Taa-Haa 20:128

Taa-Haa · from ayah 128

20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰی ۟۠اَفَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ يَمۡشُوۡنَ فِىۡ مَسٰكِنِهِمۡ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى النُّهٰى

کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then, has it not become clear to them how many generations We destroyed before them as they walk among their dwellings? Indeed in that are signs for those of intelligence.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 7 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:128

پھر کیا اِن لوگوں کو (تاریخ کے اس سبق سے) کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (برباد شدہ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ در حقیقت اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر کیا ان لوگوں کو اس بات نے بھی کوئی ہدایت کا سبق نہیں دیا کہ ان سے پہلے کتنی نسلیں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا، جن کی بستیوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے بھی ہیں ؟ یقینا جن لوگوں کے پاس عقل ہے، ان کے لیے اس بات میں عبرت کے بڑے سامان ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا انہیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا انہیں (اس بات نے) ہدایت نہ دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کی رہائش گاہوں میں (اب) یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بیشک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا کئی نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا انھیں اس بات سے کوئی رہنمائی نہ ملی کہ ان سے بیشتر ہم کئی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے (برباد شدہ) ٹھکانوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں اہل عقل کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ان کے لئے یہ چیز ہدایت دینے والی نہ بنی کہ کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہم نے بلاک کردیا جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس کے اندر اہل عقل کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا ان لوگوں کو عظیم درس تاریخ سے بھی کوئی ہدایت نہ مل سکی ؟ کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں، جن کی تباہ حال بستیوں میں یہ لوگ خود چلتے پھرتے بھی ہیں بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں عقل مندون کے لیے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان کو اس سے بھی ہدایت نہ ہوئی کہ ہم (اب تک) ان کے پیش رو کتنے گروہوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے مسکنوں میں (اب) یہ لوگ چل پھر رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا انہیں اس بات سے کوئی راہنمائی نہیں ملی کہ ہم نے ہلاک کردیا ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو وہ بھی چلتے پھرتے تھے (اسی طرح) اپنی آبادیوں میں یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا یہ بات ان لوگوں کے لیے ہدایت کا موجب نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے فرقوں کو ہلاک کرچکے ہیں، جن کے رہنے کے مقامات پر یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ عقل والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Did they not find any guidance in the fact that We destroyed many nations in whose ruined dwelling-places they now walk about? Surely there are many Signs in them for people endowed with wisdom.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did it give them no guidance (to realize) how many generations We have destroyed prior to them in whose dwellings they (often) walk around? Surely, in this there are signs for the men of reason.

— Muhammad Taqi Usmani

Did it give them no guidance (to realize) how many generations We have destroyed prior to them in whose dwellings they (often) walk around? Surely, in this there are signs for the men of reason.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is it not a guidance for them (to know) how many generations We have destroyed before them, in whose dwellings they walk Verily, in this are signs indeed for men of understanding.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is it not a guidance for them (to know) how many a generation We destroyed before them, amid whose dwellings they walk? Lo! therein verily are signs for men of thought.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then, has it not become clear to them how many generations We destroyed before them as they walk among their dwellings? Indeed in that are signs for those of intelligence.

— Saheeh International

Is it not a warning for them to see how many generations living before them We destroyed and how they are now walking in their ruins? In this there is the evidence (of the Truth) for the people of reason.

— Muhammad Sarwar

Does it not then direct them aright how many of the generations In whose dwelling-places they go about We destroyed before them? Most surely there are signs in this for those endowed with understanding.

— Muhammad Habib Shakir

Hath it not served as guidance to them how many a generation We have destroyed before them, amidst whose dwellings they Walk! Verily therein are signs for men of sagacity.

— Abdul Majid Daryabadi

Is it not a warning to such men (to call to mind) how many generations before them We destroyed, in whose haunts they (now) move? Verily, in this are Signs for men endued with understanding.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:128

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 128–130

ویرانوں سے عبرت حاصل کرو۔ جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا ؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی، ان کے بلند وبالا پختہ اور خوبصورت کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے اگر یہ علقمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لئے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے ؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کر عبرت حاصل نہیں کرتے ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 109 اشارہ ہے اہل مکہ کی طرف جو اس وقت مخاطب تھے۔ سورة طٰهٰ 110 یعنی تاریخ کے اس سبق میں، آثار قدیمہ کے اس مشاہدے میں، نسل انسانی کے اس تجربے میں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–129

خلاصہ تفسیر (یہ معترضین جو اعراض پر اصرار کر رہے ہیں تو) کیا ان لوگوں کو (اب تک) اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو (اس اعراض ہی کے سبب عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں کہ ان (میں سے بعض) کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ بھی چلتے (پھرتے) ہیں (کیونکہ شام کو جاتے ہوئے اہل مکہ کے رستہ میں بعض ان قوموں کے مکانات آتے تھے) اس (امر مذکور) میں تو اہل فہم کے (سمجھنے کے) لئے (کافی) دلائل (اعراض کے نتائج بد ہونے کے) موجود ہیں اور (ان پر فوری عذاب نہ آنے سے جو ان کو شبہ اپنے مذہب کے مذموم نہ ہونے کا ہوتا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ) اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے فرمائی ہوئی نہ ہوتی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

افلم یھدلھم کا صحیح مفہوم ہماری زبان میں یہ ہوگا کہ کیا فلاں چیز ان کے لئے ہدایت دینے والی اور ان کی آنکھیں کھونے الی نہ بنی ؟ نشانی عذاب کے مطالبہ کا جواب یہ کتاب الٰہی سے اعراض کرنے والوں کے مطالبہ نشانی عذاب کا جواب ہے۔ فرمایا کہ ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ بہ سانی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا یہ چیز ان کو ہدایت دینے والی نہ بنی کسان سے پہلے ہم نیکتنی ہی قوموں کو اپنی تذکیر و تنبیہ سے اعراض کرنے کی پاداش میں ہلاک کردیا اور وہ قومیں کسی دوسرے خطہ ارضی کی نہیں بلکہ اسی ملک کی رہنے بسنے والی تھیں ان کے تباہ شدہ آثار اور ان کے کھنڈروں پر سے یہ لوگ اپنے تجارتی سفروں میں برابر گزرتے ہیں ! یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 125–129

129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا ! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 124–128

54: جب قبر سے اٹھا کر حشر کی طرف لائے جائیں گے، اس وقت تو یہ لوگ اندھے ہوں گے، لیکن بعد میں انہیں بینائی دے دی جائے گی، جیسا کہ سورة کہف : 53 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جب انسان اپنے دل و دماغ کو زمانہ ماضی کی ہلکا شدہ اقوام کی تاریخ پر مرکوز کرتا ہے اور ان کے کھنڈرات کو ، وادیوں اور پہاڑیوں میں دیکھتا ہے تو اگرچہ یہ لوگ کب کے ہلکا ہوگئے ہیں لیکن ان کی بڑی بڑی شخصیات ، ان کی بھاگتی ہوئی شکلیں ، ان کی حرکات و سکنات ، ان کی امنگیں اور آرزوئیں ، ان کی پریشانیاں اور ان کے منصوبے انسان کے ذہن کو بھر دیتے ہیں او انسان جب تک آنکھیں بند کر کے محض تصور ہی کرے تو یہ پوری دنیا ہمارے ذہن کی اسکرین پر بھی نظر آتی ہے اور جب انسان اچانک آنکھ کھولے تو نظر آتا ہے کہ ماضی کی عقوبت نے ان سب بستیوں کو ہڑپ کرلیا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ دست قدرت نے کس طرح ان لوگوں کو اور ان تہذیبوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی آخرت میں جو سزا ملے گی اگر اس پر یقین نہیں آتا تو کیا تاریخی واقعات سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔ ان ہی مکہ والوں کے آس پاس کتنی قومیں اپنے کفر و طغیان کی بدولت تباہ کی جا چکی ہیں جن کے افسانے لوگوں کی زبان پر باقی ہیں اور جن میں سے بعض کے کھنڈرات پر ملک شام وغیرہ کا سفر کرتے ہوئے خود ان کا گزر بھی ہوتا ہے۔ جنہیں دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی یاد تازہ ہوجانا چاہیے کہ کس طرح انہی مکانوں میں چلتے پھرتے ہلاک کردیے گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 124–128

آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ” ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93 اس آیت کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ جن میں سابقہ اقوام کی ہلاکت کے چرچے زبان زد تھے اور وہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران ان کے تباہ شدہ کھنڈرات بحشم خود ملاحظہ بھی کرسکتے تھے۔ اگر وہ ان کے حالات میں کچھ بھی غور وفکر کرتے تو انھیں معلوم ہوسکتا تھا کہ بالآخر ان کا اپنا بھی ویسا ہی انجام ہوسکتا ہے۔ لہذا وہ چاہتے تو انھیں واقعات سے کافی عبرت حاصل کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

156۔ اب روئے سخن ہر قرآن کے معاصر منکروں اور کافروں کی جانب ہے کہ ان کی آنکھیں اب بھی نہیں کھلتیں۔ تاریخ کی زبان سے یہ کتنی گردن کش قوموں کی تباہی و بربادی وہلاکت کے قصے سن چکے ہیں۔ آج انہیں مردود، مغضوب قوموں کے وطن میں خود آباد ہیں، ان کے کھنڈروں پر سے سفر میں آتے جاتے رہتے ہیں، پھر انہیں کے انجام سے عبرت حاصل نہیں کرتے ! 157۔ نشانیاں یعنی مذہبی و ایمانی زندگی کے برحق ہونے اور شرک وبے دینی کی زندگی کے ناحق ہونے کے دلائل و شواہد ، (آیت) ” فی ذلک “۔ ” اس امر میں “ یعنی اس مضمون میں جو ابھی بیان کیا گیا ہے۔ ذلک اشارۃ الی مضمون قولہ تعالیٰ کم اھلکنا قبلھم الخ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–128

آیت نمبر 116 تا 128 ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افلم یہدلہم کم اہلکنا قبلہم من القرون یمشون فی مسکنہم ان فی ذلک لایت لاولی النہی۔ کیا ان لوگوں کو (اب تک) اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کر چکے ہیں کہ ان (میں سے بعض) کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں یقیناً اہل فہم کے لئے اس میں کھلی ہوئی دلیلیں موجود ہیں۔ کَمْ اَہْلَکْنَا میں کَمْ خبریہ ہے یعنی بہت گروہوں کو۔ یَمْشُوْنَ فِی مَسٰکِنِہِمْاس آیت کا مطلب دو طرح سے بیان کیا گیا ہے ‘ اوّل یہ کہ جملہ حالیہ ہے اور ہُمْضمیر سے حال ہے یعنی مکہ کے کافروں کو اس بات سے بھی ہدایت نہیں ملی کہ بہت سے گزشتہ گروہوں کو ہم نے ہلاک کردیا (ایسی حالت میں) کہ ان کے رہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(128) کیا ان مکہ والوں کو اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ ان ہی مقامات میں یہ لوگ بھی چلتے پھرتے ہیں، اور جو ان مجرموں کو ہم نے سزا دی ہے ان میں عقل مندوں کے لیے بڑی نشانیاں موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ۔۔ :”ھَدٰی یَھْدِیْ“ راہنمائی کرنا۔ ”الْقُرُوْنِ“ ”قَرْنٌ“ کی جمع ہے۔ قرن کا معنی متعین کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سب سے زیادہ معتبر ہے، جو آپ نے عبداللہ بن بسر ؓ کے متعلق فرمایا، آپ نے فرمایا : (یَعِیْشُ ھٰذَا الْغُلَامُ قَرْنًا، فَعَاش ماءَۃَ سَنَۃٍ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍159، ح : 2660 ] ”یہ لڑکا ایک قرن زندہ رہے گا“ تو وہ سو سال زندہ رہے۔“ سلسلہ صحیحہ کی اس روایت میں ابن عساکر کے حوالے سے مزید یہ ہے کہ عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : ”یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ قربان ! قرن کتنا ہوتا ہے ؟“ فرمایا : ”سو سال۔“ عبداللہ بن بشر ؓ نے فرمایا کہ میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 128–132

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یہدلہم اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی کیا ان کے لیے ان کی خبر واضح نہیں ہوئی جن کو ہم نے تباہ کردیا ہے۔ یہ ان کے مکانوں کے درمیان چلتے ہیں جب طلب معاش میں تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور گزشتہ قوموں کے شہروں کو دیکھتے ہیں اور چھتوں کے بل گری پڑی بستیوں کو دیکھتے ہیں یعنی کیا وہ نہیں ڈرتے اس عذاب سے کہ ان پر بھی ویسا ہی عذاب اترے جو ان سے پہلے کفار پر اترا تھا۔ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور اسلمی وغیرہما نے نھدلہم نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ زیادہ واضح ہے۔ یھد یاء کے ساتھ فاعل کی وجہ سے مشکل ہے۔ کو فیوں نے کہا ؛: کم فاعل ہے۔ نحاس نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ کم استفہامیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 127–131

1:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک نجزی من اسرف “ سے مراد ہے جس نے شرک کیا۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ سے مراد ہے کیا ہم نے ان کے لئے واضح نہیں کردیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ یعنی کیا ہم نے ان کے لئے بیان نہیں کیا (آیت) ” کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مسکنہم “ جیسے قوم ثمود اور عاد اور جو ہلاک کئے گئے دوسری امتوں میں سے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “ فرمایا اس کلام کی تقدیر اس طرح سے ہے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما “ (یعنی اگر آپ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَلَمْ يَهْدِ : تو کیا سمجھایا نہیں ] [لَهُمْ : ان لوگوں کو (اس مشاہدہ نے کہ)] [كَمْ اَهْلَكْنَا : کتنی ہی ہم نے ہلاک کیں ] [قَبْلَهُمْ : ان لوگوں سے پہلے ] [مِّنَ الْقُرُوْنِ : قوموں میں سے ] [يَمْشُوْنَ : یہ لوگ چلتے ہیں ] [فِيْ مَسٰكِنِهِمْ : جن کی رہنے کی جگہوں میں ] [ان : بیشک ] [فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [لِاُولِي النُّهٰى: ذہانت والوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 128–129

آخر میں فرمایا (اَفَلَمْ یَھْدِلَھُمْ ) (الایۃ) کیا انہیں اس چیز نے ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کردیا۔ یہ لوگ ان کے رہنے کی جگہوں میں چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے مخالف ہیں انہیں پرانی امتوں کے واقعات معلوم ہیں۔ تباہ شدہ آبادیاں ان کے سامنے ہیں۔ وہاں جاتے ہیں اور چلتے پھرتے ہیں۔ بربادوں کے نشان دیکھتے ہیں، ویران گھروں کے اینٹ پتھر ان کے سامنے ہیں۔ (اور اب تو تاریخ کی کتابیں بھی چھپ گئی ہیں جن کا مطالعہ کرتے ہیں) ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی اثر نہیں لیتے۔ قرآن کی دعوت نہیں مانتے۔ اہل عقل اور اہل بصیرت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–135

تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔ اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 127–128

86:۔ جو لوگ حدود الٰہیہ کو پھاند کر شہوات و خواہشات میں منہمک ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو نہ مانیں ان کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ اور پھر آخرت کا عذاب یعنی عذاب جہنم تو نابینا اٹھانے سے بھی زیادہ دردناک اور دائم ہے۔ ” اَفَلَمْ یَھْدِ لَھُمْ الخ “ یہ مکذبین کے لیے تخویف دنیوی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 124–128

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی حقیقت بیان کرنے کے بعد معاد کا مسلہ بیان فرمایا ، اور اس سلسلے میں آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ان کی انابت کا ذکر ہو۔ ابلیس کے انکار اور اس کی سرکشی کا بیان ہوا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ملنے والی سہولتیں شیطان کے وسوسہ اندازی کے نتیجے میں چھین لی گئیں اور دونوں میاں بیوی کو زمین پر اترنے کا حکم ہوا۔ اللہ نے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ تم میں سے بعض ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ نوع انسانی کے لئے ایک مقررہ وقت یعنی قیامت تک کے لئے زمین پر رہائش پذیر ہونا ہوگا۔ اس غلطی پر آدم (علیہ السلام) سخت نادم ہوئے۔ انہوں نے گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَ فَلَمْ يَہْدِ لَہُمْ كَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِہِمْ۝ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّہٰى۝ 128ۧ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 126–129

1 ؎ تیری طرف نظر عنایت نہ رہی یعنی جس طرح تو نے دنیا میں آیات اللہ سے بےاعتنائی کی آج اسی طرح تم سے بھی بےاعتنائی کی گئی۔ ازانجملہ یہ کہ اس جہان میں تجھے بینائی عطا نہ کی کیونکہ دنیا میں بینائی دی تھی تو اس سے تو نے آیات قدرت کو نہ دیکھا تھا۔ 12 منہ تفسیر : پہلی قوموں کی ہلاکت بیان فرما کر یہ بات فرماتا ہے کہ اگر نوشتہ ازلی (کہ چند روز ہم ان کو دنیا میں رکھیں گے) مانع نہ آتا تو ان لوگوں پر یہی عذاب دنیا ہی میں آچکتا اس پر بھی اے نبی ! جو ہدایت پر نہیں آتے اور ستاتے ہیں تو صبر کرو اور اپنے لیے دار آخرت کی تیاری کرو تاکہ تو وہاں خوش وقت رہو فقال فاصبر علی مایقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَلَمْ یَھْدِلَہُمْ کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـاُوْلِی النُّھٰی۔ (طٰـہٰ : 128) (کیا ان کے لیے یہ چیز ہدایت دینے والی نہ بنی کہ کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہم نے ہلاک کردیا جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بیشک اس کے اندر اہل عقل کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ ) عربوں کے مطالبے کا جواب اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے۔ وہ چونکہ آئے دن کسی نہ کسی نشانی یا عذاب کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، ممکن ہے اس میں ان کے مطالبے کا جواب بھی دیا گیا ہو۔ عرب چونکہ تجارت پیشہ لوگ تھے، مختلف ممالک کا سفر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 128–129

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف کرنے والوں کو ناصرف آخرت میں عذاب ہوگا بلکہ انھیں دنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ مشرکین مکہ کے سامنے جب آخرت کے عذاب اور پہلی قوموں کی تباہی کا ذکر کیا جاتا تو وہ نبی اکرم ﷺ کو چیلنج کے انداز میں کہتے کہ جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔ اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اس پر انہیں سمجھایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے اسی طرح ہی مجرم کی گرفت اور عذاب کا وقت متعین کیا ہوا ہے۔ اس میں آگا پیچھا نہیں ہوتا۔ اگر یہ وقت مقرر نہ کیا ہوتا تو ان لوگوں پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہوتا۔ کیونکہ ان کے اعمال ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

128: اَفَلَمْ یَھْدِ لَہُمْ (کیا ان لوگوں کو اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اس کی دلیل زید کی قراءت جو یعقوب کی روایت سے ہے نون کے ساتھ۔ نھد لھم۔ کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ القُرُوْنِ یَمْشُوْنَ (ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے یہ لوگ چلتے ہیں) یمشون یہ لھمؔ کی ضمیر مجرور سے حال ہے۔ فِیْ مَسٰکِنِھِمْ (ان کے رہنے کے مقامات میں) مراد یہ ہے کہ قریش مکہ عاد، ثمود، قوم لوط کے مقامات و مساکن میں آتے جاتے گزر تے ہیں اور ان کی بربادی کے آثار کو آنکھوں سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّھٰی (اس میں عقل والوں کیلئے کھلی دلیلیں موجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

128۔ الم یھدلھم، ، کیا قرآن نے ان کے لیے اور واضح نہیں کردیا۔ یعنی کفار مکہ کے لیے ، کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مساکنھم، ان کے گھروں اور ان کے ٹھکانوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ یہاں خطاب قریش مکہ کو ہے کہ جب وہ شام کی طرف سفر کرتے ہیں تو وہ ان اقوام کی ہلاک شدہ بستیوں کو دیکھتے ہوں جیسے اصحاب حجر، ثمود اور قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ ان فی ذالک لایات لاولی النھی، اس سے مراد ذو ی العقول ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 128–129

128۔ 129:۔ اوپر عذاب قبر اور عذاب آخرت کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اس عذاب کی قدر تو مرنے کے بعد کھل جائے گی لیکن دنیا میں سوداگری کی غرض سے یہ لوگ اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں اور اس سفر میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں انہیں نظر آیا کرتی ہیں ان بستیوں کو دیکھ کر ان میں کے سمجھ دار لوگوں کو کیا یہ عبرت نہیں ہوتی کہ جو کوئی ان اجڑی ہوئی قوموں کے قدم بقدم چلے گا اس کا بھی مرنے سے پہلے وہی انجام اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے جو انجام ان اجڑی ہوئی قوموں کا ہوا پھر فرمایا ان لوگوں کی سرکشی تو یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ اب تک سوائے مکہ کے قحط کے اور کسی عذاب کی ایسی بلا ان کو آن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 128–129

آیت 128 ان جھٹلانے والوں اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کو، اس عذاب نے راہ ہدایت پر گامزن ہونے، گمراہی اور فساد کی راہ سے اجتناب کرنے پر آمادہ نہیں کیا، جو گزشتہ قوموں اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی امتوں پر نازل ہوا ؟ یہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں، ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں اور ان قوموں کے مسکن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مثلاً ہود، صالح اور لوط (علیہ السلام) کی قوموں کے اجڑے ہوئے مسکن۔ انہوں نے جب ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری کتابوں سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر دردناک عذاب نازل کردیا۔ کس چیز نے ان کو بےخوف کیا ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر نازل ہوا تھا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

135 پہلی قوموں کے انجام سے درس عبرت کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کو اس سے بھی کوئی ہدایت نہ مل سکی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں "۔ جیسے قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ سو وہ انجام آج کے ان منکروں کا بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا قانون سب کے لئے ایک اور بےلاگ ہے۔ سو ماضی کی ان ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے دور حاضر کے ان منکروں کو درس عبرت لینا چاہیئے اور اپنی اصلاح کرلینی چاہیئے قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کی خسارے میں مبتلا ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–129

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–128

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔ (دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے) تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 127–129

ف 1 میعاد معین سے مراد قیامت کا دن ہے یا دنیا ہی کی سزا کوئی دن جیسے بدر کا دن اور بات اسے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ہر قوم یا گروہ کو گرفت کرنے سے پہلے مہلت دی جائے گی تاکہ ایک طرف اس پر حجت تمام ہو اور دوسری طرف اگر وہ سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:128) اولم یھدلہم۔ میں لم یھد کا فاعل اگلا جملہ ہے یعنی کم اھلکنا قبلہم من القرون یمشون فی مسکنہم کہ ان سے قبل ہم کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے (اجڑے ہوئے) مکانوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں۔ اس کی مثال صاحب کشاف نے سورة صافات (37) کی آیات 78:79 دی ہیں وترکنا علیہ فی الاخرین۔ سلم علی نوح فی العلمین۔ اور ہم نے ان کے پیچھے آنے والوں میں (یہ بات ) رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں۔ اس میں ترکنا کا مفعول اگلا جملہ سلام علی نوح فی العلمین ہے۔ آیت ہذا سے نیا کلام شروع ہوتا ہے اس میں لہم کی ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین زمانہ نبی کریم ﷺ کے لئے ہے۔ اسی طرح قبلہم کی ضمیر جمع مذکر غائب بھی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 115–128

لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128 تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔ تشریح : آیت نمبر 115 تا 128 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اوپر عذاب قبر اور عذاب آخرت کا ذکر تھا۔ ان آیتوں میں فرمایا :" اس عذاب کی قدر تو مرنے کے بعد کھل جائے گی، لیکن دنیا میں سوداگری کی غرض سے یہ لوگ اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ اور اس سفر میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں انہیں نظر آیا کرتی ہیں۔ ان بستیوں کو دیکھ رک ان میں سے سمجھ دار لوگوں کو کیا یہ عبرت نہیں ہوتی کہ جو کوئی ان اجڑی ہوئی قوموں کے قدم بقدم چلے گا، اس کا بھی مرنے سے پہلے وہی انجام ہے۔ اللہ کی قدرت سے کچھ بعید ہیں ہے "۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 126–129

[61] یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کردی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 122–128

ہمارا اصلی مقام جنت ہے : (ف 1) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ، اور تمام فرشتوں کو اس کے سامنے جھکایا ، تاکہ اس میں عزت نفس کے جذبات بیدار ہوں ، اور وہ صحیح معنوں میں اللہ کا نائب کہلا سکے ، پھر جنت میں جگہ دی تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کا اصلی مقام جنت ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور خدا کا قرب لکھا ہے ، مگر آدم شیطان کی ملبسانہ باتوں میں آگیا ، اور اس سے وہ لغزش ظہور میں آئی جو انجام کار جنت سے اخراج پر منتج ہوئی ، شیطان نے کہا (آدم (علیہ السلام) کی بشری نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) کہ جانتے ہو تمہیں شجر مخصوص سے کیوں روکا گیا ہے ؟ اس لئے کہ کہیں تم اس درخت کے پھل کو کھا کر خلود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 128 کیا ان لوگوں کو اس بات سے بھی ہدایت نصیب نہ ہوئی اور ان کو ہدایت میسر نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور بہت سے ایسے گروہوں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ جن کے رہنے اور بسنے کے مکانوں اور مقامات میں یہ کفار مکہ جاتے آتے اور چلتے پھرتے ہیں بلاشبہ ان قوموں کی تباہی میں اہل عقل و فہم کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ یعنی جو بستیاں اپنی نافرمانی کے باعث ان سے پہلے ہلاک کی جا چکی ہیں اور یہ ان کے اجڑے ہوئے مکانوں اور کھنڈروں میں چلتے پھرتے ہیں اور سفر میں وہ مقامات ا ن کی گزر گاہ بھی ہیں انہیں دیکھ کر انہیں ہدایت و بصیرت اور عبرت نہیں ہوتی اگر ان کو عقل ہوتی اور یہ فہم سے کام لیتے تو سابقہ اقوام کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ان لوگوں نے گزشتہ امتوں سے اتنا بھی سبق حاصل نہ کیا : 128۔ اظہار تعجب کے طور پر کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ عجیب ہیں کہ ان کے سامنے کتنی قوموں کا ذکر کیا گیا نوح (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک کتنے ہی نبی ورسول آئے جن کے تذکرے ان کے سامنے پیش کئے گئے اور ان میں کتنی جماعتیں تھیں جن کے گھروں کے کھنڈرات سے یہ لوگ گزرتے ہیں اور ان علاقوں کی بربادی یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان کے دل کس چیز کے ہیں کہ ان پر ذرا اثر نہیں ہوتا کہ کبھی وہ لوگ بھی اسی طرح اپنے علاقوں میں رہتے اور بستے تھے اور ان کے پاس ساری آرام و آسائش کی چیزیں موجود تھیں ، جس طرح یہ لوگ عمارتوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–129

Commentary The word ھُدٰی - (guidance) implied in the first sentence of verse 128 can refer either to the Qur'an or to the Holy Prophet ﷺ and the meaning would be, "Did not the Qur'an or the Holy Prophet ﷺ direct them i.e. the people of Makkah and tell them about the nations and the societies who were destroyed because they disobeyed the commands of Allah and turned away from the message brought to them by the Holy Prophet ﷺ ، and whose houses and lands are now occupied by them?" It is also possible that the word ھُدٰی (guidance) may refer to God in which case the meaning would be "Did God…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

109.“For them”: means people of Makkah. 110. That is, in this lesson of history and in the observation of the archaeological remains and in this experience of mankind.

Read the full tafseer →