21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsجواھر القرآن

Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور ٹھٹھے ہوچکے ہیں28 رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر الٹ پڑی ٹھٹھا کرنے والوں پر ان میں سے وہ چیز جس کا ٹھٹھا کرتے تھے

28:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ یعنی آپ مشرکین کے استہزاء و سخریہ سے دل برداشتہ نہ ہوں ایسے ایسے بد قماش لوگوں کا ہمیشہ اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ یہی وطیرہ رہا ہے۔ لیکن آخر کار ان کو اپنی بدکرداری کی سخت سزا ملی۔ اور وہ دنیا ہی میں ذلیل و رسوا ہوئے۔ آپ کے دشمنوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔
Ayahs 21:42–43

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

تو کہہ کون نگہبانی کرتا ہے تمہاری رات میں29 اور دن میں رحمان سے کوئی نہیں وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

یا ان کے واسطے کوئی معبود ہیں کہ ان کو بچاتے ہیں ہمارے سوا وہ اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے اور نہ ان کی ہماری طرف سے رفاقت ہو

29:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ رات دن میں آنے والی مصائب سے تمہیں اللہ ہی محفوط رکھتا ہے اگر وہ چاہے تو تمہارے انکار وعناد پر تمہیں فورًا پکڑ لے۔ ” بَلْ ھُمْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّھِمْ مُّعْرِضُوْنَ “ زجر ہے۔ ” اَمْ لَھُمْ اٰلِھَةٌ“ یہ بھی زجر ہے۔ فرمایا دن رات میں حوادث روزگار سے انہیں اللہ کے سوا کون بچاتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا ان کے معبودان باطلہ ان کی حفاظت کرسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنی مدد سے بھی عاجز و درماندہ ہیں۔
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

کوئی نہیں پر ہم نے عیش دیا ان کو اور ان کے باپ داؤد کو یہاں تک کہ بڑھ گئی ان پر زندگی پھر کیا نہیں دیکھتے30 کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے اس کے کناروں سے اب کیا وہ جیتنے والے ہیں

30: تخویف دنیوی۔ کیا مشرکین اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کے مقبوضہ علاقے ان سے لے کر مسلمانوں کو قبضے میں دیتے اور ان کو ان پر مسلط کرتے جا رہے ہیں ؟ کیا اب بھی ان کو امید ہے کہ وہ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرسکیں گے۔ ؟ افلا یری ھؤلاء المشرکون اثار قدرتنا فی اتیان الارض من جو انبہا باخذ الواحد بعد الواحد و فتح البلاد والقری مما حول مکۃ وادخالھا فی ملک محمد ﷺ (خازن ج 4 ص 240) ۔
Ayahs 21:45–46

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

تو کہہ میں جو تم کو ڈراتا ہوں31 سو حکم کے موافق اور سنتے نہیں بہرے پکارنے کو جب کوئی ان کو ڈر کی بات سنائے

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور کہیں پہنچ جائے ان تک ایک بھاپ تیرے رب کے عذاب کی تو ضرور کہنے لگیں ہائے کم بختی ہماری بیشک ہم تھے گنہ گار

31:۔ مشرکین عذاب اور قیامت کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ میں وحی کے ذریعہ اسی عذاب اور قیامت سے تم کو ڈراتا ہوں۔ تاکہ تم ان کے لیے کچھ تیاری کرلو۔ مگر یہ لوگ ایسے بہرے بن چکے ہیں کہ جب انہیں عذاب الٰہی اور اہوال قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ داعی کی آواز کو سن ہی نہیں پاتے۔ ” وَلَئِنْ مَّسَّتْھُمْ “ لیکن وہ جب عذاب موعود میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو چلا اٹھتے ہیں اے کاش ! ظالم ہم ہی تھے۔ اب اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں مگر بےفائدہ۔ اخبر تعالیٰ ان ھؤلاء الذین صموا عن سماع ما انذروا بہ اذا ناالھم شیء مما انذروا بہ ولو کان یسیرا نادوا بالھلاک واقروا بانہم کانوا ظلمین (بحر ج 6 ص 316) ۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور رکھیں گے ہم ترازوئیں انصاف کی32 قیامت کے دن پھر ظلم نہ ہوگا کسی جی پر ایک ذرہ اور اگر ہوگا برابر رائی کے دانہ کے تو ہم لے آئیں گے اس کو اور ہم کافی ہیں حساب کرنے کو

32:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayahs 21:48–49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے دی تھی33 موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو قضیئے چکانے والی کتاب اور روشنی اور نصیحت ڈرنے والوں کو

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور وہ قیامت کا خطرہ رکھتے ہیں

33:۔ یہاں سے دلائل نقلیہ تفصیلیہ کا بیان شروع ہوتا ہے ان دلائل کا حاصل یہ ہے کہ بیشک ان انبیاء (علیہم السلام) سے خارق عادت امور کا اظہار ہوتا رہا۔ لیکن وہ متصرف فی الامور نہیں تھے۔ اور نہ کچھ ان کے قبضہ قدرت میں تھا۔ یہ پہلی تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے یعنی ہم نے موسیٰ و ہارون کو جو کتاب (تورات) دی تھی اس میں حق و باطل اور توحید و شرک کا واضح امتیاز تھا اور وہ کتاب نور توحید اور ذکر ہدایت سے لبریز تھی۔ اس کتاب کا بھی یہی دعوی تھا کہ اللہ تعالٰ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں اس لیے صرف اللہ ہی کو پکارو۔ اور یہی دعوی قرآن کا ہے اس لیے آگے بڑھو اور اسے مان لو۔ ضیاء اور ذکر سے مراد تورات ہے یا فرقان سے مراد معجزات ہیں۔ والاول ارجح۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ ایک نصیحت ہے34 برکت کی جو ہم نے اتاری سو کیا تم اس کو نہیں مانتے

34:۔ ترغیب الی القرآن ہے۔ یہ برکت والا ذکر یعنی قرآن بھی وہی دعوائے توحید پیش کررہا ہے جو کتب سابقہ نے پیش کیا پھر اس کا انکار کیوں ؟
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور آگے دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی نیک راہ35 اور ہم رکھتے ہیں اس کی خبر

35:۔ دلیل عقلی تفصیلی دوم از حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ ابراہیم علیہالسلام کو راہ ہدایت ہم ہی نے دکھائی۔ ” وَکُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَ “ اور ہم ہی اس کو جانتے تھے۔ یعنی دیکھو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو جد الانبیاء ہیں وہ بھی اپنے باپ اور اپنی قوم کو غیر اللہ کی پکار اور عبادت سے روکتے رہے۔ ” مِنْ قَبْلُ “ یہ ظرف مبنی علی الضم ہے اس کا مضاف الیہ محذوف منوی ہے ای من قبل النبوۃ (بحر ج 6 ص 320) ۔
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب کہا اس نے اپنے باپ کو36 اور اپنی قوم کو یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو

36:۔ اِذْ ، قالوا موخر سے متعلق ہے۔ اور اذکر مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ التماثیل، تمثال کی جمع ہے۔ تمثال اس مصنوعی چیز کو کہا جاتا ہے جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کے مشابہ بنائی جائے۔ مشرکین نے انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام اور ستاروں کی شکلوں پر بت بنا کر عبادت خانہ میں نصب کر رکھے تھے۔ انہی کی طرف اشارہ کر کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے سوال کیا کہ یہ مورتیاں کیسی ہیں جن کی عبادت پر تم جمے بیٹھے ہو۔ التمثال موضوع للشی المصنوع مشبھا بخلق من خلق اللہ (قرطبی ج 11 ص 296) ۔ ان القوم کانوا عباد اصنام علی صور مخصوصۃ کصورۃ الانسان او غیرہ الخ (کبیر ج 6 ص 160) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اس سوال سے مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مشرکین کسی شبہ کی وجہ سے ان مورتیوں کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں اور جب وہ اعتراف کرلیں گے کہ تقلید آباء کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تو انہیں یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ تمہارا یہ فعل سراسر گمراہی ہے۔
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

بولے ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو37 انہی کی پوجا کرتے

37:۔ مشرکین نے صاف اقرار کرلیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل تو ہے نہیں بس انہوں نے اپنے باپ دادا کو ان تماثیل کی عبادت کرتے دیکھا اس لیے وہ بھی ان کی اندھی تقلید کرتے ہوئے ایسا کر رہے ہیں۔
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

بولا مقرر رہے تم38 اور تمہارے باپ دادے صریح گمراہی میں

38:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم اور تمہارے آباء و اجداد صریح گمراہی میں تھے۔ کیونکہ تمہارے پاس کوئی معقول دلیل نہیں تم محض خواہش نفسانی اور فریب شیطانی کے متبع ہو۔
Ayahs 21:55–56

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

بولے تو ہمارے پاس لایا ہے سچی بات یا تو کھلاڑیاں کرتا ہے39

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

بولا نہیں رب تمہارا وہی ہے رب آسمان اور زمین کا جس نے ان کو بنایا اور میں اسی بات کا قائل ہوں

39:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سن کر قوم کے مشرک بولے تم سچ کہہ رہے ہو یا یونہی ہنسی مذاق کر رہے ہو ” قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ الخ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا ہنسی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ غیر اللہ کی عبادت اور پکار کی وجہ سے تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ داد بھی گمراہ تھے۔ جن کو تم پکارتے ہو وہ عاجز و بےبس ہیں اور متصرف و مختار نہیں ہیں مالک و مختار اور متصرف و کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے لہذا عبادت اور پکار کا مستحق بھی وہی ہے اور کوئی نہیں اور اس دعویٰ پر میرے پاس دلیل وحجت موجود ہے اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں دلیل و حجت سے کہہ رہا ہوں۔ المعنی ابین بالدلیل ما اقول (قرطبی ) ۔
Ayahs 21:57–58

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور قسم اللہ کی میں علاج کروں گا تمہارے بتوں کا جب تم جا چکو گے پیٹھ پھیر کر40

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر کر ڈالا ان کو ٹکڑے ٹکڑے مگر ایک بڑا ان کا کہ شاید اس کی طرف رجوع کریں

40:۔ ” وَ تَاللّٰهِ لَاَکِیْدَنَّ الخ “ حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ قوم نے ان ٹھوس عقلی دلائل سے کوئی اثر نہیں لیا تو اب ایک نہایت موثر اور محسوس طریقہ سے ان کے معبودان باطلہ کی بےچارگی کو واضح کرنے کی ایک نئی اسکیم سوچی چناچہ دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا کہ تم اپنے میلے پر تو جاؤ پھر دیکھنا میں تمہارے معبودوں کی کیا گت بناتا ہوں ” فَجَعَلَھُمْ جُذَاذًا “ جب مشرکین اپنے تہوار میں شریک ہونے کے لیے شہر سے باہر چلے گئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمام مورتیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ تاکہ جب مشرکین واپس آ کر سارا ماجرا دیکھیں تو بڑے بت کی طرف رجوع کریں اور اس سے پوچھیں کہ حضرت یہ کیا ماجرا ہے کہ یہ حضرات سب کے سب ٹوٹے پڑے ہیں مگر آپ صحیح و سلامت براجمان ہیں اور کلہاڑا آپ کے کندھے پر ہے ان المعنی یرجعون الیہ کما یرجع الی العالم فی حل المشکلات فیقولون ما لھؤلاء مکسورۃ ومالک صحیحا والف اس علی عاتقک (کبیرج 162) ۔ اس سے مقصود الزام حجت تھا۔
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے کس نے41 کیا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ وہ تو کوئی بےانصاف ہے

41:۔ ” قَالُوْا مَنْ فَعَلَ الخ “ مشرکین جب عید منا کر واپس آئے تو حسب دستور اپنے معبودوں کو نذرانہ سجود پیش کرنے کے لیے عبادت خانہ میں داخل ہوئے تو معبودوں کو ناگفتہ بہ حالت میں دیکھ کر سخت برہم ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے ہمارے معبودوں سے یہ حرکت جس نے بھی کی ہے اس نے بڑا ظلم کیا ہے۔
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے سنا42 ہے ایک جوان بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے، اس کو کہتے ہیں ابراہیم

42:۔ ” قَالُوْا سَمِعْنَا الخ “ ان میں سے بعض نے کہا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان ہے وہ ان کا ذکر کر رہا تھا یہ اسی کی حرکت معلوم ہوتی ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ ” یذکرھم “ کا مطلب یہ ہے کہ ایک نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے ہر وقت ہمارے ان معبودوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور ان کی توہین کرتا رہتا ہے اور ہمیشہ کہتا رہتا ہے کہ یہ عبادت اور پکار کے لائق نہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اس لیے اندازہ یہی ہے کہ سب کچھ اسی نے کیا ہوگا بہت سے مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے ” سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُھُمْ “ یعیبھم فلعلہ الذی فعل ذلک بھم (روح ج 17 ص 63) ۔
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ بولے اس کو لے آؤ لوگوں43 کے سامنے شاید وہ دیکھیں

43:۔ ” قَالُوْا فَاتُوْا الخ “ اب مشرکین نے کہا تو پھر اس (ابراہیم علیہ السلام) کو لوگوں کے روبرو لاؤ۔ تاکہ سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ہم اسے کس قدر عبرتناک سزا دیتے ہیں۔ ای یحضرون عقبوتنا لہ (مدارک ج 3 ص 36) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم کو سر عام حاضر کرو تاکہ کچھ اور لوگ بھی اس کے خلاف شہادت دیں۔ انھم کرھوا ان یاخذوہ بغیر بینۃ فارادوا ان یجیئوا بہ علی اعین الناس لعلھم یشھدون علیہ بما قالہ فیکون حجۃ علیہ بما فعل وھذا قول الھسن وقتادۃ والسدی وعطا وابن عباس (ج 6 ص 163) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اس واقعہ سے یہی مقصد تھا کہ جب یہ معاملہ ان تماثیل کے تمام پجاریوں کے علم میں آئے اور ان سب کے سامنے پیش ہو اس وقت وہ ان کی جہالت اور بےوقوفی ظاہر کریں اور ان کے سامنے برملا ان کے معبودوں کی بےچارگی اور بےبسی کو واضح کرسکیں اور اس حقیقت کا اعلان کرسکیں کہ جن معبودوں کو تم ھاجت روا اور مشکل کشا اور نافع و ضار سمجھتے ہو۔ ان کے عجز کا یہ حال ہے کہ وہ کود اپنی ذاتوں سے بھی دفع ضرر کی قدرت نہیں رکھتے اس لیے وہ تمہارا بھی کچھ سنوار یا بگار نہیں سکتے اور نہ کچھ تمہیں دے سکتے ہیں۔ ” فَاتُوْا بِهٖ عَلیٰ اَعْیُنِ النَّاسِ “ ای علی رؤوس الاشھاد فی الملاء الاکبر بحضرۃ الناس کلھم لکان ھذا ھو المقصود الاکبر لابراہیم (علیہ السلام) ان یبین فی ھذا المحفل العظیم کثرہ جھلھم وقلۃ عقلھم فی عبادۃ ھذہ الاصنام التی لا تدفع عن نفسھا ضر او لا تملک لھا نصرا فکیف یطلب منھا شیء من ذالک (ابن کثیر ج 3 ص 182) ۔
Ayah 21:62

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

بولے44 کیا تو نے کیا ہے یہ ہمارے معبودوں کے ساتھ اے ابراہیم

44:۔ ” قَالُوْا ءَ اَنْتَ فَعَلْتَ الخ “ اس سے پہلے اندماج ہے ای فاتوا بہ یعنی وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سر عام لے آئے اور ان سے سوال کیا۔ اے ابراہیم ! کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کچھ کیا ہے ؟ اس سوال سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے اس فعل کا اقرار کرلیں گے تو وہ انہیں حسب منشاء سزا دے سکیں گے مگر ان کا مقصد پورا نہ ہوا اور معاملہ برعکتس ہوگیا اور الٹے کود ذلیل ورسوا ہوئے (من الکبیر ) ۔
Ayah 21:63

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

بولا نہیں پر یہ کیا ہے45 ان کے اس بڑے نے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں

45:۔ ” قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ الخ “ لفظ بل اضراب کے لیے ہے جو ماقبل کے خلاف ایک نئی بات بیان کرنے کیلئے لایا جاتا ہے تو اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے سوال کے جواب میں بتوں کو تورنے کے فعل سے انکار کردیا اور اس فعل کو ان کے بڑے بت کی طرف منسوب کردیا ظاہر ہے کہ یہ جھوٹ کی صورت ہے جس کی نسبت انبیاء (علیہم السلام) کی طرف محال ہے اس کے بہت سے جواب دئیے گئے جو تفسیر کبیر اور روح المعانی میں بہ تفصیل مذکور ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ ” بَلْ فَعَلَهٗ “ میں تکلم سے غیب کی طرف التفات ہے اور اس کا فاعل مقدر ہے اصل میں تھا بل فعلہ من فعلہ۔ یعنی جس نے یہ کام کیا ہے اس نے تو کر ڈالا۔ یہ تمہارا بڑا بت بھی یہاں موجود ہے تم اپنے ان معبودوں ہی سے پوچھ لو کہ ان کے ساتھ یہ ماجرا کس نے کیا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس فعل سے انکار نہیں کیا بلکہ ایک لطیف اور کنائی انداز میں اسے تسلیم کرلیا۔ امام رازی نے اس توجیہہ کو اس طرح بیان کیا ہے۔ ورابعھا انہ کنایۃ عن غیر مذکور ای فعلہ من فعلہ، و کبیرھم ھذا ابتداء الکلام و یروی عن الکسائی انہ کان یقف عند قولہ بل فعلہ ثم یبتدی کبیرھم ھذا (کبیر ج 6 ص 163) ۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پھر سوچے اپنے جی میں پھر بولے لوگو46 تم ہی بےانصاف ہو

46:۔ ” فَرَجَعُوْا اِلٰی اَنْفُسِهِمْ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب سن کر مشرکین کے ہوش ٹھکانے آئے اور ان کو تنبیہ ہوئی کہ وہ ان غیر ناطق جمادات کی عبادت کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں بھلا جو اس قدر عاجز و بےبس ہوں کہ اپنی حفاظت بھی نہ کرسکیں وہ دوسروں کے کیا کام آسکتے ہیں ” اِنَّکُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ “ ای بعبادۃ من لا ینطق بلفظۃ ولا یملک لنفسہ لحظۃ و کیف ینفع عابدیہ ویدفع عنھم الباس من لا یرفع عن راسہ الف اس (قرطبی ج 11 ص 302) ۔
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر اوندھے ہوگئے سر جھکا کر47 تو تو جانتا ہے جیسا یہ بولتے ہیں

47:۔ ” ثُمَّ نُکِسُوْا الخ “ مگر تسویل و تضلیل شیطان سے بدبختی اور شقاوت نے پھر انہیں آلیا اور مہر جباریت کی وجہ سے وہ اپنی کفر و شرک کی پہلی حالت کی طرف فورًا منقلب ہوگئے۔ قال اھل التفسیر اجری اللہ تعالیٰ الحق علی لسانھم فی القول الاول ثم ادرکتھم الشقاوۃ ای ردوا الی الکفر بعد ان اقروا علی انفسہم بالظلم (مدارک ج 3 ص 64) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ یہ تو تمہیں بھی معلوم ہے اور ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ معبود بولنے کی طاقت نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود ان کو اپنا معبود سمجھتے ہیں لا یخفی علینا وعلیک ایھا المیکت انھا لاتنطق کذالک وانا انما اتکذناھا الھۃ مع العلم بالوصف (روح جلد 17 ص 66) ۔
Ayahs 21:66–67

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

بولا کیا پھر تم پوجتے ہو اللہ سے ورے ایسے کو جو تمہارا کچھ بھلا کرے نہ برا48

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

بیزار ہوں میں تم سے اور جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے کیا تم کو سمجھ نہیں

48:۔ ” قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ الخ “ جب مشرکین نے اپنے معبودوں کی بیچارگی اور بےبسی کا اقرار کرلیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی فکر و عقل کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا جب تمہیں معلوم ہے کہ یہ عاجز معبود تمہیں نہ نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں نہ نقصان پہنچانے کی تو پھر تم اللہ کے سوا ان کی کیوں عبادت کرتے ہو۔ تف تم پر اور تمہارے فعل شرک پر تم ایسے صریح احمقانہ فعل کی قباحت بھی نہیں سمجھتے۔
Ayah 21:68

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

بولے اس کو جلاؤ اور مدد کرو اپنے معبودوں کی49 اگر کچھ کرتے ہو

49:۔ ” قَالپوْا حَرِّقُوْهُ الخ “ جب مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدلل گفتگو کے سامنے مبہوت و لاجواب ہوگئے تو اب اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے جیسا کہ باطل پرستوں کا دستور ہے اور آپس میں طے کیا کہ ابراہیم نے چونکہ ان کے معبودوں کی توہین کی ہے اور انہیں ذلیل و رسوا کیا ہے اس لیے اس فعل کی اس کو سزا دینی چاہئے اور اسے جلا کر خاک کردینا چاہئے۔ لما عجزوا عن الحاجۃ وضاقت بھم الحیل وھذا ؟ ؟ المبطل المحجوج ازبھت بالحجۃ وکانت لہ قدرۃ یفزع الی المناصیۃ (روح ج 17 ص 67) ۔ ” وَانْصُرُوْا اٰلِھَتَکم “ بتحریق ابراہیم لانہ یسبھا ویعیبھا (قرطبی ج 11 ص 303) ۔
Ayahs 21:69–70

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور آرام50 ابراہیم پر

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور چاہنے لگے اس کا برا پھر انہی کو ہم نے ڈالا نقصان میں

50:۔ ” قُلْنَا یٰنَارُالخ “ نمرود نے اسی گز لمبی اور چالیس گز چوڑی چار دیوار بنوائی اور اس میں چالیس دن تک ایندھن جمع کرایا اور اس کو آگ لگا دی جب آگ خوب مشتعل ہوگئی اور ہر طرف سے اس کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو حضرت ابراہیم کو اس میں پھینکا گیا جب وہ ان کو آگ میں پھینکنے کی تیاریاں کر رہے تھے اس وقت اللہ کا خلیل ماسوی اللہ سے اعراض کر کے اپنے مولیٰ و آقا سے مناجات میں مصروف تھا اور آسمان کی طرف رخ کر کے عرض کر رہا تھا۔ اللھم انت الواحد فی السماء وانا الواھد فی الارض لیس احد یعبدک غیری حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں لا الہ الا انت سبحنک رب العلمین لک الحمد ولک الملک لا شریک لک۔ ادھر اللہ تعالیٰ کے خلیل کو آگ میں پھینکا گیا اور ادھر سے اللہ کا حکم پہنچ گیا ” یٰنَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا عَلیٰ اِبْرَاھِیْم “ اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم کے لیے سلامتی اور آرام و راحت بن جا (قرطبی، روح بحر وغیرہ) ۔ چناچہ آگ کے شعلے بھڑکتے رہے اور فضا کو اپنی روشنی سے منور کرتے رہے مگر ان سے حرارت اور جلانے کی خاصیت سلب کرلی گئی ہر چیز میں اللہ تعالیی نے جو خاصیت و تاثیر رکھی ہے وہ اللہ کے ھکم کے بغیر اپنا اثر ظاہر نہیں کرسکتی آگ میں جلانے کی خاصیت ہے اور وہ جلاتی ہے مگر نار ابراہیم سے اللہ نے جلانے کی صلاحیت سلب کرلی اور اس کی روشنی بدستور باقی رہی۔ قال الزمکشری فان قلت کیف بردت النار وھی النار قلت نزع اللہ عنھا بطعھا الذی طبعھا علیہ من الحر والاحراق وابقاھا علی الاضاءۃ والاشراق و الاشتعال کما کانت واللہ علی کل شیء قدیر (بحر ج 6 ص 328) ۔ یہ واقعہ زبردست دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز اور متصرف و مختار نہیں۔
Ayahs 21:71–73

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور بچا نکالا ہم نے اس51 کو اور لوط (علیہ السلام) کو اس زمین کی طرف جس میں برکت رکھی ہے ہم نے جہاں کے واسطے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور بخشا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب دیا انعام میں اور سب کو نیک بخت کیا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان کو کیا ہم نے پیشوا راہ بتلاتے تھے ہمارے حکم سے اور کہلا بھیجا ہم نے ان کو کرنا نیکیوں کا اور قائم رکھنی نماز اور دینی زکوٰۃ اور وہ تھے ہماری بندگی میں لگے ہوئے

51:۔ ” وَ نَجَّیْنَاہُ وَ لُوطًا الخ “ ہم نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ وہ خود نہیں بچ سکتے تھے۔ ” وَ وَھَبْنَا لَهٗ اِسْحٰق الخ “ اور ہم نے ان کو نعمت اولاد سے نوازا۔ اولاد عطا کرنا بھی ہمارا کم ہی کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً “ ضمیر منصوب سے حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی ہم نے ان پیغمبروں کو امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہر وقت نیکی کے کاموں میں مصروف رہتے تھے اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ” قُلْنَا یٰنَارُ کُوْنِیْ الخ “ آگ کو ٹھنڈا ہونے کا ہم ہی نے حکم دیا۔ ” فَجَعَلْنٰھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ “ مشرکوں کو ہم ہی نے رسوا کیا۔ ” وَوَھَبْنَا لَهٗ “ ابراہیم کو اولاد ہم ہی نے عطا کی۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً “ ان کو ائمہ ہدایت ہم ہی نے بنایا۔ ” وَ اَوْحَیْنَا اِلَیْھِمْ “ ان کو نیک کاموں کا حکم ہم ہی نے دیا۔ ” کَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ “ وہ مصائب میں ہمیں ہی پکارتے تھے۔ یہ سارے کام ہم ہی نے کیے کسی اور کا ان میں دخل نہیں تھا۔
Ayahs 21:74–75

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط کو دیا ہم نے حکم اور سمجھ52 اور بچا نکالا اس کو اس بستی سے جو کرتے تھے گندے کام وہ تھے لوگ بڑے نافرمان

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور اس کو لے لیا ہم نے اپنی رحمت میں وہ ہے نیک بختوں میں

52:۔ ” وَلُوْطًا اٰتَیْنَاہُ الخ “ یہ تیسری تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ قوم لوط جب حضرت لوط کی تبلیغ و اصلاح کے باوجود اپنی خباثت اور بدعملی سے باز نہ آئی تو اللہ نے اس پر عذاب نازل فرما کر اسے ہلاک کردیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچالیا اور اسے اپنی رحمت میں داخل کرلیا ” اٰتَیْنَاہُ حُکْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ “۔” وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا “ مجرمین کو ہلاک کرنا اور مطیعین کو بچانا ہمارا ہی کام ہے کسی دوسرے کو اس کی طاقت نہیں۔
Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح کو جب53 اس نے پکارا اس سے پہلے پھر قبول کرلی ہم نے اس کی دعا سو بچا دیا اس کو اور اس کے گھر والوں کو بڑی گھبراہٹ سے

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور مدد کی اس کی ان لوگوں پر جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں وہ تھے برے لوگ پھر ڈبا دیا ہم نے ان سب کو

53:۔ ” وَنُوْحًا اِذْ نَادٰی الخ “ یہ چوتھی تفصیل نقلی دلیل ہے۔ دیکھو بوقت طوفان نوح (علیہ السلام) نے بھی ہمیں پکارا تو ہم نے اس ہولناک طوفان سے ان کے اہل ایمان ساتھیوں کو بچالیا اور ظالم اور ستمگر مشرکین کے شر و فساد اور ان کی تکلیف و ایذاء سے ان کو نجات دی اور طالم و فاسق قوم کو غرق کردیا۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ ان کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” فَنَجَّیْنٰهُ “ ان کو عذاب سے ہم ہی نے بچایا۔ ” وَنَصَرْنٰهُ “ اور مشرکین پر ہم ہی نے ان کو غلبہ دیا۔ ” فَاَغْرَقْنٰھُمْ “ اور مشرکین کو ہم ہی نے غرق کیا۔
Ayah 21:78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو جب لگے54 فیصل کرنے کھیتی کا جھگڑا جب روند گئیں اس کو رات میں ایک قوم کی بکریاں، اور سامنے تھا ہمارے ان کا فیصلہ

54:۔ ” وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ الخ “ یہ پانچویں تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ ہم نے داود و سلیمان کو علم و حکم دیا۔ جب وہ ایک جھگڑے کا فیصلہ کر رہے تھے ہم اس سے باخبر تھے۔ ” اِذْ نَفَشَتْ الخ “ یہ اس قضیے کی طرف اشارہ ہے ان کے زمانہ میں ایک شخص کی بکریاں رات کو دوسرے کے کھیت میں گھس گئیں اور اسے تباہ کرگئیں۔ کھیت کا مالک مقدمہ لے کر حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے پاس آیا اور سارا ماجرا سنایا انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا اور بکریاں اسے دلا دیں۔ جب مدعی اور مدعا علیہ واپس ہوئے تو راستہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ والد صاحب نے کیا فیصلہ فرمایا انہوں نے ذکر کیا تو کہا میرے خیال میں فیصلہ کی ایک اور صورت ہے جو دونوں کے حق میں بہتر ہے۔ حضرت داود کو اس کا علم ہوا تو انہیں بلایا اور ان سے پوچھا کہ تمہارے دل میں جو فیصلہ آیا ہے اسے بیان کرو حضرت سلیمان نے عرض کیا یہ میرا خیال ہے کہ بکریاں کھیت والے کے حوالے کی جائیں تاکہ وہ ان کے دودھ اور بالوں سے انتفاع کرے اور اجڑا ہوا کھیت بکریوں والے کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے جب کھیت اپنی پہلی حالت پر آجائے تو دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔ حضرت داود (علیہ السلام) کو یہ فیصہ بہت پسند آیا اور اسی کو نافذ فرما دیا۔ ” فَفَھَّمْنَا سُلَیْمٰنَ “ یعنی ہم نے زیادہ بہتر فیصلہ سلیمان کے فہم میں ڈال دیا۔
Ayahs 21:79–80

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پھر سمجھا دیا ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو اور دونوں کو دیا تھا ہم نے حکم اور سمجھ اور تابع کیے ہم55 نے داؤد کے ساتھ پہاڑ، تسبیح پڑھا کرتے اور اڑتے جانور اور یہ سب کچھ ہم نے کیا

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور اس کو سکھلایا ہم نے بنایا ایک تمہارا لباس کہ بچاؤ ہو تم کو تمہاری لڑائی میں سو کچھ تم شکر کرتے ہو

55:۔ ” وَ سَخَّرْنَا مَع دَاوٗدَ الخ “ ہم نے پہاڑ اور پرندوں کو داود (علیہ السلام) کے ماتحت کردیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے تھے یہ سب کچھ ہم نے کیا تھا۔ ” وَ عَلَّمْنٰھُ صنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ “ الخ اور ہم نے داؤود کو لوہے کی زرہیں بنانے کی تعلیم دی۔