Ayah 21:1(21:1) اقترب۔ اقتراب (افتعال) سے ماضی واحض مذکر غائب۔ نزدیگ ہوا۔ قریب آگیا۔ مادہ قرب۔ معرضون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ رخ گردانی کرنے والے ۔ منہ موڑنے والے۔ اعراض (افعال) مصدر۔ اگر اعرض کے بعد عن آئے تو بمعنی رخ پھیرنا۔ اجتناب کرنا ہے اور اگر اس کے بعد لام آئے جیسے اعرض لی (وہ میرے سامنے آیا۔ میرے سامنے نمودار ہو) تو سامنے آنے کے معنی دیتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے بغیر عن کے بھی رخ پھیرنے کے معنی دیتا ہے گویا اعراض کے معنی ہی رخ گردانی اور اجتناب ہوگیا۔ حسابہم۔ ان کا حساب یعنی ان کے اعمال کے حساب (کا وقت) ۔
Ayah 21:2(21:2) ما یاتیہم من ذکر۔ میں ما نافیہ ہے من ذکر ای شیء من القران۔ محدث۔ اسم مفعول واحد مذکر احداث (افعال) مصدر۔ جدید۔ تازہ۔ یہ ذکر کی صفت ہے من ذکر محدث کوئی نئی سورت یا آیت۔
استمعوہ۔ ماضی (بمعنی حال) جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع ذکر محدث ہے۔ استعماع (افتعال) مصدر وہ اس کو سنتے ہیں۔
وھم یلعبون۔ وائو حالیہ ہے۔ ہم یلعبون حال ہے استمعوا کے فاعل سے۔ یعنی ان کا دھیان اپنے لہو ولعب کی طرف ہے سننے کی طرف نہیں یہ سننے کے ساتھ مذاق کرنے کے متراد ہے۔ آیۃ کا ترجمہ ہوا۔ نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی یا تازہ سورت یا آیت مگر یہ کہ وہ اسے سنتے ہیں اس حال میں کہ وہ لہو ولعب میں مگن ہوتے ہیں۔
(ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں ترجمہ مولانا فتح محمد صاحب
Ayah 21:3(21:3) لاھیۃ قلوبہم۔ یہ بھی استمعوا کے فاعل سے حال ہے۔ لاھیۃ اسم فاعل واحد مؤنث ۔ لاھی واحد مذکر۔ لاھیات جمع۔ غافل ۔ لہو میں پڑے ہوئے اللھو۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہٹائے اور باز رکھے۔ یہ لھوت کذا سے اسم ہے جس کے معنی کسی مقصد سے ہٹ کر بےسود کام میں لگ جانے کے ہیں۔ لاھیۃ قلوبہم (درآں حالیکہ) ان کے دل (یوم جزا سے ہٹ کر) غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ما یاتیہم سے جو فقرہ شروع ہوا تھا وہ قلوبہم پر آکر ختم ہوا۔ واسروا سے نیا فقرہ شروع ہوتا ہے
اسروا۔ وہ پوشیدہ رکھتے ہیں (ماضی بمعنی حال) ۔ النجوی۔ اسم معرف باللام۔ سرگوشی۔ یا یہ مصدر ہے بمعنی سرگوشی کرنا۔ نجوی میں خود ہی اخفاء کا پہلو شامل ہے۔ اسروا کے لفظ نے مزید تاکید وزور پیدا کردیا۔
واسروا النجوی الذین ظلموا کے متعلق صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔
یہاں یاک نحوی پیچیدگی ہے۔ واسروا النجوی الذین ظلموا کے فقرہ میں اسروا فعل ہے نجوی مفعول۔ اور الذین فاعل۔ نحو کا قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل واحد ہوتا ہے۔ اس قاعدہ کے مطابق اسر النجوی ہونا چاہیے تھے۔ مگر یہاں فاعل ظاہر ہونے کے باوجود اسروا جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا۔
اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اسروا میں وائو ضمیر جمع نہیں ہے بلکہ علامت جمع ہے تاکہ اسروا کا لفظ سنتے ہی سننے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا ایک فاعل نہیں بلکہ متعدد ہیں۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ وائو ضمیر جمع فاعل ہے اور الذین فاعل نہیں بلکہ وائو کا بدل ہے اور وائو مبدل منہ ہے جیسے ثم عموا وصموا کثیر منہم (5:71) میں گذر چکا ہے کہ کثیر فاعل نہیں بلکہ وائو علامت جمع اور ضمیر جمع فاعل ہے اور کثیر اس کا بدل ہے۔
تیسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ عرب کی ایک لغت میں ایسے موقعہ پر بھی فعل کا جمع کا صیغہ استعمال ہوتا رہتا ہے ۔ جیسے اکلونی البراغیث (مجھے پسوئوں نے (کاٹ) کھایا۔ ملاحظہ ہو سورة مائدہ آیت نمبر 71 ۔ ضیاء القرآن جلد اول۔ فقرہ کا ترجمہ ہوگا۔ (یہ) ظلم کار لوگ (آپ کے خلاف) سرگوشیوں کو چھپاتے رہتے ہیں۔
ھل۔ نفی کے لئے آیا ہے۔ ای ما ھذا الا بشر مثلکم۔ افتاتون۔ الف استفہامیہ۔ تأتون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم آتے ہو۔ تم آئو گے۔ اتیان مصدر۔ باء کے ساتھ جب اس کا تعدیہ ہو تو معنی لانے کے ہوتے ہیں۔ افتاتون السحر۔ کیا تم (پھر بھی) جادو (کی باتیں سننے) آئو گے۔
وانتم تبصرون۔ حالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔ یہ جملہ حال ہے تاتون کی ضمیر فاعل ہے ۔ اور یہ سارا جملہ ھل ھذا الا بشر مثلکم افتاتون السحر وانتم تبصرون۔ محل نصب میں ہے اور النجوی سے بدل ہے۔ یعنی ان کی سرگوشیاں یہ کلام ہے۔
Ayah 21:4(21:4) قال۔ ای قال الرسول ﷺ ۔ القول۔ ہر بات خواہ وہ پوشیدہ طور پر کہی جائے یا بالجھر کہی جاوے تاکید کے لئے یعلم السر کو یعلم القول کہا ہے۔
Ayah 21:5ّ (21:5) اضغاث احلام۔ مضاف مضاف الیہ۔ اضغاث ضغث کی جمع ہے جس کے معنی خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجائیں۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے :۔ خذ بیدک ضغثا (38:44) اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر گھاس لو۔
احلام حلم کی جمع ہے جس کے معنی خواب دیکھنے کے ہیں اور چونکہ گھاس کے تنکے یا خشک شاخیں مٹھے میں بری بھلی سب ملی جلی ہوتی ہیں اس لئے خواب ہائے پریشان کو اضغاث احلام کہتے ہیں۔ جیسے کہ سورة یوسف میں ہے قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پراگندہ و پریشان خواب ہیں۔ اسی طرح جس بات یا کلام کا کوئی سرمنہ نہ ہو اور بےربط وملتبس ہوا سے بھی تشبیہا اضغاث احلام کہتے ہیں جیسا کہ آیت ہذا میں ہے یعنی یہ کلام پریشان خیالات کا مجموعہ ہے ۔
بل افتراہ۔ یہ محض پریشان خواب نہیں کیونکہ خواب میں ایسے کلام کو موزوں کرنا بھی ایک شان بےاختیاری ومجذوبیت کا مظہر ہے بلکہ یہ تو ایک من گھڑت کلام ہے جو ان کے اپنے دماغ کی اختراع ہے۔
بل ھو شاعر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ایک شاعر ہے اور یہ کلام ایک شاعرانہ جولائی طبع کا نتیجہ ہے۔ جس کی کوئی بنیاد نہیں اور جس میں کوئی ٹھوس حقیقت نہیں اور واقعیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ (علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ اہل عرب شعر کو جھوٹ کے معنی میں استعمال کرتے تھے۔ اور شاعر سے مراد ان کے نزدیک کا ذب تھا۔ اسی لئے اہل عرب جھوٹی دلیلوں کو ادلۃ شعریۃ کہتے ہیں) ۔
فلیاتنا بایۃ۔ یہ جواب شرط محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے ان لم یکن کما قلنا بل کان رسولا من اللہ عزوجل کما یقول فلیاتنا بایۃ۔ اگر یہ ایسا نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے بلکہ جیسا وہ خود کہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرستادہ ہے تو پھر لائے ہمارے پاس کوئی (بھاری) معجزہ۔
کما ارسل الاولون۔ جیسا کہ پہلے رسول (بھاری معجزہ ) کے ساتھ بھیجے گئے تھے مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ عصا۔ وید بیضاء یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہ ان کوڑھی تندرست ہوجاتے تھے اور مردہ زندہ ہوجاتے تھے۔ یہ سارا کلام بل قالوا اضغاث احلام سے لے کر الاولون تک النجوی کے ضمن میں آتا ہے۔
Ayah 21:6(21:6) ما امنت۔ ما نافیہ ہے امنت ایمان سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ وہ ایمان لائی۔ اس نے مانا۔ یہاں سے جملہ مستانفہ شروع ہوتا ہے۔ اور کفار و مشرکین کے متذکرہ بالا نجوی کا خداوند تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم ﷺ کی تسلی خاطر کے لئے جواب ہے۔ ما امنت ۔۔ افہم یؤمنون۔ ان سے قبل ہم نے جن بستیوں کو (باوجود معجرہ ہائے عظم کے مرسلین خداوندی کی نافرمانی کی وجہ سے) ہلاک کیا ان کے اہالیان تو ایمان نہ لائے تو کیا یہ لوگ آپ سے معجزہ عظیم کا مطالبہ کر رہے ہیں ایسے معجزہ کی صورت میں ) ایمان لے آئیں گے۔ افہم میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔
Ayahs 21:7–8(21:7) رجالا۔ رجل کی جمع ہے۔ مرد ۔ انسان۔ اھل الذکر۔ اہل علم۔ اس سے مراد یا تو اہل کتاب ہیں یعنی علماء یہود و نصاری کہ تورات اور انجیل کی تعلیمات کی روشنی میں وہ انبیاء کی بشریت سے منکر نہ تھے۔ یا یہاں ذکر سے مراد القرآن ہے اور اہل الذکر سے مراد قرآن کو ماننے والے مومن علمائ۔
Ayah 21:9(21:9) المسرفین۔ اسراف (افعال) سے اسم فاعل جمع مذکر حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ حد حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے۔
Ayah 21:10(21:10) ذکر کم۔ ای ذکر لکم۔ تمہارے لئے نصیحت۔
Ayah 21:11(21:11) قصمنا۔ قصم یقصم (ضرب) قصم سے ماضی جمع متکلم۔ القصم کے معنی کسی چیز کو توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں۔ قصم اللہ ظھر الظالم خدا ظالم کی کمر توڑ دے قاصمۃ الظھر پشت کو توڑ دینے والی مصیبت۔
کم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ۔ ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کردیا۔ یعنی ان کو توڑ موڑ کر ریزہ ریزہ اور ہلاک کردیا۔ انشانا۔ انشاء سے ماضی جمع متکلم ہم نے پیدا کیا۔
Ayah 21:12(21:12) احسنوا۔ احساس (افعال) ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے محسوس کیا۔ انہوں نے پایا۔
باسنا۔ مضاف مضاف الیہ ہمارا عذاب۔ ب ء س مادہ۔ البئوس الباس۔ الباسائ۔ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں۔ الباس الباساء جسمانی زخم اور نقصان کے لئے آتا ہے اور یؤس زیادہ تر فقر وفاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولا جاتا ہے۔
اذا۔ جب ۔ ناگہاں۔ اس وقت۔ ظرف زمان ہے۔ اذا اکثر وبیشتر تو شرط ہی ہوتا ہے مگر مفاجات یعنی کسی چیز کے اچانک پیش آنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے آیہ ہذا میں اذا ہم منھا یرکضون۔ تو فورا وہاں سے بھاگنے لگے۔ یہاں اذا فجائیہ ہے۔
منھا۔ میں ضمیر واحد مؤنث غائب یا تو قریۃ کی طرف راجع ہے یا باس کی طرف جو کہ یہاں النقمۃ کے معنی ہے۔ النقمۃ سزا۔ انتقام۔ بدلہ۔ یرکضون مضارع جمع مذکر غائب رکض مصدر (باب نصر) تیزی کے ساتھ بھاگنا وہ تیزی سے بھاگنے لگے۔
Ayah 21:13(21:13) لا ترکضوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، مت بھاگو۔ اترفتم۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تمہیں عیش دیا گیا۔ تم نازو نعمت میں پالے گئے۔ اتراف (افعال) مصدر۔
الی ما اترفتم فیہ۔ اس حالت تعیش کی طرف جہاں تمہیں خدا نے نعمتیں، مال وزر زن و فرزند۔ و دیگر سامان تعیش دے رکھا تھا۔ یہ فقرہ طنزا کہا گیا ہے کہ اب جو تمہاری ناشکری اور کرتوتوں کی وجہ سے عذاب آیا ہے تو بھاگتے کیوں ہو ؟ جائو نا وہیں جا کر عیش لوٹو اور حکومت چلائو تاکہ تم سے تمہاری بربادی اور سزا و عذاب کے متعلق لوگ پوچھیں کہ بایں انعام و اکرام یہ تم عذاب میں کیوں مبتلا کئے گئے اور پھر تم اپنی کرتوتوں کا جواب دو ۔
قالوا۔ ای لمایئسوا من الخلاص بالھرب والقینوا استیلاء العذاب یعنی جب وہ بھاگ کر بھی خلاصی پانے سے مایوس ہوگئے اور غلبہ عذاب کا ان کو یقین ہوگیا تو پکارنے لگے یویلنا۔
Ayah 21:14(21:14) یویلنا۔ وائے ہماری بدبختی ۔ وائے ہماری ہلاکت۔
Ayah 21:15(21:15) ما زالت افعال ناقصہ میں سے ہے یعنی وہ ختم نہ ہوا بدستور جاری رہا۔ مازلت افعل۔ میں کرتا رہا۔ ما زالت (ان کی یہ چیخ و پکار) جاری رہی۔ دعوہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا دعویٰ ۔ ان کی چیخ و پکار۔ ما زالت تلک دعوہم۔ ان کی یہ چیخ و پکار جاری رہی۔ وہ یہ چیخ و پکار کرتے ہی رہے۔
حصیدا۔ کٹی ہوئی کھیتی۔ جڑ سے کٹی ہوئی حصاد سے بروزن فعیل بمعنی مفعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حصاد وحصید کے معنی کھیتی کاٹنے کے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے واتوا حقہ یوم حصادہ (6:141) اور جس دن پھل توڑو یا کھیتی کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔
خمدین۔ بجھنے والے۔ خمود سے اسم فاعل جمع مذکر ۔ بحالت نصب۔ خمدت النار۔ آگ کے شعلوں کا ساکن ہوجانا (جب کہ اس کا انگارا نہ بجھا ہو) قرآن مجید میں ہے فاذاہم خمدون۔ (36:39) سو وہ ناگہاں بجھ کر رہ گئے۔ حتی جعلنہم حصیدا خمدین۔ تا آنکہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر اور (آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا۔
Ayah 21:16(21:16) لعبین۔ اسم فاعل جمع مذکر لاعب واحد۔ لعب لعب وتلعاب مصدر۔ کھیلنے والے۔ بیکار کام کرنے والے۔ لعب حاصل مصدر بھی ہے بمعنی کھیل۔ لعبۃ گڑیا۔
Ayah 21:17(21:17) لو اردنا ان نتخذ لھوا۔ اگر ہمارا ارادہ ہوتا کہ ہم کوئی محض کھیل کا شغف اختیار کریں (تو یقینا ہم از خود اپنی طرف سے ہی کوئی ہی کھیل اختیار کرسکتے تھے۔ یہ مخلوق اس کی مختلف صورتیں اس کی مختلف آزمائشیں۔ اس کی دنیاوی زندگی کی صعوبتیں اور آخرت کی جزاء وسزا یہ سب دھندا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کائنات خود مخلوق ہی کے نفع و مصلحت کے لئے ہے جیسا کہ مولانا روم (رح) نے فرمایا ہے ؎
من نہ کر دم امر تاسو دے کسنم ۔ بلکہ تابر بندگاں جو دے کسنم
ان کنا فعلین۔ میں ان شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے اگر ہمیں ایسا کرنا ہی تھا تو۔ یا یہ نافیہ ہے اور معنی ہیں۔ ہم ایسا کرنے والے نہ تھے یعنی ایسا کرنا (لہو ولعب کے لئے ) ہمارا مقصود ہی نہ تھا۔
Ayah 21:18(21:18) نقذف۔ مضارع جمع متکلم قذف مصدر (باب ضرب) ہم پھینک مارتے ہیں قذف کے اصل معنی تیر کو دور پھینکنے کے ہیں۔ پھر تیر کی شرط کو ساقط کر کے مطلق پھینکنے، ڈالنے اور اتارنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ مجازا اس کے معنی گالی دینا۔ تہمت زنا لگانا۔ اور کسی کو عیب کی طرف منسوب کرنا بھی مراد لئے جاتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے فاقذ فیہ فی الیم (20:39) پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو ۔ اور یقذف بالحق (34:48) وہ (اوپر سے) حق اتارتا ہے اور ویقذفون من کل جانب دحورا (37:8) اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔ بل نقذف بالحق علی الباطل۔ بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں۔
فیدمغہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ دمغ مصدر (باب فتح) پس وہ اس کو دماغ پر مارتا ہے (دماغ کی چوٹ بےہوش کرتی ہے اور اگر زیادہ قوی ہو تو موجب ہلاکت ہوتی ہے) ۔ دمغ کا معنی ہے ایسی قوی ضرب جس سے بھیجا ٹوٹ جائے۔ اس لئے آیۃ ہذا میں دماغ پر مارنے سے مراد ہوا ہلاک کرنا۔ نابود کردینا۔
فاذا۔ پس وہ فورا۔ زاھق۔ اسم فاعل واحد مذکر مٹ جانے والا۔ زائل ہوجانے والا۔ فاذا ھو زاھق تو وہ فورا مٹ جاتا ہے۔
ولکم الویل مما تصفون۔ اور تمہارے لئے خرابی (بربادی۔ ہلاکت۔ بدبختی) ہے بوجہ (ان من گھڑت باتوں کے) جو تم بیان کرتے ہو۔ مثلاً یہ تخلیق کائنات محض ایک کھیل ہے یا یہ کہ دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ یا بیوی، بیٹیاں وغیرہ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہو۔ وغیرہ ذالک۔ یا یہ جملہ انشائیہ بصورت جملہ خبریہ ہے۔ یعنی تمہاری ان باتوں پر پھٹکار ہو۔
یہاں خطاب یا تو قریش سے ہے یا جمیع کفار عرب سے۔ یا التفات ضمائر ہے اور خطاب اہل قری سے ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے اور غیب سے ھاضر کا صیغہ وعید کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 21:19(21:19) ومن عندہ۔ وہم الملئکۃ مطلقا علیہم السلام۔ لفظی ترجمہ :۔ اور جو اس کے نزدیک ہیں اور اس سے مراد فرشتے ہیں۔
لا یستکبرون عن عبادتہ۔ لا یستکبرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ تکبر نہیں کرتے۔ یعنی اس کی بندگی سے سرتابی نہیں کرتے۔ لا یستحسرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب استحسار (استفعال) مصدر وہ نہیں تھکتے ہیں۔
الحسر۔ (باب ضرب ونصر) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور اس سے پردہ اٹھانے کے ہیں۔ ناقۃ حسیر۔ تھکی ہوئی اور کمزور اونٹنی جس کا گوشت اور قوت زائل ہوگئی ہو۔ الحاسرو المحسور۔ تھکا ہوا۔ عاجز ۔ درماندہ۔ کیونکہ اس کے قوی ظاہر ہوجاتے ہیں ! الحسر اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے خود اپنے قوی کو ننگا کردیا۔ اور المحسور اس تصور پر کہ درماندگی نے اس کے قوی کو ننگا کردیا۔ حسیر۔ حاسر۔ محسور۔ تینوں ہم معنی ہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔
ینقلب الیک البصر خاسئا وھو حسیر (67:4) تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔ اور اسی سے الحسرۃ (حسرت) ہے فرط غم سے قوی کا ننگا ہوجانا درماندہ ہوجانا۔
Ayah 21:20(21:20) لا یفترون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب فتر مصدر (باب نصر) وہ سستی نہیں کرتے وہ نہیں اکتاتے۔ فتر مادہ۔
Ayahs 21:21–22(21:21) الھۃ من الارض۔ ای الھۃ من اجزاء الارض کالحجارۃ وغیرہ ایسے معبود جس میں ارضی عنصر موجود ہو مثلاً پتھر۔ جانور (ہندوئوں کی گئو ماتا۔ ہنومان (مندر) درخت، تلسی پیپل وغیرہ جن کو ہندو پوجتے ہیں) دریا (جیسے ہندئووں کے نزدیک گنگا۔ جمنا ) وغیرہ۔ ہم ینشرون۔ (ایسے ہیں) جو مردوں کو زندہ کرسکتے ہوں۔
Ayah 21:23(21:23) لا یسئل عما یفعل۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتے ہیں اس سے باز پرس نہیں کی جاسکتی۔ وہم یسئلون۔ ای الناس۔ لوگون سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔
Ayah 21:24(21:24) ھاتوا۔ اصل میں اتو تھا۔ ایتاء (افعال) مصدر سے۔ ات تولا۔ واحد مذکر حاضر۔ اتی (واحدمؤنث حاضر) اتیا (تثنیہ مذکر ومؤنث حاضر) اتین (جمع مؤنث حاضر) ہمزہ کو ھاء سے بدل کر ھات۔ ھاتی۔ ھاتیا۔ ھاتوا۔ ھاتین کرلیا گیا۔ ھاتوا جمع مذکر حاضر فعل امر۔ تم لائو۔
ھذا ذکر من معی۔ یہ رہی کتاب (میری اور ) میرے ساتھیوں کی۔ وذکر من قبلی۔ اور (یہ رہی) کتاب مجھ سے قبل والوں کی۔ (ان دونوں میں سے کسی میں یہ نکال کر دکھائو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی خدائی کا شائبہ رکھتا ہے اور اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ آیات (21:23) میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے عقلی دلائل تھے اور آیت 24 میں استد لال نقلی ہے۔
بل اکثرہم لا یعلمون الحق (یہ کوئی دلیل نہیں لاسکیں گے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حق کو جانتے ہی نہیں۔
فہم معرضون۔ اور اسی وجہ سے وہ (توحید الٰہی اور اتباع رسول سے ) روگردانی کر رہے ہیں۔
Ayah 21:25(21:25) نوحی۔ مضارع بمعنی ماضی جمع متکلم۔ ہم وحی بھیجتے تھے ہم نے (اس کی طرف) وحی بھیجی ۔ فاعبدون۔ ای فاعبدونی۔ سو میری ہی عبادت کیا کرو۔
Ayah 21:26(21:26) اتخذ ولدا۔ الاخذ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا۔ جمع کرلینا ۔ اور احاطہ میں لے لینا۔ اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑنے کی صورت میں ہوتا ہے مثلاً معاذ اللہ ان ناخذ الا من وجدنا متاعنا عندہ (12:79) خدا بچائے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا ہم کسی اور کو پکڑیں۔ اور کبھی غلبہ کی صورت میں مثلاً لا تاخذہ سنۃ ولا نوم (2:225) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی ہے اور نہ ہی نیند۔
اس سے الاتخاذ (افتعال) ہے اور یہ دومفعولوں کی طرف متعدی ہو کر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے لا تتخذوا الیہود والنصاری اولیاء (5:51) یہود و نصاری کو دوست نہ بنائو۔ اتخذ۔ اس نے بنالیا۔ اس نے اختیار کیا۔
ولدا۔ الولد جو جنا گیا ہو۔ یہ لفظ واحد ۔ جمع۔ مذکر۔ مؤنث چھوٹے بڑے سب پر بولا جاتا ہے۔ والد جس کے ہاں جنا گیا ہو۔ والدۃ جس نے جنا ہو۔ والذین ماں باپ۔ ولد بیٹا۔ بیٹی۔ اولاد سب کے لئے آتا ہے۔
وقالوا اتخذ الرحمن ولدا۔ ای وقالوا اتخذ الرحمن الملئکۃ ولدا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ بنالیا ہے رحمن نے (فرشتوں کو) اولاد۔ عرب کے کئی قبائل مثلاً بنی خزاعہ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے ۔ یہود و نصاریٰ حضرت عزیر (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہا کرتے تھے۔ یہاں اس بہتان صریح کی نفی کی جا رہی ہے۔
بل عباد مکرمون۔ بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔ یعنی ملائکہ۔ عزیر (علیہ السلام) مسیح (علیہ السلام) وغیرہ۔
Ayah 21:27(21:27) لا یسبقونہ۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب سبق (ضرب) سے مصدر ۔ اس سے وہ سبقت نہیں کرتے۔ پہل نہیں کرتے (بالقول۔ بات کرنے میں) ۔
Ayahs 21:28–29(21:28) لا یشفعون۔ میں ضمیر فاعل عباد مکرمون کی طرف راجع ہے۔ ارتضی۔ وہ راضی ہوا۔ اس نے پسند کیا۔ ارتضاء (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے الا لمن ارتضی۔ مگر صرف اس کے لئے (سفارش کریں گے) جسے وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) پسند کرے گا۔ خشیتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ہیبت۔ اس کا ڈر۔ اس کا خوف۔
مشفقون۔ اسم فاعل جمع مذکر اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد ڈرنے والے اس کا مادہ شفق ہے اور شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا تاریکی سے اختلاط اسی لئے جو محبت خوف کے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں۔ اشفق (باب افعال) سے پہلے من مذکور ہو تو خوف کا معنی نمایاں ہوتا ہے جیسے وہم من الساعۃ مشفقون (21:49) اور وہ قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں۔ اور اگر اس کے بعد علی آئے تو محبت کے معنی کا زیادہ ظہور ہوتا ہے۔ مثلاً اشفق علی الصغیر۔ اس نے چھوٹے پر رحم کھایا۔
Ayah 21:30(21:30) کانتا رتقا۔ دونوں باہم ملے ہوئے تھے۔ جڑے ہوئے تھے۔ رتقا ملا ہوا جڑا ہوا۔ رتق رتق یرتق کا مصدر ہے۔ رتق کے اصل معنی ہیں جڑ جانا۔ بند ہوجانا خواہ خلقی طور پر خواہ صناعی طور پر۔ یہاں مصدر بمعنی اسم فاعل یا اسم مفعول کے ہے۔
ففتقنا ہما۔ پھر ہم نے ان دونوں کو الگ الگ کردیا الفتق (باب ضرب) کے معنی دو متصل چیزوں کو الگ الگ کردینے کے ہں۔ اور یہ رتق کی ضد ہے۔ تخلیق عالم کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد ترجمان القرآن میں لکھتے ہیں :۔
موجودہ زمانہ میں اجرام سماویہ کی ابتدائی تخلیق اور کرہ ارضی کی ابتدائی نشو و نما کے جو نظرئیے تسلیم کر لئے گئے ہیں یہ اشارات بظاہر ان کی تائید کرتے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو ان بنیادوں پر شرح و تفصیل کی بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کرسکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا۔ یہ نظرئیے کتنے ہی مستند تسلیم کر لئے گئے ہوں لیکن پھر بھی نظرئیے ہیں اور نظریات جزم و یقین کے ساتھ حقیقت کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ پھر اس سے کیا فائدہ کہ ان کی روشنی میں قرآن کے مجمل اور محمل اشارات کی تفسیر کی جائے۔ لیکن کل کو کیا کریں گے اگر ان نظریوں کی جگہ دوسرے نظرئیے پیدا ہوگئے۔
صاف بات یہی ہے کہ یہ معاملہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے جس کی حقیقت ہم اپنے علم و ادراک کے ذریعے معلوم نہیں کرسکتے۔ اور قرآن کا مقصود ان اشارات سے تخلیق عالم کی شرح و تحقیق نہیں ہے خدا کی قدرت و حکمت کی طرف انسان کی توجہ دلانا ہے۔
کل شیء حی۔ ہر جاندار چیز۔ لفظ کل محاورہ میں تقریبا کل یا بہت بڑی اکثریت کے مرادف مستعمل ہے۔ اس لئے اگر کسی جاندار کی پیدائش کا اس قاعدے سے استثناء ثابت ہوجائے تو یہ عموم قانون کے منافی نہیں۔
Ayah 21:31(21:31) رواسی۔ رسی یرسو (نصر) رسو ورسو (مصدر) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع۔ راسیۃ واحد۔ رسا الشیء (نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وقدور راسیت اور بڑی بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ رواسی وہ مضبوط پہاڑ جو ایک جگہ جم کر ٹھہرے ہوئے ہوں۔
المرسی۔ بندرگاہ۔ جمع مر اس۔ المرساۃ۔ کشتی یا جہاز کا لنگر۔ مرسی مصدر میمی بھی ہے لنگر انداز ہونا۔ ظرف زمان وظرف مکان بھی ہے۔ لنگر انداز ہونے کا وقت یا لنگر انداز ہونے کی جگہ۔ ان بمعنی لئلا استعمال ہوا ہے اور ہم سے مراد اہل الارض ہیں۔
تمیدبہم۔ تمید مضارع واحد مؤنث غائب (ضرب) وہ ہلے۔ وہ جھکے۔ یا وہ ہلتی ہے یا جھکتی ہے۔ مید مصدر بمعنی کسی بڑی چیز کا ہلنا یا حرکت کرنا۔ ان تمیدبہم تاکہ وہ لوگوں کو لے کر ہلنے نہ لگے۔ فیھا ای فی الرواسی پہاڑوں میں۔ فجاجا۔ فج کی جمع دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے۔ دو پہاڑوں کے درمیان کشادگی کو الفج کہتے ہیں۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ :۔ من کل فج عمیق (22:27) ہر دور دراز راستے سے۔ یھتدون۔ مضارع جمع مذکر غائب (تاکہ) وہ راستہ پاسکیں۔
Ayah 21:32(21:32) ایتھا۔ اس کی نشانیاں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب السماء کی طرف راجع ہے ۔ ایتھا ای ما خلق اللہ فیھا من الشمس والقمر والنجوم وکیفیۃ حرکا تہافی افلاکھا ومطالعھا ومغاربھا وغیرہم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آسمانوں میں سورج۔ چاند۔ ستارے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ پھر ان کے افلاک میں دائمی گھومتے رہنا ان کے طلوع ان کے غروب کی کیفیات وغیرہم۔
Ayah 21:33(21:33) فلک ستاروں کا مدار۔ اسے کشتی نما ہونے کی وجہ سے فلک کہا گیا ہے۔ الفلک۔ کشتی۔
یسبحون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ تیر رہے ہیں۔ السبح کے اصل معنی پانی یا ہوا میں تیز رفتاری سے گذر جانے کے ہیں۔ استعارہ کے طور پر یہ لفظ فلک میں شمس وقمر نجوم کی گردش کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کل فی فلک یسبحون۔ سب اپنے اپنے مدار میں تیزی سے چل رہے ہیں۔ اور جگہ ارشاد ربانی ہے۔ والسبحت سبحا (79:3) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ (آسمان اور زمین کے درمیان) تیرتے پھرتے ہیں۔
Ayah 21:34(21:34) الخلد۔ خلد یخلد (نصر) خلود (مصدر) سے حاصل مصدر ہے۔ بمعنی دوام۔ بقائ۔ ہمیشگی۔
الخلود کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصل حالت پر قائم رہنے کے ہیں اور جب کسی چیز میں عرصہ دراز تک تغیروتبدل و فساد پیدا نہ ہو تو اسے خلود کے ساتھ متصف کرتے ہیں۔ مثلاً چولھے کے ان تین پتھروں کو جن پر دیگ چڑھائی جاتی ہے خوالد کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ دیر تک ایک ہی جگہ پڑے رہتے ہیں۔ اس بناء پر جس میں طویل عمر ہونے کے باوجود بڑھاپے اور کمزوری کے آثار نہ ہوں اسے مخلد کہتے ہیں۔
مت۔ مات یموت سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ افائن مت۔ تو کیا اگر، تم مرجائو یا مرگئے۔ فہم الخلدون۔ تو یہ لوگ ہمیشہ (یہاں) رہیں گے۔ مدتوں زندہ رہیں گے۔
Ayah 21:35(21:35) نبلوکم۔ نبلوا مضارع جمع متکلم بلا یبلوا (نصر) بلو وبلاء بلو۔ بلیمادہ۔ نبلوا۔ ہم آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ فتنۃ۔ آزمائش کے طور پر۔ ابتلاء مصدر ہے اس کو نبلوکم کے بعد تاکید کے لئے لایا گیا ہے (علی غیر لفظہ)
Ayah 21:36(21:36) واذا راک الذین کفروا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ الذین کفروا فعل رای کا فاعل جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ تم کو دیکھتے ہیں۔ ان یتخذونک الا ھزوا۔ ان نافیہ یتخذون مضارع جمع مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ھزوا بمعنی مھزوأ بہ (جس کا مذاق اڑایا جائے) مفعول ثانی یتخذون کا یہ جملہ اذا کے جواب میں ہے۔ نہیں سلوک کرتے تم سے مگر ایک مسخرے کا سا جس کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے یعنی جب آپ کو دیکھتے ہیں تو تمسخر کرنے لگتے ہیں۔
ا ھذا الذی یذکر الھتکم۔ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا (برائی سے) ذکر کرتا ہے۔ یہ جملہ یا تو معطوف ہے ان یتخذونک الا ھزوا جملہ پر یعنی جب یہ کافر لوگ تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے تمسخر کرنے لگتے ہیں (اور یہ کہتے ہیں) کیا یہ شخص ہے۔۔ الخ۔ یا یہ حال ہے یعنی یہ تمسخر کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ کیا یہ شخص ہے۔۔ الخ۔ یہاں یذکر وہ ذکر کرتا ہے بمعنی من وجہہ الذم ذکر کرتا ہے برائی سے ان کو یاد کرتا ہے یا ان کا ذکر کرتا ہے۔
اس معنی میں اور جگہ آیا ہے قالوا سمعنا فتی یذکرہم (21:60) انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے جو ان کا (ہمارے معبودوں کا) ذکر برائی سے کرتا ہے۔
وہم بذکر الرحمن ہم کفرون۔ یہ جملہ کلام مقدرہ کی ضمیر سے حال ہے ای انہم یعیبون علیہ ان یذکر الہتہم بالسوء والحال انہم بالقران الذی انزل رحمۃ کافرون۔ وہ آنحضرت ﷺ پر اعتراج کرتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان (باطل) کو برائی سے یاد کرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ خود قرآن سے جو سراسر رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے منکر ہیں۔
یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور اقرار توحید الٰہی بھی۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب کو دوبارہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayahs 21:37–38(21:37) خلق من عجل۔ العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت مقررہ سے پہلے طلب کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کا تعلق چونکہ انسان کی خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔ رسول کریم ﷺ کی حدیث مبارک ہے کہ :۔ العجلۃ من الشیطن۔ جلد بازی شیطان کا فعل ہے (جامع ترمذی)
اھل عرب کا محاورہ ہے کہ جو وصف کسی میں بدرجہ اتم پائی جائے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو اس سے پیدا ہوا ہے۔ مثلاً جو بڑا غصیل ہو اسے کہتے ہیں خلق من غضب۔ اس لئے خلق من عجل اس کو کہا جائے گا جو بہت جلد باز ہو۔ لہٰذا اس کے معنی ہوئے کہ انسان کی سرشت میں ہی جلد بازی ہے۔ وہ فطرتا جلد باز واقع ہوا ہے۔
لا تستعجلون۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر اصل میں لا تستعجلونی تھا یا کو گرادیا گیا۔ تم مجھ سے جلدی کا مطالبہ کا مت کرو۔ استعجال (استفعال) مصدر۔
Ayah 21:39(21:39) لا یکفون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ کف یکف (نصر) کف روکنا دفع کرنا۔ وہ نہیں روک سکیں گے۔ وہ دور نہیں کرسکیں گے۔ لو۔ حرف شرط ہے تو جواب شرط محذوف ہے۔ ای لو یعلم الذین کفروا حین لا یکفون عن وجوہم النار ولا عن ظہورہم ولاہم ینصرون لما فعلوا ما فعلوا من الاستعجال۔ اگر کافر لوگ اس وقت کو جانتے ہوتے جب یہ آگ کو نہ روک سکیں گے اپنے چہروں سے نہ اپنی پشتوں کی طرف سے اور ان کو مدد نہ پہنچ سکے گی تو وہ شتابی کی بات جو کر رہے ہیں نہ کرے۔
یا لو یہاں بطور حرف تمنا ہے۔ اس صورت میں جواب درکار نہیں ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اے کاش ان کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب یہ آگ کو نہ روک سکیں گے اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی انہیں مدد پہنچ سکے گی۔
Ayah 21:40(21:40) بل تاتیہم۔ بلکہ وہ ان کو آلے گی۔ ضمیر فاعل واحد مؤنث غائب النار کے لئے ہے یا الوعد (الموعدۃ) کے لئے یا حین (الساعۃ) کے لئے ہے۔ اول الذکر واضح ہے۔ بغتۃ۔ اچانک۔ یک دم ۔ یکایک۔
فتبھتہم۔ وہ ان کو حواس باختہ کر دے گی۔ وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔ وہ ان کو ہکا بکا کر دے گی۔ بھت یبھت (سمع) بھت مصدر۔ مضارع واحد مؤنث غائب باب کرم سے اسی معنی میں آتا ہے بھت یبھت (فتح) کسی کو اچانک پکڑ لینا۔
ولا ینظرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔