Ayah 22:12:۔ پہلا حصہ۔ نفی شرک فی التصرف :۔ جیسا کہ خلاصہ میں ذکر کیا جا چکا ہے سورة حج کے پہلے حصے میں شرک اعتقادی یا شرک فی التصرف کی نفی کی گئی ہے اور اس پر دو عقلی دلیلیں مذکور ہیں۔ ” یَا اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ سورت کی ابتداء میں اصل مضمون سے پہلے قیامت کا لرزہ خیز اور ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے۔ تاکہ پڑھنے والوں کے دلوں میں خشیت الٰہی اور خوف خداوندی کی وجہ سے انابت و اطاعت کا جذبہ پیدا ہوجائے اور ان کے دل قبول حق کے لیے مستعد ہوجائیں۔ ” اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ الخ “ یہ مقابل کی علت ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہاں قیامت کے ہولناک منظر اور تباہ کن زلزلے کو بطور مثال پیش کیا گیا اور اس سے مقصد یہ ہے کہ قیامت کے ہولناک عذاب سے بچنے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ انسان لباس تقویٰ زیب جاں کرے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کا اتباع کرے اور اس کے محظورات سے اجتناب کرے۔ تعلیل بموجب الامر بذکر بعض عقوباتہ الھائلۃ فان ملاحظۃ عظمھا وھو لھاد فظاعۃ ماھی من مبادیہ و مقدماتہ من الاحوال والاھوال التی لا ملجا منھا سوی التدرع بلباس التقوی (ابو السعود ج 6 ص 302) ۔
3:۔ ” زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ “ قیامت کے اس ہولناک زلزلے (بھونچال) سے مراد کے بارے میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ (1) جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا اس وقت شدید زلزلہ آئیگا۔ اس طرح یہ زلزلہ قیامت کی ایک عظیم نشانی ہوگا۔ یہ قول علقمہ اور شعبی کا ہے (کبیر ج 6 ص 206، ہجر ج 6 ص 349) ۔ (2) ۔ مراد وہ زلزلہ ہے جو نفخہ اولی کے ساتھ آئیگا اور اس سے تمام نظام عالم درہم برہم ہو کر قیامت برپا ہوجائے گی حضرت عبداللہ بن عباس اور حسن بصری کا یہی قول ہے۔ قال ابن عباس زلزلۃ الساعۃ قیامھا فتکون معھا (خازن و معالم ج 5 ص 2) ۔ وقال الحسن اشد الزلزال ما یکون مع قیام الساعۃ (بحر) بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو قیامت اور لوگوں کے قبروں سے اٹھنے کے بعد آئے گا اس کی تائید میں ایک مرفوع حدیث بھی وارد ہے جسے عمران بن حصین، انس بن مالک، ابو سعید خدری اور عبداللہ بن مسعود ؓ نے آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے کہ یہ زلزلہ کب آئیگا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ قیامت کے دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمائیگا اپنی اولاد میں جہنم کا حصہ جہنم کی طرف بھیجدے الخ (ابن کثیر ج 305) ۔
Ayah 22:24:۔ ” یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ الخ “ یہ قیامت کے بھونچال کی ہولناکی کا بیان ہے یعی وہ زلزلہ اس قدر خوفناک ہوگا کہ مارے خوف کے دودھ پلانے والی عورت اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائیگی اور حاملہ عورت کا شدت خوف کی وجہ سے حمل ساقط ہوجائے گا اور متوالوں کی طرح گھبراہٹ اور سراسیمگی کے عالم میں دیوانہ وار ادھر ادھر دورنے لگیں گے حالانکہ وہ شراب وگیرہ کے نشہ میں نہیں بلکہ قیامت کی ہولناکی اور شدت خوف کی وجہ سے ان کی عقلوں میں فتور آجائیگا۔ فخوف عذاب اللہ ھو الذی اذھب عقولھم وطیر تمیر ھم وردھم فی نحو حال من یذھب السکر بعقلہ و تمییزہ (مدارک ج 3 ص 72) ۔
5:۔ ” وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا الخ “ اگر زلزلہ کو پہلی یا دوسری مراد پر محمول کیا جائے تو والدہ کا شیر خوار بچے کو بھول جانا اور حاملہ کے حمل کا گر جانا اپنے ظاہر پر محمول ہوگا یعنی شدت ہول کی وجہ سے فی الواقع ایسا ہوگا اور اگر حشر و نشر کے بعد کا زلزلہ مراد ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ بفرض محال اگر اس وقت کوئی مرضعہ یا حاملہ موجود ہو تو اس زلزلہ کی دہشت سے مرضعہ اپنے بچے کو بھول جائے اور حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے۔
Ayah 22:36:۔ ” وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ الخ “ یہ زجر ہے۔ تخویف کے بعد فرمایا مسئلہ توحید میں جو ایک واضح حقیقت ہے خواہ مخواہ جھگڑا اور نزاع کرتے ہیں اور توحید کے انکار پر عذاب قیامت سے بھی نہیں ڈرتے اور پھر اس انکار کے لیے ان کے پاس نقلی دلیل تو درکنار کوئی عقلی ثبوت بھی نہیں۔ ” بِغِیْرِ عِلْمٍ “ میں علم سے دلیل عقلی مراد ہے۔
7:۔ ” وَ یَّتَّبِعْ کُلَّ شَیْطٰنٍ الخ “ شیطان سے مراد ابلیس ہے جو مشرکین کے دلوں میں مختلف قسم کے وسوسے اور شبہات پیدا کر کے ان کو توحید اور ایمان بالآخرہ سے منحرف کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یا کفار و مشرکین کے رؤسا اور سردار مراد ہیں جو اپنے ماتحتوں کو کفر و شرک کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان کے ذہن میں توحید کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یجوز ان یرید شیاطین الانس وھم رؤساء الکفار الذین یدعون من دونھم الی الکفر والثانی ان یکون المراد بذالک ابلیس و جنودہ (کبیرج 6 ص 209) ۔
Ayah 22:48:۔ ” مَنْ تَوَلَّاهُ “ اي اتخذہ ولیا وتبعہ (روح ج 17 ص 114) ۔ یعنی جو شخص بھی ان شیاطین سے دوستی رکھے گا اور ان کی پیروی کرے گا وہ اسے صراط مستقیم سے گمراہ کر کے جہنم ہی کا راستہ دکھائیں گے۔
Ayah 22:59:۔ ” یَا اَیُّھَا النَّاسُ الخ “ یہ توحید اور قیامت پر پہلی عقلی دلیل ہے اس دلیل کے دو حصے ہیں ایک حصے میں خود انسان کی پیدائش کے مختلف مدارج سے اور دوسرے حصے میں زمین کے مختلف مدارج سے اور دوسرے حصے میں زمین کے مختلف احوال سے استدلال کیا گیا ہے۔ ذکر دلیلین واضحین علی ذالک احدھما فی نفس الانسان وابتداء خلقہ و تطورہ فی مراتب سبع۔ والثانی فی الارض التی تشاھدون تنقلھا من حال الی حال الخ (بحر ج 6 ص 351، 352) ۔ ” فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ “ سے دلیل کا ہپلا حصہ شروع ہوتا ہے یعنی یہ بات تو بالکل ظاہر اور شک و ریب سے بالاتر تھی لیکن نادان لوگ اس میں بھی شک کر رہے ہیں اگر مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے میں شک ہے تو وہ اپنے جد اعلیٰ آدم (علیہ السلام) اور خود اپنی پیدائش میں غور و فکر کریں تو قیامت اور حشر نشر کا مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے اور اس کے بارے میں تمام شکوک دور ہوسکتے ہیں۔ یعنی ان ارتبتم فی البعث فمزیل ریبکم ان تنظروا فی بدء خلقکم و قد کنتم فی البتداء ترابا و ماء ولیس سبب انکار کم البعث الا ھذا (مدارک ج 3 ص 72) ۔ تمہارا سب سے بڑا اشکال یہی ہے کہ ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے پھر دوبارہ کس طرح زندہ ہوسکیں حالانکہ تمہارا باپ آدم پہلے کچھ نہیں تھا پھر میں نے اس کو مٹی ہی سے پیدا کیا اور خود تمہارا بھی نام و نشان تک نہ تھا لیکن میں نے کمال قدرت کے ساتھ قطرہ آب کو مختلف احوال سے گذار کر احسن تقویم میں تمہیں پیدا کیا تو اسی پر دوبارہ جی اٹھنے کو قیاس کرلو۔ انسان کی پیدائش جہاں حشر و نشر پر واضح دلیل ہے۔ وہاں اس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ جب تمہارا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو لامحالہ مالک و مختار اور متصرف و کارساز بھی وہی ہے۔
10:۔ ” فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ الخ “ یعنی اول تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے اور پھر تمہیں قطرہ منی سے پیدا کیا۔ ” فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ “ ای اباء کم من ترب ثم خلقتم من نطفۃ الخ (مدارک) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ مٹی سے تمہارے لیے غذائیں پیدا کیں جو بدن میں پہنچ کر اور کئی منزلیں طے کر کے نطفہ بنیں اور پھر نطفہ مختلف مدارج سے گذرنے کے بعد انسانی شکل میں رونما ہوا۔ خلقہم من تراب فی ضمن خلق ادم (علیہ السلام) منہ او بخلق الاغذیۃ التی یتکون منھا المنی منہ الخ (روح ج 17 ص 116) ۔ اس آیت میں انسان کی ابتداء پیدائش سے انتہاء زندگی تک سات منزلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ (1، 2) ابتداء پیدائش مٹی اور قطرہ منی سے بتفصیل بالا۔ (3) ” عَلَقَةً “ جما ہوا خون جب منی رحم مادر میں پہنچ کر حمل کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو کچھ دنوں کے بعد وہ علقہ بن جاتی ہے (4) ” مُضْغَةً “ گوشت کا ٹکڑا۔ خون مزید پرورش پاکر گوشت بن جاتا۔ ” مُخَلَّقَةً “ کامل الخلقت جو تمام عیوب ونقائص سے پاک ہو اس سے قد و قامت، رنگ و روپ، شکل و صورت اور صحت توانائی کے اعتبار سے کامل بچہ پیدا ہوتا ہے۔ المخلقۃ المسواۃ الملساء من النقصان والعیب۔ فالنطفۃ التی یخلق منہا الانسان متفاوتۃ منھا ما ھو کامل الخلقۃ و منھا ما ھو علی عکس ذلک فیتبع ذالک التفاوت تفاوت الناس فی خلقھم وصورھم و طولھم و قصرھم وتمامھم و نقصانہم (روح ج 17 ص 116) ۔
11:۔ ” لِنُبَیِّنَ لِکُمْ الخ “ انسانی پیدائش کو ان مختلف اطوار و مدارج سے اس لیے گذارا ہے تاکہ ہماری قدرت کاملہ اور صنعت تامہ کا اظہار ہوجائے ” لِنُبَیَّنَ لَکُمْ “ یرید کمال قدرتنا بتصریفنا اطوار خلقکم (قرطبی ج 12 ص 11) ۔ ” وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ الخ “ پھر ہر جنین کو ہم رحم مادر میں جتنا عرصہ چاہتے ہیں رکھتے ہیں۔ مدت حمل چھ ماہ سے دو سال تک ہے عام اور غالب مدت حمل نو ماہ ہے۔
12:۔ ” ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا الخ “ یہ پیدائش کی پانچویں منزل ہے جب رحم مادر میں بچہ ہر لحاظ سے کامل ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کی مدت حمل پوری ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کمال قدرت کے ساتھ اسے رحم مادر سے باہر لے آتا ہے۔ ” ثُمَّ لِتَبْلُغُوْا اَشُدَّکُمْ “ یہ چھٹی منزل ہے۔ ” اَشَدُّ “ عقل وتمیز اور قوت بدن کا کمال کو پہنچنا ہے اس کا معطوف الیہ محذوف ہے ای ثم نخرجکم طفلا لتکبروا شیئا فشیئا ثم لتبلغوا کمالکم فی القوۃ والعقل والتمییز (ابو السعود ج 6 ص 214) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں ” لِتَبْلُغُوْا “ کا متعلق یبقیکم مقدر ہے۔ اصل میں تھا ثم یبقیکم لتبلغوا اشدکم۔
13:۔ ” وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی “ کمال قوت و عقل کو پہنچ کر کچھ لوگ راہی ملک عدم ہوجاتے ہیں۔ ” وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ “ یہ ساتویں منزل ہے اور کچھ لوگ جوانی کے بعد بڑھاپے کی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں جس میں ان کے قوائے بدنیہ کمزور ہوجاتے ہیں اور ذہنی اور علمی قوتیں جواب دے دیتی ہیں یہاں تک کہ بچپن اور جوانی کے معلومات قوت حافظہ سے محو ہوجاتے ہیں۔ ای یبلغ من السن ما یتغیر بہ عقلہ فلا یعقل شیئا (معالم و خازن ج 5 ص 4) ۔ انسانی پیدائش اور زندگی کے مختلف اطوار و ادوار سے اللہ تعالیٰ کے کمال تصرف اور انتہائے قدرت کا پتہ چلتا ہے وہ ایسا قادر و متصرف اور علیم و حکیم ہے کہ اس نے انسان کو پہلی بار آب و گل سے پیدا کیا۔ اسی طرح جب تمام انسان مرجائیں گے اور ان کے بدن کا روں رواں سڑ کر خاک میں مل جائے گا ” اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ “ تو وہ قادرو توانا اور حکیم و دانا خاک کے ان ذروں کو یکجا کر کے انسانوں کو دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے اس دلیل سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ ساری کائنات کا مالک و خالق اللہ تعالیٰ ہے اور وہی قادر و متصرف ہے لہذا اس کے سوا کارساز اور حاجت روا بھی کوئی نہیں۔
14:۔ ” وَتَرَي الْاَرْضَ الخ “ یہ پہلی عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے۔ ” ھَامِدَةً “ خشک بےآب وگیاہ۔ وھمود الارض الا یکون فیھا حیاۃ ولا نبت ولا عود ولم یصبھا مطر (قرطبی ج 12 ص 13) ۔ ” اِھْتَزَّتْ “ زمین کے اجزاء حرکت میں آگئے اور ایک دوسرے سے جدا ہو کر زمین کی روئیدگی کے لیے راستہ کھول دیا۔ ” رَبَتْ “ پھیلنے اور پھولنے لگے تم اپنی آنکھوں مشاہدہ کرتے ہو کہ زمین بالکل مردہ، خشک اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے لیکن جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو زمین میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور اس میں سر سبز و شاداب کھیت اور پودے لہلہانے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کاملہ کا تم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو تو جو اللہ اس مردہ زمین سے لہلہاتے کھیت پیدا کرسکتا ہے وہ انسانوں کو بھی خاک ہوجانے کے بعد دوبارہ زندگی عطا فرما سکتا ہے اور وہی قادر وقیوم تمہارا اور ساری کائنات کا کارساز ہے۔
Ayahs 22:6–715:۔ ” ذَالِکَ بِاَنَّ الخ “ جار مجرور کا متعلق محذوف ہے ای لتستیقنوا۔ ذالک ای المذکور فی الدلیل مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہوگیا کہ کارساز اور متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ قیامت بپا کرنے پر قادر ہے اس سے حسب ذیل امور ثابت ہوئے کہ (1) معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (2) وہ مردوں کو ضرور زندہ کرے گا۔ (3) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (4) اور قیامت لامحالہ آئیگی۔ (5) اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھائیگا۔ یہ پانچوں ثمرات و نتائج دلائل مذکورہ پر مرتب ہیں۔ اور ” اِنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَاِنَّهٗ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، وَ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ“ اور ” وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ “ یہ سب ” اَنَّ اللّٰهُ ھُوَ الْحَقُّ “ پر معطوف ہیں۔ ثم انہ سبحانہ لما قرر ھذین الدلیلین رتب علیھما ماھو المطلوب والنتیجۃ وذکر امور خمسۃ الخ (کبیر ج 6 ص 216) ۔
Ayah 22:816:۔ ” وَ مِنَ النَّاسِ الخ “ یہ زجر اول کا تفصیلی اعادہ ہے یعنی ضدی اور معاند لوگ اللہ کی توحید میں خواہ مخواہ جھگڑا کرتے اور شبہات نکالتے ہیں حالانکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جسے وہ اپنے مشرکانہ عقائد و اعمال کی تائید میں اور توحید کے خلاف پیش کرسکیں۔ عقل و نقل اور وحی سے کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں۔ ” بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًي وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ “” عِلْمٍ “ دلیل عقلی۔ ” ھُدًي دلیل وحی “ اور ” کِتَاب منیر “ دلیل نقلی۔ یہ نادان لوگ اللہ کی توحید میں شک کر رہے ہیں باوجودیکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے یعنی دلیل عقلی اور نہ ہدایت یعنی وحی اور نہ کتاب منیر یعنی دلیل نقلی۔ قالہ الشیخ وقال فی جامع البیان لیس لہ علم فطری ولا مایستند الی دلیل نقلی ولا الی وحی (ص 219) ۔
Ayahs 22:9–1017:۔ ” ثَانِيَ عِطْفِهٖ الخ “ یہ ” یُجَادِلُ “ کے فاعل سے حال ہے یعنی حق سے اعراض کرتے اور اللہ کے ذکر سے منہ موڑتے ہوئے وہ جھگڑا کرتا ہے ” لِیُضِلّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ “ یہ اس کے جدال کی غرض وغایت اور علت ہے۔ یعنی جدال سے اس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ متعلق یجادل علۃ لہ فان غرضہ من الجدال الاضلال عن سبیلہ تعالیٰ وان لم یعترف بانہ اضلال (روح ج 17 ص 122) ۔
18:۔ ” لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْيٌ الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” وَ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ الخ “ تخویف اخروی۔ ” ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ الخ “ ای یقال لہ فی الاخرۃ اذا دخل النار (قرطبی ج 12 ص 16) جب آخرت میں وہ جہنم میں داخل ہوگا اس وقت اس سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے کیے کی سزا ہے اور تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ ان اللہ لیس بظلام للعبید سے پہلے اور واؤ عاطفہ کے بعد اعلم مقدر ہے ورنہ ماقبل پر اس کا عطف جائز نہیں۔
Ayah 22:1119:۔ ” وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ الخ “ یہ زجر ثانی ہے اس میں مذبذب لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو اللہ پر پورا پورا ایمان ویقین نہیں تکھے۔ ” علی حرف “ ای طرف من الدین۔ یعنی وہ دین اسلام کے کنارے پر کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر انہیں کوئی دنیوی فائدہ حاصل ہوجائے یا مالی وسعت یا بدنی راحت مل جائے تو ظاہری طور پر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں لیکن اگر کوئی نقصان ہوگیا کوئی تکلیف پہنچ گئی مال یا جان پر کوئی آفت آگئی تو فوراً دین اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجاتے ہیں اور اللہ کی خالص عبادت ترک کر کے جس میں دون اللہ کی طرف کسی نے بلایا اسی کے سامنے جھک جاتے ہیں۔
20:۔ ” خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَة الخ “ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اور خسارہ اٹھاتے ہیں۔ مالی اور جانی نقصان اٹھا کر دنیوی خسارہ میں رہے اور پھر اللہ کی توحید چھوڑ کر اپنی آخرت بھی خراب کرلی۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں فی مقدر کرنے کی ضرورت نہیں اور مطلب یہ ہے کہ اس نے دنیا بھی گنوائی اور آخرت بھی۔
Ayah 22:1221:۔ ” یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ الخ “ یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے اور اس میں دنیا اور آخرت کے خسارے کی تفصیل مذکور ہے یعنی وہ ظالم اللہ تعالیی کی خالص عبادت چھوڑ کر ایسے عاجز و بےبس معبودوں کی پرستش اور پکار میں لگ جاتا ہے جو نہ اسے نفع پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ نقصان پہنچانے کی اور یہ بہت بڑی گمراہی ہے کہ اللہ کی توحید کو چھوڑ کر شرک کیا جائے۔ استئناف مبین لعظم الخسران (روح ج 17 ص 124) ۔
Ayah 22:1322:۔ ” یَدْعُوْا لمَنْ ضَرُّهٗ الخ “ لام ابتدائیہ ہے جملہ استینافیہ ہے اس میں غیر اللہ کی پکار اور دعاء کا بد انجام اور اس کا بہت بڑی گمراہی ہونا واضح کیا گیا ہے استیناف یبین مال دعائہ و عبادتہ غیر اللہ تعالیٰ ویقرر کون ذلک ضلالا بعیدا (روح ج 17 ص 125) ۔ اس آیت اور اس سے پہلی آیت میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلی آیت میں معبودان باطلہ کے نافع اور ضار ہونے کی نفی کی گئی ہے مگر اس آیت میں ان کے ضار یعنی نقصان رساں ہونے کا اثبات ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جن معبودان باطلہ کو مشرکین مختار نفع و نقصان اور متصرف سمجھ کر پکارتے ہیں۔ بیشک وہ عاجز و درماندہ ہیں اور نفع یا نقصان پہنچانا ان کی قدرت و طاقت سے باہر ہے لیکن ان کی عبادت کرنا اور انہیں حاجات و مشکلات میں پکارنا ان کے پجاریوں کے حق میں سخت نقصان دہ اور باعث خسارہ ہے کیونکہ اس شرک کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلتے رہیں گے حاصل یہ کہ معبوادان باطلہ بذات خود نقصان رساں نہیں ہیں لیکن ان کی عبادت اور پکار سراسر نقصان اور خسارے کا باعث ہے۔ اجابو عن التناقض بامور احدھا انھا لا تضر ولا تنفع بانفسھا ولکن عبادتھا سبب الضرر (کبیر ج 6 ص 216) ۔ مشرکین معبودان باطلہ کی اس خیال سے عبادت کرتے تھے کہ وہ خدا کے یہاں ان کے سفارشی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی عبادت میں کچھ نفع نہیں بلکہ سراسر خسارہ ہے اور وہ ان کے کسی کام نہیں آسکیں گے وقیل یعبدونہم توھم انھم یشفعون لھم غدا کما قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعہم ویقولون ھؤلاء شفعاؤنا عنداللہ وقال تعالیٰ ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی (قرطبی ج 12 ص 19) ۔
23:۔ ” اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ “ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ دلائل عقلیہ تو واضح اور ثابت کر رہے کہ خالص اللہ ہی کی عبادت کرو اور خالص اسی کو پکارو لیکن پھر بھی بعض لوگ بلا وجہ اور بلا دلیل جھگڑا کرتے اور اللہ کی خالص عبادت اور پکار میں شک کرتے ہیں اور ایسے عاجز معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت اور جنہیں پکارنے کا ضرر نفع کی نسبت اقرب الی الفہم ہے یعنی یہ بات نہایت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ ان کی عبادت اور پکار میں نفع تو کیا ہوگا البتہ ضرور اور نقصان ضرور ہوگا۔
Ayah 22:1424:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الخ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Ayah 22:1525:۔ ” مَنْ کَانَ یَظُنُّ الخ “ جمہور مفسرین نے ” یَنْصُرَهُ “ کی ضمیر منصوب کا مرجع آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کو قرار دیا ہے کیونکہ قرآن پڑھتے وقت آپ کا تصور ذہن میں رہتا ہے اس لیے کہ آپ قرآن کے مخاطب اول ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد کرے گا۔ دنیا میں آپ کے دین اور آپ کے متبعین کو سربلند کر کے اور آخرت میں آپ کا درجہ سب سے بلند کر کے آپ کے متبعین کو جنت میں داخل فرما کر اور آپ کے دشمنوں کو جہنم رسید کرے گا لیکن جس شخص کا ازراہ بغض و حسد یہ گمان ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں آپ کی مدد نہیں کرے گا تو وہ بغض و حسد کی آگ میں جل مرے تو کیا حسد و عداوت کے جذبہ میں کوئی سخت اقدام کرنے مثلاً خود کشی کرلینے سے اس کے سینے کی آگ سرد ہوجائیگی۔ قال ابن عباس ان الکنایۃ فی ” یَنصْرَہُ اللّٰهُ “ ترجع الی محمد ﷺ (قرطبی ج 12
ص 21) اور ” السَّمَاء “ سے گھر کی چھت مراد ہے اور ” لِیَقْطَعْ “ بمعنی لیختنق یعنی چھت سے رسی لٹکا کر خودکشی کرے والمعنی لیشدو حبلا فی سقف بیتہ فلیختنق بہ حتی یموت (خازن ج 5 ص 7) ۔ جیسا کہ حاسد سے کہا جاتا ہے اگر تجھے یہ بات پسند نہیں تو حسد سے جل کر مرجا کما یقال لحاسد ان لم ترض ھذا فاختنق و مت غیظاً (معالم ج 5 ص 7) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو یہ بات ناگوار ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی مدد کرے تو اگر اس کو روکنے کی طاقت ہو تو آسمان پر چڑھ جائے اور مدد کا سرچشمہ بند کر کے اس کو منقطع کردے پھر دیکھے کہ اس حیلے سے وہ مدد کو روک کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرسکتا ہے فلیطلب حیلۃ یصل بھا الی السماء ” ثُمَّ لْیَقْطَعْ “ ای ثم لیقطع النصر ان تھیا لہ (قرطبی) ۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں۔ دنیا کی تکلیف میں جو کوئی خدا سے ناامید ہو کر اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزیں پوجے۔ جن کے ہاتھ نہ برا نہ بھلا۔ وہ اپنے دل کے ٹھہرانے کو یہ صورت قیاس کرے جیسے ایک شخص اونچی رسی سے لٹک رہا ہو اگر چرھ نہیں سکتا توقع تو ہے کہ رسی اوپر کھنچے تو چرھ جائے۔ جب رسی تور دی پھر کیا توقع رہی۔ اس مطلب کی صورت میں ” یَنْصُرَهٗ “ کی ضمیر منصوب مَنْ کی طرف راجع ہوگی۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ پہلی دونوں صورتوں میں اس آیت کا ماقبل سے ربط واضح نہیں ہوگا کیونکہ اس سے پہلے غیر اللہ کی پکار کے غیر نافع ہونے کا ذکر ہے اس لیے ربط میں تکلف ہوگا یعنی مسئلہ توحید کو بیان کرنے والے چونکہ اللہ کے یغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں اس لیے مشرکین کا خیال تھا کہ اللہ اس کی مدد نہیں کرے گا اس لیے کہ اس تکلف سے بچنے کے لیے شاہ عبدالقادر (رح) کا مطلب موزوں ہے یا مطلب یہ ہو کہ غیر اللہ کو پکارنے والوں کو اگر یہ گمان ہو کہ اللہ ان کی مدد نہیں کرے گا اس لیے انہوں نے اولیائے کرام کو شفعاء بنایا ہوا ہے تو وہ دل کے اطمینان کی خاطر پہلے ان لوگوں کا خیال کریں جو حاجات و مشکلات میں غیر اللہ کو پکارتے ہیں پھر ان لوگوں کا خیال کریں جو خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔
Ayah 22:1626:۔ ” وَکَذٰالِکَ اَنْزَلْنٰهُ الخ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی مسئلہ توحید کو قرآن میں اس طرح دلائل سے واضح کرنا ہمارا ہی کمال ہے اور یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ” مَنْ یُّرِیْدُ “ یرید کا فاعل مَنْ ہے یعنی اللہ تعالیی ان لوگوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے جو سیدھی راہ دیکھنا چاہیں اور اللہ کی طرف انابت کریں۔ یا یرید کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور عائد محذوف ہے ای یرید ھدایتہ یعنی اللہ تعالیٰ جسے راہ راست پر لانا چاہتا ہے اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔
Ayah 22:1727:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام۔ ” وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا “ قوم موسیٰ علیہ السلام۔ ” وَالصَّائِبِیْنَ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد کے لوگ مراد ہیں جو شمس و قمر اور دیگر سیاروں کی عبادت کرتے تھے۔ ” وَالنَّصَارٰي “ قوم عیسیٰ علیہ السلام۔ ” وَالْمَجُوْس “ آتش پرست۔ ” وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا “ اور دیگر تمام مشرکین جو صائبین اور مجوس کی طرح کسی خاص نام سے مشہور نہیں ہیں دنیا میں تو سب حق پر ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ مومنوں اور دیگر پانچ فرقوں کے درمیان آخری فیصلہ فرمائے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے موافق جزا و سزا دے گا۔ ای یقضی و یحکم فللکفرین النار وللمومنین الجنۃ (قرطبی ج 12 ص 23) ۔
28:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٍ “ یہ ماقبل کی علت ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ سب کے ظاہر و باطن اور ہر ایک کے اعمال سے باخبر ہے اس لیے وہ قیامت کے دن بالکل صحیح صحیح فیصلہ سنائے گا اور کسی پر ظلم نہی ہوگا نہ کسی کی حق تلفی ہوگی۔ ای انہ عالم بما یستحقہ کل واحد منھم فلا یجری فی ذالک الفضل ظلم ولا حیف (خازن ج 5 ص 8) ۔
Ayah 22:1829:۔ ” اَلَمْ تَرَ الخ “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے سجود سے مراد انقیاد تام ہے یعنی ہر چیز تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے ماتحت ہے۔ السجود التذلل ولانقیاد لتدبیر اللہ عز وجل (قرطبی ج 12 ص 24) ۔ کیونکہ ہر جماد اور بےجان چیز بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے۔ فانہ ما من جماد الا وھو مطیع للہ خاشع للہ و مسیح لہ الخ (معالم ج 5 ص 8) ۔ جب ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد ہے اور اس کے تکوینی احکام سے سر مُو انحراف نہیں کرسکتی کیونکہ وہی اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک و مختار ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ کارساز اور متصرف بھی وہی ہے لہذا اسی کی عبادت کرنی چاہئے رکوع و سجود اور نذر و نیاز دعاء اور پکار کا مستحق بھی وہی ہے۔ 30:۔ ” وَ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاس الخ “ یہ فعل محذوف کا فاعل ہے۔ ای یسجد لہ۔ بہت لوگ اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو شرک کرتے ہیں اور شرک و کفر کی وجہ سے عذاب الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں۔ ” مَنْ یُّھِنِ اللّٰهِ الخ “ جس شخص کو اللہ تعالیی ہدایت سے محروم کر کے ذلیل و خوار کردے اس کو عزت و اکرام اور سعادت دارین سے کوئی ہمکنار نہیں کرسکتا۔
Ayahs 22:19–2231:۔ ” ھٰذَانِ خَصْمَانِ الخ “۔ جھگڑنے والے دو فریقوں سے مراد مومن اور کافر ہیں یعنی دلائل وبراہین سے مسئلہ توحید کے اس قدر واضح ہوجانے کے باوجود مشرکین مسلمانوں سے اپنے پروردگار کی توحید میں جھگڑتے ہیں حالانکہ یہ مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہوچکا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق ومالک اور پروردگار مانتے ہیں تو پھر اس کی صفات کارساز میں کیوں غیروں کو شریک کرتے ہیں۔
32:۔ ” فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ تا ” ذُوْقُوْا عَذاَبَ الْحَرِیْق “ یہ تخویف اخروی ہے اللہ کی توحید میں مومنوں کے ساتھ جھگڑا کرنے والے فریق کا اخروی انجام یہ ہوگا کہ جہنم میں ان کو آگ کا لباس پہنایا جائیگا اور اوپر سے ان کے سروں پر سخت گرم کھولتا ہوا پانی ڈالا جائیگا جس سے ان کے بدن پگھل جائیں گے۔ ” وَ لَھُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ “ اور ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے یا کوڑے مراد ہوں گے جب وہ عذاب جہنم سے باہر نکلنے کی کوشش کریں گے تو فرشتے کوڑوں یا ہتھوڑوں سے مار کر انہیں واپس جہنم میں دھکیل دیں گے۔ ان جہنم لتجیش فتلقیھم الی اعلاھا فیریدون الخروج منھا فتضربھم الزبانیۃ بمقامع الھدید فیھو ون فیھا (خازن و معالم ج 5 ص 10) ۔
Ayahs 22:23–2433:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ الخ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے اور اس میں توحید پرستوں کا نیک انجام بیان کیا گیا ہے آخرت میں ان کو چشموں اور ندیوں والے باغ عطا ہوں گے انہیں سونے اور جواہرات کے زیور اور ریشمی ملبوسات پہنائے جائیں گے۔ ” وَ ھُدُوْا اِلَی الطَّیِّبِ الخ “ دنیا میں ان کو کلمہ توحید اور دین اسلام قبول کرنے کی توفیق دی گئی جس کی وجہ سے آخرت میں انہیں یہ جزا دی گئی ای ارشد ھؤلاء فی الدنیا الی کلمۃ التوحید والی صراط الحمید ای الاسلام (مدارک ج 3 ص 75) ۔
Ayah 22:2534:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ “۔ تخویف اخروی ان مشرکین کے لیے جو لوگوں کو توحید اور مسجد حرام میں اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ ” وَ یَصُدُّوْنَ “ میں واؤ زائدہ ہے۔ اور ” یَصُدُّوْنَ “ اِنَّ کی خبر ہے یا یَصُدُّوْنَ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای وھم یصدون اس پر یہ جملہ کفروا کے فاعل سے حال ہوگا اور اِنَّ کی خبر محذوف ہوگی بقرینہ آخر آیت ای نذیقھم الخ (روح) یعنی جو لوگ خود بھی توحید کا انکار کریں اور دوروں کو بھی توحید سے روکیں انہیں ہم دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayahs 22:26–2735:۔ دوسرا حصہ۔ نفی شرک فعلی :۔ ” وَ اِذْ بَوَّانَا الخ “ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے اس میں نفی شرک فعلی کا بیان ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دلیل نقلی ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے خانہ کعبہ کی اصل جگہ بتائی جہاں انہوں نے اس کی تعمیر کی تاکہ آنے والی نسلیں اس میں اللہ کی خالص عبادت کیا کریں۔ بینا لہ مکان البیت لیبنیہ ویکون مباء ه لعقبہ یرجعون و یحجونہ (روح ج 17 ص 141) ۔ مشرکین سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرو کیونکہ وہ اولاد ابراہیم میں اور ملت ابراہیمی کے پیرو کار ہونے کے مدعی ہیں انہوں نے کس طرح بیت اللہ کی تعمیر کی اور پھر اسے ہر قسم کے شرک سے پاک رکھا اور ایام حج میں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اس کی نذریں نیازیں دیں مگر ان مشرکین کے عقائد و اعمال سراسر ان کے خیال ہیں۔
36:۔ ” اَنْ لَّا تُشْرِک الخ “ اَنْ مفسرہ ہے ماقبل کے لیے کیونکہ تبوئۃ امر اور قول کے معنوں کو متضمن ہے ہم نے ابراہیم کو حکم دیا کہ عقائد و اعمال میں اللہ کا شریک نہ بنانا اور میرے گھر کو ظاہری پلیدی اور شرک کی نجاست سے پاک رکھنا اور چاروں عبادات بدنیہ یعنی طواف، قیام رکوع اور سجود کرنے والوں کے لیے خانہ کعبہ کو صاف رکھنا اور لوگوں میں اعلان کردینا کہ وہ دنیا کے تمام اطرارف و اکناف سے آ کر میرے گھر کا طواف کریں اور صرف اللہ کے نام کی نذریں دیں۔ ” لِیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ “ منافع سے دینی اور دنیوی منافع مراد ہیں۔ حج سے دینی فائدہ اللہ کی رضا مندی کا حصول ہے اور دنیوی فائدہ یہ ہے کہ وہاں قربانی کا گوشت وافر ملتا ہے نیز مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مال کی خریدو فروخت سے نفع اٹھانے کا موقع میسر آتا ہے عن ابن عباس منافع فی الدنیا و منافع فی الاخرۃ فاما منافع الاخرۃ فرضوان اللہ تعالیٰ واما منافع الدنیا فما یصیبون من لحوم البدن فی ذالک الیوم والذبائح والتجارات (روح ج 17 ص 145) ۔
Ayahs 22:28–2937:۔ ” وَ یَذْکُرُوْا الخ “ اس حصے میں بھی چاروں عنوانات مذکور ہیں۔ (1) اللہ کی نذریں نیازیں جائز ہیں۔ (2) اللہ کی تحریمات برحق ہیں۔ (3) تحریمات غیر اللہ باطل ہیں۔ (4) غیر اللہ کی نذر و نیاز حرام ہے۔ ” وَ یَذْکُرُوْا اسْمَ اللّٰه الخ “ میں اللہ کی نیازوں کا حکم ہے کہ قربانی کے ایام (10 تا 12 ذی الحجہ) میں اللہ کے نام کی نذریں دو اور خود بھی کھاؤ اور غرباء اور مساکین کو بھی کھلاؤ۔ ” بَھِیمَةُ الْاَنْعَامِ “ میں اضافت بیانیہ ہے۔ ” ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ “ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں۔ تفث سے تمام مناسک حج مراد ہیں۔ التفث المنسک کلہ من الوقوف بعرفۃ والسعی بین الصفا والمروۃ ورمی الجمار (روح ج 17 ص 146) ۔ ” وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ “ اور اللہ کی نذریں پوری کریں۔
Ayah 22:3038:۔ ” وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللّٰهِ الخ “ یہ تحریمات اللہ کا ذکر ہے حالت احرام میں جن اعمال کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مثلاً بحالت احرام شکار کرنا وغیرہ ان کو حرام سمجھنا عین تقوی ہے۔
39:۔ ” وَ اُحِلَّتْ لَکُمْ الخ “ تحریمات مشرکین کا ابطال ہے یعنی اپنے طواغیت کی خاطر بحیرہ، سائبہ مت بناؤ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی یہ چوپائے اللہ نے تمہارے لیے حلال کیے ہیں اس لیے انہیں کھاؤ۔ ” اِلَّا مَا یُتْلیٰ عَلَیْکُمْ “ میں تحریمات اللہ کا بیان ہے یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیوں کو حرام سمجھو اور انہیں حلال مت جانو اور مایتلی علیکم سے سے الرجس مراد ہے جو اس کے متصل بعد مذکور ہے یا اس سے مراد حرمت علیکم المیتۃ الخ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس سے اللہ کے حلال کو حرام نہ کرو صرف انہی چیزوں کو حرام سمجھو جنہیں اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کیا ہے مثلاً شرک، غیر اللہ کی نذر و نیاز وغیر۔ والمعنی ان اللہ تعالیٰ احل لکم الانعام کلھا الا مابین فی کتابہ فحافظوا علی حدودہ ولا تحرموا شیئا مما احل کتحریم البعض البحیرۃ ونحوھا و تحلوا مما حرم کا حلالھم اکل الموقوذۃ والمیتۃ وغیرھما۔ (مدارج ج 3 س 78) ۔ الا ما یتلی علیکن ایۃ تحریمہ استثناء متصل کما اختارہ الاکثرون عنھا علی ان ما عبارۃ عما حرم منھا العارض کالمیتۃ وما اھل بہ لغیر اللہ تعالیٰ (روح ج 17 ص 174)
40:۔ ” فَاجْتَنِبُوْا الخ “ من الاوثان میں من بیانیۃ ہے اور الاوثان سے پہلے مضاف محذوف ہے ای عبادۃ الاوثان (معالم و خازن) ۔ الرجس کے معنی نجاست اور پلیدی کے ہیں اصل عبارت اس طرح تھی۔ فاجتنبوا الرجس الذی ھو عبادۃ الاوثان۔ یعنی غیر اللہ کی عبادت (دعا) پکار اور نزر و منت جو سراسر ناپاک اور نجس ہے اس سے اجتناب کرو یعنی بالرجس عبادۃ الاوثان و قد روی ذلک عن ابن عباس وابن جریج فکانہ قیل اجتنبوا من الاوثان الرجس وھو العبادۃ (روح ج 17 ص 148) ۔ اس صورت میں من بعضیہ ہوگا۔ 41:۔ ” وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الخ “ یہ ” اِجْتَنِبُوْا “ اول پر معطوف ہے اور اعادہ فعل مزید اہتمام اور تاکید کیلئے ہے ” قَوْلَ الزُّوْر “ سے مراد مشرکانہ اقوال ہیں جیسا کہ مشرکین حج کے وقت تلبیہ میں اپنی طرف سے مشرکانہ الفاظ بڑھا لیا کرتے تھے۔ قیل ھو قول المشرکین فی تلبیتھم لبیک لا شریک لک لبیک الا شریکا ھو لک تملکہ ومالک (معالم و خازن ج 5 ص 16) ۔ یا غیر اللہ کی نذر و منت ماننا اور تحریمات مشرکین مراد ہیں کانہ تعالیٰ لما حث علی تعطیم الھرمات اتبع ذالک بما فیہ رد لما کانت الکفرۃ علیہ من تحریم البحائر والسوائب ونحوھا (روح) سورة مائدہ کی تفسیر (ص 261 حاشیہ 11) میں گذر چکا ہے کہ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک ” ما اھل به “ میں ما سے مراد وہ قول ہے جو غیر اللہ کی نذر مانتے وقت زبان سے ادا کیا جاتا ہے اور ” قول الزور “ سے بھی وہی قول مراد ہے۔ واجتنبوا قول الزور ای النذر لغیر اللہ والذبح علی غیر اسمہ۔ حاصل یہ کہ غیر اللہ کی نذر و نیاز کھانے سے بھی بچو اور نذر غیر اللہ ماننے سے بھی اجتناب کرو۔
Ayah 22:3142:۔ ” حُنَفَاءَ لِلّٰهِ الخ “ حنفاء اور غیر مشرکین دونوں فاجتنبوا کی ضمیر سے حال موکدہ ہیں وھما حالان مؤکدتان من واو فاجتنبوا (روح ج 17 ص 149) ۔ حنفاء حنیف کی جمع ہے یعنی تمام باطل دینوں سے بیزار ہو کر دین حق کی طرف مائل ہونیوالا اور خالصۃً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا۔ مائلین عن کل دین فرائغ الی الدین الحق مخلصین لہ تعالیٰ (روح ) ۔
43:۔ ” وَ مِنَ الشِّرْکِ الخ “ ایک تمثیل کے ذریعے شرک کی تباہ کار اور اس کی برائی واضح کی گئی ہے۔ یہ تشبیہ مرکب ہے اس میں مشرک کے حال کو اس شخص سے تشبیہ دی گئی ہے جو آسمان سے گر پڑے حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے خود کو ہلاکت اور تباہی کے گھڑے میں جھونک دیا اور اپنی جان ضائع کردی اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص آسمان سے گر پڑے اور شکاری پرندے اس کی بوٹیاں نوچ لیں یا ہوا اڑا کر اسے کسی بہت گہرے کھڈ میں جا پھینکے من اشرک باللہ فقد اھلک نفسہ اھلاکا لیس بعدہ ھلاک بان صور حالہ بصورۃ حال من خر من السماء فاختطفتہ الطیر فتفرق قطعا فی حواصلھا او عصفت بہ الریح حتی حوت بہ فی بعض المھالک البعیدۃ (مدارک ج 3 ص 87) یا یہ تشبیہ تفصیلی ہے یعنی ایمان اور توحید کو آسمان سے اور شرک کرنے کو آسمان سے گرنے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور شکاری پرندوں سے افکار باطلہ اور اہواء نفسانیہ مراد ہیں اور ہوا سے مراد شیطان ہے یعنی جو شخص شرک کر کے ایمان اور توحید کے بلند ترین مقام سے خود کو گراتا ہے وہ کسی صورت بچ نہیں سکتا۔ یا تو امانی باطلہ اور خیالات فاسدہ کے خونخوار پرندے اس کی بوٹیاں نوچ لینگے اور اس کی عقل و فکر کو اس طرح معطل کردیں گے کہ وہ سوچنے اور سمجھنے کی توفیق سے محروم ہوجائے گا یا پھر شیطان تیز ہوا کے جھکڑ کی طرح اسے اڑا کر صراط مستقیم سے کہیں دور لے جا کر پھینک دے گا۔ (روح وغیرہ) ۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں۔ اور جو کوئی شریک کرے اس کی مثال فرمائی اس واسطے کہ جس کی نیت ایک اللہ پر ہے وہ قائم ہے اور جہاں نیت بہت طرف گئی وہ سب کو راہ میں سے اچک لے گئے یا سب سے منکر ہو کر دہری ہوگیا۔
Ayah 22:3244:۔ ” ذَالِکَ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ الخ “ ذَالِکَ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے یا مفعول ہے اور اس کا ناصب محذوف ای ذالک امر اللہ او اتبعوا ذالک (قرطبی) بطور تاکید اللہ تعالیٰ کی نذر و منت کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے اور شعائر سے اللہ تعالیی کی نذر و منت کی قربانیاں اور ہدایا مراد ہیں۔ ای البدن الھدایا کما روی عن ابن عباس و مجاھد و جماعۃ واطلقت علی البدن الھدایا لانھا من معالم الحج او علامات طاعتہ تعالیٰ وھدایتہ (روح ج 17 ص 150) ۔
Ayah 22:3345:۔ ” ثُمَّ مَحَلُّھَا الخ “ محل مصدر میمی ہے بمعنی وجوب یا ظرف زمان یعنی وقت ذبح۔ البیت العتیق سے بیت اللہ شریف مراد ہے یعنی بیت اللہ کے ہدایا کو بیت اللہ کے پاس منی وغیرہ میں لے جا کر اللہ کے نام پر ذبح کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔
Ayah 22:3446:۔ ” وَلِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا الخ “ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نذر و نیاز کا بیان ہے۔ منسک اسم ظرف مکان ہے یعنی قربان گاہ یا مصدر ہے یعنی اللہ کے تقرب کے لیے جانور کو ذبح کرنا۔ فسرہ مجاھد ھنا بالذبح واراقۃ الدماء علی وجہ التقرب الیہ تعالیٰ (روح ج 17 ص 53) ۔ یہاں یہ بات واضح کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے قربانی کرنے اور اللہ کی نذر و نیاز دینے کا دستور ہر امت میں مقرر تھا اور کسی امت کو اس سے مستثنی نہیں کیا گیا۔ اور ہر امت کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے دئیے ہوئے چوپایوں میں سے صرف اللہ تعالیٰ کے نام ہی کی نذریں اور منتیں دیا کریں۔ اور غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز سے اجتناب کریں۔ لما ذکر تعالیٰ الذبائح بین انہ ل یخل منھا امۃ (قرطبی ج 12 ص 58) ۔
47:۔ ” فَاِلٰھُکُمْ الخ “ چونکہ تمہارا معبود اللہ تعالیٰ ہے اور ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے لہذا تم اس کے مطیع فرمان رہو اس کی تحریمات کو قائم رکھو۔ نذر و نیاز بھی اسی کے نام کی دو اور غیر اللہ کی تحریمات کو توڑو اور گیر اللہ کی نذریں نیازیں مت دو ۔ والمراد اخلصو لہ تعالیٰ الذکر خاصۃ واجعلوا لوجھہ سالما خالصا لا تشوبوہ باشراک (روح ج 17 ص 104) ۔ امر تعالیٰ عند الذبائح بذکرہ و ان یکون الذبح لہ لانہ رازق ذالک فالالہ واھد لجمیعکم فکذالک الامر فی الذبیحۃ انما ینبغی ان تخلص لہ (قرطبی) ۔
Ayah 22:3548:۔ ” وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ الخ “ یہ بشارت اخروی ہے اللہ کے ان بندوں کے لیے جو عاجزی کرتے اور اللہ سے ڈرتے ہیں، مصائب پر صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم ہیں وہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے لیے مال خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 22:3649:۔ ” وَالْبُدْنَ الخ “ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نذر اور اس کے چڑھاوے کا بیان ہے۔ ” صواف “ قطار اندر قطار۔ ” وجبت “ گر پڑیں۔ ” اَلْقَانِعْ “ صبر و قناعت کرنے والا محتاج۔ ” اَلْمُعْتَرّ “ بےقرار سائل۔ یہ قربانیاں اللہ کی عبادت و اطاعت کے نشانات ہیں ان میں تمہارا دین و دنیا کا فائدہ ہے۔ انہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے اور اللہ کا نام لے کر ذبح کرو اور پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ہر مسکین و فقیر کو اور سائل و محتاج کو بھی اس میں سے دو ۔ ” کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا الخ “ یہ چوپائے یوں ہم نے تمہارے تابع کیے ہیں تاکہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ اور ان میں سے صرف اللہ ہی کے نام کی نذر و نیاز دو ای تشکرو انعامنا علیکن بالتقریب والاخلاص (روح ج 17 ص 158) ۔
Ayah 22:3750:۔ ” لَنْ یَّنَالَ الخ “ یہاں قربانی کا اصل فلسلفہ بیان کیا گیا ہے یعنی صرف جانور کو ذبح کرنے اور اس کا خون گرادینے اور محض اس کا گوشت کھانے کھلانے سے تم اللہ کی خوشنودی حاصل نہیں کرسکتے جب تک تمہارا دل تقوی اخلاص اور خوشدلی کے جذبہ سے لبریز نہ ہو۔ جانور کا گوشت اور اس کا خون اٹھ خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں نہیں پہنچیں گے وہاں تو تمہارے دل کا تقوی اور اخلاص قبول ہوتا ہے۔ ” کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا الخ “ اسی طرح اللہ نے یہ چوپائے تمہارے بس اور تصرف میں دے دئیے ہیں تاکہ تم اللہ کے سامنے اپنی بندگی اور عبودیت اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کا اظہار کرو اور ان چوپایوں کو اللہ کے حکم کے مطابق اللہ کی خوشنودی کے لیے اسی کے نام پر ذبح کرو۔ ” وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ “ توحید پرستوں اور ہر قسم کے شرک (اعتقادی اور فعلی) سے اجتناب کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ وبشر المحسنین قال ابن عباس الموحدین۔ (معالم و خازن ج 5 ص 19) ۔
Ayah 22:3851:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ یُدَافِعُ الخ “ شرک فی التصرف اور شرک فعلی کے دلائل کے ساتھ نفی کرنے کے بعد یہ اعلان جہاد کی تمہید ہے اور مسلمانوں کو جہاد کی بشارت ہے یعنی اللہ تعالیٰ مشرکین کے مقابلے میں ایمان والوں کی مدافعت کرے گا اور ان کی مدد فرمائے گا۔ جہاد سے ممانعت کے بعد سے سے پہلے یہی آیت نازل ہوئی جس میں جہاد کی دوبارہ اجازت دی گئی۔ وھی اول ایۃ نزلت فی القتال بعد ما نھی عنہ فی نیف و سبعین ایۃ علی ما روی الحاکم فی المستدرک عن ابن عباس ؓ (روح ج 17 ص 162) ۔ 52:۔ ” اِنَّ اللّٰهَ لَایُحِبُّ الخ “ یہ ماقبل کی علت ہے یہ مشرکین چونکہ خوان (بڑے خائن) اور کفور (بڑے ناشکر گذار) ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو پسند نہیں کرتا۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو ان کے ہاتھوں مغلوب و مقہور نہیں کرے گا۔ خیانت سے مراد شرک اور کفران نعمت سے غیر اللہ کے تقرب کے لیے نذر و نیاز دینا مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس اور امام زجاج سے منقول ہے قال ابن عباس خانوا اللہ فجعلوا معہ شریکا و کفروا نعمہ قال الزجاج من تقرب الی الاصنام بذبیحتہ وذکر علیھا اسم غیر اللہ فھو خوان کفور (معالم و خازن ج 5 ص 19) ۔
Ayah 22:3953:۔ ” اُذِنَ لِلَّذِیْنَ الخ “ اس آیت میں اجازت جہاد کے اسباب و وجوہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ آیت اگر مدنی ہے جیسا کہ ساری سورة حج مدنی ہے اس پر کوئی اشکال نہیں کیونکہ جہاد کی فرضیت مدینہ میں نازل ہوئی تھی اور اگر یہ آیت مکی ہو جیسا کہ بعض کا قول ہے تو جہاد کا حکم ان لوگوں کو ہوگا جو مکہ مکرمہ سے باہر رہتے تھے یعنی ان مظلوم مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ہے جنہوں نے پہل نہیں کی بلکہ ان کو لڑائی میں الجھایا گیا وہ ساسر مظلوم ہیں انہیں بلا وجہ گھروں سے نکالا گیا ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مالک و مختار اور کارساز سمجھتے تھے اور اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے تھے۔ ” اُذِنَ “ کا متعلق یعنی ماذون فیہ مقدر ہے بقرینہ یقاتلون ای فی القتال التقدیر۔ اذن للذین یقاتلون فی القتال فحذف الماذون فیہ لدلالۃ یقاتلون علیہ (کبیر ج 6 ص 236) ۔ اور حضرت شیخ (رح) تعالیٰ نے فرمایا یہاں اذن کا مفعول مقدر ہے یعنی اذن للذین یقاتلون ان یقاتلوا الخ۔
Ayah 22:4054:۔ ” وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ الخ “ یہ مشروعیت جہاد کی حکمت اور جہاد کی ترغیب ہے۔ ” صَوَامِعُ “ صومعۃ کی جمع ہے۔ صومعہ عیسائی راہب کے مخصوص عبادت خانے کو کہتے ہیں۔ ” بِیَع “ بیعۃ کی جمع ہے یعنی عیسائیوں کا عبادت خانہ (چرچ) ۔ ” صَلَوٰتٌ“ صلوۃ کی جمع ہے اور صلوۃ یہودیوں کے عبادت خانے کو کہتے ہیں کذا فی الروح والمدارک۔ اگر اللہ تعالیٰ جہاد سے مسلمانوں کا کافروں پر مسلط کر کے ان کے شر کو دفع نہ کرتا تو مشرکین ہر زمانہ میں مسلمانوں پر اور اہل کتاب پر غالب آجاتے اور اس قدر دنگا اور فساد بپا کرتے کہ ان کے عبادت خانوں تک کو مسمار کردیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اہل توحید کو مشرکین پر گا لب کر کے ان کا زور توڑ دیا اور اہل ملل کو ان کے شر سے بچالیا۔ ای لولا اظھارہ و تسلیطہ المسلمین علی الکافرین بالمجاھدۃ لاستواہ المشرکون علی اھل الملل المختلفۃ فی ازمنتھم وعلی متعبداتہم فھدموھا ولم یترکوا للنصاری بیعا ولا لرھبانھم صوامع و للیھود صلوات ای کنائس ولا للمسلمین مساجد (مدارک ج 3 ص 80) ۔
55:۔ ” وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ الخ “ اجازت جہاد کے بعد یہ اعلان فتح ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ جو لوگ اس کے دین حق کی حمایت و نصرت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہی کا حامی وناصر ہوتا ہے۔ ” اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِیْزٌ“ جملہ ماقبل کی علت ہے۔