21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

نزدیک آگیا لوگوں کے ان کے حساب کا وقت اور وہ بیخبر ٹلا رہے ہیں1

1 یعنی حساب و کتاب اور مجازات کی گھڑی سر پر کھڑی ہے لیکن یہ لوگ (مشرکین وغیرہ) سخت غفلت و جہالت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کوئی تیاری قیامت کی جوابدہی کے لیے نہیں کرتے۔ اور جب آیات اللہ سنا کر خواب غفلت سے چونکائے جاتے ہیں تو نصیحت سن کر نہایت لاپرواہی کے ساتھ ٹلا دیتے ہیں۔ گویا کبھی ان کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونا اور حساب دینا ہی نہیں۔ سچ ہے " اَلنَّاسُ فِیْ غَفَلَاتِہِمْ وَرَحَی الْمَنِیَّۃِ تَطْحَنُ "
Ayahs 21:2–3

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

کوئی نصیحت نہیں پہنچتی ان کو ان کے رب سے نئی مگر اس کو سنتے ہیں کھیل میں لگے ہوئے

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

کھیل میں پڑے ہیں دل ان کے2 اور چھپا کر مصلحت کی بےانصافوں نے یہ شخص کون ہے ایک آدمی ہے تم ہی جیسا پھر کیوں پھنستے ہو اس کے جادو میں آنکھوں دیکھتے3

2 یعنی قرآن کی بڑی بیش قیمت نصیحتوں کو محض ایک کھیل تماشہ کی حیثیت سے سنتے ہیں جن میں اگر اخلاص کے ساتھ غور کرتے تو سب دین و دنیا درست ہوجاتی۔ لیکن جب دل ہی ادھر سے غافل ہیں اور کھیل تماشہ میں پڑے ہیں تو غور کرنے کی نوبت کہاں سے آئے۔ 3 جب نصیحت سنتے سنتے تنگ آگئے تو چند بےانصافوں نے خفیہ میٹنگ کر کے قرآن اور پیغمبر کے متعلق کہنا شروع کیا کہ یہ پیغمبر تو ہمارے جیسے ایک آدمی ہیں، نہ فرشتہ ہیں نہ ہم سے زیادہ کوئی ظاہری امتیاز رکھتے ہیں۔ البتہ ان کو جادو آتا ہے۔ جو کلام پڑھ کر سناتے ہیں وہ ہو نہ ہو جادو کا کلام ہے۔ پھر تم کو کیا مصیبت نے گھیرا کہ آنکھوں دیکھتے ان کے جادو میں پھنستے ہو۔ لازم ہے کہ ان کے قریب نہ جاؤ۔ قرآن کو جادو شاید اس کی قوت تاثیر اور حیرت انگیز تصرف کو دیکھ کر کہا۔ اور خفیہ میٹنگ اس لیے کی کہ آئندہ حق کے خلاف جو تدابیر کرنے والے تھے یہ اس کی تمہید تھی۔ اور ظاہر ہے کہ ہوشیار دشمن اپنی معاندانہ کارروائیوں کو قبل از وقت طشت ازبام کرنا پسند نہیں کرتا اندر ہی اندر آپس میں پروپیگنڈا کیا کرتا ہے۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

اس نے کہا میرے رب کو خبر ہے بات کی آسمان میں ہو یا زمین میں اور وہ ہے سننے والا جاننے والاف 4

4 پیغمبر نے فرما دیا کہ تم کتنے ہی چھپا کر مشورے کرو، اللہ کو سب خبر ہے وہ تو آسمان و زمین کی ہر بات کو جانتا ہے پھر تمہارے راز اور سازشیں اس سے کہاں پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

اس کو چھوڑ کر کہتے ہیں بیہودہ خواب ہیں نہیں، جھوٹ باندھ لیا ہے نہیں، شعر کہتا ہے پھر چاہیے لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی، جیسے پیغام لے کر آئے ہیں پہلے5

5 قرآن سن کر ضد اور ہٹ دھرمی سے ایسے بدحواس ہوجاتے تھے کہ کسی ایک رائے پر قرار نہ تھا، کبھی اسے جادو بتاتے، کبھی پریشان خوابیں کہتے، کبھی دعویٰ کرتے کہ آپ اپنے جی سے کچھ باتیں جھوٹ گھڑ لائے ہیں۔ جن کا نام قرآن رکھ دیا ہے۔ نہ صرف یہ ہی بلکہ آپ ایک عمدہ شاعر ہیں اور شاعروں کی طرح تخیل کی بلند پروازی سے کچھ مضامین موثر اور مسجع عبارت میں پیش کردیتے ہیں۔ اگر واقع میں ایسا نہیں تو چاہیے کہ آپ کوئی ایسا کھلا معجزہ دکھلائیں جیسے معجزات پہلے پیغمبروں نے دکھلائے تھے۔ یہ کہنا بھی محض عناد سے دق کرنے کے لیے تھا۔ کیونکہ اول تو مکہ کے یہ جاہل مشرک پہلے پیغمبروں اور ان کے معجزات کو کیا جانتے تھے، دوسرے آپ کے بیسیوں کھلے کھلے نشان دیکھ چکے تھے جو انبیائے سابقین کے نشانات سے کسی طرح کم نہ تھے جن میں سب سے بڑھ کر یہ ہی قرآن کا معجزہ تھا۔ وہ دل میں سمجھتے تھے کہ نہ یہ جادو کی مہمل عبارتیں ہیں، نہ بیہودہ خواب ہیں، نہ شاعری ہے۔ اسی لیے جب کوئی ایک بات چسپاں نہ ہوتی تو اسے چھوڑ کر دوسری بات کہنے لگتے تھے۔ (اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا) 25 ۔ الفرقان :9)
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

نہیں مانا ان سے پہلے کسی بستی نے جن کو غارت کردیا ہم نے کیا اب یہ مان لیں گے6

6 یعنی پہلی قوموں کو فرمائشی نشان دکھلائے گئے۔ وہ انھیں دیکھ کر بھی نہ مانے آخر سنت اللہ کے موافق ہلاک کیے گئے۔ اگر ان مشرکین مکہ کی فرمائشیں پوری کی جائیں تو ظاہر ہے یہ ماننے والے تو ہیں نہیں۔ لامحالہ حق تعالیٰ کی عام عادت کے موافق تباہ کیے جائیں گے اور ان کی بالکلیہ تباہی مقصود نہیں۔ بلکہ حکمت الٰہیہ فی الجملہ ان کے باقی رکھنے کو مقتضی ہے۔
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور پیغام نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے مگر یہی مردوں کے ہاتھ وحی بھیجتے تھے ہم ان کو سو پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے اگر تم نہیں جانتے7

7 یہ ان کے قول (هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ) 21 ۔ الانبآء :3) کا جواب ہوا۔ یعنی پہلے بھی جو پیغمبر آئے جن کی مانند نشانیاں دکھلانے کا آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے ہو، وہ آنحضرت ﷺ کی طرح بشر تھے فرشتے نہ تھے۔ اگر اتنی مشہور و مستفیض بات کی بھی اپنی جہالت کی وجہ سے تم کو خبر نہیں، تو خبر رکھنے والوں سے دریافت کرلو۔ آخر یہود و نصاریٰ اہل کتاب سے تمہارے تعلقات ہیں، اتنی موٹی بات ان سے ہی پوچھ لینا کہ پہلے زمانوں میں جو انبیاء و رسل تشریف لائے وہ بشر تھے یا آسمان کے فرشتے۔
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان کے ایسے بدن کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ تھے وہ ہمیشہ رہ جانے والے1

1 یعنی بشری خصائص ان میں موجود تھیں، نہ فرشتوں کی طرح ان کا بدن ایسا تھا کہ کبھی کھانا نہ کھا سکتے نہ وہ خدا تھے کہ کبھی موت اور فنا نہ آئے ہمیشہ زندہ رہا کریں۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر سچا کردیا ہم نے ان سے وعدہ سو بچا دیا ان کو اور جس کو ہم نے چاہا اور غارت کر دیاحد سے نکلنے والوں کو2

2 ان کا امتیاز دوسرے بندوں سے یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی ہدایت و اصلاح کے لیے کھڑے کیے گئے تھے خدا ان کی طرف وحی بھیجتا اور باوجود بےسروسامانی کے مخالفین کے مقابلہ میں ان کی حمایت ونصرت کے وعدے کرتا تھا چناچہ اللہ نے اپنے وعدے سچے کر دکھائے۔ ان کو مع رفقاء کے محفوظ رکھا اور بڑے بڑے متکبر دشمن جو ان سے ٹکرائے تباہ و غارت کردیئے گئے۔ بیشک محمد ﷺ بھی بشر ہیں۔ لیکن اسی نوع کے بشر ہیں جن کی اعانت و حمایت ساری دنیا کے مقابلہ میں کی جاتی ہے ان کے مخالفین کو چاہیے کہ اپنا انجام سوچ رکھیں اور پہلی قوموں کی مثالوں سے عبرت حاصل کریں۔ کہیں آخرت کے حساب سے پہلے دنیا ہی میں حساب شروع نہ کردیا جائے۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے اتاری ہے تمہاری طرف کتاب کہ اس میں تمہارا ذکر ہے کیا تم سمجھتے نہیں3

3 یعنی قرآن کے ذریعہ سے تم کو ہر قسم کی نصیحت و فہمائش کردی گئی اور سب برا بھلا انجام سمجھا دیا گیا۔ اگر کچھ بھی عقل ہوگی تو عذاب الٰہی سے اپنے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرو گے اور قرآن کی قدر پہچانو گے جو فی الحقیقت تمہارے مجدو شرف کی ایک بڑی دستاویز ہے۔ کیونکہ تمہاری زبان میں اور تمہاری قوم کے ایک فرد کامل پر اترا اور دنیا میں تم کو شہرت دائمی عطا کی۔ اگر اپنے ایسے محسن کو نہ مانو گے تو دنیا میں ذلیل ہو گے اور آخرت کا عذاب الگ رہا آگے ان قوموں کا دنیاوی انجام بیان فرماتے ہیں جنہوں نے انبیاء سے دشمنی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیے تھے۔
Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور کتنی پیس ڈالیں ہم نے بستیاں جو تھیں گنہ گار اور اٹھا کھڑے کیے ان کے پیچھے اور لوگ4

4 یعنی یہ نہیں کہ ان کے نیست و نابود کردینے سے اللہ کی زمین اجڑ گئی وہ گئے دوسروں کو ان کی جگہ بسا دیا گیا۔
Ayahs 21:12–13

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پھر جب آہٹ پائی انہوں نے ہماری آفت کی، تب لگے وہاں سے ایڑ کرنے

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

ایڑ مت کرو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں شاید کوئی تم کو پوچھے5

5 یعنی جب عذاب الٰہی سامنے آگیا تو چاہا کہ وہاں سے نکل بھاگیں اور بھاگ کر جان بچا لیں۔ اس وقت تکوینی طور پر کہا گیا کہ بھاگتے کہاں ہو، ٹھہرو، اور ادھر ہی واپس چلو جہاں عیش کیے تھے اور جہاں بہت سے سامان تنعم جمع کر رکھے تھے۔ شاید وہاں کوئی تم سے پوچھے کہ حضرت ! وہ مال و دولت اور زور و قوت کا نشہ کیا ہوا ؟ وہ سامان کدھر گئے ؟ اور جو نعمتیں خدا نے دے رکھی تھیں ان کا شکر کہاں تک ادا کیا تھا ؟ یا یہ کہ آپ بڑے آدمی تھے جن کی ہر موقع پر پوچھ ہوتی تھی، اب بھی وہیں چلیے۔ بھاگنے کی ضرورت نہیں تاکہ لوگ اپنے مہمات میں آپ سے مشورے کرسکیں اور آپ کی رائیں دریافت کرسکیں ؟ (یہ سب باتیں تحکمًا کہی گئی ہیں)
Ayahs 21:14–15

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے خرابی ہماری ہم تھے بیشک گنہگار

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

پھر برابر یہی رہی ان کی فریاد یہاں تک کہ ڈھیر کردیے گئے کاٹ کر بجھے پڑے ہوئے6

6 یعنی جب عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا تب اپنے جرموں کا اعتراف کیا اور برابر یہ ہی چلاتے رہے کہ بیشک ہم ظالم اور مجرم ہیں۔ لیکن " اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت " یہ وقت قبول توبہ کا نہ تھا۔ اعتراف و ندامت اس وقت سب بیکار چیزیں تھیں آخر اس طرح ختم کردیئے گئے جیسے کھیتی ایک دم میں کاٹ کر ڈھیر کردی جاتی ہے یا آگ میں جلتی ہوئی لکڑی بجھ کر راکھ رہ جاتی ہے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے کھیلتے ہوئے7

7 یعنی جس میں کوئی معتدبہ حکمت اور غرض صحیح نہ ہو۔ اس لیے عقلمند کو چاہیے کہ آفرینش عالم کی غرض کو سمجھے اور دنیا کو محض کھیل تماشا سمجھ کر انجام سے غافل نہ ہو، بلکہ خوب سمجھ لے کہ دنیا آخرت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ ہر نیک و بد کی جزا ملنا اور ذرہ ذرہ کا حساب ہونا ہے۔
Ayahs 21:17–18

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ بنالیں کچھ کھلونا تو بنا لیتے ہم اپنے پاس سے اگر ہم کو کرنا ہوتا

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

یوں نہیں پر ہم پھینک مارتے ہیں سچ کو جھوٹ پر پھر وہ اس کا سر پھوڑ ڈالتا ہے پھر وہ جاتا رہتا ہے اور تمہارے لیے خرابی ہے ان باتوں سے جو تم بتلاتے ہو1

1 یعنی اگر ایسے لہو ولعب کے کام بالفرض ہماری شان کے لائق ہوتے اور ہم ارادہ بھی کرتے کہ یوں ہی کوئی مشغلہ اور کھیل تماشا بنا کر کھڑا کردیں تو یہ چیز ہم بذات خود اپنی قدرت سے کر گزرتے۔ تمہاری داروگیر اور پکڑودھکڑ سے اس کو کچھ سروکار نہ ہوتا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ میدان کارزار ہے۔ جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے۔ حق حملہ آور ہو کر باطل کا سر کچل ڈالتا ہے۔ اسی سے تم اپنی مشرکانہ اور سفیہانہ باتوں کا انجام سمجھ لو کہ حق و صداقت کا گولا جب پوری قوت سے تم پر گرے گا اس وقت کیسی خرابی اور بربادی تمہارے لیے ہوگی۔ اور کون سی طاقت بچانے آئے گی (تنبیہ) لَوْاَرَدْنَآ اَن نَّتَّخِذَلَہْوًا " الیٰ آخرہ کی تقریر کئی طرح کی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک سباق و لحاق کے اعتبار سے جو معنی زیادہ قریب اور صاف تھے وہ اختیار کیے ہیں۔ اور مِن لَّدُنَّا اور اِنْ کُنَّا فَاعِلِیْنَ کی قیود کے فوائد کی طرف لطیف اشارے کردیے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 21:19

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں2 اور جو اس کے نزدیک رہتے ہیں سرکشی نہیں کرتے اس کی عبادت سے اور نہیں کرتے کاہلی

2 پھر وہ تباہ کرنا چاہے تو کون بچا سکتا ہے اور کہاں پناہ مل سکتی ہے۔
Ayah 21:20

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

یاد کرتے ہیں رات اور دن نہیں تھکتے3

3 یعنی فرشتے باوجود مقربین بارگاہ ہونے کے ذرا شیخی نہیں کرتے۔ اپنے پروردگار کی بندگی اور غلامی کو فخر سمجھتے ہیں، وظائف عبودیت کے ادا کرنے میں کبھی سستی یا کاہلی کو راہ نہیں دیتے۔ شب و روز اس کی تسبیح اور یاد میں لگے رہتے ہیں۔ نہ جھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں۔ بلکہ تسبیح و ذکر ہی ان کی غذا ہے۔ جس طرح ہم ہر وقت سانس لیتے ہیں اور دوسرے کام بھی کرتے رہتے ہیں، یہی کیفیت ان کی تسبیح و ذکر کی سمجھو۔ وہ کسی کام پر مامور ہوں، کسی خدمت کو بجا لا رہے ہوں ایک منٹ ادھر سے غافل نہیں ہوتے جب معصوم و مقرب فرشتوں کا یہ حال ہے تو خطاکار انسان کو کہیں زیادہ اپنے رب کی طرف جھکنے کی ضرورت ہے۔
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اور معبود زمین میں کے کہ وہ جلا اٹھائیں گے ان کو4

4 یعنی آسمان والے فرشتے تو اس کی بندگی سے کتراتے نہیں بلکہ ہمہ وقت اس کی یاد اور بندگی میں مشتغل رہتے ہیں، پھر کیا زمین میں کچھ ایسی ہستیاں ہیں جن کو خدا کے بالمقابل معبود ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ اور جب خدا ان کے پجاریوں کو اپنے عذاب سے مار ڈالے تو وہ ان کو پھر جلا اٹھائیں یا ہلاکت سے بچا لیں ؟ ہرگز نہیں۔
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر ہوتے ان دونوں میں اور معبود سوائے اللہ کے تو دونوں خراب ہوجاتے5 سو پاک ہے اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ بتلاتے ہیں6

5 تعدد آلہہ کے ابطال پر یہ نہایت پختہ اور واضح دلیل ہے جو قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کی۔ اس کو یوں سمجھو کہ عبادت نام ہے کامل تذلل کا۔ اور کامل تذلل صرف اسی ذات کے سامنے اختیار کیا جاسکتا ہے جو اپنی ذات وصفات میں ہر طرح کامل ہو، اسی کو ہم " اللہ " یا " خدا " کہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ خدا کی ذات ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، نہ وہ کسی حیثیت سے ناقص ہو نہ بیکار، نہ عاجز ہو نہ مغلوب، نہ کسی دوسرے سے دبے نہ کوئی اس کے کام میں روک ٹوک کرسکے۔ اب اگر فرض کیجئے آسمان و زمین میں دو خدا ہوں تو دونوں اسی شان کے ہوں گے، اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ عالم کی تخلیق اور علویات و سفلیات کی تدبیر دونوں کے کلی اتفاق سے ہوتی ہے یا گاہ بگاہ باہم اختلاف بھی ہوجاتا ہے اتفاق کی صورت میں دو احتمال ہیں۔ یا تو اکیلے ایک سے کام نہیں چل سکتا تھا اس لیے دونوں نے مل کر انتظام کیا تو معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک بھی کامل قدرت والا نہیں اور اگر تنہا ایک سارے عالم کا کامل طور پر انجام کرسکتا تھا تو دوسرا بیکار ٹھہرا حالانکہ خدا کا وجود اسی لیے ماننا پڑا ہے کہ اس کے مانے بدون چارہ ہی نہیں ہوسکتا اور اگر اختلاف کی صورت فرض کریں تو لامحالہ مقابلہ میں ایک مغلوب ہو کر اپنے ارادہ اور تجویز کو چھوڑ بیٹھے گا۔ وہ خدا نہ رہا۔ اور یا دونوں بالکل مساوی و متوازی طاقت سے ایک دوسرے کے خلاف اپنے ارادہ اور تجویز کو عمل میں لانا چاہیں گے۔ اول تو (معاذ اللہ) خداؤں کی اس رسہ کشی میں سرے سے کوئی چیز موجود ہی نہ ہو سکے گی اور موجود چیز پر زور آزمائی ہونے لگی تو اس کشمکش میں ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائے گی۔ یہاں سے یہ نتیجہ نکلا کہ اگر آسمان و زمین میں دو خدا ہوتے تو آسمان و زمین کا یہ نظام کبھی کا درہم برہم ہوجاتا۔ ورنہ ایک خدا کا بیکار یا ناقص و عاجز ہونا لازم آتا ہے جو خلاف مفروض ہے۔ 6 جو عرش (تخت شاہی) کا اکیلا مالک ہے، اس کے ملک میں شرکت کی گنجائش ہی نہیں۔ دو خود مختار بادشاہ جب ایک اقلیم میں نہیں سما سکتے جن کی خود مختاری بھی محض مجازی ہے تو دو مختار کل اور قادر مطلق خدا ایک قلمرو میں کیسے شریک ہوسکتے ہیں۔
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

اس سے پوچھا نہ جائے گا جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جائے7

7 یعنی " خدا " تو اس ہستی کا نام ہے جو قادر مطلق ہے۔ جو قادر مطلق اور مختار کل ہو اس کی قدرت و مشیت کو روکنا تو کجا کوئی پوچھ پاچھ بھی نہیں کرسکتا کہ آپ نے فلاں کام اس طرح کیوں کیا۔ ہاں اس کو حق ہے کہ وہ ہر شخص سے مواخذہ اور باز پرس کرسکتا ہے۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اس سے ورے اور معبود تو کہہ لاؤ اپنی سند8 یہی بات ہے میرے ساتھ والوں کی اور یہی بات ہے مجھ سے پہلوں کی کوئی نہیں، پر وہ بہت لوگ نہیں سمجھتے سچی بات سو ٹلا رہے ہیں9

8 پہلے توحید پر دلیل عقلی قائم کی گئی تھی۔ اب مشرکین سے ان کے دعوے پر دلیل صحیح کا مطالبہ ہے یعنی خدا کے سوا جو معبود تم نے تجویز کیے ہیں ان کا اثبات کس دلیل عقلی یا نقلی سے ہوا۔ اگر موجود ہو تو پیش کرو۔ ظاہر ہے ان کے پاس بجز اوہام وظنون اور باپ دادوں کی کو رانہ تقلید کے کیا رکھا تھا۔ شرک کی تائید میں نہ کوئی دلیل عقلی مل سکتی ہے، نہ نقلی جسے پیش کرسکتے۔ کذا قال المفسرون۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ پہلے ان معبودوں کو فرمایا تھا کہ جن کو خدا کے برابر کوئی سمجھے کہ ایسے وہ حاکم ہوتے تو جہاں خراب ہوجاتا۔ اب ان کا ذکر فرماتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے نیچے چھوٹے چھوٹے خدا بطور نائبین اور ماتحت حکام کے ٹھہراتے ہیں۔ سو ان کو مالک کی سند چاہیے۔ سند بغیر نائب کیونکر بن سکتے ہیں۔ اگر سند ہے تو پیش کرو۔ 9 یعنی میری امت اور پہلی خدا پرست امتوں کی یہ ہی ایک بات ہے کہ اس رب العرش کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں جس کی عقلی دلیل پہلے بیان ہوچکی۔ تم اگر ملل سماویہ کے اس اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی دلیل رکھتے ہو تو پیش کرو۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ یہ امت اور پہلی امتیں اس امت کی کتاب (قرآن کریم) اور پہلی امتوں کی آسمانی کتابیں تورات، انجیل وغیرہ) سب اس میں دعوائے توحید پر متفق رہی ہیں۔ چناچہ آج بھی باوجود بیشمار تحریفات کے پہلی کتابوں کی ورق گردانی کرو توحید کا اعلان اور شرک کا رد صاف صاف پاؤ گے مگر یہ جاہل اس بات کو کیا سمجھیں، اگر سمجھ ہوتی تو حق بات کو سن کر ہرگز نہ ٹلاتے۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول مگر اس کو یہی حکم بھیجا کہ بات یوں ہے کہ کسی کی بندگی نہیں سوائے میرے سو میری بندگی کرو10

10 یعنی تمام انبیاء ومرسلین کا اجماع عقیدہ توحید پر رہا ہے کسی پیغمبر نے کبھی ایک حرف اس کے خلاف نہیں کہا۔ ہمیشہ یہ ہی تلقین کرتے آئے کہ ایک خدا کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو جس طرح عقلی اور فطری دلائل سے توحید کا ثبوت ملتا ہے اور شرک کا رد ہوتا ہے۔ ایسے ہی نقلی حیثیت سے انبیاء (علیہم السلام) کا اجماع دعوائے توحید کی حقیقت پر قطعی دلیل ہے۔
Ayah 21:26

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں رحمان نے کرلیا کسی کو بیٹا وہ ہرگز اس لائق نہیں11 لیکن وہ بندے ہیں جن کو عزت دی ہے

11 عرب کے بعض قبائل ملائکۃ اللہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے، سو بتلا دیا کہ یہ خدا کی شان رفیع کے لائق نہیں کہ بیٹے بیٹیاں بنائے۔ اسی میں نصاریٰ کا رد بھی ہوگیا جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو " ابن اللہ " کہتے ہیں نیز یہود کے اس فرقہ کا بھی جو حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتا تھا۔
Ayah 21:27

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر نہیں بول سکتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں 12

12 یعنی جن برگزیدہ ہستیوں کو تم خدا کی اولاد بتلاتے ہو وہ اولاد نہیں۔ ہاں اس کے معزز بندے ہیں اور باوجود انتہائی معزز و مقرب ہونے کے ان کے ادب و اطاعت کا حال یہ ہے کہ جب تک اللہ کی مرضی اور اجازت نہ پائیں اس کے سامنے خود آگے بڑھ کر لب نہیں ہلا سکتے اور نہ کوئی کام اس کے حکم کے بدون کرسکتے ہیں۔ گویا کمال عبودیت و بندگی ہی ان کا طغرائے امتیاز ہے۔
Ayah 21:28

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

اس کو معلوم ہے جو ان کے آگے ہے اور پیچھے1 اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اس کی جس سے اللہ راضی ہو2 اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں3

1 حق تعالیٰ کا علم ان کے تمام ظاہری و باطنی احوال کو محیط ہے۔ ان کی کوئی حرکت اور کوئی قول و فعل اس سے پوشیدہ نہیں، چناچہ وہ مقرب بندے اسی حقیقت کو سمجھ کر ہمہ وقت اپنے احوال کا مراقبہ کرتے رہتے ہیں کہ کوئی حالت اس کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ 2 یعنی اس کی مرضی معلوم کیے بدون کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے چونکہ مومنین موحدین سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اس لیے ان کے حق میں دنیا و آخرت میں استغفار کرنا ان کا وظیفہ ہے۔ 3 پھر ان کو خدا کیسے کہا جاسکتا ہے۔ جب خدا نہیں تو خدا کے بیٹے یا بیٹیاں بھی نہیں بن سکتے۔ کیونکہ صحیح اولاد جنس والدین سے ہونی چاہیے۔
Ayah 21:29

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو کوئی ان میں کہے کہ میری بندگی ہے اس سے ورے، سو اس کو ہم بدلہ دیں گے دوزخ یونہی ہم بدلہ دیتے ہیں بےانصافوں کو4

4 یعنی جن کو تم خدا کی اولاد یا خدا بنا رہے ہو اگر بفرض محال ان میں سے کوئی اپنی نسبت (معاذ اللہ) ایسی بات کہہ گزرے تو وہ ہی دوزخ کی سزا جو حد سے گزرنے والے ظالموں کو ملتی ہے ہم ان کو بھی دیں گے۔ ہمارے لا محدود اقتدار و جبروت سے وہ بھی باہر نہیں جاسکتے، پھر بھلا خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

اور کیا نہیں دیکھا ان منکروں نے کہ آسمان اور زمین منہ بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا5 اور بنائی ہم نے پانی سے ہر ایک چیز جس میں جان ہے6 پھر کیا یقین نہیں کرتے7

5 " رتق " کے اصل معنے ملنے اور ایک دوسرے میں گھسنے کے ہیں۔ ابتداء زمین و آسمان دونوں ظلمت عدم میں ایک دوسرے سے غیر متمیز پڑے تھے پھر وجود کے ابتدائی مراحل میں دونوں خلط ملط رہے، بعدہ، قدرت کے ہاتھ نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔ اس تمیز کے بعد ہر ایک کے طبقات الگ الگ بنے، اس پر بھی منہ بند تھے، نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے روئیدگی، آکر خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فائدہ کے لیے دونوں کے منہ کھول دیے، اوپر سے پانی کا دہانہ کھلا، نیچے سے زمین کے مسام کھل گئے۔ اسی زمین میں سے حق تعالیٰ نے نہریں اور کانیں اور طرح طرح کے سبزے نکالے، آسمان کو کتنے بیشمار ستاروں سے مزین کردیا جن میں سے ہر ایک کا گھر جدا اور چال جدی رکھی۔ 6 یعنی عموماً جاندار چیزیں جو تم کو نظر آتی ہیں بالواسطہ پانی سے بنائی گئیں۔ پانی ہی ان کا مادہ ہے الاّ کوئی ایسی مخلوق جس کی نسبت ثابت ہوجائے کہ اس کی پیدائش میں پانی کو دخل نہیں وہ مستثنیٰ ہوگی۔ تاہم للا کثر حکم الکل کے اعتبار سے یہ کلیہ صادق رہے گا۔ 7 یعنی قدرت کے ایسے کھلے نشان اور محکم انتظامات کو دیکھ کر بھی کیا لوگوں کو خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت پر یقین نہیں آتا۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور رکھ دیے ہم نے زمین میں بھاری بوجھ کبھی ان کو لے کر جھک پڑے8 اور رکھیں اس میں کشادہ راہیں تاکہ وہ راہ پائیں9

8 اس کی تقریر سورة نحل میں گزر چکی۔ 9 یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک والوں سے مل سکیں۔ اگر پہاڑ ایسے ڈھب پر پڑتے کہ راہیں بند ہوجاتیں تو یہ بات کہاں ہوتی (کذا فی الموضح) ان ہی کشادہ راہوں کو دیکھ کر انسان حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور توحید کی طرف راہ پاسکتا ہے۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ10 اور وہ آسمان کی نشانیوں کو دھیان میں نہیں لاتے11

10 یعنی نہ گرے نہ ٹوٹے پھوٹے نہ بدلی جائے اور شیاطین کے استراق سمع سے بھی محفوظ ہے۔ اور چھت اس لیے کہا کہ دیکھنے میں چھت کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ 11 کہ کیسی مضبوط و محکم اور وسیع و بلند چھت اتنی مدت سے بدون ستون اور کھمبے کے کھڑی ہے۔ ذرا سا رنگ و روغن اور پلاسٹر بھی نہیں جھڑتا۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہ ہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند12 سب اپنے اپنے گھر میں پھرتے ہیں13

12 یہ ان ہی آسمانی نشانیوں کی قدرے تفصیل ہوئی۔ 13 یعنی سورج چاند بلکہ ہر سیارہ اپنے مدار پر پڑا چکر کھا رہا ہے۔ " یَسْبَحُوْنَ " کے لفظ سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیارات اللہ کے حکم سے بذات خود چلتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور نہیں دیا ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا پھر کیا اگر تو مرگیا تو وہ رہ جائیں گے

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جی کو چکھنی ہے موت14 اور ہم تم کو جانچتے ہیں برائی سے اور بھلائی سے آزمانے کو1 اور ہماری طرف پھر کر آجاؤ گے2

14 یعنی جس طرح مذکورہ بالا مخلوقات کا وجود حق تعالیٰ کی ایجاد سے ہوا۔ تمام انسانوں کی زندگی بھی اسی کی عطا کردہ ہے جس وقت چاہے گا چھین لے گا۔ موت ہر ایک پر ثابت کر دے گی کہ تمہاری ہستی تمہارے قبضہ میں نہیں۔ چند روز کی چہل پہل تھی جو ختم ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " کافر حضور کی باتیں سن کر کہتے تھے کہ یہ ساری دھوم محض اس شخص کے دم تک ہے یہ دنیا سے رخصت ہوئے پھر کچھ نہیں " اس سے اگر ان کی غرض یہ تھی کہ موت آنا نبوت کے منافی ہے تو اس کا جواب دیا۔ (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ) 21 ۔ الانبیآء :34) یعنی انبیاء ومرسلین میں سے کون ایسا ہے جس پر کبھی موت طاری نہ ہو ہمیشہ زندہ رہے۔ اور اگر محض آپ کی موت کے تصور سے اپنا دل ٹھنڈا کرنا ہی مقصود تھا تو اس کا جواب (اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :34) میں دے دیا۔ یعنی خوشی کا ہے کی ؟ کیا آپ کا انتقال ہوجائے تو تم کبھی نہیں مرو گے قیامت کے بوریے سمیٹو گے ؟ جب تم کو بھی آگے پیچھے مرنا ہے تو پیغمبر کی وفات پر خوش ہونے کا کیا موقع ہے۔ اس راستہ سے تو سب کو گزرنا ہے کون ہے جس کو کبھی موت کا مزہ چکھنا نہیں پڑے گا گویا توحید اور دلائل قدرت بیان کرنے کے بعد اس آیت میں مسئلہ نبوت کی طرف روئے سخن پھیر دیا گیا۔ 2 یعنی دنیا میں سختی، نرمی، تندرستی، بیماری، تنگی، فراخی اور مصیبت و عیش وغیرہ مختلف احوال بھیج کر تم کو جانچا جاتا ہے تاکہ کھرا کھوٹا الگ ہوجائے اور اعلانیہ ظاہر ہوجائے کہ کون سختی پر صبر اور نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے اور کتنے لوگ ہیں جو مایوسی یا شکوہ شکایت اور ناشکری کے مرض میں مبتلا ہیں۔ 3 جہاں تمہارے صبرو شکر اور ہر نیک و بدعمل کا پھل دیا جائے گا۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جہاں تجھ کو دیکھا منکروں نے تو کوئی کام نہیں ان کو تجھ سے مگر ٹھٹھا کرنا کیا یہی شخص ہے جو نام لیتا ہے تمہارے معبودوں کا اور وہ رحمان کے نام سے منکر ہیں3

3 یعنی انجام سے بالکل بےفکر ہو کر یہ لوگ پیغمبر ﷺ کی ہنسی اڑاتے ہیں اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ چناچہ استہزاء و تحقیر سے کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ ) 21 ۔ الانبیآء :36) کیا یہ ہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا برائی سے ذکر کرتا ہے۔ انھیں شرم نہیں آتی کہ خود حقیقی معبود کے ذکر اور " رحمن " کے نام تک سے چڑتے ہیں، اس کی سچی کتاب کے منکرین، اور جھوٹے معبودوں کی برائی سن کر چیں بجبیں ہوتے ہیں۔ اندریں صورت ہنسی کے قابل ان کی حالت ہوئی یا فریق مقابل کی ؟
Ayah 21:37

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

بنا ہے آدمی جلدی کا اب دکھلاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں، سو مجھ سے جلدی مت کرو4

4 شاید کفار کے سفیہانہ استہزاء و تمسخر کو سن کر بعضوں کا جی چاہا ہوگا کہ ان بےحیاؤں پر فوراً عذاب آجائے تو اچھا ہو، اور خود کفار بھی بطور استہزاء جلدی مچایا کرتے تھے کہ اگر واقعی ہم تمہارے نزدیک مستحق عذاب ہیں تو وہ عذاب فوراً کیوں نہیں لے آتے۔ دونوں کو بتلایا کہ انسان بڑا جلد باز ہے گویا اس کے خمیر میں جلدی پڑی ہے، چاہیے کہ تھوڑا سا صبر کرو عنقریب میں اپنے قہر و انتقام کی نشانیاں تم کو دکھلا دوں گا۔
Ayah 21:38

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو5

5 یعنی کہتے رہتے ہو کہ قیامت آئے گی اور سب کافر ہمیشہ کے لیے دوزخ میں جلیں گے۔ آخر یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر سچے ہو تو قیامت اور جہنم کو ابھی کیوں نہیں بلا لیتے۔
Ayahs 21:39–40

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اگر جان لیں یہ منکر اس وقت کو کہ نہ روک سکیں گے اپنے منہ سے آگ اور نہ اپنی پیٹھ سے اور نہ ان کو مدد پہنچے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

کچھ نہیں وہ آئے گی ان پر ناگہاں پھر ان کے ہوش کھو دے گی پھر نہ پھیر سکیں گے اس کو اور نہ ان کو فرصت ملے گی6

6 یعنی اگر ان پر حقیقت منکشف ہوجائے اور اس ہولناک گھڑی کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں تو کبھی ایسی درخواست نہ کریں۔ یہ باتیں اس وقت بےفکری میں سوجھ رہی ہیں، جب وہ وقت سامنے آجائے گا کہ آگے پیچھے ہر طرف سے آگ گھیرے ہوگی تو نہ کسی طرف سے اس کو دفع کرسکیں گے، نہ کہیں سے مدد پہنچے گی، نہ مہلت ملے گی، نہ پہلے سے اس کا کامل اندازہ ہوگا۔ اس کے اچانک سامنے آجانے سے ہوش باختہ ہوجائیں گے تب پتہ چلے گا کہ جس چیز کی ہنسی کرتے تھے وہ حقیقت ثابتہ تھی۔