Explained with ayahs 131–132
شکریا تکبر ؟
ان کفار کی دنیوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ توذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان آزمائش کے لئے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں ؟ حقیقتاشکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔ ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرمارکھا ہے پس اپنی نظریں ان کے دنیوی سازوسامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ ﷺ آپ کے لئے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پر…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 113
رزق کا ترجمہ ہم نے " رزق حلال " کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو " رزق رب " سے تعبیر نہیں فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی اہل ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ یہ فسّاق و فجّار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی زندگی میں جو ظاہر چمک دمک پیدا کرلیتے ہیں، اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھو۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت تمہارے لیے ہرگز قابل رشک نہیں ہے۔ جو پاک رزق تم اپنی محنت سے کماتے ہو وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو، راستباز اور ایماندار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں وہ بھلائی ہے جو دنیا سے آخرت تک برقرار رہنے والی ہے۔
Read the full tafseer →دولت دنیا چند روزہ ہے یہ اللہ کے نزدیک مقبولیت کی علامت نہیں بلکہ مومن کے لئے خطرہ کی چیز ہے
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ ، اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور دراصل ہدایت کرنا امت کو ہے کہ دنیا کے مالداروں سرمایہ داروں کو قسم قسم کی دنیوی رونق اور طرح طرح کی نعمتیں حاصل ہیں۔ آپ ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھایئے کیونکہ یہ سب عیش فانی اور چند روزہ ہے اللہ تعالیٰ نے جو نعمت آپ کو اور آپ کے واسطے سے مؤمنین کو عطا فرمائی ہے وہ بدرجہا ان کی اس چند روزہ رونق حیات سے بہتر ہے۔
دنیا میں کفار و فجار کی عیش و عشرت اور دولت و حشمت ہمیشہ ہی سے ہر شخص کے لئے یہ سوال بنتی رہی ہے کہ جب یہ لوگ اللہ کے نزدیک مبغوض اور…
Read the full tafseer →امراء و اغنیاء سے بےنیازی کی ہدایت
اب یہ نبی ﷺ کو اپنی قوم کے امراء و اغنیاء کی زیادہ پروا اور دلداری کرنے سے روک دیا گیا۔ کسی قوم کے امراء و اغنیاء چونکہ قوم کے بنائو اور بگاڑ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہی کے بگڑنے سے پوری قوم بگڑتی اور ان کی اصلاح سے پوری قوم کے اصلاح پذیر ہونے کی توقع ہوتی ہے اس وجہ سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنی اپنی قوموں کے سرداروں اور بڑوں کو مخاطب کیا اور جب تک انہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے مایوس نہیں کردیا اس وقت تک وہ ان کی اصلاح فکر میں لگے رہے۔ حضرات انبیاء کرام کی اس سنت کے مطابق ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی سب سے…
Read the full tafseer →131۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو اس سے قبل سورة عمران 196۔ 197، سورة حجر، 87۔ 88 اور سورة کہف، 7 وغیرہ میں بیان ہوا ہے۔
131۔ 2 اس سے مراد آخرت کا اجر وثواب ہے جو دنیا کے مال و اسباب سے بہتر بھی ہے اور اس کے مقابلے میں باقی رہنے والا بھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عمر، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ آپ ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور بےسرو سامانی کا یہ عالم ہے، کہ گھر میں چمڑے کی دو چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ حضرت عمر ؓ کی آنکھوں میں بےاختیار آنسو آگئے۔ نبی ﷺ نے پوچھا، عمر کیا بات ہے، روتے کیوں ہو ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ! قیصرو کسرٰی، کس طرح آرام و راحت کی زندگی گزار رہے ہیں اور آپ کا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
56: نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ لوگ آپ کے خلاف جو بےہودہ باتیں کرتے ہیں، ان کا جواب دینے کے بجائے ان پر صبر کرتے رہیے، اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہئے جس کا بہترین طریقہ نماز پڑھنا ہے، چنانچہ سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز اور غروب سے پہلے عصر کی نماز اور رات میں عشاء اور تہجد کی نماز اور دن کے کناروں پر مغرب کی نماز کا اہتمام کرتے رہئے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بالآخر آپ خوش ہوجائیں گے، ایک تو اس لیے کہ اس پر آپ کو جو اجر ملنے والا ہے، وہ انتہائی عظیم الشان ہے، اور دوسرے یہی طرز عمل آخر کار دشمنوں پر آپ کی فتح کا ضامن ہے، اور تیسرے اس لیے کہ آپ کو امت کی شفاعت…
Read the full tafseer →ورزق ربک خیر و ابقی (02 : 131) ” اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی اچھا اور پائندہ ہے۔ “ اللہ کا دیا ہوا رزق ایک نعمت ہوتی ہے ، آزمائش نہیں۔ رزق حلال اچھا ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے وہ دھوکہ بھی نہیں دیتا اور فتنہ بھی پیدا نہیں کرتا۔
یہ حیات دنیا کو چھوڑ دینے کی دعوت نہیں ہے لیکن اس میں یہ پیغام ضرور ہے کہ حقیقی اور پائیدار اقدار کو اہمیت دو ، اور یہ پائیدار اقدار تعلق باللہ اور اللہ کی رضامندی میں ہیں۔ لوگوں کو دنیا کے ساز و سامان کے آگے گر نہیں جانا چاہئے۔ ہم کہیں اعلیٰ اقدار پر فخر کرنے کی صفت کو گم ہی نہ کردیں۔ دنیا کا وہ ساز و سامان جو نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے۔ یہ کہیں تمہاری نظر بلند کو…
Read the full tafseer →7 یعنی دنیا میں قسم قسم کے کافروں مثلاً یہود، نصاریٰ ، مشرکین، مجوسی وغیرہ کو ہم نے عیش و تنعم کے جو سامان دیے ہیں ان کی طرف آپ کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے (جیسے اب تک نہیں دیکھا) یہ محض چند روزہ بہار ہے جس کے ذریعہ سے ہم ان کا امتحان کرتے ہیں کہ کون احسان مانتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے، جو عظیم الشان دولت حق تعالیٰ نے (اے پیغمبر ﷺ آپ کے لیے مقدر کی ہے مثلاً قرآن کریم، منصب رسالت، فتوحات عظیمہ، رفع ذکر اور آخرت کے اعلیٰ ترین مراتب اس کے سامنے ان فانی اور حقیر سامانوں کی کیا حقیقت ہے۔ آپ کے حصہ میں جو دولت آئی وہ ان کی دولتوں سے کہیں بہتر ہے اور بذات خود یا اپنے اثر کے اعتبار سے ہمیشہ باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
آیت 131 وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ ”
ہو بہو یہی الفاظ سورة الحجر ‘ آیت 88 میں بھی آئے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! آپ ! ان کے مال و اسباب اور دنیوی آسائش و آرائش کے سامان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ‘ مبادا کسی کو گمان ہو کہ آپ ﷺ کی نظروں میں بھی ان چیزوں کی کوئی وقعت اور اہمیت ہے۔
زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط ”
آپ ﷺ تو حقیقت آشنا ہیں ‘ آپ ﷺ تو جانتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا مال و متاع سب کچھ فانی ہے اور مقصود اس سے صرف لوگوں کی آزمائش ہے۔ سورة الکہف میں اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی…
Read the full tafseer →97 یہاں رزق سے مراد صرف کھانے، پینے کی چیزیں ہی نہیں بلکہ رزق کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس لفظ کا اطلاق پر اس خداداد نعمت پر ہوتا ہے تو جسمانی یا روحانی اعتبار سے انسان کی تربیت کا باعث بن سکے۔ یعنی اللہ نے آپ کو جو قرآن کریم، منصب رسالت، فتوحات عظیمہ، اور آخرت کے اعلیٰ ترین مراتب عطاء فرمائے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اس چند روزہ زندگی کے ساز و سامان کی کیا حقیقت ہے۔ لہذا آپ کو اس ساز و سامان کی طرف اور دنیا میں مستغرق لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کا دیا ہوا ایسا رزق ہی ہر لحاظ سے بہتر اور پائیدار ہے۔
Read the full tafseer →161۔ (آیت) ” ازواجا منھم “۔ مراد کافروں کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلا یہود، نصاری، مشرکین وغیرہا اے اصنافامن الکفرۃ (کشاف) تقدیر کلام یوں ہے متعنا بہ بعضا منھم ازواجا۔ (آیت) ” لنفتنھم فیہ “۔ آزمائش سے مراد یہی ہے کہ کون ان نعمتوں کے حقوق ادا کرتا ہے اور کون ان کی ناقدری کرتا ہے۔
162۔ آیت کے اس مختصر سے ٹکڑے میں اس مادی دنیا، اس کی آرائشوں، زینتوں، تکلفات کی کل کائنات بیان کردی کہ پورے تسلسل حیات سے جو یہاں سے لے کر آخرت تک ہے قطع نظر کرکے صرف اس مادی زندگی پر قناعت کرلینا کس درجہ حمق اور خام خیالی ہے۔ مال و دولت صرف وہی قابل قدر ہے جو آئندہ دور کی زندگی میں بھی کام آنے والا ہے۔ (آیت) ” زھرۃ الحیوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت نمبر 129 تا 135
ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان…
Read the full tafseer →ولا تمدن عینینک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم زہرۃ الحیوۃ الدنیا لنفتنہم فیہ ورزق ربک خیر وابقی۔ اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھئے جن سے ہم نے کافروں کے مختلف
گروہوں کو ان کی آزمائش کے لئے متمتع کر رکھا ہے کہ وہ (محض) دنیوی زندگی کی رونق ہے اور آپ کے رب کا عطیہ (جو آخرت میں ملے گا) بدرجہا بہتر اور دیرپا ہے۔ آیت (وَلَوْ لاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ ۔۔ ) سے دو باتیں معلوم ہوئی تھیں ایک یہ کہ کافروں پر (دنیا میں جڑ سے اکھاڑ دینے والا) فوری عذاب نہیں آئے گا دوسری یہ کہ (آخرت میں) ان کو مقرر ‘ لازوال عذاب ہوگا۔ ان دونوں باتوں پر دو حکموں کو مرتب کیا اوّل بات یعنی عذاب عاجل کی نفی پر…
Read the full tafseer →(131) اور آپ ہرگز ان اموال کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے کہ جن سے ہم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر (یہودی قبائل) کو ان کو آزمایش کے لیے متمتع کر رکھا تھا تاکہ اس دنیاوی رونق و بہار سے ان کی آزمایش کریں یہ محض دنیاوی زندگی کی رونق ہے اور دنیا میں جو ان کو مال و دولت دے رکھا ہے، اس سے جنت بہت افضل اور دیرپا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ولا تمدن عینیک“۔ (الخ)
ابن شیبہ ؒ، ابن مردویہ ؒ، بزاز ؒ اور ابو یعلی ؒ نے حضرت ابو رافع ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے ہاں ایک مہمان آئے، آپ نے مجھے ایک یہودی کے پاس بھیجا کہ رجب کے چاند تک کچھ آٹا قرض لے آؤ اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ کوئی چیز…
Read the full tafseer →وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ۔۔ : ”مَدَّ یَمُدُّ“ (ن) پھیلانا، لمبا کرنا۔ آنکھیں پھیلانے سے مراد تعجب سے دیر تک دیکھتے رہنا ہے۔ ”مَدَّ یَمُدُّ“ عام طور پر پاؤں یا ہاتھ پھیلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”مَدَّ یَدَہُ“ یا ”مَدَّ رِجْلَہُ“ اس نے اپنا ہاتھ پھیلایا یا اپنا پاؤں پھیلایا۔ یہاں آنکھیں پھیلانا استعارہ ہے، یعنی جس طرح پسندیدہ چیز کی طرف شوق اور حرص سے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے آپ اپنی آنکھیں مت پھیلائیں۔ معلوم ہوا دیکھنے پر پابندی نہیں، دیکھتے چلے جانے پر پابندی ہے، کیونکہ اس سے دل میں اس چیز کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یہدلہم اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی کیا ان کے لیے ان کی خبر واضح نہیں ہوئی جن کو ہم نے تباہ کردیا ہے۔ یہ ان کے مکانوں کے درمیان چلتے ہیں جب طلب معاش میں تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور گزشتہ قوموں کے شہروں کو دیکھتے ہیں اور چھتوں کے بل گری پڑی بستیوں کو دیکھتے ہیں یعنی کیا وہ نہیں ڈرتے اس عذاب سے کہ ان پر بھی ویسا ہی عذاب اترے جو ان سے پہلے کفار پر اترا تھا۔ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور اسلمی وغیرہما نے نھدلہم نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ زیادہ واضح ہے۔ یھد یاء کے ساتھ فاعل کی وجہ سے مشکل ہے۔ کو فیوں نے کہا ؛: کم فاعل ہے۔ نحاس نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ کم استفہامیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–131
1:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک نجزی من اسرف “ سے مراد ہے جس نے شرک کیا۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ سے مراد ہے کیا ہم نے ان کے لئے واضح نہیں کردیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ یعنی کیا ہم نے ان کے لئے بیان نہیں کیا (آیت) ” کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مسکنہم “ جیسے قوم ثمود اور عاد اور جو ہلاک کئے گئے دوسری امتوں میں سے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “ فرمایا اس کلام کی تقدیر اس طرح سے ہے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما “ (یعنی اگر آپ کے…
Read the full tafseer →[وَلَا تمدَّنَّ : اور آپ ﷺ ہرگز دراز مت کریں ] [عَيْنَيْكَ : اپنی دونوں آنکھوں کو ] [اِلٰى مَا : اس کی طرف ] [مَتَّعْنَا : ہم نے برتنے کو دیا ] [بِهٖٓ: جو ] [اَزْوَاجًا : کچھ جوڑوں کو ] [مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کی رونق کے طور پر ] [ڏ لِنَفْتِنَهُمْ : تاکہ ہم آزمائیں ان کو ] [فِيْهِ : اس میں ] [وَرِزْقُ رَبِكَ : اور آپ ﷺ کے رب کا (دیا ہوا) رزق ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے ] [وَّاَبْقٰي : اور سدا بہار ہے ]
[ز ھـ ر ](س) زَھَرًا حسین ہونا۔ بارونق ہونا۔]
[ زَھْرَۃٌ اسم ذات ہے۔ حُسن۔ رونق۔ زیر مطالعہ آیت۔ 131 ۔]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو دنیاوی حالات میں مالیات کی کمی رہتی تھی اور آپ کا یہ فقر اختیاری تھا۔ ایک شخص کو ہزار ہزار بکریاں دے دیتے تھے لیکن اپنے لیے فقر ہی کو اختیار فرمایا اور آپ کے ساتھ جو مومنین تھے جنہوں نے ابتدائے مکہ مکرمہ میں ایمان قبول کیا تھا وہ بھی تنگدستی میں مبتلا رہتے تھے اور ان کے مقابل کفار اس زمانہ کے اعتبار سے خوش عیش تھے۔ کھانے، پہننے اور رہنے کے مکانوں میں انہیں برتری حاصل تھی۔ دنیاوی رونق اور زینت انہیں میسر تھی اور ان کے پاس بیویاں بھی تھیں۔ اللہ جل شانہٗ نے اپنے نبی کو خطاب کرکے فرمایا (یہ خطاب گو بظاہر آپ کو ہے لیکن مقصود آپ کے ساتھیوں کو تلقین فرمانا ہے) کہ ان لوگوں کو جو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت
از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔
اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…
Read the full tafseer →89:۔ یہ امر سوم ہے۔ یعنی آپ مسئلہ توحید کو جرات و شجاعت سے خوب پہنچائیں اور کفار و مشرکین کے مختلف طبقات کو جو ہم نے وافر دولت دے رکھی ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں یہ محض چند روزہ رونق اور شان و شوکت ہے۔ ان کو مال و دولت دینے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہمارے نزدیک ان کی کوئی قدر و منزلت ہے بلکہ یہ محض ابتلا اور امتحان ہے اور آخرت میں ان کیلئے جہنم کے سوا کچھ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ربط آیات :
دراصل یہ ساری سورة اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لئے نازل فرمائی۔ اہل ایمان کفار ومشرکین کے ہاتھوں سخت پریشانی اور ایذا رسانی میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کرکے مسلمانوں کو تسلی دلائی کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑتا ہے لہٰذا آپ بددل نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے رہیں ، آخری فتح تمہاری ہی ہوگی۔
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی طرف سے دی جانے والی تکالیف پر صبر کرنے کی تلقین کی تھی۔ اور ساتھ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس میں اللہ نے پانچوں نمازوں کا اشارتاً ذکر کرکے نماز پر…
Read the full tafseer →وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0ۥۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِيْہِ 0ۭ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّاَبْقٰي 131
مد
أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–135
1 ؎ یعنی عطیہ آخرت ان دنیاوی سامانوں اور آرائشوں سے بہتر ہے اس لیے کہ اس کے مقابلہ میں یہ چیزیں بےحقیقت ہیں اور باقی بھی ہے کس لیے کہ یہ چند روزہ وہ دائمی ہے۔ 12 منہ
ولاتمدن الخ المد دراز کردن ‘ کشیدن۔ اور مراد رغبت اور حسرت کے ساتھ نگاہ کرنا۔ دارآخرت کے توشہ کی تعلیم کر کے جو نماز و عبادت ہے دنیا کے وہ اسباب و آرائش و تجمل جو کفار اور دولت مندوں کو دیے گئے ہیں۔ مکان اور عمدہ لباس عمدہ عورتیں اور سواریاں اور دیگر چیزیں ان کی طرف رغبت کی نگاہ سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فتنہ ہیں ان میں ان کی خدا تعالیٰ آزمائش کرتا ہے۔ سو وہ ان میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ دارآخرت اور اس کے توشہ کا…
Read the full tafseer →وَلاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَامَتَّعْنَا بِـہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا 5 لا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ ط وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 131)
(آپ مشتاق نگاہوں سے نہ دیکھئے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے کافروں کے چند گروہوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے۔ یہ محض زیب وزینت ہے دنیوی زندگی کی تاکہ ہم انھیں ان سے آزمائیں اور آپ کے رب کی عطا بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ )
آیت کی ترکیب
آیت کی ترکیب : ایک صورت یہ ہے کہ اَزْوَاجًاکو مَتَّعْنَا کا مفعول بنایا جائے، تو مِنْھُمْ اس کی صفت ہوگی، ایسی صورت میں معنی ہوگا ” کافروں کے مختلف گروہ۔ “ دوسری صورت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ نبی اکرم ﷺ کو تیسری تلقین۔
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو فطری اور طبعی طور پر مستغنی طبیعت پیدا فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے یتیمی اور انتہائی غربت کا دور دیکھا لیکن کسی کے سامنے دست سوال نہیں پھیلایا۔ نبوت کے دور میں بھی ایسے مواقع آئے کہ کئی کئی دن تک گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ اس کے باوجود اپنے اور بیگانے سے کچھ مانگنا تو درکنار کبھی کسی سے اپنی تنگدستی کا اشارتاً بھی ذکر نہیں کیا۔ اسی لیے مفسرین نے اس آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ آپ کو ان الفاظ سے مخاطب کرنے کا معنٰییہ ہے کہ آپ مالدار طبقے کے بارے میں ایک حد سے زیادہ امید نہ رکھیں کہ یہ لوگ اسلام میں داخل…
Read the full tafseer →ٹھاٹھ باٹھ کو دیکھنے کی ممانعت :
131: وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ ( ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ اپنی آنکھیں اٹھا کر نہ دیکھیں) اپنی نگاہوں کی نظر اور درازی نظر سے اس کا لمبا کرنا مراد ہے۔ کہ دیکھی جانے والی چیز کی پسندیدگی و خوبصورتی کی بنا پر نگاہ اس سے نہ ہٹائی جائے۔
نحو : جو نظر طویل نہ ہو وہ معاف ہے اور وہ اس طرح ہے کہ نظر اچانک پڑے پھر نگاہ کو نیچا کرلے۔ متقی لوگوں نے ظالموں کے مکانات پر نگاہ ڈالنے اور فساق کے ٹھاٹ والے لباسوں اور ان کی سواریوں پر نگاہ سے بھی روکا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت حسن (رح) نے فرمایا۔ فساق کے گھوڑوں کی جھنکار کی طرف بھی نگاہ نہ کرو۔ بلکہ یہ دیکھو کس طرح ان کے سواروں پر…
Read the full tafseer →آیت کا شان نزول۔
131۔ ولاتمدن عینک، ، ابورافع کا بیان ہے کہ نبی کریم کے پاس ایک مہمان آکراترا، آپ نے مجھے ایک یہودی کے پاس آٹا قرض خریدنے کے لیے بھیجا یہ فرمایا کہ مجھے رجب کا چاند دیکھنے تک کے لیے آٹا دے دو ۔ یہودی نے کہا کہ بغیر کسی چیز کو رہن رکھے نہیں دوں گا۔ میں نے حاضر خدمت ہوکر یہودی کا جواب عرض کردیا، اور شاد فرمایا اگر وہ میرے ہاتھ بیچ ڈالتا یافرمایاقرض بیچ ڈالتا تو میں ضرور ادا کرتا اور میں بلاشبہ آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں۔ جاؤ میرے لوہے کی زرہ اس کے پاس لے جاؤ، میں آپ کے پاس سے باہر نکلنے نہ پایا تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ولاتمدن عینک ، ان چیزوں کی طرف ہرگز…
Read the full tafseer →131:۔ مسند بزار مسند ابویعلی ‘ مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابن مردویہ وغیرہ 1 ؎ میں جو شان نزول اس آیت کی ابورافع ؓ کی روات سے بیان کی گئی ہے اس میں ابو رافع ؓ کہتے ہیں آنحضرت ﷺ کے گھر میں ایک روز کوئی مہمان آیا تھا اور آنحضرت ﷺ کے گھر میں اس روز کچھ کھانے کو نہیں تھا اس واسطے آنحضرت ﷺ نے مجھ کو ایک یہودی سے کچھ آٹا قرض لینے کو بھیجا۔ اس یہودی نے جواب دیا کہ بغیر کوئی چیز گروی رکھنے کے میں قرض نہیں دیتا۔ آنحضرت ﷺ کو اس یہودی کا جواب سن کر بڑا رنج ہوا اور آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان میں مجھ کو صاحب اعتبار کیا ہے بغیر کسی چیز کے گروی رکھنے کے وہ آٹا قرض دیتا تو ضرور اس کا قرضہ ادا…
Read the full tafseer →آیت 131
یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً لذیذ ما کو لات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کئے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں، اس لئے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنے ولاوں کی نظریں ہی اسے پسندیدگی سے دیکھتی ہیں۔ آخرت سے قطع نظر کرکے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں۔ پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بےموت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
138 منکرین کی باتوں پر صبر و برداشت کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ان لوگوں کی ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں صبر سے کام لیں "۔ یعنی ان کی ان باتوں پر جو یہ بناتے ہیں حق اور اہل حق کے خلاف اور ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک ہی کے حوالے کردیں۔ وہ ان سب سے خود ہی نمٹ لے گا۔ اور کمال عدل و انصاف کے ساتھ نمٹے گا۔ سو یہ لوگ جو آپ کے بارے میں طرح طرح کی دلآزار اور دکھ دہ باتیں کرتے ہیں۔ کبھی آپ کو ساحر کہتے ہیں کبھی شاعر اور کبھی مجنوں وغیرہ۔ تو آپ اے پیغمبر ﷺ ان کی ایسی تمام باتوں پر صبر ہی سے کام لیں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب اللہ آپ کے ساتھ ہے تو پھر آپ کو کسی کی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
صبر، نماز قائم کرنے اور گھر والوں کو اس کا حکم دینے کا حکم
تشریح : اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور یہ خطاب تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دشمن مختلف صورتوں اور حالات میں ضرور ہوتا ہے۔ تو اس کی تکلیف دہ باتوں ایذا رسانیوں، چالبازیوں، شرارتوں خباثتوں اور نفرتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے صبر اور صلوٰۃ، یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انتقام کے چکر میں نہ پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی دنیا میں حلال روزی اور آخرت میں اجر وثواب
Read the full tafseer →(20:131) لا تمدن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر بانون تاکید ثقیلہ مد یمد مدا (باب نصر) المد کے اصل معنی (لمبائی میں) کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدت کہتے ہیں مددت عینی الی کذا۔ کسی کی طرف حریصانہ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا۔ لا تمدن عینیک الی (دنیا کا سازوسامان جو کفار کو دیا گیا ہے) تو اس کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھ ۔ مددت فی۔ مہلت دینا
متعنا۔ متع یمتع تمتیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی سامان دے کر بہر مند کیا۔ ما اسمیہ موصولہ اور بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ ما متعنا بہ۔ جو دنیاوی سامان ہم نے دیا۔
ازواجا منہم۔ ان میں کے چند گروہ۔ یہ متعنا کا مفعول ہے۔ لا تمدن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–132
لغات القرآن آیت نمبر 129 تا 132
سبقت گزر گئی، طے کردی گئی۔ لزام عذاب۔ اجل مسمی مدت مقرر، متعین۔ اناء برتن، لمحہ، وقت۔ اطراف کنارے۔ ترضی تو خوش ہوگا۔ لاتمدن تو ہرگز نہ پھیلے گا۔ متعنا ہم نے برتنے کا سامان دیا۔ زھرۃ آرائش و زیبائش۔ نفتن ہم آزماتے ۔ اصطبر تو قائم رہ۔
تشریح : آیت 129 تا 132
ان آیات میں کفار و مشرکین کے اس طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اختیار کر رکھا تا۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں، ضدوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا اور ان کو گزشتہ قوموں کی طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا چونکہ اللہ کی ہر صفت پر اس…
Read the full tafseer →ان آیتوں مطلب یہ ہے کہ کافروں کے مال ومتاع کی طرف مسلمانوں کو نظر رغبت نہیں کرنی چاہئے۔ وہ مال ومتاع جو کافروں میں سے بعض کو ملا ہے۔ یہ دنیا کی زندگی کی آرائش ہے، آخرت میں کچھ کار آمد نہیں۔ اور یہ مال ومتاع دولت و حشمت ان کو آزمائش کے واسطے دیا گیا ہے، وہ مرتے وقت اس کی جدائی کا داغ دل پہ لے کر جائیں گے۔ فرمایا۔ " مال ومتاع دولت، آرائش کے اسبباب جو کفار کو دیئے گئے ہیں مثلاً عمدہ مکان اور عمدہ لباس، عمدہ عورتیں اور سواریاں ، میز کرسی، چہاڑ فانوس، شیشہ آلات وغیرہ یہ بلکل نکمی چیزیں ہیں۔ کیونکہ خدا کی یاد سے غافل کرنے والی اور آخرت کے خسارے والی ہیں، آخرت کے توشہ کا ان کے دل میں خیال بھی نہیں…
Read the full tafseer →[67] آزمائش سے مراد یہ ہے کہ کون ان نعمتوں کے حقوق ادا کرتا ہے اور کون ان کی ناقدری کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
(ف 1) ان آیات میں حضور ﷺ کو صبر و برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ اگر یہ بدبخت بدزبانی اور دشنام طرازی سے باز نہیں آتے ، تو آپ ان سے اتنے بلند ہوجائیے کہ ان کو خود اپنے بداعمال پر ندامت محسوس ہونے لگے اللہ کی عبادت کیجئے ، اس کی حمد و ستائش کا اظہار کیجئے اور ان کے تکلفات کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے کہ یہ سب سامان عیش وطرب ان کے لئے وجہ آزمائش ہیں ، سچا دوست اور باقی رہنے والا سرمایہ وہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے خود قیام صلوۃ پر عمل کیجئے ، اور اپنے قریب کے لوگوں کو اس پر آمادہ کیجئے اور رزق کی جانب سے بےنیاز ہوجائیے ہم آپ کو دنیا کے افکار سے مستغنی کردیں گے ، تاکہ آپ فراغ قلبی کے ساتھ…
Read the full tafseer →131 اور ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو دنیوی زندگی کی رونق کا جو سامان برتنے کو دے رکھا ہیتا کہ ہم ان کو اس سے آزمائیں آپ اس سامان کی طرف آرزو بھری نظر نہ دوڑائیے اور آپ کے پروردگار کا عطیہ اور اس کی دی ہوئی بدرجہا بہتر اور دیرپا اور باقی رہنے والی ہے۔ یعنی منکرین کے مختلف طبقات کو جو ہم نے آزمانے کے لئے رونق اور عیش کے سامان دے رکھے ہیں ان پر نظر نہ دوڑائیے اور استحسان و اعجاب اور تمنا کی نظر نہ ڈالئے یعنی اس سامان کو اچھا سمجھنا یا ا ن کے سامان کو تعجب یا ان کے سامان اور رونق کی تمنا کرنا اور للچائی ہوئی نظر نہ ڈالو اور جو کچھ پروردگار نے دے رکھا ہے یا جو آخرت میں عطا ہونے والا ہے وہ آپ کے…
Read the full tafseer →ف 4۔ مطلب اوروں کو سنانا ہے، کہ جب معصوم کے لئے یہ ممانعت ہے جنہیں احتمال بھی نہیں تو غیر معصوم کو تو اس کا اہتمام کیونکر ضروری نہ ہوگا، آزمائش یہ کہ کون احسان مانتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے۔
5۔ خلاصہ کلام کا یہ ہوا کہ نہ ان کی اعراض کی طرف التفات کیا جاوے نہ ان کے اعراض کی طرف، سب کا انجام عذاب ہے۔
Read the full tafseer →جن لوگوں کو ان کے کفر کے باوجود آسائشیں میسر ہیں آپ ﷺ ان کی طرف دھیان ہی نہ دیں :
131۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو دنیا داروں کی طرف سے بالکل مستغنی ہونے کی ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف دھیان ہی نہ دیں جو اس دنیا کی فراوانیاں حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور آخرت سے بالکل بےفکر ہوگئے ہیں۔ ان کے یہ بڑے بڑے محلات ‘ کو ٹھیاں اور ساری ٹھاٹھ باٹھ بالکل عارضی چیزیں ہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ نہ یہ لوگ ہوں گے اور نہ ہی ان کی فراوانیاں اور آسائش و آرام یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہی طبقہ ہے جو کسی قوم کے بناؤ اور بگاڑ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ، ان کے بگڑنے سے پوری قوم بگڑتی…
Read the full tafseer →Worldly wealth is a fleeting thing and is not an evidence of God's favour, and for good Muslims it is a danger signal
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ (And never stretch your eyes - 20:13) The words are addressed to the Holy Prophet and are intended to provide guidance to his followers. They are told not to cast covetous eyes at the splendor and glitter of those who revel in the enjoyment of worldly pleasures, because all these things are fleeting and transient while the grace and blessings bestowed upon the Holy Prophet and through him upon his followers are everlasting and much more desirable…
Read the full tafseer →113. It means: It does not behoove you and your companions to be envious of the riches of the wicked people who are amassing wealth by unlawful means. The best thing for you is the lawful provision which you earn by your hard labor, even though this may be meager in quantity. That is better for the pious and righteous and is of everlasting virtue.
Read the full tafseer →