Explained with ayahs 1–6
قیامت سے غافل انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر
(الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)
" موت کی چکی زور…
Read the full tafseer →سورة الْاَنبیَآء 1
مراد ہے قرب قیامت۔ یعنی اب وہ وقت دور نہیں ہے جب لوگوں کو اپنا حساب دینے کے لیے اپنے رب کے آگے حاضر ہونا پڑے گا۔ محمد ﷺ کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ نوع انسانی کی تاریخ اب اپنے آخری دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اب وہ اپنے آغاز کی بہ نسبت اپنے انجام سے قریب تر ہے۔ آغاز اور وسط کے مرحلے گزر چکے ہیں اور آخری مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ یہی مضمون ہے جس کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے۔ آپ نے اپنی دو انگلیاں کھڑی کر کے فرمایا بُعِثت انا والسَّاعَۃُ کَھَاتینِ ، " میں ایسے وقت پر مبعوث کیا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ " یعنی میرے بعد بس قیامت ہی ہے۔ کسی اور نبی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ان (منکر) لوگوں سے ان کا (وقت) حساب نزدیک آپہنچا (یعنی قیامت وقتاً فوقتاً نزدیک ہوتی جاتی ہے) اور یہ (ابھی) غفلت (ہی) میں (پڑے) ہیں (اور اس کے یقین کرنے اور اس کے لئے تیاری کرنے سے) اعراض کئے ہوئے ہیں (اور ان کی غفلت یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ) ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو نصیحت تازہ (حسب حال ان کے) آتی ہے (بجائے اس کے ان کو تنبہ ہوتا) یہ اس کو ایسے طور سے سنتے ہیں کہ (اس کے ساتھ) ہنسی کرتے ہیں (اور) ان کے دل (اصلاً ادھر) متوجہ نہیں ہوتے اور یہ لوگ یعنی ظالم (اور کافر) لوگ (آپس میں) چپکے چپکے سرگوشی کرتے ہیں (اس لئے نہیں کہ ان کو اہل اسلام کا خوف تھا کیونکہ مکہ میں کفار ضعیف نہ تھے…
Read the full tafseer →سابق سورة کے مضمون کی تکمیل
یہ سورة بغیر کسی تسمیہ و تمہید کے شروع ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، یہ ہے کہ یہ درحقیقت اسی انذار کے مضمون کی تکمیل ہے جس پر سابق سورة تمام ہوئی ہے۔ سابق سورة کی آخری آیات اور اس سورة کی ابتدائی آیات نے ایک حلقہ اتصال کی صورت اختیار کرلی ہے۔ سورة برأت کی تفسیر میں ہم اس نوع کے اتصال کی بعض خوبیوں کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔
للناس اسے مراد مشرکین مکہ میں
للناس سے مراد، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے مشرکین مکہ ہیں۔ یہ لوگ چونکہ خدا کی یاد دہانی سے اعراض پر اڑے ہوئے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے اعراض کرتے ہوئے عام لفظ سے ان کا ذکر…
Read the full tafseer →1۔ 1 وقت حساب سے مراد قیامت ہے جو ہر گھڑی قریب سے قریب تر ہو رہی ہے۔ اور وہ ہر چیز جو آنے والی ہے، قریب ہے۔ اور ہر انسان کی موت بجائے خود اس کے لئے قیامت ہے۔ علاوہ ازیں گزرے ہوئے زمانے کے لحاظ سے بھی قیامت قریب ہے کیونکہ جتنا زمانہ گزر چکا ہے۔ باقی رہ جانے والا زمانہ اس سے کم ہے۔
1۔ 2 یعنی اس کی تیاری سے غافل، دنیا کی زینتوں میں گم اور ایمان کے تقاضوں سے بیخبر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الانبیآء مکیۃ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واھلکنا المسرفین (1 : 9)
یہ نہایت ہی زور دار آغاز ہے ‘ کسی بھی غافل شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ حساب سر پر ہے اور لوگ غفلت اور لاپرواہی میں بیٹھے ہیں۔ بڑی بےتابی سے رسول ان کے سامنے آیات الہیہ پیش کررہے ہیں اور وہ منہ موڑ کر دوسری جانب جارہے ہیں۔ فوراً چوکنا ہونے کی ضورت ہے اور یہ لوگ ہیں کہ خطرے کا شعور بھی نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کو متنبہ کرنے کی نئی کوشش کی جاتی ہے یہ مذاق کرتے ہیں اور دعوت کو غیر اہم سمجھ کر کھیل میں لگ جاتے ہیں۔
لاھیۃ قلو بھم (12 : 3) ” ان کے دل غافل ہیں “۔ ان کے دل و دماغ اور شعور و وجدان کے تار بالکل…
Read the full tafseer →1 یعنی حساب و کتاب اور مجازات کی گھڑی سر پر کھڑی ہے لیکن یہ لوگ (مشرکین وغیرہ) سخت غفلت و جہالت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کوئی تیاری قیامت کی جوابدہی کے لیے نہیں کرتے۔ اور جب آیات اللہ سنا کر خواب غفلت سے چونکائے جاتے ہیں تو نصیحت سن کر نہایت لاپرواہی کے ساتھ ٹلا دیتے ہیں۔ گویا کبھی ان کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونا اور حساب دینا ہی نہیں۔ سچ ہے " اَلنَّاسُ فِیْ غَفَلَاتِہِمْ وَرَحَی الْمَنِیَّۃِ تَطْحَنُ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2 مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّہِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْہُ وَہُمْ یَلْعَبُوْنَ ”
جب بھی ان کی طرف کوئی نئی وحی آتی ہے ‘ کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ اسے اپنے مخصوص لا ابالیانہ انداز میں ہی سنتے ہیں۔ وہ اللہ کے کلام کی طرف کبھی بھی سنجیدگی سے متوجہ نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →1 یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ یعنی آخرالزمان کی بعثت ہی اس بات کی علامت ہے کہ زمین میں بنی آدم کی آبادی کا آخری دور ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : میں اور قیامت ایسے ہی جیسے یہ دو انگلیاں (بخاری : کتاب الرقاق، باب بعثت انا والساعہ کھاتین۔۔ ) اس حدیث کے بھی دو مطلب ہیں : ایک یہ کہ جتنی لمبائی شہادت کی انگلی کی ہے۔ یہ حضرت آدم سے لے کر محمد ﷺ تک کا زمانہ ہے اور جتنی وسطی انگلی شہادت کی انگلی سے بڑی ہے یہ مجھ سے لے کر قیامت تک کا زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے تقریباً پانچ حصے عرصہ گزر چکا ہے اور ایک حصہ باقی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →1۔ یعنی وقت قیامت ہے کہ ہر روز ان سے قریب تر ہوتا جاتا ہے، اور یہ لوگ ہیں کہ اس کے لئے تیاریاں تو کیا کرتے، اس خبر ہی کا نہیں یقین کررہے ہیں۔ (آیت) ” الناس “۔ آیت میں اس سے مراد منکرین قیامت عموما ہیں اور مشرکین عرب خصاصا۔ قال ابن عباس المراد المشرکون وھذا من اطلاق اسم الجنس علی بعضہ للدلیل القائم (کبیر) آج یورپ اور یورپ زدہ مشرق کی ساری آبادی کا بھی نقشہ غفلت واعراض کے لحاظ سے یہی ہے۔ (آیت) ” حسابھم “۔ مراد ہے وقت حساب یعنی روز قیامت۔ المعنی اقترب للناس وقت حسابھم (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ غفلت مذموم وہ ہے جو اعراض کے ساتھ ملی جلی ہو، ورنہ مطلق غفلت سے تو عادۃ کوئی بھی خالی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →اقترب للناس حسابہم لوگوں کے قریب آگیا ان کا حساب یعنی گزشتہ زمانے کے مقابلہ میں اب حساب
(آخرت) کا زمانہ قریب آگیا۔ للناس میں لام بمعنی مِنْ ہے یعنی لوگوں سے قریب آگیا۔ الناس میں الف لام جنسی ہے عام لوگ یا عہدی یعنی کافر لوگ۔ آئندہ آیت سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ الناس سے مراد کافر ہیں۔
وہم فی غفلۃ اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں یعنی دنیا اور نفسانی خواہشات میں غرق ہونے کی وجہ سے وہ محاسبۂ
آخرت سے بھی غافل ہیں اور اس سزا سے بھی جو ان کو دی جائے گی۔
معرضون۔ منہ موڑے ہوئے ہیں یعنی حساب فہمی پر غور کرنے اور اس کی تیاری کرنے سے روگرداں ہیں۔
فِیْ غَفْلَۃٍکے بعد مُّعْرِضُوْنَ کا اضافہ اس امر پر دلالت کر…
Read the full tafseer →(1) کتاب اللہ میں جس عذاب کا ان مکہ والوں سے وعدہ کیا ہے، ان کے اس عذاب کا وقت قریب ہے اور یہ ابھی اس سے غافل ہیں اور اس کو جھٹلا رہے ہیں اور انہوں نے اس کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔
Read the full tafseer →اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ : ”اِقْتَرَبَ“ ”قَرِبَ یَقْرَبُ“ (ع، ک) میں سے باب افتعال کا ماضی معلوم ہے۔ حروف میں اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بہت قریب آگیا۔“ ”غَفْلَةٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بھاری غفلت“ کیا گیا ہے۔
”اَلنَّاسُ“ کا لفظ عام ہے، یعنی سب لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا، اس کے باوجود انھیں اس کی کچھ فکر نہیں، بلکہ وہ بھاری غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی دنیا کی دلچسپیوں میں محو ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ”فِيْ غَفْلَةٍ“ کی تفسیر ”غَفْلَۃُ أَھْلِ الدُّنْیَا“ (دنیا والوں کی غفلت) فرمائی ہے۔ [ بخاري : 4730 ] دیکھیے سورة مریم…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اقترب للناس حسابھم حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : سورة الکہف، مریم، طہ اور انبیاء پہلی سورتوں میں سے ہیں اور یہ میری پہلی یاد کی ہوئی سورتیں ہیں یعنی پہلے پہل یہ سورتیں حاصل کیں اور قرآن کو یاد کیا جیسے پرانا مال ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ ایک شخص جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھا وہ دیوار بناتا تھا اس سورت کے نزول کے دن اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا جو دیوار بنا رہا تھا اس نے پوچھا آج قرآن میں سے کیا نازل ہوا ہے ؟ دوسرے نے کہا یہ نازل ہوا ہے اقترب للناس حسابھم و ھم فی غفلۃ معرضون۔ تو اس شخص نے اپنے ہاتھ سے اپنی عمارت کو توڑ دیا اور کہا : اللہ کی قسم ! میں کھبی تعمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ اِقْتَرَبَ : قریب ہوا ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ حِسَابُهُمْ : ان کا حساب ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ فِيْ غَفْلَةٍ : غفلت میں ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 2) ذِکْرٍ کی صفت ہونے کی وجہ مُحْدَثٍ حالت جر میں ہے۔ موصوف اور صفت کے درمیان میں متعلق فعل مِنْ رَبِّھِمْ آگیا ہے۔ (آیت۔ 3) ۔ لَاھِیَۃً حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور یہ اسم الفاعل ہے جس نے فعل کا کام کیا ہے۔ قُلُوْبُھُمْ اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔ اَسَرُّوْا جمع کا صیغہ ہے اس لئے اَلَّذِیْنَ کو اس کا فاعل نہیں مان سکتے کیونکہ ایسی صورت میں فعل واحد آنا چاہیے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب
یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →2:۔ زجر مع شکوی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ” النَّاس “ سے مشرکین مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ بوقت نزول اگرچہ اس سے اشارہ مشرکین قریش کی طرف تھا۔ مگر اب یہ سب کے لیے عام ہے۔ اور حساب سے حساب آخرت مراد ہے یعنی قیامت سر پر ہے۔ مگر یہ لوگ غفلت میں وقت ضائع کر رہے ہیں اور حساب آخرت کے لیے کسی قسم کی تیاری نہیں کر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الانبیاء ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ” انبیائ “ کا ذکر تو کہیں نہیں آیا ، تاہم اس میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مثلا ً حضرت نوح ، ادریس ، یونس ، ایوب ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسم مبارک مذکور ہے اس لئے اس سورة کو سورة الانبیاء کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعض سورتیں جیسے سورة مزمل ، مدث ، نٓ ، فاتحہ وغیرہ تو مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ، مگر یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔ اس کی ایک سو بارہ آیات سات رکوع ۔ 1138 الفاظ اور 4168 حروف ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِيْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ 1ۚ
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة .
نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35]
( ق ر ب ) القرب
والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وھم مبتداء و معرضون خبر وفی غفلہ ضمیر معرضون سے حال ہے ای اعرضوا غافلین اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو۔ لاھیۃ قلوبہم حال ہے ضمیر یلعبون سے اور یہ دونوں حال مترادف یا متداخل ہیں اور جس نے لاھیۃ کو مرفوع پڑھا ہے تب ایک ہی حال ہے کس لیے کہ یہ خبر بعد خبر ہے ہل ہذا جملہ محل نصب میں ہے النجوی سے بدل کر ای واسروا ھذا الحدیث۔ قال بصیغہ ماضی رسول کا قول ہوگا حمزہ و کسائی و حفض کی قرأت کے بموجب اور دیگر قراء نے قل بصیغہ امر پڑھا ہے۔
تفسیر : یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بیشتر توحید و نبوت اور عالم آخرت کا ثبوت اور انبیاء (علیہم السلام) کے عبرت انگیز تذکرے اور ان کی نافرمان امتوں کا…
Read the full tafseer →اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 1)
(قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے ان کے محاسبے کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ )
قریش کے رویئے پر تنبیہ
قریش اور باقی دنیا کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب دنیا کے بارے میں ان کا غلط تصور تھا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا کو اس کے پیدا کرنے والے نے بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے۔ اور اگر اس کا کوئی مقصد ہے تو وہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ باقی مخلوقات کی طرح انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے تاکہ وہ زمین پہ اپنی مرضی کی زندگی گزاریں، کھائیں پییں عیش کریں، لڑیں بھڑیں غرضیکہ جو چاہیں سو کریں۔ اپنے اپنے وقت میں طبعی عمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط کلام : سورة طٰہٰ کا اختتام اس بات پر ہوا تھا۔ اے لوگو ! جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو اس کا انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ سورة الانبیاء کی ابتداء اس بات سے ہو رہی ہے کہ منکرین حق جس عذاب کا انتظار کر رہے ہیں وہ تو قریب آن پہنچا ہے۔
احتساب اور عذاب کا دن قریب آپہنچا ہے۔ لیکن منکرین حق غفلت کی بناء پر اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے اور سنتے ہیں۔ انھیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو قیامت کے دن تم اس میں مبتلا کیے جاؤ گے۔ منکرین حق کے لیے یہ انتقام اور سخت عذاب کا…
Read the full tafseer →قربِ قیامت اور لوگوں کی غفلت :
1: اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ) اِقْتَرَبَ قریب ہوا۔ لِلنَّاسِ (لوگوں کیلئے) ۔
نحو : لام اقترب کا صلہ ہے۔
قول ابن عباس ؓ : اس سے مشرک مراد ہیں۔ کیونکہ بعد والی صفات کا مصداق مشرک ہی ہیں۔ حِسَابُھُمْ (ان کا حساب) اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے محاسبہ کا وقت۔ اور ان کے اعمال پر سزا اور بدلہ کا دن یعنی یوم القیامۃ۔
وجہ : نمبر 1۔ اس لئے کہا کیونکہ گزشتہ کی نسبت باقی رہنے والا وقت تھوڑا ہے۔ نمبر 2۔ ہر آئندہ کو قریب کہا جاتا ہے۔ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ (اور وہ غفلت میں…
Read the full tafseer →سورة الانبیاء۔
تفسیر۔
1۔ اقترب للناس۔ لام بمعنی من کے ہے ۔ حسابھم یعنی لوگوں کے ا کے حساب کا وقت قریب ہے۔ وہ اپنے اعمال کے محاسبہ کا وقت جان لیں گے قیامت کے دن ۔ یہ آیت بعثت کے منکرین کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ وھم فی غفلۃ، ، اور وہ اس سے روگرداں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 1-4
یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انہیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انہیں صرف دنیا کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انہیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قریب آلگا ہے لوگوں سے ان کے حساب کا وقت مگر لوگ ہیں کہ غفلت میں پڑے ہیں "۔ کیونکہ اس نے بہرحال آ کر رہنا ہے اور آنے والی ہر چیز بہرحال قریب ہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے " کُلّ آتٍ قَرِیْب "۔ اور اس کے قرب کی سب سے بڑی نشانی خود حضرت خاتم الانبیائ ﷺ کی بعثت اور تشریف آوری ہے۔ جس کے بعد اب قیامت تک کسی پیغمبر نے نہیں آنا۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ارشاد فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں۔ یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کسی تیسری انگلی کا فاصلہ نہیں اسی طرح اب قیامت کے اور میرے درمیان کسی اور نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الانبیاء :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…
Read the full tafseer →ف 2 اس میں کفار کے لئے بہت بڑی تنبیہ ہے اس لئے کہ ہر وہ چیز جو یقینا آنیوالی ہو اسے قریب ہی سمجھنا چاہیے یا اس لئے کہ جو زمانہ گزر گیا ہے اس کے مقابل ہمیں جو باقی ہے نہایت ہی قلیل ہے اور پھر آنحضرت کی بعثت اور آپ پر ختم نبوت بھی قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ حدیث میں ہے آنحضرت نے فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھاتین یعنی ایک مرتبہ آپ نے اپنی دو انگلیاں (انگشت شہادت اور وسطیٰ ) اٹھا کر فرمایا۔” میں ایسے وقت میں مبعوث کیا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ (شوکانی)3 عظمت یہ کہ اس دن کی جواب دہی کے لے تیاری نہیں کرتے اور اعراض یہ کہ قرآن کی کسی نصیحت اور تنبیہ پر کان نہیں دھرتے یا…
Read the full tafseer →(21:1) اقترب۔ اقتراب (افتعال) سے ماضی واحض مذکر غائب۔ نزدیگ ہوا۔ قریب آگیا۔ مادہ قرب۔ معرضون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ رخ گردانی کرنے والے ۔ منہ موڑنے والے۔ اعراض (افعال) مصدر۔ اگر اعرض کے بعد عن آئے تو بمعنی رخ پھیرنا۔ اجتناب کرنا ہے اور اگر اس کے بعد لام آئے جیسے اعرض لی (وہ میرے سامنے آیا۔ میرے سامنے نمودار ہو) تو سامنے آنے کے معنی دیتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے بغیر عن کے بھی رخ پھیرنے کے معنی دیتا ہے گویا اعراض کے معنی ہی رخ گردانی اور اجتناب ہوگیا۔ حسابہم۔ ان کا حساب یعنی ان کے اعمال کے حساب (کا وقت) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10
اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی حساب اعمال کا وقت روز قیامت قریب آگیا ہے۔ روز قیامت کو گزرے ہوئے زمانے کے اعتبار سے قریب فرمایا گیا کیونکہ جتنے دن گزرتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ انسانی اب اپنے آخری دور میں داخل ہو رہی ہے اور اپنے آغاز کی بہ نسبت اپنے انجام سے قریب تر ہے۔
Read the full tafseer →- 1 ان منکرین کے حساب کا وقت قریب آ لگا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ یہ ابھی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اعراض و بےاعتنائی کا برتائو کر رہے ہیں۔ یعنی قیامت صغریٰ اور قیامت کبریٰ ہر روز قریب ہو رہی ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ یہ غفلت و جہالت میں پڑے ہوئے ہیں اور اگر کوئی نصیحت کی بات سنائوتو اس کو ٹلا جاتے ہیں اور اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور بےپروائی کا برتائو کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 10۔ یعنی قیامت وقتا فوقتا نزدیک ہوتی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →لوگوں کے حساب کا دن قریب آرہا ہے اور وہ ابھی غفلت میں پڑے ہیں :
1۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک روز نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنی دو انگلیاں کھڑی کرکے ارشاد فرمایا کہ ” بعثت انا والساعہ کھاتین “۔ ” میری بعثت اس طرح ہوئی ہے کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں “ یعنی میرے بعد اب کوئی نبی ورسول نہیں آئے گا بلکہ میرے بعد اب قیامت ہی آئے گی اگر تم سنبھل جاؤ گے تو فائدے میں رہو گے اور اگر نہیں سنبھلو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نیا پیغام سنانے والا نہیں آئے گا ۔ اس طرح آپ نے واضح فرما دیا کہ انسانی تاریخ اب اپنے آخری دور میں داخل ہوچکی ہے اس کا اول اور وسط گزر چکا ہے ۔ زیر نظر آیت میں اس بات…
Read the full tafseer →Commentary
Importance of Surah Al-Anbiya'
Sayyidna Abdullah Ibn Mas’ ud ؓ has said that four Surah viz Al-Kahf, Maryam, Taha and Al-Anbiya' are among the earlier revelations which I value a lot and keep them close to my heart. (Qurtubi)
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ (The reckoning of the people has drawn near - 21:1) It means that the time is near when people will have to give an account of their deeds. Here, the reference is to the Day of Judgment, and its approach is in relation to bygone ages, as the ummah of Sayyidna Muhammad Al-Mustafa ﷺ is the last of them all. And if the meaning of…
Read the full tafseer →1.“Draws near for mankind their reckoning”: the time of Resurrection. This is to warn the people that the time of Resurrection when they will have to appear before their Lord to render their accounts is not far. This was because the coming of the Prophet (peace be upon him) was a sign and a clear evidence of the fact that mankind had entered into the last stage of its history. The Prophet (peace be upon him) has himself explained it by holding out two of his adjoining fingers and said: I have been sent at a time which joins to the time of Resurrection just as these two fingers adjoin. By this…
Read the full tafseer →