Explained with ayahs 123–126
ایک دوسرے کے دشمن۔
حضرت آدم ؑ وحوا ؑ اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرمادیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ سورة بقرۃ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف میرے رسول کی راہ کے تارک۔ دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہوگی اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگی میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
سورة طٰهٰ 105
دنیا میں تنگ زندگی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے تنگ دستی لاحق ہوگی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اسے چین نصیب نہ ہوگا۔ کروڑ پتی بھی ہوگا تو بےچین رہے گا۔ ہفت اقلیم کا فرمانروا بھی ہوگا تو بےکلی اور بےاطمینانی سے نجات نہ پائے گا۔ اس کی دنیوی کامیابیاں ہزاروں قسم کی تدبیروں کا نتیجہ ہوں گی جن کی وجہ سے اپنے ضمیر سے لے کر گرد و پیش کے پورے اجتماعی ماحول تک ہر چیز کے ساتھ اس کی پیہم کشمکش جاری رہے گی جو اسے کبھی امن و اطمینان اور سچی مسرت سے بہرہ مند نہ ہونے دے گی۔
سورة طٰهٰ 106
اس جگہ آدم ؑ کا قصہ ختم ہوجاتا ہے۔ یہ قصہ جس طریقے سے یہاں، اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوا ہے…
Read the full tafseer →اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا یعنی اتر جاؤ جنت سے (دونوں) یہ خطاب حضرت آدم و ابلیس دونوں کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ کا مضمون واضح ہے کہ دنیا میں جا کر بھی شیطان کی دشمنی جاری رہے گی اور اگر یہ کہا جائے کہ شیطان کو تو اس واقعہ سے پہلے ہی جنت سے نکالا جا چکا تھا اب اس کو اس خطاب میں شریک قرار دینا بعید ہے تو دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ خطاب آدم و حواء (علیہما السلام) دونوں کو ہو۔ اس صورت میں باہمی عداوت سے مراد ان کی اولاد میں باہمی عداوت ہونے کو بیان کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ اولاد میں باہمی عداوت ماں باپ کی زندگی بھی تلخ کردیتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 123
بقرہ آیت 36 اور اعراف آیت 24 کے تحت اس آیت کے تمام متعلقات پر گفتگو ہوچکی ہے۔ ہم نے ان آیات کے تحت وہ حکمت بھی واضح کی ہے جو مقتضی ہوئی کہ حضرت آدم اور ان کی ذریت اس دنیا میں آ کر شیطان کا مقابلہ کریں اور یہ بات بھی واضح کی ہے کہ ان آیات میں خطاب حضرت آدم و حوا سے نہیں بلکہ آدم اور ابلیس سے بحیثیت دو فریقوں کے ہے۔
بعضکم لبعض عدد یعنی شیطان تمہارا دشمن ہوگا اور تم اگر تمہیں اپنی عاقبت عزیز ہے اور پھر جنت حاصل کرنے کے آرزو مند ہو، شیطان کے دشمن ہو گے اس لئے کہ ہر عاقل اپنے دشمن کو دشمن سمجھتا اور اس سے چوکنا رہتا ہے صرف احمق اور ناعاقبت اندیش ہی ہوتا ہے جو اپنے دشمن سے دوستی گانٹھتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
124۔ 1 اس تنگی سے بعض نے عذاب قبر اور بعض نے وہ، قلق واضطراب، بےچینی اور بےکلی مراد لی ہے جس میں اللہ کی یاد سے غافل بڑے بڑے دولت مند مبتلا رہتے ہیں۔
124۔ 2 اس سے مراد فی الواقع آنکھوں سے اندھا ہونا ہے یا پھر بصیرت سے محرومی مراد ہے یعنی وہاں اس کو کوئی ایسی دلیل نہیں سوجھے گی جسے پیش کر کے وہ عذاب سے چھوٹ سکے۔
Read the full tafseer →53: یعنی انسان اور شیطان ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے
Read the full tafseer →یوں مخلوق خداوندی کے ان دو گروہوں کے درمیان عداوت ہوگئی اس لئے اب اولاد آدم یہ عذر پیش نہیں کرسکتی کہ مجھے تو خبر نہ تھی کہ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ میں تو بیخبر ی میں مارا گیا ۔ اسی لئے انسان کو ، قبل از وقت پوری طرح خبردار کردیا گیا اور پوری کائنات میں اعلان کردیا یا کہ :۔
بعضکم لبعض عدو (02 : 321) ” تم دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ “ یہ اعلان جس سے پوری کائنات گونج اٹھی جس پر تمام فرشتے گواہ ٹھہرے ، اللہ کی رحمت کا تقاضا پھر وہا کہ انسان کی ہدایت اور اسے یاد دہانی کرانے کے لئے وقتاً فوقتاً رسول بھیجے جائیں۔ چناچہ دشمن کا اعلان ہوا اور پھر فرمایا کہ رسول بھی آئیں گے اور اس کے بعد تمہیں آزادی…
Read the full tafseer →3 اگر یہ خطاب صرف آدم و حوا کو ہے تو یہ مراد ہوگی کہ ان کی اولاد آپس میں ایک دوسرے کی دشمن رہے گی۔ جیسا رفاقت کر کے گناہ کیا تھا۔ اس رفاقت کا بدلہ یہ ملا کہ اولاد آپس میں دشمن ہوئی اور اگر خطاب آدم و ابلیس کو ہے تو یہ مطلب ہوگا کہ دونوں کی ذریت میں یہ دشمنی برابر قائم رہے گی۔ شیاطین ہمیشہ بنی آدم کو ضرر پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
4 یعنی نبیوں اور کتابوں کے ذریعہ سے۔
5 یعنی نہ جنت کے راستہ سے بہکے گا نہ اس سے محروم ہو کر تکلیف اٹھائے گا۔ جس وطن اصلی سے نکل کر آیا تھا، بےکھٹکے پھر وہیں جا پہنچے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
آیت 121 فَاَکَلَا مِنْہَا فَبَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا ”
چنانچہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہ السلام دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس پھل کے چکھتے ہی وہ دونوں بےلباس ہوگئے اور ان کی شرم گاہیں نظر آنے لگیں اس مضمون کی تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →88 اس مقام پر تثنیہ استعمال ہوا ہے۔ جس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک مطلب ترجمہ میں واضح ہے کہ ایک فریق آدم و حوا تھے اور دوسرا فریق شیطان اور خطاب کے لحاظ سے ان فریقوں میں ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق آدم، دوسرا حوا ہو، جمیعا ً کا معنی سب کے بجائے مل کر، اکٹھے یا ایک ساتھ کیا جائے، اور خطاب آدم و حوا کی اولاد سے ہو۔ دوران کی اولاد میں دشمنی اسی طرح ہوگی۔ کہ ان کی اولاد میں سے ایک فریق اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے گا اور دوسرا شیطان کا تابع فرمان۔ ان دونوں فریقوں میں حق و باطل کی جنگ جاری اور دشمنی قائم رہے گی۔
ـ89 یشقیٰ کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ وہ جنت کی راہ سے…
Read the full tafseer →147۔ (اور زمین پر جاؤ) حضرت آدم (علیہ السلام) کی لغزش تو معاف ہی ہوچکی تھی، تاہم طبعی اثرات اس ممنوع غذا کے استعمال سے مرتب ہورہے تھے وہ جنتی ماحول کے بالکل منافی تھے۔
148۔ اس عالم عنصری کا تقاضائے طبعی ہی یہ ہے کہ آپس میں کشمکش اور پھر دشمنی پیدا ہو۔ اس زہر کا تریاق جہاں سے ممکن ہے اسی کا نام وحی الہی ہے۔ (آیت) ” بعضکم لبعض عدو “۔ میں خطاب ذریت آدم سے ہے۔ والمراد الذریۃ (کبیر)
149۔ (رسول یا کتاب کے ذریعہ سے) (آیت) ” ھدی “ کے معنی کسی نے رسول کے لیے ہیں کسی نے آیات کے، کسی نے دلائل کے، کسی نے قرآن کے۔ امام رازی (رح) کا فیصلہ ہے کہ (آیت) ” ھدی “۔ یہاں مرادف ہے دلالۃ کے اور اس کے مفہوم میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…
Read the full tafseer →قال اہبطا منہا جمیعاً بعضکم لبعض عدو اللہ نے فرمایا ‘ تم دونوں (آدم و حواء) ساتھ ساتھ جنت
سے اس حالت میں (زمین پر) اترو (اور دنیا میں ایسی حالت سے جاؤ) کہ تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہوگا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حضرت حواء کے نزول کے ساتھ ان کی آئندہ نسل کا نزول لازم تھا اس لئے حضرت حواء ( علیہ السلام) اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کو خطاب مع ذریات کے ہوا اور جمیعاً کے لفظ سے اس مضمون کو پختہ کردیا۔ ایک دوسرے کا دشمن ہوگا یعنی تم دونوں کی نسل میں باہم دنیوی عداوت بھی ہوگی اور دینی و مذہبی بھی (کوئی موحد ہوگا کوئی مشرک ‘ کوئی منکر) ۔
فاما یاتینکم منی ہدی فمن اتبع ہدای فلا یضل ولا یشقی۔ پس…
Read the full tafseer →(123) اس کے بعد حضرت آدم وحوا اور سانپ وغیرہ سے فرمایا کہ تم سب جنت سے اترو اور اس حال میں جاؤ کہ تم سب ایک دوسرے کے یعنی سانپ انسانوں کا اور انسان سانپ کے دشمن ہوں گے پھر اگر اے انسانوں تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت کا ذریعہ یعنی کتاب اور رسول پہنچے تو تم میں سے جو شخص میرے رسول اور میری کتاب کی اتباع کرے گا تو وہ ان کی اتباع کی وجہ سے نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں سختی میں ہوگا۔
Read the full tafseer →قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ : اس کی تفسیر سورة بقرہ کی آیت (36) میں دیکھیے، یعنی توبہ قبول ہونے کے باوجود زمین پر رہنے کا فیصلہ قائم رہا، کیونکہ انھیں پیدا ہی زمین کی خلافت کے لیے کیا گیا تھا۔
ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ۔۔ : سورة بقرہ (38) میں ”فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ“ ہے، یعنی جس نے میری ہدایت کی پیروی کی اور یہاں ”اتَّبَعَ“ (افتعال) ہے، اس میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے تکلف اور مبالغہ ہے، یعنی جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو وہ نہ دنیا میں جنت کے راستے سے بھٹکے گا اور نہ آخرت میں جنت سے محروم رہ کر بدنصیب ہوگا، بلکہ سیدھا چلتا ہوا اپنے گھر جنت میں پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قال اھبطا منھا جمیعا ا حضرت آدم و ابلیس کو خطاب فرمایا۔ منھا جنت سے ابلیس کو فرمایا : اخرج منھا مذء وما مدحوراً (الاعراف :18) شاید اسے جنت سے آسمان کی کسی جگہ پر نکلنے کا حکم دیا پھر اسے زمین کی طرف اتارا بعضکم لبعض عدویہ سورة بقرہ میں 1 گزر چکا ہے۔ یعنی تو سانپ اور ابلیس کا دشمن ہوگا اور وہ تیرے دشمن ہوں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اھبطا آدم و حواء کو خطاب نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے۔ حضرت آدم کا اترنا حضرت حواء کے اترنے کے ضمن میں ہے۔ فامایاتینکم منی ھدی رشد اور سچی بات مراد ہے سورة بقرہ میں یہ بھی گزر چکا ہے۔ فمن اتبع ھدای یعنی جس نے رسل اور کتب کی پیروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
1:۔ طبرانی خطیب نے المتفق والمفترق میں اور ابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح پڑھا (آیت) ” فمن اتبع ھدای “
قرآن کریم کی پیروی گمراہی سے بچاتی ہے :
2:۔ ابن ابی شیبہ، طبرانی، ابونعیم نے حلیہ میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا اتباع کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں گمراہی سے ہدایت دیں گے اور قیامت کے دن اس کو برے حساب سے بچائیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی۔ “
3:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، محمد بن نصر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے…
Read the full tafseer →[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [اهْبِطَا : تم دونوں اترو ] [مِنْهَا : اس (باغ) سے ] [جَمِيْعًۢا : سب کے سب ] [بَعْضُكُمْ : تم لوگوں کا کوئی ] [لِبَعْضٍ : کسی کے لئے ] [عَدُوٌّ: دشمن ہے ] [فَاِمَا : پھر اگر ] [يَاْتِيَنَّكُمْ : پہنچے تم لوگوں کو ] [مِّنِّيْ : مجھ سے ] [هُدًى: کوئی ہدایت ] [ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ : پھر جس نے پیروی کی ] [هُدَايَ : میری ہدایت کی ] [فَلَا يَضِلُّ : تو وہ گمراہ نہیں ہوگا ] [وَلَا يَشْقٰي : اور نہ وہ نامراد ہوگا۔]
Read the full tafseer →مزید فرمایا (فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًا فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی) (سو اگر تم میں سے کسی کے پاس میری ہدایت آئے سو جس نے میری ہدایت کا اتباع کیا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ شقی ہوگا) اس کے زمین میں آنے سے پہلے ہی اللہ جل شانہٗ نے بتادیا تھا کہ تمہارے پاس میری ہدایت آئے گی اس پر چلنے میں کامیابی ہے جو اسے قبول کرے گا نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں بد بخت ہوگا، اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور پیغمبروں کے ذریعہ ہدایات پہنچتی رہی ہیں۔ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ اب نیا نبی کوئی نہیں آئے گا۔ خاتم المرسلین کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی کار نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
83:۔ اس واقعہ کی مزید تفصیل سے سورة بقرہ کی تفسیر میں دیکھیں حاشیہ 85 تا 95 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی انابت ، کمال اور فضیلت اور اس کے ساتھ ساتھ ابلیس کی سرکشی کا ذکر کیا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں جو سہولتیں حاصل تھیں ان کا بیان ہوا ، مگر شیطان نے وسوسہ اندازی کے ذریعے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو جنت سے نکلوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ اے آدم ! ابلیس نے تو میرے حکم کی تعمیل کی ہے اور نہ تمہاری فضیلت کو تسلیم کیا ہے ، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، اس سے بچتے رہنا ، کہیں یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوادے ، اس کے بعد ابلیس نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو بہکانا شروع کیا اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوا…
Read the full tafseer →قَالَ اہْبِطَا مِنْہَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ 0ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ ہُدًى 0ۥۙ فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي 123
هبط
الهُبُوط : الانحدار علی سبیل القهر كهبوط الحجر، والهَبُوط بالفتح : المنحدر . يقال :
هَبَطْتُ أنا، وهَبَطْتُ غيري، يكون اللازم والمتعدّي علی لفظ واحد . قال تعالی: وَإِنَّ مِنْها لَما يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ [ البقرة/ 74] يقال : هَبَطْتُ وهَبَطْتُهُ هَبْطاً ، وإذا استعمل في الإنسان الهُبُوط فعلی سبیل الاستخفاف بخلاف الإنزال، فإنّ الإنزال ذكره تعالیٰ في الأشياء التي نبّه علی شرفها، كإنزال الملائكة والقرآن والمطر وغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًا م بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ج فَاِمَّا یَاْ تِیَنَّـکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی 5 لا فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی۔ (طٰـہٰ : 123)
(حکم ہوا کہ تم سب یہاں سے اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ محروم رہے گا۔ )
سورة البقرہ اور سورة الاعراف میں اس آیت کے تمام متعلقات پر گفتگو ہوچکی ہے۔ اس میں ہم یہ گزارش کرچکے ہیں کہ زمین پر حضرت آدم کا بھیجا جانا خلافتِ ارضی کی ذمہ داریوں کی بجاآوری کے لیے تھا اور اسی لیے نوع انسانی کی تخلیق کی جارہی تھی۔ اور جنت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ اعراض سے مراد کفر و شرک اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں کشادہ دست ہونے کے باوجود پریشان رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے رزق سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ دنیا کے حصول کے لیے ہلکان رہتے ہیں۔ انھیں دل کی تونگری حاصل نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کے مال کی ہوس دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ قبر کنارے پہنچ جاتے ہیں۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَیْسَ الْغِنَی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ ، وَلَکِنَّ الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ ) [ رواہ البخاری : باب الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ…
Read the full tafseer →123: قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًا 0 (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں ساتھ ساتھ اس حالت میں جنت سے اترو) یعنی آدم و حواء۔ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے) باہمی حسد کی وجہ سے تمہاری اولاد۔ نمبر 2۔ دین میں اختلاف کی وجہ سے فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی (پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے) ہدایت سے کتاب و شرعیت مراد ہے۔ فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَـلَا یَضِلُّ (پس جس شخص نے میری ہدایت کی اتباع کی وہ نہ گمراہ ہوگا) دنیا میں وَلَا یَشْقٰی (اور نہ نامراد ہوگا) آخرت میں۔
قول ابن عباس ؓ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شخص کو جو قرآن کی اتباع کرے دنیا میں…
Read the full tafseer →123۔ قال اھبطا منھا جمیعا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ تبع ھدی۔ اس سے مراد کتاب اور رسول ہے۔ فلایضل ولایشقی، سعید بن جبیر ؓ نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے گا اور جو تعلیم اس میں ہے اس پر چلے گا، اللہ اس کو دنیا میں بھی گمراہی سے بچا کر سیدھے راستے پرچلائے گا اور قیامت کے دن بھی حساب کی خرابی سے محفوظ رکھے گا، کیونکہ اللہ نے خود فرمادیا ہے ، فمن تبع ھدای فلایضل ولایشقی، شعبی کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا قرآن کی پیروی کرنے والے کو اللہ دنیا میں گمراہ اور آخرت میں بدنصیب ہونے سے محفوظ رکھے گا۔ پھر حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–127
آیات (122)
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو مکمل کیا انہیں اشیاء کے نام سکھائے انہیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا : (انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین) (الاعراف : 7؍21) ” مَیں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →129 سلامتی و نجات کی راہ حق و ہدایت کی پیروی و اتباع : سو راہ حق پر چلنا اور ہدایت قرآن کی پیروی کرنا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور سلامتی و نجات کا ضامن و کفیل ہے۔ اور ایسا شخص نہ دنیا میں راہ حق و صواب سے بھٹکے گا اور نہ اس کے نتیجے میں وہ دنیا و آخرت میں مشقت و تکلیف میں پڑے گا۔ جیسا کہ حاکم اور بیہقی (رح) وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کی پیروی کرنے والے کو دنیا میں گمراہی سے محفوظ رکھے گا اور آخرت میں شقاوت و بدبختی سے۔ اور پھر آپ ؓ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ سو ایمان و یقین والوں کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی بشارت ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔
(دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے)
تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی تمہاری اولاد میں باہم دشمنی رہے گی۔6 معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق زندگ گزارنا دنیا و آخرت دونوں کو بنا لینا ہے۔
Read the full tafseer →(20:123) اھبطا۔ تم دونوں اترجائو۔ ھبط یھبط (ضرب) ھبوط سے فعل امر تثنیہ مذکر حاضر۔ یعنی جنت سے (جو ایک اعلیٰ مقام ہے ) زمین کی طرف (جو ایک ادنیٰ جگہ ہے) اترو ! منھا ۔ ای من الجنۃ۔ جمیعا۔ یعنی تم دونوں اور شیطان لعین بھی۔
بعضکم لبعض عدو۔ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ یعنی جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ تمہاری اولاد میں بھی یہ کیفیت ہوگی۔ یہ جملہ موضع حال میں ہے اھبطا سے۔ فاما۔ فان ما۔ اگر۔
فلا یضل ولا یشقی۔ ای فلا یضل فی الدنیا ولا یشقی فی الاخرۃ نہ وہ اس دنیا میں بھٹکے گا اور نہ آخرت میں بدنصیب و محروم ہوگا۔ یعنی یہاں دنیا میں بھی اس کو راہ مستقیم نصیب ہوگی۔ اور آخرت میں اپنے نیک اعمال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
اس آیت میں آدم (علیہ السلام) اور شیطان کو زمین پر اتارنے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا، لیکن آسمانی کتابیں اور رسول بھیج کر قیامت تک اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو شیطان کے پھندے سے بچنے کی ہدایت فرماتا رہے گا۔ اس لئے جو لوگ اس ہدایت کے پابند بن کر شیطان کو اپنا دشمن اور رسولوں کو اپنا پیشوا قرار دیں گے، وہ دنیا میں شیطان کے پھندے سے اور عقبیٰ میں اس خمیازہ سے بچتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" اللہ کی بڑائی سے بڑھ کر شیطان کے پھندوں سے بچانے والی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے "۔ جب شیطان ملعون ٹھہرایا جا…
Read the full tafseer →[56] یعنی انسان اور شیطان۔
[57] یعنی جنت سے۔
[58] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 31 صفحہ 97۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–128
ہمارا اصلی مقام جنت ہے :
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ، اور تمام فرشتوں کو اس کے سامنے جھکایا ، تاکہ اس میں عزت نفس کے جذبات بیدار ہوں ، اور وہ صحیح معنوں میں اللہ کا نائب کہلا سکے ، پھر جنت میں جگہ دی تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کا اصلی مقام جنت ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور خدا کا قرب لکھا ہے ، مگر آدم شیطان کی ملبسانہ باتوں میں آگیا ، اور اس سے وہ لغزش ظہور میں آئی جو انجام کار جنت سے اخراج پر منتج ہوئی ، شیطان نے کہا (آدم (علیہ السلام) کی بشری نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) کہ جانتے ہو تمہیں شجر مخصوص سے کیوں روکا گیا ہے ؟ اس لئے کہ کہیں تم اس درخت کے پھل کو کھا کر خلود…
Read the full tafseer →- 123 شجر ممنوعہ میں سے کھانے کے بعد ارشاد ہوا تم دونوں جنت سے نیچے اتر جائو درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے یعنی تمہاری اولاد باہم ایک دوسرے کی دشمن ہوگی پھر اگر میری جانب سے تمہارے پاس کوئی ہدایت پہونچے تو اس ہدایت پہونچنے کے بعد جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ بےراہ ہوگا اور نہ وہ تکلیف میں مبتلا ہوگا اور شقاوت و بدبختی سے دور رہے گا۔ جنت سے نکالتے وقت تعلق کو منقطع نہیں فرمایا بلکہ یوں ارشاد ہوا کہ اولاد آدم (علیہ السلام) میں باہم دشمنی ہوگی اور آپس میں پھوٹ ہوگی میں تمہارے پاس بذریعہ کتاب اور پیغمبر اپنی ہدایت بھیجوں گا پھر اگر تمہارے پاس میری ہدایت پہونچے تو رسول کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ف 3۔ کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ شادو آباد رہو۔
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) کا اپنے اصل اور موعود مقام کی طرف لوٹ آنے کا بیان :
123۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا اصل مقصد خلافت ارضی تھا تاکہ اس کائنات الہی سے فائدہ حاصل کرکے اللہ تعالیٰ کی ان تسخیر کردہ چیزوں سے استفادہ کرے اور اس طرح نیابت الہی کا حق ادا کر دے اس کو اس مقام موعود کی طرف منتقل کرنا ہی تھا جب اس کو اس کے مقام آخرت کی سیر کرالی تو واپس زمین پر اتر آنے کا حکم دیا یعنی اس باغ سے جس میں اس کو رکھا گیا تھا زمین کی طرف منتقل کردیا جہاں ہر کام محنت ومشقت کے ساتھ طے ہونا تھا اب اس مقام کی طرف اتارتے وقت ارشاد فرمایا کہ ” تم دونوں اکھٹے یہاں سے نکل چلو تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن…
Read the full tafseer →The اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا (123) mean "both of you go down together". This command can be in reference to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and the shaitan in which case the meaning of the phrase بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (some of you enemies of some - 123) is obvious, namely that the two of them will remain enemies in the world also. However if it is argued that the Shaitan had already been expelled from Paradise long before these events occurred, then it would be correct to assume that these words have been addressed to Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) and Sayyidah Hawwa' (علیہا السلام) meaning…
Read the full tafseer →104. That is, Allah not only pardoned him but also gave him guidance and taught him the way to follow it.
Read the full tafseer →