Taa-Haa 20:122

Taa-Haa · from ayah 122

20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَهَدٰی ۟ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰى

پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then his Lord chose him and turned to him in forgiveness and guided [him].

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 7 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:122

پھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ان کے رب نے انہیں چن لیا، چنانچہ ان کی توبہ قبول فرمائی، اور انہیں ہدایت عطا فرمائی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ان کے رب نے انہیں (اپنی قربت و نبوت کے لئے) چن لیا اور ان پر (عفو و رحمت کی خاص) توجہ فرمائی اور منزلِ مقصود کی راہ دکھا دی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اس پر توجہ فرمائی اور ہدایت دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کے پروردگار نے انھیں برگزیدہ کیا، ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت بخشی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر اس کے رب نے اس کو نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کو ہدایت بخشی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ان کے رب نے انھیں چن لیا، ان کی توبہ قبول فرما لی اور انھیں راہ پر ڈال دیاف

— مولانا اسحاق مدنی

پھر انہیں ان کے پروردگار نے مقبول بنالیا چناچہ ان کی توبہ قبول کرلی اور ہدایت دکھا دی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس کے رب نے اسے پسند کرلیا اس کی توبہ قبول فرمائی اور اسے ہدایت بخشی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان کے رب نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے تو جہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereafter his Lord exalted him, accepted his repentance, and bestowed guidance upon him,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thereafter his Lord chose him. So He accepted his repentance and gave (him) guidance.

— Muhammad Taqi Usmani

Thereafter his Lord chose him. So He accepted his repentance and gave (him) guidance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then his Lord chose him, and turned to him with forgiveness, and gave him guidance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then his Lord chose him, and relented toward him, and guided him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then his Lord chose him and turned to him in forgiveness and guided [him].

— Saheeh International

His Lord forgave him, accepted his repentance, and gave him guidance.

— Muhammad Sarwar

Then his Lord chose him, so He turned to him and guided (him).

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter his Lord accepted him, and relented toward him, and guided him.

— Abdul Majid Daryabadi

But his Lord chose him (for His Grace): He turned to him, and gave him Guidance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:122

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 115–122

انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 103 یعنی شیطان کی طرح راندۂ درگاہ نہ کردیا، طاعت کی کوشش میں نا کام ہو کر جہاں وہ گر گئے تھے وہیں انہیں پڑا نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اٹھا کر پھر اپنے پاس بلا لیا اور اپنی خدمت کے لیے چن لیا۔ ایک سلوک وہ ہے جو بالارادہ بغاوت کرنے والے اور اکڑ اور ہیکڑی دکھانے والے نوکر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کا مستحق شیطان تھا اور ہر وہ بندہ ہے جو ڈٹ کر اپنے رب کی نافرمانی کرے اور خم ٹھونک کر اس کے سامنے کھڑا ہوجائے۔ دوسرا سلوک وہ ہے جو اس وفادار بندے کے ساتھ کیا جاتا ہے جو محض " بھول " اور فقدان عزم " کی وجہ سے قصور کر گزرا ہو، اور پھر ہوش آتے ہی اپنے کیے پر شرمندہ ہوجائے۔ یہ سلوک حضرت آدم و حوا سے کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 120–122

فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ الی قولہ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى، اس آیت میں جو یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو کسی خاص درخت کے کھانے اور اس کے پاس جانے سے بھی روک دیا تھا اور اس پر مزید یہ تنبیہ بھی فرما دی تھی کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے اس کے مکر و کید سے بچتے رہنا وہ کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے اتنی واضح ہدایتوں کے بعد بھی یہ پیغمبر عالی مقام شیطان کے دھوکہ میں کس طرح آگئے اور یہ کہ یہ تو کھلی نافرمانی اور گناہ ہے۔ حضرت آدم ؑ اللہ کے نبی و رسول ہیں ان سے یہ گناہ کیسے سرزد ہوا جبکہ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ہر چھوٹے بڑے گناہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 122 اجتباء کا مفہوم آدم کی توبہ کا اثر یہاں اجتاء کا ذکر ان کی توبہ اور قبولیت توبہ سے پہلے ہے اس سے معلوم ہوا ہے کہ اس اجتباء سے مراد حضرت آدم کو توفیق توبہ اور کلمات توبہ سے سرفراز فرمانا ہے۔ سورة بقرہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے۔ فتلقی ادم من ربہ کلمت فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم 37 (پس آدم نے اپنے رب کی طرف سے کچھ کلمات سیکھ لیے اور توبہ کی تو اس کے رب نے اس کی توبہ قبول فرمائی، بیشک وہ بڑا تو بہ قبول کرنے والا اور بڑا ہی رحیم ہے) سورة اعراف میں ان کلمات توبہ کی وضاحت بھی ہے۔ قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم استغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین 33 انہوں نے دعا کی کہ اے رب ! ہم نے اپنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

122۔ 1 اس سے بعض لوگ استدال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ سے مذکورہ غلطیوں کا ہونا، نبوت سے قبل ہوا، اور نبوت سے اس کے بعد آپ کو نوازا گیا۔ لیکن ہم نے گزشتہ صفحے میں اس ' معصیت ' کی حقیقت بیان کی ہے، وہ عصمت کے منافی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایسا وعظ و نصیحت، جس کا تعلق تبلیغ رسالت اور تشریع سے نہ ہو، بلکہ ذاتی افعال سے ہو اور اس میں بھی اس کا سبب ضعف کا اطلاق کیا گیا ہے تو محض ان کی عظمت شان اور مقام بلند کی وجہ سے کہ بڑوں کی معمولی غلطی کو بھی بڑا سمجھ لیا جاتا ہے، اس لئے آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اس کے بعد اسے نبوت کے لئے چن لیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ندامت اور توبہ کے بعد ہم نے اسے پھر اسی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 121–122

52: سورة بقرہ میں ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ حضرت آدم ؑ کی اجتہادی غلطی تھی جس کی حقیقت اوپر آیت نمبر 115 میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان سے بھول ہوگئی، اور اجتہادی غلطی اور بھول میں جو کام کیا جاتا ہے، وہ گناہ نہیں ہوتا، لیکن چونکہ پیغمبروں کی شان بہت بلند ہوتی ہے، اس لیے ان سے اس قسم کی اجتہادی غلطی کا سرزد ہونا بھی ان کے شایان شان نہیں ہوتا، اس لیے اسے حکم ٹالنے اور بھٹکنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس پر بھی توبہ کی تلقین فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور یہ اس وقت ہوا جب آدم نے اللہ سے مغفرت طلب کی ، ندامت کا اظہار کیا اور عذم پیش کیا اور ان باتوں کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا تاکہ یہاں صرف رحمت خداوندی ہی نظر آئے۔ اس کے بعد اب دونوں فریقوں آدم و ابلیس کو حکم ہوا کہ زمین پر اترو ، تم ایک دوسرے کے سخت دشمن ہو ، تمہارے درمیان اب ایک طویل معرکہ ہوگا۔ یہ تو تمہارے معرکہ کی پہلی باری تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جب حکم الٰہی کے امتثال میں غفلت و کوتاہی ہوئی تو اپنی شان کے موافق عزم و استقامت کی راہ پر ثابت قدم نہ رہے۔ اسی کو غوایت و عصیان سے تغلیظاً تعبیر فرمایا ہے بقاعدہ " حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ " اس کی بحث بھی پہلے گزر چکی۔ یعنی شیطان کا تسلط نہیں ہونے دیا، بلکہ فوراً توبہ کی توفیق بخشی، خلعت قبول سے نوازا، اور بیش از بیش مہربانی سے اس کی طرف متوجہ ہوا اور اپنی خوشنودی کے راستہ پر قائم کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 121–123

آیت 121 فَاَکَلَا مِنْہَا فَبَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا ” چنانچہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہ السلام دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس پھل کے چکھتے ہی وہ دونوں بےلباس ہوگئے اور ان کی شرم گاہیں نظر آنے لگیں اس مضمون کی تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 121–122

87 جنت کا پھل کھانے کا رد عمل فوری طور پر تو یہ ہوا کہ ان سے جنت کا لباس چھین لیا گیا اور آدم و حوا دونوں بےحجاب ہوگئے اور انھیں ایک دوسرے کے مقامات ستر نظر آنے لگے اور سخت شرم محسوس ہوئی تو جنت کے درختوں کے پتے ایک دورے پر چپکا کر مقامات ستر کو ڈھانپنے لگے۔ ابھی بھوک اور پیاس کا احساس تو کچھ دیر کے بعد ہی ہونا تھا۔ اور انھیں فورا ً پتا چل گیا کہ شیطان انھیں جل دے گیا اور وہ اس کے فریب میں آگئے ہیں۔ اس وقت انھیں اللہ سے کیا ہوا وعدہ یاد آگیا اور فورا ً اللہ کی طرف رجوع کیا اور توبہ استغفار کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

146۔ (جس پر وہ ہمیشہ قائم رہے) اجلب بالعفو والمغفرۃ وھداہ لرشدہ حتی رجع الی الندم والاستغفار (کبیر) مرشد تھانوی (رح) کا ارشاد ہے کہ اجتہاد جذب ہے اور ہدایت سلوک ہے۔ اس لیے آیت میں تقدیم ہے جذب کی سلوک پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–128

آیت نمبر 116 تا 128 ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم اجتنبہ ربہ فتاب علیہ وہدی۔ پھر ان کے رب نے ان کو (زیادہ) مقبول بنا لیا سو ان پر توجہ فرمائی اور راہ راست پر (ہمیشہ) قائم رکھا۔ اجْنَباہُ جَبْیٌکا لغوی معنی ہے جمع کرنا جبی الخراج اس نے خراج جمع کیا ‘ اجتباء (افتعال) اپنے پاس جمع کرلینا اپنے قرب میں لے آنا مراد چن لینا برگزیدہ بنا دینا مقرب بنا لینا یعنی آدم کو توبہ پر آمادہ کیا جب انہوں نے توبہ کرلی تو اللہ نے ان کو چن لیا۔ مقرب بنا لیا۔ تَابَ عَلَیْہِاللہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوا۔ ہدیٰ ان کو توبہ کا راستہ بتادیا ‘ اللہ ہی کی ہدایت و توفیق سے انہوں نے دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا۔۔ اور اللہ نے ان کو درجات قرب تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(122) اور پھر جب حضرت آدم ؑ نے معذرت کی تو ان کے پروردگار نے انھیں اور زیادہ مقبول بنا لیا اور ان کی معذرت کو قبول فرما لیا اور معذرت پر ہمیشہ قائم رکھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ اجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ : ”جَبَی یَجْبِیْ“ (ض) کا معنی کھینچ کر لانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ) [ القصص : 57 ] ”اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔“ ”اِجْتَبَی“ (افتعال) کا معنی کسی چیز کو اپنے لیے لے لینا، چن لینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آدم ؑ کو اپنے لیے کھینچ لینے اور چن لینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں توبہ کا خیال ڈالا، انھیں توبہ کی توفیق دی اور توبہ کے کلمات کی تعلیم دی، جیسا کہ فرمایا : (فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 120–122

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فوسوس الیہ الشیطان سورة اعراف میں یہ گزر چکا ہے۔ قال یعنی شیطان نے کہا : یا ادم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی۔ یہ کلام بالمشافہ پر دلیل ہے۔ شیطان جنت میں سانپ کے منہ میں داخل ہوا تھا جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور درخت کے تعیین کی بحث بھی گزر چکی ہے۔ اور علماء کے جو اقوال ہیں وہ بھی گزر چکے ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ فاکلا منہا فبدت لہما سو اتھما وطفقا یخصفان علیہما من ورق الجنہ۔ یہ بھی سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ فراء نے کہا : طفقا کا عربی میں معنی ہے متوجہ ہوئے۔ فرمایا : بعض علماء نے کہا : وہ انجیر کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 116–122

1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میری مراد سے دنیا کی مشقت ہے پاس ابن آدم دنیا کی مشقت اور تکلیف کو اٹھاتا ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے نے سفیان عینہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ” فتشقیان “ نہیں فرمایا (بلکہ فتشقی فرمایا) اس لئے کہ بیوی آپ کے حکم میں داخل تھی پس آپ کی بیوی اور آپ کی تمام اولاد مراد ہے جیسا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن اس سے مراد ساری امت ہے۔ (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم “ اور یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم (1)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر ] [اجْتَبٰىهُ : نوازا ان (علیہ السلام) کو ] [رَبُّهٗ : ان (علیہ السلام) کے رب نے ] [فَتَابَ عَلَيْهِ : تو اس نے توجہ کی ان (علیہ السلام) پر ] [وَهَدٰى: اور اس نے ہدایت دی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 116–122

سجدہ نہ کرنے پر جب شیطان ملعون اور مردود ہوگیا تھا تو اس نے پہلے ٹھان لی تھی کہ ان کو جنت سے نکلوانا ہے اور ان کی ذریت کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ تو وہاں سے نکال دیا گیا اور یہ دونوں حضرات رہتے رہے دونوں کو حکم ہوا تھا کہ جنت میں رہو سہو خوب کھاؤ پیو لیکن فلاں درخت کے پاس نہ جانا اگر اس میں سے کھالیا تو یہ تمہارا اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا۔ اب شیطان ان کے پیچھے لگا اور اس نے کہا کہ دیکھو اس درخت کے کھانے سے جو تمہیں منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اسے کھالے گا وہ یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا۔ اور اس کے کھانے سے تم دونوں فرشتے ہوجاؤ گے (کما فی سورة الاعراف) اور یہاں جو تمہیں عیش و آرام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 115–127

ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع جن کے رتبے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 120–123

83:۔ اس واقعہ کی مزید تفصیل سے سورة بقرہ کی تفسیر میں دیکھیں حاشیہ 85 تا 95 ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 120–123

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی انابت ، کمال اور فضیلت اور اس کے ساتھ ساتھ ابلیس کی سرکشی کا ذکر کیا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں جو سہولتیں حاصل تھیں ان کا بیان ہوا ، مگر شیطان نے وسوسہ اندازی کے ذریعے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو جنت سے نکلوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ اے آدم ! ابلیس نے تو میرے حکم کی تعمیل کی ہے اور نہ تمہاری فضیلت کو تسلیم کیا ہے ، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، اس سے بچتے رہنا ، کہیں یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوادے ، اس کے بعد ابلیس نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو بہکانا شروع کیا اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اجْتَبٰىہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَيْہِ وَہَدٰى۝ 122 اجتباء : الجمع علی طریق الاصطفاء . قال عزّ وجل : فَاجْتَباهُ رَبُّهُ [ القلم/ 50] ، وقال تعالی: وَإِذا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قالُوا : لَوْلا اجْتَبَيْتَها [ الأعراف/ 203] ، أي : يقولون : هلّا جمعتها، تعریضا منهم بأنک تخترع هذه الآیات ولیست من اللہ . واجتباء اللہ العبد : تخصیصه إياه بفیض إلهيّ يتحصل له منه أنواع من النعم بلا سعي من العبد، وذلک للأنبیاء وبعض من يقاربهم من الصدیقین والشهداء، كما قال تعالی: وَكَذلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ [يوسف/ 6] ، فَاجْتَباهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ [ القلم/ 50] ، وَاجْتَبَيْناهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 113–125

تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ اجْتَبٰـہُ رَبُّـہٗ فَتَابَ عَلَیْہِ وَھَدٰی۔ (طٰـہٰ : 122) (پھر اسے اس کے رب نے چن لیا، پھر اس کی توبہ قبول کی اور اس کو ہدایت بخشی۔ ) اجتباء کا مفہوم حضرتِ آدم (علیہ السلام) ابلیس کی کوششوں سے شجرِممنوعہ کا پھل تو کھا بیٹھے لیکن جیسے ہی انھیں تنبہ ہوا تو ان کی دنیا اندھیر ہوگئی، وہ سمجھ گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرچکا ہوں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انھیں ابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کہ اگر ایسا کوئی قصور سرزد ہوجائے تو اس کے بعد کیا کرنا چاہیے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا صدمہ اور دوسری اس بیخبر ی کی پریشانی، شب و روز رونے دھونے کے سوا کوئی کام نہ رہا اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت آدم کے بارے میں گفتگو جاری ہے چناچہ حضرت حوا [ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوجانے کے باوجود انھیں زمین پر اتر جانے کا حکم۔ پہلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو شیطان نے ورغلایا تھا مگر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور توبہ کی اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کی اور اپنی ہدایت سے نوازا۔ حضرت حوا [، حضرت آدم (علیہ السلام) کے ماتحت تھیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ سے خطا کروانے والا ابلیس تھا۔ اس لیے تینوں کو حکم ہوا کہ تم زمین پر اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ تاہم آدم (علیہ السلام) کو فرمایا کہ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

122: ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَبُّہٗ (پھر ان کے رب نے ان کو چن لیا) اپنا مقرب بنایا۔ نمبر 2۔ منتخب کیا چن لیا۔ اجتبی کا اصل معنی جمع کرنا ہے جیسے جبی الخراج۔ اس نے خراج جمع کیا۔ جبی الیّ میرے پاس جمع کیا گیا۔ فاجتبیتہٗ میں اس کو اپنے پاس جمع کرلیا۔ اپنے قرب میں لے آیا۔ فَتَابَ عَلَیْہِ (پس ان پر توجہ فرمائی) توبہ سے قبل وَھَدٰی (اور راہ راست پر قائم رکھا) معذرت و استغفار کی طرف ان کی راہنمائی کر کے راہ راست پر قائم رکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

122۔ ثم اجتباہ ربہ، ، یعنی ہم نے آپ کو چن لیابرگزیدہ بنادیا۔ فتاب علیہ، ہم نے انسے درگزر کیا، وھدی، اور ہم نے ان کی توبہ کی طرف رہنمائی کی ۔ یہاں تک کہ وہ کہنے لگے، ربناظلمنا انفسنا، ،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–123

116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 122–127

آیات (122) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو مکمل کیا انہیں اشیاء کے نام سکھائے انہیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا : (انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین) (الاعراف : 7؍21) ” مَیں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 121–122

124 معصیت خداوندی کا نتیجہ حلہ جنت سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس شجرئہ ممنوعہ سے کھا لینے کے بعد آدم اور حوا دونوں حلہ جنت سے محروم ہوگئے اور اس کے نتیجے میں ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوگئے۔ اور جنت کا وہ لباس ان دونوں سے اتر گیا جو ان کو اس سے پہلے میسر تھا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ننگا کرنا اور حیا سے عاری کردینا شیطان کا پرانا حربہ ہے۔ جس سے وہ بنی آدم کو بہکانے بھٹکانے کیلئے کام لیتا ہے۔ آج اسی شیطانی حربے کی بنا پر عریانیت کے طرح طرح کے نمونے اور مظاہر جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں۔ مگر دنیا اور خود مسلمان ہے کہ شیطان کے اس حربے اور طریقہ واردات سے غافل و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–129

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–128

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔ (دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے) تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ر معلوم ہوا کہ قضائے الٰہی کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اعتراض پر آدم نے جواب دیا تھا۔ اتلومنی علی امر کتبہ اللہ علی قبل ان اخلق (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:122) اجتبہ۔ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ مادہ جبی سے مشتق ہے ۔ جبی یجبی (ضرب) جبایۃ مصدر جبی الماء فی الحوض۔ اس نے حوض میں پانی جمع کیا۔ بڑے حوض کو جلبینہ کہتے ہیں اور اس کی جمع جواب ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے وجفان کالجواب (35:13) اور لگن جیسے بڑے بڑے حوض۔ باب افتعال سے الاجتباء کے معنی ہیں انتخاب کے طور پر کسی چیز کو جمع کرنا۔ اور اسی سے ہے ۔ اجتباہ اس نے اس کا انتخاب کیا۔ یہاں اجتباہ ای اصطفاہ۔ اس نے اس کو اپنے لئے منتخب کرلیا۔ یعنی فیض و کرم اور تقرب کے لئے چن لیا۔ فتاب علیہ۔ پاس اس کی توبہ قبول کرلی۔ یہاں اس کا پس منظر بیان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 115–128

لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128 تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔ تشریح : آیت نمبر 115 تا 128 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 118–123

اس آیت میں آدم (علیہ السلام) اور شیطان کو زمین پر اتارنے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا، لیکن آسمانی کتابیں اور رسول بھیج کر قیامت تک اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو شیطان کے پھندے سے بچنے کی ہدایت فرماتا رہے گا۔ اس لئے جو لوگ اس ہدایت کے پابند بن کر شیطان کو اپنا دشمن اور رسولوں کو اپنا پیشوا قرار دیں گے، وہ دنیا میں شیطان کے پھندے سے اور عقبیٰ میں اس خمیازہ سے بچتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" اللہ کی بڑائی سے بڑھ کر شیطان کے پھندوں سے بچانے والی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے "۔ جب شیطان ملعون ٹھہرایا جا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 122–128

ہمارا اصلی مقام جنت ہے : (ف 1) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ، اور تمام فرشتوں کو اس کے سامنے جھکایا ، تاکہ اس میں عزت نفس کے جذبات بیدار ہوں ، اور وہ صحیح معنوں میں اللہ کا نائب کہلا سکے ، پھر جنت میں جگہ دی تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کا اصلی مقام جنت ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور خدا کا قرب لکھا ہے ، مگر آدم شیطان کی ملبسانہ باتوں میں آگیا ، اور اس سے وہ لغزش ظہور میں آئی جو انجام کار جنت سے اخراج پر منتج ہوئی ، شیطان نے کہا (آدم (علیہ السلام) کی بشری نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) کہ جانتے ہو تمہیں شجر مخصوص سے کیوں روکا گیا ہے ؟ اس لئے کہ کہیں تم اس درخت کے پھل کو کھا کر خلود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 122 پھر توبہ کے بعد اس کے پروردگار نے اس کو نوازا اور مقبول بنا لیا اور اس کی توبہ قبول فرمائی اور اس کو راہ راست پر قائم رکھا۔ یعنی اس پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اس کو نواز دیا اور صحیح راہ پر قائم رکھا یعنی اس سے پھر غلطی کا ارتکاب نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آدم (علیہ السلام) کا توبہ کرنا اور قبولیت توبہ کا بیان : 122۔ آدم (علیہ السلام) کی توبہ کا ذکر سورة بقرہ کی آیت 37 میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد اور اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ کر آدم (علیہ السلام) نے توبہ کے کلمات سیکھے اور بارگاہ الہی میں توبہ کی درخواست پیش کی اور فرمایا (آیت) ” ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین “۔ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہم کو معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نامراد ہو کے رہ جائیں گے ۔ “ ظاہر ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے جو لغزش ہوئی اس پر وہ سخت نادم تھے زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ” پھر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 120–122

فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَ‌ةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ ﴿120﴾ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَ‌قِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَ‌بَّهُ فَغَوَىٰ (Then the Shaitan instigated him...And 'Adam disobeyed his Lord and erred- 120, 121.) Here it is pertinent to ask that when Allah had specifically told Sayyidna 'Adam and Sayyidah Hawwa' (علیہما السلام) to abstain from a particular tree or to eat any part of its yield, and had also warned them to beware of shaitan's machinations who was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

103.“His Lord chose him”because he did not disobey Him intentionally and did not persist in sin arrogantly. As soon as he realized his error, he felt ashamed of it and asked Allah’s pardon: O our Lord, we have wronged ourselves gravely. If You do not forgive us and have mercy upon us, we shall be totally ruined. (Surah Al-Aaraf, Ayat 23). In contrast to Adam and Eve, Satan was cursed because he not only disobeyed his Lord but also persisted in his sin, and boldly challenged Him that it was He Who was responsible for his disobedience, for He had preferred Adam whom He had created of clay over…

Read the full tafseer →