں میں آیا ہے، سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس لئے ڈر گئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو۔ اور دوسری آیت میں الامنین فرمانے سے تسلی دینا اس طرف مشیر ہے۔ 7۔ یعنی یہ پھر عصا بن جاوے گا اور تم کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے موسیٰ اس سانپ کو پکڑ لے اور دیکھو کہ یہ سانپ نہیں بلکہ وہی لاٹھی ہے : 21۔ ہم نے یہ پروگرام تیرے ہی لئے تجویز کیا ہے کہ اب تو اس سانپ پر ہاتھ بڑھا جو دراصل تیرے ہی آباء و اجداد کی یہ لاٹھی تھا ۔ جس طرح تیرے ہاتھ کی لاٹھی نے گرتے ہی ہلنا شروع کردیا تو اس کو لاٹھی نہیں بلکہ سانپ دیکھا بعینہ اسی طریقہ سے جب بنی اسرائیل کے ہاتھ سے حکومت نکلی تو وہ سانپ بنی دوبارہ کسی نے ہمت ہی نہ کی ۔ اب ہمارے حکم سے تو اس اپنی لاٹھی پر ہاتھ رکھ جس کو تو نے سانپ دیکھا تیرا ہاتھ پڑتے ہی ہمارے حکم سے یہ پھر لاٹھی کی لاٹھی ہوگی اور اس کی ساری سیرت واپس لوٹ آئے گی تو اس پر تکیہ بھی لگائے گا جس طرح تیرے باپ دادا نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَىٰ (And suddenly it was a snake running - 20:20): When Sayyidna Musa علیہ السلام in obedience to the command of Allah Ta` ala, cast down his staff it turned into a serpent. The Qur'an has described this serpent at one place as كَأَنَّهَا جَانٌّ (28:31). The word جَانٌّ means a small and slim snake. At another place it has been referred to as فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ (26:32). The word ثُعْبَانٌ means a long and thick snake. The word حَيَّةٌ occurring in this verse is a generic name used for snakes of all sizes and thickness. These different words can be reconciled by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

13. That is, your hand will shine brightly like the sun, but it will not cause any hurt to you. It is strange that the Bible interprets this miracle, saying that his hand was leprous as snow but it was turned again as his other flesh. The Talmud also interprets the miracle in the same way and adds that this was a miracle which was meant for Pharaoh who was suffering from leprosy. It is a pity that the same interpretation has been adopted by our own commentators, though the correct interpretation is the one that has been adopted by us, and many former commentators. Obviously, it is bad taste…

Read the full tafseer →