Explained with ayahs 123–126
ایک دوسرے کے دشمن۔
حضرت آدم ؑ وحوا ؑ اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرمادیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ سورة بقرۃ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف میرے رسول کی راہ کے تارک۔ دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہوگی اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگی میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
سورة طٰهٰ 105
دنیا میں تنگ زندگی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے تنگ دستی لاحق ہوگی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اسے چین نصیب نہ ہوگا۔ کروڑ پتی بھی ہوگا تو بےچین رہے گا۔ ہفت اقلیم کا فرمانروا بھی ہوگا تو بےکلی اور بےاطمینانی سے نجات نہ پائے گا۔ اس کی دنیوی کامیابیاں ہزاروں قسم کی تدبیروں کا نتیجہ ہوں گی جن کی وجہ سے اپنے ضمیر سے لے کر گرد و پیش کے پورے اجتماعی ماحول تک ہر چیز کے ساتھ اس کی پیہم کشمکش جاری رہے گی جو اسے کبھی امن و اطمینان اور سچی مسرت سے بہرہ مند نہ ہونے دے گی۔
سورة طٰهٰ 106
اس جگہ آدم ؑ کا قصہ ختم ہوجاتا ہے۔ یہ قصہ جس طریقے سے یہاں، اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ ، یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک بھی جیسا کہ دوسری آیات میں ذکراً رسولاً آیا ہے دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن سے یا رسول سے اعراض کرے یعنی قرآن کی تلاوت اور اس کے احکام پر عمل سے یا رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اعراض کرے اس کا انجام یہ ہے کہ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى یعنی اس کی معیشت تنگ ہوگی اور قیامت میں اس کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ پہلا عذاب دنیا ہی میں اس کو مل جائے گا اور دوسرا یعنی اندھا ہونے کا عذاب قیامت میں ہوگا۔
کافر اور بدکار کی زندگی دنیا میں تلخ اور تنگ ہونے کی…
Read the full tafseer →آیت 124
ایمان کے بغیر طمانیت نہیں حاصل ہوتی
معیشۃ ضنک کے معنی تنگ زندگی کے ہیں جو سکون و طمانیت اور فراغ فاطر و شرح صدر کی نعمت سے محروم ہو فرمایا کہ جو ہماری اس یاد دہانی سے اعراض کرے گا وہ دنیا کون قلب و شرح صدر سے محروم زندگی گزارے گا اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے۔
طمانیت قلب ذکر الٰہی ہے
سکون قلب و شرح صدر سے اس کی زندگی کے محروم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک خلا ہے جو اللہ کے ایمان کے سوا کسی چیز سے نہیں بھر سکتا اس وجہ سے جب تک اس کو ایمان حاصل نہ ہو کوئی دوسری چیز اس کو تسلی و طمانیت سے بہرہ مند نہیں کرسکتی دوسری چیزیں خواہ وہ بظاہر کتنی ہی شادنار اور دلفریب کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
124۔ 1 اس تنگی سے بعض نے عذاب قبر اور بعض نے وہ، قلق واضطراب، بےچینی اور بےکلی مراد لی ہے جس میں اللہ کی یاد سے غافل بڑے بڑے دولت مند مبتلا رہتے ہیں۔
124۔ 2 اس سے مراد فی الواقع آنکھوں سے اندھا ہونا ہے یا پھر بصیرت سے محرومی مراد ہے یعنی وہاں اس کو کوئی ایسی دلیل نہیں سوجھے گی جسے پیش کر کے وہ عذاب سے چھوٹ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
54: جب قبر سے اٹھا کر حشر کی طرف لائے جائیں گے، اس وقت تو یہ لوگ اندھے ہوں گے، لیکن بعد میں انہیں بینائی دے دی جائے گی، جیسا کہ سورة کہف : 53 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا (02 : 321) ” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، اس کے لیء دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ “ وہ زندگی جس میں اللہ سے رابطہ نہ ہو اور جس پر اللہ کی رحمت نہ ہو ، وہ تنگ ہوگی ، اگرچہ بظاہر وہ بہت ہی وسیع ہو۔ یہ تنگ اس لئے ہوگی کہ اس کا رابطہ اللہ کی طرف سے کٹا ہوگا اور اللہ کی رحمت کے میدان کی طرف وہ راہ نہ پائے گی۔ اس میں حیرانی پریشانی اور بےیقینی کی تنگی ہوگی۔ اس میں حرص اور خوف کی تنگی ہوگی۔ ڈر اس بات پر کہ جو ہے وہ چلا نہ جائے۔ غرض اس بات پر کہ ھل من مزید یوں تنگی ہوگی کہ جہاں سے نفع کی معملوی امید ہو انسان اس کے پیچھے بھاگتا رہے گا اور اگر ایک کوڑی بھی کہیں نقصان…
Read the full tafseer →6 جو آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو کر محض دنیا کی فانی زندگی ہی کو قبلہ مقصود سمجھ بیٹھا ہے، اس کی گزران مکدّر اور تنگ کردی جاتی ہے گو دیکھنے میں اس کے پاس بہت کچھ مال و دولت اور سامان عیش و عشرت نظر آئیں۔ مگر اس کا دل قناعت و توکل سے خالی ہونے کی بناء پر ہر وقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے۔ کسی وقت ننانوے کے پھیر سے قدم باہر نہیں نکلتا۔ موت کا یقین اور زوال دولت کے خطرات الگ سوہان روح رہتے ہیں۔ یورپ کے اکثر متنعّمین کو دیکھ لیجئے کسی کو رات دن میں دو گھنٹے اور کسی خوش قسمت کو تین چار گھنٹے سونا نصیب ہوتا ہوگا۔ بڑے بڑے کروڑ پتی دنیا کے مخمصوں سے تنگ آکر موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
آیت 124 وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا ”
ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔
Read the full tafseer →90 معیشۃ ضنکا کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر ہمیشہ تنگ دستی غالب رہے گی۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ انھیں قناعت اور قلبی سکون کبھی میسر نہ آئے گا۔ اور اگر مالدار ہوں گے تو ہمیشہ ننانوے کے چکر میں پڑے رہیں گے۔ نہ رات کو سکون نصیب ہوگا اور نہ دن کو اور اگر تنگ دست ہیں تو اپنی تکلیفوں اور مصیبتوں پر واویلا کرتے رہیں گے اور جزع فزع میں ہی ان کی زندگی میں ہی ان کی زندگی بسر ہوجائے گی اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ کافر کے پاس خواہ کتنا ہی مال و دولت ہو خیر اس میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ یہی مال و دولت چند روزہ عیش کے بعد اس کے لئے وبال جان بن جائے گا اور بعض مفسرین نے اس سے قبر کی برزخی زندگی مراد لی ہے۔ یعنی قیامت…
Read the full tafseer →151۔ (اسی دنیا میں) قال بہ جمع من المفسرین (کبیر) آخرت کی طرف سے بیخبر اور بےفکر اور عالم حکومت الہیہ سے منکر قناعت و توکل کے مفہوم سے ناآشنا رہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان ساری عمر مال کی طلب میں، جاہ کی حرص میں، ” ترقی “ کی فکروہوس میں، نقصان اور کمی کے غم واندیشہ میں گھل گھل کرگزارے، اور اس لیے آیت میں تنگی کا تعلق قلب سے ہے، بڑے بڑے دولتمندوں، خوشحالوں کی خود کشی کرلینے کی خبریں جو آئے دن اخباروں میں چھپتی رہتی ہیں، سب اسی تنگی قلب کے شواہد ہیں۔ ذکر سے مراد قرآن ہی لیا گیا ہے (معالم) لیکن بہتر یہی ہے کہ اس کو عام ووسیع معنی میں رکھا جائے اور مادی کسب وہدایات آسمان اس کے مفہوم میں شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…
Read the full tafseer →ومن اعرض عن ذکری فانہ لہ معیشۃ ضنکا اور جو شخص میری نصیحت سے اعراض کرے گا تو اس
کے لئے تنگی کا جینا ہوگا۔ عَنْ ذَکْرِیْیعنی اس ہدایت سے جو میری یاد دلاتی ہے یا اس بلانے والے سے جو میری یاد کی طرف بلاتا ہے اعراض کرے گا۔ ضَنْکًابہت تنگ۔ بطور مبالغہ معیشۃ کی صفت قرار دیا ہے ورنہ ضنکاً مصدر ہے (زندگی تنگی والی یعنی تنگ ہوتی ہے خود تنگی نہیں ہوتی) چونکہ یہ لفظ مصدر ہے اس لئے مؤنث کی بھی صفت بن سکتا ہے۔
بغوی نے حضرت ابن مسعود ؓ ‘ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ معیشۃً ضنکاً سے مراد ہے عذاب قبر۔ بزار نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →(124) اور جو شخص میری توحید سے یا میری کتاب اور میرے رسول سے منہ پھیرے گا تو اس کو قبر میں یا دوزخ میں سخت ترین عذاب ہوگا اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ : ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) [ الحجر : 9 ] ”بیشک ہم، ہم نے ہی یہ ذکر یعنی نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“
فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا : ”مَعِيْشَةً“ زندگی، وہ چیزیں جن پر زندگی گزرتی ہے، مثلاً کھانا پینا اور دوسری ضروریات۔ (قاموس) ”ضَنْكًا“ ”ضَنُکَ یَضْنُکُ ضَنْکًا وَضُنَاکًا وَ ضَنَاکَۃً“ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس لیے ”مَعِيْشَةً“ کی صفت ہونے کے باوجود لفظ میں تبدیلی نہیں ہوئی، یہ واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قال اھبطا منھا جمیعا ا حضرت آدم و ابلیس کو خطاب فرمایا۔ منھا جنت سے ابلیس کو فرمایا : اخرج منھا مذء وما مدحوراً (الاعراف :18) شاید اسے جنت سے آسمان کی کسی جگہ پر نکلنے کا حکم دیا پھر اسے زمین کی طرف اتارا بعضکم لبعض عدویہ سورة بقرہ میں 1 گزر چکا ہے۔ یعنی تو سانپ اور ابلیس کا دشمن ہوگا اور وہ تیرے دشمن ہوں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اھبطا آدم و حواء کو خطاب نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے۔ حضرت آدم کا اترنا حضرت حواء کے اترنے کے ضمن میں ہے۔ فامایاتینکم منی ھدی رشد اور سچی بات مراد ہے سورة بقرہ میں یہ بھی گزر چکا ہے۔ فمن اتبع ھدای یعنی جس نے رسل اور کتب کی پیروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
1:۔ طبرانی خطیب نے المتفق والمفترق میں اور ابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح پڑھا (آیت) ” فمن اتبع ھدای “
قرآن کریم کی پیروی گمراہی سے بچاتی ہے :
2:۔ ابن ابی شیبہ، طبرانی، ابونعیم نے حلیہ میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا اتباع کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں گمراہی سے ہدایت دیں گے اور قیامت کے دن اس کو برے حساب سے بچائیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی۔ “
3:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، محمد بن نصر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے…
Read the full tafseer →[وَمَنْ : اور جس نے ] [اَعْرَضَ : اعراض کیا ] [عَنْ ذِكْرِيْ : میری یاد سے ] [فَان : تو بیشک ] [ لَهٗ : اس کے لئے ہے ] [مَعِيْشَةً ضَنْكًا : ایک کمزور معیشت ] [وَّنَحْشُرُهٗ : اور ہم اٹھائیں گے اس کو ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [اَعْمٰى: اندھا ]
[ض ن ک ](ک) ضَنَاکَۃً (ا) کمزور رائے یا کمزور عقل والا ہونا۔ (2) تنگ ہونا۔
[ ضََنْکٌ کمزور۔ تنگ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 124 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–126
اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والوں کی سزا، عذاب کی وعید، ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈروں سے عبرت حاصل نہ کرنے پر تنبیہ
حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں یہ فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تمہارے پاس میری ہدایت آئے گی جو شخص اس کا اتباع کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بد بخت ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دنیا میں آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کی نصیحت سے اعراض کیا۔ ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہے، ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ دونوں باتیں درست ہیں۔ کیونکہ ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →84:۔ یہ اللہ کی ہدایت سے اعراض کرنیوالوں کے لیے تخویف اخروی ہے اور یہ استیناف ہے حضرت آدم (علیہ السلام) سے متعلق نہیں۔ ” مَعِیْشَةً ضَنْکًا “ تنگ روزی اس سے یا تو آخر کی زندگی میں رزق کی تنگی مرد ہے یا دنیا کی زندگی میں۔ دنیا میں وہ اگرچہ مالدار ہوں گے۔ لیکن ان کے دلوں سے وصف قناعت چھین لیا جائے گا اور ان کو حرص و لالچ کے مرض میں مبتلا کردیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے وہ غناء قلبی سے محروم رہیں گے اور دنیائے دنی کی دولت کے پیچھے مفلس و قلاش لوگوں کی طرح بھاگتے پھریں گے۔ عن ابن جبیر یسلبہ القناعۃ حتی لایشبع فمع الدین التسلیم والقناعۃ والتوکل فتکون حیاتہ طیبۃ و مع الاعراض الحرص والشح فعیشه ضنک وحالہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی حقیقت بیان کرنے کے بعد معاد کا مسلہ بیان فرمایا ، اور اس سلسلے میں آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ان کی انابت کا ذکر ہو۔ ابلیس کے انکار اور اس کی سرکشی کا بیان ہوا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ملنے والی سہولتیں شیطان کے وسوسہ اندازی کے نتیجے میں چھین لی گئیں اور دونوں میاں بیوی کو زمین پر اترنے کا حکم ہوا۔ اللہ نے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ تم میں سے بعض ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ نوع انسانی کے لئے ایک مقررہ وقت یعنی قیامت تک کے لئے زمین پر رہائش پذیر ہونا ہوگا۔
اس غلطی پر آدم (علیہ السلام) سخت نادم ہوئے۔ انہوں نے گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى 124
اعرض
وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ
( ع ر ض ) العرض
اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–126
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَـہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی۔ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا۔ قَالَ کَذٰلِکَ اَ تَتْکَ اٰیٰـتُنَا فَنَسِیْتَھَا ج وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی۔ (طٰـہٰ : 124 تا 126)
(اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا تو یقینا اس کی زندگی بہت تنگی میں گزرے گی اور قیامت کے دن اسے ہم اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس میری نشانیاں آئی تھیں تو، تو نے ان کو نظرانداز کردیا تھا، اسی طرح آج تجھے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ اعراض سے مراد کفر و شرک اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں کشادہ دست ہونے کے باوجود پریشان رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے رزق سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ دنیا کے حصول کے لیے ہلکان رہتے ہیں۔ انھیں دل کی تونگری حاصل نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کے مال کی ہوس دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ قبر کنارے پہنچ جاتے ہیں۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَیْسَ الْغِنَی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ ، وَلَکِنَّ الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ ) [ رواہ البخاری : باب الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ…
Read the full tafseer →تنگی کا جینا :
124: وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ (اور جس نے میری نصیحت سے اعراض کیا) ذکر سے یہاں قرآن مراد ہے۔ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا (اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا) ضنکًاکا معنی تنگی ہے۔ یہ مصدر ہے۔ اس کو جب وصف کے طور پر استعمال کریں تو اس میں تذکیر و تانیث برابر ہے۔
ابن جبیر (رح) کا قول :
معیشت میں تنگی سے مراد قناعت کا چھین لینا ہے یہاں تک کہ وہ سیر ہی نہیں ہوتا۔ دین میں تو تسلیم قناعت اور توکل ہے پس دین والے کی زندگی پاکیزگی ہوگی اور دین سے اعراض کی صورت میں حرص، بخل کی وجہ سے اس کی زندگی تنگ ہوگی اور اس کی حالت اندھیر ہوگی۔ جیسا کہ بعض متصوفہ نے کہا کہ جس نے اپنے رب کی یاد سے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
124۔ ومن اعرض عن ذکری، ذکر سے مراد قرآن ہے جو اس پر ایمان نہیں لایا، اور نہ ہی اس کی پیروی کی ، فانہ لہ معیشۃ ضنکا، ضنکا کا معنی ہے تنگ کردینا۔
اللہ کے ذکر سے اعراض رزق کی تنگی کا باعث ہے۔
حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوسعید کا قول نقل کیا ہے ، معیشۃ ضنکا، سے مراد عذاب قبر ہے حضرت ابوسعید نے فرمایا کہ زمین اس کو دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر نکل جائیں گی بعض مسند احادیث سے مرفوعا منقول ہے کہ اس پر قبر اس طرح سمٹے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر نکل جائیں گی اور قبر سے اٹھائے جانے کے وقت تک برابر یہ عذاب ہوتا رہے گا، حسن کا قول ہے کہ معیشۃ ضنکا سے مراد ہے زقوم اور ضریع۔ اور غسلین مراد ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–126
124۔ 126:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل فرمانے کا اور قرآن میں ہر طرح کی نصیحت کا تذکرہ ہونے کا ذکر فرمایا اس ذکر کے ذیل میں ایک ذکر یہ آگیا تھا کہ جب حضرت جبرئیل قرآن کی کوئی آیت لے کر آتے تو آنحضرت ﷺ اس خوف سے کہ آیت کا کوئی لفظ بھول نہ جائیں ساری آیت کو حضرت جبرئیل کے پورا کرنے سے پہلے ایک ایک دو دو لفظ جو حضرت جبرئیل کے منہ سے نکلتے جاتے ان کو یاد کرنے لگ جاتے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے بیچ میں اپنے رسول کو یہاں اور سورة القیامہ میں یہ ہدایت فرمایا کہ حضرت جبرئیل جو اللہ کا حکم لاتے ہیں جب وہ اس کو پورا سنا دیا کریں اس وقت تم آیت کو یاد کرنا شروع کیا کرو پھر شیطان کا حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–127
آیات (122)
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو مکمل کیا انہیں اشیاء کے نام سکھائے انہیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا : (انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین) (الاعراف : 7؍21) ” مَیں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
130 ہدایت قرآن سے روگردانی کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہدایت قرآن سے روگردانی و محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی اور ہر خیر و برکت سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ ایسا شخص دل کے امن و سکون اور زندگی کی حقیقی لذت سے محروم ہوگا اگرچہ وہ خزانہ قارون ہی کا مالک کیوں نہ ہو۔ اور پھر قبر میں ۔ جیسا کہ صحیح روایات میں وارد ہے ۔ قبر اس پر تنگ کردی جائے گی۔ اور اس پر ستر ایسے اژد ہے مسلط کر دئے جائیں گے جن میں سے ہر ایک کے سات سات منہ ہوں گے۔ اور وہ یوم حشر تک اس کو ڈستے رہیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اس کے لئے آخرت کا دائمی عذاب ہوگا۔ (ابن کثیر، مراغی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔
(دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے)
تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی اسے دنیا میں سکھ اور چین نصیب نہ ہوگا چاہے بظاہر کروڑ پتی بلکہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو۔
Read the full tafseer →(20:124) اعرض۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ اعراض (افعال) مصدر۔ ذکری۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرا ذکر۔ میری یاد۔ میری نصیحت۔ میرے احکام کی بجا آوری ۔ میری کتاب یعنی قرآن بمعہ اس کے اوامرونواہی کے۔
معیشۃ ضنکا۔ موصوف وصفت معیشۃ اسم مصدر منصوب۔ سامان زندگی۔ ضنکا۔ تنگ ہونا۔ الضنک کے معنی ہیں کسی مقام یا معیشت کی تنگی۔ ضنک یضنک (کرم) کا مصدر ہے۔ چونکہ یہ مصدر ہے اس لئے جب بطور صفت استعمال ہوتا ہے تو مذکر، مؤنث، مفرد تثنیہ وجمع سب کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے چناچہ یہاں یہ باعتبار اصل مؤنث ہی کی صفت واقع ہے۔ معیشۃ ضنکا۔ تنگ زندگی۔ لیکن یہاں تنگی محض مادی مال و دولت کا نہ ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →عذاب قبر وقیامت کا ذکر
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے آسمانی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کو نہ مانا، وہ مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگا۔ اور فرمایا ایسا شخص قیامت کے دن اندھا اٹھے گا۔ اور جب وہ عرض کے گا :" یا اللہ ! میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا " تو جواب ملے گا کہ تو نے ظاہری آنکھوں سے اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھا، اور دل کی آنکھوں سے آسمانی کتاب کی نصیحت کو نہیں مانا۔ قیامت کے دن بعضے گناہ گار گناہوں کے انکار کو اپنے بچاؤ کا سبب خیال کریں گے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پیروں سے گناہوں کی گواہی دلوا کر ان کو دوزخ کے قابل ٹھہرائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
[59] جو آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو کر محض دنیا کی فانی زندگی ہی کو قبلہ مقصود سمجھ بیٹھتا ہے، اس کی زندگی تنگ کردی جاتی ہے۔ گو دیکھنے میں اس کے پاس بہت کچھ مال و دولت اور سامان عیش نظر آئیں مگر اس کا دل قناعت و توکل سے خالی ہونے کی بنا پر ہر وقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے۔ کسی وقت بھی ننانوے کے پھیر سے قدم باہر نہیں نکلتا۔ موت کا یقین اور زوال دولت کے خطرات الگ سوہان روح رہتے ہیں یہاں تک کہ رات کی نیند حرام ہوجاتی ہے۔ چناچہ امریکن قوم کی یہ حالت ہے کہ مال و دولت کی فراوانی کے باوجود ذہنی سکون سے محروم ہے اور کئی کروڑ ڈالر سالانہ صرف خواب آور گولیوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–128
ہمارا اصلی مقام جنت ہے :
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ، اور تمام فرشتوں کو اس کے سامنے جھکایا ، تاکہ اس میں عزت نفس کے جذبات بیدار ہوں ، اور وہ صحیح معنوں میں اللہ کا نائب کہلا سکے ، پھر جنت میں جگہ دی تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کا اصلی مقام جنت ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور خدا کا قرب لکھا ہے ، مگر آدم شیطان کی ملبسانہ باتوں میں آگیا ، اور اس سے وہ لغزش ظہور میں آئی جو انجام کار جنت سے اخراج پر منتج ہوئی ، شیطان نے کہا (آدم (علیہ السلام) کی بشری نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) کہ جانتے ہو تمہیں شجر مخصوص سے کیوں روکا گیا ہے ؟ اس لئے کہ کہیں تم اس درخت کے پھل کو کھا کر خلود…
Read the full tafseer →- 124 اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعراض اور روگردانی کرے گا تو اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا اور ہم اس کو قیامت کے دن اندھا اور نابینا کر کے اٹھائیں گے۔ یعنی جو اس بھیجی ہوئی نصیحت سے روگردانی کا مرتکب ہوگا تو ہم قیامت سے پہلے اس پر دنیا اور قبر کی زندگی تنگ کردیں گے اور قبر سے اندھا اٹھائیں گے یعنی نہ دنیا میں چین نصیب ہوگا اور نہ قبر میں چین اور اطمینان تو موقوف ہے۔ ذکر الٰہی پر وہ نصیب نہیں تو ایسوں کو اطمینان کہاں اور جب محشر میں اندھا بن کر آئے گا تو گھبرا کر کہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
ف 4۔ یعنی قیامت سے پہلے دنیا اور قبر میں۔ فائدہ : معیشة ضنک قبر میں تو ظاہر ہے کہ قبر کافر پر تنگ ہوگی اور طرح طرح سے اس پر عذاب ہوگا، اور دنیا میں تنگی باعتبار قلب کے ہے کہ ہر وقت دنیا کی حرص میں، ترقی کی فکر میں، کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے، گو کوئی کافر بےفکر بھی ہو لیکن اکثر کی حالت یہی ہے۔
Read the full tafseer →جس نے قرآن سے رخ پھیرا اسکی معیشت تنگ ہونے اور قیامت میں اندھا ہونے کی پیشگوئی :
124۔ زیر نظر آیت نے جو وضاحت پیش کی ہے اس کو ذرا غوروفکر سے سمجھنا چاہئے گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا تھا کہ جو شخص ہدایت وحی پر چلے گا تو کامیابی کی راہ سے بےراہ ہوگا ‘ نہ دکھی ۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ ہدایت اس لئے ہے کہ انسان کو بےراہی اور اس کے لازمی نتیجہ سے محفوظ کر دے اور ، ذرا غور کرو کہ انسان کی ساری محرومیوں کی تصویر کس طرح صرف دو لفظوں میں کھینچ کر رکھ دی ہے ؟ ضلالت اور شقاوت کی انسان کو جتنی ٹھوکریں بھی لگتی ہیں ‘ بےراہ ہوجانے سے لگتی ہیں ‘ ہر گوشہ میں کامیابی وسعادت کی ایک مقررہ راہ ہے جونہی اس سے قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي (And whoever turns away from My message - 20:124.) Here the word can refer both to the Qur'an and the Holy Prophet ﷺ as has been mentioned in other verses ذِكْرًا ﴿10﴾ رَّسُولًا (65:10). In both cases the meaning would be that if anyone fails in his duty to recite the Qur’ an or to comply with its commands, or if he fails to submit to the authority of the Holy Prophet then as punishment he would be condemned to a harsh and rigorous life in this world and would be raised blind on the Day of Resurrection.
The truth about the life of infidels and evil-doers being…
Read the full tafseer →105.“A life of hardship”does not mean a life of poverty. It means that such a one shall be deprived of the peace of mind, even though he may be a millionaire or the ruler of a vast empire. For, the one who will turn away from the admonition will win all the worldly successes by unlawful means and, therefore, will always be suffering from pangs of a guilty conscience and deprived of the peace of mind and real happiness.
106. Here the story of Prophet Adam (peace be upon him) ends. In the light of this part of the story which has been related here and at other places in the Quran, I have come…
Read the full tafseer →