Explained with ayahs 115–122
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟
حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 101
بالفاظ دیگر نافرمانی کا صدور ہوتے ہی وہ آسائشیں ان سے چھین لی گئیں جو سرداری انتظام سے ان کو مہیا کی جاتی تھیں، اور اس کا اولین ظہور لباس چھن جانے کی شکل میں ہوا۔ غذا، پانی اور مسکن سے محرومی کی نوبت تو بعد کو ہی آنی تھی، اس کا پتہ تو بھوک پیاس لگنے پر ہی چل سکتا تھا، اور مکان سے نکالے جانے کی باری بھی بعد ہی میں آسکتی تھی۔ مگر پہلی چیز جس پر نافرمانی کا اثر پڑا وہ سرکاری پوشاک تھی جو اسی وقت اتر والی گئی۔
سورة طٰهٰ 102
یہاں اس بشری کمزوری کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے جو آدم ؑ سے ظہور میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کو وہ اپنا خالق اور رب جانتے تھے اور دل سے مانتے تھے۔ جنت میں ان کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ الی قولہ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى، اس آیت میں جو یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو کسی خاص درخت کے کھانے اور اس کے پاس جانے سے بھی روک دیا تھا اور اس پر مزید یہ تنبیہ بھی فرما دی تھی کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے اس کے مکر و کید سے بچتے رہنا وہ کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے اتنی واضح ہدایتوں کے بعد بھی یہ پیغمبر عالی مقام شیطان کے دھوکہ میں کس طرح آگئے اور یہ کہ یہ تو کھلی نافرمانی اور گناہ ہے۔ حضرت آدم ؑ اللہ کے نبی و رسول ہیں ان سے یہ گناہ کیسے سرزد ہوا جبکہ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ہر چھوٹے بڑے گناہ…
Read the full tafseer →آیت 121
اس آیت کی وضاحت بقرہ کی تفسیر میں بھی ہوچکی ہے اور اعراف کی آیت 2 ہ کے تحت بھی یہاں ان ساری باتوں کو دہرانے کی گنجائش نہیں ہے۔ غوی کے معنی صل وخاب کے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم ابلیس کے چکمے میں آ کر شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو جو حلہ جنت پہنایا گیا تھا اور جس کی نسبت جیسا کہ آیت 118 میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ اس سے وہ کبھی محروم نہیں ہوں گے، وہ ان سے چھن گیا اور وہ گھبراہٹ میں باغ کے بتوں سے اپنے جسم کو ڈھانکنے لگے۔ وعصی ادم ربہ فغوی یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو جو ہدایت دی تھی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے جس کا نتیجہ یہ نکال کہ وہ صحیح راہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
121۔ 1 یعنی درخت کا پھل کھا کر نافرمانی کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب یا راہ راست سے بہک گئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
52: سورة بقرہ میں ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ حضرت آدم ؑ کی اجتہادی غلطی تھی جس کی حقیقت اوپر آیت نمبر 115 میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان سے بھول ہوگئی، اور اجتہادی غلطی اور بھول میں جو کام کیا جاتا ہے، وہ گناہ نہیں ہوتا، لیکن چونکہ پیغمبروں کی شان بہت بلند ہوتی ہے، اس لیے ان سے اس قسم کی اجتہادی غلطی کا سرزد ہونا بھی ان کے شایان شان نہیں ہوتا، اس لیے اسے حکم ٹالنے اور بھٹکنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس پر بھی توبہ کی تلقین فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →بظاہر مفہوم یہ ہے کہ انسان کی مخصوص شرمگاہیں مراد ہیں جو ان سے پوشیدہ تھیں۔ دونوں کے جسم میں عفت ، کے مقامات چناچہ انہوں نے اپنے فطری شرم و حیا کی وجہ سے ان مقامات کو چھپانا شرع کیا اور ان پر جنت کے پتے لپیٹنے لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس درخت کے پھل کھانے کے نتیجے میں ان کے اندر جنسی احساس پیدا ہوگیا ہو کیونکہ جب تک کسی انسان میں جنسی احساس پیدا نہ ہو انسان کو شرم و حیا کا احساس نہیں ہوتا۔ انسان کو ان چیزوں کی طرف توجہ تب ہوتی ہے جب جنسی خواہش پیدا ہو۔
ہو سکتا ہے کہ اللہ نے آدم و حوا پر اس مخصوص درخت کا پھل کھانا اس لئے منع کردیا ہو کہ اس کے نتیجے میں انسان کی جسمانی خواہشات نے پیدا ہونا تھا…
Read the full tafseer →1 یہ سب قصہ سورة اعراف وغیرہ میں مفصل گزر چکا ہے۔ وہاں کے فوائد میں ہم اس کے اجزاء پر نہایت کافی و شافی کلام کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
آیت 121 فَاَکَلَا مِنْہَا فَبَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا ”
چنانچہ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہ السلام دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس پھل کے چکھتے ہی وہ دونوں بےلباس ہوگئے اور ان کی شرم گاہیں نظر آنے لگیں اس مضمون کی تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
87 جنت کا پھل کھانے کا رد عمل فوری طور پر تو یہ ہوا کہ ان سے جنت کا لباس چھین لیا گیا اور آدم و حوا دونوں بےحجاب ہوگئے اور انھیں ایک دوسرے کے مقامات ستر نظر آنے لگے اور سخت شرم محسوس ہوئی تو جنت کے درختوں کے پتے ایک دورے پر چپکا کر مقامات ستر کو ڈھانپنے لگے۔ ابھی بھوک اور پیاس کا احساس تو کچھ دیر کے بعد ہی ہونا تھا۔ اور انھیں فورا ً پتا چل گیا کہ شیطان انھیں جل دے گیا اور وہ اس کے فریب میں آگئے ہیں۔ اس وقت انھیں اللہ سے کیا ہوا وعدہ یاد آگیا اور فورا ً اللہ کی طرف رجوع کیا اور توبہ استغفار کرنے لگے۔
Read the full tafseer →143۔ یہ درخت وہی تھا جس کے قریب جانے کی بھی ممانعت ہوچکی تھی اور اس کے پھل ہی کھالینے کا یہ طبعی اثر تھا جو فورا ظاہر ہو کررہا۔
144۔ اس سے ظاہر ہے کہ ستر پوشی امر طبعی اور داخل فطرت بشری ہے اور جو قومیں برہنہ یا نیم برہنہ رہنے میں کوئی عیب نہیں سمجھتیں ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔
145۔ (تحصیل مقصود خلود کے باب میں) اے ضل عن مطلوبہ الذی ھو الخلود وعن الرشد حیث اغتربقول العدو (روح) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں ذکر ہے خطاء اجتہادی کے صدور کا کاملین سے، نیز اس پر مواخذہ کا، برخلاف عوام کے کہ انہیں اس پر احیانا اجر ملجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…
Read the full tafseer →فاکلا منہا فبدت لہما سواتہما وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ وعصی ادم ربہ فغوی۔ سو (اس کے بہکانے سے) دونوں نے اس درخت سے کھالیا ‘ فوراً دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل
گئے اور (اپنا بدن ڈھانکنے کو) دونوں اپنے اوپر جنت کے (درختوں کے) پتے چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کا قصور ہوگیا۔ سو وہ غلطی میں پڑگئے۔
دونوں نے کھالیا یعنی آدم و حواء نے۔ ورق الجنۃ سے مراد ہیں انجیر کے درخت کے پتے۔
عَصٰی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی یعنی آدم منزل مقصود سے بھٹک گئے صحیح راستہ کھو دیا اور ناکام ہوگئے درخت کا پھل کھانے سے دوامی زندگی کے طلبگار ہوئے ‘ حالانکہ وہ درخت سبب زوال تھا یا یہ مطلب ہے کہ جس بات کا ان کو حکم…
Read the full tafseer →(121) ان دونوں (آدم و حوا) نے اس درخت میں سے کھالیا، اس میں سے کھاتے ہی ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے، دونوں اپنے ستر پر زیتون کے پتے چپکانے لگے جب بھی ان پتوں کو چپکاتے فورا گر جاتے اور اس درخت میں سے کھانے کی وجہ سے حضرت آدم ؑ سے اپنے رب کا قصور ہوگیا تو وہ مقصود خلد کے بارے میں غلطی میں پڑگئے اور اس درخت کے کھانے کی وجہ سے جو ان کا مقصود تھا، اس کو حاصل نہ کرسکے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ۔۔ : قرآن میں شیطان کے وسوسہ انداز ہونے اور پھسلانے کی نسبت بعض آیات میں صرف آدم ؑ کی طرف کی گئی ہے اور بعض میں آدم و حوا دونوں کی طرف۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں تو شیطان آدم ؑ ہی کے دل میں وسوسہ انداز ہوا ہے، حوا [ کا ذکر ان کے تابع ہونے کی حیثیت سے ہے، لہٰذا عوام میں جو یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا [ کو پھسلایا اور پھر ان کے ذریعے سے آدم ؑ کو قابو کیا، وہ قطعی غلط اور لغو ہے اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ دونوں آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (20، 21)۔
وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۔۔ : آدم ؑ کا واقعہ نہایت عجیب ہے کہ اتنا عظیم شخص، جسے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فوسوس الیہ الشیطان سورة اعراف میں یہ گزر چکا ہے۔ قال یعنی شیطان نے کہا : یا ادم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی۔ یہ کلام بالمشافہ پر دلیل ہے۔ شیطان جنت میں سانپ کے منہ میں داخل ہوا تھا جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور درخت کے تعیین کی بحث بھی گزر چکی ہے۔ اور علماء کے جو اقوال ہیں وہ بھی گزر چکے ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ فاکلا منہا فبدت لہما سو اتھما وطفقا یخصفان علیہما من ورق الجنہ۔ یہ بھی سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ فراء نے کہا : طفقا کا عربی میں معنی ہے متوجہ ہوئے۔ فرمایا : بعض علماء نے کہا : وہ انجیر کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میری مراد سے دنیا کی مشقت ہے پاس ابن آدم دنیا کی مشقت اور تکلیف کو اٹھاتا ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے نے سفیان عینہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ” فتشقیان “ نہیں فرمایا (بلکہ فتشقی فرمایا) اس لئے کہ بیوی آپ کے حکم میں داخل تھی پس آپ کی بیوی اور آپ کی تمام اولاد مراد ہے جیسا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن اس سے مراد ساری امت ہے۔ (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم “ اور یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم (1)…
Read the full tafseer →[فَاَكَلَا : پھر کھایا ان دونوں نے ] [مِنْهَا : اس (درخت) سے ] [فَبَدَتْ : تو ظاہر ہوئیں ] [لَهُمَا : ان دونوں کے لئے ] [سَوْاٰتُهُمَا : ان دونوں کی ستریں ] [وَطَفِقَا : اور وہ دونوں لگے ] [يَخْصِفٰنِ : چپکانے ] [عَلَيْهِمَا : اپنے اوپر ] [مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ : باغ کے پتوں میں سے ] [وَعَصٰٓى: اور کہنا نہ مانا ] [اٰدَمُ : آدم (علیہ السلام) نے ] [رَبَّهٗ : اپنے رب کا ] [فَغَوٰى: تو وہ بھٹک گئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
سجدہ نہ کرنے پر جب شیطان ملعون اور مردود ہوگیا تھا تو اس نے پہلے ٹھان لی تھی کہ ان کو جنت سے نکلوانا ہے اور ان کی ذریت کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ تو وہاں سے نکال دیا گیا اور یہ دونوں حضرات رہتے رہے دونوں کو حکم ہوا تھا کہ جنت میں رہو سہو خوب کھاؤ پیو لیکن فلاں درخت کے پاس نہ جانا اگر اس میں سے کھالیا تو یہ تمہارا اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا۔ اب شیطان ان کے پیچھے لگا اور اس نے کہا کہ دیکھو اس درخت کے کھانے سے جو تمہیں منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اسے کھالے گا وہ یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا۔ اور اس کے کھانے سے تم دونوں فرشتے ہوجاؤ گے (کما فی سورة الاعراف) اور یہاں جو تمہیں عیش و آرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
83:۔ اس واقعہ کی مزید تفصیل سے سورة بقرہ کی تفسیر میں دیکھیں حاشیہ 85 تا 95 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی انابت ، کمال اور فضیلت اور اس کے ساتھ ساتھ ابلیس کی سرکشی کا ذکر کیا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں جو سہولتیں حاصل تھیں ان کا بیان ہوا ، مگر شیطان نے وسوسہ اندازی کے ذریعے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو جنت سے نکلوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ اے آدم ! ابلیس نے تو میرے حکم کی تعمیل کی ہے اور نہ تمہاری فضیلت کو تسلیم کیا ہے ، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، اس سے بچتے رہنا ، کہیں یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوادے ، اس کے بعد ابلیس نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو بہکانا شروع کیا اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوا…
Read the full tafseer →فَاَكَلَا مِنْہَا فَبَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ 0ۡ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰى 121۠ۖ أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔
بدا
بَدَا الشیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →فَاَکَلاَ مِنْھَا فَبَدَتْ لَھُمَا سَوْاٰ تُھُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ ز وَعَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی۔ (طٰـہٰ : 121)
(پس ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان کی شرمگاہیں ان پر عریاں ہوگئیں تو وہ اپنے اوپر جنت کے پتیّ گانٹھنے، گونتھنے لگے اور آدم نے اپنے رب کی حکم عدولی کی، سو وہ بھٹک گئے۔ )
ابلیس کے فریب کا اثر
آخر ابلیس کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور حضرت آدم اور حضرت حوا شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنت کا جو خلعت انھیں پہنایا گیا تھا، وہ اس سے محروم کردیئے گئے۔ جیسے ہی انھوں نے اپنے آپ کو برہنہ دیکھا تو شرم و حیاء کے شدید تأثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلانے میں کامیاب ہونا۔
حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ بڑے آرام و سکون کے ساتھ جنت میں رہ رہے تھے۔ جہاں چاہتے، جو چاہتے، کھاتے پیتے اور ہر جگہ ملائکہ انہیں آداب وسلام پیش کرتے۔ شیطان سے یہ منظر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ اس نے اپنے خبث باطن اور ازلی دشمنی کی بنا پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر ورغلانا شروع کیا کہ جناب آدم ! بیشک آپ جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن یہ چار دن کی بات ہے بالآخر تجھے اس سے نکال باہر کیا جائے گا۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اس درخت کے متعلق بتلاؤں جسے کھا کر آپ ایسی بادشاہی پائیں گے جسے…
Read the full tafseer →121: فَاَ کََلاَ (پس ان دونوں نے اس درخت سے کھالیا) دونوں سے آدم و حواء مراد ہیں۔ مِنْہَا فَبَدَتْ لَھُمَا سَوْاٰتُھُمَا (فورًا دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے) سواٰۃ، سترو عورت۔ وَطَفِقَا (اور لگے) طَفِقَ اور جَعَلَ دونوں کادؔ کی طرح ہیں خبر مضارع آتی ہے البتہ یہ دونوں شروع استمرار کا معنی پیدا کرنے کیلئے آتے ہیں اور کادؔ قرب کو ظاہر کرتا ہے۔
عصیان کا معنی :
یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ (چپکائے اپنے اور جنت کے پتے) ستر کیلئے دونوں جنت کے درختوں کے پتوں کو چپکانے لگے اور درخت سے یہاں انجیر مراد لیا گیا ہے۔ وَعَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی (اور آدم سے اپنے رب کا قصور…
Read the full tafseer →121۔ فاکلا، حضرت آدم اور حواء علیہماالسلام نے کھالیا، منھافبدت لھماسواتھما۔۔۔ تا۔۔۔ ربہ۔ اس درخت سے کھالیا، فغوی، ان سے ایسا فعل صادر ہوا جوان سے صادر ہونے والانہ تھا۔ حضرت آدم منزل مقصود کے راستے سے بھٹک گئے اور صحیح راستہ کھودیا، ہمیشگی والی زندگی کی خاطر ممنوعہ شجرہ سے کھاکر خسارے میں پڑگئے اور اس مراد کونہ پہنچ سکے۔ ابن العربی کا بیان ہے کہ غوی کا معنی ہے کہ ان کی آرام دہ زندگی ختم ہوگئی اور عزت سے ذلت کی طرف اور سکھ سے دکھ کی طرف چلے گئے۔
ابن قتیبہ نے کہا کہ اگرچہ ، عصی آدم ربہ، کہنا درست ہے لیکن آدم کو عاصی کہنا غلط ہے کیوں کہ عاصی اس شخص کو کہتے ہیں جو عصیان کا عادی اور خوگر ہو۔ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
آیات (115)
یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو وصیت کی اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لئے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے بھول ہوگئی اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم ( علیہ السلام) اپنے عزم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
124 معصیت خداوندی کا نتیجہ حلہ جنت سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس شجرئہ ممنوعہ سے کھا لینے کے بعد آدم اور حوا دونوں حلہ جنت سے محروم ہوگئے اور اس کے نتیجے میں ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوگئے۔ اور جنت کا وہ لباس ان دونوں سے اتر گیا جو ان کو اس سے پہلے میسر تھا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ننگا کرنا اور حیا سے عاری کردینا شیطان کا پرانا حربہ ہے۔ جس سے وہ بنی آدم کو بہکانے بھٹکانے کیلئے کام لیتا ہے۔ آج اسی شیطانی حربے کی بنا پر عریانیت کے طرح طرح کے نمونے اور مظاہر جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں۔ مگر دنیا اور خود مسلمان ہے کہ شیطان کے اس حربے اور طریقہ واردات سے غافل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔
(دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے)
تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اپنے رب کا حکم بجا لانے میں غفلت اور کوتاہی برتی اور اپنی شان کے مطابق عزت و استقامت کی راہ پر قائم نہ رہے۔ آدم سے یہ کوتاہی ان کے نبی بننے سے پہلے ہوئی ہے مگر آدم کو جو بلند مقام حاصل تھا اس کے لحاظ سے ان کی معمولی لغزش بھی بڑی اہمیت رکھتی تھی۔ اس لئے سرزنش کی گئی، ورنہ اگر معمولی درجے کا انسان یہ کوتاہی برتتا تو اس کے لئے یہ سخت لفظ استعمال نہ کیا جاتا مشہور ہے۔ حسنات الابرارسیتات المقربین کہ ابرار کی نیکیاں مقربین کے حق میں گناہ شمار ہوتی ہیں۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(20:121) فبدت۔تعقیب کے لئے ہے۔ بدت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ ظاہر ہوئی۔ بدو وبدائ۔ مصدر (باب نصر) اور جگہ قرآن مجید میں ہے وبدالہم سیئات ما کسبوا (39:47) اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی۔ البدو حضر۔ کی ضد ہے۔ اور بادیہ (صحرائ) کو بدو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہاں ہر چیز ظاہر نظر آتی ہے۔ سواتہما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان دونوں کی شرمگاہیں۔ سوات سوء ۃ کی جمع ہے۔ سوء ۃ کے معنی فضیحت۔ عیب ۔ برا فعل۔ لاش۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ :۔
کنایۃ سوء ۃ کا لفظ عورت یا مرد کی شرم گاہ پر بھی بولا جاتا ہے۔ علامہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ :۔
اصل میں سوء ۃ کے معنی فرج (شرمگاہ ) کے ہیں۔ بعد میں اس کو ہر اس شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
اس آیت میں آدم (علیہ السلام) اور شیطان کو زمین پر اتارنے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا، لیکن آسمانی کتابیں اور رسول بھیج کر قیامت تک اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو شیطان کے پھندے سے بچنے کی ہدایت فرماتا رہے گا۔ اس لئے جو لوگ اس ہدایت کے پابند بن کر شیطان کو اپنا دشمن اور رسولوں کو اپنا پیشوا قرار دیں گے، وہ دنیا میں شیطان کے پھندے سے اور عقبیٰ میں اس خمیازہ سے بچتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" اللہ کی بڑائی سے بڑھ کر شیطان کے پھندوں سے بچانے والی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے "۔ جب شیطان ملعون ٹھہرایا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
[55] یہ قصہ سورة اعراف آیت 11 تا 25 صفحہ 334، 336، 338 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
(ف 3) یہاں آدم (علیہ السلام) کی طرف معذرت بیان فرمائی ہے کہ ان سے اجتہادی لغزش کا صدور ہوگیا ، ورنہ قصدا نافرمانی کی جرات انبیاء میں نہیں ہوتی ، کیونکہ منصب نبوت کے معنے ہی یہ ہیں ، کہ اللہ کی فرمانبرداری کے جذبات کو عام کیا جائے ، اور بڑے بڑے سرکشوں کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا جائے ، پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو اطاعت شعاری کی تلقین کے لئے آیا ہے وہ خود نافرمانی وعصیاں کا ارتکاب کرے ؟
حل لغات :
لا تظمؤا : ظما ، پیاس کو کہتے ہیں یہاں مراد پیاس کی تلخی اور ناگواری ہے مطلقا اشتہا مقصود نہیں ۔
شجرۃ الخلد : خلد کا درخت ، جس کا پھل کھا کر دوامی نعمت حاصل ہوجائے ۔
یخصفن : خصیف کے معنی اصل میں…
Read the full tafseer →121 اس وسوسے اور کہنے کا اثر یہ ہوا کہ دونوں میاں بیوی نے اس درخت میں سے کھالیا بس کھاتے ہی دونوں کی شرمگاہیں ان پر کھل گئیں اور وہ دونوں جنت کے پتے ملا ملا کر اپنے اوپر رکھنے لگے اور آدم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے حکم کی بجا آوری میں قصور کیا اور وہ غلطی میں پڑگیا۔ یعنی آدم (علیہ السلام) پر شیطان کا دائوں چل گیا اور اس سے کوتاہی سر زد ہوگئی اور ہمیشگی حاصل کرنے کے لئے غلطی میں پڑگئے، شرم گاہیں کھل گئیں اور برہنہ ہونے کی حالت میں اپنے اپنے بدن پر پتے چپکانے لگے اور معذرت کرنے لگے معذرت کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ف 3۔ کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ شادو آباد رہو۔
Read the full tafseer →آدم وحوا دونوں نے اس ممنوعہ درخت کا پھل چکھا اور آنکھیں کھلیں تو حقیقت کا پتہ چلا :
121۔ فطرت انسانی بھی بڑی عجیب ہے کہ کبھی وہ ایک چیز کو چکھتا ہے اور پھر تھوک دیتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس کو اپنے مزاج کے خلاف پاتا ہے لیکن یہاں ایسی بات نہیں تھی اس لئے جس کو پیچھے (ذاقا الشجرۃ) کہا تھا اس جگہ اسے (فاکلھا منھا) فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) نے اس وقت اس کو چکھ کر تھوک نہیں دیا تھا بلکہ مزہ مزاج کے مطابق تھا اور وہ کھا گئے اور چونکہ مل کر کھانے میں مزہ بھی سوا ہوتا ہے اس لئے اس جگہ دونوں کے مل کر کھانے ہی کا ذکر فرمایا اور اس طرح سورة الاعراف کی آیت 20 میں بھی بیان ہوا ہے اور ہم نے وہاں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ ﴿120﴾ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ (Then the Shaitan instigated him...And 'Adam disobeyed his Lord and erred- 120, 121.) Here it is pertinent to ask that when Allah had specifically told Sayyidna 'Adam and Sayyidah Hawwa' (علیہما السلام) to abstain from a particular tree or to eat any part of its yield, and had also warned them to beware of shaitan's machinations who was…
Read the full tafseer →101. No sooner did they disobey the command, they were deprived of all the facilities, but naturally the immediate effect of this as felt by them was that they were stripped of their garments. Then gradually, as they felt thirsty, hungry etc. they realized that they had been deprived of all the facilities that they enjoyed in the Garden.
102. It is worth while to understand the nature of human weakness which helped Satan to seduce Adam and Eve. They succumbed to seduction because Satan tempted them in the garb of a true friend and well-wisher even though they knew well that he was their…
Read the full tafseer →