21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 21:1–4

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب تو قریب آ لگا اور وہ ہیں کہ غفلت میں پڑے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے رب کے پاس سے سمجھانے کے لیے کوئی نئی ایسی بات ان کے پاس نہیں آتی کہ جس کو سن کر ہنسی میں نہ ڈال دیتے ہوں

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور ظالم پوشیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ (محمد) ہے کیا مگر تمہارے ہی جیسا کہ ایک شخص ‘ تو پھر کیا تم دیدہ و دانستہ جادو کی باتیں سنتے جایا کرتے ہو۔

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

رسول نے کہہ دیا کہ میرا رب آسمان اور زمین کی سب باتیں جانتا ہے اور وہ (سب کچھ) سنتا (سب کچھ) جانتا ہے

ترکیب : وھم مبتداء و معرضون خبر وفی غفلہ ضمیر معرضون سے حال ہے ای اعرضوا غافلین اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو۔ لاھیۃ قلوبہم حال ہے ضمیر یلعبون سے اور یہ دونوں حال مترادف یا متداخل ہیں اور جس نے لاھیۃ کو مرفوع پڑھا ہے تب ایک ہی حال ہے کس لیے کہ یہ خبر بعد خبر ہے ہل ہذا جملہ محل نصب میں ہے النجوی سے بدل کر ای واسروا ھذا الحدیث۔ قال بصیغہ ماضی رسول کا قول ہوگا حمزہ و کسائی و حفض کی قرأت کے بموجب اور دیگر قراء نے قل بصیغہ امر پڑھا ہے۔ تفسیر : یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بیشتر توحید و نبوت اور عالم آخرت کا ثبوت اور انبیاء (علیہم السلام) کے عبرت انگیز تذکرے اور ان کی نافرمان امتوں کا انجامِ بد اور انسان کا بارگاہِ الٰہی میں حساب دینے کے لیے حاضر ہونا بیان ہے پس فرماتا ہے اقترب الخ کہ انسان کے حساب کا وقت تو قریب آ لگا اور وہ غفلت میں ہی پڑا ہوا خدا کے فرستادوں سے منہ موڑ رہا ہے اور جو کوئی نئی بات وعظ و پند کی ان کے کانوں میں پڑتی ہے تو اس کی طرف کھیل کود میں توجہ بھی نہیں کرتے۔ حسابہم مفسرین کہتے ہیں کہ حساب سے مراد قیامت کے دن کا حساب ہے اور گو وہ ابھی صدہا ہزارہا سال بعد آئے گا مگر آیندہ آنے والی چیز تو گھڑی گھڑی قریب ہی ہوتی جاتی ہے کیا خوب کہا ہے کسی نے ؎ ما اقرب ماھوآت۔ وما ابعد ماھوفات۔ آنیوالی چیز بہت قریب ہے۔ اور جانے والی چیز بہت دور ہے۔ فقیر کہتا ہے کہ حساب کا وقت کچھ قیامت ہی پر موقوف نہیں بلکہ موت کے بعد بھی انسان اپنے خدا کے روبرو جاتا اور اس کو قبر میں اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے سو یہ بھی ایک قسم کا حساب ہے پس اس وقت کے قریب ہونے میں تو کسی کو بھی کلام نہیں یعنی انسان غفلت کی نیند میں سوتا ہے کہ موت آلیتی ہے اسروا النجوی یہ جملہ مستانفہ ہے ان کی عادات رذیلہ کے بیان میں ان کے اعراض اور کھیل اور کود کے ثبوت میں۔ النجویٰ اسم ہے التناجی سے جس کے معنی سرگوشی کرنا پھر اس کے مخفی کرنے کے یہ معنی کہ ان باتوں کو جن کا ذکر اگلے جملہ میں آتا ہے نہایت مخفی طور پر باہم کہتے تھے۔ انسان جس بات کو اہم سمجھتا ہے اس کی بابت مخفی طور پر مشورہ کیا کرتا ہے اور وہ باتیں یہ ہیں۔ (1) ھل ھذا الابشر مثلکم کہ یہ رسول تو تمہارے جیسا آدمی ہے جس طرح ہم کھاتے پیتے ‘ سوتے جاگتے ہیں ایسا ہی یہ بھی ہے۔ پھر یہ رسول کیسا جو خدا کی باتیں خاص اس کے پاس آتی ہیں ہمارے پاس نہیں ؟ ان کے خیال میں رسول بشریت کے جامہ سے باہر اور ملکیت کے لباس میں ہونا چاہیے تھا جو کھانے پینے سے پاک ہو اور ہمیشہ جیتا رہے جس کے رد میں آگے ارشاد ہوتا ہے۔ (2) افتاتون السحر و انتم تبصرون قرآن مجید کو اس کے اعجاز کی وجہ سے مکہ کے کافر جادو کہتے تھے۔ پھر اس کی نسبت ایک دوسرے کو کہتا تھا کہ تم قرآن پر نہ چلو جان بوجھ کر کیوں جادو پر چلتے ہو ؟ یہ بات ان کے دل میں نہ تھی دل میں تو حق جانتے تھے مگر لوگوں کے گمراہ کرنے کو سحر اور جادو کہتے تھے قال ربی یعلم القول یہ ان کے مخفی کہنے کے جواب میں ہے کہ رسول نے ان کا مخفی راز ان سے کہہ دیا یارسول کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو تم ہزار چھپاؤ میرا رب جو آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے اور سننے والا ‘ جاننے والا ہے اس سے تمہارا یہ مخفی مشورہ کب مخفی رہ سکتا ہے ؟ القول صاحب کشاف کہتے ہیں لفظ قول عام ہے شامل ہے سروجہر کو تاکید کے لیے یعلم السر کی جگہ یعلم القول کہا۔
Ayahs 21:5–10

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

(پھر سرگوشیاں کیا چیز ہیں) بلکہ ان ظالموں نے (یہی) کہہ دیا کہ یہ قرآن خیالات پریشان ہیں بلکہ اس نے جھوٹ باندھا ہے بلکہ وہ شاعر ہے پھر جس طرح کہ پہلے رسول (معجزوں کے ساتھ) بھیجے گئے ہیں اسی طرح یہ بھی ہمارے پاس کوئی معجزہ لے آئے۔

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے جس بستی کو ہم نے ہلاک کیا تھا وہ بھی تو ایمان نہ لائے تھے پھر کیا یہ ایمان لے آئیں گے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور اے محمد ﷺ ! تم سے پہلے بھی تو ہم نے آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا (یہی تھا) کہ ان کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو علم والوں سے پوچھ دیکھو

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے بدن بھی نہ بنائے تھے کہ جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے اپنے وعدہ کو سچا کردیا تب ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور جو حد سے بڑھ گئے تھے

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ان کو ہلاک کردیا ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب بھیج دی ہے کہ جس میں تمہاری نصیحت ہے پھر کیا تم کو (اتنی بھی) عقل نہیں۔

بل قالواضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر کفار مکہ کو قرآن کے جادو کہنے میں بھی استقلال نہ تھا جیسا کہ بےتک کوئی کسی میں عیب لگایا کرتا ہے تو وہ اسی طرح مختلف باتیں کہا کرتا ہے یعنی جادو پھر بھی ایک نادر چیز ہے۔ یہ تو ایسا بھی نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں کہ جن کو ازخود محمد ﷺ نے بنا کر ذرا اچھی اور دلچسپ عبارت میں جمع کرلیا ہے کیونکہ وہ شاعر ہے۔ (3) فلیاتنا بایۃ الخ پہلے نبیوں کی طرح کوئی بڑا بھاری معجزہ کیوں نہیں دکھاتا کوئی نشانی نہیں لاتا ؟ یہ ان کے تین شبہ تھے جن کی تقلید میں آج کل کے عیسائی اور متعصب ہنود بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکناھا افہم یؤمنون یہ ان کی تیسری بات کا جواب ہے جس کو وہ باربار منہ پر لاتے اور رسول (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا کرتے تھے کہ ان سے پہلے جس قدر بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے انہوں نے اپنے رسول سے وعدہ کرلیا تھا کہ ہم معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئیں گے مگر جب ان کو معجزہ بھی دکھایا تب بھی ایمان نہ لائے پھر یہ جو معجزہ کی درخواست کرتے ہیں کیا ایمان لے آئیں گے ؟ اس لیے ان کی خواہش کے بموجب معجزہ نہیں دکھایا جاتا کیونکہ ایک وقت مقرر تک ان کا ہلاک کرنا ہم کو منظور نہیں وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیہم یہ ان کے پہلے شبہ کا جواب ہے کہ محمد ﷺ سے پیشتر ہم نے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ بھی تو آدمی ہی تھے کہ جن کی طرف وحی کی گئی تھی فرشتہ نہ تھے اگر تم کو معلوم نہ ہو تو فاسئلوا اھل الذکر اہل کتاب سے پوچھ دیکھو کہ جن کے تم اے اہل مکہ اکثر باتوں میں معتقد ہو اور ان سے پوچھ پوچھ کر اعتراضات کیا کرتے ہو و ما جعلنا ھم جسدا لا یاکلون الطعام و ما کانوا خالدین اور ان انبیاء کو ہم نے ایسے بدن عطا نہ کئے تھے کہ جو کھانے کے محتاج نہ ہوں اور ہمیشہ باقی رہیں بلکہ وہ کھاتے پیتے تھے آخر دنیا سے اٹھ گئے، موت سے نہ بچے۔ ہاں وہ ہمارے رسول تھے انہوں نے اپنی نافرمان اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے لیے جو کچھ وعدے کئے تھے ثم صدقنا ھم الوعد ان کو ہم نے پورا کردیا۔ فانجینا ھم ومن نشاء واھلکنا المسرفین رسولوں اور ان کے پیروئوں کو بچا لیا اور بدکاروں کو حد سے گزرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ لقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکر افلا تعقلون یہ ان کی دوسری بات کا جواب ہے کہ قرآن کو جو ہم نے تمہارے پاس بھیجا ہے اس میں غور کرو کہ تمہارے لیے اس میں کس قدر وعظ و نصیحت ہدایت وسعادت ہے۔ پھر اس کو سحر اور کیا کیا کہتے ہو افلاتعقلون کیا تم کو عقل نہیں ؟
Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جہاں کے لوگ ظالم تھے غارت کردیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں

ترکیب : و کم قصمنا صاحب کشاف کہتے ہیں قصم اس طرح سے توڑنے کو کہتے ہیں کہ ایک ایک ٹکڑا جدا ہوجائے بخلاف قضم اور کسر کے۔ قریہ سے مراد وہاں کے سکان بحذف مضاف۔ کم خبریہ تکثیر کے لیے محل نصب میں قصمنا کی وجہ سے من قریۃ تمیز کانت ظالمۃ محلِ جر میں قریہ کی صفت ہو کر بحذف مضاف۔ اذا مفاجات کے لیے ھم مبتداء یرکضون خبر اذا اس کا ظرف تلک دعواھم تلک موضع رفع میں اسم زالت و دعوھم خبرویجوز العکس۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم نے مسرفین کو ہلاک کردیا۔ اب پھر اس کی تشریح فرماتا ہے کہ وہ مسرفین کون تھے اور ان کے کیا عادات تھے اور کس طرح سے ہلاک ہوئے ؟ تاکہ ان مشرکین کو معلوم ہو کہ وہ ہمارے ہی جیسے کافر اور بدکار تھے اب ہم کو بھی عذاب الٰہی سے ڈرنا چاہیے۔ پس فرماتا ہے وکم قصمنا کہ ہم نے بہت سے شہروں کو ہلاک و برباد یا غارت کردیا ہے جن کے رہنے والے ظالم و بدکار تھے اور ان کی جگہ اور نئی قومیں آباد کردیں اور نئے لوگ پیدا کردیے۔ پھر جب ان غارت ہونے والے لوگوں کو ہمارا عذاب آتا ہوا دکھائی دیتا ہے جیسا کہ انبیاء نے ان کو خبر دی تھی (یہ ثم صدقنا ھم الوعد کی تفسیر ہے، تو اس عذاب سے بھاگنے لگے۔ رکض ایڑ مارنا و منہ قولہ تعالیٰ ارکض برجلک پس جب ان کو عذاب الٰہی کے آثار نمودار ہوتے دکھائی دیے تو اپنی سواریوں پر سوار ہو کر ان کو ایڑ مار کر اپنے شہر و دیار چھوڑ چھوڑ بھاگنے لگے یا ارکض کے ساتھ ان کا جلدی بھاگنا سرعت کی وجہ سے تعبیر کیا گیا۔ لاترکضوا فرشتہ یا ہاتف غیب نے یا ان کے حال موجودہ نے ان سے کہا کہ مت بھاگو اور تم کو جو کچھ خدا نے نعمتیں اور عمدہ مکانات اور باغ اور مال و زر اور محبوب زن و فرزند دے رکھے تھے لوٹ کر وہیں جاؤ شاید تم سے سوال کیا جائے کہ تم پر کیا گزری یعنی بھاگنا سودمند نہ ہوگا اور ان کے مکانات اور نعماء کی طرف لوٹ کر جانے کا حکم دینے میں گویا ان پر تعریض ہے کہ آج یہ سب چیزیں تم سے چھینی جاتی ہیں تم نے ان کی شکرگزاری نہ کی تھی اب انہیں کو دیکھ دیکھ حسرت کے ساتھ جان دو اور ان کو بھی اپنے روبرو برباد ہوتے دیکھو اور ان سے سوال ہونے سے یہ مراد کہ تمہارے اموال و مکانات کے ساتھ ہلاک ہونے سے کل آیندہ آنے والے لوگ سوال کریں گے کہ یہ کون لوگ تھے اور کیونکر ہلاک ہوئے ؟ یا یہ معنی کہ جاؤ تمہارے نوکر چاکر ماتحت لوگ تم سے پوچھ پوچھ کر کام کریں گے جیسا کہ تمہاری بحالی کے وقت میں کیا کرتے تھے یعنی کہاں بھاگ کر جاتے ہو وہیں جائو ‘ ناجائز ویسی ہی حکومت چلائو۔ پھر فرماتا ہے فمازالت تلک وعواھم حتی جعلنا لہم حصیداخامدین کہ وہ ہلاک ہوتے ہوتے تک یوں ہی پکارا کئے یا ویلنا انا کنا ظالمین کہ اے افسوس ‘ اے خرابی ! بیشک ہم ستمگار تھے۔ مگر اس وقت ان کا کہنا کیا فائدہ دیتا تھا آخر یوں ہی پکارتے پکارتے نیست و نابود ہوگئے۔ دعویٰ مصدر بمعنی الدعوۃ پکارنا جیسا کہ اہل جنت کی شان میں آیا ہے وآخر دعواھم ان الحمدللہ رب العالمین۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی بمعنی المحصود۔ الخمود بجھنا آگ کا یعنی ان کو ہم نے ایسا کردیا جیسی کھیتی کٹی ہوئی پڑی ہوتی ہے اور اس طرح بجھا دیا جس طرح آگ بجھ جاتی ہے مراد یہ کہ ہلاک و برباد کردیا۔ ان گائوں کی نسبت کہ جن کا ان آیات میں ذکر ہے مفسرین کا اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ حضور اور سحول یمن میں دو شہر تھے جہاں عمدہ کپڑا بنتا تھا، وہ مراد ہیں۔ کوئی کہتا ہے شام کے ملک میں سدوم وغیرہ قوم لوط کی بستیاں مراد ہیں۔ فقیر کہتا ہے کہ شام و یمن پر کیا موقوف ہے تاریخ کھول کر دیکھئے گا تو ہر ملک میں آپ کو ایسے بہت سے اجاڑ شہر ملیں گے کہ جو زلزلہ یا آسمانی پتھروں یا طغیانی دریا یا وبا یا قتل یا پہاڑ کے آتشی مادہ سے یا کسی اور آفتِ الٰہی سے جو معمولی آفتوں کے علاوہ ہے برباد ہوئے ہیں اور اب ان قوموں کا نام و نشان بھی نہیں ان کی جگہ اور قومیں آباد ہیں فاعبتروایا اولی الابصار۔
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پھر جب ان ہلاک ہونے والوں نے عذاب کی آہٹ پائی تو فوراً وہاں سے بھاگنے لگے

ارکض الفراروالہرب واصلہ من رکض الرحل الذاتہ ومنھا ارکض برجلک والمغنی انھم ھربوا اکضین دوابھم الترف النعمۃ یقال امترف فلان وھو مترف ای وسع علیہ علیہ فی معاشہ۔ 12 منہ
Ayahs 21:13–15

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

(کہا گیا) مت بھاگو اور ان نعمتوں کی طرف لوٹ جاؤ جن کے تم مزے اڑایا کرتے تھے اور اپنے مکانوں کی طرف بھی واپس جاؤ تاکہ تم سے 1 ؎ پوچھا جائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے وامصیبتاہ ہم ہی ظالم تھے۔

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

پھر وہ ہمیشہ یہی پکارا کئے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کاٹ کر کھلیان کردیا جو بچھے پڑے تھے

1 ؎ کہ تم پر کیا گزری اور تمہارے وہ سازوسامان کیا ہوئے ‘ جن مکانوں پر فخر کیا کرتے تھے کہاں گئے۔ یہ کلام ان سے بطور تمسخر کے کسی باخدا نے کیا تھا۔ 12 منہ
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے اندر کی چیزوں کو کھیلنے کے لیے نہیں بنایا ہے۔

وما خلقنا السماء والارض الخ مشرکین بلکہ اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انسان اور دیگر چیزیں آپ ہی پیدا ہوتی ہیں اور آپ ہی مٹ جاتی ہیں۔ خدا کو انسان کے نیک و بد سے کیا غرض اور رسولوں کے بھیجنے سے کیا مطلب ؟ پھر جو کوئی قوم یا شہر برباد ہوا ہوتا ہے اس میں ان کے گناہ وثواب کو کیا دخل۔ یہ سب اسباب ارضی و سماوی سے ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ آسمان اور زمین اور اندر کی کائنات ازخود تو پیدا ہو ہی نہیں گئی بہرطور کوئی اس کی علت و سبب نکالو گے پھر اس میں کلام ہوگا انجام کار خدا کا قائل ہونا پڑے گا پھر جب ان کے ہم خالق ہیں تو باوجود اس علم و حکمت کے ہم نے ان چیزوں کو عبث اور بیکار تو پیدا کیا ہی نہیں بلکہ ہر ایک سے ایک غایت مطلوب ہے پھر جن چیزوں کو فی الجملہ اس غایت اور کمال حاصل کرنے میں اختیار بھی دیا گیا ہے اور وہ اس کو حاصل نہ کریں گے (جیسا کہ خلقت انسان سے مقصود اس کی معرفت و عبادت و دیگر مصالح ہیں) تو نکمے ہوں گے جیسا کہ میوے دار درخت کی نکمی شاخ جس کا کاٹنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس کی جگہ اور شاخ پھوٹے (وانشانا بعدھا قومًا آخرین) رہے اسباب ارضی و سماوی وہ سب بھی ہمارے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اسباب کا پیدا کرنا بربادی اور ہلاکت کے لیے یا سعادت کے لیے ہمارا ہی کام ہے اور اگر ہم کو دنیا کے پیدا کرنے سے کھیل اور تماشا ہی منظور ہوتا تو لاتخذناہ من لدنا ای من عندنا اپنے ہاں سے یعنی مجردات اور نورانی چیزیں جو ہمارے اسرار ربوبیت کا نمونہ ہیں کیا کم تھیں ؟ بلکہ انبیاء اور رسل بھیجنے سے ہمارا مقصود توہمات باطلہ کا مٹانا اور حق کا جتلانا ہے۔ اس مضمون کو کس خوبی سے ادا کیا ہے باطل کو مٹی کے خام برتن سے تشبیہ دی اور حق کو سخت پتھر سے کہ جب اس کو اس برتن پر پھینک ماریں تو فوراً ٹوٹ پھوٹ جائے اس لیے فرماتا ہے کہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں کہ جس سے وہ باطل مٹ جاتا ہے۔ اور اے کفار ولکم الویل مما تصفون تم جو یہ برے بیان کرتے ہو اس سے تمہارے لیے خرابی ہے یا یہ جملہ انشائیہ بصورت جملہ خبر یہ ہے کہ تمہاری ان باتوں پر پھٹکار منجملہ ان کے برے بیانوں کے ایک یہ بھی تھا کہ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور عیسائی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اب اس کا ابطال فرماتا ہے ولہ من فی السموات ولارض کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ کی ملک ہے پھر اس کو بیٹے کی کیا حاجت ؟ اور جو بیٹا ہے پھر اس نے کیا پیدا کیا ہے چیزیں تو خدا کی پیدا ہوئی ہیں ؟ ومن عندہ اور اس کے پاس رہتے ہیں یعنی ملائکہ وہ تو خود رات دن اس کی عبادت کرتے ہیں ‘ تھکتے نہیں نہ تکبر کرتے ہیں پھر وہ اس کی بیٹیاں کیونکر ہیں ؟ ام اتخذوا الھۃ زمین کی چیزوں کو انہوں نے گویا خدا بنا لیا ہے پھر کوئی پوچھے ھم ینشرون کیا وہ کسی کو زندہ کرسکتے ہیں ؟ لو کان الخ اگر آسمان و زمین میں دو خدا ہوں تو آپس کے جھگڑے سے نہ آسمان رہے نہ زمین پس خدا عرش کا مالک جس کو کوئی پوچھ نہیں سکتا کہ کیا کرتا ہے ان سب باتوں سے پاک ہے۔ اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ خود انہوں نے زمین کی چیزوں سے پتھر ‘ پیتل ‘ تانبے ‘ سونے ‘ چاندی کے آپ ہی بت بنا کر کھڑے کرتے اور پھر ان کو پوجتے ہیں۔
Ayahs 21:17–20

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنے پاس کی چیزوں 2 ؎ کو بناتے اگر ہم کو یہی کرنا تھا

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بلکہ حق کو باطل پر (پتھر کی طرح) پھینک مارتے ہیں پس حق باطل کا سر توڑ دیتا ہے پھر وہ باطل ترت مٹ جاتا ہے اور تم پر پھٹکار ہے تمہاری باتیں بنانے سے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا تو ہے اور جو لوگ اس کے حضور میں ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ سرتابی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات دن تسبیح کیا کرتے ہیں سستی نہیں کرتے۔

2 ؎ یعنی کھیلنے کے لیے عالمِِغیب کی چیزیں فرشتے اور بہشت کی مخلوق اور روحانیات کیا کم تھے عالم غیب کی چیزوں کو اپنے پاس کی چیزیں اس لیے کہا کہ عالم محسوس کی بہ نسبت عالم ملکوت تو اس سے قریب ہے۔ عرب کے بعض قبائل اولاد اور بیوی کو لھو کہا کرتے ہیں اس لیے کہ دراصل انسان کے کھیلنے دل خوش کرنے کی یہی چیزیں ہیں۔ اس تقدیر پر یہ مطلب کہ کھیلنا ہی ہوتا تو اپنے پاس کے لوگوں کو بیوی بیٹا بنا کر نہ کھیلتے اس میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو مخلوق کو اس کی بیوی یا بیٹا کہتے ہیں۔ 12 حقانی
Ayahs 21:21–25

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی چیزوں سے ایسے معبود بنا رکھے ہیں کہ جن کو وہ خود بنا کر کھڑا کرتے ہیں

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اور اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو وہ (کبھی کے) خراب ہوچکے ہوتے جو جو یہ لوگ اس کی نسبت بیان کیا کرتے ہیں اللہ عرش کا مالک ان سب سے پاک ہے۔ جو کچھ وہ کرتا ہے

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

اس سے پوچھا نہیں جاتا بلکہ وہ خود پوچھے جاتے ہیں۔

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا اور بھی معبود بنا رکھے ہیں۔ کہہ دو اپنی دلیل تو پیش کرو۔ یہ میرے ساتھ والوں کا فہمائش کرنے والا (قرآن) موجود ہے اور مجھ سے پہلوں کی بھی فہمائش نامے ہیں (یعنی تورات و انجیل پر کسی میں بھی دو معبود نہیں) بلکہ اس میں سے اکثر تو حق جانتے ہی نہیں اس لیے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) تم سے پیشتر ہم نے ایسا کوئی بھی رسول نہیں بھیجا کہ جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ بجز میرے اور کوئی معبود نہیں سو میری ہی عبادت کیا کرو

تفسیر : پھر تہدید و توبیخ کے لیے اسی جملہ کو نقل فرماتا ہے ام اتخذوا الخ کہ کیا انہوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ پھر اس بات کو دو طرح سے باطل کرتا ہے : (1) ھذا قل ھاتوا برھانکم کہ اس پر کوئی سند یا دلیل پیش کرو اور جب سند نہیں تو محض وہم اور فاسد خیال ہے۔ (2) ھذا ذکر من معی وذکر من قبلی کہ اچھا اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل اس بات پر نہیں تو نقلی پیش کرو۔ نقلی دلیل کتاب الٰہی سے ہو تو مسلم ہے ورنہ نہیں اور کتاب الٰہی جو میرے ساتھ والوں کا یعنی میری امت کا ذکر یعنی فہمائش کرنے والی ہے وہ قرآن مجید ہے اور مجھ سے پہلے لوگوں کا ذکر تورات و انجیل و زبور و صحف انبیا بھی دنیا میں آچکے ہیں پھر کسی میں تو دکھاؤ کہ اور بھی خدا کے سوا معبود ہیں ؟ سعید بن جبیر و قتادہ و سدی ; کہتے ہیں کہ یہ ذکر من قبلی قرآن مجید کی صفت ہے کہ اس قرآن میں میری امت کا اور مجھ سے پہلے لوگوں کا ذکر ہے۔ اب اس سے بڑھ کر اور جامع کون سی کتاب ہوگی جو مانو گے ؟ فرماتا ہے بل اکثرھم لا یعلون الحق فہم معرضون کہ یہ جو اس سے اعراض کرتے ہیں اس سے کتاب الٰہی کا قصور نہ سمجھنا چاہیے بلکہ ان میں سے نادان اور جاہل ہیں ‘ حق شناس نہیں ہیں اس لیے اعراض کرتے ‘ منہ موڑتے ہیں۔ اس کتاب کا اور اگلی کتابوں کا تو حال انہیں معلوم ہوگیا۔ رہے بزرگان دین جو انبیاء اور رسول ہیں، انہوں نے بھی کبھی دو خدا کی عبادت نہیں بیان کی بلکہ وما ارسلنا من قبلک الخ اے محمد ﷺ تم سے پیشتر جس قدر انبیاء ہم نے بھیجے ہیں سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں میری ہی عبادت کیا کرو۔ چناچہ توریت موجودہ اور اناجیل موجودہ میں بھی یہ بات موجود ہے پھر مسیح کا خدا ہونا اور خدا کا بیٹا ہونا اسی طرح اور چیزوں یا بزرگوں کا خدائی میں شریک ہونا ان کو کہاں سے ثابت ہوگیا ؟ عرب میں قبیلہ خزاعہ کے لوگ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے ان کے قول کو بھی رد فرماتا ہے۔
Ayahs 21:26–29

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے (فرشتوں کو) بیٹیاں بنا لیا ہے وہ پاک ہے بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

کلام کرنے میں اس سے پیش قدمی نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر کام کرتے ہیں۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ کہ ان کے آگے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ شفاعت بھی نہیں کرتے مگر اس کے لیے کہ جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کے جلال سے ڈرتے رہتے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو کوئی ان میں سے یہ کہے کہ اس کے سوا میں خدا ہوں تو اسی پر ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے۔ ظالموں کو ہم اسی طرح سے سزا دیا بھی کرتے ہیں۔

و قالوا اتخذ الرحمن ولدً سبحانہ الخ کہ وہ مشرکین کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد جنائی ہے وہ ایسی باتوں سے پاک ہے اور وہ فرشتے کہ جن کو وہ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اس کے بندے ہاں معزز بندے ہیں۔ مگر اس کے حکم کے ایسے مطیع ہیں کہ (1) کلام بھی اس کی اجازت بغیر نہیں کرتے جب وہ کچھ فرما لیتا ہے تو بولتے جواب دیتے ہیں۔ (2) وہ اس کے حکم کے پابند ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ان کا ظاہر و باطن معلوم ہے۔ یا یہ معنی کہ خدا تعالیٰ نے جو ان کو عزت دی ہے وہ ان کے ابتداء و انتہا سے خوب واقف ہے کہ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یا یہ کہ وہ اس کی قدرت و علم کے احاطہ میں ہیں پھر ان کی الوہیت کیسی۔ (3) اور وہ سفارش بھی اسی کی کرتے ہیں کہ جس سے خدا کو راضی پاتے ہیں یعنی کلمہ گو کی اور (4) وہ ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جو کوئی بالفرض ان میں سے خدائی کا قائل ہو بھی تو ہم اس کو جہنم میں ڈال دیں ہمارے زیرحکم ہیں پھر بیٹیاں ہونا اور رشتہ دار ہونا کیسا ؟ اور ان پر کیا موقوف ہے ہم ہر ظالم کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

اور کیا منکروں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین باہم جڑے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے ہی ان کو جدا جدا کردیا اور ہر جاندار کو پانی سے بنایا۔ تو پھر کیا (اس پر بھی ہم پر) ایمان نہیں لاتے

1 ؎ اولم یر بمعنی اولم یعلموا کا بح الضیر الی السماء والارض بلحاظ الجنس لہذا لم یقل کن الرتق السد صند انتق یقال الرتقہ فارتتق اے التائم اے کانتاتمر ممتین وقال رتقا ولم یقل رتقین لانہ مصدر 12 منہ ترکیب : کل شیئٍ مفعول جعلنا حی اس کی صفت من الماء لابتداء الغایت ویجوزان یکون صفۃ لکل تقدم علیہ فصار حالا۔ تفسیر : مشرکین کا خیال رد کر کے اب ان کے سامنے (جو بہت سے معبودوں کے قائل تھے اور کبھی اس کی معزز مخلوق کو اس کا بیٹا یا بیٹیاں کہتے تھے) یہ چند دلائل بیان فرماتا ہے کہ معلوم ہوجائے کہ عالم میں یہ تمام صنعتکاری اسی کی ہے۔ کسی معبود یا بیٹے نے کیا پیدا کیا ہے ؟ اور چونکہ یہ دلائل ایسے بدیہی ہیں کہ جو ادنی غور کرنے سے مدعا ثابت کردیتے ہیں تو اس لیے اولم یر 1 ؎ کر کے خطاب کیا (ا) ان السموات والارض کانتارتقا الخ رتق بند کرنا بند ہونا فتق بالفتح جدا کرنا کھولنا۔ اس کے معنی مفسرین نے چند طور پر بیان کئے ہیں لیکن ابن عباس ؓ اور حسن بصری اور جمہور مفسرین اس کے یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ آسمانوں کا بند ہونا مینہ کا بند ہونا ‘ مینہ کا ان سے نہ برسنا اور زمین کا بند ہونا نباتات کا پیدا نہ ہونا اور کھلنا آسمان سے بارش برسنا اور زمین کا نباتات اگانا کہ کافر یہ نہیں دیکھ چکے بلکہ ہر سال صیف وشتاشدید کے وقت جبکہ بارش نہیں ہوتی اور زمین سے کچھ پیدا نہیں ہوتا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین بند ہوتے ہیں خدا تعالیٰ ہی اپنے یدقدرت سے کھولتا ہے، بارش برساتا ہے، پھر اس سے ہر قسم کا سبزہ اگاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان آیات میں ابتدائِ آفرنیش عالم کی طرف اشارہ ہے جس کو قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمایا یہاں اجمالاً بیان کیا جاتا ہے کہ مادہ اثیریہ یعنی ایتھرسب ایک جاجمع تھا آسمانوں اور زمین کا مادہ مجتمع تھا اس میں سے میں نے آسمانوں کو جدا کردیا زمین کو جدا یعنی اس میں سے کسی قدر سے آسمان بنا دیے کسی قدر سے زمین پھر زمین کی مخلوقات حیوانات نباتات کو زندہ کیا کل شیئٍ سے یہی چیزیں مراد ہیں۔ نباتات میں یہی ایک قسم کی حیات ہے اگر غور کرو تو جمادات کا انعقاد بھی پانی سے ہوا ہے اور ان کی صورت نوعیہ کا قیام ان کی حیات ہے اس لیے اس کے بعد میں فرماتا ہے (2) وجعلنا من الماء کل شیئٍ حی صاحب کشاف کہتے ہیں کہ جلعنا یا تو ایک مفعول کی طرف متعدی قرار دیا جائے یا دو کی طرف پہلی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے ہر حیوان کو پانی سے پیدا کیا جیسا کہ اور جگہ فرماتا ہے واللہ خلق کل دابۃ من ماء یا تو نطفہ سے حیوانات پیدا ہوتے ہیں جو ایک قسم کا پانی ہے یا ان کو پانی کی طرف اشد ضرورت ہے اس لیے ان کی حیات کو پانی کی طرف منسوب کیا جیسا کہ آیا ہے خلق الانسان من عجل انسان میں جلدی ہونے کو جلدی سے پیدا ہونے کے ساتھ تعبیر کیا یہ ایک محاورہ عرب ہے۔ دوسری صورت میں یہ معنی ہوں گے صیرنا کل شیئٍ حی بسبب الماء کہ ہر جاندار کو پانی سے زندہ کیا ہے من الماء مفعول ثانی کل شیئٍ موصوف حی صفت مجموعہ مفعول اول مفعول ثانی کا مقدم کرنا اہتمام شان کی وجہ سے ہوگا۔ اور بعض روایات میں حیابالنصب بھی آیا ہے یا تو اس کو اس صورت میں کل کی صفت قرار دیں گے کہ ہر کل شی جو حی ہے اس کو پانی سے پیدا کیا۔ یا یہ مفعول ثانی ہوگا تب یہ معنی ہوں گے کہ ہر ایک شے کو پانی سے زندہ کیا۔ اس صورت میں ہر شے سے مراد حیوان یا نباتات ہوں گے۔ قرائن سے عام خاص کیا جائے گا۔ سوال : بہت سے جاندار ہیں جو پانی سے پیدا نہیں ہوئے جیسا کہ جن آگ سے پیدا ہوئے یا فرشتے اور خود حضرت آدم (علیہ السلام) جن کی نسبت آیا ہے خلقہ من تراب اور وہ جانور جن کو کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) گارے کا بنا کر اس میں کچھ پھونکتے تھے کہ وہ اڑ جاتا تھا پھر سب جانداروں کا پانی سے پیدا ہونا نہ پایا گیا۔ جواب : لفظ گرچہ عام ہے مگر قرینہ مخصص موجود ہے کس لیے کہ اللہ تعالیٰ اولم یر سے وہ چیزیں بیان کرتا ہے جو ان کے دیکھنے میں آتی ہیں اور یہ چیزیں انہوں نے کب دیکھی ہیں۔ پس یہ اس میں شامل نہیں یا بیان اکثر یہ ہے جس کو محاورہ عرب میں کلیہ سے تعبیر کیا کرتے ہیں اور عرف عام کا یہی کلیہ ہے۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور زمین میں ہم نے ہی بوجھل پہاڑ رکھ دیے کہ ان کو لے کر ادھر ادھر نہ جھکنے پائے اور اس میں ہم نے ہی کشادہ رستے بنا دیے تاکہ لوگ راہ پائیں

(3) جعلنا فی الارض رواسی ان تمید بہم اے لئلا یمتد لام ولاعدم التباس کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ راسیہ زمین میں گڑی ہوئی چیز جس کی جمع رواسی ہے۔ مراد پہاڑ یعنی کرہ ارض زمین میں پہاڑوں کی وجہ سے یا خود اس کی ذات میں ثقل اور بوجھل ہونا کردیا جو ڈگمگاتی نہیں اگر یہ بھی ہوا یا پانی کی طرح خفیف و سبک ہوتی ہلتی جلتی تب اس پر نہ کوئی مکان رہتا نہ مکین یہ بھی بڑا انعامِ الٰہی ہے۔ (4) وجعلنا فیہا فجاجا سبلا لعلھم یہتدون کہ زمین میں تمہارے راہ پانے کے لیے کشادہ رستے رکھے اگر سخت ناہموار و دشوار گزار زمین ہوتی جیسا کہ بعض خیال ہوتے ہیں تو بھی دنیا اس لطف کے ساتھ نہ بستی۔ الفج الطریق الواسع لعلھم یھتدون میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ کاش یہ گمراہ ان کشادہ رستوں کو نعمت سمجھیں اور راہ ہدایت پر آئیں۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے ہی آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا اور وہ ہیں کہ ہماری آسمانی نشانیوں سے منہ پھیرے لیتے ہیں

(5) وجعلنا السماء سقفا محفوظا آسمان کو چھت زمین سے فوقیت کے لحاظ سے کہا جاتا ہے۔ اب رہا اس کا محفوظ ہونا سو وہ کئی وجہ سے ہے۔ ایک یہ کہ وہ گرنے اور پرانا ہونے سے محفوظ ہے اور گھروں کی چھتوں کی مانند وہ نہیں کقولہ ویمسک السماء ان تقع علی الارض الاباذنہ دوم یہ کہ شیاطین سے محفوظ ہے شیاطین کو وہاں تک رسائی نہیں کماقال وحفظنا ھا من کل شیطان رجیم۔ زمین گویا فرش اور آسمان اس کی چھت ہے اور یہ ایک عمدہ گھر ہے جس کی روشنی کی قندیلیں آفتاب و ماہتاب ہیں اور اسی طرح سیارے بھی۔ جن کا آگے ذکر فرماتا ہے پھر یہ تمام مخلوق جو اس کے گھر میں اس کی نعمت کھاپی رہے اور یہ گھر اور اس کی نعمتیں جو روز اپنے مہمانوں کو کھلاتا ہے بجز اس کے اور کس نے پیدا کی ہیں ؟ پھر اس آسمان کی رفتار اور اس کے ستاروں کی گردش اور ان سے صدہا انقلابات خدا تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جو اس کے جبروت و سطوت پر دلالت کر رہی ہیں لیکن کفار ان میں غور نہیں کرتے۔ وھم عن آیا تہا معرضون۔ فی الحقیقت اگر انسان تھوڑی دیر ان عجائب قدرت میں غور کرے کہ جو اس نے آسمانوں میں رکھی ہیں تو صاف معلوم ہوجائے کہ اس پردہ زنگاری میں کوئی ہے جو یہ کارپردازی کر رہا ہے۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے رات اور دن اور آفتاب اور چاند کو پیدا کیا جو ہر ایک (ایک ایک) آسمان میں تیرتا پھرتا ہے۔

(6) وھوالذی خلق الیل والنہار والشمس والقمر کل فی فلک یسبحون اس آیت میں ان چند نشانیوں کا ذکر کرتا ہے کہ جن سے وہ اعراض کرتے ہیں رات دن کا بہ تعاقب آنا علاوہ ان بیشمار فوائد کے جو انسان اور دیگر مخلوق کے لیے ہیں جیسا کہ رات میں سونا آرام کرنا ‘ دن میں روزی تلاش کرنا ‘ کاروبار کرنا ‘ پھلوں پھولوں کا نمودار ہونا ‘ اس کی قدرت کی بھی ایک دلیل واضح ہے۔ پھر آفتاب کے مختلف حرکات اور مختلف طور پر طلوع و غروب کرنے میں رات دن کے پیدا ہونے کے سوا ہزاروں فوائد ہیں اور یہ گویا اس دنیا کے گھر کا چراغ ہے اسی طرح ماہتاب کے حرکات اور مختلف طور پر طلوع و غروب بھی ان فوائد کی تکمیل ہے اور یہی حال دیگر ستاروں کا ہے۔ یہ رات کا چراغ ہے۔ چاند اور سورج کی اس چال کو جب ناظر آسمان کی طرف غور کر کے دیکھتا ہے تو گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نیلے رنگ کے دریا میں یہ دو مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں۔ ان کی اس چال کو تیرنے کے ساتھ بطور تشبیہ یا استعارہ کے بیان کیا۔ فائدہ : حکمائے قدیم کا ایک بڑا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ سات آسمان ہیں اور آفتاب چوتھے آسمان میں ہے اور ماہتاب پہلے میں اور نیز ان کے حرکات فلک کے حرکات کے ساتھ ہیں پھر تدویر اور اس فلک کی وجہ سے کہ جس میں یہ تدویر ہے اور نیز فلک الافلاک کی وجہ سے مختلف حرکات پیدا کرتے ہیں اگر یہ حرکات مختلفہ نہ ہوتے تو کہیں ہمیشہ جاڑا رہتا کہیں سخت گرمی کہیں رطوبت کہیں سخت یبوست نظام عالم میں خلل واقع ہوجاتا ہے۔ ان کے نزدیک تو معنی ظاہر ہیں اور جمہور اہل اسلام بھی ان آیات و دیگر آیات سے ایسا ہی خیال رکھتے ہیں۔ مگر حکماء کا ایک فریق کہتا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب کسی فلک میں جڑے ہوئے نہیں اپنے اپنے مدار پر بذات خود حرکت کرتے ہیں اور افلاک کوئی جسم دار چیز نہیں ؟ ہاں یہ جو نظر میں ایک نیلا گنبد سا نظر آتا ہے یہی عرف عام میں فلک گنا جاتا ہے خدا کی پاک کتابوں میں ایسے امور کی حقیقت سے کچھ بحث نہیں کہ وہ کیا ہے ؟ وہاں تو عرف عام کے لحاظ سے کلام ہوا کرتا ہے۔ پس اس تقدیر پر ہر ایک کا ایک فلک میں تیرنا حرکت کرنا بجز اس توجیہ کے درست نہیں ہوسکتا کہ فلک سے مراد ہر ایک کا مدار لیا جائے جیسا کہ ضحاک کا قول ہے۔
Ayahs 21:34–38

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) آپ سے پہلے بھی ہم نے کسی آدمی کے لیے ہمیشگی نہیں بنائی۔ تو پھر کیا آپ مرجائیں گے تو وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ؟

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر ایک جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور (اے لوگو) ہم تم کو بری اور بھلی آزمائش کرتے ہیں اور تم ہمارے پاس تو پھر آؤ ہی گے

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) جب تم کو کافر دیکھتے ہیں تو بس تم سے ہنسی کرتے لگتے ہیں کہ کیا یہ وہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے حالانکہ وہ (خود) رحمن کے ذکر سے منکر ہیں۔

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

آدمی جلدباز بنایا گیا ہے (ذرا ٹھہرو) میں تم کو اپنی نشانیاں ابھی دکھائے دیتا ہوں سو جلدی مت کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور وہ (منکرین) کہتے ہیں کہ بتاؤ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔

ترکیب : فتنۃ مفعول یا موضع حال میں اے فانتین یا مفعول مطلق ای نفتنکم بھا فتنہ الا ھزوا مفعول ثانی۔ من عجل موضع نصب میں خلق سے علی المجاز جیسا کہ خلق من طین۔ اور حال بھی ہوسکتا ہے ای عجلا و جواب لو محذوف وحین مفعول بہ ہے۔ بغتۃ مصدر موضع حال میں۔ تفسیر : آفتاب و ماہتاب اور دیگر داردنیا کے ارکان بیان فرما کر جن میں غور کرنے سے اس گھر کے بنانے والے کا وجود ثابت ہوتا تھا یہ بات بیان فرماتا ہے کہ کسی کو سدا اس گھر میں رہنا نہیں۔ اے محمد ﷺ ! تم سے پہلے کوئی ہمیشہ رہنے والا نہیں بنایا نہ تم کو ہمیشگی ہے اور نہ تمہارے بعد ہمیشہ یہ رہیں گے جو تمہارے مرنے کی آرزو کرتے ہیں۔ وما جعلنا الخ اس دنیا میں امتحان کے لیے تم آئے ہو تاکہ تم نیکی کر کے دار آخرت کی خوبیوں کے مستحق بنو اور ہمارے پاس ہر ایک کو ضرور آنا ہے پھر ہر ایک کو نیکی بدی کا بدلہ ملنا ہے واذا راک الخ مگر اب ان دار آخرت سے غافلوں اور داردنیا کے مفتونوں کا یہ حال ہے کہ بجائے اس کے کہ دار آخرت کے ہادی کا اتباع کرتے اس سے ہر وقت تمسخر اور ٹھٹھا کر کے کہتے ہیں کہ کیا یہی تمہارے بتوں کو برائی سے یاد کرتا ہے ؟ یعنی ان کی خدائی باطل کرتا ہے ان کو بےاختیار اور عاجز کہتا ہے مقاتل وسدی کہتے ہیں کہ یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی ہے یعنی وہ زیادہ تر ٹھٹھا کیا کرتا تھا۔ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ فرماتا ہے کہ بتوں کے اور اپنے فرضی معبودوں کے ذکر سے تو ایسا خفا ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کے اوصاف حمیدہ وحدہ لاشریک لہ اور قادر مطلق ہونے وغیرہ کے منکر ہیں ایسا برتاوا کرتے ہیں جس سے اس کے ان اوصاف کا انکار لازم آتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ حقیقی معبود کے مقابلہ میں فرضی معبودوں کی یہ قدرومنزلت ؟ پھر دارآخرت اور حیات جاودانی کیونکر نصب ہوگی ؟ خلق الانسان من عجل اے خلق عجولا وذلک علی المبالغۃ۔ یعنی دارآخرت کا ہادی جو ان کو بری باتوں سے جو پیش آنے والی ہیں روکتا ہے تو اپنی جلدبازی سے کہتے ہیں کہ متی ھذا الوعد وہ وعدہ کب پورا ہوگا اور جلد ہم پر کیوں عذاب نہیں آچکتا۔ فرماتا ہے س اور یکم آیاتی کہ ابھی میری آیتوں کا یعنی ان باتوں کا کہ جن کا وعدہ کیا گیا ہے زندگی میں اور مرنے کے بعد ظہور ہوجاتا ہے جلدی نہ کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ جلدبازی اس لیے ہے کہ ان کو اس کا یقین نہیں اور اگر ان کو وہ وقت معلوم ہوجائے کہ جب جہنم میں ہر طرف سے آگ ان کو گھیرے گی کبھی اس کی جلدی نہ کرتے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان آیات میں سے ایک قیامت ہے کہ جو فوراً آجائے گی مہلت نہ لینے دے گی۔ پھر آپ کو (علیہ الصلوۃ والسلام) تسلی دیتا ہے کہ یہ تمسخر کوئی نئی بات نہیں کفار ہمیشہ انبیاء سے تمسخر کرتے چلے آئے ہیں جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ وبال عذاب جس کی بابت وہ تمسخر کرتے تھے انہی پر الٹ پڑا۔