Taa-Haa 20:135

Taa-Haa · from ayah 135

20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا ۚ— فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَمَنِ اهْتَدٰی ۟۠قُلۡ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا‌ ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِىِّ وَمَنِ اهۡتَدٰى

کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Each [of us] is waiting; so wait. For you will know who are the companions of the sound path and who is guided."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 8 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:135

اے محمدؐ، ان سے کہو، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے، پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ : (ہم) سب انتظار کر رہے ہیں، لہذا تم بھی انتظار کرو، کیونکہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ سیدھے راستے والے لوگ کون ہیں، اور کون ہیں جو ہدایت پاگئے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: ہر کوئی منتظر ہے، سو تم انتظار کرتے رہو، پس تم جلد ہی جان لوگے کہ کون لوگ راہِ راست والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے ہر ایک منتظر ہے، سو تم انتظار کرو، پھر تم جلد ہی جان لو گے کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور کون ہے جس نے ہدایت پائی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : ہر ایک انجام کار کا منتظر ہے لہذا تم بھی انتظار کرو۔ جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ (ہم میں سے) کون راہ راست پر ہے اور کون ہدایت یافتہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، ہر ایک منتظر ہے تو تم بھی انتظار کرو۔ تم عنقریب جان لو گے کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور منزل پر کون پہنچے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ اب ہم میں سے ہر ایک انتظار میں ہے سو تم بھی راہ دیکھتے رہو پس عنقریب تمہیں خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کون ہیں نور حق و ہدایت والے۔

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ سب ہی انتظار کررہے ہیں سو تم بھی انتظار کرلو اب عنقریب ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون راہ راست والے ہیں اور کون (منزل) مقصود تک پہنچے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ فرما دیجیے کہ ہر ایک انتظار میں ہے پس تم لوگ بھی انتظار کرو تو عنقریب تم لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر ہیں اور کون ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ سب نتائج اعمال کے منتظر ہیں سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ دین کے سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them, (O Muhammad): "Everyone is waiting for his end. Wait, then, and you will soon know who are the people of the Right Way, and are rightly-guided."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Everyone is waiting. So wait, then you will know who the people of the straight path are and who has followed the right guidance.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Everyone is waiting. So wait, then you will know who the people of the straight path are and who has followed the right guidance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Say) "Say, O Muhammad, to those who deny you, oppose you and continue in their disbelief and obstinance."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Each is awaiting; so await ye! Ye will come to know who are the owners of the path of equity, and who is right.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Each [of us] is waiting; so wait. For you will know who are the companions of the sound path and who is guided."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "Everyone is waiting. Wait and you shall know very soon who will be the followers of the right path with the right guidance."

— Muhammad Sarwar

Say: Every one (of us) is awaiting, therefore do await: So you will come to know who is the follower of the even path and who goes aright.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: everyone Is on the watch; so watch, and anon ye shall know who are the fellows of thee even path and who hath let himself be guided.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Each one (of us) is waiting: wait ye, therefore, and soon shall ye know who it is that is on the straight and even way, and who it is that has received Guidance."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:135

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 133–135

قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ۔ کفاریہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے ؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی ﷺ پر اتارا ہے جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا ﷺ۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔ قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لئے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت غیرصحت کو ممتاز کردے۔ سورة عنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا (قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 134–135

سورة طٰهٰ 117 یعنی جب سے یہ دعوت تمہارے شہر میں اٹھی ہے، نہ صرف اس شہر کا بلکہ گرد و پیش کے علاقے کا بھی ہر شخص انتظار کر رہا ہے کہ اس کا انجام آخر کار کیا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاط السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدٰى، یعنی آج تو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو زبان دی ہوئی ہے ہر ایک اپنے طریقے اور اپنے عمل کے بہتر اور صحیح ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے لیکن یہ دعویٰ کچھ کام دینے والا نہیں۔ بہتر اور صحیح طریقہ تو وہی ہوسکتا ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول و صحیح ہو، اور اس کا پتہ قیامت کے روز سب کو لگ جائے گا کہ کون غلطی اور گمراہی پر تھا کون صحیح اور سیدھے راستہ پر، اللھم اھدنا لما اختلف فیھا الی الحق باذنک ولاحول ولاقوة الا بک ولا ملجا ولا منجا منک الا الیک۔ الحمد للہ الذی و فقنی لتکمیل سورة طہ ضحی یوم الخمیس، لاربعة عشر خلت من ذی الحجة الحرام 1390 ھ واللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 133–135

133۔ 135 مخالفین جب دلائل کے میدان میں ہر طرف سے پسپا ہوجاتے تو ان کا آخری حربہ یہ ہوتا کہ وہ مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو اپنی رسالت کے ثبوت میں یہ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں پیش کرتے، نشانی سے مراد کوئی حِسی معجزہ بھی ہوتا اور اس طرح کا کوئی عذاب بھی جس سے قرآن ان کو رسول کی تکذیب کی صورت میں آگاہ کررہا تھا۔ اس سوال کے اٹھانے میں بھی زیادہ داخل اہل کتاب کو تھا۔ وہ مشرکین کو اس دور میں جس طرح بہت سے سوالات تھا کرتے تھے جن کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، اسی طرح یہ سبق بھی پڑھاتے تھے کی ان مدعی رسالت سے مطالبہ کرو کہ جس طرح پچھلے رسولوں نے بہت سی نشانیاں دکھائیں یہاں تک کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

135۔ 1 یعنی مسلمان اور کافر دونوں اس انتظار میں ہیں کہ دیکھو کفر غالب رہتا ہے یا اسلام غالب آتا ہے۔ 135۔ 2 اس کا علم تمہیں اس سے ہوجائے گا کہ اللہ کی مدد سے کامیاب اور سرخرو کون ہوتا ہے ؟ چناچہ یہ کامیابی مسلمانوں کے حصے میں آئی، جس سے واضح ہوگیا کہ اسلام ہی سیدھا راستہ اور اس کے حاملین ہی ہدایت یافتہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

59: یعنی دلیلیں اور حجتیں تو ساری تمام ہوچکیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا تم بھی انتظار کرو، اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب ہر شخص کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو کر واضح ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یوں اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس فقرے سے ہوا تھا کہ اے نبی آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ کسی مصیبت میں گھر جائیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ چناچہ سورة کا یہ خاتمہ بھی آغاز سے ہم آہنگ ہے کہ یہ ادنی تذکرہ ہے۔ اس شخص کے لئے جسے کوئی تذکرہ فائدہ دیتا ہو۔ جب یہ تذکرہ تم تک پہنچ گیا تو اب انتظار نتیجہ کے سوا کیا بات رہ جاتی ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 134–135

12 یعنی ایسا عظیم الشان نشان دیکھنے کے بعد تو کہتے ہیں کہ کوئی نشان کیوں نہ لایا۔ اور فرض کرو ہم یہ نشان نہ دکھاتے، یعنی قرآن نازل نہ کرتے، بس انزال کتاب اور ارسال رسول سے پہلے ہی کفر و شرک کی سزا میں ان کو دھر گھسیٹتے، تو شور مچاتے کہ صاحب ! سزا دینے سے بیشتر ہمارے پاس کوئی کتاب اور سمجھانے والا تو بھیجنا تھا کہ ہم کو ذلت و رسوائی اٹھانے سے قبل آگاہ کردیتا۔ پھر دیکھتے کہ ہم آپ کے کہنے پر کیسا چلتے۔ غرض قرآن نہ آتا تو یوں کہتے، اب آیا تو اسے چھوڑ کر دوسری من گھڑت نشانیوں کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کا مقصود ہدایت حاصل کرنا ہی نہیں۔ فضول حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں۔ سو خیر ان سے کہہ دو کہ ہم اور تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 134–135

فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ” یہ وہی اصول ہے جو ہم سورة بنی اسرائیل میں بھی پڑھ آئے ہیں : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر عذاب ہلاکت اس وقت تک نہیں بھیجتے جب تک اللہ کی طرف سے کوئی رسول آکر واضح طور پر حق کا احقاق اور باطل کا ابطال نہ کردے۔ لیکن رسول کے اتمام حجت کے بعد بھی اگر قوم انکار پر اڑی رہے تو پھر اس کو عذاب استیصال کے ذریعے سے ہلاک کر کے نسیاً منسیاً کردیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

103 یعنی اب تم بھی اور ہم بھی بلکہ سارے کا سارا عرب اس انتظام میں ہے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لہذا انتظار کرو۔ عنقریب سب کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون سا فریق سیدھی راہ پر گامزن ہے ؟ زمانہ کی گردش کس پر پڑتی ہے اور تباہ کون ہوتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

168۔ آیت کا انداز بیان ایک بلیغ انداز میں مضمون کے زور وتاکید کے لیے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ متکلم یا قائل کو اس میں کچھ ضعف یا تردد ہے۔ ولیس ھو بمعنی الشک والتردید بل ھو علی سبیل التھدید والزجر للکفار (کبیر) (آیت) ” فستعلمون “۔ میں س بہ معنی عنقریب ہے، یعنی موت پر یا حشر میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 129–135

آیت نمبر 129 تا 135 ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اہتدی۔ آپ کہہ دیجئے ہم سب انتظار کر رہے ہیں سو تم (چندے اور) انتظار کرو عنقریب تم کو خود معلوم ہوجائے گا کہ راہ راست والے کون ہیں اور وہ کون ہے جو منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔ قُلْ رسول اللہ کو خطاب ہے اور نیا کلام شروع کیا گیا ہے۔ کُلٌّہم اور تم سب۔ مُتَرَبِّصٌنتیجہ کے منتظر ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ تمہارا حال کیا ہوتا ہے اور ہمارا کیا۔ فَتَرَبَّصُوْا (کچھ اور) انتظار کرتے رہو۔ مشرکین کہا کرتے تھے ہم منتظر ہیں کہ محمد ﷺ پر زمانہ کی گردشیں آئیں اور وہ حوادث دہر میں مبتلا ہوجائیں ‘ جب وہ مرجائیں گے ‘ اسی وقت ہمارا پیچھا چھوٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(135) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے ہم میں سے اور تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی ہلاکت کا انتظار کر رہا ہے تو تھوڑا سا مزید انتظار کرلو۔ قیامت کے نزول عذاب کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ راہ راست پر کون ہیں اور ہم میں سے اور تم میں سے وہ کون ہے جسے دولت ایمان نصیب ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا۔۔ : ”كُلٌّ“ کی تنوین اس کے محذوف مضاف الیہ کی جگہ آئی ہے، یعنی ”کُلُّ وَاحِدٍ“ ہر ایک، مطلب یہ ہے کہ اگر پہلی کتابوں میں موجود واضح دلائل تمہارے لیے نبی ﷺ پر ایمان لانے کے لیے کافی نہیں اور تمہیں اپنی مرضی کی نشانی دیکھنے پر اصرار ہے تو تم ایمان لانے کے لیے نشانی کا انتظار کرتے رہو، ہم تمہارے لیے دنیا میں اللہ کی گرفت اور آخرت میں اس کے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں۔ جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور وہ کون ہے جس نے ہدایت پالی ہے ؟ اس سے رسول اللہ ﷺ کے اپنے راہ حق پر ہونے کے یقین کا اظہار ہوتا ہے، کیونکہ اتنے دعوے سے یہ بات وہی شخص…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 133–135

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا لولا یایتنا بایۃ من ربہ یہ کفار مکہ نے کہا : یعنی ہمارے پاس محمد ﷺ کیوں کوئی ایسی نشانی نہیں لے آیا جو علم ضروری کو ثابت کرتی یا کوئی ایسی آیت جو ظاہر ہوتی جیسے ثمود کی اونٹنی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا یا کیوں نہ ایسی نشانیاں لے آیا جو ہم تجویز کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے انبیاء لے کر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم تاتھم بینۃ مافی الصحف الاولیٰ ۔ صحف اولیٰ سے مراد تورات، انجیل اور پہلی کتب ہیں۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ جو کچھ ان میں ہے ان کی آپ نے خبر دی۔ الصحف کو تخفیف کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا ان کے پاس وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 133–135

1:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اولم تاتہم بینۃ مافی الصحف الاولی “ سے مراد ہے تورات اور انجیل۔ 2:ـ۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلاک ہونے والا دو پیغمبروں کی آمد کے درمیانی زمانہ میں اور دیوانہ کم عقل اور پیدا ہونے والا بچہ کہے گا اے میرے رب میرے پاس کتاب اور رسول کیوں نہیں آیا اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولو انا اھلکنہم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا “ (الآیۃ) 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الصراط السوی “ سے مراد ہے انصاف۔ الحمد اللہ سورة طہ مکمل ہوئی :

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجیے ] [ كُلٌّ: سب ] [ مُّتَرَبِصٌ: انتظار کرنے والے ہیں ] [ فَتَرَبَّصُوْا : پس تم لوگ (بھی) انتظار کرو ] [ فَسَتَعْلَمُوْنَ : پھر تم لوگ جان لو گے ] [ مَنْ : کون ] [ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ : ہموار راستے والے ہیں ] [ وَمَنِ : اور کس نے ] [ اهْتَدٰى: ہدایت پائی ] نوٹ۔ 1: اَھْلُ الرَّجُلِ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب ہوں، یا ہم دین ہوں، یا کسی صنعت اور یا کسی مکان میں شریک ہوں۔ (مفردات القرآن۔ مادہ ” ء ھ ل “ ) آیت۔ 132 ۔ میں لفظ اھل صرف اہل بیت کے مفہوم میں نہیں ہے۔ یہ لفظ عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے مثلاً اہل کتاب، اہل قریہ، اہل حدیث وغیرہ۔ لسان العرب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 133–135

اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے بعد ہلاک فرماتا ہے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں کہ رسول آتا تو پیروی کرلیتے یہ سورة طہٰ کی آخری تین آیات ہیں۔ پہلی آیت میں قریش مکہ کی ایک بیہودہ بات ذکر فرمائی ہے اور اس کا جواب دیا ہے ان لوگوں نے کہا کہ یہ صاحب نبوت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ہم جو ان سے کہتے ہیں کہ اپنے دعویٰ کی تصدیق کرانے کے لیے ہمارے سامنے فلاں معجزہ لاؤ تو وہ ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے، اگر ہمارا مطلوبہ معجزہ لے آئیں تو ہم مان لیں گے، یہ بات ان کی بطور عناد کے تھی بہت سے معجزات ان کے سامنے تھے لیکن ان کے ہوتے ہوئے ایمان نہیں لاتے تھے سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید تھا جو اب تک دنیا کے سامنے ہے سابقہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–135

تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔ اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

93:۔ یعنی آپ ان متمردین اور معاندین سے کہہ دیں کہ ہم اور تم سب ایک دوسرے انجام کے منتظر ہیں۔ تم انتظار تو کرو بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ پر کون ہے اور گمراہ کون ہے۔ سورة طہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ممن خلق الارض۔ تا۔ لہ الاسماء الحسنی۔ متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ 2 ۔ اننی انا اللہ۔ تا۔ اقم الصلوۃ لذکری۔ نفی شرک فی التصرف۔ 3 ۔ فالقہا فاذاھی حیۃ تسعی۔ تا۔ سنعیدھا سیرتھا الاولی۔ نفی علم غیب از موسیٰ (علیہ السلام) 4 ۔ قال ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ۔ تا۔ و منہا نخرجکم تارۃ اخری (رکوع 3) نفی شرک فی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 133–135

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے لئے تسلی کا مضمون بیان فرمایا ہے اور آپ کو جرات دلائی ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے حق تبلیغ ادا کرتے رہیں۔ اور مخالفوں کی مخالفت کی کچھ پروانہ کریں۔ دیکھیں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے کس طرح فرعون اور اس کی قوم کے سرکش لوگوں کے مقابلہ کیا ، کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کیں اور بالآخر کامیاب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمان کفار ومشرکین کی بیہودہ باتوں اور طعن وتشنیع کے مقابلے میں صبر اختیار کرنے اور نماز پر مداومت کی نصیحت کی۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نافرمان لوگوں کی رفاہیت کا ذکر کیا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا۝ 0ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اہْتَدٰى۝ 135ۧ ربص التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] ، قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ، قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] ، وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوائِرَ [ التوبة/ 98] . ( ر ب ص ) التربص کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 131–135

1 ؎ یعنی عطیہ آخرت ان دنیاوی سامانوں اور آرائشوں سے بہتر ہے اس لیے کہ اس کے مقابلہ میں یہ چیزیں بےحقیقت ہیں اور باقی بھی ہے کس لیے کہ یہ چند روزہ وہ دائمی ہے۔ 12 منہ ولاتمدن الخ المد دراز کردن ‘ کشیدن۔ اور مراد رغبت اور حسرت کے ساتھ نگاہ کرنا۔ دارآخرت کے توشہ کی تعلیم کر کے جو نماز و عبادت ہے دنیا کے وہ اسباب و آرائش و تجمل جو کفار اور دولت مندوں کو دیے گئے ہیں۔ مکان اور عمدہ لباس عمدہ عورتیں اور سواریاں اور دیگر چیزیں ان کی طرف رغبت کی نگاہ سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فتنہ ہیں ان میں ان کی خدا تعالیٰ آزمائش کرتا ہے۔ سو وہ ان میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ دارآخرت اور اس کے توشہ کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ کُلٌّ مُّتَرَبِّضٌ فَـتَرَبَّصُوْا ج فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَمَنِ اھْتَدٰی۔ (طٰـہٰ : 135) (کہہ دیجیے ہر شخص انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو، تم عنقریب جان لو گے کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں۔ ) آخری وارننگ یہ اس سورة کی آخری آیت ہے۔ اہل مکہ کو تفہیم اور انذار کی حد تک جو کچھ کہنا تھا وہ مکمل ہوگیا۔ اب اس آیت میں آخری وارننگ دی جارہی ہے اور شدت عتاب کا عالم یہ ہے کہ اب براہ راست مشرکین سے خطاب فرمایا جارہا ہے۔ اب تک غائب کے صیغوں میں بات ہورہی تھی لیکن اب دھمکی اور وارننگ کے لیے تخاطب کا انداز اختیار کیا گیا۔ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 134–135

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی ضرورت اور اس کی دلیل۔ اللہ تعالیٰ نے از راہ کرم یہ ضابطہ اپنے لیے طے کر رکھا ہے کہ اس وقت تک لوگوں کو ہلاک نہ کیا جائے جب تک ان پر اتمام حجّت نہ ہوجائے۔ اسی لیے انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا اور یہی نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی کے طور پر مبعوث کرنے کا مقصد ہے تاکہ اہل کتاب اور قیامت تک کے لیے پیدا ہونے والے لوگوں پر حجت قائم ہوجائے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو لوگ بہانہ بناتے اور کہتے کہ اے رب ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا آتا تو ہم اس کی بات مان کر اس ذلّت اور عذاب سے بچ جاتے۔ کیونکہ اب نبی آخرالزمان ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی نبوت اور دعوت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

135: قُلْ کُلٌّ (کہہ دیں) ہر ایک ہر ایک ہم میں سے ہم بھی اور تم بھی مُّتَرَبِّصٌ (انتظار کرتے ہیں) انجام کے منتظر ہیں۔ کہ ہمارا اور تمہارا معاملہ کس انجام تک پہنچتا ہے۔ فَتَرَ بَّصُوْا (پس تم بھی انتظار کرو۔ ) فَسَتَعْلَمُوْنَ (پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ ) جب قیامت آن پہنچے گی۔ من اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ (کہ کون درست راستے والے ہیں) ۔ السَّویِّ کا معنی مستقیم ہے۔ نحو : من مبتدا اصحاب خبر ہے۔ اور محلاً منصوب ہے۔ وَمَنِ اھْتَدٰی (اور کون منزل مقصود کی راہ پانے والا ہے) یعنی ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتیں۔ فضیلت : رسول (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا اہل جنت سورة طہ اور یٰسین پڑھیں گے۔ رواہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

135۔ قل کل متربص، ،، ہم منتظر ہیں زمانے کے چلنے کے ساتھ کیونکہ مشرکین کہا کرتے تھے ہم منتظر ہیں کہ محمد پر زمانے کی گردشتیں آئیں اور وہ حوادث دھر میں مبتلا ہوجائیں۔ جب وہ مرجائیں گے اسی وقت ہمارا پیچھا چھوٹے گا، فتربصوا تم انتظار کرو، فستعلمون، جب اللہ کا حخم آجائے گا اور قیامت واقع ہوجائے گی۔ من اصحاب الصراط السوی، وہ سیدھاراستہ ہے ۔ ومن اھتدی اور گمراہی سے راستہ پانے والے ہم ہیں یا تم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

135:۔ اسلام سے پہلے عرب میں شاعر بہت ہوتے تھے اور عرب کا یہ بھی ایک دستور تھا کہ ہجو کے ڈر سے شاعروں کے منہ پر ان کو برا نہیں کہتے تھے ‘ بلکہ جن شاعروں کو اپنا مخالف سمجھتے تھے ‘ ان پر گردش زمانہ سے کسی آفت کے آجانے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ قریش بھی اللہ کے رسول کو شاعر اور بتوں کی مذمت کی آیتوں کو شاعرانہ ہجو خیال کر کے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے حق میں کسی آفت کے آجانے کا انتظار کیا کرتے تھے ‘ اس لیے فرمایا اے اللہ کے رسول ان مشرکوں سے کہہ دیا جائے کہ ہم تمہارے انجام کا انتظار کرتے ہیں اور تم ہمارے انجام کے انتظار میں لگے رہو ‘ کچھ عرصہ کے بعد تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں راہ راست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 135 رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے (و قالوالن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا۔ اوتکون لک جنۃ من نخیل و عنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا۔ اوتکون لک جنتۃ من نخیل و عنیب فتفجر الانھ خللھا تفجیرا۔ اوتسقط المساء کمازعمت علینا کسفا اوتاتی باللہ و الملکۃ قبیلا) بنی اسرائیل : (18/۔ 90۔ 92) ” انہوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لئے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا باغی ہو اور تو اس باغ کے درمیان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 134–135

147 انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو یہ انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک کھلا مظہر ہے کہ اگر ان کو پیغمبر کی بعثت سے پہلے ہلاک کردیا جاتا تو اس وقت یہ لوگ اس طرح کہتے۔ کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی قبل اس کے کہ ہمیں اس طرح ذلت اٹھانا پڑتی اور ہمیں اس رسوائی سے دوچار ہونا پڑتا۔ مگر اب جبکہ ان کے پاس وہ عظیم الشان پیغمبر اور آخری نبی تشریف لا چکے جو کہ نبیوں کے بھی امام و پیشوا ہیں تو اب یہ لوگ ان کے منکر اور درپے آزار ہوگئے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان کس قدر بےانصاف اور کتنا ناشکرا ہے کہ اسلام کے اس نور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 130–135

صبر، نماز قائم کرنے اور گھر والوں کو اس کا حکم دینے کا حکم تشریح : اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور یہ خطاب تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دشمن مختلف صورتوں اور حالات میں ضرور ہوتا ہے۔ تو اس کی تکلیف دہ باتوں ایذا رسانیوں، چالبازیوں، شرارتوں خباثتوں اور نفرتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے صبر اور صلوٰۃ، یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انتقام کے چکر میں نہ پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 129–135

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:135) متربص۔ اسم فاعل واحد مذکر تربص (تفعل) مصدر منتظر۔ راہ دیکھنے والا۔ مراد نتائج اعمال کا انتظار کرنے والا۔ فتربصوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم انتظار کرو۔ فستعلمون۔ س مستقبل قریب کے لئے تعلمون جمع مذکر حاضر۔ پس تم عنقریب ہی جان لو گے یعنی موت کے وقت یا حشر میں۔ الصراط السوی۔ موصوف وصفت۔ راہ مستقیم۔ السوی اسے کہتے ہیں کہ جو کیفیت اور مقدار دونوں کے لحاظ سے افراط و تفریط سے محفوظ ہو۔ اصحاب الصراط السوی۔ اصحاب مضاف الصراط السوی موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ سیدھے راستہ پر چلنے والے لوگ۔ اھتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے ہدایت اختیار کی۔ اھتداء (افتعال) سے مصدر ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 133–135

لغات القرآن آیت نمبر 133 تا 135 لولا یا تینا وہ کیوں نہیں لاتے ہمارے پاس۔ صحف (صحیفۃ) کتابیں۔ ارسلت تو نے بھیجا۔ نذل ہم ذلیل ہوتے ہیں۔ نخزی ہم رسوا ہوتے ہیں۔ متربص انتظار کرتے ہیں۔ السوی برابر۔ اھتدی جس نے ہدایت پائی۔ تشریح :- آیت نمبر 133 تا 135 سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کو دیئے گئے معجزات (عصا اور ید بیضا) کا بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ ان معجزات کو دیکھ کر کئی لوگ تو ایمان لے آئے لیکن آل فرعون اور بنی اسرائیل کی بہت بڑی اکثریت نے سب کچھ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس کو ایک جادو سے زیادہ نہ سمجھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کو ایمان لانا ہے وہ کسی معجزہ یا بہانے کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ ! تم کافروں سے کہہ دو کہ دنیا میں ہر ایک انتظار کر رہا ہے پس تم بھی منتظر رہو۔ ذرا آنکھ بند ہوجائے تو معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ پر چلنے والا اور ہدایت پانے والا کون ہے۔ جب تک دنیا میں موجود ہو یہ باغ و بہار اسی وقت تک کی ہے۔ اور جب آنکھیں بند ہوجائیں گی حقیقت کھل جائے گی ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 134–135

(ف 1) مکہ والوں کی عبادت یہ تھی کہ جب انہیں اصلاح وتہذیب کے سچے اور کامل پروگرام کی طرف بلایا جاتا ، تو وہ کہتے پہلے ہمیں ہماری مرضی کے مطابق نشانیاں دکھائیے پھر اس کے بعد ہم تمہاری دعوت پر غور کریں گے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کیا انہوں نے پہلے صحیفوں کو پڑھ لیا ہے اور انبیاء سابقین کے پیغامات پر غور کرلیا ہے ؟ وہ اگر عبرت وفکر سے ان گزشتہ آسمانی کتب کا مطالعہ کریں تو انہیں قرآن کی صداقت فورا معلوم ہوجائے گی ، حل لغات : متربص : منتظر ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 135 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم اور ہم سب کے سب منتظر ہیں سو تم اور انتظار کرو اب عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور راہ یافتہ کون ہے۔ یعنی تم ہمارے انجام کے منتظر ہو اور ہم تہارے انجام کے منتظر ہیں لہٰذا چندے اور ٹھیر جائو اور انتظار کرلو مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور وہ کون ہے جو راہ یافتہ اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے یعنی مرنے کے بعد ہی یہ سب معلوم ہوجائے گا اور قیامت میں تو سب کچھ آشکارا ہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 133–135

ف 8۔ مطلب یہ کہ کیا ان کے پاس قرآن نہیں پہنچا جس کی پہلے سے شہرت تھی کہ وہ نبوت پر کافی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہاں ہر ایک کو انتظار کرنا ہے تم بھی انتظار کرو حقیقت تم پر کھل جائے گی : 135۔ گزشتہ امتوں نے بھی یہی کیا اور یہی کہا جو آج تم کہہ رہے ہو اور کر رہے ہو ‘ لیکن اس دار فانی میں کچھ وقت کے لئے ان کو بھی انتظار کرنا پڑا کیونکہ ہمارا قانون امہال سب کے لئے ڈھیل چاہتا ہے اور ہم اپنے قانون کے مطابق سب کو کچھ وقت کے لئے ڈھیل دیتے آئے اور آج اس پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی ہمارا قانون وہی ہے اس لئے ہم نے تم کو ڈھیل دے رکھی پہلوں نے اس انتظار اور ڈھیل سے بھی بہت کم فائدہ حاصل کیا اور تم بھی بہت کم فائدہ حاصل کرو گے اور یہ بھی کہ جب سے یہ تحریک اٹھی اور ہمارے نبی ورسول محمد رسول اللہ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَ‌اطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَىٰ (Then you will know who are people of the straight path and who has guidance - 20:135.) It means that though everybody is free to claim merit for his own ways and his own actions, these claims are of no value, because the correct way is that only which finds favour with Allah, and on the Day of Resurrection everybody will be made aware as to who followed the path of error and who took the road to salvation. اللہُمَّ اھدنا لما اختلف فیہ الی الحَقَ باذنکَ ولاحَول ولا قُوَأۃَ الَّابِک ولا ملجأ مِنکَ الَّا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 134–135

117. That is, ever since the message of Islam is being presented in your city (Makkah), it is not only every person of this city who is waiting for its ultimate result but also every one outside it, who has heard of it.

Read the full tafseer →