21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsجواھر القرآن

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

نزدیک آگیا لوگوں کے ان کے حساب کا وقت اور وہ بیخبر2 ٹلا رہے ہیں

2:۔ زجر مع شکوی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ” النَّاس “ سے مشرکین مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ بوقت نزول اگرچہ اس سے اشارہ مشرکین قریش کی طرف تھا۔ مگر اب یہ سب کے لیے عام ہے۔ اور حساب سے حساب آخرت مراد ہے یعنی قیامت سر پر ہے۔ مگر یہ لوگ غفلت میں وقت ضائع کر رہے ہیں اور حساب آخرت کے لیے کسی قسم کی تیاری نہیں کر رہے۔
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

کوئی نصیحت نہیں پہنچتی ان کو ان کے رب سے نئی3 مگر اس کو سنتے ہیں کھیل میں لگے ہوئے

3:۔ دنیا میں انہماک اور آخرت سے غفلت و اعراض کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی طرف سے جب کوئی نئی آیت توحید نازل ہوتی ہے تو وہ استہزاء و تمسخر کے ساتھ اسے سنتے ہیں۔ اور ان کے دل اس میں غور و فکر کرنے سے سراسر غافل ہوتے ہیں۔ محدث یعنی پہلے سے ان کی سنی ہوئی نہیں ہوتی۔ وھم یلعبون یستمعون القران مستھزئین لاھیۃ قلوبھم معرضۃ عن ذکر اللہ متشاغلۃ عن التامل والتفہم (قرطبی ج 11 ص 268) ۔
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

کھیل میں پڑے ہیں دل ان کے اور چھپا کر مصلحت کی بےانصافوں نے4 یہ شخص کون ہے5 ایک آدمی ہے تم ہی جیسا پھر کیوں پھنستے ہو اس کے جادو میں آنکھوں دیکھتے

4:۔ یعنی جب قرآن سنتے ہیں تو اس کے خلاف آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ ” الذین ظلموا “ بظاھر ” اسروا “ کا فاعل معلوم ہوتا ہے۔ مگر قاعدہ کے مطابق فاعل ظاہر جمع کے لیے فعل مفرد آنا چاہئے تھا۔ مفسرین اور ائمہ نحو نے اس کے بہت سے جواب دئیے ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ موصول ” اسروا “ کا فاعل نہیں بلکہ (1) ” اسروا “ کی ضمیر ” الناس “ کی طرف راجع ہے اور ” الذین ظلموا “ اس سے بدل ہے (2) الذین کا فعل یقول اس سے پہلے محذوف ہے (3) الذین سے پہلے فعل اعنی محذوف ہے اور یہ اس کا مفعول ہے۔ (4) یہ مجرور ہے۔ اور مع صلہ الناس کی صفت ہے۔ یا اسروا کی واو علامت جمع ہے۔ علامت فاعل نہیں (من القرطبی والبحر وغیرہما) ۔ 5:۔ یہ مشرکین کا بہت بڑا اعتراض تھا۔ کہ یہ پیغمبر تو ہماری طرح بشر اور انسان ہے ہم اسے اللہ کا رسول کیوں مانیں۔ پیغمبر تو کوئی فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ ” اَفَتَاتُوْنَ السِّحْرَ الخ “ اور پھر بشر اور آدمی بھی وہ جو (معاذ اللہ) جادوگر ہے تو کیا تم عقلمند ہو کر اس کی باتیں مانو گے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہوسکتا۔ بلکہ رسول فرشتہ ہوتا ہے اور جو بشر ہو کر رسالت کا دعوی کرے اور معجزہ دکھائے وہ جادوگر ہوتا ہے۔ وکانوا یعقدون ان الرسول من عنداللہ لا یکون الا ملکا وان کل من ادعی الرسالۃ من البشر وجاء بمعجزۃ فھو ساحر و معجزتہ سحر (بحر ج ص 297) ۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

اس نے کہا میرے رب کو خبر ہے بات کی آسمان میں ہو یا زمین میں6 اور وہ ہے سننے والا جاننے والا

6:۔ یہ سورت کا دعویٰ ہے۔ یعنی زمین و آسمان کے تمام غیوب صرف اللہ ہی جانتا ہے اور سب کچھ سننے والا بھی وہی ہے اور کوئی نہیں، لہذا فریاد رس، کارساز اور متصرف و مختار بھی وہی ہے اور کوئی نہیں لہذا تمہارے معبود کچھ نہیں کرسکتے۔حضور ﷺ کے اس اعلان سے برا افروختہ ہو کر انہوں نے آپ کو جادوگر وغیرہ کہنا شروع کردیا۔ فیہ رد علیھم فی قولھم ھل ھذا الا بشر مثلکم (قرطبی ج 11 ص 271) ۔
Ayahs 21:5–6

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

اس کو چھوڑ کر کہتے ہیں بیہودہ خواب ہیں7 نہیں، جھوٹ باندھ لیا ہے نہیں، شعر کہتا ہے پھر چاہیے لے آئے ہمارے پاس8 کوئی نشانی، جیسے پیغام لے کر آئے ہیں پہلے

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

نہیں مانا ان سے پہلے کسی بستی نے جن کو غارت کردیا ہم نے کیا اب یہ مان لیں گے

7:۔ باطل کی راہیں بیشمار ہیں۔ اس لیے باطل پرست ہمیشہ حیران اور مضطرب رہتا ہے اور اسے کسی ایک بات پر ثبات نصیب نہیں ہوتا۔ مشرکین کبھی تو کہتے کہ یہ پیغمبر جادوگر ہے اور کبھی اس سے ترقی کر کے کہتے۔ بلکہ ویسے ہی بےتکی اور لا یعنی باتیں کہتا ہے۔ ” بَلِ افْتَراہُ “ بلکہ وہ خدا پر افترا اور بہتان باندھ رہا ہے۔ ” بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ“ بلکہ ایسا بھی نہیں۔ یہ سب شاعرانہ تخیلات ہیں۔ جنہیں وہ فصیح وبلیغ زبان میں ڈھاک کر بیان کرتا ہے۔ یہ تمام باتیں مشرکین نے محض اس دعوے کی ضد سے کہیں جو ” رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَاءِ وَ الْاَرْضِ “ میں پیش کیا گیا۔ 8:۔ مشرکین کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ عصائے موسیٰ اور ناقہ صالح کی قسم کے معجزات ان کو دکھائے جائیں۔ ” مَا اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ الخ “ تخویف دنیوی اور مطالبہ مشرکین کا جواب ہے۔ یعنی عصائے موسیٰ اور ناقہ صالح جیسے معجزے دیکھنے والے ایمان نہ لائے اور آخر ہلاک کردئیے گئے۔ اگر مشرکین مکہ کو ان کے منہ مانگے معجزے دکھا دئیے جاتے تو وہ ایمان لے آتے ؟ ہرگز نہیں بلکہ انکار کردیتے۔ اوراقوام سابقہ کی طرح ہلاک کردئیے جاتے۔ والمعنی ان اھل القری اقترحوا علی انبیائھم الایات وعاھدوا انھم یومنون عندھا فلما جاء تھم نکثوا وخالفوا فاھلکھم اللہ فلو اعطیت ھؤلاء ما یقترحون لنکثوا ایضاً (مدارک ج 3 ص 56) ۔
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور پیغام نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے9 مگر یہی مردوں کے ہاتھ وحی بھیجتے تھے ہم ان کو سو پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے اگر تم نہیں جانتے

9:۔ یہ مشرکین کے پہلے سوال کا جواب ہے جو ” ھَلْ ھٰذَا اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ الخ “ میں مذکور ہوچکا ہے۔ فیہ رد علیھم فی قولھم ھل ھذا الا بشر مثلکم (قرطبی ج 11 ص 171) ۔ یعنی ہم نے انسانوں کی طرف جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ انسان اور بشر ہی تھے۔ ان میں کوئی ایک بھی فرشتہ نہیں تھا اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے علم وفضل پر تمہیں اعتماد ہے اہل الذکر سے اہل کتاب (یہود و نصاری) کے علماء مراد ہیں مشرکین کو اہل کتاب کی طرف اس لیے مراجعت کا حکم دیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں اکثر ان سے مراجعت کیا کرتے تھے۔
Ayahs 21:8–9

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان کے ایسے بدن کہ وہ کھانا نہ کھائیں10 اور نہ تھے وہ ہمیشہ رہ جانے والے

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر سچا کردیا ہم نے ان سے وعدہ سو بچا دیا ان کو اور جس کو ہم نے چاہا اور غارت کردیا حد سے نکلنے والوں کو

10:۔ یہ مشرکین کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے اعتراض یہ تھا کہ یہ بھلا رسول ہے۔ ہماری طرح کھاتا پیتا ہے۔ جیسا کہ الفرقان رکوع 1 میں ان کا قول منقول ہے۔ ” مَالِ ھٰذَ الرَّسُوْلُ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ “ تو اس کا جواب دیا کہ جب انبیاء ورسل انسان اور آدمی تھے۔ تو وہ لامحالہ کھاتے پیتے بھی تھے۔ کھانا پینا بشر کو لازم ہے۔ وہ اس سے کس طرح مستثنی ہوسکتے ہیں۔ ” وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ “ یہ مشرکین کے تیسرے اعتراض کا جواب ہے کہ یہ دنیا میں رہے گا نہیں بلکہ فوت ہوجائے گا تو جواب دیا کہ پہلے انبیاء بھی ہمیشہ نہیں رہے۔ بلکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو اس وقت آسمانوں میں زندہ موجود ہیں وہ بھی ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ موت ان کے لیے بھی مقدر ہے۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے اتاری ہے تمہاری طرف کتاب کہ اس میں تمہارا ذکر ہے کیا تم سمجھتے نہیں11

11:۔ یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ” ذکر “ سے مسئلہ توحید، دیگر امور دین اور احکام شریعت کا ذکر مراد ہے۔ ای ذکر دینکم و احکام شرعکم الخ (قرطبی ج 11 ص 273) ۔
Ayahs 21:11–13

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور کتنی پیس ڈالیں ہم نے بستیاں جو تھیں گنہ گار12 اور اٹھا کھڑے کیے ان کے پیچھے اور لوگ

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پھر جب آہٹ پائی انہوں نے ہماری آفت کی، تب لگے وہاں سے ایڑ کرنے

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

ایڑ مت کرو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں شاید کوئی تم کو پوچھے

12:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” قَصَمْنَا اي اھلکنا “ یعنی ہلاک کردیا ہم نے۔ ” ظالمة “ یعنی شرک کرنے والی۔ ” فَلَمَّا اَحَسُّوْا بَاسَنَا “ ان قوموں کے پاس ہمارے پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کی پرواہ نہ کی اور ان کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کردیا۔ پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو لگے بھاگنے۔ ” لَاتَرْکُضُوْا الخ “ ہم نے کہا اب بھاگو مت۔ بلکہ اپنے اموال و اولاد، باغات اور محلات کی طرف واپس آؤ۔ تاکہ آج جو کچھ تم پر گذرے گا۔ اس کے بارے میں کل تم سے پوچھا جائے گا اور تم اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کرسکو۔ یہ ان سے بطور استہزاء کہا گیا۔ لعلکم تسئلون غدا عما جری علیکم ونزل باموالکم فتجیبوا السائل عن علم ومشاھدۃ (مدارک ج 3 ص 57) ۔
Ayahs 21:14–15

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے خرابی ہماری ہم تھے بیشک گنہگار13

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

پھر برابر یہی رہی ان کی فریاد یہاں تک کہ ڈھیر کردیے گئے کاٹ کر بجھے پڑے ہوئے

13:۔ جب عذاب خداوندی آپہنچا تو لگے اقرار کرنے کے بیشک ہم ظالم و مشرک تھے۔ ” فَمَا زَالَتْ تِّلْکَ دَعْوٰھُمْ “ وہ اس طرح فریاد کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ہمارے عذاب نے ان کا ستیاناس کرکے ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔
Ayahs 21:16–18

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو14 اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے کھیلتے ہوئے

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ بنالیں کچھ کھلونا تو بنا لیتے ہم اپنے پاس سے اگر ہم کو کرنا ہوتا

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

یوں نہیں پر ہم پھینک مارتے ہیں سچ کو جھوٹ پر پھر وہ اس کا سر پھوڑ ڈالتا ہے پھر وہ جاتا رہتا ہے اور تمہارے لیے خرابی ہے ان باتوں سے جو تم بتلاتے ہو

14:۔ توحید پر عقلی دلائل :۔ اس سورت میں توحید پر تین عقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو یونہی بےمقصد اور کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا اگر یہ سب کچھ محض کھیل ہوتا تو ہم اسے اپنے پاس رکھتے اور کسی کو اس کا علم تک نہ ہونے دیتے۔ اور نہ کسی کو دکھاتے۔ بلکہ ہم نے یہ ساری کائنات اظہار حق اور توحید پر استدلال کے لیے پیدا کی تاکہ بندے اس سے ہماری وحدانیت پر استدلال کرسکیں اور حق (توحید اور دین اسلام) باطل (کفر و شرک) پر غالب آسکے اس کائنات میں بندوں کے لیے عبرت و موعظت ہے کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا فرمایا۔ اور جن بندگانِ خدا کو تم نے خدا کے یہاں اپنے سفارشی بنا رکھا ہے۔ وہ ہرگز عبادت اور پکار کے مستحق نہیں ہیں۔ ” وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ “ غیر اللہ کو عالم الغیب اور حاجت روا سمجھ کر غائبانہ پکارنے کی وجہ سے تمہارے لیے ہلاکت دینا ہی ہے۔
Ayahs 21:19–20

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں اور جو اس کے نزدیک رہتے ہیں سرکشی نہیں کرتے اس کی عبادت سے اور نہیں کرتے کاہلی15

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

یاد کرتے ہیں رات اور دن نہیں تھکتے

15:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ہر چیز اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وَ مِنْ عِنْدَهٗ “ سے فرشتے مراد ہیں۔ فرشتے جن کو مشرکین خدا کے یہاں اپنے شفیع سمجھتے ہیں۔ ان کی بندگی، بیچارگی اور عاجزی کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی عبادت و اطاعت میں لگے رہتے ہیں اور دن رات اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ وہ نہ تھکتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔ بھلا جو خود خدا کے سامنے اس قدر عاجز اور اس کے احکام کے پابند ہیں وہ کس طرح اس کی اجازت کے بغیر زبان شفاعت کھول سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے تصرف و اختیار میں کیونکر دخیل ہونے کی جرات کرسکتے ہیں ای ولہ تعالیٰ خاصۃ جمیع المخلوقات خلقا وملکا و تدبیرا وتصرفا واحیاء واماتۃ و تعذیبا واثابۃ من غیر ان کون لاحد فی ذلک دخل ما استقلالا واستتباعا الخ (روح ج 17 ص 20) ۔
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اور معبود16 زمین میں کے کہ وہ جِلا اٹھائیں گے ان کو

16:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ فرشتوں کی الوہیت کی نفی تو ان کی عاجزی اور بےچارگی سے واضح ہوگئی تو کیا ان مشرکین نے زمین والوں میں سے اپنے معبود بنا رکھے ہیں۔ جو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے اٹھائیں گے۔ غرض یہ ہے کہ جس طرح ان کے آسمانی اور نوری خود ساختہ معبود عاجز و درماندہ ہیں اسی طرح ان کے زمینی اور خاکی معبودوں کا بھی یہی حال ہے۔ حالانکہ معبود صرف وہی ذات ہوسکتی ہے، جو قادر علی الاطلاق ہو۔ لان العاجز عنہ لا یصح ان یکون الھا اذ لا یستحق ھذا الاسم الا القادر علی کل مقدور و الانشار من جملۃ المقدورات (مدارک ج 3 ص 58) ۔
Ayahs 21:22–23

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر ہوتے ان دونوں میں اور معبود سوائے اللہ کے17 تو دونوں خراب ہوجاتے سو پاک ہے اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ بتلاتے ہیں

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

اس سے پوچھا نہ جائے گا جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جائے

17:۔ مذکورہ بالا عقلی دلیلوں سے ثابت ہوگیا کہ اللہ کے سوا نہ آسمان میں کوئی الہ (معبود) ہے نہ زمین میں۔ اگر بالفرض زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کچھ اور بھی معبود ہوتے۔ جیسے مشرکین مانتے ہیں یعنی وہ بھی فی الواقع مالک و مختار اور متصرف و کارساز ہوتے تو یہ سارا نظام عالم ایک آن کے لیے بھی سلامت نہ رہ سکتا۔ اور فورًا درہم برہم ہوجاتا۔ ” لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْئَلُوْنَ “ وہ بلا شرکت غیرے ساری کائنات کا واحد مالک، قادر مطلق اور متصرف و مختار ہے۔ اس پر کسی کو سوال اور اعتراض کا حق نہیں۔ لیکن وہ اپنی مخلوق سے جواب طلبی کا حق رکھتا ہے۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اس سے ورے اور معبود18 تو کہہ لاؤ اپنی سند19 یہی بات ہے میرے ساتھ والوں کی اور یہی بات ہے مجھ سے پہلوں کی کوئی نہیں، پر وہ بہت لوگ نہیں سمجھتے سچی بات سو ٹلا رہے ہیں

18:۔ اعادہ بوجہ بعد عہد برائے مطالبہ دلائل از مشرکین۔ 19:۔ بطور معارضہ مشرکین سے ان کے مدعی پر دلائل کا مطالبہ کیا گیا۔ مدعی پر تین قسم کی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں عقلی، نقلی اور وحی اس لیے مطالبہ کیا گیا۔ اپنے دعوے پر ان دلائل میں سے کوئی ایک ہی دلیل لے آؤ۔ لیکن یاد رکھو۔ ان میں سے کوئی پیش نہیں کرسکوگے۔ کیونکہ عقل تو دعوائے توحید کی مؤید ہے۔ جیسا کہ ابھی دو عقلی دلیلوں سے ثابت ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی مالک و لارساز، متصرف و مختار اور عالم الغیب نہیں۔ اچھا عقلی دلیل نہ سہی۔ انبیاء سابقین میں سے کوئی نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ مگر یہ بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) تو توحید کے داعی و مبلغ تھے۔ جیسا کہ آگے فرمایا۔ ” وَ مَا اَرْسَلْنَاکَ مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ الخ “ علی ہذا دلیل وحی سے بھی مسئلہ توحید ہی کی تائید ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورت کے آخر میں فرمایا ” قُلْ اِنَّمَا یُوْحیٰ اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ “۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول مگر اس کو یہی حکم بھیجا کہ بات یوں ہے20 کہ کسی کی بندگی نہیں سوائے میرے سو میری بندگی کرو

20:۔ یہ توحید پر تمام انبیاء (علیہم السلام) سے دلیل نقلی اجمالی ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اسی مسئلہ توحید کے مبلغ تھے۔ ان کے بعد ناخلف اور گمراہ لوگوں نے شرک پھیلایا۔
Ayahs 21:26–28

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں رحمان نے کرلیا کسی کو بیٹا وہ ہرگز اس لائق نہیں21 لیکن وہ بندے ہیں جن کو عزت دی ہے

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر نہیں بول سکتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

اس کو معلوم ہے جو ان کے آگے ہے اور پیچھے اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اس کی جس سے اللہ راضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں

21:۔ یہ شکوی ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اسی مسئلہ توحید کے مبلغ تھے ان کے بعد ناخلف اور گمراہ لوگوں نے شرک پھیلایا۔ انبیاء (علیہم السلام) تو مسئلہ توحید کو خوب واضح کرتے رہے لیکن اس کے باوجود مشرکین نے خود ساختہ کارساز بنا لیے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ جواب مذکور ہیں۔ جواب اول ” سُبْحٰنَهٗ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلندو برتر اور اعلیٰ وارفع ہے۔ کہ اس کی عاجز و بےبس مخلوق میں سے کوئی اس کا ولد اور نائب ہو۔ جواب ثانی ” بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ الخ “ فرشتوں کو اللہ کا ولد اور اس کے کارخانہ عالم میں دخیل سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کے باعزت بندے ہیں۔ جواب ثالث ” لَایَسْبِقُوْنَهٗ الخ “ وہ اس کے سامنے ہر وقت ترساں و لرزاں رہتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر بات بھی نہیں کرسکتے۔ جواب رابع ” وَھُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ الخ “ وہ اللہ تعالیٰ کے پورے پورے فرمانبردار ہیں۔ جواب خامس ” یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ “ سب کچھ جاننے والا صرف اللہ ہی ہے۔ فرشتے نہیں۔ جواب سادس و سابع ” لَا یَشْفَعُوْنَ الخ “ وہ ہر وقت اللہ کی ہیبت کے سامنے خائف رہتے ہیں اور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکیں گے۔ ” اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰے “ اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے حق میں فرشتوں کو شفاعت کی اجازت ہوگی۔ مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں اور توحید پر قائم رہیں اور شفاعت سے آخرت کی شفاعت مراد ہے اور اگر دنیا میں شفاعت مراد ہو تو اس کا مطلب استغفار ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عن ابن عباس من قال لا الہ الا اللہ و شفاعتہم الاستغفار (روح ج 17 ص 33) وفی الدنیا ایجا فانھم یستغفرون للمؤمنین الخ (قرطبی ج 11 ص 281) ۔
Ayahs 21:29–32

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو کوئی ان میں کہے22 کہ میری بندگی ہے اس سے ورے، سو اس کو ہم بدلہ دیں گے دوزخ یونہی ہم بدلہ دیتے ہیں بےانصافوں کو

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

اور کیا نہیں دیکھا ان منکروں نےکہ آسمان اور زمین منہ بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا اور بنائی ہم نے پانی سے ہر ایک چیز جس میں جان ہے پھر کیا یقین نہیں کرتے

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور رکھ دیے ہم نے زمین میں بھاری بوجھ کبھی ان کو لے کر جھک پڑے اور رکھیں اس میں کشادہ راہیں تاکہ وہ راہ پائیں

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ آسمان کی نشانیوں کو دھیان میں نہیں لاتے

22:۔ یہ جواب شکوی کی تمام شقوں پر متفرع ہے۔ یعنی فرشتے تو اللہ کے باعزت لیکن عاجز اور فرمانبردار بندے ہیں۔ وہ اس لائق نہیں کہ نظام کائنات میں دخیل ہوں یا عبادت اور پکار کے مستحق ہوں۔ بلکہ ان کا کام تو یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی اطاعت و عبادت میں مصروف رہیں۔ لیکن اگر بہ فرض محال ان میں سے کوئی الوہیت کا دعوی کر بیٹھے اور اپنی عبادت اور پکار کی طرف دعوت دینے لگے تو ہم اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے بلکہ جہنم کے سخت عذاب میں مبتلا کردیں گے جو ظالموں اور باغیوں کی سزا ہے۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہ ہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند سب اپنے اپنے گھر میں پھرتے ہیں23

23:۔ ” اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ تا ” کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ “ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ ” کَانَتَا رَتْقًا “ یعنی زمین و آسمان موجود نہ تھے۔ بلکہ حالت عدم میں تھے۔ ” فَفَتَقْنٰھُمَا “ تو ہم نے ان کو از سر نو پیدا کیا۔ فمعنی الایۃ الم یعلموا ان السموت والارض کانتا معدومتین فاوجدناھما (روح ج 17 ص 34) ۔ زمین و آسمان کو عالم نیست سے عالم ہست میں لانا زمین میں پہاڑوں اور شاہراہوں کا پیدا کرنا آسمان کو ستونوں کے بغیر سہارا دینا، دن رات اور سورج چاند کی پیدائش غرضیکہ پورا نظام شمسی جس تکنیک اور کمال صنعت سے پیدا کیا گیا ہے اور نظام شمسی کے تمام احوال کوائف کی موزونیت خداوند تعالیٰ کی توحید پر اٹل عقلی دلیل ہے۔
Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور نہیں دیا ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا پھر کیا اگر تو مرگیا24 تو وہ رہ جائیں گے

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جی کو چکھنی ہے موت اور ہم تم کو جانچتے ہیں برائی سے اور بھلائی سے آزمانے کو اور ہماری طرف پھر کر آجاؤ گے

24:۔ یہ مشرکین کے لیے زجر اور تیسرے سوال کے جواب کا اعادہ ہے ” کُلُّ نَفْسٍ الخ “ یہ ماقبل کی دلیل اور برہان ہے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جہاں تجھ کو دیکھا منکروں نے25 تو کوئی کام نہیں ان کو تجھ سے مگر ٹھٹھا کرنا کیا یہی شخص ہے جو نام لیتا ہے تمہارے معبودوں کا اور وہ رحمان کے نام سے منکر ہیں

25:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ جوحضور ﷺ کو دیکھ کر آپ سے استہزاء کرتے اور حقارت آمیز لہجہ میں کہتے تھے۔ یہ ہے وہ جو تمہارے معبودوں کی توہین اور بےادبی کرتا ہے ” وَ ھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ “ خدا کا پیغمبر تو ان کے جھوٹے معبودوں کو نہیں مانتا اور صاف اعلان کرتا ہے کہ وہ حاجت روا، مشکل کشا، غیب داں اور متصرف و کارساز نہیں مگر یہ ظالم تو خدائے رحمان کی توحید کا انکار کرتے ہیں۔
Ayahs 21:37–38

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

بنا ہے آدمی جلدی کا26 اب دکھلاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں، سو مجھ سے جلدی مت کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

26:۔ زجر ہے انسان کیسا جلد باز ہے کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود توحید کو ماننے کے بجائے شرک کی طرف دوڑتا ہے۔ ” سَاُرِیْکُمْ اٰیٰتِیْ “ الخ تخویف دنیوی۔
Ayahs 21:39–40

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اگر جان لیں یہ منکر27 اس وقت کو کہ نہ روک سکیں گے اپنے منہ سے آگ اور نہ اپنی پیٹھ سے اور نہ ان کو مدد پہنچے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

کچھ نہیں وہ آئے گی ان پر ناگہاں پھر ان کے ہوش کھو دے گی پھر نہ پھیر سکیں گے اس کو اور نہ ان کو فرصت ملے گی

27:۔ شکوی ” لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ “ تا ” وَ لَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ “ جواب شکوی مع تخویف اخروی مشرکین ماننے کے بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن نادانوں کو پتہ نہیں لیکن نادانوں کو پتہ نہیں جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو وہ اپنے کو اس سے ہرگز نہیں بچا سکیں گے۔ ” فَتَبْھَتُھُمْ “ ان کو حواس باختہ اور حیران و پریشان کردے گی۔ قال الفراء (فَتَبْھَتُھُمْ ) ای تحیرھم (قرطبی ج 11 ص 290) ۔