Explained with ayahs 133–135
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ۔
کفاریہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے ؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی ﷺ پر اتارا ہے جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا ﷺ۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔ قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لئے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت غیرصحت کو ممتاز کردے۔ سورة عنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا (قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
سورة طٰهٰ 117
یعنی جب سے یہ دعوت تمہارے شہر میں اٹھی ہے، نہ صرف اس شہر کا بلکہ گرد و پیش کے علاقے کا بھی ہر شخص انتظار کر رہا ہے کہ اس کا انجام آخر کار کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى یعنی پچھلی آسمانی کتابیں تورات و انجیل اور صحف ابراہیم ؑ وغیرہ سب کے سب رسول آخر الزماں محمد مصطفے ٰ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے آئے ہیں کیا یہ بینات ان منکرین کے لئے کافی سے زیادہ ثبوت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
133۔ 135
مخالفین جب دلائل کے میدان میں ہر طرف سے پسپا ہوجاتے تو ان کا آخری حربہ یہ ہوتا کہ وہ مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو اپنی رسالت کے ثبوت میں یہ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں پیش کرتے، نشانی سے مراد کوئی حِسی معجزہ بھی ہوتا اور اس طرح کا کوئی عذاب بھی جس سے قرآن ان کو رسول کی تکذیب کی صورت میں آگاہ کررہا تھا۔ اس سوال کے اٹھانے میں بھی زیادہ داخل اہل کتاب کو تھا۔ وہ مشرکین کو اس دور میں جس طرح بہت سے سوالات تھا کرتے تھے جن کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، اسی طرح یہ سبق بھی پڑھاتے تھے کی ان مدعی رسالت سے مطالبہ کرو کہ جس طرح پچھلے رسولوں نے بہت سی نشانیاں دکھائیں یہاں تک کہ ان کی…
Read the full tafseer →134۔ 1 مراد آخر الزماں پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
58: اس سے مراد قرآن کریم ہے اور آیت کی تشریح دو طرح کی جاسکتی ہے، ایک یہ کہ یہ قرآن وہ کتاب ہے جس کی پیشین گوئی پچھلے آسمانی صحیفوں میں موجود تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان صحیفوں نے قرآن کریم کی حقانیت کی گواہی دی تھی، اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن کریم پچھلے آسمانی صحیفوں کے مضامین کی تصدیق کر کے ان کی گواہی دے رہا ہے، حالانکہ نبی کریم ﷺ جن کی زبان مبارک پر یہ کلام جاری ہوا ہے وہ امی ہیں، اور ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے، جس سے وہ پچھلی کتابوں کا علم حاصل کرسکتے۔ اب جو ان آسمانی کتابوں کے مضامین ان کی زبان پر جاری ہو رہے ہیں، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ مضامین اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →یہ لوگ اس وقت ذلیل اور رسوا نہیں ہوئے تھے جب ان پر قرآن کی یہ آیات پڑھی جا رہی تھیں بلکہ یہ تو ان کے فیصلہ شدہ انجام کی ایک تصویر کشی ہے جس میں وہ لازماً رہیں گے۔ یہ آیات ان پر بطور اتمام حجت آگئیں تاکہ وہ قیامت کے دن ایسا نہ کہہ سکیں اور ان کے لئے کوئی عذر و معذرت باقی نہ رہے کہ ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں آیا۔
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کا حتمی انجام یہ ہے کہ یہ ذلیل اور رسوا ہونے والے ہیں تو قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ، ان کا فیصلہ تو ہوچکا ہے۔
حف القلم بما ھو کائن پریشان نہ ہوں کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اعلان کردیں کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
12 یعنی ایسا عظیم الشان نشان دیکھنے کے بعد تو کہتے ہیں کہ کوئی نشان کیوں نہ لایا۔ اور فرض کرو ہم یہ نشان نہ دکھاتے، یعنی قرآن نازل نہ کرتے، بس انزال کتاب اور ارسال رسول سے پہلے ہی کفر و شرک کی سزا میں ان کو دھر گھسیٹتے، تو شور مچاتے کہ صاحب ! سزا دینے سے بیشتر ہمارے پاس کوئی کتاب اور سمجھانے والا تو بھیجنا تھا کہ ہم کو ذلت و رسوائی اٹھانے سے قبل آگاہ کردیتا۔ پھر دیکھتے کہ ہم آپ کے کہنے پر کیسا چلتے۔ غرض قرآن نہ آتا تو یوں کہتے، اب آیا تو اسے چھوڑ کر دوسری من گھڑت نشانیوں کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کا مقصود ہدایت حاصل کرنا ہی نہیں۔ فضول حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں۔ سو خیر ان سے کہہ دو کہ ہم اور تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ”
یہ وہی اصول ہے جو ہم سورة بنی اسرائیل میں بھی پڑھ آئے ہیں : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر عذاب ہلاکت اس وقت تک نہیں بھیجتے جب تک اللہ کی طرف سے کوئی رسول آکر واضح طور پر حق کا احقاق اور باطل کا ابطال نہ کردے۔ لیکن رسول کے اتمام حجت کے بعد بھی اگر قوم انکار پر اڑی رہے تو پھر اس کو عذاب استیصال کے ذریعے سے ہلاک کر کے نسیاً منسیاً کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →102 یعنی یہ قرآن بھی بطور حجت اور کافروں کا یہ اعتراض رفع کرنے کے لئے اتارا گیا ہے کہ اگر ہم پر بھی یہود و نصاریٰ کی طرف اللہ کی طرف سے ہدایت کی کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم یقینا ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ نیز ہم نے ان میں رسول اس لئے بھی بھیجا ہے کہ وہ ذلت و رسوائی کے بعد یہ نہ کہنے لگیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آتا تو ہم یقینا اس کی فرمانبرداری کرتے۔ اللہ کے احکام بجا لاتے اور ہمیں یہ رسوائیاں نہ دیکھنا پڑتیں۔
Read the full tafseer →167۔ یعنی آج جب قرآن اور رسول آچکے ہیں، جب تو یہ ان کا یوں انکار کررہے ہیں، اور اگر کہیں قرآن اور رسول نہ آئے ہوتے تو قیامت کے روز یہ عذر پیش کردیتے کہ ہمارے پاس رسول ہی کہاں آیا وہ آتا تو ہم اس کے مطیع ہو نہ جاتے ؟ (آیت) ” من قبل “۔ عربی محاورہ میں یہ نفی کے معنی میں بھی آتا ہے یعنی بجائے اس کے کہ ہم حقیر ورسوا ہوتے یا ہم حقیر ورسوا نہ ہونے پاتے اور ہم رسول ﷺ کی پیروی کرلیتے۔ (آیت) ” نذل “۔ یعنی بےقدر خود اپنی نظر میں ہوں۔ (آیت) ” نخزی “۔ یعنی رسوا دوسروں کی نگاہ میں ہوں (تھانوی (رح) الذل الھوان والخزی الافتضاح (بحر) (آیت) ” من قبلہ “۔ میں ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی لی گئی اور بینہ وتذکیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت نمبر 129 تا 135
ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان…
Read the full tafseer →ولو انا اہلکنہم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلتت الینا رسولا فنتبع ایتک من قبل ان نذل ونخزی۔ اور اگر ہم ان کو اس سے (یعنی قرآن آنے سے) پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ (بطور عذر) یوں کہتے کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس (دنیا میں) کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تھا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے قبل اس کے کہ ہم (یہاں خود) ذلیل ہوں اور (دوسروں کی نظر میں) رسوا ہوں۔
وَلَوْ اَنَّا اَہْلَکْنَاہُمْاور اگر ہم بالفرض ان قریش کے کافروں کو شرک کرنے کی وجہ سے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے۔
مِنْ قَبْلِہٖمحمد ﷺ : کو بھیجنے سے پہلے یا نصیحت کرنے اور بینہ بھیجنے سے پہلے۔
لَقَالُوْاتو قیامت کے دن یہ کہتے۔ لَوْلاَ…
Read the full tafseer →(134) اور اگر ہم ان کفار مکہ کو اس سے پہلے کہ رسول اکرم ﷺ ان کے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تھا کہ ہم رسول کی اطاعت کرتے اور آپ کی کتاب پر ایمان لاتے اس سے پہلے کہ ہم بدر کے دن مارے گئے اور قیامت کے دن ہمیں عذاب ہوا۔
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو عذاب دینے سے پہلے انبیاء کو مبعوث کرنے اور کفار کو مہلت دینے کی حکمت دوبارہ بیان فرمائی۔ اس سے مقصود ان کا عذر ختم کرنا اور ان پر حجت تمام کرنا ہے اور یہی ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا دستور رہا ہے۔ دیکھیے سورة قصص (59) اور بنی اسرائیل (15)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا لولا یایتنا بایۃ من ربہ یہ کفار مکہ نے کہا : یعنی ہمارے پاس محمد ﷺ کیوں کوئی ایسی نشانی نہیں لے آیا جو علم ضروری کو ثابت کرتی یا کوئی ایسی آیت جو ظاہر ہوتی جیسے ثمود کی اونٹنی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا یا کیوں نہ ایسی نشانیاں لے آیا جو ہم تجویز کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے انبیاء لے کر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم تاتھم بینۃ مافی الصحف الاولیٰ ۔ صحف اولیٰ سے مراد تورات، انجیل اور پہلی کتب ہیں۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ جو کچھ ان میں ہے ان کی آپ نے خبر دی۔ الصحف کو تخفیف کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا ان کے پاس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
1:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اولم تاتہم بینۃ مافی الصحف الاولی “ سے مراد ہے تورات اور انجیل۔
2:ـ۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلاک ہونے والا دو پیغمبروں کی آمد کے درمیانی زمانہ میں اور دیوانہ کم عقل اور پیدا ہونے والا بچہ کہے گا اے میرے رب میرے پاس کتاب اور رسول کیوں نہیں آیا اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولو انا اھلکنہم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا “ (الآیۃ)
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الصراط السوی “ سے مراد ہے انصاف۔
الحمد اللہ سورة طہ مکمل ہوئی :
Read the full tafseer →[وَلَوْ : اور اگر ] [انآ : یہ کہ ] [اَهْلَكْنٰهُمْ : ہم ہلاک کرتے ان کو ] [بِعَذَابٍ : کسی عذاب سے ] [مِّنْ قَبْلِهٖ : اس سے پہلے ] [لَقَالُوْا : تو وہ لوگ ضرور کہتے ] [رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [لَوْلَآ : کیوں نہیں [اَرْسَلْتَ : تو نے بھیجا ] [اِلَيْنَا : ہماری طرف ] [رَسُوْلًا : کوئی رسول ] [فَنَتَّبِعَ : نتیجتاً ہم پیروی کرتے ] [اٰيٰتِكَ : تیری نشانیوں کی ] [مِنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ [ نَّذِلَّ : ہم ذلیل ہوتے ] [وَنَخْزٰى: اور ہم رسوا ہوتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے بعد ہلاک فرماتا ہے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں کہ رسول آتا تو پیروی کرلیتے
یہ سورة طہٰ کی آخری تین آیات ہیں۔ پہلی آیت میں قریش مکہ کی ایک بیہودہ بات ذکر فرمائی ہے اور اس کا جواب دیا ہے ان لوگوں نے کہا کہ یہ صاحب نبوت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ہم جو ان سے کہتے ہیں کہ اپنے دعویٰ کی تصدیق کرانے کے لیے ہمارے سامنے فلاں معجزہ لاؤ تو وہ ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے، اگر ہمارا مطلوبہ معجزہ لے آئیں تو ہم مان لیں گے، یہ بات ان کی بطور عناد کے تھی بہت سے معجزات ان کے سامنے تھے لیکن ان کے ہوتے ہوئے ایمان نہیں لاتے تھے سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید تھا جو اب تک دنیا کے سامنے ہے سابقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت
از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔
اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…
Read the full tafseer →92:۔ یہ استیناف ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ ہم نے قرآن منکرین پر حجت قائم کرنے کے لیے نازل کیا ہے۔ تاکہ قیامت کے دن وہ کوئی عذر نہ کرسکیں۔ یعنی اگر ہم قرآن نازل کرنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے ہی عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کردیتے۔ تو قیامت کے دن وہ کہہ سکتے تھے کہ اے اللہ تو نے اپنا رسول بھیج کر اور اس پر اپنی آیتیں نازل فرما کر ہمیں سیدھی راہ کیوں نہ دکھائی۔ تاکہ ہم تیرے پیغمبروں کا اتباع کرتے اور آج ذلیل و رسوا نہ ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے لئے تسلی کا مضمون بیان فرمایا ہے اور آپ کو جرات دلائی ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے حق تبلیغ ادا کرتے رہیں۔ اور مخالفوں کی مخالفت کی کچھ پروانہ کریں۔ دیکھیں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے کس طرح فرعون اور اس کی قوم کے سرکش لوگوں کے مقابلہ کیا ، کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کیں اور بالآخر کامیاب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمان کفار ومشرکین کی بیہودہ باتوں اور طعن وتشنیع کے مقابلے میں صبر اختیار کرنے اور نماز پر مداومت کی نصیحت کی۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نافرمان لوگوں کی رفاہیت کا ذکر کیا اور…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّآ اَہْلَكْنٰہُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى 134
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه :
افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29]
- وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله :
وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام .
والثالث :
الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار :
وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] .
( ھ ل ک ) الھلاک
یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–135
1 ؎ یعنی عطیہ آخرت ان دنیاوی سامانوں اور آرائشوں سے بہتر ہے اس لیے کہ اس کے مقابلہ میں یہ چیزیں بےحقیقت ہیں اور باقی بھی ہے کس لیے کہ یہ چند روزہ وہ دائمی ہے۔ 12 منہ
ولاتمدن الخ المد دراز کردن ‘ کشیدن۔ اور مراد رغبت اور حسرت کے ساتھ نگاہ کرنا۔ دارآخرت کے توشہ کی تعلیم کر کے جو نماز و عبادت ہے دنیا کے وہ اسباب و آرائش و تجمل جو کفار اور دولت مندوں کو دیے گئے ہیں۔ مکان اور عمدہ لباس عمدہ عورتیں اور سواریاں اور دیگر چیزیں ان کی طرف رغبت کی نگاہ سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فتنہ ہیں ان میں ان کی خدا تعالیٰ آزمائش کرتا ہے۔ سو وہ ان میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ دارآخرت اور اس کے توشہ کا…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّـآ اَھْلَکْنٰـھُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلاً فَـنَـتَّبِعَ اٰیٰـتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی۔ (طٰـہٰ : 134)
اگر ہم ان کو اس سے پہلے ہی کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ کہتے، اے ہمارے رب ! تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے احکام کی پیروی کرتے۔ )
اس آیت کریمہ میں روئے سخن مشرکین کی جانب ہے کیونکہ سابقہ آیت کریمہ میں جو مطالبہ کیا گیا ہے اس کی انگیخت اگرچہ اہل کتاب کی طرف سے تھی لیکن پیش کرنے والے مشرکین تھے۔ اس لیے پہلے اہل کتاب کو اس کا جواب دیا گیا، اب مشرکین سے کہا جارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی ضرورت اور اس کی دلیل۔
اللہ تعالیٰ نے از راہ کرم یہ ضابطہ اپنے لیے طے کر رکھا ہے کہ اس وقت تک لوگوں کو ہلاک نہ کیا جائے جب تک ان پر اتمام حجّت نہ ہوجائے۔ اسی لیے انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا اور یہی نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی کے طور پر مبعوث کرنے کا مقصد ہے تاکہ اہل کتاب اور قیامت تک کے لیے پیدا ہونے والے لوگوں پر حجت قائم ہوجائے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو لوگ بہانہ بناتے اور کہتے کہ اے رب ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا آتا تو ہم اس کی بات مان کر اس ذلّت اور عذاب سے بچ جاتے۔ کیونکہ اب نبی آخرالزمان ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی نبوت اور دعوت…
Read the full tafseer →134: وَلَوْ اَ نَّآ اَھْلَکْنٰـھُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ (اور اگر ہم ان کو اس قرآن سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے) رسول سے قبل نمبر 2۔ قرآن سے قبل لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ ( تو یہ ضرور کہتے اے ہمارے رب کیوں نہ) ۔ اَرْسَلْتَ اِلیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ (آپ نے ہماری طرف کوئی رسول بھیجا تاکہ ہم تیرے احکام پر چلتے۔ )
نحو : نتبع منصوب ہے کیونکہ یہ استفہام کا جواب ہے فاء کے ساتھ۔ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ (آپ کی آیات پر اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے) نزول عذاب کے سبب۔ وَنَخْزٰی (اور رسوا ہوتے) آخرت میں۔
Read the full tafseer →134۔ ولوانا اھلکنا ، ، ان پر رسول کو بھیجنے سے پہلے اور قرآن کے نزول سے پہلے۔ لقالو اربنا لولا، بمعنی ھلا کے ہے۔ ارسلت الینا رسولا، کہ ہماری طرف رسول کو نہیں بھیجا، جو ہمیں ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کہیں گے ، فنتبع آیاتک من قبل ان نذل ونخزی، ان کو عذاب کے ذریعے ذلیل کرتے اور قید اور قتل ہونے کی ذلت اٹھاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
133۔ 134:۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو مثلا جس طرح صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کے پتھر میں سے پیدا ہوجانے کا ظاہر معجرہ اپنی قوم کے لوگوں کو دکھلا دیا ‘ اسی طرح یہ رسول ہم کو کوئی ظاہر ظاہر معجزہ کیوں نہیں دکھلاتے ‘ مشرکین کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ ان پڑھ رسول کی معرفت پچھلی کتابوں کے سچے قصے جو ان لوگوں نے سنے ہیں کیا اس سے اتنی بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ غیب کے سچے قصے بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے نہیں بیان کرسکتا تو اب اس میں کیا شک باقی رہا کہ قرآن کتاب آسمانی ہے اور جن پر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
آیت 132
اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجئے، انہیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر سا چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں۔ (واصطبرعلیھا) ” اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔ “ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لئے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
147 انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو یہ انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک کھلا مظہر ہے کہ اگر ان کو پیغمبر کی بعثت سے پہلے ہلاک کردیا جاتا تو اس وقت یہ لوگ اس طرح کہتے۔ کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی قبل اس کے کہ ہمیں اس طرح ذلت اٹھانا پڑتی اور ہمیں اس رسوائی سے دوچار ہونا پڑتا۔ مگر اب جبکہ ان کے پاس وہ عظیم الشان پیغمبر اور آخری نبی تشریف لا چکے جو کہ نبیوں کے بھی امام و پیشوا ہیں تو اب یہ لوگ ان کے منکر اور درپے آزار ہوگئے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان کس قدر بےانصاف اور کتنا ناشکرا ہے کہ اسلام کے اس نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
صبر، نماز قائم کرنے اور گھر والوں کو اس کا حکم دینے کا حکم
تشریح : اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور یہ خطاب تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دشمن مختلف صورتوں اور حالات میں ضرور ہوتا ہے۔ تو اس کی تکلیف دہ باتوں ایذا رسانیوں، چالبازیوں، شرارتوں خباثتوں اور نفرتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے صبر اور صلوٰۃ، یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انتقام کے چکر میں نہ پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
ف 10 کہ کس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟
Read the full tafseer →(20:134) نذل۔ مضارع جمع متکلم ذل وذلۃ مصدر (باب ضرب) (پیشتر اس کے کہ) ہم ذلیل ہوں یا ذلیل ہوتے۔
نخزی۔ مضارع جمع متکلم خزی مصدر (باب سمع) پیشتر اس کے کہ ) رسوا ہوں یا رسوا ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
لغات القرآن آیت نمبر 133 تا 135
لولا یا تینا وہ کیوں نہیں لاتے ہمارے پاس۔ صحف (صحیفۃ) کتابیں۔ ارسلت تو نے بھیجا۔ نذل ہم ذلیل ہوتے ہیں۔ نخزی ہم رسوا ہوتے ہیں۔ متربص انتظار کرتے ہیں۔ السوی برابر۔ اھتدی جس نے ہدایت پائی۔
تشریح :- آیت نمبر 133 تا 135
سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کو دیئے گئے معجزات (عصا اور ید بیضا) کا بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ ان معجزات کو دیکھ کر کئی لوگ تو ایمان لے آئے لیکن آل فرعون اور بنی اسرائیل کی بہت بڑی اکثریت نے سب کچھ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس کو ایک جادو سے زیادہ نہ سمجھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کو ایمان لانا ہے وہ کسی معجزہ یا بہانے کا…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا :" کہ اگر ہم چاہتے تو بغیر رسول بھیجے ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کردیتے " مگر وہ یہ عذر کرتے :" اے پروردگار ! تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا، تاکہ ہییں اپنی ذلت اور رسوائی سے پہلے تیرے احکام معلوم ہوجاتے اور ہم ان کو مان لیتے "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
[72] یعنی نزول قرآن اور ارسال رسول سے پہلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
(ف 1) مکہ والوں کی عبادت یہ تھی کہ جب انہیں اصلاح وتہذیب کے سچے اور کامل پروگرام کی طرف بلایا جاتا ، تو وہ کہتے پہلے ہمیں ہماری مرضی کے مطابق نشانیاں دکھائیے پھر اس کے بعد ہم تمہاری دعوت پر غور کریں گے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کیا انہوں نے پہلے صحیفوں کو پڑھ لیا ہے اور انبیاء سابقین کے پیغامات پر غور کرلیا ہے ؟ وہ اگر عبرت وفکر سے ان گزشتہ آسمانی کتب کا مطالعہ کریں تو انہیں قرآن کی صداقت فورا معلوم ہوجائے گی ،
حل لغات :
متربص : منتظر ۔
Read the full tafseer →- 134 اور اگر ہم ان کو اس مصداق کے پہونچنے سے قبل کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو اس وقت یہ لوگ یوں کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیرے احکام اور تیری کتاب اور تیرے کلام کی پیروی کرتے ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے۔ یعنی اب تو یہ کہتے ہیں کہ نشانی کیوں نہیں لاتا اور اگر فرض کرو نزول قرآن کریم اور پیغمبر کی تشریف آوری سے قبل ہم ان کے کفر و شرک کی وجہ سے ہلاک و برباد کردیتے تو یہ قیامت کے دن یوں کہتے کہ آپ نے اس ذلت و رسوائی سے پہلے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجان کہ ہم تیرے احکام کی پیروی کرتے اور تیرے کلام کا اتباع کرتے یعنی قیامت میں جہنم کا عذاب دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
ف 8۔ مطلب یہ کہ کیا ان کے پاس قرآن نہیں پہنچا جس کی پہلے سے شہرت تھی کہ وہ نبوت پر کافی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →اگر ان پر عذاب کا نشان نازل کردیا جاتا تو یہ لوگ کہہ سکتے کہ ہم پر حجت نازل نہ کی گئی :
134۔ فرمایا اگر تم کوئی نشانی ہی طلب کرتے ہو تو ایک طرح کی نشانی تو ہم نے دی اور ایسی دی کہ اس کے اندر ایک چھوڑکئی نشانات موجود ہیں لیکن تم ایسے نشانات کو نشانات ماننے کے لئے تیار نہیں تو پھر دوسری طرح کے نشانات نشانات عذاب ہیں اگر ہم ان مکہ والوں پر اس طرح کا کوئی عذاب نازل کردیتے تو اس وقت یہ لوگ پکار پکار کر کہتے کہ دوسروں کی طرح ہمیں مہلت کیوں نہ دی گئی اور جس طرح پہلی قوموں کے پاس اللہ تعالیٰ کے نبی ورسول آئے اسی طرح کا کوئی نبی ورسول ہماری طرف کیوں نہ بھیجا گیا ؟ اگر ہماری طرف کوئی ایسا نبی ورسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ (Has there not come to them the manifestation of that which was contained in the earlier scriptures? - 20:133) It means that all the old Revealed Books such as the Torah, the Injil (Evangel) and the scriptures given to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) bear a witness to the prophethood of the last Prophet Muhammad ﷺ . Is not all this sufficient evidence for those who persist in their denial of his prophethood?
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
117. That is, ever since the message of Islam is being presented in your city (Makkah), it is not only every person of this city who is waiting for its ultimate result but also every one outside it, who has heard of it.
Read the full tafseer →