Explained with ayahs 133–135
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ۔
کفاریہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے ؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی ﷺ پر اتارا ہے جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا ﷺ۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔ قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لئے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت غیرصحت کو ممتاز کردے۔ سورة عنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا (قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 116
یعنی کیا یہ کوئی کم معجزہ ہے کہ انہی میں سے ایک امی شخص نے وہ کتاب پیش کی ہے جس میں شروع سے اب تک کی تمام کتب آسمانی کے مضامین اور تعلیمات کا عطر نکال کر رکھ دیا گیا ہے۔ انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ان کتابوں میں جو کچھ تھا، وہ سب نہ صرف یہ کہ اس میں جمع کردیا گیا، بلکہ اس کو ایسا کھول کر واضح بھی کردیا گیا کہ صحر نشین بدّو تک اس کو سمجھ کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى یعنی پچھلی آسمانی کتابیں تورات و انجیل اور صحف ابراہیم ؑ وغیرہ سب کے سب رسول آخر الزماں محمد مصطفے ٰ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے آئے ہیں کیا یہ بینات ان منکرین کے لئے کافی سے زیادہ ثبوت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
133۔ 135
مخالفین جب دلائل کے میدان میں ہر طرف سے پسپا ہوجاتے تو ان کا آخری حربہ یہ ہوتا کہ وہ مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو اپنی رسالت کے ثبوت میں یہ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں پیش کرتے، نشانی سے مراد کوئی حِسی معجزہ بھی ہوتا اور اس طرح کا کوئی عذاب بھی جس سے قرآن ان کو رسول کی تکذیب کی صورت میں آگاہ کررہا تھا۔ اس سوال کے اٹھانے میں بھی زیادہ داخل اہل کتاب کو تھا۔ وہ مشرکین کو اس دور میں جس طرح بہت سے سوالات تھا کرتے تھے جن کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، اسی طرح یہ سبق بھی پڑھاتے تھے کی ان مدعی رسالت سے مطالبہ کرو کہ جس طرح پچھلے رسولوں نے بہت سی نشانیاں دکھائیں یہاں تک کہ ان کی…
Read the full tafseer →133۔ 1 یعنی ان کی خواہش کے مطابق نشانی، جیسے ثمود کے لئے اونٹنی ظاہر کی گئی۔
133۔ 2 ان سے مراد تورات، انجیل اور زبور وغیرہ ہیں، یعنی کیا ان میں نبی ﷺ کی صفات موجود نہیں، جن سے ان کی نبوت کی تصدیق ہوتی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ کیا ان کے پاس پچھلی قوموں کے حالات نہیں پہنچے کہ انہوں نے جب اپنی حسب خواہش معجزے کا مطالبہ کیا اور وہ انھیں دکھا دیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے، تو انھیں ہلاک کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
58: اس سے مراد قرآن کریم ہے اور آیت کی تشریح دو طرح کی جاسکتی ہے، ایک یہ کہ یہ قرآن وہ کتاب ہے جس کی پیشین گوئی پچھلے آسمانی صحیفوں میں موجود تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان صحیفوں نے قرآن کریم کی حقانیت کی گواہی دی تھی، اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن کریم پچھلے آسمانی صحیفوں کے مضامین کی تصدیق کر کے ان کی گواہی دے رہا ہے، حالانکہ نبی کریم ﷺ جن کی زبان مبارک پر یہ کلام جاری ہوا ہے وہ امی ہیں، اور ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے، جس سے وہ پچھلی کتابوں کا علم حاصل کرسکتے۔ اب جو ان آسمانی کتابوں کے مضامین ان کی زبان پر جاری ہو رہے ہیں، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ مضامین اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →یہ تو ہٹ دھرمی اور مکابرہ ہے۔ محض سوال کرنے کی خاطر یہ سوال کیا گیا ، ورنہ قرآن کا معجزہ کیا کافی معجزہ نہیں ہے۔ قرآن موجودہ رسالت کا جوڑ زمانہ ماقبل کی رسالتوں سے لگاتا ہے۔ وہی تعلیمات پیش کرتا ہے ، جو پہلے رسولوں نے پیش کی ہیں بلکہ جن باتوں کا وہاں اجمال تھا یہاں ان کی تفصیل دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو تو بطور اتمام حجت بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →10 یعنی کوئی ایسی کھلی نشانی کیوں نہیں دکھلاتے جس کے بعد ہم کو انکار کی گنجائش ہی نہ رہے۔ ورنہ اس روز روز کی تہدید و تخویف سے کیا فائدہ۔
11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگلی کتابوں میں خبر ہے رسول آخر الزماں ﷺ کی۔ یا یہ معنی کہ پہلے پیغمبروں کی نشانی کافی ہے۔ یہ پیغمبر بھی اصولاً ان ہی باتوں کی تقید کرتا ہے کوئی انوکھی بات نہیں کہتا۔ یا یہ نشانی کی اگلی کتابوں کے موافق واقعات بیان کرتا ہے۔ " اور بہترین تفسیر میرے نزدیک وہ ہے جو ابن کثیر وغیرہ نے اختیار کی۔ یعنی یہ لوگ ہٹ دھرمی سے کہتے ہیں کہ کوئی نشانی کیوں نہیں لایا۔ کیا اور سینکڑوں نشانات کے علاوہ سب سے بڑا عظیم الشان یہ قرآن ان کے پاس…
Read the full tafseer →آیت 133 وَقَالُوْا لَوْلَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ ط ”
ہر بات ‘ ہر دلیل کے جواب میں مشرکین مکہ کی ایک ہی رٹ تھی کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں تو ہمیں کوئی حسیّ معجزہ کیوں نہیں دکھاتے ؟
اَوَلَمْ تَاْتِہِمْ بَیِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی ”
پہلے آسمانی صحیفوں کی تعلیمات کا قرآن مجید میں موجود ہونا اور خود قرآن کا ان صحیفوں میں بیان کی گئی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آجانا کیا معجزہ نہیں ہے ؟ اور کیا یہ معجزہ ان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے ؟
Read the full tafseer →101 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پہلے صحیفوں اور آسمانی کتابوں میں آپ کی علامات اور آپ کی آمد کی بشارت موجود تھیں اور بعض انصاف پسند لوگوں نے برملا اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ یہ وہی نبی آخر الزمان ہیں جن کی سابقہ کتابوں میں بشارات دی گئی تھیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن جیسا واضح معجزہ مل جانے کے بعد اب یہ کون سی نشانی چاہتے ہیں اور قرآن ایسی کتاب ہے جو اگلی کتابوں کے ضروری مضامین کا محافظ اور ان کی صداقت پر حجت بھی ہے اور گواہ بھی۔
Read the full tafseer →166۔ یعنی خود قرآن جو ظہور ہے اگلی پیشینگوئیوں کا، اس سے نمایاں تر معجزہ اور کیا چاہیے ؟ (آیت) ” بینۃ “۔ سے مراد قرآن بھی ہوسکتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک بھی ماحصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ (آیت) ” وقالوا “۔ یہ کہنے والے کفار ومعاندین تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت نمبر 129 تا 135
ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان…
Read the full tafseer →وقالوا لو لا یاتینا بایۃ من ربہ اولم تاتہم بینۃ ما فی الصحف الاولی۔ اور وہ (مشرک ‘
عناداً ) کہتے ہیں کہ یہ (رسول ﷺ کوئی نشانی (اپنی نبوت کی) اپنے رب کے پاس سے کیوں نہیں لائے کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کے مضامین کا ظہور نہیں ہوا۔
بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖیعنی محمد ﷺ : کوئی ایسی کھلی نشانی کیوں نہیں پیش کرتے جو ان کے دعوئے نبوت کی سچائی کو ثابت کرسکے۔ نشانیاں تو بکثرت موجود تھیں اور آچکی تھیں انہوں نے محض عناد کی وجہ سے موجودہ آیات کا انکار کیا اور خود تراشیدہ نشانیوں کے طلبگار ہوئے اللہ نے قرآن نازل کرنے کو سب سے بڑا اور ابدی معجزہ قرار دے کر ان کو الزامی جواب دے دیا (کہ یہ قرآن سب سے بڑا معجزہ…
Read the full tafseer →(133) اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنی نبوت کی کیوں نہیں لاتے، کیا ان کے پاس توریت وانجیل کے مضامین کا ظہور نہیں پہنچا کہ ان میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَوْلَا يَاْتِيْنَا۔۔ : کفار کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ نبی ہیں تو گزشتہ انبیاء کی طرح اپنے سچا ہونے کی کوئی نشانی کیوں پیش نہیں کرتے ؟ فرمایا، اس سے زیادہ آپ کی سچائی کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ پہلی آسمانی کتابیں آپ کے آنے کی خبر دے رہی ہیں۔ یقیناً یہ خبر اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے واسطے سے کفار مکہ تک پہنچ چکی ہے۔ پہلی کتابوں میں آپ ﷺ کے ذکر خیر کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (157) ، فتح (29) اور صف (6)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا لولا یایتنا بایۃ من ربہ یہ کفار مکہ نے کہا : یعنی ہمارے پاس محمد ﷺ کیوں کوئی ایسی نشانی نہیں لے آیا جو علم ضروری کو ثابت کرتی یا کوئی ایسی آیت جو ظاہر ہوتی جیسے ثمود کی اونٹنی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا یا کیوں نہ ایسی نشانیاں لے آیا جو ہم تجویز کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے انبیاء لے کر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم تاتھم بینۃ مافی الصحف الاولیٰ ۔ صحف اولیٰ سے مراد تورات، انجیل اور پہلی کتب ہیں۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ جو کچھ ان میں ہے ان کی آپ نے خبر دی۔ الصحف کو تخفیف کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا ان کے پاس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
1:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اولم تاتہم بینۃ مافی الصحف الاولی “ سے مراد ہے تورات اور انجیل۔
2:ـ۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلاک ہونے والا دو پیغمبروں کی آمد کے درمیانی زمانہ میں اور دیوانہ کم عقل اور پیدا ہونے والا بچہ کہے گا اے میرے رب میرے پاس کتاب اور رسول کیوں نہیں آیا اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولو انا اھلکنہم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا “ (الآیۃ)
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الصراط السوی “ سے مراد ہے انصاف۔
الحمد اللہ سورة طہ مکمل ہوئی :
Read the full tafseer →[وَقَالُوْا : اور ان لوگوں نے کہا ] [لَوْلَا : کیوں نہیں ] [يَاْتِيْنَا : وہ ﷺ آتے ہمارے پاس ] [بِاٰيَةٍ : کسی نشانی کے ساتھ ] [مِّنْ رَّبِهٖ : اپنے رب (کی طرف) سے ] [اَوَ : تو کیا ] [لَمْ تَاْتِهِمْ : پہنچی نہیں ان کے پاس ] [بَيِّنَةُ مَا : اس کی روشن (نشانی) جو ] [فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى: اگلے اوراق میں ہے ]
[ص ح] ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔]
[ صَحِیْفَۃٌ ج صُحْفٌ۔ پھیلی ہوئی چیز۔ لکھا ہوا کاغذ۔ ورق۔ زیر مطالعہ آیت۔ 133 ۔]
[صَحْفَۃٌ ج صِحَافٌ۔ چوڑی پلیٹ۔ یُطَافُ عَلَیْھِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَھَبٍ وَّ اَکْوَابٍ (گردش دی جائیں گی ان پر سونے کی رکابیاں اور آبخورے) 43:71 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے بعد ہلاک فرماتا ہے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں کہ رسول آتا تو پیروی کرلیتے
یہ سورة طہٰ کی آخری تین آیات ہیں۔ پہلی آیت میں قریش مکہ کی ایک بیہودہ بات ذکر فرمائی ہے اور اس کا جواب دیا ہے ان لوگوں نے کہا کہ یہ صاحب نبوت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ہم جو ان سے کہتے ہیں کہ اپنے دعویٰ کی تصدیق کرانے کے لیے ہمارے سامنے فلاں معجزہ لاؤ تو وہ ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے، اگر ہمارا مطلوبہ معجزہ لے آئیں تو ہم مان لیں گے، یہ بات ان کی بطور عناد کے تھی بہت سے معجزات ان کے سامنے تھے لیکن ان کے ہوتے ہوئے ایمان نہیں لاتے تھے سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید تھا جو اب تک دنیا کے سامنے ہے سابقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت
از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔
اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…
Read the full tafseer →91:۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ آپ کوئی دلیل یا معجزہ کیوں نہیں لاتے جو آپ کی صداقت ظاہر کرے۔ ” اَوَلَمْ تَاتِھِمْ الخ “ جواب شکوی ہے۔ یعنی آپ نے ایسی باتیں بیان کی ہیں جن کی پہلے آپ کو خبر نہیں تھی اس سے معلوم ہوا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سب من جانب اللہ ہے اور کتب سابقہ یعنی تورات و انجیل وغیرہ میں وہ آپ کی بشارت پڑھ چکے ہیں۔ جو آپ کی نبوت و صداقت پر نہایت واضح دلیل ہے تو کیا یہ دلیل کافی نہیں ہے۔ یردی التوراۃ والانجیل والکتب المتقدمۃ وذلک اعظم ایۃ اذا اخبر بما فیھا وقیل او لم تاتہم الایۃ الدالۃ علی ثبوتہ بما وجدوہ فی الکتب المتقدمۃ من البشارۃ (قرطبی ج 11 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے لئے تسلی کا مضمون بیان فرمایا ہے اور آپ کو جرات دلائی ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے حق تبلیغ ادا کرتے رہیں۔ اور مخالفوں کی مخالفت کی کچھ پروانہ کریں۔ دیکھیں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے کس طرح فرعون اور اس کی قوم کے سرکش لوگوں کے مقابلہ کیا ، کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کیں اور بالآخر کامیاب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمان کفار ومشرکین کی بیہودہ باتوں اور طعن وتشنیع کے مقابلے میں صبر اختیار کرنے اور نماز پر مداومت کی نصیحت کی۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نافرمان لوگوں کی رفاہیت کا ذکر کیا اور…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَوْلَا يَاْتِيْنَا بِاٰيَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ 0ۭ اَوَلَمْ تَاْتِہِمْ بَيِّنَۃُ مَا فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى 133
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–135
1 ؎ یعنی عطیہ آخرت ان دنیاوی سامانوں اور آرائشوں سے بہتر ہے اس لیے کہ اس کے مقابلہ میں یہ چیزیں بےحقیقت ہیں اور باقی بھی ہے کس لیے کہ یہ چند روزہ وہ دائمی ہے۔ 12 منہ
ولاتمدن الخ المد دراز کردن ‘ کشیدن۔ اور مراد رغبت اور حسرت کے ساتھ نگاہ کرنا۔ دارآخرت کے توشہ کی تعلیم کر کے جو نماز و عبادت ہے دنیا کے وہ اسباب و آرائش و تجمل جو کفار اور دولت مندوں کو دیے گئے ہیں۔ مکان اور عمدہ لباس عمدہ عورتیں اور سواریاں اور دیگر چیزیں ان کی طرف رغبت کی نگاہ سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فتنہ ہیں ان میں ان کی خدا تعالیٰ آزمائش کرتا ہے۔ سو وہ ان میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ دارآخرت اور اس کے توشہ کا…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَوْلاَ یَاْ تِیْنَا بِاٰیـَـۃٍ مِّنْ رِّبِہٖ ط اَوَلَمْ تَاْ تِہِمْ بَیِّنَـۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔
(طٰـہٰ : 133)
(اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے رب کے پاس سے ہمارے لیے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے، کیا ان کے پاس وہ بینہ نہیں آئی جو پہلے صحیفوں میں ہے۔ )
نشانی کا مطالبہ کرنے والوں کو جواب
اہلِ مکہ اور اشرافِ قریش جب آنحضرت ﷺ کے دلائل کے سامنے بےبس ہوجاتے اور قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت ان کی زبانیں گنگ کردیتی تو وہ بجائے ہدایت قبول کرنے یا اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے کے آنحضرت ﷺ پر حملہ آور ہوتے اور اگر صحابہ کرام سے گفتگو ہوتی تو ان سے بھی یہی کہتے کہ یہ صاحب اگر اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : تقویٰ اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں دنیا دار لوگوں کی روش اور ان کا انجام۔
کفار کی عادت تھی اور ہے کہ وہ بار بار ایک ہی بات دھراتے جاتے ہیں۔ اسی بری عادت اور نبی اکرم ﷺ کو پریشان کرنے کی خاطر کفار وقفے، وقفے کے بعد مطالبہ کرتے کہ اگر آپ واقعی سچے نبی ہیں تو کوئی ایسی دلیل اور معجزہ پیش کریں جس سے ہم مجبور ہوجائیں کہ آپ واقعی ہی نبی ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے کئی جواب دیے گئے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر صرف اتنا کہنا ہی کافی سمجھا گیا کہ کیا آپ کی نبوت کے ثبوت تورات، انجیل، زبور میں نہیں پائے جاتے۔
مثال کے طور پر توراۃ اور انجیل کے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں جہاں حضرت محمد ﷺ کی…
Read the full tafseer →133: وَقَالُوْا اور انہوں نے کہا۔ کفار نے لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (کہ یہ ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے۔ ) لَوْلَا یہ ھلاَّ کے معنی میں ہے یَاْتِیْنَا وہ محمد کیوں نہیں لاتے۔ بِٰایَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے جو آپ کی صحت نبوت پر دلالت کرنے والی ہو۔
قراءت : اَوَلَمْ تَاْتِھِمْ ۔ مدنی، بصری اور حفص نے اسی طرح پڑھا ( کیا ان کے پاس نہیں آئی) بَیِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُولٰی (واضح دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے) یعنی پہلی کتابیں مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ عادت کے مطابق ضد کی بنا پر نبوت کی نشانی مانگی۔ ان کے جواب میں فرمایا…
Read the full tafseer →133۔ وقالو، ، اور مشرکین کہتے ہیں کہ ، لولایتینا بایۃ من ربہ، ، مشرکین محض عناد کی وجہ سے اس نشانی کو نہیں مانتے تھے حالانکہ بہت ساری نشانیاں آچکی تھیں۔ اولم تاتھم بینہ، اہل مدینہ، اہل بصرہ ، وحفص بن عاصم نے ، تاتھم، پڑھا ہے ، بینہ کے مونث ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے اس کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ فعل کی تقدیم کی وجہ سے دوسری وجہ یہ ہے کہ بینہ سے ، بیان ہے اس کا معنی کی طرف لوٹایا گیا۔ مافی الصحف الاولی، جو کچھ اس میں بیان کیا گیا اس سے مراد قرآن ہے جو دلائل کے اعتبار سے قوی اور آیات کے اعتبار سے اور اس کی واضح ہے اور بعض نے کہا کہ کہ اولم یاتھھم، بیان ہے ، مافی الصحف الاولی، کا اس سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
133۔ 134:۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو مثلا جس طرح صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کے پتھر میں سے پیدا ہوجانے کا ظاہر معجرہ اپنی قوم کے لوگوں کو دکھلا دیا ‘ اسی طرح یہ رسول ہم کو کوئی ظاہر ظاہر معجزہ کیوں نہیں دکھلاتے ‘ مشرکین کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ ان پڑھ رسول کی معرفت پچھلی کتابوں کے سچے قصے جو ان لوگوں نے سنے ہیں کیا اس سے اتنی بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ غیب کے سچے قصے بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے نہیں بیان کرسکتا تو اب اس میں کیا شک باقی رہا کہ قرآن کتاب آسمانی ہے اور جن پر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
آیت 132
اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجئے، انہیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر سا چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں۔ (واصطبرعلیھا) ” اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔ “ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لئے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
144 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ فوز و فلاح : پس تقویٰ والے ہی بہرکیف کامیاب اور فائز المرام ہوں گے۔ سو اصل دولت تقویٰ و پرہیزگاری ہی کی دولت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ بہرکیف بندے سے اصل مطلوب و مقصود عبادت و بندگی اور تقویٰ و طہارت ہی ہے نہ کہ روزی رسانی اور دنیاوی مال و متاع۔ جس طرح کہ دنیاوی آقا اور سردار اپنے نوکروں، خادموں اور ماتحتوں سے چاہتے اور کراتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر صرف اس مقصد کے لیے کہ وہ میری عبادت اور بندگی کریں "۔ نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ بات ہے کہ وہ مجھے کھلائیں۔ یقینا اللہ ہی ہے سب کا روزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
صبر، نماز قائم کرنے اور گھر والوں کو اس کا حکم دینے کا حکم
تشریح : اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور یہ خطاب تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دشمن مختلف صورتوں اور حالات میں ضرور ہوتا ہے۔ تو اس کی تکلیف دہ باتوں ایذا رسانیوں، چالبازیوں، شرارتوں خباثتوں اور نفرتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے صبر اور صلوٰۃ، یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انتقام کے چکر میں نہ پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے…
Read the full tafseer →ف 8 جس سے اس کا سچا ہونا ہمیں واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے۔9 یعنی اس سے زیادہ آپ کی سچائی پر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ پہلی تمام آسمانی کتابیں آپ کی آمد کی خبر دے رہی ہے یقینا یہ خبر اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے واسطہ کفار مکہ تک پہنچ چکی ہے۔
Read the full tafseer →(20:133) لولا یاتینا۔ کیوں نہیں لایا (یہ نبی) ہمارے پاس ۔ لایاتی مضارع منفی واحد مذکر غائب اتیان مصدر نا ضمیر مفعول جمع متکلم ایۃ معجزہ۔ اولم تاتہم۔ کیا ان کے پاس نہیں آئی۔ تات اتیان سے مجارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے اصل میں تاتی تھا۔ لم کے عمل سے یحذف ہوگئی اور مضارع ماضی کے معنی میں ہوگیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔
بینۃ۔ ب ی ن مادہ سے۔ بان واستبان وتبین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں۔ بیان مصدر۔ بیان ۔ بولنا۔ کسی چیز کو واضح کرنے اور کھولنے کو بیان کہتے ہیں۔ یہاں بینۃ سے مراد القرآن ہے جو پہلے صحیفہ ہائے آسمانی کا نچوڑ ہے۔ اور جس میں ان اگلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات کا واضح بیان اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
لغات القرآن آیت نمبر 133 تا 135
لولا یا تینا وہ کیوں نہیں لاتے ہمارے پاس۔ صحف (صحیفۃ) کتابیں۔ ارسلت تو نے بھیجا۔ نذل ہم ذلیل ہوتے ہیں۔ نخزی ہم رسوا ہوتے ہیں۔ متربص انتظار کرتے ہیں۔ السوی برابر۔ اھتدی جس نے ہدایت پائی۔
تشریح :- آیت نمبر 133 تا 135
سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کو دیئے گئے معجزات (عصا اور ید بیضا) کا بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ ان معجزات کو دیکھ کر کئی لوگ تو ایمان لے آئے لیکن آل فرعون اور بنی اسرائیل کی بہت بڑی اکثریت نے سب کچھ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس کو ایک جادو سے زیادہ نہ سمجھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کو ایمان لانا ہے وہ کسی معجزہ یا بہانے کا…
Read the full tafseer →قریش مکہ کا ذکر
شان نزول : مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو مثلاً جس طرح صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کو پتھر میں سے پیدا ہوجانے کا ظاہر معجزہ اپنی قوم کے لوگوں کو دکھا دیا، اس طرح یہ رسول ہم کو کئی معزہ کیوں نہیں کھاتے، مشرکین کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :" امی رسول کی معرفت پچھلی کتابوں کے سچے قصے جو ان لوگوں نے سنے ہیں، کیا اس سے اتنی بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ امی شخص تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ غیب کے قصے بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے نہیں بیان کرسکتا ۔ تو اب اس میں کیا شک باقی رہا کہ قرآن کتاب آسمانی ہے۔ اور جن پر یہ قرآن…
Read the full tafseer →[69] یعنی نبی ﷺ ۔
[70] یعنی معجزہ جو آپ ﷺ کی نبوت پر دلالت کرے۔
[71] یعنی اگلی کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی پیشین گوئیاں جو آپ ﷺ کی رسالت پر گواہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
(ف 1) ان آیات میں حضور ﷺ کو صبر و برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ اگر یہ بدبخت بدزبانی اور دشنام طرازی سے باز نہیں آتے ، تو آپ ان سے اتنے بلند ہوجائیے کہ ان کو خود اپنے بداعمال پر ندامت محسوس ہونے لگے اللہ کی عبادت کیجئے ، اس کی حمد و ستائش کا اظہار کیجئے اور ان کے تکلفات کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے کہ یہ سب سامان عیش وطرب ان کے لئے وجہ آزمائش ہیں ، سچا دوست اور باقی رہنے والا سرمایہ وہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے خود قیام صلوۃ پر عمل کیجئے ، اور اپنے قریب کے لوگوں کو اس پر آمادہ کیجئے اور رزق کی جانب سے بےنیاز ہوجائیے ہم آپ کو دنیا کے افکار سے مستغنی کردیں گے ، تاکہ آپ فراغ قلبی کے ساتھ…
Read the full tafseer →- 133 اور یہ منکریوں کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر اپنے پروردگار کی جانب سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا کیا ان لوگوں کے پاس کتب سابقہ اور صحف سابقہ کے مضامین کا مصداق نہیں پہونچا۔ یعنی جہاں ان مخالفین کے اور اعتراض ہیں منجملہ ان کے یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کوئی نشانی خدا تعالیٰ کی جانب سے ہمارے پاس کیوں نہیں لے آتا۔
حضرت حق جل مجدہ نے جواب میں فرمایا کہ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس رسول کا اور اس قرآن کریم کا کتب سابقہ میں ذکر موجود ہے اور جو صحائف اور کتب پہلے پیغمبروں پر نازل ہوئی ہیں جو مضامین ان میں سے وہی اس قرآن کریم میں ہے اور جن نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ ان میں آیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
ف 8۔ مطلب یہ کہ کیا ان کے پاس قرآن نہیں پہنچا جس کی پہلے سے شہرت تھی کہ وہ نبوت پر کافی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →نشانی کے طلب گار اگر غور وفکر کرتے تو ان کے پاس نشانات تو آچکے ہیں :
133۔ یہ صرف مکہ والوں ہی کی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کسی قوم کے پاس جب اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو پیغام رسالت ونبوت دے کر بھیجا اور اس نے آکر قوم کو سمجھایا اور دلائل رسالت ونبوت ان کے سامنے پیش کئے تو انہوں نے ان کا کوئی جواب دینے کی بجائے نبی ورسول سے کوئی الٹا ہی مطالبہ کردیا کہ اگر تم رسول ہو تو تمہارے لئے کوئی سونے کا محل ہی تیار ہوجائے جس کو ہم دیکھیں ‘ کوئی باغ ہی تو اپنے لئے پیدا کر دے ‘ ہمارے باپ دادوں میں سے کسی کو زندہ کر کے ہمارے سامنے لے آ اگر یہ نہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے تو آسمان کو چڑھ جا اور وہاں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ (Has there not come to them the manifestation of that which was contained in the earlier scriptures? - 20:133) It means that all the old Revealed Books such as the Torah, the Injil (Evangel) and the scriptures given to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) bear a witness to the prophethood of the last Prophet Muhammad ﷺ . Is not all this sufficient evidence for those who persist in their denial of his prophethood?
Read the full tafseer →116. This means that the Quran itself is a great miracle, for though it is being presented by an unlettered person from among them, it contains the essence of the teachings and guidance of all tire previous divine Books. Not only that, it makes those teachings and guidance so plain and clear that even a simple man of the desert can benefit from them.
Read the full tafseer →