Taa-Haa 20:125

Taa-Haa · from ayah 125

20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰی وَقَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا ۟قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِىۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا

وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He will say, "My Lord, why have you raised me blind while I was [once] seeing?"

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 7 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:125

وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حاﻻنکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ کہے گا کہ : یا رب ! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا، حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہے گا اے رب میرے! مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا (بینا) تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے (آج) اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں (دنیا میں) بینا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا حالانکہ میں (دنیا میں) آنکھوں والا تھا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ کہے گا اے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا، میں تو بینا تھا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ کہے گا میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ حالانکہ دنیا میں تو میں بینا تھا،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ کہے گا اے میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا درآنحالیکہ میں آنکھوں والا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ہے جبکہ میں (دنیا میں) تو بینائی والا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ کہے گا میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

where-upon he will say: "Lord! Why have You raised me blind when I had sight in the world?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He will say, :My Lord, why did you raise me blind while I was sighted?

— Muhammad Taqi Usmani

He will say, :My Lord, why did you raise me blind while I was sighted?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He will say: "O my Lord! Why have you raised me up blind, while I had sight (before)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He will say: My Lord! Wherefor hast Thou gathered me (hither) blind, when I was wont to see?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He will say, "My Lord, why have you raised me blind while I was [once] seeing?"

— Saheeh International

He will say, "My Lord, why have you brought me back to life blind; before I could see?"

— Muhammad Sarwar

He shall say: My Lord! why hast Thou raised me blind and I was a seeing one indeed?

— Muhammad Habib Shakir

He will say: O my Lord! why hast Thou gathered me sightless whereas surely I have been a seer.

— Abdul Majid Daryabadi

He will say: "O my Lord! why hast Thou raised me up blind, while I had sight (before)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:125

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–126

ایک دوسرے کے دشمن۔ حضرت آدم ؑ وحوا ؑ اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرمادیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ سورة بقرۃ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف میرے رسول کی راہ کے تارک۔ دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہوگی اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگی میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 125–126

سورة طٰهٰ 107 قیامت کے روز نئی زندگی کے آغاز سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک جو مختلف کیفیات مجرمین پر گزریں گی ان کو قرآن مجید میں مختلف مواقع پر جدا جدا بیان کیا گیا ہے۔ ایک کیفیت یہ ہے لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ، " تو اس چیز سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تیرے آگے سے پردہ ہٹا دیا ہے، آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ " یعنی تجھے خوب نظر آ رہا ہے۔ (ق۔ آیت 22)۔ دوسری کیفیت یہ ہے اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُؤسِھِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْہِمْ طَرْفُھُمْ وَاَفْئِدَتُھُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 124–127

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ ، یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک بھی جیسا کہ دوسری آیات میں ذکراً رسولاً آیا ہے دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن سے یا رسول سے اعراض کرے یعنی قرآن کی تلاوت اور اس کے احکام پر عمل سے یا رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اعراض کرے اس کا انجام یہ ہے کہ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى یعنی اس کی معیشت تنگ ہوگی اور قیامت میں اس کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ پہلا عذاب دنیا ہی میں اس کو مل جائے گا اور دوسرا یعنی اندھا ہونے کا عذاب قیامت میں ہوگا۔ کافر اور بدکار کی زندگی دنیا میں تلخ اور تنگ ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 125–126

آیت 126-125 نسی کے معنی یہاں نظر انداز کرنے کے ہیں۔ لفظ کے اس مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اندھے اٹھائے جائیں گے وہ فریاد کریں گے کہ اے رب ! ہم تو آنکھیں رکھنے والے لوگ تھے تو تو نے ہم کو اندھے بنا کر کیوں اٹھایا ! ارشاد ہوگا کہ ہم نے تمہایر پاس اپنی کتاب بھیجی جس کی آیات نے ایک ایک حقیقت تم پر واضح کی لیکن تم ان کو نظر انداز کر کے بالکل اندھے بہرے بنے رہے۔ مطلب یہ کہ اگر آنکھیں تھیں تو وہ آنکھیں ہماری اس ساری تذکیر و تنبیہ کے باوجود کیوں نہ کھلیں ؟ جب تم نے اس وقت اپنی آنکھیں نہیں کھولیں تو سزاوار ہو کہ تمہاری آنکھیں بند ہی رہیں۔ وکذلک الیوم تنسیٰ یعنی اب تمہارا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 125–129

129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا ! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 124–128

54: جب قبر سے اٹھا کر حشر کی طرف لائے جائیں گے، اس وقت تو یہ لوگ اندھے ہوں گے، لیکن بعد میں انہیں بینائی دے دی جائے گی، جیسا کہ سورة کہف : 53 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال رب لم حشر تنی اعمی وقد کنت بصیراً (02 : 521) ” پروردگار دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا ، یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا۔ “ تو جواب آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جو کافر دنیا میں ظاہری آنکھیں رکھتا تھا تعجب سے سوال کرے گا کہ آخر مجھ سے کیا قصور ہوا جو آنکھیں چھین لی گئیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 124–128

آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ” ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

91 یعنی اس کا اعتراض یہ تھا کہ دنیا میں تو میں بینا تھا اور ہر چیز کو دیکھ سکتا تھا۔ آج مجھے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا جارہا ہے۔ اس کو جواب یہ دیا جائے گا کہ تو دنیا میں میری آیات دیکھنے سے اندھا بنا رہا تھا۔ آنکھیں عطا کرنے کا مقصد صرف یہی نہیں تھا کہ تو اپنے مطلب کی چیزیں دیکھے۔ بلکہ اصل مطلب یہ تھا کہ تو اللہ کی آیات کو دیکھے۔ اس لحاظ سے تو دنیا میں اندھا ہی بنا رہا۔ تیرے اس فعل کا نتیجہ ہی مثل شکل میں تیرے سامنے آیا ہے۔ تو اب تعجب کیوں کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ابتدائے حشر کا ذکر ہے۔ بعد میں اس کی آنکھیں کھول دی جائیں گی تو وہ دوزخ اور اموال محشر کا ٹھیک ٹھیک معائنہ کرسکے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

153۔ (دنیا میں) ” یعنی میں تو میں بڑا زباں آور تھا یہاں بالکل گنگ ولال ہوگیا کوئی بات نہ سوجھتی ہے اور نہ بولا جاتا ہے “۔ (تھانوی (رح) اے لاحجۃ لی وقد کنت عالما بحجتی بصیرا بھا (بحر۔ عن مجاہد) اعمی عن حجتہ لا حجۃ لہ یھتدی بھا (بحر عن ابن عباس ؓ اقبل اعمی عن کل شیء الاجھنم (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–128

آیت نمبر 116 تا 128 ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب لم حشرتنی اعمی وقد کنت بصیرا۔ وہ (تعجب سے) کہے گا ‘ اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ‘ میں تو (دنیا میں) آنکھوں والا تھا اگر کور بصیرت مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں دنیا میں صاحب بصیرت تھا ‘ یعنی میرے پاس شرک کی دلیل تھی۔ حالانکہ شرک کی کوئی دلیل دنیا میں بھی اس کے پاس نہ تھی اللہ نے فرمایا ‘ (وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَلاَ بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖ ) دوسری آیت میں آیا ہے (مَنْ کَانَ فِیْ ہٰذِہٖ اَعْمٰی فَہُوْ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی) جس کے پاس شرک کی کوئی دلیل اس زندگی میں نہیں ہے نابینا ہے اس کے پاس آخرت میں بھی کوئی دلیل نہ ہوگی وہاں بھی نابینا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 124–125

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ : ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) [ الحجر : 9 ] ”بیشک ہم، ہم نے ہی یہ ذکر یعنی نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا : ”مَعِيْشَةً“ زندگی، وہ چیزیں جن پر زندگی گزرتی ہے، مثلاً کھانا پینا اور دوسری ضروریات۔ (قاموس) ”ضَنْكًا“ ”ضَنُکَ یَضْنُکُ ضَنْکًا وَضُنَاکًا وَ ضَنَاکَۃً“ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس لیے ”مَعِيْشَةً“ کی صفت ہونے کے باوجود لفظ میں تبدیلی نہیں ہوئی، یہ واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–127

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قال اھبطا منھا جمیعا ا حضرت آدم و ابلیس کو خطاب فرمایا۔ منھا جنت سے ابلیس کو فرمایا : اخرج منھا مذء وما مدحوراً (الاعراف :18) شاید اسے جنت سے آسمان کی کسی جگہ پر نکلنے کا حکم دیا پھر اسے زمین کی طرف اتارا بعضکم لبعض عدویہ سورة بقرہ میں 1 گزر چکا ہے۔ یعنی تو سانپ اور ابلیس کا دشمن ہوگا اور وہ تیرے دشمن ہوں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اھبطا آدم و حواء کو خطاب نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے۔ حضرت آدم کا اترنا حضرت حواء کے اترنے کے ضمن میں ہے۔ فامایاتینکم منی ھدی رشد اور سچی بات مراد ہے سورة بقرہ میں یہ بھی گزر چکا ہے۔ فمن اتبع ھدای یعنی جس نے رسل اور کتب کی پیروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–126

1:۔ طبرانی خطیب نے المتفق والمفترق میں اور ابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح پڑھا (آیت) ” فمن اتبع ھدای “ قرآن کریم کی پیروی گمراہی سے بچاتی ہے : 2:۔ ابن ابی شیبہ، طبرانی، ابونعیم نے حلیہ میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا اتباع کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں گمراہی سے ہدایت دیں گے اور قیامت کے دن اس کو برے حساب سے بچائیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی۔ “ 3:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، محمد بن نصر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : وہ کہے گا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [لِمَ : کیوں ] [حَشَرْتَنِيْٓ: تو نے اٹھایا مجھ کو ] [اَعْمٰي : اندھا ] [وَ : حالانکہ ][قَدْ كُنْتُ : میں (ہمیشہ) رہا ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 124–126

اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والوں کی سزا، عذاب کی وعید، ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈروں سے عبرت حاصل نہ کرنے پر تنبیہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں یہ فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تمہارے پاس میری ہدایت آئے گی جو شخص اس کا اتباع کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بد بخت ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دنیا میں آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کی نصیحت سے اعراض کیا۔ ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہے، ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ دونوں باتیں درست ہیں۔ کیونکہ ایک دوسرے کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 115–127

ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع جن کے رتبے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 125–126

85:۔ جس شخص نے اللہ کی ہدایت کو محض ضد وعناد کی وجہ سے رد کردیا قیامت کے دن اس کو قبر سے اندھا اٹھایا جائے گا تو وہ اللہ سے سوال کرے گا کہ بارے خدایا ! دنیا میں تو چنگا بھلا دیکھتا تھا اور تو نے میری آنکھوں کو نور دے رکھا تھا تو آج مجھے کیوں آنکھوں کی روشنی سے محروم کردیا گیا ہے۔ ” قَالَ کَذَاَلِکَ “ تو اس کو جواب ملے گا کہ جس طرح دنیا میں تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں۔ ہمارے پیغمبروں اور مبلغوں نے تجھے پڑھ کر سنائیں تو تو نے ان کو پس پشت ڈال دیا ان کی پرواہ نہ کی اور ان سے آنکھیں بالکل بند کرلیں اور ان سے اندھا ہوگیا۔ اسی طرح آج تجھے بھلا دیا گیا ہے اور تجھے کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور تیری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 124–128

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی حقیقت بیان کرنے کے بعد معاد کا مسلہ بیان فرمایا ، اور اس سلسلے میں آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ان کی انابت کا ذکر ہو۔ ابلیس کے انکار اور اس کی سرکشی کا بیان ہوا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ملنے والی سہولتیں شیطان کے وسوسہ اندازی کے نتیجے میں چھین لی گئیں اور دونوں میاں بیوی کو زمین پر اترنے کا حکم ہوا۔ اللہ نے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ تم میں سے بعض ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ نوع انسانی کے لئے ایک مقررہ وقت یعنی قیامت تک کے لئے زمین پر رہائش پذیر ہونا ہوگا۔ اس غلطی پر آدم (علیہ السلام) سخت نادم ہوئے۔ انہوں نے گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْٓ اَعْمٰي وَقَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۝ 125 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 113–125

تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 124–126

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَـہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی۔ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا۔ قَالَ کَذٰلِکَ اَ تَتْکَ اٰیٰـتُنَا فَنَسِیْتَھَا ج وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی۔ (طٰـہٰ : 124 تا 126) (اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا تو یقینا اس کی زندگی بہت تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن اسے ہم اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس میری نشانیاں آئی تھیں تو، تو نے ان کو نظرانداز کردیا تھا، اسی طرح آج تجھے بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 125–127

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ میرے ذکر کو نہ بھولنا جس نے اپنے رب کے ذکر اور نصیحت کو بھولا دیا اس کی سزا یہ ہوگی کہ اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ اپنے رب سے ان الفاظ میں فریاد کرے گا۔ جس شخص کو قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھایا جائے گا وہ اپنے رب کے حضور التجا کی صورت میں سوال کرے گا کہ میرے رب مجھے آج اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ دنیا میں میں سب کچھ دیکھا کرتا تھا۔ رب ذوالجلال کی طرف سے اسے جواب دیا جائے گا کہ یہ سزا تجھے اس لیے دی گئی ہے کیونکہ تو نے ہماری آیات کو بھلا دیا تھا۔ اس لیے آج تمہیں بھی بھلا دیا گیا ہے۔ یہ اس شخص…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دین سے اندھا پن آخرت کا اندھا پن : 125: قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا (کہے گا اے میرے رب آپ نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا) دنیا میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1265۔ قال رب لماحشرتنی، اعمی وقد کنت بصیرا۔ آنکھوں سے وہ اندھا ہے یا اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس وجہ سے اس کو اندھا کہا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 124–126

124۔ 126:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل فرمانے کا اور قرآن میں ہر طرح کی نصیحت کا تذکرہ ہونے کا ذکر فرمایا اس ذکر کے ذیل میں ایک ذکر یہ آگیا تھا کہ جب حضرت جبرئیل قرآن کی کوئی آیت لے کر آتے تو آنحضرت ﷺ اس خوف سے کہ آیت کا کوئی لفظ بھول نہ جائیں ساری آیت کو حضرت جبرئیل کے پورا کرنے سے پہلے ایک ایک دو دو لفظ جو حضرت جبرئیل کے منہ سے نکلتے جاتے ان کو یاد کرنے لگ جاتے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے بیچ میں اپنے رسول کو یہاں اور سورة القیامہ میں یہ ہدایت فرمایا کہ حضرت جبرئیل جو اللہ کا حکم لاتے ہیں جب وہ اس کو پورا سنا دیا کریں اس وقت تم آیت کو یاد کرنا شروع کیا کرو پھر شیطان کا حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 122–127

آیات (122) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو مکمل کیا انہیں اشیاء کے نام سکھائے انہیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا : (انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین) (الاعراف : 7؍21) ” مَیں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 124–125

130 ہدایت قرآن سے روگردانی کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہدایت قرآن سے روگردانی و محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی اور ہر خیر و برکت سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ ایسا شخص دل کے امن و سکون اور زندگی کی حقیقی لذت سے محروم ہوگا اگرچہ وہ خزانہ قارون ہی کا مالک کیوں نہ ہو۔ اور پھر قبر میں ۔ جیسا کہ صحیح روایات میں وارد ہے ۔ قبر اس پر تنگ کردی جائے گی۔ اور اس پر ستر ایسے اژد ہے مسلط کر دئے جائیں گے جن میں سے ہر ایک کے سات سات منہ ہوں گے۔ اور وہ یوم حشر تک اس کو ڈستے رہیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اس کے لئے آخرت کا دائمی عذاب ہوگا۔ (ابن کثیر، مراغی،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–129

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–128

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔ (دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے) تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 125–126

ف 8 یعنی عمل نہ کیا اور یقین نہ کیا۔ آنحضرت نے فرمایا میری امت کے سارے گناہ مجھ کو دکھائے گئے ان میں سب سے بڑا گناہ یہ دیکھا کہ قرآن کی آیت کسی شخص کو یاد ہوئی پھر اس نے بھلا دی۔ ( موضح) اشارہ ہے قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کی طرف جن سے مکہ والے ملک شام کو آتے جاتے گزرا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:125) لم حشرتنی۔ لم یہ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ سے۔ ما کے الف کو تخفیف کے لئے ساقط کردیا گیا ہے۔ کیوں ۔ کس لئے ۔ کس وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 115–128

لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128 تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔ تشریح : آیت نمبر 115 تا 128 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 125–127

رشاد ہوتا ہے کہ جو کیفیت ہم نے کفار کی بیان کی ہے، اسی طرح ہم اس کو سزا دیں گے جو نافرمانی کرے گا، اور ہمارے کلام پر ایمان نہ لائے گا، اور جو عذاب ہم نے بیان کیا ہے، وہ کسی خاص شخص کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر کافر کے واسطے ہے۔ پھر فرمایا کہ منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانا ، اور برے لوگوں کو ان کو دزخ کا ٹھکانا فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان ٹھکانون میں رہنے کے بعد تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ برے لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانے میں عذاب قبر سے زیادہ عذاب مرتے ہی دیکھ لیتے ہیں، اس لئے اس کے آگے عذاب قبر کو غنیمت جان کر یہ دعا کرتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو، اور ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 124–125

[59] جو آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو کر محض دنیا کی فانی زندگی ہی کو قبلہ مقصود سمجھ بیٹھتا ہے، اس کی زندگی تنگ کردی جاتی ہے۔ گو دیکھنے میں اس کے پاس بہت کچھ مال و دولت اور سامان عیش نظر آئیں مگر اس کا دل قناعت و توکل سے خالی ہونے کی بنا پر ہر وقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے۔ کسی وقت بھی ننانوے کے پھیر سے قدم باہر نہیں نکلتا۔ موت کا یقین اور زوال دولت کے خطرات الگ سوہان روح رہتے ہیں یہاں تک کہ رات کی نیند حرام ہوجاتی ہے۔ چناچہ امریکن قوم کی یہ حالت ہے کہ مال و دولت کی فراوانی کے باوجود ذہنی سکون سے محروم ہے اور کئی کروڑ ڈالر سالانہ صرف خواب آور گولیوں پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 122–128

ہمارا اصلی مقام جنت ہے : (ف 1) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ، اور تمام فرشتوں کو اس کے سامنے جھکایا ، تاکہ اس میں عزت نفس کے جذبات بیدار ہوں ، اور وہ صحیح معنوں میں اللہ کا نائب کہلا سکے ، پھر جنت میں جگہ دی تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کا اصلی مقام جنت ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور خدا کا قرب لکھا ہے ، مگر آدم شیطان کی ملبسانہ باتوں میں آگیا ، اور اس سے وہ لغزش ظہور میں آئی جو انجام کار جنت سے اخراج پر منتج ہوئی ، شیطان نے کہا (آدم (علیہ السلام) کی بشری نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) کہ جانتے ہو تمہیں شجر مخصوص سے کیوں روکا گیا ہے ؟ اس لئے کہ کہیں تم اس درخت کے پھل کو کھا کر خلود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 125 اے میرے پروردگار آپ نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔ یعنی میں تو خاصہ اچھا بچھا دیکھتا بھالتا تھا آج میدان حشر میں مجھے اندھا کیوں کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 124–127

ف 4۔ یعنی قیامت سے پہلے دنیا اور قبر میں۔ فائدہ : معیشة ضنک قبر میں تو ظاہر ہے کہ قبر کافر پر تنگ ہوگی اور طرح طرح سے اس پر عذاب ہوگا، اور دنیا میں تنگی باعتبار قلب کے ہے کہ ہر وقت دنیا کی حرص میں، ترقی کی فکر میں، کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے، گو کوئی کافر بےفکر بھی ہو لیکن اکثر کی حالت یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہے گا اے میرے رب ! مجھے اندھا کیوں اٹھایا گیا میں اچھا بھلا دیکھنے والا تھا : 125۔ بارگاہ رب ذوالجلال والاکرام میں وہ اندھا بنا کر اٹھایا جانے والا خود عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا ؟ میں تو اچھا بھلا دیکھنے والا اور آنکھیں رکھنے والا تھا ، گویا اس نے اب بھی اپنی حالت پر غور وفکر کرنے کی کوشش نہیں کی کہ میرا انجام ایسا کیوں ہوا لیکن ایک سوال اس جگہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جگہ تو اندھا کر کے اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور یہ وہی ہے جو نافرمان تھا اور آنکھیں رکھنے کے باوجود حق کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن دوسری جگہ قرآن کریم نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 124–127

وَمَنْ أَعْرَ‌ضَ عَن ذِكْرِ‌ي (And whoever turns away from My message - 20:124.) Here the word can refer both to the Qur'an and the Holy Prophet ﷺ as has been mentioned in other verses ذِكْرً‌ا ﴿10﴾ رَّ‌سُولًا (65:10). In both cases the meaning would be that if anyone fails in his duty to recite the Qur’ an or to comply with its commands, or if he fails to submit to the authority of the Holy Prophet then as punishment he would be condemned to a harsh and rigorous life in this world and would be raised blind on the Day of Resurrection. The truth about the life of infidels and evil-doers being…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–126

107. The Quran has described the different conditions and experiences through which the criminals will pass from the Day of Resurrection to the time of their entry into Hell: You were neglectful of this, now We have removed the curtain from before you and your sight has become very sharp. (Surah Qaaf, Ayat 22). He is only deferring them to the Day when all eyes shall stare with consternation. They will be running in terror with heads uplifted and eyes fixed upwards and hearts void. (Surah Ibrahim, Ayats 42-43). We have fastened the augury of every man to his own neck and on the Day of…

Read the full tafseer →