Taa-Haa 20:132

Taa-Haa · from ayah 132

20:132

وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْهَا ؕ— لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًا ؕ— نَحْنُ نَرْزُقُكَ ؕ— وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰی ۟وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ ؕ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And enjoin prayer upon your family [and people] and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the [best] outcome is for [those of] righteousness.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 8 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:132

اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقوی ہی کا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیں گے اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم فرمائیں اور اس پر ثابت قدم رہیں، ہم آپ سے رزق طلب نہیں کرتے (بلکہ) ہم آپ کو رزق دیتے ہیں، اور بہتر انجام پرہیزگاری کا ہی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجئے اور خود بھی اس پر ڈٹ جائیے۔ ہم آپ سے رزق نہیں مانگتے، وہ تو ہم خود تمہیں دیتے ہیں اور انجام پرہیزگاری کا ہی بخیر ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے لوگوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر جمے رہو۔ ہم تم سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتے ہم تم کو رزق دیں گے اور انجام کار کی فیروز مندی تقویٰ کے لئے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کرتے رہو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی روزی نہیں مانگتے روزی تو تم کو بھی ہم ہی دیتے ہیں اور انجام کی بھلائی تو بہرحال تقویٰ ہی کے لیے ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے گھروالوں کو نماز کا حکم دیتے رہئے اور خود بھی اس کے پابند رہیے۔ ہم آپ سے معاش نہیں چاہتے معاش تو ہم خود آپ کو دیں گے۔ اور بہتر انجام پرہیزگاری ہی کا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس پر جمے رہیے ہم آپ ﷺ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم خود آپ کو رزق دیتے ہیں اور عاقبت انہی کے لیے (بہتر) ہے جو پرہیزگاری کی روش اختیار کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں روزی دیتے ہیں۔ اور نیک انجام اہل تقویٰ کا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Enjoin Prayer on your household, and do keep observing it. We do not ask you for any worldly provision; rather, it is We Who provide you, and ultimately the pious will end up the best.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Bid your family to perform Salah, and adhere to it yourself. We ask no provision from you. We give provision to you. And the ultimate end is in favour of Taqwa (God-fearing, and piety).

— Muhammad Taqi Usmani

Bid your family to perform Salah, and adhere to it yourself. We ask no provision from you. We give provision to you. And the ultimate end is in favour of Taqwa (God-fearing, and piety).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And enjoin Salah on your family, and be patient in offering them. We ask not of you a provision: We provide for you. And the good end is for those who have Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And enjoin upon thy people worship, and be constant therein. We ask not of thee a provision: We provided for thee. And the sequel is for righteousness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And enjoin prayer upon your family [and people] and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the [best] outcome is for [those of] righteousness.

— Saheeh International

Instruct your family to pray and to be steadfast in their worship. We do not ask any sustenance from you; it is We who give you sustenance. Know that piety will have a happy end.

— Muhammad Sarwar

And enjoin prayer on your followers, and steadily adhere to it; We do not ask you for subsistence; We do give you subsistence, and the (good) end is for guarding (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

And command thy household for prayer, and persevere thou therein; We ask not of thee any provision; we Who provide thee; and the happy end is for piety.

— Abdul Majid Daryabadi

Enjoin prayer on thy people, and be constant therein. We ask thee not to provide sustenance: We provide it for thee. But the (fruit of) the Hereafter is for righteousness.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:132

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 131–132

شکریا تکبر ؟ ان کفار کی دنیوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ توذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان آزمائش کے لئے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں ؟ حقیقتاشکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔ ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرمارکھا ہے پس اپنی نظریں ان کے دنیوی سازوسامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ ﷺ آپ کے لئے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 114 یعنی تمہارے بال بچے بھی اپنی تنگ دستی و خستہ حالی کے مقابلہ میں ان حرام خوروں کے عیش و عشرت کو دیکھ کر دل شکستہ نہ ہوں۔ ان کو تلقین کرو کہ نماز پڑھیں۔ یہ چیز ان کے زاویۂ نظر کو بدل دے گی۔ ان کے معیار قدر کو بدل دے گی۔ ان کی توجہات کا مرکز بدل دے گی۔ وہ پاک رزق پر صابر و قانع ہوجائیں گے اور اس بھلائی کو جو ایمان وتقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اس عیش پر ترجیح دینے لگیں گے جو فسق و فجور اور دنیا پرستی سے حاصل ہوتا ہے۔ سورة طٰهٰ 115 یعنی ہم نماز پڑھنے کے لیے تم سے اس لیے نہیں کہتے ہیں کہ اس سے ہمارا کوئی فائدہ ہے۔ فائدہ تمہارا اپنا ہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہوگا جو دنیا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اپنے اہل و عیال اور متعلقین کو نماز کی پابندی کی تاکید اور اس کی حکمت وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا، یعنی آپ اپنے اہل کو بھی نماز کا حکم کیجئے اور خود بھی اس پر جمے رہئے۔ یہ بظاہر دو حکم الگ الگ ہیں ایک اہل و عیال کو نماز کی تاکید دوسرے خود اس کی پابندی لیکن غور کیا جائے تو خود اپنی نماز کی پوری پابندی کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ کا ماحول آپ کے اہل و عیال اور متعلقین نماز کے پابند ہوں کیونکہ ماحول اس کے خلاف ہوا تو طبعی طور پر انسان خود بھی کوتاہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ لفظ اَهْلَ میں بیوی اولاد اور متعلقین سبھی داخل ہیں جن سے انسان کا ماحول اور معاشرہ بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ احل کا مفہوم لفظ ھل یہاں صرف اہل بیت نبی کے مفہوم میں نہیں ہے۔ یہ لفظ عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً اہل کتاب، اہل انجیل، اہل قریہ، اہل اللہ، اہل قرون اور اہل حدیث وغیرہ لسان العرب میں ہے اھل الرجل اخص الناس بہ (اہل الرجل سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس شخص سے خاص تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں) اھر کل تبی امتہ (نبی کے اہل سے اس کے امتی مراد ہوتے ہیں) سیدنا ابوبکر صدیق سے حضرت عمر کے خلیفہ بنانے کے بارے میں روایت ہے کہ جب قیامت کے دن میرا رب مجھ سے پوچھے گا کہ مسلمانوں کا والی کس کو بنا کے آئے ہو تو عرض کردوں گا کہ استعملت علیھم خیراھلک (میں نے ان پر تیرے بہترین اہل کو خلیفہ بنایا ہے) سورة…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

132۔ 1 اس خطاب میں ساری امت نبی ﷺ کے تابع ہے۔ یعنی مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پا بندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

57: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں آقا اپنے غلاموں کو معاشی مشغلے میں لگا کر ان کی آمدنی سے رزق حاصل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمہاری اس طرح کی بندگی سے بےنیاز ہے، اس کے بجائے وہ خود تمہیں رزق دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تم پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کی کہ تم اپنا رزق خود پیدا کرو۔ تم زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرتے ہو، وہ یہ کہ اسباب کو اختیار کرلیتے ہو، مثلاً زمین میں بیج بو دیتے ہو، لیکن اس بیج سے دانہ اگانے کا کام ہم نے تم پر نہیں رکھا۔ بلکہ ہم خود اس سے وہ پیداوار پیدا کرتے ہیں جو تمہیں رزق مہیا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وامر اھلک بالصلوۃ (02 : 231) ” اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو۔ “ ایک مسلمان کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کو ایک مسلمان کا گھر بنائے۔ اپنے اہل و عیال کو وہ فریضہ ادا کرنے پر ابھارے جو اسے اللہ سے مربوط کرتا ہے تاکہ اس کے گھر میں یکجہتی پیدا ہو اور کیا ہی خوش نصیب ہوگا وہ گھر جس کے اندر پوری یکجہتی ہو۔ و اصطبرعلیھا (02 : 231) ” اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ “ نماز کو پ وری طرح قائم کرو۔ اس کے آثار اپنے اندر پیدا کرو ، بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے بچاتی ہے۔ یہ ہیں نماز کے صحیح آثار۔ جب کوئی گھرانا نماز پر جم جاتا ہے تو اس سے پھر یہ آثار پیدا ہوتے ہیں ، اس کے شعور میں اور اس کے ہر طرز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اپنے متعلقین اور اتباع کو بھی نماز کی تاکید فرماتے رہیے۔ حدیث میں آپ نے فرمایا کہ بچہ جب سات برس کا ہوجائے تو (عادت ڈالنے کے لیے) نماز پڑھواؤ۔ جب دس برس کا ہو تو مار کر پڑھاؤ۔ 9 دنیا میں مالک غلاموں سے روزی کمواتے ہیں۔ وہ مالک بندگی چاہتا ہے اور غلاموں کو روزی آپ دیتا ہے (کذافی الموضح) غرض ہماری نماز سے اس کا کچھ فائدہ نہیں، البتہ ہمارا فائدہ ہے کہ نماز کی برکت سے بےغائلہ روزی ملتی ہے ( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ۝ ۙ وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ) 65 ۔ الطلاق :3-2) اسی لیے اگر فرض نماز اور کسب معاش میں تعارض ہو تو اللہ تعالیٰ اجازت نہیں دیتا کہ کسب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 131–132

آیت 131 وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ ” ہو بہو یہی الفاظ سورة الحجر ‘ آیت 88 میں بھی آئے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! آپ ! ان کے مال و اسباب اور دنیوی آسائش و آرائش کے سامان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ‘ مبادا کسی کو گمان ہو کہ آپ ﷺ کی نظروں میں بھی ان چیزوں کی کوئی وقعت اور اہمیت ہے۔ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط ” آپ ﷺ تو حقیقت آشنا ہیں ‘ آپ ﷺ تو جانتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا مال و متاع سب کچھ فانی ہے اور مقصود اس سے صرف لوگوں کی آزمائش ہے۔ سورة الکہف میں اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

98 یعنی خود نمازوں پر پابند رہنے کے علاوہ آپ کو اپنے گھر والوں کو بھی ان کی پابندی کا حکم دینا چاہئے۔ پھر اس بات پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہئے۔ اس سے آپ کے مشن کو مزید تقویت پہنچے گی۔ اگرچہ اس آیت میں خطاب آپ ﷺ کو ہے تاہم حکم عام ہے۔ اسی لئے آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بچہ جب سات برس کا ہوجائے تو اسے نماز ادا کرنے کو کہو اور اگر دس سال کا ہونے پر بھی اسے نماز کی عادت نہ پڑے تو اسے مار کر نماز پڑھاؤ۔ (ابوداؤد، بحوالہ مشکوۃ، کتاب الصلوٰۃ۔ الفصل الثانی) ـ99 عرب میں یہ دستور تھا کہ مالک اپنے غلاموں کو کمائی کے لئے بھیجتے۔ پھر ان سے یہ کمائی خود وصول کرتے یا پھر غلام پر اس کی قابلیت کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

163۔ (کہ اصل توجہ کے قابل تو یہ امور ہیں) (آیت) ” اھلک “۔ اھل کے لفظ میں خاندان اور عا مومنین دونوں کا مفہوم شامل ہیں۔ فقہاء نے یہاں سے یہ استنباط کیا ہے کہ امر بالمعروف خصوصا تاکید نماز اپنے متعلقین پر واجب ہے۔ آج جو لوگ ظہر کی نماز کے لیے دفتروں، کچہریوں، وغیرہ کی مشغولیت کو اور عصر ومغرب و عشاء وغیرہ کے لیے دوسری مشغولیتوں کو عذر بنا کر پیش کرتے ہیں آیت میں ان سب کا رد آگیا۔ 164۔ یعنی مقصود اصلی اکتساب نہیں بلکہ دین اور طاعت ہیں، اکتساب کی اس حالت میں اجازت یا امر ہے کہ ضروری طاعت میں وہ مخل نہ ہوں “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” والعاقبۃ للتقوی “۔ عاقبۃ سے مراد ہے حسن عاقبت، اور تقوی سے مراد اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 129–135

آیت نمبر 129 تا 135 ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وامر اہلک بالصلوۃ واصطبر علیہا لا نسئلک رزقا نحن نرزقک والعاقبۃ للتقوی۔ اور اپنے متعلقین کو نماز کا حکم دیتے رہئے اور خود بھی اس کے پابند رہے ہم آپ سے معاش (کموانا) نہیں چاہتے معاش تو آپ کو ہم دیں گے اور بہتر انجام تو پرہیزگاری ہی کا ہے۔ اَہْلَکَاہل سے مراد ہیں قوم ‘ قبیلہ والے اور ہم مذہب (یعنی مسلمان) بالصَّلٰوۃ متعلقین کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دینے کی ہدایت کی تاکہ سب باہم تعاون کریں اور ناداری کے خلاف سب متفق و متحد ہوجائیں اور پھر امر معاش کو اہمیت نہ دیں اور کوئی مسلمان دولت مندوں کی دولت کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا یعنی خود بھی نماز کے پابند رہو۔ لاَنَسْءَلُکَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(132) اور اپنے متعلقین کو بھی بالخصوص شدت کے وقت نماز کا حکم کرتے رہے اور خود بھی اس پر قائم رہیے، ہم آپ سے اور آپ کے متعلقین سے معاش نہیں چاہتے، معاش تو آپ کو ہم دیں گے اور جنت تو ان ہی حضرات کے لیے ہے، جو کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ۔۔ : ”وَاصْطَبِرْ“ ”صَبَرَ یَصْبِرُ“ سے باب افتعال کا امر ہے، تاء کو طاء سے بدل دیا ہے اور حروف کے اضافے سے مبالغہ مقصود ہے، اس لیے ترجمہ ”خوب پابندرہ“ کیا گیا ہے۔ ان آیات میں بظاہر تمام اوامر کے مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں، مگر امت کا ہر فرد نبی کریم ﷺ کے تابع ہونے کی وجہ سے ان کا مخاطب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِيْ الْمَضَاجِعِ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب متٰی یؤمر الغلام بالصلاۃ : 495، عن عبداللہ بن عمرو ؓ ] ”اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 128–132

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یہدلہم اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی کیا ان کے لیے ان کی خبر واضح نہیں ہوئی جن کو ہم نے تباہ کردیا ہے۔ یہ ان کے مکانوں کے درمیان چلتے ہیں جب طلب معاش میں تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور گزشتہ قوموں کے شہروں کو دیکھتے ہیں اور چھتوں کے بل گری پڑی بستیوں کو دیکھتے ہیں یعنی کیا وہ نہیں ڈرتے اس عذاب سے کہ ان پر بھی ویسا ہی عذاب اترے جو ان سے پہلے کفار پر اترا تھا۔ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور اسلمی وغیرہما نے نھدلہم نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ زیادہ واضح ہے۔ یھد یاء کے ساتھ فاعل کی وجہ سے مشکل ہے۔ کو فیوں نے کہا ؛: کم فاعل ہے۔ نحاس نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ کم استفہامیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وامر اھلک بالصلوۃ “ یعنی اپنی قوم کو نماز کا حکم کیجئے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا نسئلک رزقا “ سے مراد ہے کہ ہم آپ کو تکلیف نہیں دیتے (رزق کے) طلب کرنے کی۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ جبکہ وہ اہل دنیا کے پاس جاتے تو ان کی دنیا کو ایک نظر دیکھتے جب اپنے اہل کی طرف لوٹتے تو گھر میں داخل ہو کر یہ پڑھتے (آیت) ” ولا تمدن عینیک “ سے لے کر ” نحن نرزقک “ تک پھر گھر والوں کو فرماتے نماز نماز (یعنی نماز پڑھو) اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ 4:۔ ابن مردویہ ابن عساکر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاْمُرْ : اور آپ ﷺ حکم دیں ] [اَهْلَكَ : اپنے لوگوں کو ] [بِالصَّلٰوةِ : نماز کا ] [وَاصْطَبِرْ : اور آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [لَا نَسْــَٔــلُكَ : ہم نہیں مانگتے آپ ﷺ سے ] [رِزْقًا : کوئی روزی ] [نَحْنُ : ہم ہی ] [نَرْزُقُكَ : روزی دیتے ہیں آپ ﷺ کو ] [وَالْعَاقِبَةُ : اور (بھلا) انجام ] [لِلتَّقْوٰى: پرہیزگاری کا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (وَاْمُرْ اَھْلَکَ بالصَّلاَۃِ ) (آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجیے) (وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا) (اور خود بھی اس پر جمے رہئے) یعنی پابندی کے ساتھ ادا کیجیے، اس میں دو حکم دیئے ہیں۔ ایک اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینا دوسرے خود بھی اس کا اہتمام کرنا۔ چونکہ نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے یعنی کلمہ شہادت کا یقین کرنے کے بعد دوسرا درجہ نماز ہی کا ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ نماز کا اہتمام فرمائیں اور گھر والوں سے بھی اس کا اہتمام کرائیں اور چونکہ ساری امت آپ کے تابع ہے اس لیے امت کو بھی خطاب ہوگیا۔ اہل ایمان کا سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–135

تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔ اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

90:۔ یہ امر چہارم ہے یہ امر مصلح کا ذکر ہے۔ یعنی اہل و عیال کو نماز کی پابندی کا حکم فرمائیں ” وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا “ امر پنجم اور خود بھی نماز کی پابندی کریں ” لَا نَسْئَلُکَ رِزْقًا “ یہ ذمہ داری آپ کی نہیں ہے کہ آپ انے لیے اور اہل و عیال کے لیے روزی کمائیں بلکہ روزی کا انتظام ہمارے ذمہ ہے آپ جس کام کے لیے بھیجے گئے ہیں آپ اس کا زیادہ اہتمام کریں۔ ای لانسئلک ان ترزق نفسک ولا اھلک (نحن نرزقک) وایاھم فلا تھتم لامر الرزق (مدارک ج 3 ص 55) ۔ مطلب یہ ہے کہ نماز پر مداومت کریں کوئی نماز ناغہ نہ ہونے پائے۔ نماز کے وقت تمام کاروبار چھوڑ چھاڑ کر پوری توجہ کیساتھ نماز ادا کریں اور اکتساب معاش ادائے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 131–132

ربط آیات : دراصل یہ ساری سورة اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لئے نازل فرمائی۔ اہل ایمان کفار ومشرکین کے ہاتھوں سخت پریشانی اور ایذا رسانی میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کرکے مسلمانوں کو تسلی دلائی کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑتا ہے لہٰذا آپ بددل نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے رہیں ، آخری فتح تمہاری ہی ہوگی۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی طرف سے دی جانے والی تکالیف پر صبر کرنے کی تلقین کی تھی۔ اور ساتھ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس میں اللہ نے پانچوں نمازوں کا اشارتاً ذکر کرکے نماز پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاْمُرْ اَہْلَكَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْہَا۝ 0ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا۝ 0ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ۝ 0ۭ وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰى۝ 132 أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 131–135

1 ؎ یعنی عطیہ آخرت ان دنیاوی سامانوں اور آرائشوں سے بہتر ہے اس لیے کہ اس کے مقابلہ میں یہ چیزیں بےحقیقت ہیں اور باقی بھی ہے کس لیے کہ یہ چند روزہ وہ دائمی ہے۔ 12 منہ ولاتمدن الخ المد دراز کردن ‘ کشیدن۔ اور مراد رغبت اور حسرت کے ساتھ نگاہ کرنا۔ دارآخرت کے توشہ کی تعلیم کر کے جو نماز و عبادت ہے دنیا کے وہ اسباب و آرائش و تجمل جو کفار اور دولت مندوں کو دیے گئے ہیں۔ مکان اور عمدہ لباس عمدہ عورتیں اور سواریاں اور دیگر چیزیں ان کی طرف رغبت کی نگاہ سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فتنہ ہیں ان میں ان کی خدا تعالیٰ آزمائش کرتا ہے۔ سو وہ ان میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ دارآخرت اور اس کے توشہ کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰو ۃِ وَاصْطَبِرْعَلَیْھَا ط لاَ نَسْئَلُکَ رِزْقًا ط نَحْنُ نَرْزُقُکَ ط وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّـقْوٰی۔ (طٰـہٰ : 132) (اور اپنے لوگوں کو نماز کا حکم دیجیے، اور خود بھی اس پر جمے رہئے، ہم آپ سے روزی کا سوال نہیں کرتے بلکہ ہم ہی آپ کو روزی دیں گے، اور اچھا انجام پرہیزگاری کا ہی ہوتا ہے۔ ) تربیت کے لیے نماز کی اہمیت دعوت الی اللہ کے کام میں جس طرح مخالفین کی مخالفت اور معاندت اور ان کی بےہنگم زبان سے نکلنے والے شعلے اور ان کی عقربی فطرت سے ٹپکنے والا زہر رکاوٹ بنتا اور پریشان کرتا ہے، اسی طرح کبھی کبھی اپنی بےبسی اور غربت اور مخالفین کی فارغ البالی اور امارت و سطوت بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو نماز کی تلقین کی گئی اور اس آیت میں آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیں۔ ہر مسلمان بالخصوص ایک راہنما کے بنیادی فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرتا رہے تاکہ اس کی اور اس کے اہل خانہ کی ذات معاشرے کے لیے ایک مثال ثابت ہو۔ رسول اکرم ﷺ کو اپنی امت اور پوری دنیا کے لیے نمونہ کے طور پر مبعوث کیا گیا ہے۔ اس لیے پہلے آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ پانچ وقت نماز قائم کریں۔ اب حکم ہوا کہ اپنے گھر والوں کو بھی حکم فرمائیں کہ وہ نماز پر قائم رہیں جہاں تک رزق کا معاملہ ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ماتحتوں کو نماز کا حکم : 132: وَاْمُرْ اَھْلَکَ (اور تم اپنے متعلقین کو نماز کا حکم دیتے رہو) اپنی امت کو یا تمہارے گھر والے۔ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ (نماز کا اور خود اس کے پابند رہو) تم اس پر ہمیشگی اختیار کرو۔ عَلَیْھَا لَا نَسْئَلُکَ رِزْقًا (اس پر ہم آپ سے رزق کے طالب نہیں) ہم آپ سے نہیں کہتے کہ آپ اپنے آپ کو رزق دیں اور نہ اپنے اہل کو۔ نَحْنُ نَرْزُقُکَ ) ہم ہی آپ کو رزق دینے والے ہیں) اور انہیں بھی پس رزق کے معاملے میں شدت سے اہتمام مت کریں۔ بلکہ اپنے دل کو آخرت کے معاملات کیلئے فارغ کردیں اس لئے کہ جس کا طرز عمل یہ ہو کہ وہ اپنے کو اللہ تعالیٰ کے کام میں مصروف کر دے۔ اللہ تعالیٰ اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 132۔ وامر اھلک باصلاۃ، اہل سے مراد قوم والے ہیں یا قبیلہ والے یا ہم مذہب ۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے وکان یامر اھلہ بالصلوۃ، واصطبر علیھا، نماز پر صبر کریں یعنی اس کی پابندی کریں کیونکہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے بچاتی ہے۔ لانسئلک رزقا، ہم آپ کو اس بات کا مکلف نہیں کرتے کہ آپ ہماری مخلوق مں سے کسی کو رزق کہیں سے دیں یا اپنارزق خود پیدا کریں، بلکہ ہم نے آپ کو عمل کرنے کا مکلف بنایا ہے۔ نحن نرزقک والعاقبۃ، اس کے بعد اچھا بدلہ دیں گے ۔ للتقوی ، متقین کے لیے ، ابن عباس نے فرمایا کہ جن لوگوں نے آپ کو سچا جانا اور مانا اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے اور مجھ سے ڈرتے رہے ان کا انجام اچھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

132:۔ اوپر نماوں کا حکم فرما کر اس آیت میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے اس حکم کے موافق تم بھی نماز میں مصروف رہو اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز میں مصروف رہنے کی تاکید کرو کیونکہ دنیا کے بادشاہ لوگ اپنی رعایا کی کمائی میں سے حصہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ایسی نہیں کہ اس کو کسی کی کمائی کی محتاجی ہو ‘ وہ آپ سب کو رزق دیتا ہے اس نے تو جنات اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ یہ سب اس کو اپنا معبود جان کر اس کی عبادت خالص دل سے کریں اور وہ ان کی محنت سے بڑھ کر ان کو بدلہ دیوے اور دنیا میں اگرچہ وہ نیک وبد سب کو رزق دیتا ہے لیکن عقبیٰ میں محنت سے بڑھ کر بدلہ ان ہی لوگوں کو ملے گا جو عقبیٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 132–134

آیت 132 اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجئے، انہیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر سا چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں۔ (واصطبرعلیھا) ” اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔ “ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لئے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 132–133

144 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ فوز و فلاح : پس تقویٰ والے ہی بہرکیف کامیاب اور فائز المرام ہوں گے۔ سو اصل دولت تقویٰ و پرہیزگاری ہی کی دولت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ بہرکیف بندے سے اصل مطلوب و مقصود عبادت و بندگی اور تقویٰ و طہارت ہی ہے نہ کہ روزی رسانی اور دنیاوی مال و متاع۔ جس طرح کہ دنیاوی آقا اور سردار اپنے نوکروں، خادموں اور ماتحتوں سے چاہتے اور کراتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر صرف اس مقصد کے لیے کہ وہ میری عبادت اور بندگی کریں "۔ نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ بات ہے کہ وہ مجھے کھلائیں۔ یقینا اللہ ہی ہے سب کا روزی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 130–135

صبر، نماز قائم کرنے اور گھر والوں کو اس کا حکم دینے کا حکم تشریح : اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور یہ خطاب تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دشمن مختلف صورتوں اور حالات میں ضرور ہوتا ہے۔ تو اس کی تکلیف دہ باتوں ایذا رسانیوں، چالبازیوں، شرارتوں خباثتوں اور نفرتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے صبر اور صلوٰۃ، یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انتقام کے چکر میں نہ پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 129–135

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی بجائے اس کے کہ آپ کے گھر والے دنیا داروں کے عیش و آرام کی طرف دیکھیں آپ انہیں نماز پڑھنے کی تلقین کریں کیونکہ یہ چیز ان کی لو اپنے رب سے لگا دیگی اور ان میں حرام روزی کے مقابلے میں حلال روزی پر چاہے وہ مقدار میں کتنی ہی قلیل ہو صبر و قناعت کا جذبہ پیدا کریگی اور اصل تو نگری صبر و قناعت سے ہے نہ کہ مال و دولت سے حضرت ثابت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے گھر والوں کو اگر کبھی واقعہ کی نوبت پہنچتی تو آپ میں نماز کی تلقین فرماتے اور یہی تمام پیغمبروں کا دستور تھا۔ (بیہقی سند احمد)7 یعنی چاہے دنیا میں ان کے دن تکلف ہے گزریں مگر آخرت میں ہمیشہ رہنے والا عیش و آرام ان ہی کا حصہ ہے متعدد احادیث میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:132) اصطبر علیھا۔ تو اس پر قائم رہ اصطبار (افتعال) سے مصدر جس کے معنی ہیں صبر کے ساتھ قائم رہنے کے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ للتقوی۔ ای للمتقین۔ جیسے اور جگہ آیا ہے والعاقبۃ للمتقین (7:128) اور فاصبر ان العاقبۃ للمتقین (11:49) وقی مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 129–132

لغات القرآن آیت نمبر 129 تا 132 سبقت گزر گئی، طے کردی گئی۔ لزام عذاب۔ اجل مسمی مدت مقرر، متعین۔ اناء برتن، لمحہ، وقت۔ اطراف کنارے۔ ترضی تو خوش ہوگا۔ لاتمدن تو ہرگز نہ پھیلے گا۔ متعنا ہم نے برتنے کا سامان دیا۔ زھرۃ آرائش و زیبائش۔ نفتن ہم آزماتے ۔ اصطبر تو قائم رہ۔ تشریح : آیت 129 تا 132 ان آیات میں کفار و مشرکین کے اس طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اختیار کر رکھا تا۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں، ضدوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا اور ان کو گزشتہ قوموں کی طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا چونکہ اللہ کی ہر صفت پر اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ ! اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیا کرو، اور آپ بھی نماز میں مصروف رہا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ایسی نہیں کہ اس کو کسی کی کمائی کی محتاجی ہو۔ وہ سب کو رزق دیتا ہے، لیکن عقبیٰ میں محنت سے بڑھ کر بدلہ ان ہی لوگوں کو ملے گا، جو عقبیٰ کے بدلہ کی نیت سے نیک کام کرتے ، اور برے کاموں سے بچتے ہیں۔ جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں اگر وہ رسم کے طور پر کوئی نیک کام کریں تو ان کو بدلہ ان کو دنیا میں ہی مل جائے گا، نہ عقبیٰ کے بدلہ کا انہیں یقین ہے ، نہ ان کو عقبیٰ میں کچھ بدلہ ملنے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" ماں کے پیٹ میں جب بچے کا پتلا تیار ہوجاتا ہے تو اس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[68] یعنی ہم تم سے اپنی عبادت چاہتے ہیں اس لئے نہیں کہ اس سے ہمارا کچھ فائدہ ہے بلکہ اس لئے کہ اس سے تم میں تقویٰ پیدا ہوگا جو دنیا اور آخرت دونوں میں مستقل کامیابی کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 130–133

(ف 1) ان آیات میں حضور ﷺ کو صبر و برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ اگر یہ بدبخت بدزبانی اور دشنام طرازی سے باز نہیں آتے ، تو آپ ان سے اتنے بلند ہوجائیے کہ ان کو خود اپنے بداعمال پر ندامت محسوس ہونے لگے اللہ کی عبادت کیجئے ، اس کی حمد و ستائش کا اظہار کیجئے اور ان کے تکلفات کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے کہ یہ سب سامان عیش وطرب ان کے لئے وجہ آزمائش ہیں ، سچا دوست اور باقی رہنے والا سرمایہ وہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے خود قیام صلوۃ پر عمل کیجئے ، اور اپنے قریب کے لوگوں کو اس پر آمادہ کیجئے اور رزق کی جانب سے بےنیاز ہوجائیے ہم آپ کو دنیا کے افکار سے مستغنی کردیں گے ، تاکہ آپ فراغ قلبی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 132 اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرتے رہئیے اور خود بھی نماز کے پابند رہئیے ہم آپ سے روزی نہیں مانگتے اور روزی نہیں طلب کرتے روزی تو ہم آپ کو دیا کرتے ہیں اور بہتر انجام تو پرہیز گاری ہی کا ہے۔ یعنی جو بات زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے وہ تو نماز ہے اپنے متعلقین سے بھی پڑھوائیے اور خود بھی پابند رہئیے کیونکہ خود ایک کام کو کرنا اور زبان سے دوسروں کو سمجھا نا زیادہ مفید اور ابلغ ہے ہم آپ سے روزی نہیں طلبک رتے جس طرح دنیا کے آقا غلاموں کو روزی کمانے پر مجبوری کرتے ہیں وہ آقا اور مالک روزی خود ہر ایک کو دیتا ہے وہ تو عبادت چاہتا ہے اور تمام مخلوق کو وہ خود روزی دیتا ہے اور انجام کارتقویٰ اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یعنی زیادہ توجہ کے قابل یہ امور ہیں۔ 7۔ یعنی مقصود اصلی اکتساب نہیں بلکہ دین اور طاعت ہیں، اکتساب کی اسی حالت میں اجازت یا امر ہے کہ ضروری طاعت میں وہ مخل نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : اپنے اہل کو نماز کا حکم دے اور روزی کی ذمہ داری ہم پر ہے : 132۔ (وامر اھلک بالصلوۃ) اپنے اہل یعنی گھر والوں اور ماننے والوں کو بھی نماز کا حکم دے ۔ اہل سے مراد بلاشبہ اہل و عیال ہوتے ہیں لیکن فقط اہل و عیال نہیں بلکہ اہل کا مفہوم عربی زبان میں بہت وسیع معنی رکھتا ہے اور وہی سے یہ لفظ ہماری زبان میں بھی آیا ہے اور یہاں بھی اس کے معنوں کی وسعت بدستور قائم ہے ، مثلا اہل اللہ ‘ اہل بستی اہل خیر ‘ اہل کتاب ‘ اہل انجیل ‘ اہل توراۃ ‘ اہل محلہ ‘ اہل قریہ ‘ اہل شہر ‘ اہل حدیث اور اہل بیت وغیرہ لیکن اس آخری جملہ کو معلوم نہیں کیا سمجھ لیا گیا اور پھر جو صحیح معنوں میں اہل بتت تھے ان کو گھر سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Requiring one's relatives and associates to offer their prayers regularly and the philosophy behind it وَأْمُرْ‌ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ‌ عَلَيْهَا (And bid your family to perform salah and adhere to it yourself - 132) Here the Holy Prophet has been asked to direct the members of his family to say prayers and that he himself should be very particular about his prayers. These appear to be two separate commands, i.e. one for the family and the other for himself but the fact is that for a person to be steadfast in saying prayers it is essential that his family and friends should be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

114. That is, also teach your children that lawful provision is much better than the unlawful riches of the wicked people. For this purpose, enjoin them to say their prescribed Prayers, for this will change their attitude, their standard of values, and make them contented with pure provisions and virtuous life in preference to the life of sin and luxury. 115. It implies this: We do not ask you to offer your Prayers for any benefit of Our own. We ask you to do that for your own good, because this will create piety in you which will bring about true success for you in this world and in the…

Read the full tafseer →