21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 21:1–10

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کے لئے ان کا (وقت) حساب نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں پڑے (اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے جو تازہ نصیحت (ان کے حسب حال) آتی ہے تو یہ اسے ایسے سنتے ہیں گویا مذاق اڑاتے ہیں

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت میں پڑے ہیں اور ان ظالموں نے (آپس میں) سرگوشیاں کیں کہ یہ ( پیغمبر) تمہاری ہی طرف ایک (عام) آدمی ہیں تو تم دیکھتی آنکھوں جادو کی لپیٹ میں کیوں آتے ہو ؟

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(پیغمبر نے) فرمایا میرا پروردگار ہر بات کو جانتا ہے (خواہ) آسمان میں ہو اور (خواہ) زمین میں اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ (یہ کفار یوں) کہتے ہیں کہ (یہ قرآن) پریشان خیالات ہیں بلکہ انہوں نے یہ (اپنی طرف سے) گھڑ لیا ہے (نہیں) بلکہ یہ شاعر ہیں پس چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی (معجزہ) لے آئیں جیسے پہلے پیغمبر (نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے کوئی بستی والے جن کو ہم نے ہلاک کیا ایمان نہیں لائے تو کیا یہ ایمان لائیں گے ؟

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے صرف آدمیوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کے پاس ہم وحی بھیجا کرتے تھے۔ (انکار کرنے والو ! ) سو اگر تم کو یہ بات معلوم نہ ہو تو جو یادرکھتے ہیں ان (اہل کتاب) سے پوچھ لو

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان (انبیاء) کے ایسے بدن نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ (حضرات بھی) ہمیشہ رہنے والے نہ ہوئے

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے جو وعدہ فرمایا تھا وہ سچ کردکھایا تو ان کو اور جس کو ہم نے چاہا نجات بخشی اور ہم نے حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

یقینا ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارے لئے نصیحت ہے سو کیا تم نہیں سمجھتے

سورة الانبیاء : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام میں اور زیادہ نفع کمایا جاسکتا ہے تو فورا اور پوری توجہ سے آدمی وہ نئی بات سننا چاہتا ہے اور آخرت جو ابدی ہے اور پیش آنے والی ہے اس کے بارے نہ تو کچھ کر رہے ہیں نہ کرنا چاہتے ہیں حتی کہ دلائل پہ غور کرنا بھی گوارا نہیں ایسا اس لیے ہے کہ ان کے قلوب اس طرف سے غافل ہوچکے ہیں ۔ (قلب ذاکر نہ ہو تو آخرت سے غافل ہوجاتا ہے) اور دنیا ہی کے مشاغل سے بھر چکے ہیں یعنی اگر قلب ذاکر نہ ہو آخرت سے غافل ہو کر پوری طرح دنیا کی لذات میں گم ہوجاتا ہے اور پھر بڑی سے بڑی دلیل بھی اس پر اثر نہیں کرتی یہ ظالم آپس میں خفیہ خفیہ بات تو ضرور کرتے ہیں کہ آدمی فطرتا آخرت سے لا تعلق نہیں ہو سکتا چناچہ اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے کہتے ہیں کہ یہ بندہ جو نبوت کا دعوی کرتا ہے بھلا ہم جیسا انسان اور بنی آدم ہی تو ہے یعنی اگر نبی ہوتا تو بشری خصوصیات سے بالاتر ہوتا شاید یہ جادو جانتا ہے اور دلوں کو مسخر کرنے کا کوئی علم جانتا ہے کہ اس سے عجائبات کا ظہور ہوتا ہے اور لوگ اس کی بات ماننے لگتے ہیں ، بظاہر تو کہتے ہیں کہ ہم اس معاملہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے مگر اندر ہی اندر خود کو تسلیاں دیتے ہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ بندوں سے تو پردہ کرلو گے مگر میرا پروردگار زمین وآسمان میں اور کائنات میں ہونے والی ہر سرگوشی بھی سنتا ہے بھلا اس کی ذات سے کیسے چھپا پاؤ گے کہ وہ خود سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی کہ جو بات لبوں تک نہ بھی پہنچے وہ اسے بھی جانتا ہے پھر اپنی بات پر بھی قائم نہیں رہتے کہ اس کی کوئی بنیاد تو ہے نہیں کہتے ہیں یہ محض پریشان خیال اور الٹے سیدھے خواب ہیں اور انہیں اللہ جل جلالہ کی طرف سے وحی کہہ کر اللہ جل جلالہ پر بہتان باندھا جا رہا ہے یا یہ شخص قادر الکلام شاعر ہے اور مرصع ومقفع عبارتیں جوڑ لیتا ہے اگر ایسا نہیں تو جس طرح پہلی امتوں نے انبیاء کرام ﷺ سے معجزات طلب کیے تھے تو انہوں نے وہی پیش کردیے تھے یہ ہمارے مطلوبہ معجزات کیوں پیش نہیں کرتے ، ان سے کہیے ساری بات کرو ان سے امتوں نے معجزات مانگے جب وہ معجزات ظاہر ہوئے تو وہ لوگ ایمان نہ لائے اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہوگئے ، بھلا یہ کیا ایمان لے آئیں گے ؟ یعنی علم الہی میں ہے کہ یہ بھی ایمان لانے کے لیے معجزہ طلب نہیں کر رہے اور من حیث القوم اللہ ہلاک نہیں کرنا چاہتا لہذا ان کا ہر مطلوبہ معجزہ ظاہر نہیں فرماتا یہ بھی اس کا انداز کرم گستری ہے ۔ (جاہل پر عالم کی تقلید واجب ہے) آپ سے پہلے بھی جس قدر انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور وحی کی دولت سے نوازے گئے سب انسان اور بنی آدم ہی میں سے تھے ان سے کہیے کہ خود تو جاہل ہیں علم رکھنے والوں سے یعنی پہلی کتابوں کے جو علماء ایمان لا چکے ہیں ان سے پوچھ لیں ، یہاں سے علماء نے ثابت فرمایا ہے کہ جاہل پر عالم کی تقلید واجب ہے ۔ کسی نبی کو ایسا مافوق الفطرت وجود نہیں بخشا گیا کہ اس میں بشری خصوصیات نہ ہوں کہ وہ کھاتا پیتا نہ ہو یا کبھی اسے موت نہ آئے ، پھر ان سب سے کیے گئے وعدے پورے ہوئے ان سب کو اللہ جل جلالہ کی رحمت اور ہر پریشانی سے دو عالم میں نجات نصیب ہوئی اور جن لوگوں کو ایمان نصیب ہوا ساتھ ان کو بھی اور ہمیشہ زیادتی کرنے والوں کو تباہ کردیا گیا یہی فطری قانون ہے جسے یہ تمام اقوام کے حالات ہیں دیکھ سکتے ہیں بلکہ اے اہل عرب تم پر خصوصا اور اہل ایمان پر عموما اللہ جل جلالہ کا احسان ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں تمہارا تذکرہ فرما کر تمہیں ہدایت ہی نہیں دی دوام بھی بخش دیا اور دنیا کی کامیابی بھی عطا فرما دی ، اگر اللہ جل جلالہ کی کتاب نہ ہوتی تو عربوں کی تاریخ مختلف ہوتی اور کوئی انھیں جاننے والا نہ ہوتا کیا ان لوگوں میں اتنی عقل بھی نہیں کہ اللہ جل جلالہ کے احسانات کو سمجھ پائیں ۔
Ayahs 21:11–29

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ظالم تھیں ہلاک کردیا اور ہم نے ان کے بعد دوسری قوم پیدا فرمادی

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پس جب انہوں نے ہمارے عذاب کو آتے دیکھا تو تب ہی اس سے بھاگنے لگے

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

بھاگو مت اور اپنے سامان عیش کی طرف پلٹ آؤ اور اپنے (عمدہ) مکانوں کی طرف شاید تم سے اس (اس بارے میں) پوچھا جائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے وائے ہماری کم بختی ! بیشک ہم ہی ظالم تھے

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

پھر وہ اسی طرح چیختے چلاتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو ایسے (نیست ونابود) کردیا جیسے کھیتی کاٹ دی گئی (یا) آگ بجھ گئی ہو

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو کھیل تماشے کے طور پہ پیدا نہیں فرمایا

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ ہم کھیل کی چیزیں (یعنی زن و فرزند وغیرہ) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہی تھا تو ہم اپنے پاس سے ہی اسے بنالیتے

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہم حق کو باطل پر مارتے ہیں پھر وہ (حق) اس کا سر توڑ دیتا ہے پس وہ (باطل) نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو اس سے تمہاری ہی خرابی ہے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور (ان میں) جو اس کے قریب (فرشتے اور مقربان بارگاہ) ہیں وہ اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات اور دن (اس کی) پاکی بیان کرتے ہیں (اور) اکتاتے نہیں

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

بھلا لوگوں نے زمین کی چیزوں سے معبود بنا لیے ہیں تو (کیا) وہ (مرنے کے بعد) ان کو اٹھا کھڑا کریں گے ؟

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر ان (آسمان اور زمین) میں اللہ کے سوا کوئی معبود ہوتا تو دونوں تباہ ہوجاتے سو اللہ جو عرش کا مالک ہے اس امور سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کر رہے ہیں

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے اس سے پرسش نہیں ہوسکتی اور ان سے سے (جو کام یہ کرتے ہیں) پوچھا جائے گا

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس (اللہ) کو چھوڑ کر اور معبود بنائے ہیں ان سے فرمائیے (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب (یعنی قرآن) بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں ان کی کتابیں بھی بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر وہ ہیں جو امرحق کو نہیں جانتے پس اس وجہ سے وہ منہ پھیر رہے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو بھی پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے بھیجے تھے ان کی طرف یہی وحی بھیجی یہ کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہٰذا میری ہی عبادت کرو

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ رحمن (اللہ) نے کسی (یعنی فرشتوں) کو اولاد بنارکھا ہے۔ وہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ (فرشتے اس کے) معزز بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ اس سے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور وہ اس کے ارشاد پر عمل کرتے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ (اللہ) ان کے اگلے اور ان کے پچھلے احوال سے باخبر ہے اور اس کی مرضی کے بغیر وہ کسی کی سفارش تک نہیں کرسکتے اور وہ سب اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور ان میں جو شخص یوں کہے کہ میں اس (اللہ) کے سوا عبادت کا مستحق ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے ظالموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی ہیں مگر کتاب اللہ میں عمومی طور پر فرمایا گیا ہے ، لہذا روئے زمین پر جگہ جگہ ایسے ویرانوں کے نشان عبرت کا سامان بنے ہوئے ہیں ۔ یہ زمین وآسمان اور اس کا اس قدر خوبصورت اور صحیح ترین نظام ہم نے محض کھیل تماشے کو تو پیدا نہیں کردیا اگر مشغلہ ہی بنانا ہوتا تو اپنی شان کے لائق بناتے خالق ازلی وابدی کو بھلا فانی اور عاجز مخلوق سے کیا مشغلہ بلکہ یہ اتنا بڑا نظام اس میں زندگی اور موت ہر ایک کا رزق اور موت ہر ایک کا رزق رنگا رنگ پھول اور طرح طرح کے میوے ، سورج چاند ستارے اور رات دن کی آمد ورفت ، موسموں کا آنا جانا اور پھر ہر شے میں ایک خوبصورت نسبت اور متعین اندازہ اس کی عظمت شان پر دلالت کرتا ہے اور یہ سب اس کی معرفت اور پہچان کا ذریعہ ہیں بلکہ انھیں باطل پہ اکڑنا بھی نہ چاہیے کہ ہر شے کی ایک حد ہے باطل بھی جب بڑھنے لگتا ہے تو اس کے مقابل حق کو کھڑا کردیا جاتا ہے عبادت کرنے والے ہیں کبھی اس کی بارہ گاہ میں سر نہیں اٹھاتے اور نہ اطاعت سے نکلتے ہیں شب وروز اللہ جل جلالہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں کبھی سستی تک نہیں کرتے اگر اس کی اولاد ہوتی تو وہ بھی اس جیسی صفات کی مالک ہوتی یعنی عبادت کی مستحق نہ کہ عبادت کرنے والی یا جن کو زمین پر سے انسانوں یا جنوں یا بتوں کو معبود مانتے ہیں کیا وہ کسی کو زندگی دے سکتے ہیں ہرگز نہیں تو پھر وہ کس بات پر انہوں نے معبود بنا رکھے ہیں کیا اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ایک کی جگہ دو معبود بھی ہوتے تو یہ نظام چل نہ پاتا بلکہ تباہ ہوچکا ہوتا کہ ایک کچھ کرتا اور دوسرا کچھ اور مگر ہر شے اس سلیقے سے اپنا اپنا کام اپنے اپنے وقت پر کر رہی کہ پتہ دیتی ہے یہ کسی ایک ہستی کے سب غلام ہیں ، اللہ جل جلالہ ان کی سب خرافات سے پاک ہے اور عرش کا مالک ہے کہ عرش تمام نظام عالم کا ایک مرکز اور سیکرٹریٹ ہے جس کا وہ اکیلاحاکم ہے گویا سب نظام اسی ایک ذات کے حکم کے تابع ہے ۔ وہ حاکم مطلق ہے جو چاہے کرے کوئی اس سے پرسش نہیں کرسکتا اور باقی ساری مخلوق اس کے حضور جوابدہ ہے لہذا ساری مخلوق اس کی فرمانبردار ہے جو کوتاہی کرے گا اسے جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا اگر یہ اس کے علاوہ کسی اور کو معبود تسلیم کرتے ہیں تو ان سے کہیے اس بات پر کوئی دلیل پیش کریں کہ آپ تو دلائل پیش کر رہے ہیں ، پھر کیا یہ دلیل کم ہے کہ آپ کے پاس اللہ جل جلالہ کی کتاب ہے اور ان سے کہیے کہ یہ کتاب بھی اور جس قدر کتب اس سے پہلے نازل ہوئیں سب کو دیکھ لیں سب اللہ ہی کو معبود برحق منوانے پر دلائل دے رہی ہیں مگر ان کی مصیبت جہالت بھی ہے کہ ان کی اکثریت حق بات کو تو سمجھتے نہیں اور محض منہ پھیر کر چل دیتے ہیں ورنہ تمام انبیاء کرام ﷺ کی مقدس جماعت ہی اعلان کرتی رہی اور ہم نے سب پر یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے علاوہ کوئی عبادت کا حق نہیں رکھتا لہذا صرف اور صرف میری عبادت کرو مگر کفار کہتے رہے کہ فلاں اللہ جل جلالہ کا بیٹا ہے جیسے یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ جل جلالہ کا بیٹا قرار دیا اللہ جل جلالہ ان باتوں سے پاک ہے اور بہت بلند ہے بلکہ یہ سب اللہ جل جلالہ کے مقرب اور معزز بندے ہیں ۔ (عبادت میں خلوص ہو تو اللہ جل جلالہ کی خشیت پیدا کرتی ہے اور بندہ عبادت پہ اکڑتا نہیں) فرشتے ہوں یا نبی سب اس کی مخلوق ہیں جو کبھی اس کی اطاعت اور عبادت سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ تعمیل ارشاد پہ کمر بستہ رہتے ہیں اللہ جل جلالہ تو سب کے اگلے پچھلے تمام احوال سے واقف ہے وہ تو سفارش بھی صرف ان لوگوں کی کریں گے جن کی سفارش کرنے کی اللہ جل جلالہ نے اجازت دی ہے یعنی مومنین کی یہ کفار تو ان کی شفاعت سے بھی محروم رہیں گے اور اپنی تمام تر پارسائی اور عبادت گذاری کے باوجود اللہ جل جلالہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اس کی بلند شان کے سامنے لرزاں وترساں رہتے ہیں یعنی بغیر اجازت بڑھ کر بات کرنے کی بھی نہیں سوچتے اور اگر انتہائی مقرب بندوں میں سے بھی بفرض محال کوئی کہہ دے کہ میں عبادت کا مستحق ہوں میری عبادت کی جائے تو اسے جہنم کی سزا دی جائیگی کہ اللہ کی قدرت سے وہ بھی بالاتر نہیں ہے اور ہر ظالم کو ایسے ہی سزا دی جاتی ہے یعنی ان مقدس ہستیوں سے ایسی بات کا کوئی تصور بھی نہیں لیکن اگر وہ بھی ایسا کریں تو گرفت میں آجائیں گے چہ جائیکہ کفار غیر اللہ کی عبادت پہ لگے ہوئے ہیں جو بہت بڑا ظلم ہے ۔