دنیا کی سزائیں۔
جو حدود الٰہی کی پرواہ نہ کریں، اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ہم اسی طرح دنیا آخرت کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں خصوصا آخرت کا عذاب تو بہت ہی بھاری ہے اور وہاں کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے۔ دنیا کے عذاب نہ تو سختی میں اس کے مقابلے کے ہیں نہ مدت میں دائمی اور نہایت المناک ہیں۔ ملاعنہ کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے رسول مقبول ﷺ نے یہی فرمایا تھا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں بہت ہی ہلکی اور ناچیز ہے۔
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 108
اشارہ ہے اس " تنگ زندگی " کی طرف جو اللہ کے " ذکر " یعنی اس کی کتاب اور اس کے بھیجے ہوئے درس نصیحت سے منہ موڑنے والوں کو دنیا میں بسر کرائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ ، یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک بھی جیسا کہ دوسری آیات میں ذکراً رسولاً آیا ہے دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن سے یا رسول سے اعراض کرے یعنی قرآن کی تلاوت اور اس کے احکام پر عمل سے یا رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اعراض کرے اس کا انجام یہ ہے کہ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى یعنی اس کی معیشت تنگ ہوگی اور قیامت میں اس کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ پہلا عذاب دنیا ہی میں اس کو مل جائے گا اور دوسرا یعنی اندھا ہونے کا عذاب قیامت میں ہوگا۔
کافر اور بدکار کی زندگی دنیا میں تلخ اور تنگ ہونے کی…
Read the full tafseer →اسران کے معنی حدود سے تجاویز کے ہیں۔ یہاں من اسحرف سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنی قوتیں اور صلاحیتیں ان چیزوں پر برباد کیں جن سے ان کو بچنا تھا اور جو چیزیں اختیار کرنے کی تھیں ان سے انہوں نے آنکھیں بند رکھیں۔ فرمایا کہ یہ احوال آخرت جو بیان ہوئے ہیں ہم اسی طرح ان لوگوں کو بدلہ دیں گے جو اپنی صلاحیتوں کو بالکل غلط ہدف پر برباد کریں گے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہیں لائیں گے۔ پھر مزید تنبیہ فرمائی کہ آخرت کا عذاب کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ دنیا کی تنبیہات پر قیاس کر کے اس کو کوئی اہوں چیز نہ سمجھے۔ وہ نہایت سخت بھی ہوگا اور نہایت پائیدار بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا ! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
54: جب قبر سے اٹھا کر حشر کی طرف لائے جائیں گے، اس وقت تو یہ لوگ اندھے ہوں گے، لیکن بعد میں انہیں بینائی دے دی جائے گی، جیسا کہ سورة کہف : 53 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح تو آج بھلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو دنیا میں بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ جو شخص اللہ کی آیات سے منہ موڑتا ہے وہ اسراف کرتا ہے کیونکہ ہدایت اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ قیمتی دولت ہے اور یہ اسے پرے پھینک دیتا ہے۔ نیز وہ اپنی نظر کو غلط کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سے ان آیات کو نہیں دیکھتا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں ، لہٰذا اس کی معیشت بھی تنگ ہوگی اور قیامت میں وہ اندھا بھی ہوگا۔
یہاں تعبیر اور تصویر کشی میں مکمل ہم آہنگی…
Read the full tafseer →10 یعنی اسی طرح ہر ایک مجرم کو اس کے مناسب حال سزا دی جائے گی۔
11 اس لیے بڑی حماقت ہوگی کہ یہاں کی تکلیف سے گھبرائیں اور وہاں کے عذاب سے بچنے کی فکر نہ کریں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی یہ عذاب اندھا ہونے کا حشر میں ہے اور دوزخ میں اور زیادہ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ”
ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
92 یعنی اللہ تعالیٰ یہ جواب دیں گے کہ ہم اسی طرح لوگوں کو اس سے ملتا جاتا ہی مثل صورت میں بدلہ دیا کرتے ہیں۔ تو نے ہماری آیات سن کر ان سنی کردی تھیں اور ہمیں بھول ہی گیا تھا۔ آج ہم بھی تمہیں بھلائے دیتے ہیں اور تو ہماری رحمت سے دور ہی رہے گا۔ یہ سزا تو وہ ہے جو تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق اس میدان محشر میں دی جارہی ہے اور جو عذاب تمہیں ابھی مزید دیا جانے والا ہے۔ وہ اس سے سخت تر بھی ہوگا اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →155۔ سخت اس قدر کہ اس کے آگے سختی کا کوئی درجہ انسان کے لیے متصور ہی نہیں، اور دیرپا ایسا کہ کبھی ختم ہی نہ ہوگا ! (آیت) ” اسرف “۔ سے مراد ہے کہ حد عبودیت سے نکل گیا۔ یا اپنے مرتبہ عبودیت کو دوسرے محل میں صرف کرنے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…
Read the full tafseer →وکذلک نجزی من اسرف ولم یومن بایت ربہ ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
اور اسی طرح ہم ہر اس شخص کو جو حد (اطاعت) سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے (اس کے عمل کے مناسب) سزا دیں گے اور واقعی آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بڑا دیرپا ہے۔ اَسْرَفَ حد سے گزر گیا یعنی ناجائز خواہشات میں ڈوب گیا اور آیات الٰہیہ سے منہ پھیرلیا۔ لَمْ یُؤْمِنْ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖیعنی رب کی آیات کی تکذیب کی ‘ ان کو جھوٹا جانا ‘ ان کی مخالفت کی۔ اَشَدُّ وَ اَبْقٰی یعنی تنگی معیشت اور نابینا ہونے سے آخرت میں دوزخ کا عذاب بہت سخت اور بہت زیادہ دیرپا ہے۔
Read the full tafseer →(127) اسی طرح ہم ہر اس شخص کو سزا دیں گے جو شرک کرے اور کتاب اللہ اور رسول اللہ پر ایمان نہ لائے اور آخرت کا عذاب بڑا سخت اور دنیاوی عذاب سے زیادہ دیر پا ہے۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نَجْزِيْ۔۔ : یعنی اسی طرح ہر ایک مجرم کو اس کے جرم کے موافق جزا دی جائے گی۔
مَنْ اَسْرَفَ۔۔ : حد سے گزرنے والا سب سے بڑھ کر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرائے، پھر وہ ہے جو عبودیت (بندگی) کے مقام سے بڑھ کر اتنا بڑا (متکبر) بنے کہ اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر اپنے خالق ومالک کی کوئی بات نہ مانے۔
وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ۔۔ : یعنی اگرچہ دنیا اور قبر کی تنگی والی زندگی اور محشر میں اندھا کرکے اٹھایا جانا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا فراموش کردینا، ان میں سے ہر ایک بہت بڑا عذاب ہے، مگر آخرت یعنی سب سے آخری مرحلے کا عذاب (جہنم) سب سے زیادہ سخت اور سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قال اھبطا منھا جمیعا ا حضرت آدم و ابلیس کو خطاب فرمایا۔ منھا جنت سے ابلیس کو فرمایا : اخرج منھا مذء وما مدحوراً (الاعراف :18) شاید اسے جنت سے آسمان کی کسی جگہ پر نکلنے کا حکم دیا پھر اسے زمین کی طرف اتارا بعضکم لبعض عدویہ سورة بقرہ میں 1 گزر چکا ہے۔ یعنی تو سانپ اور ابلیس کا دشمن ہوگا اور وہ تیرے دشمن ہوں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اھبطا آدم و حواء کو خطاب نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے۔ حضرت آدم کا اترنا حضرت حواء کے اترنے کے ضمن میں ہے۔ فامایاتینکم منی ھدی رشد اور سچی بات مراد ہے سورة بقرہ میں یہ بھی گزر چکا ہے۔ فمن اتبع ھدای یعنی جس نے رسل اور کتب کی پیروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–131
1:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک نجزی من اسرف “ سے مراد ہے جس نے شرک کیا۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ سے مراد ہے کیا ہم نے ان کے لئے واضح نہیں کردیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افلم یھدلہم “ یعنی کیا ہم نے ان کے لئے بیان نہیں کیا (آیت) ” کم اھلکنا قبلھم من القرون یمشون فی مسکنہم “ جیسے قوم ثمود اور عاد اور جو ہلاک کئے گئے دوسری امتوں میں سے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “ فرمایا اس کلام کی تقدیر اس طرح سے ہے (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما “ (یعنی اگر آپ کے…
Read the full tafseer →[وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح ] [نَجْزِيْ : ہم بدلہ دیتے ہیں ] [مَنْ : اس کو جس نے ] [اَسْرَفَ : حد سے تجاوز کیا ] [وَلَمْ يُؤْمِنْۢ: اور ایمان لایا ہی نہیں ] [بِاٰيٰتِ رَبِهٖ : اپنے رب کی نشانیوں پر ] [وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا عذاب ] [اَشَدُّ : سب سے شدید ہے ] [وَاَبْقٰي : اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد مستقل طور پر قانون بیان فرمایا (وَ کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ ) (الآیۃ) اور اسی طرح ہم اس شخص کو بدلہ دیتے ہیں جو حد سے آگے نکلا اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لایا۔ اور البتہ آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور بہت دیرپا ہے۔ اس میں بتادیا کہ ہر وہ شخص جس نے کفر اختیار کیا اس کا یہی حال ہوگا جو اوپر بیان ہوا۔ اندھا کر کے بھی اٹھایا جائے گا اور ہمیشگی والے سخت عذاب میں بھی داخل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
86:۔ جو لوگ حدود الٰہیہ کو پھاند کر شہوات و خواہشات میں منہمک ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو نہ مانیں ان کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ اور پھر آخرت کا عذاب یعنی عذاب جہنم تو نابینا اٹھانے سے بھی زیادہ دردناک اور دائم ہے۔ ” اَفَلَمْ یَھْدِ لَھُمْ الخ “ یہ مکذبین کے لیے تخویف دنیوی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی حقیقت بیان کرنے کے بعد معاد کا مسلہ بیان فرمایا ، اور اس سلسلے میں آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ان کی انابت کا ذکر ہو۔ ابلیس کے انکار اور اس کی سرکشی کا بیان ہوا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ملنے والی سہولتیں شیطان کے وسوسہ اندازی کے نتیجے میں چھین لی گئیں اور دونوں میاں بیوی کو زمین پر اترنے کا حکم ہوا۔ اللہ نے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ تم میں سے بعض ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ نوع انسانی کے لئے ایک مقررہ وقت یعنی قیامت تک کے لئے زمین پر رہائش پذیر ہونا ہوگا۔
اس غلطی پر آدم (علیہ السلام) سخت نادم ہوئے۔ انہوں نے گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْۢ بِاٰيٰتِ رَبِّہٖ 0ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَاَبْقٰي 127
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر .
يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
1 ؎ تیری طرف نظر عنایت نہ رہی یعنی جس طرح تو نے دنیا میں آیات اللہ سے بےاعتنائی کی آج اسی طرح تم سے بھی بےاعتنائی کی گئی۔ ازانجملہ یہ کہ اس جہان میں تجھے بینائی عطا نہ کی کیونکہ دنیا میں بینائی دی تھی تو اس سے تو نے آیات قدرت کو نہ دیکھا تھا۔ 12 منہ
تفسیر : پہلی قوموں کی ہلاکت بیان فرما کر یہ بات فرماتا ہے کہ اگر نوشتہ ازلی (کہ چند روز ہم ان کو دنیا میں رکھیں گے) مانع نہ آتا تو ان لوگوں پر یہی عذاب دنیا ہی میں آچکتا اس پر بھی اے نبی ! جو ہدایت پر نہیں آتے اور ستاتے ہیں تو صبر کرو اور اپنے لیے دار آخرت کی تیاری کرو تاکہ تو وہاں خوش وقت رہو فقال فاصبر علی مایقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس…
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ یُؤْمِنْ م بِاٰ یٰتِ رَبِّہٖ ط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَدُّوْ وَاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 127)
(اسی طرح ہم اپنی حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت دیرپا ہے۔ )
اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے اپنی صلاحیتوں اور اپنے اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ حدود میں استعمال کرنے کے بجائے ان کاموں میں استعمال کیا اور ان راہوں میں صرف کیا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا تھا اور قدم قدم پر ان حدود سے تجاوز کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے سرے سے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ میرے ذکر کو نہ بھولنا جس نے اپنے رب کے ذکر اور نصیحت کو بھولا دیا اس کی سزا یہ ہوگی کہ اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ اپنے رب سے ان الفاظ میں فریاد کرے گا۔
جس شخص کو قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھایا جائے گا وہ اپنے رب کے حضور التجا کی صورت میں سوال کرے گا کہ میرے رب مجھے آج اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ دنیا میں میں سب کچھ دیکھا کرتا تھا۔ رب ذوالجلال کی طرف سے اسے جواب دیا جائے گا کہ یہ سزا تجھے اس لیے دی گئی ہے کیونکہ تو نے ہماری آیات کو بھلا دیا تھا۔ اس لیے آج تمہیں بھی بھلا دیا گیا ہے۔ یہ اس شخص…
Read the full tafseer →127: وَکَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ یُؤْمِنْ (اور اسی طرح ہم پر اس شخص کو جو حد سے گزر جائے اور اپنے) مبِاٰیٰتِ رَبِّہٖ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَاَبْقٰی (رب کی آیات پر ایمان نہ لائے، سزا دیں گے۔ البتہ آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت دیرپا ہے) جب ذکر و یاد سے اعراض کرنے والے کو دو سزائوں سے ڈرایا۔ نمبر 2۔ دنیا میں تنگ گزر۔ نمبر 3۔ آخرت میں اندھا اٹھایا جانا تو اس کے بعد آیات کا اختتام وعید کے الفاظ ولعذاب الاٰخرۃ اشد وابقٰی سے فرمایا۔ یعنی اندھا اٹھایا جانا جو کہ کبھی زائل نہ ہوگا۔ وہ ختم ہونے والی زندگی سے جس میں تنگی تھی بہت ہی سخت ہے۔
Read the full tafseer →127۔ وکذالک، ، اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں جیسے قرآن سے اعراض کرنے کا بدلہ دیتے ہیں۔ نجزی من اسرف۔ جس نے شرک کیا، ولم یومن بایات ربہ ولعذاب الاخرۃ اشد۔ اس عذاب سے جو تمہیں دنیا میں اور قبر میں دیا گیا اور اس سے سخت ہوگا۔ وابقی، اور وہ ہمیشہ والاعذاب ہے۔
Read the full tafseer →127:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کے منکر ہیں جیسے اہل کتاب اور مشرکین مکہ اب اس آیت میں مشرکین مکہ کا یہ ذکر ہے کہ جس طرح منکرین قرآن پر عذاب قبر ہوگا جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح ان لوگوں پر بھی ہوگا جو شرک میں گرفتار ہیں اور قرآن کے بھی منکر ہیں مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی معتبر حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانہ اور برے لوگوں کو ان کا دوزخ کا ٹھکانہ فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان ٹھکانوں میں رہنے کے لیے قیامت کے دن تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا 1 ؎۔ ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے براء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–127
آیات (122)
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو مکمل کیا انہیں اشیاء کے نام سکھائے انہیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا : (انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین) (الاعراف : 7؍21) ” مَیں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →134 آخرت کے عذاب کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور آخرت کا عذاب انتہائی سخت بھی ہوگا اور سب سے بڑھ کر دیرپا بھی "۔ کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ رہے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے اعراض اور محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی سے محرومی کا باعث اور موجب اذیت و عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ذکر الہی سے سرفراز و شادکام رہنے والوں کیلئے آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی جنت ہے۔ یعنی دل کا سکون و اطمینان اور پاکیزہ زندگی۔ اسی لیے بعض اسلاف کرام نے فرمایا کہ جو دنیا کی جنت میں داخل نہیں ہوسکا وہ آخرت کی اس حقیقی اور ابدی جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔
(دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے)
تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
ف 1 میعاد معین سے مراد قیامت کا دن ہے یا دنیا ہی کی سزا کوئی دن جیسے بدر کا دن اور بات اسے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ہر قوم یا گروہ کو گرفت کرنے سے پہلے مہلت دی جائے گی تاکہ ایک طرف اس پر حجت تمام ہو اور دوسری طرف اگر وہ سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے۔
Read the full tafseer →(20:127) نجزی۔ مضارع جمع متکلم جزاء مصدر واسم (باب ضرب) ہم بدلہ دیں گے ہم بدلہ دیتے ہیں۔ جزا ہر بدلہ کہتے ہیں اچھا ہو یا برا۔ اسرف۔ ماضی واحد مذکر غائب اسراف (افعال) مصدر ، وہ حد سے تجاوز کر گیا اس نے حد سے تجاوز کیا۔ وہ حد سے بڑھ گیا۔
عذاب الاخرۃ۔ ای عذاب النار اشد (شدید تر) وابقی (زیادہ دیرپا) من عذاب الدنیا ومن المعیشۃ الضنک یعنی آخرت کا عذاب جو دوزخ میں ملے گا وہ عذاب دنیا سے زندگی کی عقوبتوں سے اور عذاب قبر سے کہیں زیادہ شدید اور دیرپا ہوگا۔ یا المعیشۃ الضنک والحشر علی العمی سے شدید تر و زیادہ دیرپا ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
رشاد ہوتا ہے کہ جو کیفیت ہم نے کفار کی بیان کی ہے، اسی طرح ہم اس کو سزا دیں گے جو نافرمانی کرے گا، اور ہمارے کلام پر ایمان نہ لائے گا، اور جو عذاب ہم نے بیان کیا ہے، وہ کسی خاص شخص کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر کافر کے واسطے ہے۔ پھر فرمایا کہ منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانا ، اور برے لوگوں کو ان کو دزخ کا ٹھکانا فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان ٹھکانون میں رہنے کے بعد تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ برے لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانے میں عذاب قبر سے زیادہ عذاب مرتے ہی دیکھ لیتے ہیں، اس لئے اس کے آگے عذاب قبر کو غنیمت جان کر یہ دعا کرتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو، اور ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
[61] یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کردی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–128
ہمارا اصلی مقام جنت ہے :
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ، اور تمام فرشتوں کو اس کے سامنے جھکایا ، تاکہ اس میں عزت نفس کے جذبات بیدار ہوں ، اور وہ صحیح معنوں میں اللہ کا نائب کہلا سکے ، پھر جنت میں جگہ دی تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کا اصلی مقام جنت ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور خدا کا قرب لکھا ہے ، مگر آدم شیطان کی ملبسانہ باتوں میں آگیا ، اور اس سے وہ لغزش ظہور میں آئی جو انجام کار جنت سے اخراج پر منتج ہوئی ، شیطان نے کہا (آدم (علیہ السلام) کی بشری نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) کہ جانتے ہو تمہیں شجر مخصوص سے کیوں روکا گیا ہے ؟ اس لئے کہ کہیں تم اس درخت کے پھل کو کھا کر خلود…
Read the full tafseer →- 127 اور ہم اسی طرح ہر اس شخص کو بدلا دیں گے جو حد عبودیت سے بڑھ جائے اور حد سے تجاوز کرے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بڑا ہی دیرپا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں آیتوں کو بھلا دیا یعنی عمل نہ کیا اور یقین نہ لایا اور پیغمبر نے فرمایا کہ میری امت کے سارے گناہ مجھ کو دکھائے اس سے بڑھ کر گناہ نہ دیکھا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت کسی کو یاد ہوئی پھر اس نے بھلا دی یعنی یہ عذاب اندھے ہونے کا حشر میں ہے اور دوزخ میں اور زیادہ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
ف 4۔ یعنی قیامت سے پہلے دنیا اور قبر میں۔ فائدہ : معیشة ضنک قبر میں تو ظاہر ہے کہ قبر کافر پر تنگ ہوگی اور طرح طرح سے اس پر عذاب ہوگا، اور دنیا میں تنگی باعتبار قلب کے ہے کہ ہر وقت دنیا کی حرص میں، ترقی کی فکر میں، کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے، گو کوئی کافر بےفکر بھی ہو لیکن اکثر کی حالت یہی ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
پروردگار عالم کی نشانیوں سے اعراض کرنے والوں کی یہی سزا مقرر ہے :
127۔ جو حدود الہی سے تجاوز کرنے والے ہیں اور اپنی قوتوں کا مصرف ناجائز طریقہ سے کرتے ہیں اور اس طرح ان کو تباہ وبرباد کرلیتے ہیں اور اپنی من مانیوں میں مصروف رہتے ہیں ہمارے حکم کی پروا نہیں کرتے ، جن چیزوں اور جن کاموں سے ہم نے منع کیا ہے ان کی ساری رغبت ان ہی کے کرنے میں ہے اور جن جن کاموں کے کرنے کا ہم حکم دیتے ہیں وہ وہی ہیں کہ ان کا جی ان کو دیکھنے کے لئے بھی تیار نہیں ‘ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ اس کو ہماری نشانیوں پر مطلق یقین نہیں ہے اور جو ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے اس کا بدلہ ہمارے ہاں یہی ہے کہ ہم دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي (And whoever turns away from My message - 20:124.) Here the word can refer both to the Qur'an and the Holy Prophet ﷺ as has been mentioned in other verses ذِكْرًا ﴿10﴾ رَّسُولًا (65:10). In both cases the meaning would be that if anyone fails in his duty to recite the Qur’ an or to comply with its commands, or if he fails to submit to the authority of the Holy Prophet then as punishment he would be condemned to a harsh and rigorous life in this world and would be raised blind on the Day of Resurrection.
The truth about the life of infidels and evil-doers being…
Read the full tafseer →108. This refers to the wretched life which will be the lot of those who turn away from the admonition in this worldly life.
Read the full tafseer →