21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اقترب للناس حسابھم حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : سورة الکہف، مریم، طہ اور انبیاء پہلی سورتوں میں سے ہیں اور یہ میری پہلی یاد کی ہوئی سورتیں ہیں یعنی پہلے پہل یہ سورتیں حاصل کیں اور قرآن کو یاد کیا جیسے پرانا مال ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ ایک شخص جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھا وہ دیوار بناتا تھا اس سورت کے نزول کے دن اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا جو دیوار بنا رہا تھا اس نے پوچھا آج قرآن میں سے کیا نازل ہوا ہے ؟ دوسرے نے کہا یہ نازل ہوا ہے اقترب للناس حسابھم و ھم فی غفلۃ معرضون۔ تو اس شخص نے اپنے ہاتھ سے اپنی عمارت کو توڑ دیا اور کہا : اللہ کی قسم ! میں کھبی تعمیر نہیں کروں گا جبکہ حساب کا وقت قریب آگیا۔ ( 1) اقترب عینی وہ وقت قریب آگیا ہے جس میں لوگوں کے اعمال کا حساب ہوگا۔ للناس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد مشرکین ہیں اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : الا استمعوہ وھم یلعبون۔ لا ھیۃ قلوبھم، و اسرّو النّجوی، الذین ظلمو، ھل ھذا الّا بشر مثلکم، افتاتون السحر و انتم تبصرون۔ بعض علماء نے فرمایا : الناس عام ہے اگرچہ اس وقت اس کا مشار الیہ کفار قریش تھے۔ اس کے بعد والی آیات دلالت کرتی ہیں جس کو قیامت کے قرب کا علم ہوگیا اس کی امیدیں مختصر ہوگئیں اور توبہ کے ساتھ اس کا نفس پاک رہا۔ اور وہ دنیا کی طرف مائل نہ ہوا گویا جو موجود تھا جب وہ چلا گیا تو وہ تھا ہی نہیں۔ ہر آنے والا امر قریب ہے موت لامحالہ آنے والی ہے۔ اور ہر انسان کی موت اس کے لیے قیامت کا قیام ہے اور قیامت قریب ہے۔ گزشتہ زمانہ کی نسبت سے جو زمانہ باقی ہے وہ گزرے ہوئے زمانہ سے کم ہے۔ ضحاک نے کہا : اقترب للناس حسابھم کا معنی عذابھم یعنی کفار مکہ کے عذاب کا وقت قریب آگیا ہے کیونکہ انہوں نے عذاب کے وعدہ کی تکذیب کرتے ہوئے اس دیر سے آنے والا سمجھا۔ ان کا قتل بدر کے دن تھا۔ نحاس نے کہا : کلام میں اقترب حسابھم للناس جائز نہیں تاکہ مظہر پر مضمر مقدم نہ ہو اور اس کے ساتھ تاخیر کی نیت کرنا بھی جائز نہیں۔ و ھم فی غفلۃ معرضون۔ یہ مبتدا اور خبر ہیں۔ غیر قرآن میں حال کی بنا پر نصب بھی جائز ہے۔ اس میں دو ج ہیں ہیں : (1) وھم فی غفلۃ معرضون یعنی دنیا کی طرف متوجہ ہیں آخرت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ (2) حساب کے لیے تیار ہونے سے غافل ہیں اور اس سے غافل ہیں جو حضرت محمد ﷺ لے آئے ہیں۔ یہ واو سیبویہ کے نزدیک اذ کے معنی میں ہے اس کو نحوی واو حالیہ کہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یغشیٰ طآئفۃ منکم، و طآئفۃ قد اھمتم انفسھم (آل عمران :154)
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما یاتیھم من ذکر من ربھم محدث، محدث ذکر کی صفت ہے۔ کسائی اور فراء نے محدثاً بھی جائز قرار دیا ہے، بمعنی ما یا تیھم محدثاً نصب کی حال کی بنا پر ہے کیونکہ اگر تو من کو حذف کرے گا تو ذکر کو رفع دے گا یعنی ما یاتیھم من ذکر من ربھم محدث مراد نزول ہے اور جبرائیل کا حضرت محمد ﷺ پر تلاوت کرنا ہے، کیونکہ قرآن کی سورت کے بعد سورت اور آیت کے بعد آیت نازل ہوتی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک وقت کے بعد دوسرے وقت میں اسے نازل کرتا تھا نہ کہ قرآن مخلوق ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الذکر سے مراد وہ ہے جس کے نبی پاک ﷺ انہیں نصیحت کرتے اور وعظ کرتے تھے۔ اور فرمایا : من ربھم کیونکہ نبی کریم ﷺ صرف وحی کے ساتھ بولتے تھے، پس نبی پاک ﷺ نے وعظ فرمایا اور آپ کا ڈرانا ذکر تھا اور وہ محدث تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فذکر، انمآ انت مذکر۔ (الغاشیہ) کہا جاتا ہے : فلان فی مجلس الذکر۔ یعنی وعظ کی مجلس میں ہے۔ بعض نے کہا : ذکر سے مراد نبی پاک ﷺ کی ذات گرامی ہے یہ حسین بن فضل کا قول ہے اور دلیل کلام کا سیاق ہے۔ ھل ھذآ الا بشر مثلکم اگر ذکر سے مراد قرآن ہوتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا : ھذآ الا اساطیر الاولین۔ (الانعام) اس کی تاویل کی دلیل یہ بھی ہے : یقولون انہ لمجنون۔ وما ھو اگ ذکر للعلمین۔ (القلم) ان دونوں آیتوں میں سے مراد محمد ﷺ کی ذات ہے۔ فرمایا : قد انزل اللہ الیکم ذکراً ۔ رسوالاً (الطلاق) الا استمعوہ یعنی محمد ﷺ کو سنتے ہیں یا محمد ﷺ سے قرآن کی سنتے ہیں یا آپ کی امت سے قرآن سنتے ہیں۔ وھم یلعبون واو حالیہ ہے اس پر دلیل لا ھیۃً قلوبھم ہے یلعبون کا معنی یلھون ہے بعض نے فرمایا : یشتغلون ہے اگر تاویل کو لہو پر محمول کیا جائے تو جس کے ساتھ وہ لہو کرتے تھے اس کے دو احتمال ہیں۔ (1) اپنی لذات کے ساتھ۔ (2) جوان پر تلاوت کیا جاتا تھا اس کے سماع کے ساتھ۔ اگر اس کی تاویل کو الشغل پر محمول کیا جائے تو جس کے ساتھ وہ مشغول ہوتے تھے اس کے دو احتمال ہیں۔ (1) دنیا کے ساتھ مشغول ہوتے تھے کیونکہ وہ لہو و لہب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انما الحیوۃ الدنیا لعب و لھو (محمد :36) دنیوی زندگی لعب و لہو ہے۔ (2) وہ اس پر اعتراض کرنے کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔ حسن نے کہا : جب ان کے لیے نیا ذکر آتا تو وہ اس میں غور و فکر نہ کرتے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ قرآن کو استہزاء کرتے ہوئے سنتے تھے۔
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا ھیۃ قلوبھم یعنی کے ان کے دل غافل ہوتے ہیں ذکر الہٰی سے اعراض کیے ہوئے ہوتے ہیں غور و تامل نہیں کرتے یہ عربوں کے قول لھیت عن ذکر الشئی سے مشتق ہے۔ جب تو کسی چیز کو ترک کر دے اور اس سے اعراض کرتے۔ ألھی لھیا و لھیانا، لا ہیۃ۔ نعت ہے اسم سے مقدم ہے اور نعت کا حق یہ ہوتا ہے کہ تمام اعراب میں موصوف کے تابع ہو جب نعت اسم سے پہلے آجاتی ہے تو منصوب ہوتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خاشعۃ ابصارھم و دانیہ علیہھم ظللھا ( الدہر : 14) لا ھیۃ قلوبھم۔ شاعر نے کہا : لعزۃ موحشا طلل یلوح کا نہ حلل مراد طلل موحش ہے۔ کسائی اور فراء نے لا ھیۃ قلوبھم رفع کے ساتھ بھی جائز قرار دیا ہے، بمعنی قلوبھم لا ھیۃ ان کے علاوہ علماء نے خبر کے بعد ہونے کی بنا پر رفع جائز قرار دیا ہے۔ اور مبتدا مضمر کی بنا پر رفع کو جائز قرار دیا ہے۔ کسائی نے کہا : یہ معنی بھی جائز ہے الا استمعوہ لا ھیۃ قلوبھم مگر وہ اسے سنتے ہیں جبکہ ان کے دل غافل ہوتے ہیں۔ و اسروا النجوی، الذین ظلموا، وہ آپس میں اس کی تکذیب کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں پھر بیان فرمایا کہ وہ کون ہیں فرمایا : الذین ظلموا جنہوں نے شرک کیا۔ الذین ظلمو، اسروا کی واو سے بدل ہے جو الناس کی طرف راجع ہے، جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اس قول کی بنا پر النجویٰ پر وقف جائز نہیں۔ مبرد نے کہا : یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : ان الذین فی الدار انطلقوا بنو عبد اللہ۔ بنو بدل ہے انطلقوا کی واو سے۔ بعض نے فرمایا : مذمت کی بنا پر مرفوع ہے یعنی ھم الذین ظلموا بعض نے فرمایا : قول کے حذف کی بنا پر مرفوع ہے۔ تقدیر یوں ہے : یقول الذین ظلموا قول کو حذف کیا گیا جیسے : الملئکۃ یدخلون علیھم من کل باب۔ سلم علیکم (الرعد) اس قول کو نحاس نے اختیار کیا ہے۔ فرمایا : اس جواب کی صحت پر دلیل اس کے بعد والی کلام ھل ھذا ال بشر مثلکم ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ اعنی مضمر کی بنا پر منصوب ہے اعنی الذین ظلموا۔ فراء نے اس کا مجرور ہونا بھی جائز قرار دیا ہے۔ اس معنی کی بنا پر اقترب للناس الذین ظلموا حسابھم اس ترکیب کی بنا پر النجویٰ پر وقف جائز نہ ہوگا اور اس سے پہلے تین صورتوں میں وقف جائز ہوگا۔ یہ پانچ اقوال ہیں۔ اخفش نے، اکلونی البراغیث کہنے والوں کی لغت پر رفع کو جائز قرار دیا ہے۔ یہ حسن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ثم عموا و صموا کثیر منھم (المائدہ :71) اس طرح شاعر نے کہا : بک نال النضال دون المساعی فاھتدین النبال للاغراض ایک اور نے کہا : ولکن دیا فی أبہ و أمہ بحوران یعصرن السلیط اقاربہ کسائی نے کہا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کا مجاز یہ ہے : والذین ظلموا اسروا النجویٰ ۔ ابو عبیدہ نے کہا : اسروا یہاں اضداد میں سے ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اپنی کلام کو مخفی کیا ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے کلام کو ظاہر کیا ہو اور اعلانیہ کہا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھل ھذا الا بشر مثلکم انہوں نے آپس میں سرگوشی کی۔ کہنے لگے : یہ ذکر جو رسول ہے یا یہ جو تم کو بلاتا ہے نہیں ہے مگر تمہاری مثل بشر، وہ تم سے کسی چیز میں ممتاز نہیں ہے وہ کھانا کھاتا ہے، بازاروں میں چلتا ہے جیسا تم کرتے ہو اور انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ ان کی طرف بشر کے علاوہ بھیجنا جائز ہی نہیں ہے تاکہ وہ اس کی بات کو سمجھ سکیں اور وہ انہیں تعلیم دے۔ افتاتون السحر یعنی جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں وہ جادو ہے پھر تم کیوں اس کے پاس آتے ہو اور اس کے پیروی کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سرگوشیوں پر اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کو آگاہ کردیا۔ السحر لغت میں ہر بناوٹی چیز کو سحر کہتے ہیں جس کو حقیقت واضح نہ ہو۔ و انتم تبصرون۔ بعض علاء نے اس کا معنی کیا ہے کہ تم دیکھ رہے کہ وہ تمہاری مثل انسان ہے۔ و انتم تعقلون اس کی مثال ہے کیونکہ عقل اشیاء کو دیکھنا ہے۔ بعض نے کہا : اس کا معنی ہے کیا تم جادو کو قبول کرتے ہو جبکہ تم جانتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا تم باطل کی طرف لوٹتے ہو جبکہ تم حق کو پہچانتے ہو۔ کلام کے معنی میں توبیخ ہے۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے، میرا پروردگار اسے جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ربی یعلم القول فی السمآء والارض یعنی آسمان اور زمین میں جو بات کہی جاتی ہے اس پر مخفی نہیں ہوتی۔ اہل کوفہ کے مصاحف مف قال رب یعنی محمد ﷺ نے کہا : میرا رب قول کو جانتا ہے یعنی وہ جانتا ہے جو تم سر گوشیاں کرتے ہو۔ بعض علماء نے کہا : قہلی قرأت قٰل ربّی اولیٰ کیونکہ انہوں نے اپنی بات کو چھپایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے نبی پر ظاہر کردیا اور اسے کہنے کو کہا۔ نحس نے کہا : دونوں قرأتیں صحیح ہیں اور یہ دو آیتوں کے قائم مقام ہیں ان میں فائدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا اور آپ ﷺ نے اس طرح فرمایا جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا تھا۔
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں (نہیں بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے (نہیں) بلکہ یہ شعر جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل قالوا اضغاث احلام، زجاج نے کہا : انہوں نے کہا جو آپ لائے ہیں وہ پریشان خواب ہیں۔ اور دوسرے علماء نے کہا : انہوں نے کہا وہ ملی جلی باتیں ہیں جیسے پریشان خواب ہوتے ہیں یعنی ڈرائونی چیزیں جو آپ خواب میں دیکھتے ہیں، یہ معانی مجاہد اور قتادہ نے بیان کیے ہیں، اس طرح شاعر کا قول ہے : کضغث حلم غر منہ حالمہ قتبی نے کہا : اس سے مراد جھوٹے خواب ہیں : شاعر کا قول ہے : احادیث طسم أو سراب بفد فد تر قرق للساری و أضغاث حالم یزیدی نے کہا : الاضغاث اس خواب کو کہتے ہیں جس کی کوئی تعبیر نہ ہو، یہ مفہوم سورة یوسف میں گزر چکا ہے۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ معاملہ اس طرح کا نہیں ہے جس طرح انہوں نے کہا ہے تو وہ اس بات کو چھوڑ کر کہنے لگے : بل افترہہ بلکہ انہوں نے خود گھڑا ہے، پھر اس کو چھوڑ کر کہنے لگے : بل ھو شاعر بلکہ نہیں وہ تو شاعر ہے یعنی وہ متحیر ہیں کسی ایک بات پر ٹھرتے نہیں، کبھی کہا : جادو ہے، کبھی کہا : یہ پریشان خواب ہیں، کبھی کہا : یہ خود گھڑا ہے۔ ایک فریق نے کہا : یہ شاعر ہے۔ الفتراء کا معنی گھڑنا ہے۔ اس کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ فلیاتنا بایۃ کما ارسل الاولاون۔ یعنی تم بھی اس طرح کی کوئی نشانی لائو جیسی پہلے رسول لائے تھے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا وغیرہ معجزات لائے تھے اور جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی۔ اور وہ جانتے تھے کہ قرآن جادو نہیں ہے اور نہ خواب ہے لیکن انہوں نے کہا : مناسب ہے کہ وہ ایسی نشانی لے آئیں جو تم کو تجویز کرو جبکہ ایک آیت دیکھنے کے بعد ان کے لیے تجویز نہ تھی نیز وہ آیت پر ایمان نہیں لائے تھے یہ اس کی جنس سے تھی جس کو وہ لوگوں سے زیادہ جانتے تھے اور اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہ تھی تو پھر وہ کسی دوسری نشانی پر کیسے ایمان لے آئیں گے ؟ اگر وہ مادر زاد اندھے کو بینا کر دے اور کوڑھی کے مریض کو درست کر دے تو کہیں گے : یہ باب الطب سے ہے یہ ہماری شان نہیں کہ ان کی ہر بات کو پورا کرتے رہیں۔ ان کا سوال ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی نشانیاں دکھائی تھیں جن میں کفایت ہے اور اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اگر وہ ایمان لے آتے تو جو وہ سوال کرتے ہم انہیں عطا فرماتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولو علم اللہ فیھم خیراٰ لا سمعھم، ولا اسمعھم لتولو وھم معرضون۔ (الانفال) ۔
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھیں تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما امنت قبلھم من قریہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد حضرت صالح (علیہ السلام) کی قول ہے اور فرعون کی قوم ہے۔ اھلکنھا یعنی ہمارے علم میں ان کی ہلاکت تھی۔ افھم یومنون۔ وہ تصدیق کرتے ہیں یعنی وہ آیات پر ایمان نہ لائے تو انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا گیا اگر یہ بھی آیات دیکھ لیں گے جو تجویز کرتے ہیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کے عقاب کو مؤخر کیا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی صلبوں میں ایمان والے ہیں اور من قریۃ میں من زائدہ ہے جیسے اس ارشاد میں زائدہ ہے، فما منکم من احد عنہ حجزین۔ (الحاقہ)
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بناکر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیھم یہ ان پر رد ہے جو انہوں نے کہا تھا : قل ھذا الا بشر مثلکم اپنے نبی کو تسلی دی یعنی ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر مردوں کو۔ فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ اس سے مراد اہل تورات اور انجیل ہیں جو نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے تھے، یہ سفیان کا قول ہے۔ اس کو اہل ذکر کہا ہے کیونکہ وہ انبیاء کی خبروں کا ذکر کرتے تھے جن کو عرب نہیں جانتے تھے کفار قریش حضرت محمد ﷺ کے معاملہ کو اہل کتاب کی طرف لوٹاتے تھے۔ ابن زید نے کہا : الذکر سے مراد قرآن ہے، یعنی اہل قرآن میں سے جاننے والے مومنین سے پوچھ۔ جابر جہنی نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت علی ؓ نے فرمایا : ہم اہل ذکر ہیں۔ تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ رسل بشر ہی تھے معنی یہ ہے انکار کے ساتھ اور اپنے قول کے مناسب ہے کہ رسول ملائکہ سے ہو سے آغاز نہ کرو بلکہ تم مومنین سے مناظرہ کرو تاکہ وہ تمہیں بیان کریں کہ انسانوں سے رسول ہونا جائز ہے۔ فرشتے کو رجلا نہیں کہا جاتا کیونکہ رجل کا لفظ اس پر واقع ہوتا ہے جس کی لفظ سے ضد ہو جیسے تو کہتا ہے : رجل و امرأۃ۔ رجل وصبی، الا رجالاً کا قول کہ بنی آدم سے مرد تھے۔ حفص اور کسائی نے نوحی الیھم پڑھا ہے۔ مسئلہ : علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عام لوگوں پر لازم ہے کہ وہ علماء کی تقلید کریں اور فسئلو اھل الذکر سے علماء مراد ہیں۔ اور علماء کا اجماع ہے کہ نابینا شخص اس کی تقلید کرے جس پر وثوق ہو قبلہ کی تمیز کرنے میں جب اس پر قبلہ تلاش کرنا مشکل ہوجائے۔ اس طرح وہ شخص جس کو علم نہیں تو وہ علماء کی تقلید کرے۔ اسی طرح علماء کا اختلاف نہیں ہے کہ عام لوگوں کو فتویٰ دینا جائز نہیں کیونکہ وہ ان معانی سے ناواقف ہوتے ہیں جن سے حرمت و حلت جائی ہوتی ہے۔
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانانہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما جعلنھم جسداً لا یاکلون الطعام ھم ضمیر کا مرجع انبیاء ہیں یعنی ہم نے آپ سے پہلے ایسے رسل نہیں بنائے جو بشری طبائع سے خارج ہوں اور وہ کھانے، پینے کے محتاج نہ ہوں۔ وما کانو خلدین۔ وہ فوت نہ ہوں گے۔ یہ ان کے قول کا جواب ہے : ھل ھذآ الا بشر مثلکم اور ان کے اس قول کا جواب ہے جو انہوں نے کہا : مال ھذا الرسول یا کل الطعام (الفرقان :7) ۔ جسداً ، اسم جنس ہے اسی لیے اجساد نہیں فرمایا۔ بعض علماء نے فرمایا : اجساد اً نہیں فرمایا کیونکہ وما جعلنا کل واحد منھم جسداً مراد لیا ہے۔ الجسد بدن کو کہتے ہیں، اسی سے ہے تجسد جس طرح تو جسم سے تجسم کہتا ہے۔ الجسد، زعفرن اور اس جیسے رنگ کو بھی کہتے ہیں، خون کو بھی کہتے ہیں، نابغہ نے کہا : وما ھریق علی الانصاب من جسد کلبی نے کہا : الجسد سے مراد وہ جسد والا ہے جس میں روح ہو، کھاتا پیتا ہو، اس قول کی بنا پر جو کھاتا پیتا نہ ہو وہ جسم ہوگا۔ مجاہد نے کہا : جسد سے مراد وہ ہے جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو اس قول کی بنا پر جو کھتا پیتا ہو وہ نفس ہوگا، یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم صدقنھم الوعد ھم ضمیر کا مرجع انبیاء ہیں یعنی ہم نے ان کو نجات دینے، ان کی مدد کرنے اور ان کو جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کا وعدہ سچا کیا۔ و من نشآء یعنی جنہوں نے انبیاء کی تصدیق کی۔ و اھلکنا المسرفین۔ ہم نے مشرکوں کو ہلاک کردیا۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد انزلنا الیکم کتباً یعنی قرآن ہم نے تمہاری طرف نازل کیا۔ فیہ ذکرکم متبدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ جملہ محل نصب میں ہے کیونکہ کتاب کی نعت ہے۔ یہاں ذکر سے مراد شرف ہے یعنی تمہارے لیے قرآن میں شرف ہے جیسے : و انہ لذکر لک ولقومک (الزخرف :44) پھر اس استفہام کے ذریعے انہیں متنبہ کیا جن کا معنی توقیف ہے فرمایا : افلا تعقلون۔ بعض علماء نے فرمایا : فیہ ذکرکم کا مطلب ہے تمہارے دین کے امر کا ذکر ہے تمہاری شریعت کے اس احکام ہیں اور اس میں ثواب اور عقاب کا ذکر ہے جس کی طرف تم نے لوٹنا ہے کیا تم غور نہیں کرتے ان چیزوں میں جو ہم نے ذکر کی ہیں۔ مجاہد نے کہا : فیہ ذکر کم کا مطلب ہے اس میں تمہاری بات ہے۔ بعض نے فرمایا : تمہارے مکارم اخلاق کا ذکر ہے تمہارے اعمال کے محاسن کا ذکر ہے۔ سہل بن عبد اللہ نے کہا : اس میں وہ عمل ہے جس میں تمہاری زندگی ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ تمام اقوال ہم معنی ہیں۔ پہلا قول عام ہے کیونکہ یہ سراپا شرف ہے یہ کتاب ہمارے نبی کریم ﷺ کے لیے شرف ہے کیونکہ یہ آپ کا معجزہ ہے، یہ ہمارے لیے شرف ہے اگر ہم اس کے احکام کے مطابق عمل کریں اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : القرآن حجہ لک او علیک۔ قرآن تیرے لیے حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے۔
Ayahs 21:11–15

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو سمتگار تھیں ہلاک کرمارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش و آسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ، شاید تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و کم قصمنا من قریۃ کا نت ظالمۃ قریۃ سے مراد وہ شہر ہیں جو یمن میں تھے۔ اہل تفسیر اور مؤخرین نے کہا : اس سے مراد اہل حضور ہیں۔ یہ قوم وہ تھی جن کی طرف ایک نبی مبعوث کیا گیا تھا جس کا نا شعیب بن ذی مہدم تھا اور اس شعیب نبی کی قبر یمن میں ایک پہاڑ کے پاس ہے جس کو ضنن کہا جاتا ہے اس میں کثیر نمک ہے۔ یہ شعیب صاحب مدین نہیں ہیں کیونکہ حضور کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدت سے پہلے کا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مدت سے دو سو سال بعد ہوا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے نبی کو قتل کیا تھا اور اصحاب الرس نے اسی تاریخ میں اپنے نبی کو قتل کیا تھا ان کا نام حنظلہ بن صفوان تھا۔ حضور شہر حجاز کی زمین شام کی طرف میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارمیاء کی طرف وحی کی بخت نصر کے پاس جائو اور اسے بتائو کے میں نے اسے عرب کی زمین پر تسلط بخشا ہے اور میں تیرے ذریعے ان سے انتقام لینے والا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارمیان کی طرف وحی کی معد بن عدنان کو براق پر سورا کر کے عراق کی زمین کی طرف بھیج تاکہ اسے ان کے ساتھ عذاب اور مصیبت نہ پہنچے کیونکہ میں اس کی صلب سے نبی آخر الزماں کو نکالنے والا ہوں جس کا نام محمد ہے۔ معد کو ارمیانے سوار کیا جبکہ وہ بارہ سال کا تھا۔ معد، بنی اسرائیل کے ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ بڑا ہوا اور ایک عورت سے نکاح کیا جس کا نام عانۃ تھا۔ پھر بخت نصر لشکروں کو لے کر گیا اور عربوں کے لیے کمین گاہیں بنائیں یہ پہلا شخص تھا جس نے کمین گاہیں بنائی تھیں۔ پھر اس نے اہل حضول پر کئی حملے کیے انہیں قتل کیا اور بعض کو قیدی بنایا اور آبادیوں کو خراب کیا اس نے حضور شہر کا نام و نشان مٹا دیا پھر وہ السوادا کی طرف لوٹا۔ کم، قصمنا کی وجہ سے منصوب ہے۔ اقصم کا معنی توڑ پھوڑ کرنا ہے، کہا جاتا ہے : قصمت ظھر فلان۔ فلاں کی پیٹھ میں نے توڑ دی۔ انقصمت سنۃ اس کا دانت ٹوٹ گیا۔ یہاں القصم کا معنی ہلاک کرنا ہے۔ الفصم (فائ) کسی چیز میں ایسی پھٹن جو واضح نہ ہو۔ شاعر نے کہا : کانہ دملج من فضۃ نبہ فی ملعب من عذاری الحی مفصوم اسی سے حدیث ہے : فیفصم عنہ و ان جبینہ لیتفصد عرقا، (1) جب آپ سے وحی ختم ہوئی تو پیشانی سے پسینہ بہہ نکلتا تھا۔ کا نت ظالمۃ یعنی اس شہر والے کافر تھے۔ الظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مقام پر نہ رکھنا۔ انہوں نے کفر کو ایمان کی جگہ رکھا۔ وانشانا یعنی ہم نے ان کو ہلاک کرنے کے بعد قوما اخرین۔ دوسری قوم کو پیدا کیا۔ فلما احسو جب انہوں نے ہمارے عذاب کو محسوس کیا۔ کہا جاتا ہے : أحست منہ ضعفا۔ میں نے اس سے کمزوری محسوس کی۔ اخفش نے کہا : احسو کا معنی ہے خافوا و تو قعوا خوف کھایا اور توقع کی۔ اذا ھم منھا یرکصون۔ یعنی وہ بھاگ رہے تھے۔ الرکض کا معنی ہے تیزی سے ڈوڑنا۔ الرکض کا معنی ہے پائوں کو حرکت دینا، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ارکض برجلک (ص :42) رکفت الفرس برجلی یعنی میں نے گھوڑے کو دوڑنے پر ابھارا۔ پھر یہ کثرت سے استعمال ہونے لگا حتی کہ بعض نے کہا : رکض الفرس ہو گھوڑا دوڑایا گیا۔ فھو مرکوض۔ لا ترکضو یعنی نہ بھاگو۔ و ارجعو الی ما اترفتم فیہ یعنی تم ان نعمتوں کی طرف لوٹو جو تمہارے تکبر و غرور کا سبب تھیں۔ المترف جس پر انعام کیا گیا ہو۔ کہا جاتا ہے : اترف علی فلان یعنی معیشت میں خوشحالی دی گی ہے۔ انما اترفھم اللہ عزوجل۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشحالی دی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : و اترفنھم فی الحیوۃ الدنیا (المومنون :33) ہم نے دنیوی زندگی میں انہیں خوشحالی دی۔ لعلکم تسئلون۔ تاکہ تم سے دنیا کی کسی چیز کا سوال کیا جائے : یہ ان سے استہزاء کیا گیا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ کس وجہ سے تمہیں یہ سزا دی گئی پھر تم اس کے متعلق خبر دو ؟ بعض نے علماء نے فرمایا : لعلکم تسئلون۔ تاکہ تم سے ایمان لانے کا سوال کیا جائے جیسا کہ تم پر عذاب کے نزول سے پہلے یہ سوال کیا گیا تھا ان کو یہ استہزاء، تقریع اور توبیخ کے لیے کہا جائے گا۔ قالوا یویلنآ جب ملائکہ نے انہیں کہا : بھاگو مت اور کہا : انبیاء کا بدلہ ہے۔ انہوں نے کلام کرتے ہوئے کوئی شخص نہ دیکھا (جبکہ یہ آواز آرہی تھی) تو وہ جان گئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے دشمن کو مسلط کردیا ہے کیونکہ انہوں نے انبیاء کو قتل کیا ہے جو ان کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ وہ اس وقت ان لوگوں نے کہا : یویلنا ان کنا ظلمین۔ انہوں نے ظالم ہونے کا اعتراف اس وقت کیا جب ان کا اعتراف نفع بخش نہ تھا۔ فما زالت تلک دعو ھم وہ ہمیشہ یہ کہتے رہے : یویلنا ان کنا ظلمین۔ شومی قسمت ! ہم ہی ظالم تھے۔ حتی جعلنھم حصیداً تلواروں کے ساتھ انہیں اس طرح کاٹ دیا جس طرح کھیتی درانتی کے ساتھ کاٹی جاتی ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حسن نے کہا : عذاب کے ساتھ ہم نے انہیں کاٹ دیا۔ خبدین۔ مردہ تھے۔ الخمود کا معنی ہے آگ کی طرح بجھ جانا۔ زندگی کے بجھ جانے کو آگ کے بجھ جانے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جیسے کہا جاتا ہے جو مرجاتا ہے : قد طفی آگ کے بجھ جانے کیساتھ تشبیہ دیا گیا ہے۔
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہو و لعب کے لئے پیدا نہیں کیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین۔ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر ہے اسے عبث اور باطل نہیں بنایا بلکہ اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے ان کا خالق اور قادر ہے جس کے امر کی پیروی لازم ہے وہ مجرم اور نیک کام کرنے والے کو بدلہ دے گا یعنی ہم نے آسمان اور زمین کو پیدا اس لیے نہیں کیا کہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم کریں اور انکار کریں اور جو انہیں حکم دیا گیا ہے اس کی مخالفت کریں پھر مر جائیں اور انہیں جزانہ دی جائے اور وہ دنیا میں نیکی کا حکم نہ دیں اور بری چیز سے منع نہ کریں۔ یہ لعب ہے جس سے حکیم کی نفی کی گئی ہے اور اس کی ضد حکمت ہے۔
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن و فرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہی ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو اردنا ان نتخذ لھوا جب ایک قوم نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اردنا ان نتخذ لھواً ، اللھو سے مراد یمنی لغت میں عورت ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ عقبہ بن ابی جسرہ نے کہا : طائوس، عطا اور مجاہد ان سے لو اردنا ان نتخذ لھوا کے متعلق پوچھنے کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا : اللھو سے مراد زوجہ ہے، یہ حسن کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللھو سے مراد بچے ہیں، حسن کا یہ بھی قول ہے۔ جوہری نے کہا : اللھو جماع سے کنایہ ہے۔ میں کہتا ہوں امرء القیس کا قول ہے : الا زعمت بسباسۃ الیوم اننی کبرت والا یحسن اللھو امثالی جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو اردنا ان نتخذ لھواً سے مراد عورت ہے۔ کہا جاتا ہے : ولداً یعنی بچہ۔ لا تخذنہ من لدنا یعنی ہم اپنی طرف سے نہ کہ تمہاری طرف سے۔ ابن جریج نے کہا : اہل سماء کی طرف سے نہ اہل زمین کی طرف سے۔ بعض نے فرمایا : یہ ان کا رد ہے جنہوں نے کہا کہ بت اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی تمہارا گھڑا ہوا بت ہماری اولاد کیسے ہو سکتا ہے۔ ابن قتیبہ نے کہا : یہ آیت نصاریٰ کا رد ہے۔ ان کنا فعلین۔ قتادہ، مقاتل، ابن جریج اور حسن نے کہا : اس کا معنی ہے ہم ایسا کرنے والے نہیں جیسے : ان انت الا نذیر۔ (فاطر) یعنی تو نہیں ہے مگر ڈرانے والا۔ ان نفی کے معنی میں ہے۔ لاتخذنہ من لدنا پر کلام مکمل ہوئی۔ بعض نے فرمایا : یہ شرط کے معنی پر ہے یعنی اگر ہم ایسا کرنے والے ہوتے لیکن ہم ایسا کرنے والے نہیں کیونکہ ہمارے لیے اولاد ہونا محال ہے کیونکہ اگر یہ ہوتا تو ہم جنت، دوزخ، موت، بعث، حساب پیدا نہ کرتے۔ بعض علماء نے فرمایا : اگر ہم کسی کو متبنیٰ بناتے تو ہم ملائکہ میں سے بناتے۔ اس کی طرف ایک قوم کا رجحان ہے کیونکہ ارادہ متبنیٰ کے ساتھ متعلق ہے رہا اولاد بنانا تو یہ محال ہے۔ ارداہ مستحیل کے متعلق نہیں ہوتا۔
Ayah 21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اسکا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری خرابی ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل نقذف بالحق علی الباطل، القذف کا معنی ہے پھینکنا، یعنی ہم حق کو باطل پر مارتے ہیں۔ فیدمغہ تو وہ اسے ہلاک کردیتا ہے۔ الدمغ سر کے زخم کو کہتے ہیں۔ یہاں الحق سے مراد قرآن ہے اور باطل سے مراد شیطان ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : باطل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صافت کے علاوہ صفات کرتے تھے۔ (مثلاً یہ کہ) اس کا بیٹا تو ان کی اللہ تعالیٰ نے تکذیب کی۔ بعض نے فرمایا : الحق سے مراد حجت ہے۔ باطل سے مراد ان کی شبہات ہیں۔ بعض نے فرمایا : الحق سے مراد مواعظ ہیں۔ باطل سے مراد معاصی ہیں۔ یہ معانی قریب قریب ہیں۔ قرآن حجت اور مواعظ کو متضمن ہے۔ فاذا ھوا ذاھق یعنی باطل ہلاک ہونے والا ہے اور تلف ہونے والا ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ولکم الویل یعنی تمہارے لیے آخرت میں عذاب ہے کیونکہ تم نے رب کے لیے ایسی صفات بیان کی ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الویل جہنم میں ایک وادی ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مما تصفون۔ جو وہ جھوٹ بولتے ہیں، قتادہ اور مجاہد سے مروی ہے۔ اس کی مثال : سیجزیھم وصفھم (الانعام : 139) یعنی اس کے جھوٹ کی انہیں جزا دے گا۔ بعض نے فرمایا : وہ اللہ کی ایسی صفات بیان کرتے ہیں جو محال ہیں، مثلاً ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنایا ہے۔
Ayahs 21:19–20

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اسی کے مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کتراتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولہ من فی السموت والارض ہر چیز اس کی ملک اور تخلیق ہے پھر جو اس کا عبد اور خلق ہے اس کا خیر ہونا کیسے جائز ہے۔ ومن عندہ یعنی وہ ملائکہ جن کا تم ذکر کرتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ لا یستکبرون وہ سرکشی نہیں کرتے اس کی اطاعت سے۔ ولا یستحسرون۔ نہ تھکتے ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ یہ الحسیر سے ماخوذ ہے وہ اونٹ جو تھکنے کی وجہ سے جدا ہوجائے۔ کہا جاتا ہے : حسر البعیر یحسر حسوراً اونٹ تھک گیا۔ استحسر اور تحسر ہم مثل ہیں حسرتہ انہ حسراً کبھی متعدی ہوتا ہے اور کبھی متعدی نہیں ہوتا۔ أحسرتہ ایضا فھو حسیر ابن زید نے کہا : بعض نے فرمایا : وہ کمزور نہیں ہوتے، یہ ابن اعرابی نے ذکر کیا ہے۔ تمام کا مفہوم ایک ہی ہے۔ یسبحون اللیل والنھار یعنی وہ ہبیشہ نماز پڑھتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ لا یفترون یعنی وہ کمزور نہیں پڑتے اور اکتاتے نہیں انہیں تسبیح و تقدیس الہام کی جاتی ہے جس طرح نفس الہام کیے جاتے ہیں۔ عبدا للہ بن حرث نے کہا : میں نے کعب سے پوچھا میں نے کہا : کیا کبھی تسبیح سے نکا اعراض بھی ہوتا ہے ؟ کسی اور چیز میں بھی مشغول ہوتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے کہا : بنی عبد المطلب سے ہوں۔ تو انہوں نے مجھے گلے لگا لیا اور کہا : اے میرے بھتیجے ! کیا سانس سے کبھی تجھے کوئی چیز غافل کرتی ہے ؟ تسبیح ان کے سانس کی طرح ہے۔ اس آیت میں ان علماء نے استدلال کیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ ملائیکہ، بنی آدم سے افضل ہیں۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ الحمد اللہ۔
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ انکو (مرنے کے بعد) اٹھا کھڑا کریں گے ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام اتخذوا الھۃ من الارض ھم ینشرون۔ مفضل نے کہا : اس استفہام سے مقصود انکا رہے یعنی انہوں نے اہل زمین سے ایسے خدا بنائے جو زندہ کرنے پر قادر ہوں۔ بعض علماء نے فرمایا : ام بمعنی ھل ہے یعنی کیا ان مشرکوں نے اہل زمین سے ایسے خدا بنا لیے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ ام یہاں بل کے معنی میں نہ ہوگا کیونکہ یہ ان کے لیے مردوں کو پیدا کرنے کا موجب ہے مگر یہ کہ ام کو استفہام کے ساتھ مقدر کیا جائے۔ قس ام منقطعہ ہوگا، پس یہ معنی صحیح ہوگا، یہ مبرد کا قول ہے۔ بعض نے کہا : ام معنی پر معطوف ہے یعنی کیا ہم نے زمین اور آسمان کو کھیل بنایا یا یہ جو انہوں نے ہماری طرف منسوب کیا ہے ان کے لیے کوئی شبہ کا مقام ہے یا کیا جو اہل زمین سے خدا بنائے ہیں مردوں کو زندہ کرتے ہیں کیا انہیں کوئی شبہ ہے ؟ بعض علماء نے فرمایا : لقد انزلنا الیکم کتباً الیکم کتباً فیہ ذکرکم افلا تعقلون۔ پھر معاتبہ کے ساتھ اس پر عطف کیا ہے۔ ان دونوں تاویلوں پر ام متصلہ ہوگا۔ جمہور نے ینشرون یا کے ضمہ اور شین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ أنشر اللہ المیت، فنشر سے مشتق ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ ہوگیا۔ حسن نے یا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی وہ زندہ ہوتے ہیں اور مرتے نہیں۔
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو (زمین و آسمان) درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو کان فیھمآ الھۃ الا اللہ لفسدتا اللہ اللہ تعالیٰ کے سوا آسمانوں اور زمین میں اور معبود ہوتے تو یہ دونوں برباد ہوجاتے۔ کسائی اور سیبویہ نے کہا : الا بمعنی غیر ہوتا ہے تو اس کے بعد والے اسم کو غیر کے اعراب کے ساتھ اعراب دیا جاتا ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے : وکل اخ مفارقہ أخوہ لعمر أبیک الا الفرقد ان سیبویہ نے حکایت کیا ہے : لو کان معنا رجل الا زید لھلکنا۔ فراء نے کہا : یہاں الا بمعنی سویٰ ہے مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ کے سوا خدا ہوتے تو ان کے رہنے والے تباہ ہوجاتے۔ دوسرے علماء نے کہا : اگر ان میں دو خدا ہوتے تو تدبیر خراب ہوجاتی کیونکہ اگر ایک ایک چیز کا ارادہ کرتا تو ایک ضرور عاجز آتا۔ بعض علماء نے فرمایا : لفسدتاکا معنی دونوں خراب ہوجاتے اور شرکاء کے درمیان واقع کے اختلاف کے ساتھ تنازع کے وقع کی وجہ سے ان میں جو کچھ ہلاک ہوجاتے۔ فسبحن اللہ رب العرش عما یصفون۔ اپنی پاکیزگی بیان فرمائی اور بندوں کو حکم دیا کہ اس کی شریک یا بیٹے سے پاکیزگی بیان کریں۔
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرسش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرسش ہوگی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ یہ قدریہ وغیرہ کا رد ہے۔ ابن جریج نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ مخلوق اس سے اس کے فیصلہ کے متعلق نہیں پوچھ سکتی جو وہ اپنی مخلوق کے بارے میں فرماتا لیکن وہ مخلوق سے ان کے اعمال کے بارے پوچھے گا کیونکہ وہ اس کے بندے ہیں۔ اس سے واضح ہوا کہ کل جن سے ان کے اعمال کے متعلق مواخذہ ہوگا جیسے مسیح اور ملائکہ تو وہ خدا ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کے افعال کا مواخذہ نہ ہوگا جبکہ لوگوں کا مواخذہ ہوگا۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آپ سے کہا : اے امیر المومنین ! کیا ہمارا رب پسند کرتا ہے کہ اس کف نافرمانی کی جائے ؟ حضرت علی نے فرمایا : کیا ہمارے رب کی جبراً نافرمانی کی جائے گی ؟ اس شخص نے کہا : آپ بتائیں اگر اس نے مجھے ہدایت سے روکا اور مجھے ہلاکت دی تو کیا اس نے مجھ سے احسان کیا یا برا کیا ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اگر تو وہ تجھے تیرے حق سے منع کرے گا تو تیرے ساتھ اچھا نہیں کرے گا اور اگر اپنا فضل تجھ سے روک لے گا تو وہ اس کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ (1) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان سے کلام فرمائی اور ان پر تورات نازل کی تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ ! تو عظیم رب ہے اگر تو چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے تو تیری اطاعت کی جائے گی، اگر تو چاہے کہ تیری نافرمانی کی جائے تو تیری نافرمانی کی جائے گی تو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے جبکہ اس میں تیری نافرمانی نہیں کی جاتی ہے۔ یا رب ! یہ کیسے ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی : جو میں کرتا ہوں اس پر مجھ سے باز پرس نہیں کی جاسکتی ہے اور لوگوں سے باز پرس کی جائے گی (2) ۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر معبود بنا لیے ہیں ؟ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں انکی کتابیں بھی ہیں بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے منہ پھیر لیتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام اتخذوا من دونہ الھۃ اللہ تالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنانے میں توبیخ میں مبالغہ کے لیے تعجب کا اعادہ کیا، یعنی ان کی صفت انشاء و احیاء میں ایسی ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ پس ام بمعنی ھل ہوگا جیسا کہ گزر چکا ہے۔ تم اس پر دلیل لائو۔ لعض علماء نے فرمایا : پہلا احتجاج منقول کی حیثیت سے ہے کیونکہ فرمایا : ھم ینشرون وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ یہ تو بہت دور ہے۔ اور دوسرا احتاج منقول کے ساتھ ہے یعنی اس جہت سے دلیل لائو کونسی کتاب میں یہ نازل ہوا ہے ؟ قرآن میں یا دوسری کتب میں جو دوسرے انبیاء پر اتریں ؟ ھذا ذکر من معی قرآن میں توحید کے اخلاص کا ذکر ہے۔ و ذکر من قبلی تورات اور انجیل میں جو کتابیں نازل ہوئیں سب میں توحید کے اخلاص کا ذکر ہے۔ دیکھو کیا منزل شدہ کتب میں سے کسی کتاب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی کو خدا بنانے کا حکم دیا ہے ؟ شرائع جو توحید کے متعلق ہیں مختلف نہیں ہیں۔ صرف اوامرو نواہی میں اختلاف ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے۔ ھذا ذکر من معی جو حلال اور حرام میں سے ان کو لازم ہوا یہ میرے ساتھیوں کے لیے ہے۔ و ذکر من قبلی مجھ سے پہلی امتوں کے لیے نصیحت ہے جو ایمان کے ساتھ نجات پا گئے اور شرک کر کے ہلاک ہوگئے۔ بعض علماء نے فرمایا : ذکر من معنی یعنی ایمان پر ثواب اور کفر پر عقاب جو ان کے لیے ہے۔ وذکر من قبلی پہلی امتوں کے ساتھ جو دنیا میں کیا گیا اور جو آخرت میں ان کے ساتھ کیا جائے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کلام کا معنی وعید اور تہدید ہے یعنی جو چاہو تم کرو، عنقریب پردہ اٹھ جائے گا۔ ابو حاتم نے حکایت کیا ہے کہ یحییٰ بن یعمر اور طلحہ بن مصرف نے ھذا ذکر من معی و ذکر من قبلی پڑھا ہے تنوین کے ساتھ اور میم کے کسرہ کے ساتھ۔ ابو حاتم نے کہا : اس کی کوئی وجہ نہیں۔ ابو اسحاق زجاج نے اس قرات کے بارے میں کہا : اس کا معنی ہے یہ نصیحت ہے اس میں جو میری طرف نازل کیا گیا اور اس میں سے جو میرے پاس ہے اور جو مجھ سے پہلے تھا۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے جو میں لے کر آیا ہوں یہ وہی ہے جو مجھ سے پہلے انبیاء لے کر آئے تھے۔ بل اکثر ھم لا یعلمون الحق ابن محیص اور حسن نے الحق پڑھا ہے بمعنی ھو الحق۔ اور ھذا الحق۔ اس بنا پر لا یعملون پر وقف ہوگا اور نصب کی قرأت میں اس پر وقف نہ ہوگا۔ فھم معرضون۔ یعنی وہ حق سے منہ پھیرے ہوئے ہیں اور وہ حق قرآن پس وہ توحید کی حجت میں غوروفکر ہی نہیں کرتے۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ حفص، حمزہ اور کسائی نے نوحی الیہ نون کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ پہلے ارسلنا آیا ہے۔ انہ لا الہ الا انا فا عبدون۔ ہم نے سب کو کہا : لآ الہ الہ اللہ عقلی دلائل شاہد ہیں کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور تمام انبیاء نے نقل بھی موجود ہے۔ دلیل کی دو ہی صورتیں ہیں عقلی یا نقلی۔ قتادہ نے کہا : ہر نبی توحید کے پیغام کے ساتھ بھیجا گیا جبکہ تورات، انجیل اور قرآن میں شرائع مختلف تھے یہ تمام اخلاص اور توحید پر مشتمل ہیں۔
Ayahs 21:26–28

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے وہ پاک ہے (اسکے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے اور بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور جو پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اسکے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و قالواتخذ الرحمن ولداً سبحنہ یہ خزاعۃ قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے کہا : فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور وہ اس امید سے ان کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ ان کی سفارش کریں گے۔ معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا : یہودیوں نے کہا معمر نے اپنی روایت میں کہا لوگوں میں سے ایک طائفہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جنوں سے رشتہ جوڑا اور ملائکہ جنوں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سبحنہ وہ اس سے پاک ہے۔ بل عباد مکرمون۔ بلکہ ملائکہ تو اس کے معزز بندے ہیں ایسا نہیں جیسا کہ کفار نے کہا ہے۔ عباد مکرمون کو زجاج کے نزدیک منصوب پڑھنا بھی جائز ہے۔ اس معنی پر بل اتخذ عباداً مکرمین، الوعد کا لفظ یہاں جمع کے لیے ہے کبھی واحد اور کبھی جمع کے لیے ولداً استعمال ہوتا ہے یہ بھی جائز ہے کہ الولد کا لفظ جنس کے لیے ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے : لفلان مال، لا یسبقونہ بالقول یعنی وہ نہیں کہتے حتی کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اور وہ نہیں بولتے مگر جس کے ساتھ بونے کا اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے وھم بامرہ یعملون۔ وہ اس کی طاعت واوامر کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ یعلم ما بین ایدھم یعنی وہ اسے جانتا ہے جو انہوں نے عمل پہلے کیا اور اسے بھی جانتا ہے جو یہ کر رہے ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : مابین ایدیھم کا معنی ہے جو آخرت میں ہوگا۔ وما خلفھم جو دنیا میں تھا، پہلا قول ثعلبی نے ذکر کیا ہے، دوسرا قشیری نے ذکر کیا ہے۔ ولا یشفعون، الا لمن ارتضی حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ کی شہادت دینے والے ہیں۔ مجاہد نے کہا : ہر وہ شخص مراد ہے جس سے اللہ راضی ہوگا۔ ملائکہ قیامت کے روز شفاعت کریں گے جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے اور دنیا میں بھی فرشتے مومنین کے لیے اور اہل زمین کے لیے استغفار کرتے ہیں جیسا کہ قرآن کف نص موجود ہے : وھم من خشیتۃ مشفقون۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ڈرتے رہتے ہیں وہ اس کے عذاب سے امن میں نہیں۔
Ayahs 21:29–30

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے (اور) ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کو جدا جدا کردیا ؟ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و من یقل منھم انی الہ من دونہ قتادہ اور ضحاک وغیرہمانے کہا : اس آیت سے مراد ابلیس ہے جس نے شرکت کا دعوی کیا تھا اس نے اپنی عبادت کی طرف بلایا جبکہ وہ ملائکہ میں سے تھا۔ اس کے علاوہ ملائکہ میں سے کسی نے یہ نہیں کہ کہ میں خدا ہوں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تمام ملائکہ کی طرف اشارہ ہے۔ جو ایسا کہے گا نجزیہ جھنم ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اگرچہ وہ عصمت کے ساتھ عزت دیے گئے ہیں پھر بھی وہ عبادت کرتے ہیں وہ عبادت پر مجبور نہیں ہیں جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ہے کہ محمد ﷺ اہل آسمان سے افضل ہیں۔ یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ کذلک نجزی الظلمین۔ یعنی جس طرح اس کو ہم نے آگ کے ساتھ جزادی اسی طرح ہم ان ظالموں کو جزا دیں گے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کے لیے الوہیت اور عبادت کا قول وضع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولم یر الذین کفروا اکثر کی قرأت أولم یرو، وائو کے ساتھ ہے۔ ابن کثیر، ابن محیصن، حمید شبل بن عباد نے الم بر، بغیر واو کے پڑھا ہے اسی طرح مکہ کے مصحف میں ہے، اولم یر بمعنی یعلم ہے۔ الذین کفروا ان السموت والرض کا نتارتقا، کا نتا یہ دو قسمیں ہیں جیسے عرب کہتے ہیں : ھما لقا حان اسودان جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان اللہ یمسسک السموت والارض ان تزولا (فاطر :41) ابو اسحاق نے کہا : السماوات کے لفظ سماء سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ السماوات ایک سماء تھے۔ اسی طرح الأرضون ہے۔ رتقاً فرمایا رتقین نہیں فرمایا کیونکہ یہ مصدر ہے، معنی یہ ہے کا تتا ذواتی رتق۔ حسن نے رتقاتاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ عیسیٰ بن عمر نے کہا : یہ درست ہے یہ ایک لغت ہے۔ الرتق کا معنی سد (بند) ہے اور یہ الفتق (پھٹنا) کی ضد ہے۔ رتقت الفتق ارتقہ فارتق میں نے پھٹن کو ملایا تو وہ جڑ گئی۔ اسی سے الرتقاء ہے وہ عورت جس کی فرج ملی ہوئی ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، عطا، ضحاک اور قتادہ نے فرمایا : یہ ایک چیز تھے، ملے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ہوا کے ذریعے ان کے درمیان فاصلہ کیا، اسی طرح کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یہ ایک دوسرے کے اوپر تھے پھر اس کے وسط میں ہوا پیدا کی تو ہوا کے ذریعے ان کو جدا جدا کردیا اور آسمان سات بنائے زمینیں بھی سات بنائیں، یہ قتبی نے عیون الاخبار میں اسماعیل بن ابی خالد سے اولم یر الذین کفروا لخ کے تحت سات زمینیں بنائیں۔ اوپر والی زمین بنائی تو اس کی رہائشی جن وانس بنائے اس میں نہریں نکالیں اور اس میں پھل اگائے اس میں دریا بنائے اور اس کو رعاء نام دیا اس کا عرض پانچ سو سال ہے پھر دوسری زمین کو تخلیق کیا تو اس کا عرض اور موٹائی بھی پہلی زمین کی طرح تھا اس میں کئی قومیں بنائیں، ان کے منہ کتوں کے مونہوں کی طرح ہیں، ہاتھ انسانوں کی طرح ہیں، کان گائیوں کی طرح ہیں، ان کے بال بکریوں کی طرح ہیں۔ جب قیامت قریب آئے گی تو زمین انہیں یاجوج و ماجوج پر پھینک دے گی اس زمین کا نام الدکماء ہے۔ پھر تیسری زمین کو پیدا کیا اس کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اس سے ہوا زمین کی طرف آتی ہے۔ چوتھی زمین میں تاریکی اور ان بچھوئوں کو پیدا کیا جو دوزخیوں کے لیے ہیں وہ کالے خچروں کی طرح ہیں ان کے دم گھوڑوں کے دموں کے مثل لمبے ہیں وہ ایک دوسرے کو کھاتے ہیں پس وہ بنی آدم پر مسلط کیے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے پانچوں زمین کو پیدا فرمایا جو موٹائی اور طول و عرض میں پہلی کی مثل ہے اس میں زنجیروں خ بیڑیاں اور قیود ہیں جو دوزخیوں کے لیے ہیں۔ پھر چھٹی زمین کو پیدا فرمایا اس کا نام ماد ہے اس میں کالے پتھر ہیں اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی مٹی تیار کی گئی۔ قیامت کے روز ان پتھروں کو نکالا جائے گا ان میں سے ہر پتھر بڑے پہاڑ کی مانند ہوگا یہ کبریت سے کفار کے گلے میں لٹکائے جائیں گے پھر وہ بھڑکائے جائیں گے حتی کہ وہ ان کے چہروں اور ہاتھوں کو جلا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و قودھا الناس و الحجارۃ (البقرہ : 24) پھر اللہ تعالیٰ نے ساتوں زمین کو پیدا کیا اس کا نام عریبۃ ہے اس میں جہنم ہے۔ اس میں دو دروازے ہیں ایک کا نام سجین ہے اور دوسرے کا نام الفلق ہے، سجین کھلا ہوا ہے کفار کا نامہ اعمال تک پہنچتا ہے، اس پر اصحاب مائدہ اور قوم فرعون پیش کیے جاتے ہیں۔ رہا الفلق دروازہ تو وہ بند ہے قیامت تک نہیں کھولا جائے گا۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ سات زمینیں ہیں ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اس کا مزید بیان سورة الطلاق کے آخر میں آئے گا۔ تیسر قول عکرمہ، عطیہ، ابن زید اور حضرت ابن عباس ؓ کا بھی ہے جو مہدوی نے ذکر کیا ہے کہ آسمان ملے ہوئے تھے بارش نہیں برساتے تھے اور زمین ملی ہوئی تھی اس پر کچھ نہیں اگتا تھا۔ پس آسمان کو بارش کے ساتھ پھاڑ اور زمین کو نبات کے ساتھ کھولا اس کی یہ مثال یہ آیت ہے : و السمأء ذات الرجع۔ والارض ذات الصدع۔ (الطارق) اس قول کو طبری نے اختیار کیا ہے کیونکہ اس کے بعد ہے و جعلنا من المآء کل شیء حی، افلا یومنون۔ میں کہتا ہوں : اس کے ساتھ ازروئے مشاہدہ اور معاینہ کے اعتبار سے واقع ہوتا ہے اسی وجہ سے اس کے متعلق دوسری آیات میں خبر دی تاکہ اس کے کمال قدرت اور جزا پر دلالت کرے۔ شاعر نے کہا : یھون علیھم اذا یغضبون سخط العداۃ و اغامھا ورثق الفتوق وفتق الرتوق ونقض الامورو ابرامھا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجعلنا من الما آء کل شیء حی اس میں تین تاویلات ہیں : (1) ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ (2) ہر چیز کی زندگی کی حفاظت پانی کے ذریعے کی۔ (3) صلب کے پانی سے ہر چیز کو زندہ بنایا، یہ قطرب کا قول ہے۔ (1) ۔ وجعلنا بمعنی خلقنا ہے۔ ابو حاتم بستی نے اپنی مسند الصحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث روایت کی ہے فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل خوش ہوتا ہے، میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں مجھے ہر چیز کے متعلق بتائیے۔ فرمایا : ” ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے “۔ ابو حاتم نے کہا : حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول : أنبئنی عن کل شیء (مجھے ہر چیز کے متعلق بتائیے) اس سے ہر وہ چیز مراد ہے جو پانی سے پیدا کی گئی ہے۔ اس کی صحت پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا جواب ہے کہ آپ نے فرمایا :” ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے “۔ اگرچہ مخلوق نہ تھی۔ یہ آسمانوں اور زمین کے رتقا ہونے کے علاوہ یہ دوسری حجت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الکل یذکر بمعنی البعض ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و اوتیت من کل شیء (النمل :23) اور ارشاد ہے : تدمر کل شیئ (الاحقاف :25) الصحیح عموم ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : کل شی خلق من الماء ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے۔ افلا یومنون۔ یعنی کیا وہ جو مشاہدہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے تصدیق نہیں کرتے یہ سب کچھ خود بخود تو نہیں ہوا بلکہ کسی بنانے والے کے بنانے سے ہوا اور کسی مدبر کی تدبیر سے سب کچھ ہوا اور اس مکون کا حادث ہونا جائز نہیں۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و جعلنافی الارض رواسی یعنی ثابت و قائم پہاڑ۔ ان تمید بھم یعنی تاکہ ان کے ساتھ لرزتی نہ رہے اور حرکت کرنے کی کراہیت کی وجہ سے۔ المید کا معنی حرکت کرنا اور گردش کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : مادراسہ یعنی اس کا سر چکرایا اس پر تفصیلی گفتگو سورة النحل میں گزر چکی ہے۔ وجعلنا فیھا فجاجا فعنی ان پہاڑوں میں راستے بنائے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے الفجاج راستے۔ الفج دو پہاڑوں کے درمیان کھلا راستہ۔ بعض علماء نے فرمایا : ہم نے زمین میں راستے بنائے، یہ طبری کا اختیار ہے کیونکہ فرمایا : لعلھم یھتدون۔ زمین میں چلنے کی طرف ہدایت پائیں۔ سبلا، الفجاج کی تفسیر ہے کیونکہ افج کبھی نافذ راستہ کو کہتے ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ بعض نے فرمایا : تاکہ ان کے ذریعے اپنے دین کی طرف راہنمائی حاصل کریں۔
Ayahs 21:32–33

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجعلنا السمآء سقفا محفوظا یعنی گرنے اور زمین پر سقوط سے محفوظ کیا، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : و یمسسک السمآء ان تقع علی الارض الا باذنہ (الحج :65) بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ستاروں کے ذریعے، شیطانوں سے اس کو محفوظ کیا، یہ فراء کا قول ہے اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : وحفظنھا من کل شیطن رحیم۔ (الحجر :17) بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ٹوٹنے پھوٹنے سے محفوظ بنایا اور اس سے محفوظ کیا کہ کوئی حیلہ کے ساتھ اس تک پہنچ سکے۔ بعض نے فرمایا : ایسا محفوظ بنایا کہ ستون کا محتاج نہیں۔ مجاہد نے محفوظ کا معنی مرفوعاً (بلند کیا گیا) بیان کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : شرک اور معاصی سے محفوظ کیا۔ وھم عن ایتھا معرضون۔ یعنی کفار اس کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : نشانیوں سے مراد سورج اور چاند ہیں۔ آیات کی اضافت آسمان کی طرف کی، کیونکہ وہ نشانیاں آسمان میں بنائی گئی ہیں۔ جبکہ کئی مقامات پر آیات کی نسبت اپنی طرف بھی کی کیونکہ وہی انکا فاعل حقیقی ہے۔ فرمایا : مشرکین آسمانوں میں اور ان کی نشانیوں میں، رات اور دن میں، شمس و قمر میں، آسمانوں کے افلاک میں، ان کی ہوائوں میں اور ان کے بادلوں میں اور ان کے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں ان میں غوروفکر کرنے سے غافل ہیں اگر وہ غور و فکر کرتے تو جان لیتے کہ ان کا کوئی صانع ہے، قادر ہے اور وہ واحد ہے۔ اس کا شریک ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھم الذی خلق الیل و النھار انہیں ایک اور نعمت یاد دلائی ان کے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کریں، دن بنایا تاکہ اس میں اپنی معاش کے لیے تصرف کریں۔ والشمس و القمر سورج کو دن کی نشانی بنایا اور چاند کو رات کی نشانی بنایا تاکہ مہینے، سال اور حساب معلوم ہو جیسا کہ سورة سبحان میں گزر چکا ہے۔ کل یعنی سورج، چاند، ستارے، کواکب، لیل و نہار میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔ فی فلک یسبحون۔ تیزی کے ساتھ چلتے ہیں جیسے پانی میں تیرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور وہ اصدق القائلیں ہے : واسجت سبحا۔ (النازعات) وہ گھوڑا جو لمبا پائوں رکھتا ہے دوڑنے میں اسے سابح کہتے ہیں۔ یسبحن اور لا تسبح نہیں فرمایا : سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ جب ان کے متعلق ذوی العقول کے فعل کے ساتھ خبر دی تو طاعت میں بھی انہیں ذوی العقول کے قائم مقام رکھا۔ ان کے متعلق واو اور نون کے ساتھ خبر دی۔ اس طرح فراء نے کہا یہ مفہوم سورة یوسف میں گزر چکا ہے۔ کسائی نے کہا : یسبحون فرمایا کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نحن جمیع منتصر۔ (القمر) منتصرون نہیں فرمایا۔ بعض نے کہا : چلنا فلک کے لیے ہے۔ پس اس کی طرف نسبت کردی گئی۔ اصح یہ ہے کہ سیارہ فلک میں چلتا ہے۔ آسمانوں کے علاوہ سات افلاک ہیں۔ اور وہ آسمان فرشتوں کی جو لا نگاہیں اور ملکوت کے اسباب ہیں اور چاند نچلے فلک میں ہے اور پھر عطارد، پھر زہر، پھر سورج، پھر مریخ پھر مشتری پھر زحل ہے اور آٹھواں بروج کا فلک اور نواں الفلک الاعظم ہے۔ فلک، نجوم کے افلاک کا واحد ہے۔ ابو عمرو نے کہا : اس کی جمع فعل پر جائز ہے جیسے اسد و اسد، خشب و خشب، فلک کا اصل معنی گردش کرنا ہے۔ اسی سے فلکۃ المغزل چرخے کا پر تہ جو گھومتا ہے، اسی سے کہا جاتا ہے : فلک ثدی المراۃ تفلیکا عورت کے پستان کا گول ہونا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث میں ہے : ترکت فرسی کا نہ یدور فی فلک، (1) میں نے گھوڑے کو چھوڑا گویا وہ فلک میں گردش کر رہا ہے۔ اس کی گردش کی وجہ سے آسمان کے فلک کے ساتھ تشبیہ دی جس پر ستارے گھومتے ہیں۔ ابن زید نے کہا : الافلاک ستاروں، سورج اور چاند کی گزر گاہیں ہیں۔ فرمایا : آسمان اور زمین کے درمیان ہیں۔ قتادہ نے کہا : الفلک آسمان میں گردش ہے۔ آسمان کے ثبوت کے ساتھ ستاروں کے ساتھ گھومتا ہے۔ مجاہد نے کہا : فلک، چکی کے قطب کی طرح ہے۔ ضحاک نے کہا : فلک سے مراد ان کا گزرنا اور تیزی سے چلنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : فلک ایک موج ہے جو رو کی گئی ہے، اس میں چاند اور سورج کی گزر گاہ ہے۔ واللہ اعلم۔