Taa-Haa 20:126

Taa-Haa · from ayah 126

20:126

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا ۚ— وَكَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰی ۟قَالَ كَذٰلِكَ اَتَـتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا‌ۚ وَكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى

خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے تھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] will say, "Thus did Our signs come to you, and you forgot them; and thus will you this Day be forgotten."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 7 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:126

اللہ تعالیٰ فرمائے گا "ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے تھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ کہے گا : اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں، مگر تو نے انہیں بھلا دیا۔ اور آج اسی طرح تجھے بھلا دیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تھیں تو نے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی نہ لے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد ہوگا: ایسا ہی (ہوا کہ دنیا میں) تیرے پاس ہماری نشانیاں آئیں پس تو نے انہیں بھلا دیا اور آج اسی طرح تو (بھی) بھلا دیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئیں تو تو نے انھیں بھلا دیا تھا، اسی طرح آج تو بھی بھلادیا جائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ارشاد ہوگا، اسی طرح دنیا میں ہماری آیتیں تیرے پاس آئیں تو تو نے ان کو نظر انداز کیا تو اسی طرح تو آج نظر انداز کیا جائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ارشاد ہوگا اسی طرح جب ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج تجھے بھلایا جا رہا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ) کہے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری نشانیاں پہنچی تھی سو تو نے ان کا خیال نہ کیا اسی طرح آج تیرے خیال نہ کیا جائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ فرمائے گا کہ اسی طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئیں تو تم نے انہیں نظر انداز کردیا اور اسی طرح آج تمہیں بھی نظرانداز کردیا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ فرمائے گا کہ ایسا ہی چاہیے تھا تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تم کو بھلا دیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He will say: "Even so it is. Our Signs came to you and you ignored them. So shall you be ignored this Day."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He will say, :In the similar manner as Our signs came to you, and you had ignored them. In the same way you will be ignored today.

— Muhammad Taqi Usmani

He will say, :In the similar manner as Our signs came to you, and you had ignored them. In the same way you will be ignored today.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) will say: "Like this Our Ayat came unto you, but you disregarded them, and so this Day, you will be neglected."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He will say: So (it must be). Our revelations came unto thee but thou didst forget them. In like manner thou art forgotten this Day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] will say, "Thus did Our signs come to you, and you forgot them; and thus will you this Day be forgotten."

— Saheeh International

The Lord will say, "This is true. But just as you forgot Our revelations that had come to you, so, too, are you forgotten on this day."

— Muhammad Sarwar

He will say: Even so, Our communications came to you but you neglected them; even thus shall you be forsaken this day.

— Muhammad Habib Shakir

Allah will say: Thus came Our signs Unto thee and thou ignoredst them; so that wise today thou shalt be ignored.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) will say: "Thus didst Thou, when Our Signs came unto thee, disregard them: so wilt thou, this day, be disregarded."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:126

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–126

ایک دوسرے کے دشمن۔ حضرت آدم ؑ وحوا ؑ اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرمادیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ سورة بقرۃ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف میرے رسول کی راہ کے تارک۔ دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہوگی اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگی میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 125–126

سورة طٰهٰ 107 قیامت کے روز نئی زندگی کے آغاز سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک جو مختلف کیفیات مجرمین پر گزریں گی ان کو قرآن مجید میں مختلف مواقع پر جدا جدا بیان کیا گیا ہے۔ ایک کیفیت یہ ہے لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ، " تو اس چیز سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تیرے آگے سے پردہ ہٹا دیا ہے، آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ " یعنی تجھے خوب نظر آ رہا ہے۔ (ق۔ آیت 22)۔ دوسری کیفیت یہ ہے اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُؤسِھِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْہِمْ طَرْفُھُمْ وَاَفْئِدَتُھُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 124–127

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ ، یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک بھی جیسا کہ دوسری آیات میں ذکراً رسولاً آیا ہے دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن سے یا رسول سے اعراض کرے یعنی قرآن کی تلاوت اور اس کے احکام پر عمل سے یا رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اعراض کرے اس کا انجام یہ ہے کہ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى یعنی اس کی معیشت تنگ ہوگی اور قیامت میں اس کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ پہلا عذاب دنیا ہی میں اس کو مل جائے گا اور دوسرا یعنی اندھا ہونے کا عذاب قیامت میں ہوگا۔ کافر اور بدکار کی زندگی دنیا میں تلخ اور تنگ ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 125–126

آیت 126-125 نسی کے معنی یہاں نظر انداز کرنے کے ہیں۔ لفظ کے اس مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اندھے اٹھائے جائیں گے وہ فریاد کریں گے کہ اے رب ! ہم تو آنکھیں رکھنے والے لوگ تھے تو تو نے ہم کو اندھے بنا کر کیوں اٹھایا ! ارشاد ہوگا کہ ہم نے تمہایر پاس اپنی کتاب بھیجی جس کی آیات نے ایک ایک حقیقت تم پر واضح کی لیکن تم ان کو نظر انداز کر کے بالکل اندھے بہرے بنے رہے۔ مطلب یہ کہ اگر آنکھیں تھیں تو وہ آنکھیں ہماری اس ساری تذکیر و تنبیہ کے باوجود کیوں نہ کھلیں ؟ جب تم نے اس وقت اپنی آنکھیں نہیں کھولیں تو سزاوار ہو کہ تمہاری آنکھیں بند ہی رہیں۔ وکذلک الیوم تنسیٰ یعنی اب تمہارا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 125–129

129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا ! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 124–128

54: جب قبر سے اٹھا کر حشر کی طرف لائے جائیں گے، اس وقت تو یہ لوگ اندھے ہوں گے، لیکن بعد میں انہیں بینائی دے دی جائے گی، جیسا کہ سورة کہف : 53 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 126–127

ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح تو آج بھلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو دنیا میں بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ جو شخص اللہ کی آیات سے منہ موڑتا ہے وہ اسراف کرتا ہے کیونکہ ہدایت اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ قیمتی دولت ہے اور یہ اسے پرے پھینک دیتا ہے۔ نیز وہ اپنی نظر کو غلط کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سے ان آیات کو نہیں دیکھتا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں ، لہٰذا اس کی معیشت بھی تنگ ہوگی اور قیامت میں وہ اندھا بھی ہوگا۔ یہاں تعبیر اور تصویر کشی میں مکمل ہم آہنگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کردی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا، یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا کر کے اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 124–128

آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ” ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 126–127

92 یعنی اللہ تعالیٰ یہ جواب دیں گے کہ ہم اسی طرح لوگوں کو اس سے ملتا جاتا ہی مثل صورت میں بدلہ دیا کرتے ہیں۔ تو نے ہماری آیات سن کر ان سنی کردی تھیں اور ہمیں بھول ہی گیا تھا۔ آج ہم بھی تمہیں بھلائے دیتے ہیں اور تو ہماری رحمت سے دور ہی رہے گا۔ یہ سزا تو وہ ہے جو تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق اس میدان محشر میں دی جارہی ہے اور جو عذاب تمہیں ابھی مزید دیا جانے والا ہے۔ وہ اس سے سخت تر بھی ہوگا اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

154۔ (اور تجھے عذاب میں پڑا رہنے دیا جائے گا) نسی تھا۔ ننسی۔ نسیان۔ یہاں بھول اور ذہول کے معنی میں نہیں، ارادی ترک توجہ واغماض کے معنی میں ہے۔ النسیان ھنا بمعنی الترک لا بمعنی الذھول (بحر) یعنی تیرے پاس ہمارے احکام انبیاء وعلماء کے ذریعہ سے پہنچے تھے مع سارے واضح و روشن دلائل کے، اور تو باوجود بصیرت و بصارت ان کی طرف سے اندھا بنا رہا، اس لیے آج تیری ارادی اندھا پن نمایاں کردیا گیا۔ رحمت الہی جسے پھٹکارے جس کی طرف سے اپنے کو غافل کرے اس سے بڑھ کر محرومی کسی کی ممکن ہی کیا ہے ؟ اللھم احفظنا۔ (آیت) ” کذلک “۔ جملہ کے شروع میں لا کر گویا عام قانون بتادیا گیا کہ جیسا جرم ہوتا ہے اسی کے متناسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–128

آیت نمبر 116 تا 128 ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتہا وکذلک الیوم تنسی۔ ارشاد ہوگا ایسے ہی ہمارے احکام تیرے پاس پہنچے تھے پھر (تو اندھا بن گیا تھا) تو نے ان کا خیال نہیں کیا اور ایسا ہی آج تیرا کچھ خیال نہیں کیا جائے گا۔ کذلک کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی تو نے ایسا ہی کیا تھا کہ ہماری کائناتی نشانیاں تیرے سامنے آئی تھیں یا ہماری وہ آیات جو انبیاء پر اتاری گئی تھیں تیرے پاس پہنچی تھیں ‘ پس تو نے ان کو بھولا بسرا کردیا ‘ یعنی ان کو چھوڑ دیا۔ ان کی طرف سے منہ پھیرلیا ‘ نظر اٹھا کر ان کی طرف نہیں دیکھا جیسے اندھا چھوڑ دیتا ہے (اور نہیں دیکھتا) پس آج تجھے بھی (دوزخ کے اندر ڈال کر) اسی طرح بھلا 1 ؂ دیا جائے گا۔ بعض اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(126) ارشاد ہوگا ایسا ہی ہے کیوں کہ تیرے پاس ہماری کتاب اور ہمارا رسول آیا تھا اور تو نے نہ ان کا اقرار کیا اور نہ اس پر عمل کیا اسی طرح آج تیرے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور تجھے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ۔۔ : ”كَذٰلِكَ“ (اسی طرح) سے مراد ”اندھا ہونا“ ہے، جس کا ذکر سوال میں ہے کہ پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ جواب ملے گا : (كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا) کہ اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا۔ دونوں آیتوں کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ ایک لمبی بات کو اس طرح مختصر کیا گیا ہے کہ حذف شدہ الفاظ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ سوال میں اندھے ہونے کا ذکر ہے، جواب میں بھلانے کا ذکر ہے۔ یہ اختصار تین جگہوں پر ہے، پہلا اختصار ”وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ (وَ نَنْسَاہُ)“”ہم قیامت کے دن اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے (اور اسے بھلا دیں گے)“ دوسرا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–127

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قال اھبطا منھا جمیعا ا حضرت آدم و ابلیس کو خطاب فرمایا۔ منھا جنت سے ابلیس کو فرمایا : اخرج منھا مذء وما مدحوراً (الاعراف :18) شاید اسے جنت سے آسمان کی کسی جگہ پر نکلنے کا حکم دیا پھر اسے زمین کی طرف اتارا بعضکم لبعض عدویہ سورة بقرہ میں 1 گزر چکا ہے۔ یعنی تو سانپ اور ابلیس کا دشمن ہوگا اور وہ تیرے دشمن ہوں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اھبطا آدم و حواء کو خطاب نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے۔ حضرت آدم کا اترنا حضرت حواء کے اترنے کے ضمن میں ہے۔ فامایاتینکم منی ھدی رشد اور سچی بات مراد ہے سورة بقرہ میں یہ بھی گزر چکا ہے۔ فمن اتبع ھدای یعنی جس نے رسل اور کتب کی پیروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–126

1:۔ طبرانی خطیب نے المتفق والمفترق میں اور ابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح پڑھا (آیت) ” فمن اتبع ھدای “ قرآن کریم کی پیروی گمراہی سے بچاتی ہے : 2:۔ ابن ابی شیبہ، طبرانی، ابونعیم نے حلیہ میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا اتباع کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں گمراہی سے ہدایت دیں گے اور قیامت کے دن اس کو برے حساب سے بچائیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی۔ “ 3:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، محمد بن نصر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (اللہ تعالیٰ ) کہے گا ] [كَذٰلِكَ : اسی طرح ہے ] [اَتَتْكَ : پہنچیں تیرے پاس ] [اٰيٰتُنَا : ہماری نشانیاں ] [فَنَسِيْتَهَا : پھر تو نے بھلا دیا ان کو ] [وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح ] [الْيَوْمَ : آج ] [تُنْسٰى: تجھ کو بھلایا جائے گا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 124–126

اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والوں کی سزا، عذاب کی وعید، ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈروں سے عبرت حاصل نہ کرنے پر تنبیہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں یہ فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تمہارے پاس میری ہدایت آئے گی جو شخص اس کا اتباع کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بد بخت ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دنیا میں آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کی نصیحت سے اعراض کیا۔ ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہے، ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ دونوں باتیں درست ہیں۔ کیونکہ ایک دوسرے کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 115–127

ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع جن کے رتبے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 125–126

85:۔ جس شخص نے اللہ کی ہدایت کو محض ضد وعناد کی وجہ سے رد کردیا قیامت کے دن اس کو قبر سے اندھا اٹھایا جائے گا تو وہ اللہ سے سوال کرے گا کہ بارے خدایا ! دنیا میں تو چنگا بھلا دیکھتا تھا اور تو نے میری آنکھوں کو نور دے رکھا تھا تو آج مجھے کیوں آنکھوں کی روشنی سے محروم کردیا گیا ہے۔ ” قَالَ کَذَاَلِکَ “ تو اس کو جواب ملے گا کہ جس طرح دنیا میں تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں۔ ہمارے پیغمبروں اور مبلغوں نے تجھے پڑھ کر سنائیں تو تو نے ان کو پس پشت ڈال دیا ان کی پرواہ نہ کی اور ان سے آنکھیں بالکل بند کرلیں اور ان سے اندھا ہوگیا۔ اسی طرح آج تجھے بھلا دیا گیا ہے اور تجھے کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور تیری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 124–128

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی حقیقت بیان کرنے کے بعد معاد کا مسلہ بیان فرمایا ، اور اس سلسلے میں آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ان کی انابت کا ذکر ہو۔ ابلیس کے انکار اور اس کی سرکشی کا بیان ہوا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ملنے والی سہولتیں شیطان کے وسوسہ اندازی کے نتیجے میں چھین لی گئیں اور دونوں میاں بیوی کو زمین پر اترنے کا حکم ہوا۔ اللہ نے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ تم میں سے بعض ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ نوع انسانی کے لئے ایک مقررہ وقت یعنی قیامت تک کے لئے زمین پر رہائش پذیر ہونا ہوگا۔ اس غلطی پر آدم (علیہ السلام) سخت نادم ہوئے۔ انہوں نے گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَہَا۝ 0ۚ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى۝ 126 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 126–129

1 ؎ تیری طرف نظر عنایت نہ رہی یعنی جس طرح تو نے دنیا میں آیات اللہ سے بےاعتنائی کی آج اسی طرح تم سے بھی بےاعتنائی کی گئی۔ ازانجملہ یہ کہ اس جہان میں تجھے بینائی عطا نہ کی کیونکہ دنیا میں بینائی دی تھی تو اس سے تو نے آیات قدرت کو نہ دیکھا تھا۔ 12 منہ تفسیر : پہلی قوموں کی ہلاکت بیان فرما کر یہ بات فرماتا ہے کہ اگر نوشتہ ازلی (کہ چند روز ہم ان کو دنیا میں رکھیں گے) مانع نہ آتا تو ان لوگوں پر یہی عذاب دنیا ہی میں آچکتا اس پر بھی اے نبی ! جو ہدایت پر نہیں آتے اور ستاتے ہیں تو صبر کرو اور اپنے لیے دار آخرت کی تیاری کرو تاکہ تو وہاں خوش وقت رہو فقال فاصبر علی مایقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 124–126

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَـہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی۔ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا۔ قَالَ کَذٰلِکَ اَ تَتْکَ اٰیٰـتُنَا فَنَسِیْتَھَا ج وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی۔ (طٰـہٰ : 124 تا 126) (اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا تو یقینا اس کی زندگی بہت تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن اسے ہم اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس میری نشانیاں آئی تھیں تو، تو نے ان کو نظرانداز کردیا تھا، اسی طرح آج تجھے بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 125–127

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ میرے ذکر کو نہ بھولنا جس نے اپنے رب کے ذکر اور نصیحت کو بھولا دیا اس کی سزا یہ ہوگی کہ اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ اپنے رب سے ان الفاظ میں فریاد کرے گا۔ جس شخص کو قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھایا جائے گا وہ اپنے رب کے حضور التجا کی صورت میں سوال کرے گا کہ میرے رب مجھے آج اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ دنیا میں میں سب کچھ دیکھا کرتا تھا۔ رب ذوالجلال کی طرف سے اسے جواب دیا جائے گا کہ یہ سزا تجھے اس لیے دی گئی ہے کیونکہ تو نے ہماری آیات کو بھلا دیا تھا۔ اس لیے آج تمہیں بھی بھلا دیا گیا ہے۔ یہ اس شخص…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

126: قَالَ کَذٰلِکَ (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا اسی طرح) یعنی اس فعل کی طرح جو تو نے کیا پھر اس کی وضاحت فرمائی اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَہَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی (تیرے پاس ہمارے احکام آئے تھے پھر تو نے انکا خیال نہ کیا اور ویسا ہی آج تیرا کچھ خیال نہ کیا جائے گا) تیرے پاس ہماری واضح آیات پہنچیں تو نے ان کی طرف عبرت کی نگاہ سے نہ دیکھا اور ان کو چھوڑ دیا بےپروائی اختیار کی۔ ان سے اندھا بنا رہا۔ پس اسی طرح آج ہم تیرے اندھے پن میں تجھے چھوڑ رہے ہیں۔ اور اندھے پن کا پردہ تیری آنکھوں سے زائل نہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

126۔ قال کذالک، ایسے ہی ہمارے احکام، اتتک آیاتنا فنیس تھا، اس کو چھوڑ دیا اور اس سے اعراض کیا، وکذالک الیوم تنسی، تمہیں آگ میں چھوڑ دیاجائے گا، اور پھر میں تمہیں اس دن بھول جاؤں گا، قتادہ کا قول ہے کہ ہم تمہاری بھلائیوں کو بھول جائیں گے اور تمہیں عذاب دینے سے نہیں بھولیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 124–126

124۔ 126:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل فرمانے کا اور قرآن میں ہر طرح کی نصیحت کا تذکرہ ہونے کا ذکر فرمایا اس ذکر کے ذیل میں ایک ذکر یہ آگیا تھا کہ جب حضرت جبرئیل قرآن کی کوئی آیت لے کر آتے تو آنحضرت ﷺ اس خوف سے کہ آیت کا کوئی لفظ بھول نہ جائیں ساری آیت کو حضرت جبرئیل کے پورا کرنے سے پہلے ایک ایک دو دو لفظ جو حضرت جبرئیل کے منہ سے نکلتے جاتے ان کو یاد کرنے لگ جاتے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے بیچ میں اپنے رسول کو یہاں اور سورة القیامہ میں یہ ہدایت فرمایا کہ حضرت جبرئیل جو اللہ کا حکم لاتے ہیں جب وہ اس کو پورا سنا دیا کریں اس وقت تم آیت کو یاد کرنا شروع کیا کرو پھر شیطان کا حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 122–127

آیات (122) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو مکمل کیا انہیں اشیاء کے نام سکھائے انہیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا : (انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین) (الاعراف : 7؍21) ” مَیں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

132 اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو بھلا دینا انتہائی ہولناک جرم : سو اس سے کہا جائے گا " دنیا میں تو نے ہماری آیتوں کو بھلا دیا تھا اور ان کو تو نے اس طرح پس پشت ڈال دیا تھا جس طرح کسی بھولی بسری چیز کو ڈالا جاتا ہے "۔ اور تو آنکھیں رکھنے کے باوجود ان سے اندھا بن گیا تھا۔ دنیاوی امور کے بارے میں تیری نظریں بہت تیز تھیں لیکن حق اور حقیقت کے دلائل کو دیکھنے اور سننے سمجھنے سے تو اندھا بہرہ بن گیا تھا۔ سو دنیا میں تیرا اپنا اختیار کردہ وہی اندھا پن آج تیرے سامنے ہے۔ اب تو اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگت اور اپنے سوا کسی اور کی ملامت مت کر۔ سو قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–129

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–128

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔ (دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے) تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 125–126

ف 8 یعنی عمل نہ کیا اور یقین نہ کیا۔ آنحضرت نے فرمایا میری امت کے سارے گناہ مجھ کو دکھائے گئے ان میں سب سے بڑا گناہ یہ دیکھا کہ قرآن کی آیت کسی شخص کو یاد ہوئی پھر اس نے بھلا دی۔ ( موضح) اشارہ ہے قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کی طرف جن سے مکہ والے ملک شام کو آتے جاتے گزرا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:126) کذلک۔ ای مثل ذلک فعلت انت۔ تو نے بھی تو اسی طرح کیا تھا۔ اتتک ایتنا فنسیتھا۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے جیسا کہ وہ کہے یا رب ما فعلت نا ؟ اے میرے پروردگار میں نے کیا کیا ؟ جواب ملے گا : اتتک ایتنا فنسیتھا۔ تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں اور تو نے عمدا ان کو ترک کئے رکھا۔ جان بوجھ کر اندھا بنا رہا اور ان کو بھلائے رکھا۔ نسی کا معنی بھلانا بھی ہے اور نظر انداز کرنا بھی۔ وکذلک الیوم تنسی اور آج تو بھی اسی طرح نظر انداز کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 115–128

لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128 تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔ تشریح : آیت نمبر 115 تا 128 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 125–127

رشاد ہوتا ہے کہ جو کیفیت ہم نے کفار کی بیان کی ہے، اسی طرح ہم اس کو سزا دیں گے جو نافرمانی کرے گا، اور ہمارے کلام پر ایمان نہ لائے گا، اور جو عذاب ہم نے بیان کیا ہے، وہ کسی خاص شخص کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر کافر کے واسطے ہے۔ پھر فرمایا کہ منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانا ، اور برے لوگوں کو ان کو دزخ کا ٹھکانا فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان ٹھکانون میں رہنے کے بعد تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ برے لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانے میں عذاب قبر سے زیادہ عذاب مرتے ہی دیکھ لیتے ہیں، اس لئے اس کے آگے عذاب قبر کو غنیمت جان کر یہ دعا کرتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو، اور ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 126–129

[61] یعنی دنیا میں ہماری آیات دیکھ سن کر یقین نہ لایا نہ ان پر عمل کیا۔ ایسا بھولا رہا کہ سب سنی ان سنی کردی۔ آج اسی طرح تجھ کو بھلایا جا رہا ہے۔ جیسے وہاں اندھا بنا رہا تھا یہاں اسی کے مناسب سزا ملنے اور اندھا اٹھائے جانے پر تعجب کیوں ہے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 122–128

ہمارا اصلی مقام جنت ہے : (ف 1) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ، اور تمام فرشتوں کو اس کے سامنے جھکایا ، تاکہ اس میں عزت نفس کے جذبات بیدار ہوں ، اور وہ صحیح معنوں میں اللہ کا نائب کہلا سکے ، پھر جنت میں جگہ دی تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کا اصلی مقام جنت ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور خدا کا قرب لکھا ہے ، مگر آدم شیطان کی ملبسانہ باتوں میں آگیا ، اور اس سے وہ لغزش ظہور میں آئی جو انجام کار جنت سے اخراج پر منتج ہوئی ، شیطان نے کہا (آدم (علیہ السلام) کی بشری نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) کہ جانتے ہو تمہیں شجر مخصوص سے کیوں روکا گیا ہے ؟ اس لئے کہ کہیں تم اس درخت کے پھل کو کھا کر خلود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 126 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائے گا جیسی تجھ کو سز ا دی گئی ایسا ہی تیرا عمل تھا ہماری آیات و احکام تیرے پاس پہونچے تھے سو تو نے ان کو بھلا دیا اور ان کا کچھ خیال نہ کیا۔ لہٰذا آج تجھ کو بھی اسی طرح فراموش کردیا جائے گا۔ یعنی ہمارے احکام تیرے پاس پہونچے تھے تو نے ان کی کچھ پروا نہ کی اور ان احکام کا کچھ خیال نہ کیا ان احکام سے غفلت برتی اور بالکل ہی بھلا دیا بس اس طرح آج تیرا بھی خیال نہ رکھا جائے گا اور تیرے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسے کسی بھلائے ہوئے شخص سے کیا جاتا ہے تجھ کو جو سزا دی گئی وہ تیرے عمل کے مناسب دی گئی ہے پھر تو تعجب کیوں کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 124–127

ف 4۔ یعنی قیامت سے پہلے دنیا اور قبر میں۔ فائدہ : معیشة ضنک قبر میں تو ظاہر ہے کہ قبر کافر پر تنگ ہوگی اور طرح طرح سے اس پر عذاب ہوگا، اور دنیا میں تنگی باعتبار قلب کے ہے کہ ہر وقت دنیا کی حرص میں، ترقی کی فکر میں، کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے، گو کوئی کافر بےفکر بھی ہو لیکن اکثر کی حالت یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ تو نے ہماری نشانیوں سے اعراض کیا تھا اور رواج کا پابند رہا تھا : 126۔ اس اندھے پن کی سزا اٹھانے والے سے کہا جارہا ہے کہ دیکھ تیری یہ سزا وہی سزا ہے جو ایک آنکھیں رکھنے کے باوجود نہ دیکھنے کی مقرر کی گئی ہے اور بلاشبہ ہم نے تجھے آنکھیں عطا کی تھیں لیکن تو نے ان سے کام کب لیا بلکہ تو نے ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج کی پابندی کی اور اس کی تلقین کرتا رہا تو نے ان آنکھوں سے وہ کام ہی کب لیا جس کے لئے یہ تجھے دی گئی تھیں ؟ تو آنکھوں والا وہی تو ہے جس کو میں نے اپنی نشانیاں دیں مگر تو نے انہیں دیکھ کر منہ چڑھا دیا اور صاف صاف کہا کہ جو کچھ آج تک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 124–127

وَمَنْ أَعْرَ‌ضَ عَن ذِكْرِ‌ي (And whoever turns away from My message - 20:124.) Here the word can refer both to the Qur'an and the Holy Prophet ﷺ as has been mentioned in other verses ذِكْرً‌ا ﴿10﴾ رَّ‌سُولًا (65:10). In both cases the meaning would be that if anyone fails in his duty to recite the Qur’ an or to comply with its commands, or if he fails to submit to the authority of the Holy Prophet then as punishment he would be condemned to a harsh and rigorous life in this world and would be raised blind on the Day of Resurrection. The truth about the life of infidels and evil-doers being…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–126

107. The Quran has described the different conditions and experiences through which the criminals will pass from the Day of Resurrection to the time of their entry into Hell: You were neglectful of this, now We have removed the curtain from before you and your sight has become very sharp. (Surah Qaaf, Ayat 22). He is only deferring them to the Day when all eyes shall stare with consternation. They will be running in terror with heads uplifted and eyes fixed upwards and hearts void. (Surah Ibrahim, Ayats 42-43). We have fastened the augury of every man to his own neck and on the Day of…

Read the full tafseer →