Explained with ayahs 115–122
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟
حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 99
یہاں قرآن صاف تصریح کرتا ہے کہ آدم و حوا میں سے اصل وہ شخص جس کو شیطان نے وسوسے میں ڈالا آدم ؑ تھے نہ کہ حضرت حوا۔ اگرچہ سورة اعراف کے بیان کے مطابق مخاطب دونوں ہی تھے اور بہکانے میں دونوں ہی آئے، لیکن شیطان کی وسوسہ اندازی کا رخ دراصل حضرت آدم ہی کی طرف تھا۔ اس کے برعکس بائیبل کا بیان یہ ہے کہ سانپ نے پہلے عورت سے بات کی اور پھر عورت نے اپنے شوہر کو بہکا کر درخت کا پھل اسے کھلایا (پیدائش، باب 3)۔
سورة طٰهٰ 100
سورة اعراف میں شیطان کی گفتگو کی مزید تفصیل ہم کو یہ ملتی ہے وَقَالَ مَا نَھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَہِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ الی قولہ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى، اس آیت میں جو یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو کسی خاص درخت کے کھانے اور اس کے پاس جانے سے بھی روک دیا تھا اور اس پر مزید یہ تنبیہ بھی فرما دی تھی کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے اس کے مکر و کید سے بچتے رہنا وہ کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے اتنی واضح ہدایتوں کے بعد بھی یہ پیغمبر عالی مقام شیطان کے دھوکہ میں کس طرح آگئے اور یہ کہ یہ تو کھلی نافرمانی اور گناہ ہے۔ حضرت آدم ؑ اللہ کے نبی و رسول ہیں ان سے یہ گناہ کیسے سرزد ہوا جبکہ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ہر چھوٹے بڑے گناہ…
Read the full tafseer →آیت 120
آدم پر ابلیس کا کامیاب حملہ
ابلیس اگرچہ استکبار اور حکم خداوندی کی نافرمانی کے باعث جنت سے راندہ ہوچکا تھا لیکن اس نے قیامت تک کے لئے آدم اور اولاد آدم پر اپنا چلتر آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مہلت حاصل کرلی تھی اس وجہ سے وہ حضرت آدم کے پاس جنت میں بھی وسوسہ اندازی کے لئے پہنچ گیا اور ان کو سمجھایا کہ ایک خاص درخت کے پھل سے جو تمہیں روک دیا گیا ہے اس کا راز یہ ہے کہ ابدی زندگی اور ابدی بادشاہی کا درخت وہی ہے۔ اگر تم ابدی زندگی اور لازوال بادشاہی چاہتے ہو تو اس درخت کا پھل چکھو ورنہ آخر اس کی کیا ضمانت ہے کہ تم اس جنت میں ہمہشا رہ گے ! اول تو انسان کے اندر یہ کمزوری موجود ہے کہ وہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
121۔ 1 یعنی درخت کا پھل کھا کر نافرمانی کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب یا راہ راست سے بہک گئے
Read the full tafseer →51: ساتھ ہی شیطان نے یہ تاویل بھی سجھائی کہ اس درخت کی جو ممانعت کی گئی تھی۔ وہ اس لیے تھی کہ تم میں اس وقت اس درخت کا پھل کھانے کی طاقت نہیں تھی۔ اب ایک عرصہ گذر جانے کے بعد یہ رکاوٹ باقی نہیں رہی
Read the full tafseer →شیطان نے انسان کی نہایت ہی حساس رگ پر ہاتھ رکھا۔ انسانی عمر بہرحال محدود ہے۔ انسانی قوت بہرحال محدود ہے۔ انسان طویل زندگی اور طویل اقتدار کا بےحد دلدادہ رہا ہے۔ ان دونوں راستوں سے شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ آدم بہرحال انسان تھے۔ آدم انسانی فطرت اور انسانی کمزوری کے حامل تھے۔ پھر اس تجربہ کے ساتھ دنیا کے منصوبے اور نظام تقدیر کا بھی تعلق تھا۔ چناچہ آدم بھول گیا اور اس نے ممنوعہ علاقے میں قدم رکھ لیا۔
Read the full tafseer →11 یعنی ایسا درخت بتاؤں، جس کے کھانے سے کبھی موت نہ آئے اور لازوال بادشاہت ملے۔
Read the full tafseer →قَالَ یٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی ”
کہ اس درخت کا پھل کھانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوام حاصل ہوجائے گا اور زندگی کے لیے کبھی فنا کا خدشہ نہیں ہوگا۔ گویا شیطان نے اپنی پہلی سازش کا جال انسان کی اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر بنا تھا جس کا ذکر سورة مریم کی آیت 92 کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ یہاں اہرام مصر کے حوالے سے درج ذیل الفاظ ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیجیے :
They defined cry of mans will
To survive and conquer the storms of time
یعنی انسان وقت کے طوفانوں کو فتح کرلینا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کی ہستی کو اس دنیا میں دوام اور تسلسل نصیب ہو۔…
Read the full tafseer →86 شیطان آدم کا بڑا ہوشیار اور مکار دشمن تھا اس نے وسوسہ ہی ایسا دلفریب ڈالا جس نے آدم کے دل کو موہ لیا۔ علاوہ ازیں مدت مدید گزرنے کی وجہ سے سیدنا آدم (علیہ السلام) اپنے پروردگار سے کیا ہوا وعدہ بھول ہی چکے تھے۔ شیطان نے پٹی یہ پڑھائی کہ اگر تم اس درخت کا پھل چکھ لو گے۔ تو اس جنت میں ہمیشہ کے لئے مقیم ہوجاؤ گے اور تمہیں ابدی زندگی حاصل ہوجائے گی اور جنت کی نعمتوں پر تمہارا تصرف و اختیار قائم و دائم رہے گا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر کہ اس مقام پر شیطانی وسوسہ کی نسبت صرف سیدنا آدم (علیہ السلام) کی طرف کی گئی ہے اور ایک دوسرے مقام پر دونوں کی طرف کی ہے۔ اس لئے کہ اس معاملہ میں حوا کی حیثیت صرف…
Read the full tafseer →142۔ شیطان کا دام فریب یہی تھا اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے قسم کھاکرکہا کہ میں آپ کو ایسے درخت کا پتہ بتائے دیتا ہوں جس کے پھل پتی میں یہ تاثیر ہے کہ آپ غیرفانی ہوجائیں گے ،۔ اور ہمیشہ یہی جنت میں مقیم رہیں گے، حضرت آدم (علیہ السلام) سے بڑھ کر مقام قرب حق میں قیام کا حریص اور کون ہوسکتا تھا اور اس کا تو آپ تصور ہی نہیں فرما سکتے ہیں کہ جھوٹی قسم کھا کر کوئی اللہ کے نام کی بےوقعتی بھی کرسکتا ہے۔ جھٹ آپ اس کے کہے میں آگئے اور اس کے مشورہ کو رضاء حق ہی کی راہ کا ایک مشورہ سمجھے۔ (ملاحظہ ہوضمیمہ سورة الاعراف) مرشد تھانوی (رح) نے یہاں ایک نکتہ بہت خوب پیدا کیا ہے۔ فرمایا کہ آیت میں مذکور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…
Read the full tafseer →فوسوس الیہ الشیطن قال یادم ہل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی۔
پھر ان کو شیطان نے بہکایا کہنے لگا ‘ اے آدم کیا میں تم کو ہمیشگی (کی زندگی عطا کرنے) والا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں کبھی زوال اور ضعف نہیں آئے گا۔
فَوَسْوَسَ اِلَیْہِیعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا جو آدم (کے دل) تک پہنچ گیا قال یٰاَدَمُیہ وسوسہ کا بیان ہے۔ شَجَرَۃِ الْخُلْدِخلد بمعنی خلود۔ یعنی ایسا درخت جس کا پھل کھانے والا ہمیشہ زندہ رہے گا ‘ گویا ابلیس نے اپنے خیال کے مطابق درخت کو حیات دوام کا سبب قرار دیا۔ لاَّ یَبْلٰیجس کو کبھی زوال نہ ہوگا نہ اس میں ضعف آئے گا۔
Read the full tafseer →(120) پھر اس درخت سے کھانے کے بارے میں شیطان نے ان کو بہکایا اور کہنے لگا، اے آدم کیا آپ کو ایسا درخت بتلاؤں کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ یہاں (آدم وحوا) آباد رہو گے کبھی موت نہ آئے گا اور ایسی بادشاہی ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ۔۔ : قرآن میں شیطان کے وسوسہ انداز ہونے اور پھسلانے کی نسبت بعض آیات میں صرف آدم ؑ کی طرف کی گئی ہے اور بعض میں آدم و حوا دونوں کی طرف۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں تو شیطان آدم ؑ ہی کے دل میں وسوسہ انداز ہوا ہے، حوا [ کا ذکر ان کے تابع ہونے کی حیثیت سے ہے، لہٰذا عوام میں جو یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا [ کو پھسلایا اور پھر ان کے ذریعے سے آدم ؑ کو قابو کیا، وہ قطعی غلط اور لغو ہے اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ دونوں آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (20، 21)۔
وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۔۔ : آدم ؑ کا واقعہ نہایت عجیب ہے کہ اتنا عظیم شخص، جسے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فوسوس الیہ الشیطان سورة اعراف میں یہ گزر چکا ہے۔ قال یعنی شیطان نے کہا : یا ادم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی۔ یہ کلام بالمشافہ پر دلیل ہے۔ شیطان جنت میں سانپ کے منہ میں داخل ہوا تھا جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور درخت کے تعیین کی بحث بھی گزر چکی ہے۔ اور علماء کے جو اقوال ہیں وہ بھی گزر چکے ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ فاکلا منہا فبدت لہما سو اتھما وطفقا یخصفان علیہما من ورق الجنہ۔ یہ بھی سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ فراء نے کہا : طفقا کا عربی میں معنی ہے متوجہ ہوئے۔ فرمایا : بعض علماء نے کہا : وہ انجیر کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میری مراد سے دنیا کی مشقت ہے پاس ابن آدم دنیا کی مشقت اور تکلیف کو اٹھاتا ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے نے سفیان عینہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ” فتشقیان “ نہیں فرمایا (بلکہ فتشقی فرمایا) اس لئے کہ بیوی آپ کے حکم میں داخل تھی پس آپ کی بیوی اور آپ کی تمام اولاد مراد ہے جیسا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن اس سے مراد ساری امت ہے۔ (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم “ اور یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم (1)…
Read the full tafseer →[فَوَسْوَسَ : پھر برا خیال ڈالا ] [اِلَيْهِ : ان (علیہ السلام) کی طرف ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [قَالَ : اس نے کہا ] [يٰٓاٰدَمُ : اے آدم (علیہ السلام) ] [هَلْ : کیا ] [اَدُلُّكَ : میں رہنمائی کروں آپ (علیہ السلام) کی ] [عَلٰي شَجَرَةِ الْخُلْدِ : ہمیشگی کے درخت تک ] [وَمُلْكٍ : اور ایسی بادشاہت تک جو ] [لَّا يَبْلٰى: بوسیدہ نہ ہوگی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
سجدہ نہ کرنے پر جب شیطان ملعون اور مردود ہوگیا تھا تو اس نے پہلے ٹھان لی تھی کہ ان کو جنت سے نکلوانا ہے اور ان کی ذریت کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ تو وہاں سے نکال دیا گیا اور یہ دونوں حضرات رہتے رہے دونوں کو حکم ہوا تھا کہ جنت میں رہو سہو خوب کھاؤ پیو لیکن فلاں درخت کے پاس نہ جانا اگر اس میں سے کھالیا تو یہ تمہارا اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا۔ اب شیطان ان کے پیچھے لگا اور اس نے کہا کہ دیکھو اس درخت کے کھانے سے جو تمہیں منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اسے کھالے گا وہ یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا۔ اور اس کے کھانے سے تم دونوں فرشتے ہوجاؤ گے (کما فی سورة الاعراف) اور یہاں جو تمہیں عیش و آرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
83:۔ اس واقعہ کی مزید تفصیل سے سورة بقرہ کی تفسیر میں دیکھیں حاشیہ 85 تا 95 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی انابت ، کمال اور فضیلت اور اس کے ساتھ ساتھ ابلیس کی سرکشی کا ذکر کیا۔ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں جو سہولتیں حاصل تھیں ان کا بیان ہوا ، مگر شیطان نے وسوسہ اندازی کے ذریعے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو جنت سے نکلوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ اے آدم ! ابلیس نے تو میرے حکم کی تعمیل کی ہے اور نہ تمہاری فضیلت کو تسلیم کیا ہے ، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، اس سے بچتے رہنا ، کہیں یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوادے ، اس کے بعد ابلیس نے آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کو بہکانا شروع کیا اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوا…
Read the full tafseer →فَوَسْوَسَ اِلَيْہِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّكَ عَلٰي شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى 120
وسوس
الوَسْوَسَةُ : الخطرةُ الرّديئة، وأصله من الوَسْوَاسِ ، وهو صوت الحلي، والهمس الخفيّ. قال اللہ تعالی: فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] ، وقال : مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] ويقال لهمس الصّائد وَسْوَاسٌ.
( وس وس ) الوسوسۃ
اس برے خیال کو کہتے ہیں جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور اصل میں سے ماخوز ہے جس کے معنی زیور کی چھنکار یا ہلکی سی آہٹ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰٓـاٰدَمُ ھَلْ اَدُلُّـکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَ مُلْکٍ لاَّیَبْلٰی۔ (طٰـہٰ : 120)
(تو شیطان نے آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا، کہا کہ اے آدم ! کیا میں تمہیں ہمیشگی کے درخت اور ایسی بادشاہی کا سراغ دوں جس پر کبھی کہنگی نہ آئے۔ )
ابلیس کی تزویر
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم ابھی جنت میں تھے اور اللہ تعالیٰ کی سکیم کے مطابق خلافت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ابھی زمین پر تشریف نہیں لائے تھے کہ شیطان جس نے اللہ تعالیٰ سے حضرت آدم اور ان کی ذُرِّیت کو گمراہ کرنے کے لیے مہلت حاصل کرلی تھی اپنے کام کا آغاز کرچکا تھا۔ وہ نہ جانے کب تک اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلانے میں کامیاب ہونا۔
حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ بڑے آرام و سکون کے ساتھ جنت میں رہ رہے تھے۔ جہاں چاہتے، جو چاہتے، کھاتے پیتے اور ہر جگہ ملائکہ انہیں آداب وسلام پیش کرتے۔ شیطان سے یہ منظر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ اس نے اپنے خبث باطن اور ازلی دشمنی کی بنا پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر ورغلانا شروع کیا کہ جناب آدم ! بیشک آپ جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن یہ چار دن کی بات ہے بالآخر تجھے اس سے نکال باہر کیا جائے گا۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اس درخت کے متعلق بتلاؤں جسے کھا کر آپ ایسی بادشاہی پائیں گے جسے…
Read the full tafseer →120: فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ (پس شیطان نے ان کو بہکایا) اس نے وسوسہ ڈالا۔ اَنہی الیہ الوسوسۃ سر الیہ کی طرح ہے پوشیدہ وسوسہ ڈالا۔ قَالَ یٰٓاٰدَمُ ھَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَ ۃِ الْخُلْدِ (کہا اے آدم کیا میں تمہیں ہمیشگی کا درخت بتلا دوں) یہاں شجرہ کی نسبت خلد کی طرف کی خلدؔ، خلود کو کہتے ہیں۔ کیونکہ جس نے اس سے کھالیا۔ اس کے خیال کے مطابق وہ ہمیشہ رہا۔ اور اس پر موت نہ آئے گی۔ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی (اور ایسی بادشاہی جو پرانی نہ ہو) یعنی زوال و فناء نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
120۔ فوسوس الیہ الشیطان۔۔۔۔ الخلد۔ وہ درخت جس کے کھانے کی وجہ سے انسان ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ وملک لایبلی، ، جس کو کبھی زوال نہی ہوگا اور نہ ہی وہ فنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
آیات (115)
یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو وصیت کی اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لئے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے بھول ہوگئی اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم ( علیہ السلام) اپنے عزم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
122 حکم خداوندی کی خلاف ورزی کا نتیجہ تعب و مشقت ۔ والعیاذ باللہ : سو آدم سے فرمایا گیا کہ " کہیں شیطان تمہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ۔ پس اس کے مکر و فریب سے بہرحال ہوشیار رہنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں میاں بیوی کو جنت سے نکلوا دے اور اس کے نتیجے میں تم دنیا میں طرح طرح کی مشقتوں میں پڑجاؤ۔ اور بیوی چونکہ مرد کے تابع ہوتی ہے اس لیے اس کی اصل ذمہ داری مرد ہی پر ہوتی ہے۔ اسی لیے یہاں { تشقی } مفرد کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ " تشقیا " تثنیہ کا صیغہ نہیں اختیار فرمایا گیا۔ بہرکیف شیطان کی پیروی اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معصیت کا نتیجہ تعب و مشقت میں مبتلا ہونا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔
(دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے)
تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…
Read the full tafseer →ف 1 قرآن میں شیطان کے وسوسہ انداز ہونے اور پھیلانے کی نسبت بعض آیات میں صرف آدم کی طرف کی گئی ہی اور بعض میں دونوں کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں تو شیطان آدم ہی کے دل میں وسوسہ انداز ہوا ہے حوا کا ذکر بالتبیع ہے۔ لہٰذا عوام میں جو یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا کو پھسلایا اور پھر ان کے ذریعے آدم کو قابو میں کیا وہ قطعی غلط اور لغو ہے اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔2 اور سرہ اعراف میں ہے : مانھا کما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکوما ملکین اوتکونا من الخالدین کہ تمہارے رب نے تمہیں اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے یا ہمیشہ رہنے والے نہ بن جائو۔ (آیت :20)
Read the full tafseer →(20:120) وسوس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وسوسۃ فعللۃ مصدر۔ اس نے دل میں برا خیال پیدا کیا۔ اس نے وسوسہ دلایا۔
ھل ادلک۔ ھل برائے استفہام۔ ادل مضارع واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر ھاضر۔ کیا میں تمہیں بتائوں۔ کیا میں تمہاری راہنمائی کروں۔ دلالۃ مصدر سے (باب نصر) جس کے معنی رہنمائی کرنے کے ہیں۔
شجرۃ الخلد۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ہمیشگی کا درخت۔ ایسا درخت جس کا پھل کھانے سے دوامی زندگی مل جائے۔ ملک۔ بادشاہی۔ لا یبلی۔ مضارع منفی معروف ۔ واحد مذکر غائب۔ بلی وبلاء (باب سمع) بمعنی پرانا ہونا بوسیدہ ہونا۔ گھس جانا۔ فناء ہونا۔ لا یبلی۔ کبھی پرانا نہ ہو۔ جو فنا نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
اس آیت میں آدم (علیہ السلام) اور شیطان کو زمین پر اتارنے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا، لیکن آسمانی کتابیں اور رسول بھیج کر قیامت تک اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو شیطان کے پھندے سے بچنے کی ہدایت فرماتا رہے گا۔ اس لئے جو لوگ اس ہدایت کے پابند بن کر شیطان کو اپنا دشمن اور رسولوں کو اپنا پیشوا قرار دیں گے، وہ دنیا میں شیطان کے پھندے سے اور عقبیٰ میں اس خمیازہ سے بچتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" اللہ کی بڑائی سے بڑھ کر شیطان کے پھندوں سے بچانے والی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے "۔ جب شیطان ملعون ٹھہرایا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–120
[53] کہ شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانا۔
[54] یعنی آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو خلاف ورزی کی وہ دانستہ سرکشی کی بنا پر نہیں بلکہ بھول جانے اور نامستقل مزاجی کی وجہ سے تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
(ف 3) یہاں آدم (علیہ السلام) کی طرف معذرت بیان فرمائی ہے کہ ان سے اجتہادی لغزش کا صدور ہوگیا ، ورنہ قصدا نافرمانی کی جرات انبیاء میں نہیں ہوتی ، کیونکہ منصب نبوت کے معنے ہی یہ ہیں ، کہ اللہ کی فرمانبرداری کے جذبات کو عام کیا جائے ، اور بڑے بڑے سرکشوں کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا جائے ، پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو اطاعت شعاری کی تلقین کے لئے آیا ہے وہ خود نافرمانی وعصیاں کا ارتکاب کرے ؟
حل لغات :
لا تظمؤا : ظما ، پیاس کو کہتے ہیں یہاں مراد پیاس کی تلخی اور ناگواری ہے مطلقا اشتہا مقصود نہیں ۔
شجرۃ الخلد : خلد کا درخت ، جس کا پھل کھا کر دوامی نعمت حاصل ہوجائے ۔
یخصفن : خصیف کے معنی اصل میں…
Read the full tafseer →- 120 پھر شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے جی میں وسوسہ ڈالا ان سے کہنے لگا اے آدم (علیہ السلام) کیا میں تجھ کو ہمیشہ زندہ رکھنے والا درخت بتادوں نیز ایسی بادشاہت بتادوں جو کبھی پرانی نہ ہو۔ ممنوعہ درخت کے کھانے پر یہ کہہ کر ابھارا کہ تم کو ایسا درخت بتادوں جس کی خاصیت یہ ہو کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ زندہ اور خوش و خرم رہو اور ایسی بادشاہی ملے جو لازوال نہ ہو نہ اس میں ضعف آئے نہ کبھی پرانی ہو۔ لازوال حکومت اور لازوال زندگی کا لالچ دیکر شجر ممنوعہ کے کھانے پر ممنوعہ کے کھانے پر آدم (علیہ السلام) و حوا کو آمادہ کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ف 3۔ کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ شادو آباد رہو۔
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کو شیطان نے ہمیشگی کی جنت اور نہ ختم ہونے والی بادشاہی کا پتہ بتایا :
120۔ اس آیت میں ابلیس کی حیثیت کو وسوسہ کے لفظ نے اتنا واضح کردیا کہ مزید کسی تشریح اور تفسیر کی ضرورت ہی نہ چھوڑی ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سماعت و بصارت اور شامہ وذائقہ کی قوتیں رکھیں اسی طرح وسواس وشہوت کو بھی ودیعت کیا اور پھر ان سب کا جوڑ اس کل کے اندر ایسا جوڑا کہ (احسن الخالقین) کا لقب پایا ۔
زیر نظر آیت میں وسوسہ کا بیان ہے کہ اس ” وسوسہ “ نے آدم (علیہ السلام) کو آگھیرا اور ان کو یہ باور کرانے میں اس کو ذرا دیر نہ لگی کہ یہ ہمیشگی کا درخت ہے اور یہ نہ ختم ہونے والی بادشاہی اس طرح اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ ﴿120﴾ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ (Then the Shaitan instigated him...And 'Adam disobeyed his Lord and erred- 120, 121.) Here it is pertinent to ask that when Allah had specifically told Sayyidna 'Adam and Sayyidah Hawwa' (علیہما السلام) to abstain from a particular tree or to eat any part of its yield, and had also warned them to beware of shaitan's machinations who was…
Read the full tafseer →99. According to this verse, it was Adam whom Satan primarily wanted to seduce and not Eve. Though according to (Surah Al-Aaraf, Ayat 20), he tempted both of them and both were seduced, but Satan’s efforts were mainly directed to Adam. On the contrary, according to the Bible, the serpent first tempted the woman to eat the fruit of the forbidden tree and then she seduced her husband. (Genesis, 3).
100. According to this verse, Satan tempted Adam to eat the fruit of the tree so that he might get eternal life and everlasting kingdom, and according to (Surah Al-Aaraf, Ayat 20), he put an…
Read the full tafseer →