Explained with ayahs 128–130
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو۔
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا ؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی، ان کے بلند وبالا پختہ اور خوبصورت کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے اگر یہ علقمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لئے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے ؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کر عبرت حاصل نہیں کرتے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
سورة طٰهٰ 111
یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ابھی ہلاک نہیں کرنا چاہتا، اور ان کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر کرچکا ہے، اس لیے اس کی دی ہوئی اس مہلت کے دوران میں یہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کریں اس کو تمہیں برداشت کرنا ہوگا اور صبر کے ساتھ ان کی تمام تلخ و ترش باتیں سنتے ہوئے اپنا فریضۂ تبلیغ و تذکیر انجام دینا پڑے گا۔ اس تحمل و برداشت اور اس صبر کی طاقت تمہیں نماز سے ملے گی جس کو تمہیں ان اوقات میں پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
" رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح " کرنے سے مراد نماز ہے، جیسا کہ آگے چل کر خود فرما دیا وَأمُرْ اَھْلَکَ بَالصَّلوٰۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا، " اپنے اہل و عیال کو نماز…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَــقُوْلُوْنَ ، اہل مکہ جو ایمان سے بھاگنے کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو برے برے کلمات سے یاد کرتے تھے، کوئی ساحر کوئی شاعر کوئی کاذب کہتا تھا۔ ان کی ایذاؤں کا علاج قرآن کریم نے اس جگہ دو چیزوں سے بتلایا ہے اول یہ کہ آپ ان کے کہنے کی طرف التفات نہ کریں بلکہ صبر کریں۔ دوسری چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجانا ہے جو اگلے جملے میں فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔
دشمنوں کی ایذاؤں سے بچنے کا علاج صبر اور اللہ کی یاد میں مشغول ہونا ہے
دشمنوں سے تو اس دنیا میں کسی چھوٹے بڑے، اچھے برے انسان کو نجات نہیں ملتی۔ ہر شخص کا…
Read the full tafseer →نبی صلعم کو صبر کی تلقین اور نماز کی تاکید
اب یہ پیغمبروں کو مخالفین کی تمام بکواس پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ نماز کے اہتمام کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں روشنی ڈال چکے ہیں۔ صبر کی بنیاد درحقیقت اس عقیدے پر ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کی مشیت سے ہوتا ہے اور اس کی مشیت تمام تر خیر پور مبنی ہوتی ہے۔ اس عقیدہ کو دل میں راسخ اور ذہن میں مستحضر رکھنے کے لئے سب سے بڑا اور مئوثر ذریعہ نماز ہے۔
وسبح بحمد ربک تسبیح کا عام مفہوم تو ذکر الٰہی ہے اور یہ ذکر الٰہی ہر وقت مطلوب ہے لیکن یہاں اس کا ذکر اوقات کی قید کے ساتھ ہے۔…
Read the full tafseer →130۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک تسبیح سے مراد نماز ہے اور وہ اسے پانچ نمازوں سے مراد لیتے ہیں۔ طلوع شمس سے قبل فجر، ٖغروب سے قبل، عصر رات کی گھڑیوں سے مغرب و عشاء اور اطراف النھار سے ظہر کی نماز مراد ہے کیونکہ ظہر کا وقت، یہ نماز اول کا طرف آخر اور نہار آخر کا طرف اول ہے۔ اور بعض کے نزدیک ان اوقات میں ایسے ہی اللہ کی تسبیح و توحید ہے، جس میں نماز، تلاوت، ذکر اذکار، دعا مناجات اور نوافل سب داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان مشرکین کی تکذیب سے بددل نہ ہوں۔ اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، ان کی گرفت فرما لے گا۔
130۔ 2 یہ متعلق ہے فَسَبِّحْ سے یعنی ان اوقات میں تسبیح کریں، یہ امید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
56: نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ لوگ آپ کے خلاف جو بےہودہ باتیں کرتے ہیں، ان کا جواب دینے کے بجائے ان پر صبر کرتے رہیے، اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہئے جس کا بہترین طریقہ نماز پڑھنا ہے، چنانچہ سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز اور غروب سے پہلے عصر کی نماز اور رات میں عشاء اور تہجد کی نماز اور دن کے کناروں پر مغرب کی نماز کا اہتمام کرتے رہئے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بالآخر آپ خوش ہوجائیں گے، ایک تو اس لیے کہ اس پر آپ کو جو اجر ملنے والا ہے، وہ انتہائی عظیم الشان ہے، اور دوسرے یہی طرز عمل آخر کار دشمنوں پر آپ کی فتح کا ضامن ہے، اور تیسرے اس لیے کہ آپ کو امت کی شفاعت…
Read the full tafseer →یہ لوگ کفر اور مذاق اور سرکشی اور اعراض کرتے ہوئے جو کچھ بھی کہتے ہیں اس پر آب پریشان نہ ہوں اور نہ اپنی جان ان کے لئے کھپائیں ، پس اب ان پر حجت تمام ہے کہ آپ صبح و شام رب کی عبادت کریں۔ صبح کے پرسکون وقت میں خدا کی یاد اور غروب آفتاب کے وقت کے سکون میں خدا کی یاد جس وقت ، یہ پوری کائنات آنکھیں بند کرتی ہے اور رات اور دن کے دو پرسکون اطراف میں خدا کی یاد ، دلوں کو بہت سکون فراہم کرتی ہے اور اللہ کی رضامندی کا باعث ہوتی ہے۔
اللہ کی تسبیح وثنا سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور اللہ کے قریب سے حاصل ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو نہایت ہی اطمینان بشخ اور فرحت بخش ذات کی رفاقت میں محسوس کرتا ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →2 یعنی عذاب اپنے وقت پر ہو کر رہے گا۔ تاخیر و امہال کو دیکھ کر یہ لوگ جو کچھ بکیں بکنے دو ۔ آپ فی الحال ان کی باتوں کو سہتے رہیے اور صبرو سکون سے آخری نتیجہ کا انتظار کیجئے۔ ان کے کلمات کفر پر حد سے زیادہ مضطرب ہونے کی ضرورت نہیں۔
3 یہ فجر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔ یعنی احمقوں اور شریروں کی باتوں پر دھیان نہ کرو۔ صبر و سکون کے ساتھ اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو۔ کیونکہ خدا کی مدد صبرو صلوٰۃ دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے۔ (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) 2 ۔ البقرۃ :45)
4 اس میں مغرب و عشاء بلکہ بعض تفاسیر کے موافق نماز تہجد بھی داخل ہے۔
5 یہ ظہر کی نماز ہوئی، کیونکہ اس وقت دن کے نصف اول…
Read the full tafseer →وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَاج ”
یہ نماز فجر اور نماز مغرب کی طرف اشارہ ہے۔
وَمِنْ اٰنَآیئ الَّیْلِ فَسَبِّحْ ”
اس سے نماز مغرب اور عشاء مراد ہیں۔
وَاَطْرَاف النَّہَارِ ”
دن کے دونوں اطراف سے دن کے آغاز اور سورج ڈھلنے کے بعد کے اوقات مراد ہیں۔ دن کے آغاز میں صلوٰۃ الضحیٰ یا نماز چاشت کا وقت ہے جبکہ سورج ڈھلنے کے بعد نماز ظہر کا۔ یعنی نصف النہار کے بعد جتنے وقفے پر نماز ظہر کا وقت ہے تقریباً اتنے ہی وقفے پر نصف النہار سے پہلے نماز چاشت کا وقت ہے۔ نمازوں کی تعداد اصل میں آٹھ ہے۔ ان میں سے تین کو فرض نہیں رکھا گیا جن کے اوقات چوبیس گھنٹوں میں بڑی…
Read the full tafseer →94 مصائب و مشکلات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے کے لئے قرآن نے متعدد مقامات پر دو باتوں پر زور دیا ہے۔ ایک صبر اور دوسرے نماز۔ صبر سے مراد احکام الٰہی کو پورے استقلال کے ساتھ بجا لاتے رہنا بھی ہے۔ اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی۔ اور نماز سے بندے کا اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے اور وہ اللہ پر توکل کرنا سیکھتا ہے اور جوں جوں یہ تعلق بڑھتا جاتا ہے۔ اللہ پر توکل میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور اسی توکل سے مشکلات کو برداشت کرنے کی ہمت و جرأت پیدا ہوتی ہے۔
ـ95 حد کے ساتھ تسبیح اور محض تسبیح دونوں سے یہاں مراد نماز ہے کہ یہ عرب میں عام دستور ہے کہ کسی چیز کا کوئی خاص…
Read the full tafseer →159۔ (یہ یقیناً ہر دیندار کے لیے اشتعال انگیز اور صبر آزما ہیں)
160۔ (کہ دنیا کے آلام و افکار سے بچنے کا راستہ یہی عبادت میں مشغولیت کا ہے) (آیت) ” فسبح بحمد ربک “۔ حمد وتسبیح سے مراد یہاں نماز لی گئی ہے۔ (آیت) ” قبل طلوع الشمس “۔ میں فجر کی نماز آگئی، اور قبل غروب میں ظہر وعصر کی نمازیں۔ اور (آیت) ” انآیء الیل “۔ میں مغرب و عشاء کی نمازیں۔ (آیت) ” اطراف النھا ر “ سے نماز فجرومغرب کی مکرر تاکید ہوگئی۔ تکریر لصلاتی الصبح والمغرب ارادۃ الاختصاص (بیضاوی) بعض نے اس سے مراد نماز ظہر وعصر لی ہے اور بعض نے محض ظہر۔ امر بصلاۃ الظھر فانہ نھایۃ النصف الاول من النھار وبدایۃ النصف الاخر وجمعہ باعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت نمبر 129 تا 135
ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان…
Read the full tafseer →فاصبر علی ما یقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا
سو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کیجئے (اس میں نماز بھی آگئی) آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔
ومن انآی الیل فسبح و اطراف النہار لعلک ترضی۔ اور اوقات شب میں بھی پاکی بیان کیجئے
(مثلاً نماز مغرب و عشاء) اور دن کے دونوں طرفوں میں بھی (یعنی اوّل اور آخر) تاکہ (جو ثواب آپ کو ملے) آپ (اس سے) خوش ہوں۔
فَاصْبِرْسے خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہے یعنی کفار کے عذاب کی ایک میعاد مقرر ہے جب وہ دن آئے گا تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے اب جو آپ کے متعلق (دکھ پہنچانے والی) باتیں وہ کرتے ہیں ان پر صبر…
Read the full tafseer →(130) لہذا اے محمد ﷺ یہ کفار جو ظلم اور کفر کر رہے ہیں، آپ اس پر صبر کیجیے اور آپ اپنے پروردگار کے حکم سے صبح کی نماز اور ظہر و عصر اور رات آنے پر مغرب و عشاء کی نماز پڑھیے اور ظہر و عصر کا ابھی اہتمام رکھیے تاکہ ان عبادتوں کے صلہ میں آپ کو مقام شفاعت حاصل ہو اور آپ اس سے خوش ہوجائیں۔
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَــقُوْلُوْنَ : یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دینا طے فرما دیا ہے تو اب خواہ وہ کتنی تکلیف دہ باتیں کہیں، ساحر کہیں یا شاعر، کاہن کہیں یا مجنون، مذاق اڑائیں یا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ باتیں کہیں، آپ کے پاس صبر اور اللہ سے فریاد کے سوا چارہ نہیں، کیونکہ ہر مصیبت میں دو ہی چیزیں مددگار ثابت ہوتی ہیں، ایک صبر اور دوسری اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید، جس کی جامع صورت نماز ہے، اس لیے دوسری جگہ فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ) [ البقرۃ : 15 ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ : اس کا لفظی معنی اگرچہ یہ ہے کہ ”اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یہدلہم اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی کیا ان کے لیے ان کی خبر واضح نہیں ہوئی جن کو ہم نے تباہ کردیا ہے۔ یہ ان کے مکانوں کے درمیان چلتے ہیں جب طلب معاش میں تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور گزشتہ قوموں کے شہروں کو دیکھتے ہیں اور چھتوں کے بل گری پڑی بستیوں کو دیکھتے ہیں یعنی کیا وہ نہیں ڈرتے اس عذاب سے کہ ان پر بھی ویسا ہی عذاب اترے جو ان سے پہلے کفار پر اترا تھا۔ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور اسلمی وغیرہما نے نھدلہم نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ زیادہ واضح ہے۔ یھد یاء کے ساتھ فاعل کی وجہ سے مشکل ہے۔ کو فیوں نے کہا ؛: کم فاعل ہے۔ نحاس نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ کم استفہامیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–131
1:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک نجزی من اسرف “ سے مراد ہے جس نے شرک کیا۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ سے مراد ہے کیا ہم نے ان کے لئے واضح نہیں کردیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ یعنی کیا ہم نے ان کے لئے بیان نہیں کیا (آیت) ” کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مسکنہم “ جیسے قوم ثمود اور عاد اور جو ہلاک کئے گئے دوسری امتوں میں سے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “ فرمایا اس کلام کی تقدیر اس طرح سے ہے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما “ (یعنی اگر آپ کے…
Read the full tafseer →[فَاصْبِرْ : پس آپ ﷺ صبر کریں ] [عَلٰي مَا : اس پر جو ] [يَــقُوْلُوْنَ : یہ لوگ کہتے ہیں ] [وَسَبِحْ : اور آپ ﷺ تسبیح کریں ] [بِحَمْدِ رَبِكَ : اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] [قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ : سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ] [وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا : اور اس کے غروب ہونے سے پہلے ] [وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ : اور رات کے کچھ حصّوں میں سے ] [فَسَبِحْ : پھر آپ ﷺ تسبیح کریں ] [وَاَطْرَافَ النَّهَارِ : اور دن کے کناروں پر (بھی)] [لَعَلَّكَ : شاید کہ آپ ﷺ ] [تَرْضٰى: راضی ہوں ]
نوٹ۔ 1: حضرت سعید بن جبیر (رح) نے مَعِیْشَۃً ضَنْکًا (کمزور معیشت یا تنگ معیشت) کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ان سے قناعت کا…
Read the full tafseer →صبح شام اور رات کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیجیے، اہل دنیا کی طرف آپ کی نظریں نہ اٹھیں، اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے
رسول اللہ ﷺ جب اہل مکہ کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ایمان لانے کی تلقین فرماتے تھے تو وہ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے اور آپ کی شان میں ناروا کلمات استعمال کرتے تھے۔ انہیں ایمان لانے سے بھی انکار تھا اور جب عذاب کی بات آتی تھی تو اس کا بھی مذاق بناتے تھے کہ اگر ہم غلط راہ پر ہیں تو عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اس کا جواب قرآن مجید میں کئی جگہ دے دیا گیا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا کہ آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے ایک بات فرمائی ہوئی ہے اور عذاب کے لیے ایک اجل مقرر ہے۔ دنیا میں جو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت
از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔
اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…
Read the full tafseer →88:۔ یہ پانچویں آیت تشجیع ہے جو پانچ امور پر مشتمل ہے۔ امر اول ” فَاصْبِرْ عَلیٰ مَا یَقُوْلُوْنَ “ یعنی آپ مشرکین کی بےجا باتوں اور ان کے طعن وتشنیع پر اور ان کی طرف سے جو مصائب آئیں ان پر صبر کریں۔ امر دوم ” وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ “ اور اللہ کی تسبیح و تقدیس اس پر ممد و معاون ہے لہذا آپ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کریں۔ صبر و استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہے۔ اس آیت سے پانچوں نمازوں کا حکم مستنبط ہے۔ ” قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ “ نماز فجر۔ ” قَبْلَ غُرُوْبِھَا “ نماز عصر۔ ” وَ مِنْ اٰنَاءِ الَّیْلِ “ نماز عشاء اور ” اَطْرَافَ النَّھَارِ “ نماز ظہر و مغرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ذکر اور نصیحت سے اعراض کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا تھا۔ ایک تو ان کی معیشت تنگ ہوجائے گی ، یعنی وہ سکون اور اطمینان سے محروم ہوجائیں گے اور ان کی قبر کی زندگی بھی بڑی تنگی میں گزرے گی۔ اور دوسری بات یہ کہ جب حشر میں اٹھیں گے تو اندھے ہوں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے طور پر سابقہ قوموں کی ہلاکت اور بربادی کا حال بھی بیان فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ان واقعات میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ دراصل یہ آیات سورة ہذا کی ابتدائی آیات کے ساتھ مربوط ہیں وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ قرآن آپ کو مشقت میں ڈالنے کے…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَــقُوْلُوْنَ وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا 0ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ فَسَبِّــحْ وَاَطْرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى 130
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک…
Read the full tafseer →2 ؎ قبل طلوع الشمس سے مراد صبح کی نماز و قبل غروبہا سے ظہر وعصر کی ومن انائی الیل سے مغرب و عشاء و تہجد کی۔ و اطراف النہار عصر و صبح کی نماز مراد ہے بعض کہتے ہیں تسبیح سے گو نماز مراد ہوتی ہے مگر یہاں سبحان اللہ الحمدللہ یاسبحان اللہ بحمدہ کہنا ان اوقات میں مراد ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاصْبِرْعَلٰی مَایَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا ج وَمِنْ اٰ نَـآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّھَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی۔ (طٰـہٰ : 130)
(پس آپ صبر کریں ان کی دل دکھانے والی باتوں پر اور آپ تسبیح کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ، سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کریں اور دن کے اطراف میں بھی، تاکہ آپ نہال ہوجائیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو صبر کی تلقین اور نماز کی تاکید
دنیا کا سب سے مشکل کام کسی انسان میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ ایسی تبدیلی جس سے غلط افکار صحیح افکار میں ڈھل جائیں اور ہر فکری الجھائو صحیح سمت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مخالفین کے عذاب کے مطالبہ پر رسول محترم ﷺ کو نماز پڑھنے اور صبر کرنے کی تلقین۔
قرآن مجید کی تلاوت اور سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ رسول کریم ﷺ بےانتہا جانفشانی، خلوص اور پر سوز طریقے کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ لیکن مخالفین کی حالت یہ تھی کہ وہ آپ کی پرخلوص کوششوں کا بدتر سے بدترین جواب دیتے۔ یہاں تک کہ وہ آپ سے بار بار مطالبہ کرتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے۔ اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ انسان ہونے کے ناطے سے آپ ﷺ کو اس صورت حال سے رنج پہنچتا جس سے آپ دل گرفتہ ہوجاتے۔ ان حالات میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد…
Read the full tafseer →صبر و نماز کی تلقین :
130: فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (آپ ان کی باتوں پر صبر کریں) جو آپ کے متعلق کرتے ہیں۔ وَسَبِّحْ (اور تسبیح کرو) یعنی نماز ادا کرو۔ بِحَمْدِ رَبِّکَ (اپنے رب کی حمد کے ساتھ) یہ موضع حال میں ہے معنی یہ ہے وانت حامد لربک علی ان وفقک للتسبیح واعانک علیہ اس حال میں کہ آپ اپنے رب کی اس بات پر تعریف کرنے والے ہیں۔ کہ اس نے آپ کو تسبیح کی توفیق دی اور اسیر اعانت خاص فرمائی قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ (سورج کے طلوع سے قبل) اس سے صلاۃِ فجر مراد ہے۔ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا (اور اس کے غروب سے پہلے) اس سے ظہر و عصر مراد ہیں کیونکہ یہ دونوں نمازیں دن کے آخری نصف میں پائی جاتی ہیں جو…
Read the full tafseer →تفسیر۔
130۔ فاصبر عل مایقولون، ، یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔ وسبح بحمد ربک ، ، اپنے رب کے حکم سے نماز پڑھیے، بعض نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس نے آپ کو نماز اور تسبیح کی توفیق دی۔ قبل طلوع الشمس، اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ وقبل غروبھا، اس سے مراد عصر کی ماز ہے۔ ومن آناء اللیل ، آناء ایک گھڑی کو کہتے ہیں ، فسبح ، اس سے مراد مغرب و عشاء کی نماز ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد رات کے پہلے حصے کی نماز ہے۔ و اطراف النھار، اس سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ ظہر کا نام اس وجہ سے بیان کیا کہ یہ دن کے کنارے پر ہوتی ہے اور اس کا وقت دن کے ڈھلنے یعنی زوال کے بعد ہوتا ہے۔ یہ نصف اول ہے دن کے آخری حصے…
Read the full tafseer →130۔ بعضے مفسروں نے آیت کے اس ٹکڑے کو درگزر کی آیتوں میں گن کر آیت جہاد سے اس کو منسوخ لکھا ہے لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ درگذر کی کوئی آیت جہاد کے حکم سے منسوخ نہیں ہے ‘ مکہ کے مشرک لوگ بھی اللہ کے رسول ﷺ کو دیوانہ کہتے تھے ‘ کبھی شاعر ‘ کبھی جادوگر ‘ اس پر فرمایا اے رسول اللہ کے یہ تو تمہیں جتلا دیا گیا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس کے آنے تک کچھ دنوں صبر کرنا اور رات دن میں جو نمازیں اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کردی ہیں دل لگا کر ان میں مصروف رہنا چاہیے ‘ تمہارا صبر اور تمہاری عبادت کا بدلہ دنیا اور آخرت میں وقت مقررہ پر اتنا ملے گا کہ تم خوش ہوجاؤگے اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا…
Read the full tafseer →آیت 130
یہ رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لئے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لئے ایک معقول سبب ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لئے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کردیئے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو موخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لئے موخر کردیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں، اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
138 منکرین کی باتوں پر صبر و برداشت کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ان لوگوں کی ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں صبر سے کام لیں "۔ یعنی ان کی ان باتوں پر جو یہ بناتے ہیں حق اور اہل حق کے خلاف اور ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک ہی کے حوالے کردیں۔ وہ ان سب سے خود ہی نمٹ لے گا۔ اور کمال عدل و انصاف کے ساتھ نمٹے گا۔ سو یہ لوگ جو آپ کے بارے میں طرح طرح کی دلآزار اور دکھ دہ باتیں کرتے ہیں۔ کبھی آپ کو ساحر کہتے ہیں کبھی شاعر اور کبھی مجنوں وغیرہ۔ تو آپ اے پیغمبر ﷺ ان کی ایسی تمام باتوں پر صبر ہی سے کام لیں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب اللہ آپ کے ساتھ ہے تو پھر آپ کو کسی کی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
صبر، نماز قائم کرنے اور گھر والوں کو اس کا حکم دینے کا حکم
تشریح : اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور یہ خطاب تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ کہ دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دشمن مختلف صورتوں اور حالات میں ضرور ہوتا ہے۔ تو اس کی تکلیف دہ باتوں ایذا رسانیوں، چالبازیوں، شرارتوں خباثتوں اور نفرتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے صبر اور صلوٰۃ، یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انتقام کے چکر میں نہ پڑنا اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجانا۔ جیسا کہ سورة یوسف میں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصیبت میں پر سکون رہنا سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی آپ کے بارے میں آئے دن اول فول بکتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں اور کبھی آپ کو جھوٹا کاہن جادوگر وغیرہ کلمات سے یاد کرتے ہیں۔ آپ اس کی کوئی پروا نہ کیجیے بلکہ صبر یعنی تحمل و برداشت سے کام لیجیے۔3 یعنی ظہر کی نماز کیونکہ وہ آدھا دن گزر جانے کے بعد بقیہ آدھے دن کے کنارے پر ہوتی ہے اس طرح اس آیت میں تمام نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ آگیا جن کی وضاحت اور تعیین حدیث و سنت سے ہی ہوسکتی ہے۔ یہ آیت قرآن کی ان متعدد آیات میں سے ہے جن میں صبر کے پہلو بہ پہلو نماز کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونہ نماز ہی وہ چیز ہے جس سے انسان میں صبر کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ (شوکانی، ابن کثیر)4 اشارہ…
Read the full tafseer →(20:130) فاصبر علی ما یقولون۔ پس جو وہ کہتے ہیں اس پر آپ صبر کریں ان کی (دل دکھانے والی) باتوں پر صبر کریں۔ کیونکہ ان کے عذاب میں تاخیر بوجہ امھال ہے اھمال نہیں ہے یعنی یہ صرف ان کو مہلت ہی دی جارہی ہے انہیں نظر انداز نہیں کیا جا رہا بلکہ وہ تو ان کے لئے لازم ہوچکی ہے ۔
انایٔ۔ ان ی۔ مادہ انی یان (ضرب) الشیٔ اس کا وقت قریب آگیا۔ مثلاً الم یان للذین امنوا۔ (57:16) کیا ابھی تک مومنوں کے لئے وقت نہیں آیا۔ انی الحمیم پانی حرارت میں انتہا کو پہنچ گیا۔ حمیم ان (55:44) گرم کھولتے ہوئے چشمے۔ انی (بہ تثلیت المزہ) وقت کا کچھ حصہ اس کی جمع اناء ہے مثلاً یتلون ایت اللہ اناء الیل (3:113) جو رات کے وقت خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–132
لغات القرآن آیت نمبر 129 تا 132
سبقت گزر گئی، طے کردی گئی۔ لزام عذاب۔ اجل مسمی مدت مقرر، متعین۔ اناء برتن، لمحہ، وقت۔ اطراف کنارے۔ ترضی تو خوش ہوگا۔ لاتمدن تو ہرگز نہ پھیلے گا۔ متعنا ہم نے برتنے کا سامان دیا۔ زھرۃ آرائش و زیبائش۔ نفتن ہم آزماتے ۔ اصطبر تو قائم رہ۔
تشریح : آیت 129 تا 132
ان آیات میں کفار و مشرکین کے اس طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اختیار کر رکھا تا۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں، ضدوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا اور ان کو گزشتہ قوموں کی طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا چونکہ اللہ کی ہر صفت پر اس…
Read the full tafseer →نماز کی تاکید
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے محبوب ﷺ ! تم ان کی بکواس کا خیال نہ کرو اور ان کی گستاخیوں پر صبر کور۔ اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اللہ کے عبادت میں مشغول رہا کرو۔ اور دن کے اول اور آخر میں اور رات کے وقت بھی اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرو۔ مقصد یہ ہے کہ آخرت کی کھتی بونے سے کسی وقت غافل نہ ہوئیں کہ آپ کو اس قدر انعام ملے کہ آپ راضی ہوجائیں۔ آخرت میں اس آیت کے وعدہ کا یہ ظہور ہوگا کہ امت کے جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا، وہ آپ کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →[62] حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح و تقدیس سے مراد نماز ہے۔
[63] یہ فجر اور عصر کی نمازیں ہوئیں۔
[64] یہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ہوئیں۔ بعض مفسرین کے مطابق اس میں نماز تہجد بھی داخل ہے۔
[65] یہ ظہر کی نماز ہوئی کیونکہ اس وقت دن کے نصف اول اور نصف آخر کی حدیں ملتی ہیں۔
[66] یعنی ایسا عمل کر کے تو دیکھو۔ اس کا نتیجہ وہ کچھ تمہارے سامنے آئے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–133
(ف 1) ان آیات میں حضور ﷺ کو صبر و برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ اگر یہ بدبخت بدزبانی اور دشنام طرازی سے باز نہیں آتے ، تو آپ ان سے اتنے بلند ہوجائیے کہ ان کو خود اپنے بداعمال پر ندامت محسوس ہونے لگے اللہ کی عبادت کیجئے ، اس کی حمد و ستائش کا اظہار کیجئے اور ان کے تکلفات کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے کہ یہ سب سامان عیش وطرب ان کے لئے وجہ آزمائش ہیں ، سچا دوست اور باقی رہنے والا سرمایہ وہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے خود قیام صلوۃ پر عمل کیجئے ، اور اپنے قریب کے لوگوں کو اس پر آمادہ کیجئے اور رزق کی جانب سے بےنیاز ہوجائیے ہم آپ کو دنیا کے افکار سے مستغنی کردیں گے ، تاکہ آپ فراغ قلبی کے ساتھ…
Read the full tafseer →- 130 سو اے پیغمبر یہ کام جو کچھ کہتے ہیں اس پر آپ صبر کیجیے اور برداشت سے کام لیجیے اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کیجیے اور رات کی بعض گھڑیوں میں اپنے رب کی پاکی بیان کیا کیجیے اور دن کے کناروں اور حدوں پر بھی پاکی بیان کیا کیجیے شاید کہ آپ راضی اور خوش ہوں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دن کی حدوں پر یعنی پہر پہر پر وقت ہے نمازوں کے سوائے پہلے پہر کے تو رضای ہوگا یعنی امت کو مدد ہوگی دنیا میں اور بخشش گناہوں کی آخرت میں تیری سفارش سے 12
اپنے پیغمبر کو کفار کی جانب سے جو اذیتیں پہنچائی جاتی تھیں ان کا علاج بتایا کہ صبر کرتے رہو اور نماز پڑھو…
Read the full tafseer →ف 3۔ مطلب یہ کہ آپ اپنی توجہ معبود حقیقی کی طرف رکھیئے ان کی فکر نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →صبر کیجئے جو کچھ وہ کہتے ہیں ہم اس کو سن رہے ہیں آپ ﷺ یاد الہی میں مصروف رہیں :
130۔ صبر کیا ہے ؟ اس کو پہلے بھی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے لیکن چونکہ صبر کی حقیقت پر عوام کی غلط فہمی نے تو برتو پردے ڈال رکھے ہیں اس لئے ان کے نزدیک وہ بےبسی وبے کسی کی ایک تصویر پیش کرتا ہے اور ان کے نزدیک اس کے معنی اپنے دشمن سے کسی مجبوری کے باعث انتقام نہ لے سکنے کے ہیں لیکن کیا واقعتا صبر اسی چیز کا نام ہے ؟ اسلام ان معنوں اور اس مفہوم کو بالکل نہیں مانتا بلکہ وہ ہم کو سمجھاتا ہے کہ صبر کے لغوی معنی کیا ہیں ‘ معنی تفہیم کرانے کے بعد وہ واضح کرتا ہے کہ ۔
1۔ صبر وقت مناسب کا انتظار کرنا ہے ۔
2۔ صبر بےقرار…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ (So endure what they say - 20:130) The people of Makkah offered various excuses to justify their rejection of the religion brought to them by the Holy Prophet and these included derogatory remarks against his person also, such as branding him as a sorcerer, a poet or even an untruthful person. The Qur'an suggested here two weapons to combat the torments aimed at him by the infidels of Makkah. One was to show patience and forbearance in the face of all provocation, and the other was to devote himself wholeheartedly to prayers, as the words وَسَبِّحْ بِحَمْدِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
111. This is to comfort and console the Prophet (peace be upon him), as if to say: Allah does not intend to destroy them yet, for He has appointed for them a term of respite, so you should endure with patience whatever they do against you and hear their harsh talk and go on performing the obligations of your mission. For this purpose you should offer Salat in accordance with the prescribed times because it will create in you necessary forbearance and fortitude.
“Glorify Him”means: Offer your prescribed Prayers, as is clear from Ayat 132.
Incidentally in this verse (130) the times of Salat…
Read the full tafseer →