Ayah 22:4156:۔ ” اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ الخ “ یہ ” مَنْ یَّنْصرُ ہٗ “ سے بدل ہے یعنی اللہ تعالیٰ جن لوگوں کی مدد کرتا ہے ان کی صفات یہ ہیں کہ اگر ان کو زمین کی حکومت سونپ دی جائے تو بھی وہ راہ حق سے سر مو انحراف نہ کریں اور زمین پر اللہ کے دین کو نافذ کریں اور زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ کے قانون کو رائج کردیں۔ دنیا میں نیکی اور صلاح وتقوی کو فروغ دیں۔ برائی اور جرم و گناہ سے اللہ تعالیٰ کی زمین کو پاک کریں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت خلفائے راشدین ؓ کی حقانیت خلافت کی دلیل ہے اور اس آیت میں مہاجرین کی پاکیزہ سیرت کی پیش گوئی ہے۔ ویکون (الذین ان مکنھم فی الارض) اربعۃ من اصحاب رسول اللہ ﷺ لم یکن فی الارض غیرھم (قرطبی ج 12 ص 73) ۔ ھو اخبار من اللہ عما ستکون علیہ سیرۃ المھاجرین ان مکنھم فی الارض و بسط لھم فی الدنیا وکیف یقومون بامر الدین و دلیل صحۃ امر الخلفاء الراشدین الخ (مدارک ج 3 ص 80) ۔ علامہ خازن رقمطراز ہیں کہ ” اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ “ چونکہ ان لوگوں ہی کی صفت ہے جن کا پہلے ” اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ “ میں ذکر ہوچکا ہے اس لیے یہاں صرف مہاجرین ہی مراد ہیں۔ وقیل ھم المھاجرون و ھو الاصح لان قولہ (والذین ان مکنھم) صفۃ لمن تقدم ذکرھم وھو قولہ (الذین اخرجوا من دیارھم) وھم المھاجرون (خازن ج 5 ص 20) ۔ و فیہ دلیل صحۃ امر الخلفاء الاشدین ؓ عنھم لان الایۃ مخوصۃ بالمھاجرین لانھم المخرجون بغیر حق و الممکنون فی الارض منھم الخلفاء دون غیرھم فلو لم تثبت الاوصاف الباقیۃ لزم الخلف فی المقال تعالیٰ للہ سبحانہ عنہ (روح ج 17 ص 164) ۔
Ayahs 22:42–4357:۔ ” وَ اِنْ یُّکَذِّبُوْکَ الخ “ اگر مشرکین مکہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور دلائل واضحہ اور حسن تبلیغ کے باوجود مسئلہ توحید کو نہیں مانتے تو آپ پریشان اور آزردٔ خاطر نہ ہوں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر موسیٰ (علیہ السلام) تک مشرکین کا حال ملاحظہ فرما لیجیے اس دوران میں جتنے بھی پیغمبر دنیا میں بھیجے گئے کفار و مشرکین نے ہمیشہ ان کی دعوت کو ٹھکرایا اوراقوال و افعال سے ان کو ہر قسم کی تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں۔ نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب موسیٰ اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) سے ان کی قوموں نے یہی سلوک کیا جو اس وقت آپ کی قوم آپ کے ساتھ کر رہی ہے یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کافروں کی تکذیب اور ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے۔ آخر ہم نے مکذبین کو ہلاک کردیا۔ ایسا ہی مشرکین مکہ کا انجام ہوگا۔ اس لیے آپ صبر کریں۔ ھذہ تسلیۃ لمحمد ﷺ من تکذیب اھل مکۃ ایاہ ای لست باوحدی فی التکذیب (مدارک ج 3 ص 80) ۔ ھذا تسلیۃ للنبی ﷺ و تعزیۃ، ای کان قبلک انبیاء کذبوا فصبروا الی ان اھلک اللہ المکذبین فاقتد بھم واصبر۔ (قرطبی ج 12 ص 73)
Ayah 22:4458:۔ ” فَاَمْلَیْتُ الخ “ ان مکذبین کو ہم نے فوراً نہیں پکڑا بلکہ تکذیب و انکار کے بعد انہیں مہلت دی تاکہ انہیں سوچنے اور غور و فکر کرنے کا موقع مل سکے۔ جب طویل مہت سے بھی انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا اور خداداد عقل و خرد سے کام نہ لیا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا۔ ان کی خوشحالی اور آرام و راحت کو بدحالی اور دردناک عذاب سے بدل دیا۔ مشرکین مکہ بھی اسی لیے مہلت دی گئی ہے لیکن اگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا اور انکار وعناد پر اڑے رہے تو انکا حشر بھی وہی ہوگا جو اقوام سابقہ کا ہوا۔
Ayah 22:4559:۔ ” فَکَاَیِّنْ مِّنْ الخ “ یہ اقوام سابقہ پر عذاب دنیوی کی قدرے تفصیل ہے یعنی بہت ایسی بستیاں ہیں جن کے باشندوں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغام توحید کو ٹھکرا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے ان کی بستیوں کو تہس نہس کدیا۔ کھیتیاں اور باغات تباہ کردیے یہاں تک کہ ان کے مکانات کی چھتیں زمین پر آرہیں۔ عالیشان اور مضبوط و مستحکم محلات زمین بوس ہوگئے اور آباد کنوئیں ویران و بیکار ہوگئے۔ ” ظَالِمَةٌ“ شرک کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے وہی ظالمۃ۔ ” اَھْلَکْنٰھَا “ کی ضمیر منصوب سے حال ہے حال ای واھلھا مشرکون (مدارک ج 3 ص 81) ۔
Ayah 22:4660:۔ ” اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا الخ “ اس میں سیر و سیاحت کر کے اقوام سابقہ کے آثار باقیہ دیکھ کر ان سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ان معاندین کے دل اندھے اور بہرے ہیں جو نہ حق کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ حق بات تک ان کی رسائی ہوسکتی ہے اگر یہ لوگ گذشتہ مفکر و معاند اقوام کی تباہی و بربادی کے نشانات اپنی آنکھوں سے جا کر دیکھیں منکر تو شاید ان کے دلوں کی آنکھیں کھل جائیں اور ان کے دل اللہ کی توحید کو سمجھنے اور قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ فتکون لھم قلوب یعقلون بھا ای یعلمون ما یجب ان یعلم من التوحید (روح ج 17 ص 0167) ۔
Ayah 22:4761:۔ ” وَیَسْتَعْجِلُوْنَک الخ “ زجر مع تخویف دنیوی، مشرکین مکہ استہزاء و تمسخر کے طور پرحضور ﷺ سے کہتے کہ جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے اسے جلدی کیوں نہیں لاتا۔ اس کا جواب دیا گیا۔ ” وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ “ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اگر مشرکین ایمان نہ لائیں تو انہیں دنیا میں رسوا کن عذاب سے ہلاک کیا جائے گا اور اس کا وقت بھی مقر کردیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے (فیصلہ عذاب) کی خلاف ورزی ہرگز نہیں کرے گا اگر ان معاندین نے نہ مانا تو عذاب اپنے وقت پر ضرور آئے گا چناچہ یہ وعدہ جنگ بدر میں پورا ہوا۔ ای انہ انجز ذلک یوم بدر (خازن ج 5 ص 21) ۔
62:۔ ” وَ اِنْ یُّوْحَا الخ “ ی ظالم و نادان عذاب کیوں مانگتے ہیں حالانکہ اللہ کا عذاب تو پناہ مانگنے کی چیز ہے نہ کہ طلب کرنے کی آخرت میں اللہ کا عذاب اس قدر شدید اور طویل ہوگا کہ عذاب کا ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔ قال الفراء ھذا وعید لھم بامتداد عذابھم فی الاخرۃ الف سنۃ (قرطبی ج 12 ص 87) ۔
Ayah 22:4863:۔ ” وَ کَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ الخ “ تخویف دنیوی ہے۔ تفسیر کے لیے حاشیہ 58، 95 دیکھئے۔ یہ اگلی آیت میں ترغیب الی الایمان کے لیے تمہید ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ منکرین کو پکڑنے پر قادر ہے جس طرح اس نے گذشتہ زمانوں میں معاندین کو پکڑا اس لیے اب تم دعوت توحید کو قبول کرلو ورنہ تم بھی پہلے معاندین کی طرح پکڑے جاؤ گے۔
Ayah 22:4964:۔ ” قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ الخ “ دعوت توحید کو مان لینے کی ترغیب اور ” وَ یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ “ کا جواب ہے تم لوگ مجھ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہو حالانکہ عذاب لانا میرے قبضہ و اختیار میں نہیں بلکہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں عذاب کب آئیگا۔ کیونکہ میں تو عذاب سے ڈرنے والا اور عذاب آنے کی خبر دینے والا ہوں اس لیے یہ ضرور کہوں گا کہ مجھ پر ایمان لے آؤ اور پیغام توحید کو مان لو ورنہ سن لو اگر نہیں مانوگے تو اللہ تعالیٰ کے رسوا کن عذاب سے ہلاک کردئیے جاؤ گے۔
Ayahs 22:50–5165:۔ ” فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ بشارت اخروی جو لوگ توحید و رسالت اور دیگر ضروریات دین پر ایمان لے آئے اور نیک کام کیے ان کے لیے آخرت میں بخشش اور عزت کی روزی ہوگی۔ ” وَالَّذِیْنَ سَعَوْا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ ہماری آیتوں کو باطل اور بےاثر کرنے کے لیے کوشش کریں گے اور مختلف طریقوں سے ان کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی سعی کریں گے کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا ای بذلوا الجھد فی ابطلاھا فسموھا تارۃ سحر او تارۃ شعر او تارۃ اساطیر الاولین (روح ج 17 ص 171) ۔
Ayah 22:5266:۔ ” وَ مَا اَرْسَلْنَا الخ “ یہ مشرکین کے نہ ماننے کی وجہ ہے جب اللہ کا پیغبر کلام اللہ کی آیتیں پڑھتا ہے اس وقت شیطان سننے والوں کے دلوں میں کئی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے مثلا یہ کہ یہ پیگمبر جادوگر ہے، شاعر و مجنون ہے اور ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے وغیرہ۔ مشرکین ان شبہات کی وجہ سے راہ ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں لیکن ایمان والوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ ان ناپاک شبہات سے پاک فرما دیتا ہے۔ قریب قریب یہی مضمون قرآن مجید کی آیت ذیل میں بھی مذکور ہے ” وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ زُخْرُفِ الْقَوْلِ غُرُوْرًا “ (انعام رکوع 14) ” تمنی “ بمنعی ” قرا “ ہے یعنی جب تلاوت کرتا تھا جیسا کہ حضرت حسان ؓ نے حضرت عثمان ؓ کے مرثیہ میں کہا تھا۔
تمنی کتاب اللہ اول لیلۃ
واٰخرھا لاقی حمام المقادر (بحر)
اور ” امنیته “ ای قراءت ہ و تلاوتہ (مدارک ) ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واہی اور باطل قصہ نقل کیا جاتا ہے ایک بار آنحضرت ﷺ بیت اللہ شریف میں سورة والنجم اذا ھوی تلاوت فرم ارہے تھے۔ سامعین میں مسلمانوں کے علاوہ مشرکین بھی تھے جب اس آیت پر پہنچے ” وَ مَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰي “ تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمات جاری کرادئیے۔ تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی (یعنی ہمارے یہ معبود بہت بلند رتبہ ہیں اور آڑے وقت میں ان کی شفاعت کی امید ہے) ۔ ان کلمات میں مشرکین کے معبودان باطلہ کی تعریف تھی اس لیے مشرکین بہت خوش ہوئے کہ آج محمد نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی ہے چناچہ جبریل (علیہ السلام) نے آکرحضور ﷺ کو اس غلطی پر متنبہ کیا۔ یہ شیطانی القاء تھا یہ قصہ شان نبوت کے سراسر منافی ہے اس لیے تمام مفسرین نے اسے رد کیا ہے یہ قصہ بھی صحیح سند سے مروی نہیں۔ امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ اور امام بیہقی نے کہا ہے کہ یہ قصہ موضوع اور من گھڑت ہے۔ زندیقوں اور ملحدوں کا ساختہ ہے اور نقل کے اعتبار سے ثابت نہیں۔ امام محمد بن اسحاق نے اس قصہ کے رد میں ایک کتاب بھی تصنیف کی وھی قصۃ سئل عنھا لامام محمد بن اسحاق جامع السیرۃ النبویۃ فقال ھذا من وضع الزنادقۃ و صنف فی ذالک کتابا۔ وقال الامام الحافظ ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی ھذہ القصۃ غیر ثابتۃ من جہۃ النقل (بحر ج 6 ص 383)
(حاشیہ : محمد بن اسحاق سے اگر امام المغازی مراد ہے تو امام ابی حیان مؤلف البحر المحیط کو اس میں سہو ہوگیا ہے یہ قول محمد بن اسحاق امام المغازی کا نہیں ہے بلکہ یہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ صاحب الصحیح کا قول ہے۔ جو ابن خزیمہ کے نام سے مشہور ہیں اور بڑے پایہ کے محدث، ثقہ اور مستند ہیں۔ جیسا کہ امام رازی کی عبادت میں اس کی صراحت موجود ہے (سجاد بخاری)
۔ امام قرطبی ہیں اس سلسلے کی ایک روایت بھی صحیح نہیں ولیس منھا شیء یصح (قرطبی ج 12 ص 80) ۔ علامہ خازن لکھتے ہیں انہ لم یروھا احد من اھل الصحۃ ولا اسندھا ثقۃ بسند صحیح او سلیم متصل (خازن ج 5 ص 23) ۔ امام ابن خزیمہ اور بیہقی کا مذکورہ بالا قول امام رازقی نے بھی تقل کیا ہے۔ روی عن محمد بن اسحاق بن خزیمۃ انہ سئل عن ھذہ القصۃ فقال ھذا وضع من الزنادقۃ وصنف فیہ کتابا الخ (کبیر ج 6 ص 245) ۔ امام ابو السعود رقمطراز ہیں۔ وھو المردود عند المحققین (ابو السعود ج 6 ص 256) ۔ امام رازی (رح) نے مفسرین اہل التحقیق کا یہ فیصلہ نقل کیا ہے کہ یہ قصہ باطل اور من گھڑت ہے اما اہل التحقیق فقالوا ھذہ الروایۃ باطلۃ موجوعۃ (کبیر) ۔ بہ شرط صحت قصہ مفسرین نے لکھا ہے کہ جبحضور ﷺ کے لہجہ میں مذکورہ بالا الفاط ادا کردئیے جس سے سامعین کو دھوکہ ہوا کہ یہ کلمات خودحضور ﷺ نے پڑھے ہیں۔ وانما الامر ان الشیطان نطق بلفظ اسمعہ الکفار عند قول النبی ﷺ افرایتم اللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری وقرب صوتہ من صوت النبی ﷺ حتی التبس الامر علی المشرکین وقالوا محمد قراھا الخ (قرطبی ج 12 ص 81) ۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے (اذا تمنی) ای تلا (القی الشیطان) الوساوس والشبہات فی قلوب السامعین (فی امنیتہ) ای فی اثناء تلاوتہ۔ یعنی ہم نے نے جو بھی رسول یا نبی دنیا میں بھیجا ہے وہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سناتا شیطان اس دوران میں لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شبہات ڈالتا تاکہ وہ پیغمبر کی تلاوت سے متاثر نہ ہوں اور کلام اللہ سے بدظن ہوجائیں اور اسے ماننے سے انکار کردیں۔ اذا تمنی پر دو باتیں متفرع ہیں۔ اول ” القی الشیطن “۔ دوم ” فینسخ اللہ الخ “۔ ایک شیطان کا فعل ہے اور ایک اللہ کا اور ہر ایک پر ایک امر متفرع ہے۔ ” اَلْقٰی “ پر ” لِیَجْعَلَ “ اور ” فَیَنْسِخ “ پر ” لِیَعْلَمَ “۔ جیسا کہ تفصیل آگے آرہی ہے۔ ” فَیَنْسِخُ الخ “ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ تعالیٰ دور فرما کر اپنی آیتوں کو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک کر کے محکم کردیتا ہے۔
Ayahs 22:53–5467:۔ ” لِیَجْعَلَ الخ “ یہ ” اَلْقٰی “ سے متعلق ہے یعنی شیطانی وسوسے منافقین اور مشرکین کے لیے مزید گمراہی کا باعث بن جائے اور وہ وساوس و شبہات کے تابع ہو کر کفر وعناد پر مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ” اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مّرض “ سے منافقین ” القاسیة قلوبھم “ سے۔ ” وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الخ “” فَیَنْسَخُ اللّٰهُ “ سے متفعلق ہے یعنی اہل ایمان کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے شیطانی وسوسوں کا اثر زائل کر کے ان کے دلوں کو یقین سے بہرہ مند فرمایا تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ یہ قرآن شریف اور مسئلہ توحید حق ہے اور ان کے دلوں میں مزید اطمینان اور انابت پیدا ہوجائے۔ ” وَاِنَّ اللّٰه لَھَاد “۔ جن لوگوں کے دلوں میں انابت اور تلاش حق کا جذبہ موجزن ہے اور وہ شیطانی وساوس سے متاثر نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ صراط مستقیم (راہ توحید) پر ثابت قدم رکھتا ہے اور گمراہی سے ان کی حفاظت فرماتا ہے آج بھی حال ہے جب کوئی عالم ربانی قرآن سے مسئلہ توحید بیان کرتا اور قرآن کی آیتیں تلاوت کرتا ہے تو شیطان سامعین کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے اور شب ہے ڈالتا ہے اور اللہ تعالیٰ نور آیات سے مومنوں کے دلوں سے شبہات کی تاریکی دور فرما دیتا ہے۔
Ayah 22:5568:۔ ” وَلَا یَزَالُ الخ “۔ ” یَومٌ عَقِیْم “ سے مراد قیامت کا دن ہے یا جنگ بدر کا دن جیسا کہ کہ ابن عباس، مجاہد اور قتادہ ؓ سے منقول ہے۔ (قرطبی) پہلی صورت میں یہ فقط تخویف اخروی ہوگی اور دوسری صورت میں تخویف دنیوی بھی ہوگی۔ عقیم ای لامثل لہ فی عظم امرہ (مدارک) یعنی عقیم سے کہتے ہیں جس کا شدت میں مثل نہ ہو۔ حاصل یہ ہے کہ جو لوگ وساوس و شبہات کے تابع ہوتے ہیں وہ کبھی ہدایت نہیں پاسکتے وہ ہمیشہ قرآن کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا وہ قیامت کے یا بدر کے المناک اور شدید ترین عذاب میں متبلا ہوجائیں اس وقت ان کے تمام شکوک و شبہات رفع ہوجائیں گے اور انہیں یقین ہوجائے گا۔ قرآن حق ہے۔ مسئلہ توحید حق ہے اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں مگر اس وقت اس ایمان و توحید کا کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اس وقت وہ اپنے کفر و انکار اور جحود وعناد کی سزا پا چکے ہوں گے۔
Ayah 22:5669:۔ ” اَلْمُلْکُ الخ “ جس دن وہ اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اس دن تمام اختیار و تصرف اللہ تعالیٰ کا ہوگا اور دنیا کی طرح مجازاً بھی کسی کو کوئی اختیار حاصل نہ وہ گا۔ اس لیے اس دن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اپنا ہوگا اور حکم الٰہی کے خلاف کوئی سفارشی یا مددگار نہ ہوگا۔ (الملک) ای السلطان القاھر والاستیلاء التام والتصرف علی الاطلاق ” یَوْمَئِذٍ لِّلّٰه “ وحدہ بلاشریک اصلا بحیث لا یکون فیہ لاحد تصرف من التصرفات فی امر من الامور لا حقیقۃ ولا مجازا ولا صورۃ ولا معنی کما فی الدنیا الخ (ابو السعود ج 6 ص 259) ۔
70:۔ ” فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ “ تا ” عَذَابٌ مُّھِیْنٌ“ یہ ” یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ “ کی تفصیل ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جو آخری فیصلہ فرمائے گا جس میں کسی کو دخل دینے کی مجال نہ ہوگی وہ یہ ہوگا کہ ایمان والوں کو جنت میں اور مشرکین و مکذبین کو جہنم میں داخل کیا جائیگا۔ ” فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ یہ ان مومنین صالحین کے لیے بشارت اخروی ہے جن کے دلوں میں دین حق کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ ” وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ “ یہ منکرین اور مکذبین کے لیے تخویف اخروی ہے کہ آخرت میں ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ یحکم بینھم یعنی یوم القیامۃ ھو للہ وحدہ لا منازع لہ فیہ ولا مدافع۔ ثم بین ھکمہ فقال کفروا وکذبوا بایتنا فاولئک لھم عذاب مھین (قرطبی ج 12 ص 88) ۔ کفار و مشرکین کے لیے دنیا اور آخرت میں عذاب ذلت و رسوائی کا باعث ہے لیکن مومنین کو دنیا میں جو تکلیفیں پہنچیں یا آخرت میں انہیں جو گناہوں کی سزا ملے گی وہ ان کے لیے ذلت ورسوائی نہیں بلکہ ان کی تطہیر اور بلندی درجات کا سبب ہوگی۔
Ayahs 22:57–5871:۔ ” وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا “ تا ” ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْر “ یہ ” اِنَّ اللّٰهَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ سے متعلق ہے۔ وہاں مشرکین سے جہاد کرنے کی اجازت دی گئی اور یہاں اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کی ترغیب دی گئی۔ مشرکین ایمان والوں کی مسجد حرام سے روکتے اور خود اللہ کے اس گھر میں علانیہ شرک کرتے ہیں اور مسلمانوں پر بےدریغ ظلم و ستم کرتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو ان ظالموں سے جہاد کرنے کی اجازت دی گئی اور ساتھ ان کو فتح و کامرانی کی خوشخبری اور شہید ہونے والوں کو جنت کی بشارت سنائی گئی۔ ” وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا الخ “ جن لوگوں نے محض اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کی اپنا مال و جان قربان کیا اور وطن چھوڑا اس کے بعد مشرکین سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے یا بستر مرگ پر وفات پائی سب کے لیے آخرت میں نیک انجام کی بشارت ہے آخرت میں ان کے لیے ایسا رزق ہوگا جو بلا مشقت حاصل ہوگا۔ کبھی ختم نہ ہوگا اور ان کی آرزوؤں اور خواہشوں کے مطابق ہوگا۔ ” رِزْقًا حَسَنًا “ ای لا ینقطع ابدا وھو رزق الجنۃ لان فیھا ما تشتھی الانفس و تلذ الاعین (خازن ج 5 ص 25) ۔
Ayah 22:5972:۔ ” لَیُدْخِلَنَّھُمْ الخ “ اور ان کو ایسے بہشتوں میں داخل کیا جائے گا جنہیں وہ پسند کریں گے اور جہاں انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔ اور نہ کسی چیز کی کمی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لیے ان کی نیات صالحہ کے مطابق ان کو اعزازو اکرام عطا کرے گا اور ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں سے در گذر فرمائے گا۔
Ayah 22:6073:۔ ” وَ مَنْ عَاقَبَ الخ “۔” وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهَ “۔ من ینصر میں مسلمانوں کو فتح کی خوشخبری دی اب یہاں وعدہ فتح و نصر کا اعادہ کیا گیا تاکہ اس کی دو دلیلیں ایک انی اور لمی کا ذکر کیا جائے۔ ” ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ “ ثم تعقیب ذکر کے لیے ہے یعنی جن لوگوں نے ظالموں سے اپنے اوپر کیے گئے مظالم کا بدلہ لیا اور بدلہ لینے میں حد سے تجاوز نہیں کیا اور پھر ظالموں کی طرف سے وہ سخت مظالم وشدائد کا نشانہ بھی بنے ہوں۔ ظالموں کے مقابلہ میں ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرے گا اور انہیں فتح و ظفر سے ہمکنار کرے گا۔
Ayah 22:6174:۔ ” ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الخ “ یہ فتح و نصرت کی دلیل انی ہے وعدہ فتح و نصرت کا اعادہ کیا گیا تاکہ اس کی دو دلیلیں ذکر کی جائیں قلت عدد کے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے کثیر العدد لشکر اور مسلح فوجوں پر فتح دے سکتا ہے۔ کیونکہ یہ نظام شب و روز اسی کے قبضہ میں ہے جو رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاسکتا ہے وہ ایک جماعت کو دوسری جماعت پر غلبہ بھی دے سکتا ہے ای ذلک النصر کائن بسبب ان اللہ تعالیٰ شانہ قادر علی تغلیب بعض مخلوقاتہ علی بعض والمداولۃ بین الاشیاء المتضادۃ و من شانہ ذلک (روح ج 17 ص 190) ۔
75:۔ ” وَ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ بَصِیْر “ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے والا اور سننے والا بھی ہے یہ ماقبل کا تتمہ ہے کیونکہ جس طرح ناصر (مدد کرنے والے) کے لیے ضروری ہے کہ وہ مظلوم کی مدد پر قادر ہو۔ اس طرح کے لیے لابدی ہے کہ وہ مظلوم کے حال سے باخبر ہو۔ من تتمہ الحکم لا بد منہ اذ لا بد للناصر من القدرۃ علی نصر المظلوم و من العلم بانہ کذالک (روح) ۔
Ayah 22:6276:۔ ” ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ الْحَقُّ الخ “ یہ فتح و نصرت کی دلیل لمی ہے یعنی فتح و نصرت کی اصل علت اور وجہ کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا جن معبودوں کو مشرکین پکارتے ہیں وہ باطل اور بےحقیقت ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ضرور فتح دے گا۔ جو خالصۃً اسی کی عبادت کرتے اور صرف اسی کو پکارتے ہیں اور معبودان باطلہ کے پجاریوں کو مغلوب و مقہور کرے گا یا یہ ماقبل کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ کمال قدرت اور شمول علم کے ساتھ اس لیے متصف ہے کہ وہی معبود برحق ہے جس کی الوہیت دلائل قاہرہ اور دلائل قاہرہ اور براہین واضحہ سے ثابت ہوچکی ہے لہذا جو مستحق الوہیت ہو وہی ہر چیز پر قادر اور ہر چیز کا عالم ہوسکتا ہے۔ الثابت الھیتہ فلا یصلح لھا الا من کان عالما قادرا (ابو السعود ج 6 ص 263) ۔ ” اَلْعَلِیُّ “ قدرت میں ہر چیز پر گا لب، مثال و نظیر اور شریک وسہیم سے پاک اور منزہ۔ ” اَلْکَبِیْرُ “ ذات میں کامل، واجب الوجود ازلی اور ابدی، ای العالی علی کل شیء بقدرتہ والعالی عن الاشباہ والانذار۔ الکبریاء عبارۃ عن کمال الذات۔ ای لہ الوجود المطلق ابدا و ازلا فھو الاول القدیم والاخر الباقی بعد فاء خلقہ (قرطبی ج 12 ص 91) ۔
Ayah 22:6377:۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ “ تا ” اِنَّ الْاِنْسَانَ لِکَفُوْرٌ“ یہ مضمون حصہ اول (نفی شرک اعتقادی) کا اعادہ اور اس پر دو عقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ الخ “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے تم سب اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو کہ آسمان سے بارش اللہ تعالیٰ ہی برساتا ہے جس سے خشک اور بنجر زمین میں سرسبز و شاداب کھیت لہلہانے لگتے ہیں۔ ” لَطِیْفٌ“ وہ ایسا باریک بین باریک دانوں کو اگا کر زمین سے باہر نکال دیتا ہے۔ ” خَبِیْر “ اور اپنے بندوں اور تمام جاندار مخلوق کی حاجتوں اور ضرورتوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کی ضرورت اور حاجت کے مطابق زمین سے روزی مہیا فرماتا ہے۔
Ayah 22:6478:۔ ” لَهٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ الخ “ تقدیم خبر افادہ حصر کے لیے ہے زمین و آسمان سے وہی ہر ایک کو روزی بہم فرماتا ہے اور ساری کائنات اسی کے ملک و اختیار اور اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” اَلْغَنِیُّ “ وہ کسی کا محتاج نہیں مگر ساری کائنات اس کی محتاج ہے۔ ” اَلْحَمِیْدُ “ وہ تمام کمالات کا مالک ہے ضمیر فصل اور تعریف خبر مفید حصر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہی مستغنی ہے اور وہی تمام صفات الوہیت کا مالک ہے اس کے سوا نہ کوئی غنی ہے اور نہ صفات کارسازی کا مالک۔ جو بلندو برتر اور قادر وعلیم ذات صفات بالا سے متصف ہے وہی کارساز اور حاجت روا ہے لہذا اسکے سوا حاجات و مشکلات میں کسی کو مافوق الاسباب مت پکارو۔
Ayah 22:6579:۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ الخ “ یہ نفی شرک فی التصرف پر دوسری دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے زمین کی تمام قوتوں کو۔ زمین پیدا ہونے والی تمام چیزوں کو اور زمین میں بسنے والی ساری مخلوق کو اپنے حکم سے انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ ہر چیز کسی نہ کسی شکل میں انسان ہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ کشتیوں اور بحری جہازوں کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ دریاؤں اور سمندروں میں پانی کی غضبناک لہروں اور فلک بوس موجوں میں سے کس طرح بکمال قدرت بچا کر صحیح سالم کنارے لگاتا ہے آسمان کو اس نے اپنے حکم سے ستونوں کے بغیر قائم کر رکھا ہے کیا مجال ہے کہ زمین پر گر پڑے یہ سب اللہ تعالیٰ کی شفقت اور مہربانی ہے وہ اللہ جو ایسا قادر اور ایسا مہربان ہے وہی اپنے بندوں کا حاجت روا اور کارساز ہے۔
Ayah 22:6680:۔ ” وَھُوَ الَّذِيْ اَحْیَاکُمْ الخ “ دلائل مذکورہ بالا سے معلوم ہوگیا کہ کارساز اور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں کیونکہ وہ قادر علی الاطلاق اور ساری کائنات میں متصرف مطلق ہے۔ جس طرح وہ مردہ زمین میں بارش سے زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہے اور بےجان نطفہ سے انسانوں اور دیگر جانداروں کو پیدا کرسکتا ہے اسی طرح وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ“ لیکن یہ انسان کس قدر احسان فراموش اور ناشکر گذار واقع ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احسانات و انعامات کو بھلا کر ان کی ناشکری کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی عاجز مخلوق کو شریک بنانا اور آخرت کا انکار کرنا ہے (ان الانسان لکفور) ای الجحود لما ظہر من الایات الدالۃ علی قدرتۃ ووحدانیتہ (قرطبی ج 12 ص 93) ۔
Ayah 22:6781:۔ ” لِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا الخ “ یہ سورت کے مضمون ثانی یعنی نفی شرک فعلی کا اعادہ ہے۔ ” مَنْسَکًا “ قربانی کی جگہ۔ قال قتادۃ و مجاھد موضع قربانی یذبحون فیہ (خازن و معالم ج 5 ص 26) ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان سابقہ سے دلیل نقلی پیش فرمائی کہ محض اللہ کی رضا کے لیے ہم نے ہر شریعت میں قربانی دینے کا دستور مقرر کیا تھا اور یہ شرک فعلی جس کا مشرکین ارتکاب کرتے ہیں کسی دین میں ہم نے جائز نہیں کیا اس لیے اس معاملہ میں آپ ان کے جھگڑے کی پروا نہ کریں اور نرمی اور احسن طریق سے توحید کی دعوت دیتے رہیں کیونکہ آپ سیدھی راہ پر ہیں اور یہ مسئلہ توحید ہر پیغمبر نے اپنی امت کو واضح کر کے بتایا۔ ” وَادْعُ اِلیٰ رَبِّکَ “ الیٰ توحیدہ و عبادتہ حسبما بین فی منسکھم و شریعتھم (ابو السعود ج 6 ص 265، روح ج 17 ص 197) ۔
Ayahs 22:68–6982:۔ ” وَ اِنْ جَادَلُوْکَ الخ “ اور وہ اگر خواہ مخواہ آپ سے جھگڑا کریں تو بھی آپ ان سے اعراض کریں اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد فرمائیں وہ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے اور ان اعمال کی ان کو پوری پوری سزا ملے گی۔ ” اَللّٰهُ یَحْکُمُ الخ “ اور قیامت کے دن اس جھگرے کا صاف فیصلہ کردیا جائے گا۔ مومنین جنت میں داخل کیے جائیں گے اور مشرکین جہنم میں یہ نرم اور مشفقانہ انداز میں تخویف وتحذیر ہے۔ وھذا وعید وانذار ولکن برفق ولین (بحر ج 6 ص 368) ۔
Ayah 22:7083:۔ ” اَلَمْ تَعْلَمُ الخ “ یہ دونوں مضمونوں سے متعلق ہے اور ان پر بمنزلہ دلیل ہے۔ ” فِیْ کُتُبٍ “ یعنی لوح محفوظ اور علم الٰہی میں۔ اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔ اس کے سوا کوئی بشر، کوئی فرشتہ اور کوئی جن اس صفت سے متصف نہیں اس لیے اس کے سوا متصرف و کارساز اور مستحق نذر و نیاز بھی کوئی نہیں۔
Ayah 22:7184:۔ ” وَ یَعْبُدُوْنَ الخ “ یہ بطور زجر دلائل مذکورہ کا ثمرہ ہے۔ مشرکین اللہ کے سوا ایسے خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے معبود ہونے کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور جن کے معبود ہونے پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ” سُلْطَانًا “ سے دلیل وحی اور دلیل نقلی اور علم سے دلیل عقلی مراد ہے۔ سلطانا ای حجۃ و برھانا سماویا من جہۃ الوحی والسمع و ما لیس لھم بہ علم ای دلیل عقلی ضروری او غیرہ (بحر) ۔
Ayah 22:7285:۔ ” وَ اِذَا تُتْلٰی الخ “ یہ بھی شکوی ہے مشرکین کو جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں خالص توحید کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے چہروں پر نفرت اور عداوت کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی آیتیں پڑھنے والوں پر حملہ کردیں گے۔ ” قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمْ “ تخویف اخروی ہے آپ ان مشرکین سے فرما دیں کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے توحید سنانے والوں پر غیظ و غضب اور توحید سے تمہاری نفرت سے بدرجہا بدتر ہے النار ای ھو النار (مدارک) ۔ وہ آگ ہے جو ایسے منکرین ہی کے لیے تیار کی گئی ہے۔
Ayah 22:7386:۔ ” یَا اَیُّھَا النَّاسُ الخ “ یہ سورت کے دونوں مضمونوں کے ساتھ متعلق ہے پہلے سے بالذات اور دوسرے سے بالتبع یعنی اللہ کے سوا تم جن خود ساختہ معبودوں کو مصائب میں پکارتے ہو وہ بالکل عاجز ہیں تمہاری مدد کرنا تو درکنار وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور اپنے نفی نقصان کے مالک بھی نہیں لہذا وہ نذر و نیاز کا استحقاق بھی نہیں رکھتے اس طرح اس سے شرک اعتقادی اور شرک فعلی دونوں کی نفی ہوگئی ابتدائے سورت سے یہاں تک مسئلہ توحید کے اثبات اور اعتقادی اور عملی شرک کے رد پر دلائل عقلیہ اور نقلیہ پیش کیے گئے۔ یہاں معبودان باطلہ کے عاجز و بےبس ہونے اور غیر اللہ کی پکار کے بےسود ہونے کو ایک تمثیل سے واضح کیا گیا ہے یعنی اے مشرکین اللہ کے سوا تم جن خود ساختہ معبودوں کو مصائب و حاجات میں پکارتے ہو وہ تمہاری حاجت برآری اور داد رسی نہیں کرسکتے۔ وہ بالکل عاجز ہیں حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف وہی ہوسکتا ہے جو سب کا خالق ومالک ہے اور تمہارے معبود تو سارے مل کر بھی ایک مکھی پیدا کرنے قدرت بھی نہیں رکھتے مکھی کو پیدا کرنا تو درکنار اگر ان کے کھانے پینے کی چیزوں میں سے مکھی کچھ تھوڑا سا اپنے منہ میں ڈال کرلے اڑے تو وہ اس کے منہ سے چھڑانے کی طاقت بھی نہیں رکھتے تو جو معبود اس قدر عاجز اور بےبس ہوں ان کی عبادت کرنا۔ ان کو کارساز سمجھ کر مصائب میں پکارنا اور ان کی رضا جوئی کے لیے نذریں نیازیں دینا نہایت ہی بےعقلی کی بات ہے۔ ” ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ “ طالب یعنی غیر اللہ کو پکارنے والا اور مطلوب یعنی معبود باطل دونوں کمزور ثابت ہوئے۔ طالب اس طرح کہ اس نے غیر محل سے حاجت مانگی اور مطلوب اس طرح کہ اپنے پجاری کو کچھ نہ دے سکا۔ الطالب عابد غیر اللہ تعالیٰ والمطلوب الالھۃ (روح ج 17 ص 202) ۔ اس آیت سے اولیاء اللہ کو حاجات و مشکلات میں پکارنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے بعض جہلا کا خیال ہے کہ اولیاء اللہ ان کی حاجت روائی کرتے ہیں اس لیے وہ ان کی نذریں دیتے ہیں وہ ان کو قبروں میں متصرف و مختار سمجھتے ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ وہ مختلف شکلوں میں، متشکل ہو کر قبروں سے باہر نکل آتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا “ اشارۃ الی ذم الغالین فی اولیاء اللہ تعالیٰ حیث یستغیثون بھم فی الشدۃ غافلین عن اللہ تعالیٰ وینذرون لھم النذور والعقلاء منھم یقولون انھم وسائلنا الی اللہ تعالی۔ ولا یخفی انھم فی دعواھم اشبہ الناس بعبدۃ الاصنام القائلین انما نعبدھم لیقربونا الی اللہ زلفی۔ ومنھم من یثبت التصرف لھم جمیعا فی قبورھم۔ والعلماء منھم یحصرون التصرف فی القبور فی اربعۃ او خمسۃ واذا طولبوا بالدلیل قالوا ثبت ذالک بالکشف قاتلھم اللہ تعالیٰ ما اجھلھم و اکثر افترائھم ومنھم من یزعم انھم یخرجون من القبور ویتشکلون باشکال مختلفۃ۔ وکل ذالک باطل لا اصل لہ فی الکتاب والسنۃ وکلا سلف الامۃ وقد افسد ھؤلاء علی الناس دینھم الخ (روح ج 17 ص 112، 113) ۔
Ayah 22:7487:۔ ” مَا قَدَرُوْا اللّٰهَ الخ “ ان ظالموں نے خدا کی قدر نہ پہچانی۔ اس حی وقیوم اور قادر و متصرف کے علاوہ ایسے عاجز معبودوں کو پکارنے لگے جو ان کے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے نہ ان میں حاجت پوری کرنے اور مصیبتیں دور کرنے کی طاقت ہے بلکہ وہ تو ایک مکھی سے بھی عاجز ہیں۔ ماقدروا اللہ حق قدرہ حیث اشرکوا بہ شیئا لا یقاوم اضعف مخلوقاتہ (جامع البیان ص 297) ۔ حالانکہ عبادت اور پکار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے اللہ تعالیٰ کا حق اس کی عاجز مخلوق کو دینا بہت بڑی بےانصاری اور بدترین قدر ناشناسی ہے۔ ” اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِیْزٌ“ اللہ تعالیٰ جو طاقت وقدرت کا مالک ہے اور سب پر غالب اس کے مقابلہ میں اس کی عاجز مخلوق کو کارساز سمجھنا ہرگز قرین دانش نہیں۔
Ayah 22:7588:۔ ” اَللّٰهُ یَصْطَفِی الخ “ یہ ایک شبہ کا جواب ہے کہ فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور پیارے بندے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اختیارات دے کر اپنا نائب بنا لیا ہے اور وہ باذن اللہ مخلوق کی کارسازی کرتے ہیں فرمایا یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے پیارے اور برگزیدہ بندے ہیں مگر وہ اللہ کے نائب اور کارخانہ عالم میں متصرف و مختار اور کارساز نہیں ہیں کیونکہ کارسازی کے لیے غیب دان ہونا ضروری ہے اور وہ غیب دان نہیں ہیں۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے صرف اللہ تعالیٰ ہی سمیع لکل شیء (ہر بات کو سننے والا) اور بصیر بکل شیء (ہر چیز کو دیکھنے والا) ہے۔ ” وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْر “ اور کارساز بھی وہی ہے دوسرا کوئی نہیں یا یہ تمثیل مذکور سے متعلق ہے۔ معبود من دون اللہ کی عاجزی اور بےبسی کو ایک مثال سے واضح کر کے فرمایا۔ فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) بیشک میرے منتخب اور محبوب بندے ہیں۔ مگر معبود بننے کے لائق وہ بھی نہیں کیونکہ وہ خواص معبودیت اور صفات کارسازی سے عاری ہیں۔
Ayah 22:7689:۔ ” یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ الخ “ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ “ اور متصرف و مختار بھی وہی ہے لہذا دور و نزدیک سے حاجات میں پکارنا اور نذریں نیازیں دینا صرف اسی کے لیے جائز ہیں اس کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔
Ayah 22:7790:۔ ” یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ مضامین سورت کا بالاجمال اعادہ ہے۔ ” اِرْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا الخ “ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو متصرف و کارساز سمجھو صرف اسی کو پکارو اور نذریں منتیں بھی اسی کے نام کی والغرض ہر قسم کی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کرو اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو۔ اعبدوہ ولا تعبدوا غیرہ (کبیر ج 6 ص 263) ۔ ” وَافْعَلُوْا الْخَیْرَ الخ “ اور اللہ تعالیٰ کے باقی تمام احکام بجا لاؤ۔ کیونکہ اللہ توحید اور اس کے احکام کی پیروی ہی پر نجات اخروی اور فلاح سرمدی موقوف ہے۔
Ayah 22:7891:۔ ” وَجَاھِدُوْا الخ “ حکم جہاد کی طرف اشارہ۔ مشرکین مکہ تمہیں مسجد حرام سے روکتے ہیں اور خود اس میں شرک کرتے ہیں اس لیے تم ان سے جہاد کرو تاکہ اللہ کی توحید کا بول بالا ہو ہر طرف صرف معبود حق کی عبادت کا چرچا ہو اور دنیا سے شرک نیست و نابود ہوجائے۔ ” ھُوَ اجْتَبٰکُمْ الخ “ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کی تائید و نصرت کے لیے منتخب فرمایا ہے اور دین میں شدت اور تنگی نہیں کی بلکہ احکام میں حسب احوال رخصتوں کی گنجائش بھی رکھی ہے۔ ” مِنْ حَرَجٍ “ ضیق بل رخص لکم فی جمیع ما کلفکم من الطھارۃ والصلوۃ والصوم والحج بالتیمم و با الایماء و بالقصر والافطار لعذر السفر والمرض وعدم الزاد والراحلۃ (مدارک ج 3 ص 86) ۔
92:۔ ” مِلَّةَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ الخ “ یہ دونوں مضمونوں پر دلیل نقلی ہے۔ ملۃ کا ناصب مقدر ہے۔ قال الزجاج المعنی اتبعوا ملۃ ابیکم (قرطبی ج 12 ص 101) ۔ اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کرو۔ ملت ابراہیمی کی بنیاد توحید اور اللہ کے لیے کامل انقیاد پر ہے چناچہ انہوں نے تم لوگوں کا جو ان کی ملت کے متبع ہو پہلے سے مسلمین نام رکھ دیا یا ” سَمّٰکُمْ “ کی ضمیر فاعل ذات باری تعالیٰ سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلی کتابوں میں اور اس قرآن میں ملت ابراہیمی کے پیروؤں کا نام مسلمین رکھا۔ اکثر مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے (خازن و معالم) ۔
93:۔ ” لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ الخ “۔ شھید کے معنی ہیں حق بتانے والا۔ شھداء اس کی جمع ہے۔ میرا پیغمبر ﷺ تم پر حق یعنی مسئلہ توحید بیان کرے اور تم آنے والی نسلوں کو حق سناؤ۔ یا شہید بمعنی گواہ ہے یعنی آنحضرت ﷺ اپنی امت پر شہادت دیں گے کہ آپ نے ان کو پیغام حق پہنچا دیا۔ امت محمدیہ پہلی امتوں پر گواہی دے گی کہ ان کے انبیاء (علیہم السلام) نے ان کو پیغام توحید پہنچا کر ان پر حجت خداوندی قائم کردی۔ (شھیدا علیکم) ای یوم القیمۃ ان قد بلغکم و تکونوا شھداء علی لناس ای تشھدون یوم القیامۃ علی الامم ان رسلھم قد بلغتھم (خازن ج 5 ص 30) ۔ لفظ شھید کی پوری تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذشر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 70 حاشیہ 273 ۔
94:۔ ” فَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوةَ الخ “ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک امتیازی شان عطا فرمائی ہے اس لیے تم اس کا شکر ادا کرو۔ اس طرح کہ اس کی پوری پوری اطاعت کرو۔ اس کے تمام احکام بجا لاؤ نماز قائم کرو زکوۃ اور ہر معاملہ میں اسی پر بھروسہ کرو۔ اس کی اطاعت تو مکمل طور سے کرو لیکن بھروسہ عبادت وطاعت پر نہ رکھو بلکہ اس کی رحمت پر رکھو۔ وانما خصکم بھذہ الکرامۃ والاثرۃ (فاقیموا الصلوۃ) ۔ وثقوا باللہ وتوکلوا علیہ لا بالصلوۃ والزکوۃ (مدارک ج 3 ص 87) ۔ واذ قد خصوا بھذہ الکرامۃ والاثرۃ فاعبدوہ وثقوا بہ ولا تطلبوا النصرۃ والولایۃ الا منہ فھو خیر مولی و ناصر (بحر ج 6 ص 392) ۔
95:۔ ” ھُوَ مَوْلٰکُمْ الخ “۔ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا حامی و ناصر اور مالک و متولی ہے۔ وہ کیسا ہی اچھا مالک ہے کہ نافرمانیوں کے باوجود روزی بند نہیں کرتا۔ اور کیسا ہی اچھا مددگار ہے کہ اگر اس کی مدد شامل حال ہو تو آدمی کسی بھی میدان میں ناکام نہیں ہوسکتا۔
سورة حج کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید
1 ۔ ” یا ایھا الناس ان کنتم فی ریب “ تا ” و انه علی کل شیء قدیر “ (رکوع 1) دلیل عقلی برائے ثبوت قیامت و نفی شرک فی التصرف
2 ۔ ” یدعوا من دون اللہ “ تا ” لبئس المولی ولبئس العشیر “ (رکوع 2) نفی شرک فی التصرف
3:۔ ” الم تر ان اللہ یسجد له “ تا ” ان اللہ یفعل ما یشاء “ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف
4 ۔ ” وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرَاھِیْمَ “ تا ” فَاِلٰھُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗ اَسْلِمُوْا “ (رکوع 5) نفی شرک فعلی۔
5 ۔ ” ذَالِکَ بِاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ الْحَقَّ “ تا ” وَ اِنَّ اللّٰهَ لَھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْد “ (رکوع 8) ۔ نفی شرک فی التصرف۔
6 ۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ “ تا ” وَ اِنَّ اللّٰهَ لَھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ “ (رکوع 8) ۔ نفی شرک فی التصرف۔
7 ۔ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَکُمْ “ تا ” اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْر “ (رکوع 9) نفی شرک فی التصرف۔
8 ۔ ” اَلَمْ تَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ “ تا ” اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰهَ یَسِیْر “ (رکوع 9) نفی شرک فی التصرف بالذات و نفی شرک فعلی بالتبع۔
9 ۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ تا ” اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِیْزٌ“ (رکوع 10) ۔ تمثیل برائے نفی تصرف و اختیار از معبودان باطلہ۔
10:۔ اس سورت میں دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز اور مستحق نذر و نیاز نہیں اور مشرکین کے پاس کوئی عقلی و نقلی اور وحی کی دلیل نہیں۔
11 ۔ طواف صرف اللہ کے گھر کا جائز ہے اور اعتکاف، رکوع اور سجدہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔
12:۔ توحید کی تبلیغ کے وقت شیطان لوگوں کے دلوں میں شبہات ڈال کر توحید سے بد ظن کرتا ہے۔
13:۔ اعلان فتح اور فتح کے اسباب
14:۔ پہلے تمام دینوں میں صرف اللہ کی نذر ونیاز دینا جائز تھا۔ اور غیر اللہ کی نذر و نیاز کسی دین میں جائز نہ تھی۔
15: معبودان باطلہ اس قدر عاجز ہیں کہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے بلکہ مکھی سے بھی عاجز ہیں۔
سورة انبیاء ختم ہوئی