Ayahs 21:1–15دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت) ’ ’ لاھیۃ قلوبھم “ یعنی ان کے دل غافل ہوچکے ہیں (آیت) ” واسروا النجوی الذین ظلموا “ یعنی جو لوگ ظالم ہیں یعنی کافر ہیں وہ چپکے چپکے آپ کے خلاف سرگوشیاں کرتے ہیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واسروا النجوی “ یعنی وہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ (آیت) ” ھل ھذا الا بشرمثلکم “ اور وہ اس سے محمد ﷺ مرادلیتے تھے (آیت) ” افتاتون السحر “ یعنی وہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ کی تابعداری (گویا) جادود کی تابعداری ہے (آیت) ” قال ربی یعلم القول “ فرمایا میرا رب غیب کو جانتا ہے (آیت) ” بل قالوا اضغاث “ یعنی جھوٹے خواب۔
5:۔ ابن مند نے ابو نعیم نے معرفہ میں بیہقی نے سنن میں اور ابن عدی نے جندب الجبلی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک جادوگر کو قتل کیا تھا جو ولید بن عقبہ کے پاس تھا پھر فرمایا (آیت) ” افتاتون السحر وانتم تبصرون “۔
6:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بل قالوا اضغاث احلام “ احلام سے مراد خواب ہیں۔ (آیت) ” بل افتراہ بل ھو شاعر “ یعنی اس سے یہ سب کچھ ہوتا ہے (آیت) ” فلیاتنا بایۃ کما ارسل الاولون “ جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے رسول معجزات لے کر آئے یہ بھی اپنی صداقت کی کوئی نشانی لے کر آئے (آیت) ” ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکنھا “ کہ رسول جب اپنی قوموں کے پاس معجزات لے کر آئے تو وہ ایمان نہ لائے اور نہ مہلت دی۔
7:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا تو جو کہتا ہے اگر وہ سچ ہے اور ہمارا ایمان لانا آپ کے لئے خوشی کا باعث ہے تو ہمارے لئے صفاپہاڑی کو سونے میں تبدیل کردے جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اگر آپ چاہیں تو وہ ہوجائے گا جس کا تیری قوم نے سوال کیا ہے اگر پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو پھر مہلت نہیں دیئے جائیں گے اگر تو چاہے تو میں تری قوم کو مہلت دے دوں آپ نے فرمایا بلکہ میری قوم کو مہلت دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکنھا افھم یومنون “۔
8:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افھم یومنون “ یعنی کیا اب یہ لوگ اس کی تصدیق کریں گے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما جعلنہم جسدا لا یاکلون الطعام “ یعنی ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گے (بلکہ) ہم نے ان نے جسم ایسے بنائے کہ وہ کھانا کھاتے ہیں۔
10:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کانوا خلدین “ یعنی پہلے انبیاء کے لئے بھی موت ضروری تھی کہ وہ وفات پاجائیں (آیت) ” ثم صدقنہم الوعد “ (سے لے کر) ” واھلکنا المسرفین “ تک کہ وہ مشرکین تھے (جن کو ہم نے ہلاک کردیا ) ۔
11:۔ عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد انزلنا الیکم کتبا فیہ ذکر کم “ میں ذکر کم سے مراد ہے خیرکم یعنی اس میں تمہارے لئے عزت اور شرف ہے۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کتبا فیہ ذکر کم “ میں ذکر کم سے مراد حدیثکم یعنی تمہاری باتیں۔
13:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کتبا فیہ ذکر کم “ میں ذکر کم سے مراد ہے ” دینکم “ یعنی تمہارا دین تمہاری کتاب میں محفوظ کردیا۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کتبا فیہ ذکر کم “ یعنی اس میں ذکر ہے اس چیز کا جو تم چاہتے ہو اور اس میں تمہاری آخرت اور تمہاری دنیا کا کاموں کا ذکر ہے۔
15:۔ ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کو بھیجا حمیر (قبیلہ) میں سے جس کو شعیب کہا جاتا تھا ان کی طرف ایک غلام کو دا اور اسے ڈنڈا مارا اس قوم کی طرف بخت نصر چلا وہ ان سے لڑا اور ان کو قتل کیا یہاں تک کہ ان کا ایک فرد باقی نہ رہا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ “ سے لے کر ” خمدین “ تک۔
16:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ “ کہ ان بستیوں سے بنوازد کے قلعے مراد ہیں۔
17:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ “ یعنی ہم نے ان کو ہلاک کیا ” لاترکضوا “ یعنی مت بھاگو ” لعلکم تسئلون “ شاید کہ تم سمجھ جاؤ۔
عذاب آنے سے پہلے توبہ کارآمد ہے :
18۔ ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ عذاب کو محسوس کرتے تھے اور ان سے رسول چلے جاتے تھے اس کے بعد جو انہوں نے ان کو ڈرایاس تھا تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلادیا تھا جب رسول ان سے گم ہوگئے اور انہوں نے عذاب کو محسوس کیا اور تو ایمان کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا اور عذاب سے بھاگنے لگے ان سے کہا گیا مت بھاگو اور انہوں نے جان لیا کہ ان کے پناہ کو کوئی جگہ نہیں۔
19:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا ھم منھا یرکضون “ یعنی وہ بھاگ رہے تھے۔
20:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وارجعوا الی ما اترفتم “ یعنی لوٹ آؤ اپنی دنیا کی طرف جس میں تم عیش میں پڑے ہوئے تھے (آیت) ” لعکم تسئلون “ یعنی شاید کہ تم سوال کئے جاؤ تمہاری دنیا کے بارے میں اور یہ ارشاد ان سے بطور مذاق کے تھا (آیت) ” فمازالت تلک دعوہم “ جب انہوں نے عذاب الہی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو پھر ان کا صرف یہی شور وغل تھا (آیت) ” انا کنا ظلمین “ (کہ ہم ہی ظالم تھے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وارجعوا الی ما اترفتم “ سے مراد ہے کہ تم لوٹ جاؤ اپنے گھروں اور مالوں کو۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) (آیت) ” فمازالت تلک دعوہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ قلعوں والے تھے انہوں نے اپنے نبیوں کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کردیا جس نے ان کو قتل کیا (آیت) ” حتی جعلنہم حصیدا خمدین “ یعنی فرشتوں نے تلوار کے ساتھ ان کے چہروں پر مارا یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے۔
23:۔ ابن ابی حاتم نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ محررین میں سے ایک آدمی نے مجھے بیان کیا ہے کہ یمن میں دو بستیاں ہیں ان میں سے ایک کا نام حضور تھا اور دوسرے کا نام فلانہ تھا وہ لوگ اپنے مال و دولت اور جاہ و حشمت پر اترانے لگے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے دروازوں کو بند کرلیا جب ان کا غرور اور تکبر حد سے بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک نبی بھیجا اس نے ان کو (اللہ کی طرف) بلایا مگر انہوں نے اس کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کے دل میں ڈالا کہ ان کے ساتھ جنگ کرے تو اس نے ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا کہ وہ ان سے لڑے اور اس کے لشکر کو شکست دی پھر یہ شکست کھا کر اس کی طرف لوٹے اس نے پھر ان کی طرف دوسرے لشکر کو بھیجا جو پہلے لشکر سے زیادہ اسلحہ اور سامان حرب سے لیس تھا اس نے ان کو بھی شکست دی جب بخت نصر نے یہ کیفیت دیکھی تو خود ان سے لڑا ان کو قتل کیا اور ان کو شکست دی یہاں تک کہ وہ گھروں سے نکل کر بھاگے اور انہوں نے ایک آواز لگانے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا (آیت ) ’ ’ لا ترکضوا وارجعوا الی ما اترفتم فیہ ومسکنکم “ پس وہ لوٹے اور ایک کہنے والے کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا نبی کا انتقام پھر ان کو تلواروں سے قتل کیا گیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وکم قصمنا من قریۃ “ سے لے کر ” خمدین “ تک۔
24:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتی جعلنہم حصیدا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو کاٹی ہوئی فصل کی طرح کردیا ” خمدین “ (یعنی ان کو اس طرح کردیا جیسے بجھے ہوئے کوئلے ہوتے ہیں )
25:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو کاٹی ہوئی فصل کی طرح کردیا ” خمدین “ کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اس سے مراد ہے مردہ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
خلوا ثیابہم علی عوراتھم فھم بافنیۃ البیوت خمود :
ترجمہ : ان کے پکڑے ان کی شرم گاہوں سے جدا تھے اور وہ گھروں کے صحنوں میں مردے پڑے ہوئے تھے۔
Ayah 21:161:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما خلقنا السمآء ولارض وما بینھما لعبین “ یعنی ہم نے ان دونوں (آسمان و زمین) کو کھیل تماشا کے لئے نہیں پیدا کیا۔
Ayahs 21:17–201:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ میں لہو سے مراد ہے بیٹا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں ارادہ کرتا کہ اپنے لئے بیٹا بناوں تو میں فرشتوں کو اپنا بیٹا بناتا۔
3:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ لھوا سے مراد ہے عورتیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ یمن کی زبان میں لھو سے مراد عورت ہے۔
5:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ یمن والوں کی لغت میں لھو عورت کو کہتے ہیں ” ان کنا فعلین “ یعنی یہ ہمارے لئے مناسب نہیں۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ سے مراد ہے عورتیں (آیت) ” لاتخذنہ من لدنا “ یعنی ہم خود حورعین میں بیویاں بنالیتے۔
7:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ سے مراد ہے کھیل تماشہ۔
8:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ سے مراد ہے ہمارے پاس سے ” ان کنا فعلین “ یہاں ” ان “ ” ما “ کے معنی میں ہے ایسا ہم کرنے والے نہیں ہیں (پھر) فرماتے ہیں اور نہیں پیدا کیا ہم نے جنت کو اور نہ دوزخ کو اور نہ موت کو اور نہ دوبارہ اٹھنے کو اور نہ حساب کو اور وہ برا چیز جس کا ذکر قرآن میں ہے لھو لعب کے لئے پید انہیں کی ہے اور یہاں ان نافیہ ہے۔
حق و باطل کی تمیز :
9:۔ عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ بل نقذف بالحق علی الباطل “ یعنی قرآن علی الباطل یعنی حق کو باطل سے گڈ مڈ کردینا (آیت) ” فاذا ھو زاھق “ یعنی ہلاک ہونے والا ہے۔
10:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بعث میں حسن ؓ سے (آیت) ” ولکم الویل مما تصفون “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کی قسم ایسے چھوٹے وصف بیان کرنے والے کے لئے قیامت کے دن تک ہلاکت ہی ہے۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن عندہ “ سے مراد ہیں فرشتے۔
12:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ لا یستحسرون “ سے مراد ہے کہ وہ نہیں لوٹیں گے۔
13:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ لا یستحسرون “ سے مراد ہے کہ وہ نہیں تھکتے۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا کہ کہ (آیت ) ’ لا یستحسرون “ سے مراد ہے کہ وہ عاجز نہیں آئے۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا کہ کہ (آیت ) ’ لا یستحسرون “ سے مراد ہے کہ وہ عبادت سے جدا نہیں ہوتے۔
16:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم نے، ابوالشیخ نے عظمہ میں اور بیہقی نے شعب میں عبداللہ بن حارث بن نوفل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے کعب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یسبحون الیل والنہار لا یفترون “ کے بارے میں پوچھا کیا کہ فرشتوں کی مشغولیت پیغام رسانی ہے یا عمل ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا فرشتوں کے لئے تسبیح ایسے ہے جیسے تمہارے لئے تمہاری سانس کیا تم کھانے پینے اور آتے جاتے نہیں ہو جبکہ متواتر سانس چل رہی ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تسبیح کو بنا دیا ہے۔
17:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں حسن ؓ سے (آیت) ” یسبحون الیل والنہار لا یفترون “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے سانس کو تسبیح بنادیا ہے۔
18۔ ابوالشیخ نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو (چٹان کی طرح) پیدا فرمایا اور ان کے پیٹ نہیں ہیں۔
Ayahs 21:21–231:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض ھم ینشرون “ کے بارے میں فرمایا (آیت) ” ینشرون “ سے مراد ہے ” یحبون “ (یعنی زندہ کرتے ہیں )
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض ھم ینشرون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ زمین سے مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ ان کو ان کی قبروں سے زندہ کرتے ہیں۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض “ کیا انہوں نے زمین کی چیزوں پتھر اور لکڑی سے (معبود) بنالئے ہیں (آیت) ” لوکان فیھما الہۃ الا اللہ “ یعنی ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا (آیت) ” لفسدتا، فسبحن اللہ رب العرش “ جب اللہ تعالیٰ پر کوئی بہتان باندھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اپنی ذات کی پاکی بیان کرتے ہیں۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) لا یسئل عما یفعل “ یعنی جو وہ اپنے بندے کے متعلق فیصلہ کرتا ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کی جاتی (آیت) ” وھم یسئلون “ جبکہ بندوں سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کے کسی کام پر اعتراض جائز نہیں :
5:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے (آیت) لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون “ کے بارے میں روایت کیا کہ مخلوق کو پیدا کرنے والے سے نہیں پوچھا جاسکتا ان کاموں کے بارے میں جو وہ اپنی مخلوق کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں اور مخلوق سے سوال کیا جائے گا ان کے اعمال کے بارے میں۔
6:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تیرے نزدیک زمین میں سے سب سے زیادہ مبغوض قوم قدریہ ہے اور کوئی وجہ نہیں مگر یہ کہ وہ نہیں جانتے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون “۔
7:۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کتب میں جو احکام نازل فرمائے ان میں سے یہ بھی ہے کہ بلاشبہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے مقدر کیا خیر کو شر کو خوشخبری ہے اس شخص کے لئے کہ جس کے ہاتھ پر میں خیر کو مقدر کردوں اور اس کے لئے خیر کو آسان کردوں اور ہلاکت ہے اس شخص کے لئے کہ جس کے ہاتھ پر میں شر کو مقدر کردوں اور اس کے لئے اس کو آسان کردوں بلاشبہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھے نہیں پوچھا جاسکتا ان کاموں میں جو میں کرتا ہوں اور ان لوگوں سے پوچھا جائے گا اور ہلاکت ہے اس کے لئے جو کہتا ہے کہ یہ کیسے ہے ؟
8:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان سے کلام فرمایا اور ان پر تورات اتاری تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے اللہ ! بلاشبہ آپ عظیم رب ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے تو البتہ اطاعت کی جاتی اور اگر آپ چاہتے کہ آپ کی نافرمانی نہ کی جائے تو آپ کی نافرمانی نہ کی جاتی اور آپ پسند کرتے ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے جبکہ تیری نافرمانی کی جاتی ہے اے میرے رب یہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ مجھ سے ان کاموں کے بارے میں نہیں پوچھا جاسکتا جو میں کرتا ہوں اور لوگوں سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
تقدیر کے متعلق سوال کرنا ممنوع ہے :
9:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے نوف البکالی (رح) سے روایت کیا کہ عزیر (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا اے میرے رب ! آپ نے مخلوق کو پیدا فرمایا (آیت) ” تضل بھا من تشاء وتھدی من تشاء “ (جس کو آپ چاہتے ہیں گمراہ کردیتے ہیں اور جس کو آپ چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اے عزیر ان باتوں سے کنارہ کر انہوں نے پھر دہرایا تو ان سے کہا گیا تو ضرور ان باتوں سے کنارہ کرے گا ورنہ میں تجھ سے نبوت مٹادوں گا بلاشبہ مجھ سے پوچھا نہیں جاسکتا ان کاموں کے بارے میں جو میں کرتا ہوں اور وہ لوگ پوچھے جائیں گے۔
10:۔ بیہقی نے داود بن ابی ھند (رح) سے روایت کیا کہ عزیر (علیہ السلام) نے اپنے رب سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا عنقریب تو مجھ سے میرے علم کے بارے میں بھی سوال کرے گا تیری سزا یہ ہوگی کہ میں تیرا نام نہیں لوں گا انبیاء میں۔
11:۔ طبرانی نے میمون بن مہران (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان پر تورات اتاری تو عرض کیا اے اللہ بلاشبہ آپ عظیم رب ہیں اگر آپ چاہیں تو آپ کی اطاعت کی جائے تو اطاعت کی جائے گی اگر آپ چاہیں کہ نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہ ہو تو نافرمانی نہیں کی جائے گی اور آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے اور آپ اس زمین میں نافرمانی کی جاتی ہے اے میرے رب یہ کیسے ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ بلاشبہ مجھ سے نہیں پوچھا جاسکتا ان کاموں کے بارے میں جو میں کرتا ہوں اور وہ لوگ پوچھے جائیں گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کرنا بند کردیا جب اللہ تعالیٰ نے عزیر (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان پر تورات شریف کو نازل فرمایا جب کہ وہ بنی اسرائیل سے ا ٹھ چکی تھی یہاں تک کہ جس نے کہا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا اے اللہ آپ بڑے رب ہیں اگر آپ چاہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے تو آپ کی اطاعت کی جائے گی اور اگر آپ چاہیں کہ آپ کی نافرمانی نہ کی جائے تو آپ کی نافرمانی نہ کی جائے گی اور آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے حالانکہ آپ کی نافرمانی کی جاتی ہے اے میرے رب یہ کیسے ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ بلاشبہ مجھ سے نہیں پوچھا جاسکتا ان کاموں کے بارے میں جو میں کرتا ہوں اور وہ لوگ پوچھے جائیں گے حضرت عزیر (علیہ السلام) نہ رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تو سورج کی دھوپ سے تھیلابھر سکتا ہے ؟ عرض کیا نہیں پھر فرمایا کیا تو ہوا کا پیمانہ بھر سکتا ہے عرض کیا نہیں پھر کہا کیا آپ کرسکتے ہیں کہ ترازوکو نور میں سے لے آئیں فرمایا نہیں (ایسا نہیں کروں گا) پھر فرمایا کیا تو نور کا قیراط لاسکتا ہے عرض کیا نہیں فرمایا اسی طرح جو تو نے سوال کیا اس پر تو قدرت نہیں رکھتا بلاشبہ مجھ سے پوچھا نہیں جاتا ان کاموں سے جو میں کرتا ہوں اور لوگوں سے ان کے اعمال کی باز پرس ہوگی میں سزا مقرر نہیں کرتا مگر یہ کہ تیرا نام انبیاء میں سے مٹادوں گا پھر ان میں تیرا تذکرہ نہیں کیا جائے گا پس ان کا نام انبیاء میں سے مٹا دیا گیا پس انبیائے کرام میں ان کا تذکرہ نہیں کیا جاتا حالانکہ وہ نبی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے ہاں اپنا مرتبہ دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب حکمت تورات اور انجیل سکھائی وہ مادر زاد اندھے کو برص والی بیماری کو درست کردیتے تھے اور مردوں کو زندہ کردیتے عرض کیا اے اللہ بلاشبہ آپ بڑے رب ہیں اگر آپ چاہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے تو آپ کی اطاعت کی جائے گی اور اگر آپ چاہیں کہ آپ کی نافرمانی نہ کی جائے تو آپ کی نافرمانی نہ کی جائے گی اور آپ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے جب کہ اس میں آپ کی نافرمانی کی جاتی ہے اے میرے رب یہ کیسے ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ بلاشبہ مجھ سے سوال نہیں کیا جاسکتا ان کاموں کے بارے میں جو میں کرتا ہوں جبکہ لوگوں سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا اور تو میرا بندہ ہے میرا رسول ہے اور میرا کلمہ ہے جو میں نے تجھ کو مریم کے بطن میں ڈالا تھا اور تو میری طرف سے روح ہے میں نے تجھ کو مٹی سے پیدا کیا پھر میں نے تیرے لئے کہا ہوجا پس تو ہوگیا اگر تو ایسے سوال کرنے سے باز نہ آیا تو میں ضرور تیرے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جیسے میں نے تیرے سامنے تیرے ساتھی کے ساتھ کیا بلاشبہ میں سوال نہیں کیا جاسکتا ان کاموں سے جو میں کرتا ہوں اور وہ لوگ سوال کئے جائیں گے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی تابعداری کرنے والوں کو جمع کیا اور فرمایا تقدیر اللہ کا بھید ہے تم اس (کی چھان بین) کے مکلف نہیں بنائے گئے۔
Ayahs 21:24–251:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام اتخذوا من دونہ الھۃ، قل ھاتوا برھانکم “ یعنی اپنے گواہ لاؤ اس بات پر جو تم کہتے ہو (آیت) ” ھذا ذکر من معی “ یعنی یہ قرآن ہے جس میں حلال اور حرام کا ذکر ہے (آیت) ” وذکر من قبلی “ یعنی اس میں ذکر ہے پہلی امتوں کے اعمال کا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ معاملہ فرمایا پھر جس کی طرف وہ لوٹ گئے (آیت) ” بل اکثرھم لا یعلمون، الحق فھم معرضون “ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حق کو نہیں پہنچانتے اس لئے وہ کتاب اللہ سے منہ موڑے ہوئے ہیں (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون “ یعنی اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو بھیجا وحدانیت اور اللہ کی توحید کے ساتھ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کو (زبان سے) کہیں اور (دل سے) اس کا اقرار کریں فروعی مسائل میں اختلاف تھا تو رات یہ مسائل شرعیہ مختلف تھے اور انجیل میں اور احکام تھے اور قرآن میں اپنے احکام ہیں حلال بھی حرام بھی اور یہ سب چیزیں اللہ کی توحید اور اس کے اخلاص پر مشتمل ہیں۔
Ayahs 21:26–301:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ عزوجل نے جنوں سے رشتہ داری قائم کی ہے اور ان کے درمیان فرشتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلاتے ہوئے فرمایا (آیت) ” بل عباد مکرمون “ یعنی وہ فرشتے ایسے نہیں ہیں جیسے انہوں نے کہا بلکہ وہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کی وجہ سے عزت دی (آیت) ” لا یسبقونہ بالقول “ یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کی تعریف فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں سبقت نہیں لے جاتے (آیت) ” ولا یشفعون “ یعنی قیامت کے دن فرشتے سفارش نہیں کریں گے (آیت) ” لمن ارتضی “ مگر توحید والوں کے لئے (سفارش کریں گے ) ۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لمن ارتضی “ یعنی اس شخص کے لئے (سفارش ہوگی) جس کو وہ پسند فرمائے گا۔
3:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لمن ارتضی “ یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔
4:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لمن ارتضی “ سے مراد ہے وہ لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوئے ” الا الہ الا اللہ “ کی شہادت کی وجہ سے۔
5:۔ حاکم اور بیہقی نے بعث میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) ” ولا یشفعون الا لمن ارتضی “ تلاوت کرتے ہوئے فرمایا بلاشبہ میری شفاعت میری امت میں سے بڑے گناہوں کے مرتکب لوگوں کے لئے ہے۔
جبرائیل کے خوف خدا کی کیفیت :
6:۔ ابن ابی حاتم نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میں جبرائیل (علیہ السلام) کے پاس سے گذرا اور وہ ملاء اعلی کے ساتھ اللہ کے خوف سے پرانے ٹاٹ کی طرح ہورہے تھے۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یقل منہم “ یعنی فرشتوں میں سے کس نے کہا (آیت) ” انی الہ من دونہ “ میں خدا ہوں اللہ کے سوا مگر ابلیس نے یہ بات کہی ابلیس نے ہی اپنی عبادت کی طرف بلایا اور کفر کا آغاز کیا۔
8:۔ عبدالرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جھنم “ (خدائی کا دعوی ابلیس نے کیا تھا) یہ قول صرف ابلیس کے ساتھ خاص ہے۔
9:۔ فریابی، عبد بن حمید، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانتا رتقا ففتقنھما “ یعنی آسمان کو بارش کے ذریعہ اور زمین کو سبزے کے ذریعہ پھاڑ دیا اس سے پہلے وہ بند تھے۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانتا رتقا ففتقنھما “ یعنی دونوں میں کوئی چیز نہ نکلتی تھی۔
11:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابونعیم نے حلہ میں عبداللہ بن دینا کے طریق سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور (آیت ) ’ ’ السموت والارض کانتا رتقا ففتقنھما “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس شیخ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھا پھر میرے پاس آکر مجھ کو بتاؤ کہ انہوں نے کیا کہا وہ آدمی ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہاں آسمان بند تھا بارش نہ ہوتی تھی اور زمین بند تھی سبزہ نہ اگتا تھا جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر مخلوق کو پیدا فرمایا تو آسمان کو بارش کے ذریعہ پھاڑ دیا اور زمین کو سبزہ کے ذریعہ وہ آدمی ابن عمر ؓ کے پاس واپس آیا اور ان کو بتایا تو ابن عمر ؓ نے فرمایا اب میں نے جان لیا کہ ابن عباس ؓ کو قرآن میں علم دیا گیا ہے ابن عباس ؓ نے سچ فرمایا وہ بالکل اسی طرح تھے۔
12:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے فرمایا (آیت) ” کانتا رتقا “ یعنی آسمان و زمین آپس میں ملے ہوئے تھے۔
13:۔ عبدالرزاق، فریابی، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابوالشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے رات کے بارے میں پوچھا گیا رات پہلے تھی یا دن ؟ فرمایا رات پھر یہ (آیت) ” ان السموت والارض کانتا رتقا ففتقنھما “ پڑھی کیا تم جانتے ہو کہ ان کے درمیان تاریکی ہی تھی۔
زمین کے سات طبقات ہیں :
14:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابی الشیخ نے عظمہ میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانتا رتقا ففتقنھما “ زمین کو پھاڑ دیا اور اس میں سے چھ زمینیں نکالیں اب یہ سات زمینیں ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہیں اور آسمان میں سے چھ آسمان نکالے اب یہ ساتھ آسمان ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہیں اور زمین و آسمان ملے ہوئے نہیں تھے۔
15:۔ عبدبن حمید، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمہ میں ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانتا رتقا ففتقنھما “ یعنی آسمان ایک تھا تو اس میں سے سے سات آسمان نکالے اور زمین ایک تھی تو اس میں سے سات زمینیں نکالیں۔
16:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن و قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ دونوں نے فرمایا کہ (آیت) ” کانتا رتقا ففتقنھما “ کہ زمین و آسمان آپس میں ملے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہوا کے ذریعہ جدا کردیا۔
17:۔ ابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ آسمان اور زمینیں آپس میں ملی ہوئی تھیں جب اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بلند کیا تو اس کو زمین سے جدا کردیا یہ اس کا پھٹنا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔
18۔ احمد، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ بیشک جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل خوش ہوجاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں مجھ کو ہر چیز کی تخلیق کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا۔
19:۔ عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شیء حی “ میں پانی سے آدمی کا نطفہ مراد ہے۔
20:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شیء حی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا اور پانی ہی ہر چیز کی زندگی (کا سبب) ہے۔
Ayahs 21:31–331:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا فیھا فجاجا سبلا “ یعنی ہم نے پہاڑوں کے درمیان کھلے کھلے راستے بنائے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فجاجا “ سے مراد ہے نشانات (آٰیت) ” سبلا “ یعنی راستے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا السمآء سقفا محفوظا “ میں محفوظا سے مراد ہے مرفوعا یعنی بلند (آیت) ” وھم عن ایتھا معرضون “ یعنی سورج چاند اور ستارے آسمان کی نشانیوں میں سے ہیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا جمعہ کا دن کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں رات اور دن کو پیدا فرمایا (دو ساعتوں میں)
5:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک “ سے مراد گھومنا چکر لگانا ” یسبحون “ یعنی وہ چلتے رہتے ہیں۔
6:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک “ یعنی مدار چرخہ کے دمڑ کہ کی طرح ہے (آیت) ” یسبحون “ یعنی چاند ستارے اس طرح گھومتے ہیں آسمان کے دروازوں میں جیسے دمکڑا گھومتا ہے چرخے میں۔
7:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک “ سے آسمان کا دائرہ مراد ہے۔
8:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ سورج چاند اور ستارے آسمان و زمین کے درمیان دائرے میں چل رہے ہیں۔
9:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک “ سے مراد ہے وہ چلنے کی جگہ ہے جو زمین آسمان کے درمیان ہے جس میں ستارے سورج اور چاند چلتے ہیں (اور) (آٰیت) ” ویسبحون “ سے مراد یجرون یعنی وہ چل چل رہے ہیں۔
10:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز گھومتی ہے وہ فلک یعنی دائرہ ہے۔
11:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “ سے مراد ہیں ستارے سورج اور چاند اس دائرے میں گھومتے رہتے ہیں جیسے چرخے کا دمکڑا گھومتا ہے پھر فرمایا وہ دستی کی طرح ہے اور فرمایا کہ چرخہ نہیں گھومتا مگر دمکڑے کے ساتھ اور دمکڑا نہیں گھومتا مگر چرخے کے ساتھ اور چکی نہیں گھومتی مگر دستی کے ساتھ اور دستی نہیں گھومتی مگر چکی کے ساتھ اسی طرح ستارے اور سورج اور چاند نہیں گھومتے مگر دائرے کے ساتھ اور دائرہ نہیں گھومتا مگر ان کے ساتھ اور الحسبان (یعنی دستی) اور فلک ایک ہی چیز کی طرف لوٹتے ہیں لیکن دستی چکی میں چرخے کے دمکڑے کی طرح ہوتی ہے۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک “ میں فلک چکی کے لوہے کی طرح گول ہے۔
چاند سورج ایک دائرے میں گھومتے ہیں۔
13:۔ عبدالرزاق عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “ سے مراد ہے کہ چاند سورج اور ستارے تمام آسمان کے دائرے میں گھومتے ہیں جیسے تو دیکھتا ہے۔
14:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “ میں فلک سے مراد ہے مدار۔
15:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “ یعنی چرخہ جیسے دمکڑا گھومتا ہے چرخے میں (اسی طرح سب سیارے اپنے مدار میں گھومتے ہیں )
16:۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “ کے بارے میں روایت کیا کہ عبداللہ ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” کل فی فلک یعملون “
17:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے (آیت) ” یجرون “ کہ وہ چلتے رہتے ہیں۔
Ayah 21:341:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کو موت کی خبر دی تو فرمایا اے میرے رب میرے امت کے لئے کون ہوگا ؟ تو یہ (آیت) ” وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد “ (الآیۃ)
2:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی جب وفات ہوگئی تو ابوبکر صدیق ؓ شہر سے باہر کسی جگہ گئے ہوئے تھے وہ آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے اور آپ کے اوپر کپڑا اوڑھا ہوا تھا انہوں نے اپنے منہ کو رسول اللہ ﷺ کی پیشانی پر رکھا اور چوما اور رونا شروع اور فرما رہے تھے میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں آپ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں پاکیزہ اور صاف ہیں جب وہ باہر آئے تو عمر بن خطاب ؓ کے پاس سے گذرے اور وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی اور نہ ان کی وفات ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کو قتل کریں گے اور ان کو رسوا کریں گے راوی نے کہا کہ جب کہ وہ (منافقین) خوش ہورہے تھے نبی کریم ﷺ کی وفات پر انہوں نے اپنے سربلند کئے تھے حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا اے شخص اپنے نفس کو تسلی دے کیونکہ رسول اللہ ﷺ وفات پاچکے ہیں کیا تو نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا (آیت) ” انک میت وانہم میتون “ (الزمر آیت : 30) اور فرمایا (آیت) ” وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد، افائن مت فھم الخلدون “ پھر ابوبکر ؓ منبر پر چڑے اور اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تعریف کی پھر کہا اے لوگو محمد ﷺ وفات پاچکے ہیں اور اگر تمہارا معبود وہ ذات ہے جو آسمان میں ہے بلاشبہ تمہارا معبود فوت نہیں ہوا پھر یہ (آیت) ” وما محمد الا رسول، قدخلت من قبلہ الرسل، افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ، (آل عمران آیت : 144) تلاوت کی یہاں تک کہ آیت کو ختم کیا پھر منبر سے اترے اور مسلمان یہ سن کر خوش ہوگئے اور ان کی خوشی زیادہ ہوگئی اور منافقین سخت رنج وغم میں ڈوب گئے۔
3:۔ ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے وفات پاجانے کے بعد ابوبکر صدیق ؓ نبی کریم ﷺ کے پاسآئے اور ان کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا کیا ہی اللہ کے نبی ہائے نبی مکرم ہائے پیارے دوست اے خدا کے برگزیدہ ﷺ پھر یہ (آیت) ” وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد “ تلاوت فرمائی اور یہ آیت بھی پڑھی (آیت) ” انک میت وانہم میتون “
Ayah 21:351:۔ ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم اللالکائی نے سنہ میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ “ کے بارے میں روایت ک، یا کہ ہم تم کو آزمائیں گے تنگدستی اور خوشحالی سے صحت سے اور بیماری سے مالداری سے اور غربت سے حلال سے اور حرام سے اطاعت سے اور معصیت سے ہدایت سے اور گمراہی سے (واللہ اعلم )
Ayah 21:361:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ابوسفیان اور ابو جہل کے پاس سے گذرے اور وہ دونوں آپس میں باتیں کررہے تھے جب ابوجہل نے آپ کو دیکھا تو ہنسنے لگا اور ابوسفیان سے کہا یہ نبی ہیں بنو عبد مناف سے ابوسفیان غصہ ہوا ور کہا تم بنی عبد مناف کا نبی ہونے کو ناپسند کرتے ہو نبی اکرم ﷺ نے اس کو سن لیا اور ابوجہل کی طرف متوجہ ہوئے تو اس پر خوف طاری ہوگیا اور فرمایا شاید تو اپنی بدزبانی سے نہیں رکے گا یہاں تک کہ تجھ کو وہ مصیبت پہنچے گی جو تیرے چچا کو پہنچی تھی اس نے ابوسفیان سے کہا تو نے یہ بات نہیں کہی مگر غیرت کی وجہ سے تو یہ (آیت) ” واذا راک الذین کفروا ان یتخذونک الا ھزوا “ نازل ہوئی۔
Ayahs 21:37–381:۔ سعید بن منصور عبد بن حمید اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب آدم (علیہ السلام) کے سر میں روح پھونکی گئی تو ان کی چھینک آئی تو الحمد للہ کہا فرشتوں نے کہا یرحمک اللہ ان کی ٹانگوں میں روح پہنچنے سے پہلے وہ اٹھنے لگے تو گرپڑے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” خلق الاانسان من عجل “
انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا :
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) کے سر میں روح پھونکی گئی پھر ان کے گھٹنوں میں تو آپ نے اٹھنے کی کوشش کی اسی کو فرمایا (آیت) ” خلق الاانسان من عجل “۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں مجاہد (رح) سے (آیت) ” خلق الاانسان من عجل “ کے بارے میں روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو جب ہر چیز کے بعد پیدا کیا گیا دن کے آخر میں جس دن میں مخلوق کو پیدا کیا گیا جب روح جاری ہوئی ان کی آنکھوں میں اور ان کی زبان میں اور ان کے سر میں اور ابھی ان کے نیچے نہ پہنچی تھی تو فرمایا اے میرے رب میری پیدائش کو سورج کے غروب سے پہلے مکمل فرمادیجئے۔
4:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ رب تبارک وتعالی نے روح کو پھونکا آدم (علیہ السلام) کی سر کی چوٹی میں انہوں نے دیکھا اور سمجھ نہ سکے یہاں تک کہ جب روح ان کے دل میں پہنچی اور نظر کی تو جنت کو دیکھا اور پہچان لیا اگر وہ کھڑے ہوگئے تو اس میں داخل ہوں گے ان کی روح نیچے نہ پہنچی تھی کہ آپ نے حرکت کی (اٹھنے کے لئے) اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” خلق الاانسان من عجل “۔
5:۔ عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خلق الاانسان من عجل “ سے مراد ہے کہ انسان جلد باز پیدا کیا گیا (واللہ اعلم )