Explained with ayahs 128–130
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو۔
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا ؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی، ان کے بلند وبالا پختہ اور خوبصورت کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے اگر یہ علقمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لئے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے ؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کر عبرت حاصل نہیں کرتے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
سورة طٰهٰ 111
یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ابھی ہلاک نہیں کرنا چاہتا، اور ان کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر کرچکا ہے، اس لیے اس کی دی ہوئی اس مہلت کے دوران میں یہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کریں اس کو تمہیں برداشت کرنا ہوگا اور صبر کے ساتھ ان کی تمام تلخ و ترش باتیں سنتے ہوئے اپنا فریضۂ تبلیغ و تذکیر انجام دینا پڑے گا۔ اس تحمل و برداشت اور اس صبر کی طاقت تمہیں نماز سے ملے گی جس کو تمہیں ان اوقات میں پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
" رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح " کرنے سے مراد نماز ہے، جیسا کہ آگے چل کر خود فرما دیا وَأمُرْ اَھْلَکَ بَالصَّلوٰۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا، " اپنے اہل و عیال کو نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
خلاصہ تفسیر
(یہ معترضین جو اعراض پر اصرار کر رہے ہیں تو) کیا ان لوگوں کو (اب تک) اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو (اس اعراض ہی کے سبب عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں کہ ان (میں سے بعض) کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ بھی چلتے (پھرتے) ہیں (کیونکہ شام کو جاتے ہوئے اہل مکہ کے رستہ میں بعض ان قوموں کے مکانات آتے تھے) اس (امر مذکور) میں تو اہل فہم کے (سمجھنے کے) لئے (کافی) دلائل (اعراض کے نتائج بد ہونے کے) موجود ہیں اور (ان پر فوری عذاب نہ آنے سے جو ان کو شبہ اپنے مذہب کے مذموم نہ ہونے کا ہوتا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ) اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے فرمائی ہوئی نہ ہوتی…
Read the full tafseer →اجل مسمی کا عطف کلمۃ پر ہے۔
یہ اس مطالبہ نشانی عذاب کا جواب ہے۔ فرمایا کہ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ پا چکی ہوتی اور اس کے ظہور کے لئے ایک مدت معین نہ ہوچکی ہوتی تو جس عذاب کے لئے یہ جلدی مچائے ہوئے ہیں وہ آج ہی ان پر آدھمکتا یعنی اگر اس کے ظہور میں تاخیر ہو رہی ہے تو یہ خدا کی سنت اور اس کے طے کردہ قاعدے اور ضابطے کے تحت ہو رہی ہے کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا رہے کہ یہ محض ہوائی بات ہے یا یہ کہ اللہ ابھی اس کا سامان نہیں کر پا رہا ہے اس وجہ سے عذاب نہیں آ رہا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے۔ ولولہ کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی تقضی بینھم (الشوریٰ 14 (اور اگر ایک بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا ! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود…
Read the full tafseer →55: یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ان کافروں کو عذاب دینے کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، اور یہ طے کر رکھا ہے کہ اس سے پہلے ان کو مہلت دی جائے گی۔ اس لیے ان کی نافرمانیوں کے باوجود ان پر عذاب نازل نہیں ہو رہا ہے۔ اگر یہ بات پہلے سے طے نہ ہوتی تو ان کے کرتوت ایسے تھے کہ ان کو فوری طور پر عذاب آ چمٹتا۔
Read the full tafseer →ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی (02 : 921) ” اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بطے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدت مقرر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور ان کا بھی فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ “ اگرچہ یہ لوگ ایک وقت مقررہ تک مہلت پا چکے ہیں لیکن ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کو جو شان و شوکت اور جو زیب وزینت دی گئی ہے آپ اس کے ذمہ دار نہیں۔ یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے اور یہ ان کے لئے بہت بڑا فتنہ ہے۔ اللہ نے جو کچھ تجھے بطور انعام دیا ہے۔ وہ ان کے اس فتنے کے طور پر دیئے ہونے سے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →1 یعنی حق تعالیٰ کی رحمت غضب پر سابق ہے۔ اسی لیے مجرم کو دیر تک اصلاح کا موقع دیتے ہیں اور پوری طرح اتمام حجت کے بدون ہلاک نہیں کرتے۔ بلکہ اس امت کے متعلق تو یہ بھی فرما دیا ہے۔ (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ) 8 ۔ الانفال :33) اور اپنی خاص مہربانی سے عذاب عام مستأصل کو اس امت سے اٹھا لیا ہے۔ یہ بات ہے جو تیرے رب کی طرف سے نکل چکی اگر یہ نہ ہوتی اور ہر ایک مجرم قوم کے عذاب کا ایک خاص وقت مقرر نہ ہوتا تو لازمی طور پر ان کو عذاب آگھیرتا۔ کیونکہ ان کا کفر و شرارت اسی کو مقتضی ہے کہ فوراً ہلاک کردیے جائیں۔ صرف مصالح…
Read the full tafseer →آیت 129 وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّی ”
اگر اللہ تعالیٰ نے ان کی مہلت کی مدت پہلے سے طے نہ فرما دی ہوتی تو ان پر کب کا عذاب آچکا ہوتا۔ ترتیب عبارت اصل میں یوں ہے : ”وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ وَّاَجَلٌ مُّسَمًّی لَکَانَ لِزَامًا“ لیکن یہاں پر عبارت کے مخصوص آہنگ rhythm کے پیش نظر الفاظ میں تقدیم و تاخیر کی گئی ہے۔
اگلی آیات کی سورة الحجر کی آخری پندرہ آیات کے ساتھ گہری مشابہت ہے۔
Read the full tafseer →93ـ۔ ا جس طرح اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج و امہال کا قانون کام کرتا ہے۔ ان پر عذاب الٰہی کے نزول میں بھی وہی قانون کارفرما ہے۔ اور اس قاعدہ میں بہت سی مصلحتیں مضمر ہوتی ہیں۔ یعنی جس طرح جو کام کے سرانجام پانے کے لئے ایک مقررہ مدت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح عذاب الٰہی کا بھی وقت مقرر ہے۔ جس کی چند شرائط ہیں۔ اور اگر یہ قانون جاری وساری نہ ہوتا تو ان کے اعمال واقعی اس قابل ہیں کہ انھیں فوری طور پر تباہ و برباد کردیا جاتا۔ اس قانونی تدریج و امہال میں کیا مصلحتیں ہیں اور اگر اس قانون کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس میں کیا نقصانات ہیں، ان کا ذکر پہلے حواشی میں کیا جاچکا ہے۔ لہذا اب تکرار کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →158۔ یعنی ان کے کفر، شرک، بےدینی کا اقتضاء تو یہی ہے کہ ان پر عذاب فی الفور آجائے لیکن دوسری حکمتوں اور مصلحتوں سے اس کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہوچکا ہے، اس لیے اس وقت موعود کے قبل نہ آئے گا، (آیت) ” لولا کلمۃ سبقت من ربک “۔ اور وہ خدا کی بات یہی کہ تکوینی مصلحتوں کی بناء پر انہیں مہلت ملتی رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت نمبر 129 تا 135
ترجمہ : اگر تیرے رب کی بات (حکم ازلی) یعنی ان سے عذاب کو قیامت تک مؤخر کرنے کی بات پہلے سے طے شدہ اور وقت معین نہ ہوتا تو ہلاکت دنیا ہی میں (فوری طور پر) آچمٹتی مُسَمًّی مضروب لہ کے معنی میں ہے (یعنی مقرر کردہ) اور اَجَلٌ مُسمَّی کا عطف کان کے اندر ضمیر مستتر پر ہے اور کان کی خبر کا فصل تاکید کے قائم مقام ہے، سو آپ ان باتوں پر صبر کیجئے یہ حکم آیت قتال سے منسوخ ہے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور نماز پڑھتے رہئے یعنی ایسی تسبیح کرتے رہئے کہ جو حمد پر مشتمل ہو طلوع شمس سے پہلے فجر کی نماز اور غروب شمس سے پہلے عصر کی نماز اور رات کے واقات میں تسبیح بیان…
Read the full tafseer →ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی۔ اور اگر آپ کے رب کی طرف
سے ایک بات پہلے (طے شدہ) نہ ہوتی اور (عذاب کے لئے) ایک میعاد معین نہ ہوتی تو عذاب (اسی زندگی میں) لازمی ہوتا۔
کَلِمَۃٌ سَبَقَتْایک بات جو پہلے طے کردی گئی ہے ‘ یعنی یہ پہلے سے اللہ نے طے کردیا ہے کہ اس امت کے کافروں پر عذاب قیامت کے دن ہوگا اور رسول اللہ ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کی وجہ سے کافروں پر بھی اس دنیا میں ایسا عذاب نہیں آئے گا جو ان کی جڑ اکھاڑ کر پھینک دے۔
لَکَانَ لِزَامًا تو ان کافروں کو گزشتہ انبیاء کی کافر امتوں کی طرح بالکل ہلاک کردینا بھی لازم ہوجاتا۔
وَاَجَلٌ مُّسَمًّی اس کا عطف کلمۃ پر ہے یعنی اگر دنیا میں…
Read the full tafseer →(129) اور اگر تاخیر عذاب کے بارے میں آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے فرمائی نہ ہوتی اور اس امت کے لیے نزول عذاب کے بارے میں ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ان کی ہلاکت کے لیے ان پر عذاب ضرور نازل ہوتا۔
Read the full tafseer →ۧوَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ۔۔ : اصل میں ”وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ وَأَجَلٌ مُّسَمًّی لَکَانَ (الْعَذَابُ) لِزَامًا“ ہے، فواصل (آیات کے آخری حروف) کی مطابقت کے لیے ”وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى“ کو مؤخر کردیا گیا۔
”3 لِزَامًا“ بروزن ”قِتَالٌ“ باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں برائے مبالغہ ہے، لازم ہونے والا۔
”لَکَانَ“ میں ضمیر ”ھُوَ“ اس کا اسم ہے جو پچھلی آیات کے مضمون ”الْعَذَابُ“ (وہی عذاب) کی طرف لوٹ رہی ہے۔
3 جب پہلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ان جھٹلانے والوں کو کیوں ہلاک نہیں کیا جا رہا ؟ فرمایا کہ اس کے دو سبب ہیں، ایک تو وہ بات جو رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یہدلہم اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی کیا ان کے لیے ان کی خبر واضح نہیں ہوئی جن کو ہم نے تباہ کردیا ہے۔ یہ ان کے مکانوں کے درمیان چلتے ہیں جب طلب معاش میں تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور گزشتہ قوموں کے شہروں کو دیکھتے ہیں اور چھتوں کے بل گری پڑی بستیوں کو دیکھتے ہیں یعنی کیا وہ نہیں ڈرتے اس عذاب سے کہ ان پر بھی ویسا ہی عذاب اترے جو ان سے پہلے کفار پر اترا تھا۔ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور اسلمی وغیرہما نے نھدلہم نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ زیادہ واضح ہے۔ یھد یاء کے ساتھ فاعل کی وجہ سے مشکل ہے۔ کو فیوں نے کہا ؛: کم فاعل ہے۔ نحاس نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ کم استفہامیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–131
1:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک نجزی من اسرف “ سے مراد ہے جس نے شرک کیا۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ سے مراد ہے کیا ہم نے ان کے لئے واضح نہیں کردیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ یعنی کیا ہم نے ان کے لئے بیان نہیں کیا (آیت) ” کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مسکنہم “ جیسے قوم ثمود اور عاد اور جو ہلاک کئے گئے دوسری امتوں میں سے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “ فرمایا اس کلام کی تقدیر اس طرح سے ہے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما “ (یعنی اگر آپ کے…
Read the full tafseer →[وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا کہ ] [كَلِمَةٌ: ایک فرمان ] [سَبَقَتْ : طے ہوا ] [مِنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ کے رب کی طرف سے ] [لَكَان : تو ضرور ہوتا ] [لِزَامًا : چمٹنا (عذاب کا)] [وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى: اور ایک معین مدت (اگر طے نہ ہوتی)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آخر میں فرمایا (اَفَلَمْ یَھْدِلَھُمْ ) (الایۃ) کیا انہیں اس چیز نے ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کردیا۔ یہ لوگ ان کے رہنے کی جگہوں میں چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے مخالف ہیں انہیں پرانی امتوں کے واقعات معلوم ہیں۔ تباہ شدہ آبادیاں ان کے سامنے ہیں۔ وہاں جاتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ بربادوں کے نشان دیکھتے ہیں، ویران گھروں کے اینٹ پتھر ان کے سامنے ہیں۔ (اور اب تو تاریخ کی کتابیں بھی چھپ گئی ہیں جن کا مطالعہ کرتے ہیں) ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی اثر نہیں لیتے۔ قرآن کی دعوت نہیں مانتے۔ اہل عقل اور اہل بصیرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت
از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔
اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…
Read the full tafseer →87:۔ ” اَجَلٌ مُّسَمًّی “ ،” کَلِمَةً “ پر معطوف ہے ” اَفَلَمْ یَھْدِ لَھُمْ “ کی تہدید کے بعد ان مکذبین پر فوراً عذاب نازل نہ کرنے کی حکمت بیان فرمائی کہ چونکہ اللہ تعالیٰ تاخیر عذاب کا فیصلہ کرچکا ہے۔ اور اس امت کے مکذبین پر عذاب استیصال نازل نہیں کیا جائے گا۔ جس سے وہ بیک وقت سارے کے سارے ہلاک ہوجائیں اور ان مکذبین کی عمریں بھی مقرر فرما چکا ہے اور موت اپنے وقت مقررہ سے پہلے نہیں آسکتی اس لیے ان کو فوری عذاب سے ہلاک نہیں کیا گیا۔ اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوتیں تو وہ لازمی طور پر عذاب سے ہلاک کردئیے جاتے۔ ای لولا العدۃ بتاخیر عذابھم والاجل المسمی لاعمارھم لما تاخر عذابھم اصلا (روح ج 16 ص 280) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ذکر اور نصیحت سے اعراض کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا تھا۔ ایک تو ان کی معیشت تنگ ہوجائے گی ، یعنی وہ سکون اور اطمینان سے محروم ہوجائیں گے اور ان کی قبر کی زندگی بھی بڑی تنگی میں گزرے گی۔ اور دوسری بات یہ کہ جب حشر میں اٹھیں گے تو اندھے ہوں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے طور پر سابقہ قوموں کی ہلاکت اور بربادی کا حال بھی بیان فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ان واقعات میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ دراصل یہ آیات سورة ہذا کی ابتدائی آیات کے ساتھ مربوط ہیں وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ قرآن آپ کو مشقت میں ڈالنے کے…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا كَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى 1 29ۭ
كلم
الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها،
( ک ل م ) الکلم ۔
یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔
سبق
أصل السَّبْقِ : التّقدّم في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
1 ؎ تیری طرف نظر عنایت نہ رہی یعنی جس طرح تو نے دنیا میں آیات اللہ سے بےاعتنائی کی آج اسی طرح تم سے بھی بےاعتنائی کی گئی۔ ازانجملہ یہ کہ اس جہان میں تجھے بینائی عطا نہ کی کیونکہ دنیا میں بینائی دی تھی تو اس سے تو نے آیات قدرت کو نہ دیکھا تھا۔ 12 منہ
تفسیر : پہلی قوموں کی ہلاکت بیان فرما کر یہ بات فرماتا ہے کہ اگر نوشتہ ازلی (کہ چند روز ہم ان کو دنیا میں رکھیں گے) مانع نہ آتا تو ان لوگوں پر یہی عذاب دنیا ہی میں آچکتا اس پر بھی اے نبی ! جو ہدایت پر نہیں آتے اور ستاتے ہیں تو صبر کرو اور اپنے لیے دار آخرت کی تیاری کرو تاکہ تو وہاں خوش وقت رہو فقال فاصبر علی مایقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس…
Read the full tafseer →وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسْمًّے۔ (طٰـہٰ : 129)
(اگر آپ کے رب کی جانب سے ایک فیصلہ پہلے طے نہ ہوچکا ہوتا اور ایک وقت مقرر نہ کردیا ہوتا تو عذاب مسلط ہو کے رہتا۔ )
عذاب میں تاخیر کا سبب
نبی کریم ﷺ جب قریش کو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دیتے تو ان کی معاندانہ مخالفت پر تنبیہ کرتے ہوئے انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی ڈراتے، تو وہ بجائے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے کے نہایت ڈھٹائی سے آنحضرت ﷺ کا منہ چڑاتے اور بار بار مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب کہاں رک گیا ہے، وہ آ کیوں نہیں پاتا۔ معلوم ہوتا ہے یہ محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف کرنے والوں کو ناصرف آخرت میں عذاب ہوگا بلکہ انھیں دنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
مشرکین مکہ کے سامنے جب آخرت کے عذاب اور پہلی قوموں کی تباہی کا ذکر کیا جاتا تو وہ نبی اکرم ﷺ کو چیلنج کے انداز میں کہتے کہ جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔ اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اس پر انہیں سمجھایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے اسی طرح ہی مجرم کی گرفت اور عذاب کا وقت متعین کیا ہوا ہے۔ اس میں آگا پیچھا نہیں ہوتا۔ اگر یہ وقت مقرر نہ کیا ہوتا تو ان لوگوں پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہوتا۔ کیونکہ ان کے اعمال ان…
Read the full tafseer →129: وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ ( اگر آپ کے رب کی طرف ایک بات پہلے طے شدہ نہ ہوتی) کہ امت محمد یہ ﷺ سے عذاب کو موخر کرنے کا حکم دیا گیا۔ لَکَانَ لِزَامًا (تو عذاب لازمی ہوتا) لِزَاماً ۔ لازمًا کے معنی میں ہے۔ لزام یہ لازم کا مصدر ہے۔ جس کو بطور صفت لائے۔ وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی (اور میعاد معین نہ ہوتی) اور وہ قیامت ہے تو دنیا میں ہی عذاب ان کو آچمٹتا۔ جیسا کہ گزشتہ کفار کو لازم ہوا۔
Read the full tafseer →129۔ ولولاکلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی، اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیری عبارت یوں ہے۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی، کلمہ یہ فیصلہ ہے ان کے تاخیر عذاب کا۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر تاخیر عذاب کا پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو دنیا میں فوری عذاب اور وہ عذاب جس کا وقت مقرر کردیا گیا ہے دونوں لازمی ہوجاتے اور گزشتہ انبیائے کی کافر امتوں کی طرح بالکل ہلاک کردینا بھی لازم ہوجاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
128۔ 129:۔ اوپر عذاب قبر اور عذاب آخرت کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اس عذاب کی قدر تو مرنے کے بعد کھل جائے گی لیکن دنیا میں سوداگری کی غرض سے یہ لوگ اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں اور اس سفر میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں انہیں نظر آیا کرتی ہیں ان بستیوں کو دیکھ کر ان میں کے سمجھ دار لوگوں کو کیا یہ عبرت نہیں ہوتی کہ جو کوئی ان اجڑی ہوئی قوموں کے قدم بقدم چلے گا اس کا بھی مرنے سے پہلے وہی انجام اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے جو انجام ان اجڑی ہوئی قوموں کا ہوا پھر فرمایا ان لوگوں کی سرکشی تو یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ اب تک سوائے مکہ کے قحط کے اور کسی عذاب کی ایسی بلا ان کو آن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت 128
ان جھٹلانے والوں اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کو، اس عذاب نے راہ ہدایت پر گامزن ہونے، گمراہی اور فساد کی راہ سے اجتناب کرنے پر آمادہ نہیں کیا، جو گزشتہ قوموں اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی امتوں پر نازل ہوا ؟ یہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں، ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں اور ان قوموں کے مسکن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مثلاً ہود، صالح اور لوط (علیہ السلام) کی قوموں کے اجڑے ہوئے مسکن۔ انہوں نے جب ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری کتابوں سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر دردناک عذاب نازل کردیا۔
کس چیز نے ان کو بےخوف کیا ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر نازل ہوا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →136 منکرین کی طرف سے مطالبہ عذاب کا جواب : سو یہ لوگ جو لاپرواہی سے اور استہزا کے طور پر کہتے ہیں کہ " ہم پر عذاب لاتے کیوں نہیں ہو "۔ سو واضح رہنا چاہیے کہ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات طے نہ ہوتی کہ اتمام حجت سے پہلے کسی قوم کو عذاب نہیں دیا جائے گا (ابن کثیر، المعارف وغیرہ) یا یہ کہ امت محمدیہ پر پہلی قوموں کی طرح عذاب مستاصل نہیں آئے گا بلکہ ان کا معاملہ قیامت کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے (کشاف مراغی وغیرہ) ۔ سو اگر تمہارے ربِّ رحمان و رحیم کی طرف سے ایسی بنیادی بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان پر عذاب کبھی کا آگیا ہوتا۔ پس اس تاخیر و امہال سے ان کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ اس فرصت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ف 1 میعاد معین سے مراد قیامت کا دن ہے یا دنیا ہی کی سزا کوئی دن جیسے بدر کا دن اور بات اسے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ہر قوم یا گروہ کو گرفت کرنے سے پہلے مہلت دی جائے گی تاکہ ایک طرف اس پر حجت تمام ہو اور دوسری طرف اگر وہ سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے۔
Read the full tafseer →(20:129) ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل تسمی۔ ای ولو لا سبقت من ربک کلمۃ (ولولا) اجل مسی لکان لزاما۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا اور اگر (تیرے رب کی طرف سے) ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر (عذاب) ابھی آگیا ہوتا۔
سبقت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس کا مرجع کلمۃ ہے کلمۃ کا معنی تاخیر عذاب کا وعدہ (یعنی یہ کہ اس امت کو اس دنیا میں عذاب نہ ہوگا اور دوسری اقوام کی طرح اپنے اعمال بد کے نتیجہ میں اس زندگی میں ان پر ہلاکت نہ آئے گی بلکہ نبی کریم رحمۃ اللعالمین کی وجہ سے ان کے اعمال کی سزا قیامت کے روز کے لئے اٹھا رکھی جائے گی۔
اجل مسمی۔ صفت موصوف۔ ایک مقرر شدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–132
لغات القرآن آیت نمبر 129 تا 132
سبقت گزر گئی، طے کردی گئی۔ لزام عذاب۔ اجل مسمی مدت مقرر، متعین۔ اناء برتن، لمحہ، وقت۔ اطراف کنارے۔ ترضی تو خوش ہوگا۔ لاتمدن تو ہرگز نہ پھیلے گا۔ متعنا ہم نے برتنے کا سامان دیا۔ زھرۃ آرائش و زیبائش۔ نفتن ہم آزماتے ۔ اصطبر تو قائم رہ۔
تشریح : آیت 129 تا 132
ان آیات میں کفار و مشرکین کے اس طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اختیار کر رکھا تا۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں، ضدوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا اور ان کو گزشتہ قوموں کی طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا چونکہ اللہ کی ہر صفت پر اس…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا :" ان لوگوں کی سرکشی تو یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ اب تک سوائے مکہ کے قحط کے اور کسی عذاب کی ایسی بلا ان کو آن کر چمٹ جاتی جس سے انہیں پیچھا چھوڑانا مشکل ہوجاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے ایک انتظام قرار پا کر ہر کام کا وقت مقرر ہوچکا ہے۔ اس وقت مقررہ تک اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو علاوہ عذاب قبر اور عذاب قیامت کے، دنیا میں بھی ان پر کوئی ایسی سخت آفت آجائے گی، جس سے ان کی ساری سرکشی خاک میں مل جائے گی۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔ آخر کار کچھ عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی کے وقت اہل مکہ کے بڑے بڑے سرکشوں پر آفت کے آجانے کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
[61] یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کردی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے ؟
Read the full tafseer →(ف 1) قریش مکہ کی سرکشیاں جب حد سے بڑھ گئیں اور وہ حضور ﷺ کو ناقابل برداشت ایذائیں پہنچانے لگے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں اپنی عزت وجاہ پر مغرور نہ ہونا چاہئے ، اور محض اس لئے نازاں نہ ہونا چاہئے ، کہ تمہارے پاس قوت و دولت کے فراواں خزانے ہیں ، تم سے پہلے گذشتہ قوموں نے بھی اللہ کی نافرمانی کی اور کبر و غرور سے اس کے پیغام کو ٹھکرا دیا ، اور اپنی مادی قوتوں پر بھروسہ کیا ، مگر جب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دوچار ہوئے تو بالکل فنا کردیئے گئے اور ان کا نشان تک باقی نہ رہا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، کہ اللہ کی ڈھیل سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ ، اس نے اگر تم کو بعض مصالح کی بنا پر ہلاک نہیں کیا تو یہ…
Read the full tafseer →- 129 اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی اور ایک وقت کا تقرر اور تعین نہ ہوچکا ہوتاتو ان پر یقینی طور پر عذاب لازم ہوجاتا ۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ ان کی گرفت کے متعلق اگر ایک بات پہلے طے نہ کرچکا ہوتا اور ان کے عذاب کا وقت مقرر نہ فرماتا تو ان پر عذاب لازم ہوجاتا اور ان کا بھینٹا ہوچکا ہوتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں آخر وعدے پر بھینٹا ہوا کافروں اور مسلمانوں میں۔ 12
Read the full tafseer →ف 2۔ خلاصہ یہ کہ کفر تو مقتضی عذاب کا ہے، لیکن ایک مانع سے توقف ہورہا ہے پس ان کا وہ شبہ اور تمسک عدم وقوع عذاب سے غلط ہے۔
Read the full tafseer →بات رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے طے نہ ہوتی تو انکو ابھی عذاب میں مبتلا کردیا جاتا :
129۔ ان لوگوں کی حالت بتائی جارہی ہے جو ہر سنی ان سنی اور ہر دیکھی ان دیکھی کردیتے ہیں یا یہ کہ وہ مطلب کی سنتے ہیں اور اسی کو یاد رکھتے ہیں جو انکے مطلب کی بات نہ ہو اس پر کبھی انہوں نے دھیان ہی نہیں دیا فرمایا جارہا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! اگر ایسا نہ ہوتا کہ پہلے سے تیرے پروردگار نے ایک بات ٹھہرا دی ہوتی تو اسی وقت ان پر عذاب لازم کردیا جاتا اور مقررہ وقت نمودار ہوجاتا ۔ “ مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے سے اللہ کا یہ قانون موجود نہ ہوتا کہ انکار و بدعملی کے نتائج اپنے مقررہ وقت اور مقررہ حالت کے مطابق ظہور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
Commentary
The word ھُدٰی - (guidance) implied in the first sentence of verse 128 can refer either to the Qur'an or to the Holy Prophet ﷺ and the meaning would be, "Did not the Qur'an or the Holy Prophet ﷺ direct them i.e. the people of Makkah and tell them about the nations and the societies who were destroyed because they disobeyed the commands of Allah and turned away from the message brought to them by the Holy Prophet ﷺ ، and whose houses and lands are now occupied by them?" It is also possible that the word ھُدٰی (guidance) may refer to God in which case the meaning would be "Did God…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
111. This is to comfort and console the Prophet (peace be upon him), as if to say: Allah does not intend to destroy them yet, for He has appointed for them a term of respite, so you should endure with patience whatever they do against you and hear their harsh talk and go on performing the obligations of your mission. For this purpose you should offer Salat in accordance with the prescribed times because it will create in you necessary forbearance and fortitude.
“Glorify Him”means: Offer your prescribed Prayers, as is clear from Ayat 132.
Incidentally in this verse (130) the times of Salat…
Read the full tafseer →