21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 21:81–82

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور سلیمان کے56 تابع کی ہوا زور سے چلنے والی کہ چلتی اس کے حکم سے اس زمین کی طرف جہاں برکت دی ہے ہم نے اور ہم کو سب چیز کی خبر ہے

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور تابع کیے کتنے شیطان جو غوطہ لگاتے اس کے واسطے اور بہت سے کام بناتے اس کے سوا اور ہم نے ان کو تھام رکھا تھا

56:۔ ” وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ الخ “ یہ مع داؤود پر معطوف ہے ای سخرنا لہ الریح الخ (روح) ۔ یعنی ہم ہی نے اپنے حکم سے ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان بنادیا اور ہم ہی ہر چیز کو جاننے والے ہیں دوسرا کوئی نہیں۔ ” وَ مِنَ الشَّیَاطِیْنِ مَنْ یّغُوْصُوْنَ الخ “ الریح پر معطوف ہے اور من الشیاطین اس کا بیان ہے یعنی ہم نے جنوں کو مسخر کردیا کہ وہ اس کے حکم کے مطابق کام کرتے تھے۔ ” وَ کُنَّا لَھُمْ حَافِظِیْنَ “ لیکن سرکشی اور طغیان سے جنوں کو بچانا اور ان پر کنٹرول رکھنا یہ ہمارا کام تھا تاکہ وہ شر و فساد نہ کریں۔ داؤود و سلیمان (علیہما السلام) پر یہ تمام احسانات و انعامات ہم نے کیے تھے اور وہ ہمارے شکر گذار بندے تھے اس لیے وہ خود متصرف و کارساز اور لائق الوہیت نہ تھے۔ ” کُنَّا لِحُکْمِھِمْ شَاھِدِیْنَ “ ان کے فیصلے کو ہم ہی جانتے تھے۔ ” فَفَھَّمْنَا ھَا سُلَیْمٰن “ سلیمان (علیہ السلام) کو یہ فیصلہ ہم ہی نے سمجھایا۔ ” وَ کُلَّاً اٰتَیْنَا حُکْمًا “ دونوں کو علم و حکمت ہم ہی نے دی۔ ” وَ سَخَّرْنَا “ پہاڑوں کو ہم ہی نے تابع فرمان کیا ” وَ کُنَّا بِکُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ “ اور ہر چیز کو ہم ہی جانتے تھے۔ ” وَ کُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ “ اور ان کی حفاظت کرنے والے بھی ہم ہی تھے۔
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب کو57 جس وقت پکارا اس نے اپنے رب کو کہ مجھ پر پڑی ہے تکلیف اور تو ہے سب رحم والوں سے رحم والا

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

پھر ہم نے سن لی اس کی فریاد سو دور کردی جو اس پر تھی تکلیف اور عطا کیے اس کو اس کے گھر والے اور اتنے ہی اور ان کے ساتھ رحمت اپنی طرف سے اور نصیحت بندگی کرنے والوں کو

57:۔ ” وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰي الخ “ یہ چھٹی تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ ایوب (علیہ السلام) پر ابتلا آیا۔ تو انہوں نے دفع مضرت اور کشف مصیبت کیلئے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کو مصیبت سے نجات دیدی اور تمام کھوئی ہوئی نعمتیں ان کو واپس دیدیں۔ ” رحمةً الخ “ یہ مفعول لہ ہے یعنی ہم نے یہ سب کچھ ایوب (علیہ السلام) پر رحمت و شفقت کیلئے کیا اور تاکہ دوسرے عبادت گذار بندوں کو اس سے نصیحت و عبرت حاصل ہو اور وہ مصائب و مشکلات میں صبر کریں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مصائب و مشکلات میں استعانت و استغاثہ کریں۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ ان کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” فَکَشَفْنَا “ ان کی تکلیف ہم ہی نے دور کی۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس58 اور ذوالکفل کو یہ سب ہیں صبر والے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور لے لیا ہم نے ان کو اپنی رحمت میں وہ ہیں نیک بختوں میں

58:۔ ” وَ اِسْمَا عِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ الخ “ یہ ساتویں تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ یہ سب صبرو استقلال سے توحید سناتے رہے۔ ” وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا “ ان کو ہم نے کافروں کے شر سے بچا کر اپنی رحمت میں داخل کیا۔
Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے کو جب59 چلا گیا غصہ ہو کر پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ60 سکیں گے اس کو پھر پکارا61 ان اندھیروں میں کہ کوئی حاکم نہیں سوائے تیرے تو بےعیب ہے میں تھا گنہگاروں سے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

پھر سن لی ہم نے اس کی فریاد، اور بچا دیا اس کو اس گھٹنے سے، اور یونہی ہم بچا دیتے ہیں ایمان والوں کو

59:۔ ” وَ ذَالنُّوْنِ اِذْ الخ “ یہ آٹھویں تفصیلی عقلی دلیل ہے حضرت یونس (علیہ السلام) عرصہ تک اپنی قوم کو دعوت و تبلیغ کے بعد ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور ان کے انکار و اصرار پر ناراض ہو کر ہجرت کرلی حالانکہ ابھی تک اللہ کی جانب سے اس قسم کا کوئی حکم ان پر نازل نہیں ہوا۔ غالباً اپنے اجتہاد سے یہ فیصلہ کیا کہ ان لوگوں پر اب حجت خداوندی تام ہوچکی ہے اور ان کے یمان لانے کی کوئی امید نہیں اب تو عنقریب ہی ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے والا ہے اس لیے یہاں سے ہجرت کر جانا چاہئے۔ ” مُغَاضِبًا “ ای غضبان علی قومہ لشدۃ شکیمتھم وتمادی اصرارھم مع طول دعوتہ ایاھم وکان ذھابہ ھذا ھجرۃ عنھم لکنہ لم یومر بہ (روح ج 17 ص 83) ۔ چناچہ جب وہ اپنے شہر سے نکل کر روانہ ہوئے اور بحیرہ روم کے کنارے پہنچے تو کشتی تیار تھی اس میں سوار ہوگئے کشتی گرداب میں پھنس گئی اور غرق ہونے لگی تو ملاحوں نے کہا کہ سواریوں میں کوئی بھاگا ہوا غلام ہے اور ہمارا دستور یہ ہے کہ ایسے موقع پر ہم قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں پھینک دیتے ہیں چناچہ تین مرتبہ قرعہ ڈالا گیا تینوں مرتبہ حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا اب وہ سمجھے کہ انہوں نے بلا امر ربانی ہجرت کر کے غلطی کی ہے اور ملاحوں سے کہا بیشک میں ہی اپنے آقا کے حکم کے بغیر بھاگا ہوا غلام ہوں اور سمندر میں چھلانگ لگا دی ایک بڑی مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ یونس کو کوئی تکلیف نہ دینا میں نے اسے تیری غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لیے قید خانہ بنایا ہے۔ 60:۔ ” وَ ظَنَّ انْ لَّنْ نَّقْدِرَ الخ “ نقدر یہاں قدرۃ سے نہیں بلکہ قدر سے ہے جس کے معنی قضا یا تنگی کرنے کے ہیں۔ یعنی یونس (علیہ السلام) قبل نزول امر ہجرت کر کے چلے گئے اور ان کا خیال تھا کہ اس فعل پر ان کو سزا دینے کا ہم کوئی فیصلہ نہیں کرینگے یا ہم ان پر کسی قسم کی تنگی نہیں کرینگے۔ ای لن نقضی علیہ العقوبۃ قالہ ابن عباس فی روایۃ عنہ وقیل معناہ فظن ان لن نضیق علیہ الحبس (خازن ج 4 ص 258) ۔ فظن ان لن نقدر علیہ ای لن نضیق علیہ وھو کقولہ تعالیٰ اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ و یقدر ای یضیق و من قدر علیہ رزقہ ای ضیق الخ (کبیرج 6 ص 189) ۔ 61:۔ ” فَنَادٰي فِی الظُّلُمٰتِ الخ “ مچھلی کے پیٹ میں پہنچ کر حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنے قصور کا اعتراف کیا اور اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہوگئے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی آہ وزاری قبول فرمائی اور مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے مچھلی کے پیٹ میں خدا کو پکارا اس سے معلوم ہوا کہ وہ خود متصرف و کارساز نہ تھے کہ اپنے آپ کو اس مصیبت سے بچا لیتے۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ ان کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” وَ نَجَّیْنَاه “ اور مصیبت سے ہم ہی نے ان کو بچایا۔
Ayahs 21:89–90

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (علیہ السلام) جب پکارا اس نے اپنے رب کو، اے رب نہ چھوڑ مجھ کو اکیلا62 اور تو ہے سب سے بہتر وارث

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

پھر ہم نے سن لی اس کی دعا اور بخشا اس کو یحییٰ اور اچھا کردیا اس کی عورت کو وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو توقع سے اور ڈر سے اور تھے ہمارے آگے عاجز

62:۔ ” وَ زَکَرِیَّا اِذْ نَادٰي الخ “ یہ نویں تفصیلی نقلی دلیل ہے یعنی زکریا (علیہ السلام) نے آخری عمر میں ہم سے بیٹا مانگا اور ہم ہی نے اس عمر میں ان کو بیٹا عطا کیا اور ہم ہی دینے والے ہیں ان کو اس پر قدرت نہ تھی۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ زکریا کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” وَ وَھَبْنَا لَهٗ “ اور ہم ہی نے اس کو بیٹا عطا کیا۔ ” وَ اَصْلَحْنَا “ اور ہم ہی نے اس کی بیوی کو اولاد کے قابل بنایا۔ ” اِنَّھُمْ کَانُوْا الخ “ اس سے تمام مذکور انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی وہ تمام ہم سے توقع رکھ کر اور ہم سے ڈر کر حاجات و مشکلات میں غائبانہ ہمیں ہی پکارتے تھے۔ ” یَدْعُوْنَنَا “ تمام انبیاء (علیہم السلام) امید و بیم میں ہمیں ہی پکارتے تھے۔ ” وَ کَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ “ اور ہمارے ہی سامنے عاجزی کرتے تھے آیت کا یہ حصہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے متعلق ہے یا اس سے حضرت زکریا، ان کی بیوی اور یحییٰ (علیہم السلام) مراد ہیں۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور وہ عورت جس نے قابو63 میں رکھی اپنی شہوت پھر پھونک دی ہم نے اس عورت میں اپنی روح اور کیا اس کو اس کے بیٹے کو نشانی جہان والوں کے واسطے

63:۔ ” وَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ الخ “ یہ دسویں تفصیلی نقلی دلیل ہے حضرت مریم صدیقہ اور حضرت مسیح (علیہما السلام) سے۔ ” اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا “ یعنی اپنے جذبات کو قابو میں رکھا اور دامن عصمت کی حفاظت کی ” وَ اَحْصَنَتْ “ یعنی عفت فامتنعت من الفاحشة (قرطبی ج 11 ص 338) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو نکاح سے باز رکھا اور کسی شادی نہ کی حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) دونوں ماں بیٹا تمام بنی آدم کے لیے ہماری قدرت کاملہ اور مشیت نافذۃ کی واضح نشانی اور دلیل تھے مریم کا بغیر مس بشر بیٹا جننا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا مخلوق کے لیے ایک اعجوبہ اور ہماری قدرت کی علامت ہے۔ وافروا ایۃ لان حالھما لمجموعھما ایۃ واحدۃ وھی ولاد تھا ایاہ من غیر محل (بحر ج 6 ص 336) ۔ ای علامۃ واعجوبۃ للخلق وعلی نبوۃ عیسیٰ ودلالۃ علی نفوذ قدرتنا فیما نشا (قرطبی) ۔ تو معلوم ہوا کہ مریم و عیسیٰ کا قصہ تو ہماری قدرت کی دلیل ہے اس لیے وہ الوہیت اور صفات کارسازی کے لائق نہیں ہیں۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر64 اور میں ہوں رب تمہارا سو65 میری بندگی کرو

64:۔ ” اِنَّ ھٰذِهٖ اُمَّتُکُمْ الخ “ یہ تمام مذکورہ دلائل نقلیہ سے متعلق ہے یعنی ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور وہ سارے کے سارے توحید پر متفق تھے اور سب کا یہی مسلک تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور اس کے سوا حاجات میں غائبانہ پکار کے لائق بھی کوئی نہیں۔ ” اُمَّةً “ یہاں ملت اور دین کے معنوں میں مستعمل ہے اور مراد ملت اسلام اور ملت توحید ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ہے۔ الامۃ الملۃ وھذہ الاشارۃ الی ملۃ الاسلام وھی ملۃ جمیع الانبیاء (مدرک ج 3 ص 68) ۔ خطاب للناس قاطبۃ والاشارۃ الی ملۃ التوحید والاسلام (روح ج 17 ص 89) ۔ لما ذکر الانبیاء قال ھؤلاء کلھم مجتمعون علی التوحید فالامۃ بمعنی الدین الذی ھو الاسلام قالہ ابن عباس و مجاھد وغیرھما (قرطبی) ۔ 65:۔ ” وَ اَنَا رَبُّکُمْ الخ “ حضرت شیخ فرماتے ہیں۔ واؤ تفسیریہ ہے اور جملہ ماقبل کی تفسیر ہے یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت واحدہ یہ ہے کہ میں تم سب کا رب اور کارساز ہوں لہذا تم سب صرف میری عبادت کرو اور صرف مجھے ہی پکارو ای لادین سوی دینی ولا رب غیری فاعبدونی ووحدونی (خازن ج 4 ص 260) ای انا الھکم الہ واحد (فاعبدونی) خاصۃ (روح ج 17 ص 90) ۔
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیا لوگوں نے آپس میں اپنا کام66 سب ہمارے پاس پھر آئیں گے

66:۔ ” وَ تُقَطِّعُوْا اَمْرَھُمْ الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے یعنی جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور سب توحید پر متفق تھے اور سب توحید ہی کی اشاعت کرتے رہے تو پھر بعد کے لوگوں میں شرک کہاں سے آگیا ؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ بعد کے بد عمل اور ناخلف جانشینوں نے توحید میں اختلاف ڈال دیا اور دنیوی دولت اور لالچ کی وجہ سے شرک کو رواج دینے میں منہمک ہوگئے اچھا سب کو ہمارے پاس ہی آنا ہے اس لیے اپنے کیے کی سزا پالیں گے۔ یعنی دین سب کا ایک تھا سب کا کارساز بھی ایک ہی تھا۔ اور تمام پیغمبر ایک ہی ملت پر متفق تھے لیکن بعد کے لوگوں نے ملت توحید کو پارہ پارہ کردیا۔ وحاصل المعنی الملۃ واحدۃ والرب واھد والانبیاء (علیہم السلام) متفقون علیھا وھؤلاء البعداء جعلوا امر الدین الواحد قطعا الخ (روح ج 17 ص 89) ۔
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

سو جو کوئی کرے کچھ نیک کام67 اور وہ رکھتا ہو ایمان سواکارت نہ کریں گے اس کی سعی کو اور ہم اس کو لکھ لیتے ہیں

67:۔ ” فَمَنْ یَّعْمَلْ الخ “ ایمان و توحید والوں اور نیکو کاروں کے لیے بشارت اخروی۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور مقرر ہوچکا ہر بستی پر جس کو غارت کردیا ہم نے کہ وہ پھر کر نہیں آئیں گے68

68:۔ ” وَ حَرَامٌ عَلیٰ قَرْیَةٍ الخ “ حرام یعنی ناممکن اور ممتنع۔ ” اَھْلَکْنَا “ یعنی ہم نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ کردیا۔ ” لَایَرْجِعُوْنَ “ بمعنی مصدر ہے یعنی عدم رجوعھم اور مطلب یہ ہوگا کہ جزاء کے لیے ان کا ہماری طرف واپس نہ آنا ممتنع ہے یعنی ضرور ہمارے پاس آئیں گے ای ممتنع البتۃ عدم رجوعھم الینا للجزاء (روح) یا ” لا “ زائدہ اور سیف خطیب ہے یعنی جن لوگوں کی تباہی اور ہلاکت کا ہم نے فیصلہ کردیا ان کا شرک و کفر سے توبہ کر کے توحید اور اسلام کی طرف آنا ممتنع اور ناممکن ہے کیونکہ عذاب سے ہلاک کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جاتا ہے جب حجت خداوندی پوری ہوجائے اور منکرین کے دلوں پر ان کے مسلسل ضد وعناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ جائے اور ان کے رجوع الی الحق کے تمام امکانات ختم ہوجائیں۔ المعنی و ممتنع علی قریۃ قدرنا ھلاکھا او حکمنا بہ رجوعھم الینا ای توبتھم علی ان (لا) سیف خطیب مثلھا فی قولہ تعالیٰ (ما منعک) ان لا تسجد فی قول (روح ج 17 ص 91) ۔ حضرت شیخ (رح) وفرماتے ہیں کہ حرام مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی الایمان حرام الخ اس صورت میں انھم لا یرجعون جملہ ماقبل سے بدل ہوگا اور لا زائدہ نہیں ہوگا قال مجاھد والحسن لایرجعون من الشرک ولایتوبون عنہ وھو قول مجاھد والھسن (کبیر ج 6 ص 194) ۔
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب کھول دیے جائیں یاجوج69 وماجوج اور وہ ہر اوچان سے پھسلتے چلے آئیں

69:۔ ” حتی اذا فتحت الخ “ یہ تخویف اخری ہے۔ ھم کی ضمیر سے سب لوگ مراد ہیں یا صرف یاجوج ماجوج پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ نفخہ ثانیہ کے بعد لوگ زمین کے ہر مرتفع حصے کو روندتے اور تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے موقف کی طرف دوڑیں گے دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کو آزاد کردیا جائیگا تو وہ زمین کے ہر حصہ میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو روندتے ہوئے دنیا میں پھیل جائیں گے اور ہر طرف شر و فساد بر پا کر کے ایک تباہی مچادینگے ثم قیل فی الذین ینسلون من کل حدب انھم یاجوج و ماجوج وھو الاظھر وھو قول ابن مسعود وابن عباس و قیل جمیع الخلق فانھم یحشرون الی ارض الموقف وھم یسرعون من کل حدب (قرطبی ج 11 ص 341) ۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور نزدیک آلگے سچا وعدہ70 پھر اس دم اوپر لگی رہ جائیں منکروں کی آنکھیں ہائے کم بختی ہماری ہم بیخبر رہے اس سے نہیں، پر ہم تھے گناہ گار

70:۔ ” وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الخ “ الوعد الحق سے قیامت مراد ہے وھو ما بعد النخۃ الاولی (روح ج 17 ص 92) ۔
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

تم اور جو کچھ تم پوجتے ہو اللہ کے سوا ایندھن ہے دوزخ کا تم کو اس پر پہنچنا ہے71

71:۔ ” اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ الخ “” مَاتَعبُدُوْنَ “ سے برے پیر مراد ہیں جو اپنی پرستش پر راضی ہوں نیز انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی مورتیاں جن کی مشرکین پرستش کرتے تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ کرام اور اولیاء اللہ اس میں شامل نہیں ہیں۔ بقرینۃ ان الذی سبقت لھم منا الحسنی الخ۔
Ayahs 21:99–100

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر ہوتے یہ بت معبود72 تو نہ پہنچتے اس پر اور سارے اس میں سدا پڑے رہیں گے

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

ان کو وہاں چلانا ہے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے

72:۔ ” لَوْ کَانَ ھٰؤُلَاءِ الخ “ اگر یہ معبود اور کارساز ہوتے جیسا کہ مشرکین کا خیال ہے تو آگ میں ہرگز داخل نہ ہوتے حالانکہ وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے اور پھر اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ” زَفِیْر “ رونے چلانے کی آواز جس میں سینے کی خرخراہٹ بھی شامل ہوگی۔ انین وبکاء عویل (مدارک ج 3 ص 69) ۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن کے لیے پہلے سے73 ٹھہر چکی ہماری طرف سے نیکی74 وہ اس سے دور رہیں گے75

73:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتق لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنیٰ الخ “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جب ” اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ الخ “ نازل ہوئی تو کفار قریش اپنے ایک سر کردہ ابن الزبعری کے پاس آئے اور اسے اس آیت کی اطلاع دی تو اس نے کہا اگر میں إحمد کے پاس ہوتا تو اس کو اسکا معقول جواب دیتا۔ قریش نے اس سے پوچھا تو کیا جواب دیتا تو اس نے کہا۔ میں کہتا کہ یہ مسیح بن مریم ہے جس کی نصاریٰ پرستش کرتے ہیں اور یہ عزیر ہے جس کی یہود پرستش کرتے ہیں تو کیا یہ بھی جہنم کا ایندھن ہوں گے کفار قریش یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ اور انہوں نے سمجھا کہ ابن الزبعری کی بات لاجواب ہے اور محمد کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام، فرشتوں اور اولیاء کرم کو آیت سابقہ کے حکم سے مستثنی فرمادیا۔ کیونکہ ان کے حق میں ” اَلْحُسْنیٰ “ (جنت یا بھلائی اور نیک انجام) کا وعدہ ازل سے ہوچکا ہے۔ من القرطبی وابن کثیر وغیرھما۔ 74:۔ ” اَلْحُسْنیٰ “ اس سے مراد جنت ہے یا رحمت وسعادت یا توفیق طاعت۔ الحسنی ای الجنۃ (قرطبی ج 11 ص 345) ۔ الحسنی یعنی السعادۃ والعدۃ الجمیلۃ الجنۃ (خازن و معالم ج 4 ص 262) ۔ الحسنی ای الخصلۃ المفضلۃ فی الھسن وھی السعادۃ وقیل التوفیق للطاعۃ والمراد من سبق ذلک تقدیرہ فی الازل (روح ج 7 ص 97) ۔ الحسنی الرحمۃ والسعادۃ (جامع البیان ص 289) ۔ 75:۔ ” عَنھَا ای عن جَهَنَّم “ یعنی جن کے لیے حسنی کا وعدہ ہوچکا ہے انہیں جہنم سے دور رکھا جائیگا وہ تو جنت میں ہوں گے۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

نہیں سنیں گے اس کی آہٹ76 اور وہ اپنے جی کے مزوں میں سدا رہیں گے

76:۔ ” لَایَسْمَعُوْنَ الخ “ جملہ مبعدون سے بدل ہے اس میں دوزخ سے ان کے بعد کی قدرے تفصیل دی گئی ہے یعنی ان کو دوزخ سے اتنا دور کیا جائے گا کہ وہ آتش دوزخ کی خفیف سی آواز بھی نہیں سن پائیں گے حالانکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ دوزخ کی بھڑکتی آگ کا شور ہزاروں میلوں کے فاصلہ تک سنائی دے گا۔ یہ اس وقت ہوگا جب وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

نہ غم ہوگا ان کو اس بڑی گھبراہٹ میں77 اور لینے آئیں گے ان کو فرشتے78 آج دن تمہارا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

77:۔ ” لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الخ “ نار جہنم سے ان کی نجات کا اعلان کرنے کے بعد فرمایا۔ نفخہ ثانیہ سے لے کر دخول جنت تک وہ ہر قسم کے خوف وہراس اور بڑی سے بڑی گھبراہٹ سے بھی محفوظ رہیں گے۔ بیان لنجاتھم من الافزاع بالکلیۃ بعد نجاتھم من النار لانھم اذا لم یحزنھم اکبر الافزاع لم یحزنھم ماعداہ بالضرورۃ کذا قیل (روح ج 7 ص 99) ۔ ” اَلْفَزَعُ الْاَکْبَرُ “ سے نفخہ ثانیہ یا تمام اہوال قیامت مراد ہیں۔ 78:۔ ” تَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰئِکةُ الخ “ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب وہ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور ان سے کہیں گے یہی وہ دن ہے جس کی آمد کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا یا جنت میں داخل ہونے کے وقت فرشتوں کا استقبال مراد ہے ای تستقبلھم الملئکۃ علی ابواب الجنۃ یھنئوھم و یقولون لھم ” ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِيْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ “ وقیل تستقبلھم ملائکۃ الرحمۃ عند خروجھم من القبور (قرطبی ج 11 ص 346) ۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم79 لپیٹ لیویں آسمان کو جیسے لپیٹتے ہیں طومار میں80 کاغذ جیسا سرے سے بنایا تھا ہم نے پہلی بار، پھر اس کو دوہرائیں گے81، وعدہ ضرور ہوچکا ہے ہم پر ف، ہم کو پورا کرنا ہے

79:۔ ” یَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ الخ “” یوم “ کا عامل ” اذکر “ محذوف مانا گیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے اصول کے مطابق اس کا عامل لا یحزنھم یا تتلقھم ہے۔ منصوب باذکر وقیل ظرف للا یحزنم وقیل ظر لتتلقاھم (روح) ۔ اعلم ان التقدیر لا یحزنھم الفزع الاکبر یوم نطوی السماء او وتتلقھم الملئکۃ یوم نطوی السماء (کبیر ج 6 ص 200) ۔ 80:۔ ” کَطَیِّ السِّجِل الخ “ جس طرح بہت سے کاغذوں کے طومار کو لپیٹ دیا جاتا ہے اس طرح قیامت کے دن آسمانوں کی صفوں کو لپیٹ دیا جائے گا۔ یہ نظام عالم کے درہم برہم کرنے سے کنایہ ہے۔ آسمانی تعلیم از آدم تا خاتم النبیین علیہم الصلوۃ والسلام اس پر ناطق ہے کہ یہ عالم کون و فساد حادث ہے اور وہ فنا ہوجائیگا۔ فلاسفہ ملاحدہ نے اس میں اختلاف کیا ہے اور وہ عالم کو ازلی و ابدی مانتے ہیں جو صریح البطلان ہے البتہ صدر الدین شیرازی نے اپنی کتاب اسفار اربعہ میں لکھا ہے کہ متقدین میں اساطین فلاسفہ فناء عالم کے قائل تھے البتہ متاخرین کوتاہ نظری اور بےبصیرتی کی وجہ سے عالم کی ابدیت کے قائل ہیں۔ متقدمین فلاسفہ جو فناء عالم کے قائل ہیں ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔ انکسیمائس ملطی۔ فیثا غورث۔ افلاطون اور اس کا شاگرد ارسطا طالیس (کذا فی الروح ج 17 ص 100) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ 81:۔ ” کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ الخ “ جس طرح آسانی اور سہولت کے ساتھ ہم نے اس ساری مخلوق کو پیدا کیا تھا۔ بالکل اس طرح ہم دوبارہ پیدا کرلیں گے یہ نہایت پختہ بات ہے اور ہم اس پر قادر ہیں اور لا محالہ ایسا کریں گے۔ ” وَعْدًا “ مفعول مطلق ہے۔ فعل مقدر کا۔ ای وعدنا وعدا۔ ” عَلَیْنَا “ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای علینا انجازہ والوفاء بہ ای من البعث والاعادۃ (قرطبی ج 11 ص 348) ۔
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے82 کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے83

82:۔ ” وَلَقَدْ کَتَبْنَا الخ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ زبور سے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی کتاب مراد ہے اور ذکر سے تورات یا صحف ابراہیم مراد ہیں۔ ” اَلْاَرْضُ “ جنت کی زمین۔ احسن ما قیل فیہ انہ یراد بھا ارض الجنۃ کما قال سعید بن جبیر لان الارض فی الدنیا قد ورثھا الصالحون وغیرھم وھو قول ابن عباس و مجاھد وغیرھما الخ (قرطبی ) ۔ یا ارض مقدس یا ارض شام مراد ہے اور یہ امت محمدیہ کے لیے بشارت دنیوی ہے۔ وقیل الارض المقدسۃ یرثھا امة محمد ﷺ (بحر ج 6 ص 344) ۔ وقیل المراد بھا الارض المقدسۃ وقیل الشام (روح ج 17 ص 104) ۔ 83:۔ ” عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ الخ “ اس سے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام مراد ہے۔ یعنی ارض الجنۃ یرثھا امۃ محمد ﷺ (خازن ج 4 ص 263) ۔ قال مجاھد یعنی امۃ محمد ﷺ (معالم) و اکثر المفسرین علی ان المراد بالعباد الصالحین امۃ مھمد ﷺ (قرطبی ج 11 ص 349) ۔ لیکن انسب یہ ہے کہ اگر الارض سے ارض جنت مراد ہو تو عبادی الصلحون۔ تمام صلحاء کو شامل ہو۔ خواہ وہ کسی پیغمبر کی امت ہوں اور اگر الارض سے ارض شام یا بیت المقدس مراد ہو تو عبادی الصلھون سے امت محمدیہ مراد ہو۔ واللہ تعالیی اعلم بالصواب۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

اس میں مطلب کو پہنچتے ہیں لوگ84 بندگی والے

84:۔ ” اِنَّ فِیْ ھٰذَا الخ “ ھذا کا اشارہ اس سورت میں مذکور تمام امور کی طرف ہے بعض مفسرین نے اس سے تمام قرآن مراد لیا۔ والاول اوفق ای فیما جری ذکرہ فی ھذہ السورۃ من الوعظ والتنبیہ وقیل ان فی القرآن (قرطبی) ای القرآن او فی المذکور فی ھذہ السورۃ من الاخبار والوعد والوعید والمواعظ (مدارک ج 3 ص 70) ۔
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا85 سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر

ف 85” وَ مَا اَرْسَلْنٰکَ الخ “ آپ تمام جہانوں کے لیے باعث رحمت اس طرح ہیں کہ آپ نے اللہ کے حکم سے سب کے لیے توحید کا اعلان کیا اور صراط مستقیم جو جنت کی سیدھی راہ ہے وہ سب کے لیے واضح کردی اور اللہ کی طرف جو پیغام آپ لے کر آئے وہ تمام بنی آدم کے لیے سعادت دارین کا باعث ہے البتہ کافروں نے سوء استعداد اور ضد وعناد کی وجہ سے فائدہ نہ اٹھایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا۔ آپ مومن و کافر دونوں کے لیے باعث رحمت ہیں۔ مومن آپ پر ایمان لانے سے خوش نصیب ہوگیا اور کافر غرق و خسف اور دیگر دنیوی عذابوں سے بچ گئے جن سے اقوام سابقہ کو ہلاک کیا گیا۔ عن ابن عباس کان محمد ﷺ رحمۃ لجمیع الناس فمن اٰمن بہ و صدق بہ سعد، ومن لم یومن بہ سلم مما الحق الامم من الخصف والغرق (قرطبی ج 11 ص 350) ۔ والظاھر ان المراد بالعلمین ما یشمل الکفار ووجہ ذلک علیہ انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ارسل بما ھو سبب لسعادۃ الدارین و مصلحۃ النشاتین الا ان الکافر فوت علی نفسہ الانتفاع بذلک واعرض لفساد استعدادہ عما ھنالک (روح ج 17 ص 104) ۔
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو تو حکم یہی آیا ہے86 کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے پھر کیا ہو تم حکم برداری کرنے والے

86:۔ ” قُلْ اِنَّمَا یُوْحی الخ “ یہ توحید پر دلیل وحی ہے انبیاء (علیہم السلام) سے دلائل نقلیہ کے بعد دلیل وحی ذکر کی گئی۔ جس طرح انبیاء سابقین تمام مصائب و بلیات کے وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو متصرف و کارساز سمجھتے اور صرف اسی کو پکارتے تھے سی طرح میری طرف بھی یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ میرا اور تم سب کا معبود اور کارساز اور حاجت روا بھی اللہ ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں جب میرا اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا یہی عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں اور اس کے سوا کوئی حاجت روا اور پکاریں سننے والا نہیں تو کیا اب بھی تم مانو گے یا نہیں ؟ استفہام سے مقصود طلب فعل ہے ای منقادون لتوحید اللہ تعالیٰ : ای فاسلموا کقولہ تعالیٰ ” فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ “ ای انتھوا (قرطبی ج 11 ص 350) ۔ استفہام یتضمن الامر باخلاص التوحید والانقیاد الی اللہ تعالیٰ (بحر ج 6 ص 344) ۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) دعوت توحید اور رد شرک پر متفق ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) کا اس پر اتفاق و اجماع اس کے حق ہونے پر بہت بڑی دلیل ہے۔ قال فی شرح المقاصد ان بعثۃ الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام و صدقھم لا یتوقف علی الوحدانیۃ فیجور التمسک بالادلۃ السمیعۃ کا جماع الانبیاء (علیہم السلام) علی الدعوۃ الی التوحید ونفی الشریک وکالنصوص القطعیۃ من کتاب اللہ تعالیٰ علی ذلک (روح ج 17 ص 107) ۔
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ موڑیں87 تو تو کہہ دے میں نے خبر دی تم کو دونوں طرف برابر اور میں نہیں جانتا نزدیک ہے یا دور ہے88 جو تم سے وعدہ ہوا

87:۔ ” فَاِنْ تَوَلَّوْا الخ “” اٰذَنْتُکُمْ “ کا مفعول ثانی محذوف ہے ای ما اوحی الی اور ” عَلیٰ سَوَاءٍ “ مفعول اول سے حال واقع ہے یعنی جن امور کی بذریعہ وحی مجھے اطلاع دی گئی ہے اور جن کی تبلیغ کا حکم مجھے دیا گیا ہے مثلاً مسئلہ توحید، انکار کرنے والوں کے لیے عذاب شدید کی وعید اور آخر کار غلبہ اسلام وغیرہ ان امور کی میں نے بلا تخصیص تم سب کو اطلاع دے دی ہے ایسا نہیں کیا کہ کچھ لوگوں کو بتائے ہوں اور کچھ لوگوں سے ان کو چھپا رکھا ہو ای کائنین علی سواء فی الاعلام بذلک لم اخص احدا منکم دون احد (روح ج 17 ص 107) ۔ فقد اعلمتکم ما ھو الواجب علیکم من التوحید وغیرہ علی سواء، فلم افرق فی الابلاغ والبیان بینکم لانی بعثبت معلما۔ (کبیر ج 6 ص 204) ۔ یا ” عَلی سواء “ فاعل اور مفعول دونوں سے حال ہے یعنی میں نے تمہیں مسئلہ توحید عقل و نقل اور وحی کے دلائل سے اس طرح واضح اور عیاں کر کے بتا اور سمجھا دیا ہے کہ اب اس مسئلہ کے جاننے اور سمجھنے میں اور تم برابر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ضد اور عناد کی وجہ سے تم اس کا اقرار نہ کرو۔ ای مستویا انا وانتم فی العلم بما اعلمتکم بہ من وحدانیۃ اللہ تعالیٰ لقیام الادلۃ علیھا (روح ) ۔ 88:۔ ” وَ اِنْ اَدْرِيْ الخ “ یہ دعوی سورت کا اعادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں یعنی میں نے تمہیں یہ بات تو صاف صاف بتا دی ہے کہ مسئلہ توحید نہ مانوگے تو آخرت میں ذلت آمیز عذاب اور ہولناک عقاب میں متبلاء کیے جاؤ گے اور دنیا میں بھی آخر تم مغلوب ہوگے اور اسلام کا بول بالا ہوگا۔ یہ سب کچھ ضرور ہوگا مگر اس بات کا علم نہیں کہ یہ امور کب واقع ہوں گے۔ تمہاری تباہی و بربادی ہوجا کر اسلام کو کس سنہ میں غلبہ نصیب ہوگا اور قیامت کب قائم ہوگی۔ ان امور کا علم اللہ تعالیٰ مجھے عطاء نہیں فرمایا وھذا الایذان ھو اعلان بما یحل بمن تولی من العقاب وغلبۃ الاسلام ولکنی لا ادری متی یکون ذلک (بحر ج 6 ص 346) ۔ ” مَا تُوْعَدُوْنَ “ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ غلبہ اسلام، مشرکین پر دنیوی عذاب اور قیامت وغیرہ بہرحال اس سے جو بھی مراد ہو۔ وہ نزول آیت کے بعد زمانہ مستقبل میں واقع ہونے والا ہے اپنی ذات سے جس کے علم کی نفی کرنے کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔ سید محمود آلوسی لکھتے ہیں۔ ” ما توعدون “ من غلبۃ المسلمین و ظہور الدین او الحشر مع کونہ اتیا لا محالۃ (روح) ۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ اقریب ام بعید ما توعدون من یوم القیامۃ و من عذاب الدنیا ان ما یوعدون بہ من غلبۃ المسلمین علیھم کائن لا محالۃ ولابد ان یلحقہھم بذالک الذل والصغار وان کنت لا ادری متی یکون ذلک لان اللہ تعالیٰ لم یطلعنی علیہ (کبیر ج 6 ص 205) ۔ یعنی جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہے گی مگر مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ کب واقع ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اطلاع نہیں دی اور مجھے اس کے معین وقت کا علم عطاء نہیں فرمایا۔ امام ابو البرکات نسفی حنفی رقمطراز ہیں ای لادری متی یکون یوم القیامۃ لان اللہ تعالیٰ لم یطلعنی علیہ ولکنی اعلم بانہ کائن لامحالۃ او لا دری متی یحل بکم العذاب ان لم تومنوا (مدارک ج 3 ص 71) ۔ علامہ خازن راقم ہیں ” ماتوعدون “ یعنی یوم القیامۃ لا یعلمہ الا اللہ (خازن ج 4 ص 264) ۔ علامہ قرطبی خامہ فرسا ہیں ” ما توعدون “ یعنی اجل یوم القیامۃ لا یدریہ احد لا نبی مرسل ولا ملک مقرب قالہ ابن عباس وقیل اذنتکم بالھرب ولکنی لا ادری متی یوذن لی فی محاربتکم (قرطبی ج 11 ص 350) ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ ای ھو واقع لا محالۃ ولکن لا علم لی بقربہ ولا ببعدہ (قبن کثیر ج 3 ص 202) ۔
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

وہ رب جانتا ہے89 جو بات پکار کر کرو اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو

89:۔ ” اِنَّهٗ یَعْلَمُ الخ “ یہ ماقبل کی دلیل اور علت ہے۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور90 میں نہیں جانتا شاید تاخیر میں تم کو جانچنا ہے اور فائدہ دینا ہے ایک وقت تک

90:۔ ” وَ اِنْ اَدْرِيْ الخ “ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس تاخیر عذاب میں کیا حکمت ہے۔ شاید اس سے تمہارا امتحان اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک عطیات قدرت سے متمتع ہونے کا موقع دے کر تم پر حجت تام کرنا مقصود ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ مجرموں اور اپنے احکام کے باغیوں کو فورًا بلا مہلت نہیں پکڑتا بلکہ ان کو انعامات بےپایاں سے نواز کر اور مہلت دے کر موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ غور وفکر کر کے حق و باطل میں امتیاز کرسکیں۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

رسول نے91 کہا اے رب فیصلہ کر انصاف کا اور رب ہمارا رحمان ہے92 اسی سے مدد مانگتے ہیں ان باتوں پر جو تم بتلاتے ہو

91:۔ ” قَالَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے کیو کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی دعا کی حکایت فرمائی ہے کہ اے پروردگار ہمارے اور ان مشرکین کے درمیان جلد فیصلہ فرما دے۔ ہمیں غلبہ عطا کر اور ان کو مغلوب و مقہور اور ذلیل و خوار کر تو گویا یہ ان کے لیے عذاب دنیا کی بد دعا ہے ای رب اقض بیننا وبین اھل مکۃ بالعدل المقتضی لتعجیل العذاب والتشدید علیہم فھو دعاء بالتعجیل والتشدید والانکل قضائہ تعالیٰ عدل و وحق (روح ج 17 ص 108) ۔ 92:۔ ” وَ رَّبُّنَا الرَّحْمٰنُ الخ “ اور ہمارا رب اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے اور ہر آڑے وقت میں ہمارا کارساز اور مددگار ہے اے مشرکین جو کچھ تم کہہ رہے ہو۔ اور اپنی بہادری اور دلیری کی جو ڈینگیں مار رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ناکام کرے گا اور تمہارے مقابلے میں ہماری مدد کرے گا۔ مشرکین کہتے تھے کہ آخر شوکت و غلبہ ان کو حاصل ہوگا اور وہ اسلام کا جھنڈا سرنگوں کردیں گے۔ مگر اللہ نے ایمان والوں کو غلبہ اور عزت سے سرفراز فرمایا اور مشرکین کو سرنگوں کردیا اور اپنے پیغمبر ﷺ کی دعا قبول فرما لی۔ انھم کانوا یقولون ان الشوکۃ تکون لھم وان رایۃ الاسلام تخفق۔ فاستجاب اللہ عز وجل دعوۃ رسولہ ﷺ فخیب اٰمالم و غیر احوالھم ونصر اولیاء ہٗ علیھم فاصابھم یوم بدر ما اصابھم (روح ج 17 ص 108) ۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة انبیاء ختم ہوئی