Ayahs 23:1–22:۔ ” قَدْ اَفْلَحَ الخ “ کے مفہوم میں دو باتیں داخل ہیں ایک مطلوب و مقصود کو پالینا۔ دوم جس سے ڈر یا خطرہ ہو اس سے محفوظ ہوجانا۔ والفلاح الظفر بالمطلوب والنجاۃ من الرھوب ای فاذوا بما طلبوا ونجو مما ھربوا (مدارک ج 3 ص 87) ۔۔ سورة حج کی ابتدا میں ” اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةَ شَیْءٍ عَظِیْمٍ “ سے جس خوفناک عذاب کی وعید سنائی گئی اس سے وہ مومنین محفوظ رہیں گے جو اپنے اندر اوصاف ذیل پیدا کرلیں گے (1) خدا سے ڈر کر نماز قائم کریں۔ (2) ہر قسم کے شرک سے بچیں اور (3) مخلوق خدا پر ظلم نہ کریں۔ یہ تینوں امور عذاب خداوندی سے بچنے کا ذریعہ ہیں۔
3:۔ ” اَلْمُوْمِنُوقنَ الخ “ المومنون سے وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ کی توحید، رسالت اور دیگر تمام ضروریات دین پر ایمان لائیں اور احکام الٰہیہ پر عمل پیرا ہوں۔ اس طرح بعد والی صفات المومنون کے لیے صفات موضحہ ہیں۔ ” اَلَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ “ یہ امر اول ہے وہ نماز قائم کرتے ہیں وہ نماز میں اللہ سے ڈرتے اور عاجزی کرتے ہیں اور خدا کے خوف سے نماز پر مداومت کرتے ہیں کیونکہ ایسی خشوع والی نماز سے باطن کی صفائی ہوتی ہے اور دلوں میں محبت اور الفت پیدا ہوتی ہے فی الحدیث سووا صفوفکم او لیخالفن اللہ بین قلوبکم۔ خشوع یہ ہے کہ نماز میں خیالات جمع رہیں اور توجہ صرف نماز ہی میں مرکوز رہے اور نماز کے علاوہ کسی چیز کا دل میں خیال تک نہ آئے اور ہاتھ پاؤں سے نماز میں کوئی عبث کام کرے۔ وفی المنھاج و شرحہ لابن حجر و لیس الخشوع فی کل ژلاتہ بقلبہ بان لا یحضر فیہ غیر ما ھو فیہ وان تعلق بالاخرۃ و بجوارحہ بان لا یعبث باحدھا (روح ج 18 ص 4) ۔
Ayah 23:34:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ الخ “ یہ امر دوم ہے یعنی وہ شرک نہیں کرتے لغو کو بعض مفسرین نے عام کیا ہے اور اس سے ہر باطل قول اور عمل مراد لیا ہے اقوال میں سب سے بڑا باطل شرک فی التصرف ہے اور اعمال میں سب سے بڑا باطل شرک فعلی ہے اس طرح یہ لفظ شرک اعتقادی اور شرک فعلی کو بطریق اولیٰ شامل ہے حضرت عبداللہ بن عباس اور امام ضحاک نے تو لغو سے مراد ہی شرک لیا اور بعض نے اس سے گانا بجانا مراد لیا ہے۔ قال ابن عباس عن الشرک (خازن و معالم ج 5 ص 32) ۔ وقال الضحاک ان اللغو ھنا الشرک و قال الحسن انہ المعاصی لھا فھذا قول جامع یدخل فیہ قول من قال ھو الشرک و قول من قال ھو الغناء (قرطبی ج 12 ص 105) ۔ حاصل یہ ہے کہ وہ تمام معاصی سے اور خصوصاً ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرتے ہیں
Ayah 23:45:۔ ” وَّالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوةِ فٰعِلُوْنَ الخ “ یہ بھی امر دوم ہی سے متعلق ہے کچھ مفسرین نے زکوۃ کو یہاں زکوۃ مالیہ پر محمول کیا ہے لیکن اس پر یہ اشکال ہے کہ یہ سورت مکی ہے لیکن زکوۃ مکہ میں فرض نہ تھی بلکہ مدینہ میں فرض ہوئی بعض محققین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ مدینہ میں نصاب اور قدر زکوۃ کی فضیت نازل ہوئی تھی لیکن اصل زکوۃ مکہ میں فرض ہوئی۔ قال بعض المحققین فرضت بالمدینہ نصابھا وقدرھا واما اصلھا فقد کان واجبا بمکۃ (جامع البیان ص 298) ۔ یا زکوۃ سے زکوۃ نفوس مراد ہے یعنی وہ اپنے نفوس کو عقائد باطلہ اور اعمال مشرکانہ سے پاک رکھتے ہیں۔ او المراد زکوۃ النفس و تطھیرھا من الرزائل (جامع) ۔ حضرت شیخ کے نزدیک یہی راجح ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ” قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰی “ (سورۃ الاعلی) ۔
Ayah 23:56:۔ ” وَ الَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ الخ “ یہ امر سوم ہے یعنی وہ ظلم کے کاموں سے بچتے ہیں۔ یہاں ظلم کے تین کاموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ زنا، امانت میں خیانت اور بدعہدی، زنا بھی ایک بہت بڑا ظلم ہے فرمایا فلاح پانے والوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو ناجائز اور غیر محل میں استعمال کرنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں زنا اس لیے ظلم ہے کہ زنا سے جو بچہ پیدا ہوگا اسے یا تو تہمت کے کوسے قتل کردیا جائیگا یا اسے کہیں پھینک دیا جائے گا اور وہ مادر و پدر کی شفقت سے محروم رہے گا اور در بدر خوار ہوگا۔ یہ دونوں ظلم ہیں۔
Ayahs 23:6–77:۔ ” اِلَّا عَلٰے اَزْوَاجَهِمْ الخ “ یہ ما قبل سے مستثنی ہے مرد کو صرف دو قسم کی عورتوں کے ساتھ جنسی اختلاط کی اجازت دی گئی ہے۔ اول وہ عورت جو ازروئے شریعت اسلامیہ اس کی بیوی ہو۔ دوم وہ عورت جو شرعی طور پر اس کی زر خرید لونڈی ہو۔ دنیا میں اس دوسری قسم کا وجود باقی نہیں رہا۔ ” فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَاءَ ذٰلِکَ الخ “ جو لوگ مذکورہ بالا دونوں جگہوں کے علاوہ شہوت رانی کریں وہ ظالم اور حد سے گذرنے والے ہیں اور حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے ہیں۔ ای الظلمون المجاوزون الحد من الحلال الی الحرام الخ (خازن و معالم ج 5 ص 32) ۔ یہ آیت متعہ، لواطت، اور استمناء بالید کی حرمت پر دلیل ہے کیونکہ یہ تمام صورتیں وراء ذالک میں داخل ہیں۔ وفیہ دلیل علی تحریم المتعۃ والاستمناء بالکف لارادۃ الشھوۃ (مدارک ج 3 ص 88) ۔ و یدخل فیما وراء ذالک الزنا واللواط ومواقعۃ البھائم مما لا خلاف فیہ (روح ج 18 ص 7) ۔ روافض کہتے ہیں جس عوت سے متعہ کیا جائے چونکہ وہ بھی بیوی کے حکم میں ہے اس لیے وہ ” ازواجهم “ میں داخل ہے اور ” وراء ذالک “ میں داخل نہیں لہذا اس آیت سے نکاح متعہ کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اسکا جواب یہ ہے کہ متعہ والی بیوی ازروئے شریعت بیوی نہیں کیونکہ اس کے احکام شرعی زوجہ سے بالکل مختلف ہیں دونوں کا فرق سمجھنے سے پہلے متعہ کی حقیقت سمجھ لیجئے۔ نکاح متعہ کی صورت یہ ہے کہ ایک مرد ایک عورت کے ساتھ معین رقم کے بدلے معین تک نکاح کرے۔ اب دونوں کے احکام ملاحظہ ہوں جو شرعی طور پر ایک مرد کی بیوی ہو اس کے احکام حسب ذیل ہیں (1) اگر وہ فوت ہوجائے تو خاوند اس کا وارث ہوگا اور اگر خاوند فوت ہوجائے تو وہ اس کی وارث ہوگی (2) جو اولاد پیدا ہوگی وہ اس کے خاوند کی کہلائیگی۔ (3) خاوند کی جانب سے طلاق دئیے بغیر وہ اس کے نکاح سے باہر نہیں ہوسکے گی۔ (4) طلاق کے بعد عدت سے پہلے وہ کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکے گی لیکن ممتوعہ یعنی جس عورت سے کسی نے متعہ کیا ہو (1) اس کے اور متعہ کرنے والے کے درمیان وراثت جاری نہیں ہوگی (2) اولاد بھی شرعاً اس کے ساتھ ملحق نہ ہوگی۔ (3) طلاق کی ضرورت نہیں مدت ختم ہونے پر نکاح بھی ختم ہوجائیگا اور (4) عدت کی بھی ضرورت نہیں پہلے متعہ کی مدت ختم ہوتے ہی دوسری جگہ متعہ کرسکتی ہے۔ اس طرح ممتوعہ شرعی بیوی کے حکم میں داخل نہیں اور لا محالہ وراء ذالک ہی میں داخل ہے۔ وھذا یقتضی تحرم الزنی وما قلناہ من الاستمناء و نکاح المتعۃ لان المتمتع بھا لا تجری بحری الزوجات لا ترث ولا تورث، ولا یلحق بہ ولدھا، ولا یخرج من نکاحھا بطلاق یستانف لھا وانھا یخرج بانقضاء المدۃ التی عقدت علیھا وصارت کا لمستاجرۃ (قرطبی ج 12 ص 106) ۔
Ayah 23:88:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانَاتِھِمْ الخ “ یہ تیسری صفت سے متعلق ہے یعنی وہ ظلم کے کاموں سے بچتے ہیں۔ اس آیت میں ظلم کے دو کاموں کی طرف اشارہ ہے امانت میں خیانت اور بد عہدی یہ دونوں باتیں دوسروں کے حق میں ظلم ہیں اس لیے فرمایا کہ فلاح کامل صرف ان مومنوں کو حاصل ہوگی جو ظلم کے ان کاموں سے بھی بچیں گے۔
Ayah 23:99:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلیٰ صَلٰوتِھِمْ الخ “ یہ امر دوم کا اعادہ ہے اور اعادہ کا فائدہ یہ ہے کہ پہلے ” اَلَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ “ میں نماز میں خشوع و خضوع کرنے کا ذکر تھا اور یہاں فرائض و واجبات، آداب و مستحبات اور وقتوں کی پابندی کی رعایت سے بلا ناغہ نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا کیونکہ لفظ محافظت ان تمام باتوں کو شامل ہے المراد بالمحافظۃ التعھد لشروطھا من وقت و طھارۃ و غیرھما والقیام علی ارکانھا واتمامھا حتی یکون ذالک دابۃ فی کل وقت الخ (کبیر ج 6 ص 372) ۔
Ayahs 23:10–1110:۔ ” اُوْلٰئِکَ ھُمُ الْوَارِثُوْنَ الخ “ یہ مومنون کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” اُولٰئِکَ “ سے ” المومنون “ مراد ہیں جو مذکورہ بالا اوصاف ثلٰثہ سے متصف ہوں یعنی خداوند تعالیٰ سے ڈرتے رہیں۔ ہر قسم کے شرک اور ہر قسم کے ظلم سے بچتے رہیں ایسے مومن ہی جنت الفردوس کے مستحق اور وارث ہیں ” ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ “ اور وہ جنت الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے نہ جنت فنا ہوگا نہ جنتی فنا ہوں گے اور نہ انہیں اس سے نکالا ہی جائے گا۔ ومعنی الکلام لا یموتون ولا یخرجون منھا (روح ج 18 ص 12) عذاب سے بچنے کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر کرنے کے بعد آگے اصل دعوے پر دلائل کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔
Ayah 23:1211:۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا الخ “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَان “ تا ” یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ “ میں انسانی زندگی کے مختلف چار ادوار کا ذکر کیا گیا ہے۔ (1) رحم مادر میں رہنے کا زمانہ (2) دنیوی زندگی کا دور (3) برزخی زندگی کا دور (4) اخروی زندگی کا دور۔ مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی کے یہ تمام انقلابات خداوند تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہیں اور کسی غیر اللہ کو ان میں کوئی دخل نہیں لہذا وہی سب کا کارساز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا تفصیل سے ذکر کرکے انسان کو اس طرف متوجہ فرمایا کہ ہم نے کس طرح تجھے پیدا فرمایا۔ کیا اس طرح کوئی کرسکتا ہے لیکن پھر بھی مشرکین اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ خالق اللہ کے سوا کوئی نہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ “ (زخرف رکوع 7) اس سے معلوم ہوا کہ دلیل میں حصر ہے یعنی اس عجیب و غریب طریقہ سے میں نے انسان کو پیدا کیا ہے اس طرح اور کوئی نہیں کرسکتا۔ ” الانسان “ میں لام عہد کے لیے اور اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو تمام نوع بشر کے جد امجد ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مٹی کے خلاصے اور ست سے پیدا فرمایا۔
Ayah 23:1312:۔ ” ثُمَّ جَعَلْنٰهُ الخ “ یہ انسانی زندگی کے ادوار اربعہ میں سے پہلے دور کا ذکر ہے پھر اس دور میں یعنی رحم مادر میں انسان کو چھ حالتوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ پہلی حالت وہ ہے جب نطفہ رحم مادر میں ٹھہرتا ہے اس آیت میں اسی حالت اولیٰ کا ذکر ہے۔ ضمیر مفعول الانسان کی طرف راجع ہے اور اس سے پہلے مضاف مقدر ہے۔ ای ثم جعلنا نسلہ ویکون (النطفۃ) منصوبا بنزع الخافض واختارہ بعض المھققین ای ثم خلقنا الانسان من نطفۃ کائنۃ فی قرار الخ (روح ج 18 ص 13) اور ” قرار مکین “ یعنی قرار کی محفوظ جگہ سے مراد رحم مادر ہے۔ (فی قرار) مستقر یعنی الرحم (مدارک ج 3 ص 87) ۔
Ayah 23:1413:۔ ” ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ الخ “ یہ رحم مادر میں دوسری حالت ہے۔ ” عَلَقَةً “ نطفہ قرار پا جانے کے کچھ عرصہ بعد ہم اسے جمے ہوئے خون کی شکل میں بدل دیتے ہیں۔ ” فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً “ یہ تیسری حالت ہے پر اس جمے خون کو گوشت کے ٹکڑے کی حالت میں منقلب کردیتے ہیں۔ ” فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا “ یہ چوتھی حالت ہے عظاماً کا مضاف مقدر ہے اور یہ اس کا قائم مقام ہے ای ذا عظام۔ یعنی پھر ہم اس گوشت میں ہڈیاں پیدا کردیتے ہیں۔ ” فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا “ پانچویں حالت ہے یعنی پھر ہم ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتے ہیں۔ ” ثُمَّ اَنْشَانٰهُ خَلْقًا اٰخر “ یہ چھٹی حالت ہے یعنی اس کے بعد ہم اس میں روح پھونک کر ایک جداگانہ مخلوق بنا دیتے ہیں جو پہلی تمام حالتوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے پہلے وہ بالکلک جماد اور بےحس و حرکت تھا اور اس کے اعضاء بھی ناقص تھے لیکن اب ہم نے اس کو جاندار اور سمیع وبصیر بنادیا اور تمام اعضاء کامل بنادئیے۔ ای خلقا مبانیا للخلق الاول مبانیۃ ما ابعدھا حیث جعل حیوانا وکان جمادا و ناطقا وکان ابکم وسمیعا و کان اصم و بصیرا وکان اکمہ وودع باطنہ و ظاھرہ بل کل عضو من اعضائہ و کل جزء من اجزاء ہ عجائب فطرۃ وغرائب حکمۃ لا یحطھا وصف الواصفین ولا شرح الشارحین (کبیر ج 6 ص 275) ۔ ” فَتَبٰرَکَ اللّٰهُ الخ “ ی دلیل مذکورہ کا ثمرہ اور نتیجہ ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ کمال قدرت اور حسن صنعت سے ایک حقیر نطفے کو مختلف احوال سے گذار کر ایک خوبصورت قام الخلقت اور کامل الحواس انسان کی شکل میں پیدا کرتا ہے جب یہ سب کچھ وہی کرتا ہے تو برکات دہندہ اور سب کا کارساز بھی وہی ہے اور اس کے سوا کوئی متصرف و برکات دہندہ نہیں، الخلقین بمعنی موجدین یا مقدرین ہے۔
Ayahs 23:15–1614:۔ ” ثُمَّ اِنَّکُمْ بعد ذالِکَ الخ “ یہ انسانی زندگی کا تیسرا دور ہے اور تخویف اخروی ہے یعنی عالم برزخ۔ دوسرے دور کا صراحۃً ذکر نہیں لیکن اشارۃً وہ مفہوم ہورہا ہے۔ ” ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ “ یہ چوتھے دور کا ذکر ہے یعنی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہو گے آخر ایک دن تمہیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد پھر تمہیں زندہ کیا جائے گا اور تم خدا کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے اس لیے حیاء کرو اور خدائے قہار کے عذاب سے ڈرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو۔
Ayah 23:1715:۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ “ تا ” وَ صِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے پہلی دلیل میں انسان کی پیدائش کا ذکر دوسری اور تیسری دلیلوں میں انسان پر کیے گئے گوناگوں انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اس دلیل کے تین حصے ہیں پہلے حصے میں انسانوں کی پیدائش کا ذکر ہے دوسرے حصے میں آسمانوں سے بارش برسانے اور تیسرے حصے میں زمین انواع و اقسام رزق پیدا کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ قادر و متصرف، کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور دوسری طرف یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تمام غلے، پھل اور میوے اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائے ہیں لہذا ان چیزوں سے نذر و نیاز بھی صرف اسی کے نام کی دیا کرو۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ الخ “ یہ دلیل کا پہلا حصہ ہے جس سے دعوے کا پہلا حصہ ثابت ہوتا ہے کہ متصرف و کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ طرائق، طریقۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد آسمان ہیں کیونکہ جو چیز کسی دوسری چیز کے اوپر ہو اسے طریقۃ کہتے ہیں اور آسمان چونکہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں اس لیے انہیں طرائق کہا گیا یا طریقۃ، راستے کے معنی میں ہے اور آسمانوں میں چونکہ فرشتوں کے صعود و نزول کے لیے راستے ہیں اس لیے انہیں طرائق کہا گیا ہے قیل للسموت طرائق لان بعضھا فوق بعض و العرب تسمی کل شیء فوق شیء طریقۃ وقیل لانھا طرائق الملائکۃ (قرطبی ج 12 ص 110) ۔ قال علی بن یسی سمیت بذالک لانھا طرائق للملئکۃ فی العروج واسوط والطیران الخ (کبیر ج 6 ص 277 کذا فی جامع البیان ص 299) ۔
16:۔ ” وَ مَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ الخ “ اس سے دعوے کا دوسرا حصہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ ایسا بےپایاں جہان پیدا کر کے ہم اس مخلوق سے بیخبر نہیں ہیں بلکہ ہم باقاعدہ ساری مخلوقات کی دیکھ بھال، سارے عالم کی تدبیر اور تمام جہانوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ بل نعلم جمیع المخلوقات جلھا و دقھا فندبر امرھا (جامع البیان) جب سارے جہان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور سارے عالم کا مدبر وقیوم اور سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے تو سب کا کارساز بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 23:1817:۔ ” وَاَنْزَلْنَا الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے یعنی ہم پورے اندازے سے بارش برساتے ہیں جس سے زمین میں غلے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ” فَاَسْکَنّٰهُ فِیْ الْاَرْضِ “ ضرورت سے زائد پانی کو ہم زمین میں جذب کر کے یا وادیوں میں جمع کر کے محفوظ کردیتے ہیں جسے چشموں اور ندیوں کی صورت میں بہاتے ہیں یا تم کنوئیں اور نہریں کھود کر اسے حاصل کرتے اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہو۔ ھذا الذی ذکر اللہ سبحانہ وتعالی واخبر بانہ استودعہ فی الارض و جعلہ مخزونا لسقی الناس یجدونہ عند الحاجۃ الیہ ھو ماء الانھار والعیون وما یستخرج من الابار (قرطبی ج 12 ص 112) ۔ ” وَ اِنَّا عَلے ٰ ذَھَابٍ الخ “ یہ ایک قسم کی تخویف دنیوی ہے یعنی ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ ذخیرہ آب کو بخارات بنا کر اڑا دیں یا زمین اس طرح جذب کردیں کہ تم اس سے فائدہ نہ اٹھا سکو اور تم اور تمہارے چوپائے پیاس سے ہلاک ہوجائیں۔
Ayah 23:1918:۔ ” فَاَنْشَانَا لَکُمْ الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل کا تیسرا حصہ ہے یہ کھجور اور انگور کے باغات ہم ہی نے پیدا کیے اس کے علاوہ اور بہت سے میوے پیدا کیے۔ ” وَ مِنْھَا تَاکُلُوْنَ “ من تبعیضیہ ہے ای بعضھا یعنی ان پھلوں اور میووں کی تجارت سے بھی فائدہ اٹھاتے ہو اور ان میں سے کچھ خود کھاتے بھی ہو یا من ابتدائیہ ہے اور اَکَلَ سے مجازا روزی کمانا مراد ہے یعنی ان پھلوں اور میووں کی تجارت سے تم روزی کماتے ہو۔ ومن ابتدائیۃ وقیل انھا تبعیضیۃ ومضمونھا مفعول (تاکلون) والمراد بالاکل معناہ الحقیقی (روح ج 18 ص 21) ۔ ومنھا تاکلون من قولھم فلان یا کل من حرفۃ یحترفھا و من صنعۃ یعلھا و من تجارۃ یتربح بھا یعنون انھا طعمتہ و جھتہ التی منہا یحصل رزقہ الخ (بحر ج 6 ص 400) ۔
Ayah 23:2019:۔ ” وَ شَجَرَةً الخ “ یہ ” جَنّٰتٍ “ پر معطوف ہے اور اس درخت سے زیتون کا درخت مراد ہے طور سیناء وہی پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوتے تھے طور بمعنی پہاڑ۔ اور سیناء اس پہاڑ کا نام ہے یہ پہاڑ ملک شام میں واقع ہے اس پر زیتون بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ ” تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ الخ “ جملہ ” شَجَرَةً “ کی صفت ہے اور ” با “ ملابست و مصاحبت کے لیے ہے جس کا متعلق محذوف ہے اور وہ ” تَنْبُتُ “ کے فاعل سے حال واقع ہے ای تنبت متلبسۃ بالدُّھنِ (روح) ۔ یعنی وہ درخت پیدا ہوتا ہے تو روغن بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے یا ” با “ بمعین مع ہے اور یہ حال ہے۔ قال الزجاج الباء للحال ای تنبت و معھا الدہن (مدارک ج 3 ص 90) ۔ روغن سے روغن زیتون مراد ہے۔
20:۔ ” وَ صِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ “ یہ ” اَلدُّھْن “ پر معطوف ہے اور ” صِبغ “ کے لغوی معنی رنگ کے ہیں لیکن اس سے مراد سالن ہے یعنی جس چیز کے ہمراہ روٹی کھائی جائے تاکہ وہ خوشگوار ہوجائے۔ ” صبغ “ سے مراد روغن زیتون ہی ہے کیونکہ عرب کے لوگوں میں یہ ایک عمدہ سالن شمار ہوتا تھا یا اس سے زیتون کا پھل مراد ہے جو بطور سالن استعمال ہوتا تھا۔ جعل اللہ فی ھذہ الشجرۃ المبارکۃ ادعا وھو الزیتون و دھنا وھو الزیت (خازن و معالم ج 5 ص 35) ۔ اب غور کرو کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اور یہ سارے انعامات اسی نے عطاء فرمائے ہیں اس لیے اسی کو کارساز سمجھو حاجات میں غائبانہ اسی کو پکارو۔ اور اس کے پیدا کیے ہوئے غلوں اور پھلوں سے اسی کے نام کی نذریں دو ۔
Ayahs 23:21–2221:۔ ” وَ اِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً الخ “۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ فرمایا ان چوپایوں میں بھی تمہارے لیے عبرت اور توحید کے دلائل ہیں۔ ” مِمَّا فِی بُطُونِھَا “” مَا “ سے دودھ مراد ہے یہ ہماری قدرت کی ایک نشانی ہے کہ ہم چوپایوں کے پیٹ سے گوبر اور خون سے بالکل پاک صاف دودھ پیدا کرتے ہیں جو تمہیں لذیذ اور خوشگوار غذا کا کام دیتا ہے۔ ” وَلَکُمْ فِیھَا مَنَافِع الخ “ اس کے علاوہ ان چوپایوں میں تمہارے لیے اور بہت فائدے ہیں مثلاً ان کی تجارت کے ذریعے دولت کماتے ہو۔ ” وَ مِنْھَا تَاکُلُوْنَ “ چوپائے زندہ وہ تو بھی تمہارے لیے ان میں منافع ہیں اور اگر ان کو ذبح کرلو تو بھی ان کو گوشت کھاتے ہو اور ان کی کھالیں فروخت کر کے روزی کماتے ہو۔ ” وَ عَلَیْھَا الخ “ بعض چوپائے تمہاری سواری اور بار برداری کے کام آتے ہیں اسی طرح یہ دونوں کام تم کشتیوں سے بھی لیتے ہو جو محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی مہربانی سے صحیح سلامت دریاؤں اور سمندروں میں سفر کرتی ہیں جس اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور مہربانی سے یہ تمام نعمتیں عطاء کی ہیں وہی سب کا کارساز ہے اور وہی ہر قسم کی عبادت اور پکار کا مستحق ہے یہاں تک دلائل عقلیہ ختم ہوئے اب آگے دلائل نقلیہ کا ذکر ہے۔
Ayah 23:2322:۔ ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا الخ “ توحید پر پہلی نقلی دلیل از حضرت نوح علیہ السلام، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا۔ ” یٰقَوْمِ اعْبُدُوْ اللّٰهَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرهٗ “ یعنی جب سب کچھ کرنے والا وہی ہے تو عبادت بھی اسی کی بجا لاؤ یعنی حاجات و مشکلات میں صرف اسی کو پکارو۔ کیونکہ اس کے سوا کوئی کارساز اور مستحق عبادت نہیں عبادت بمعنی دعاء ہی ہے کیونکہ حدیث میں ہے۔ الدعاء مخ العبادۃ۔ ” اَفَلَا تَتَّقُوْنَ “ کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ہو اور اس کے ساتھ شرک کرتے اور غیر اللہ کو غائبانہ پکارتے ہو۔
Ayah 23:2423:۔ ” فَقَالَ الْمَلَؤُا الخ “ قوم کے مشرک سرداروں نے لوگوں کو حضرت نوح سے بد ظن کرنے کے لیے عوام سے کہا کہ نوح پیغمبر نہیں ہے وہ تو تم جیسا بشر اور انسان ہے پھر اس میں کون سی خوبی ہے کہ وہ رسالت و نبوت کا مستحق ہو بات در اصل یہ ہے کہ نوح پیغمبری کا دعوے کر کے قوم کا سردار اور بڑا آدمی بننا چاہتا ہے۔ اہل دنیا چونکہ خود اس کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس لیے اہل حق کو اس کا طعنہ دیتے ہیں۔ ” وَ لَوْ شَاءَ اللّٰهُ الخ “ اگر اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا مقصود تھا تو وہ کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا یہ نوح تو بشر ہے اس لیے وہ ہرگز نبی نہیں کیونکہ بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ عیاذا باللہ۔ بیان لعدم رسالۃ البشر علی الاطلاق علی زعمہم الفاسد بعد تحقیق بشریتہ (علیہ السلام) (روح ج 18 ص 25) ۔
24:۔ ” مَا سَمِعْنَا الخ “۔” ھٰذَا “ سے اس کلام کی طرف اشارہ ہے جس میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی طرف دعوت دی یا بشر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ ” بِھٰذَا “ ای بارسال بشر رسولا او بما یا مرنا بہ من التوحید (مدارک ج 3 ص 90) الذی یدعونا الیہ نوح (خازن و معالم ج 5 ص 36) یعنی ہم نے اپنے باپ داد سے یہ مسئلہ توحید آج تک نہیں سنا جس کی نوح (علیہ السلام) دعوت دیتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ حضرت آدم، شیث اور ادریس (علیہم السلام) کی تعلیم کو یکسر بھول چکے تھے یا محض ضد وعناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا۔ ثم ان قولھم ھذا ما لکونھم وآبائھم فی فترۃ واما لفرط غلوھم فی التکذیب والعناد و انھما کھم فی الغی والضار (روح ج 18 ص 25) ۔
Ayah 23:2525:۔ ” اِنْ ھُوَ الخ “ یہ بھی رؤساء مشرکین کا قول ہے۔ نوح ایک ایسی بات کہتا ہے (یعنی صرف ایک اللہ ہی کو پکارو) جو ہم نے آج تک نہیں سنی اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دیوانہ ہے اور اس کے حواس درست نہیں ہیں۔ معاذ اللہ ! اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ شاید کچھ عرصہ کے بعد اس کی دماغی حالت درست ہوجائے اور وہ اپنے اس عجیب و غریب دعوی سے باز آجائے۔ یہ مشرکین کی ضد و عداوت کی انتہا تھی۔
Ayah 23:2626:۔ ” قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ الخ “ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے مگر قوم ضد وعناد سے اپنے مشرکانہ عقائد و اعمال پر جمی رہی تو ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہو کر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے اللہ میر متواتر تبلیغ و دعوت پر ان کے مسلسل انکار و جحود کی وجہ سے اب انہیں ہلاک کردے اور میری تکذیب کا ان سے انتقام لے۔ ای اھلکھم بسبب تکذیبھم ایای (کبیر ج 6 ص 281) ۔
Ayah 23:2727:۔ ” فَاَوْحَیْنَا الخ “ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے قوم کو طوفان سے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کے بچاؤ کی تدبیر ارشاد فرمائی کہ ہماری ہدایات کے مطابق ایک کشتی تیار کرلو اور جب تنور میں سے پانی ابلنے لگے فورًا خود بھی اس میں سوار ہوجاؤ اور اپنے مومن اہل و عیال اور دوسرے مومنوں کو بھی اس میں سوار کرلو اور جن جانوروں کی زیادہ ضرورت ہے ان میں سے بھی ایک ایک جوڑا (نر و مادہ) ساتھ لے لو۔ اور اب ان مشرکین کے بارے میں کسی قسم کی سفارش وغیرہ نہ کرنا کیونکہ اب ہم انہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔
Ayah 23:2828:۔ ” فَاِذَا اسْتَوَیْتَ الخ “ جب تم اپنے ہمراہیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوجاؤ تو شکر نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناکرو جس نے ظالم و سرکش قوم سے تم کو نجات دی ہے وہی تو کارساز اور مصائب و مشکلات سے نجات دینے والا ہے۔ ” وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ الخ “ اور یہ بھی دعا مانگو کہ اللہ اس کشتی سے مجھے صحیح سلامت اتاریو اور میرے اترنے کو دین و دنیا کی برکات سبب بنائیو ” مُں ْزَلًا مُّبَارَکًا “ یتسبب لمزید الخیر فی الدارین (روح ج 18 ص 28) ۔
Ayah 23:2929:۔ ” اِنَّ فِیْ ذَالِکَ الخ “” ذِالِکَ “ سے واقعہ مذکورہ کیطرف اشارہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کو بچانے اور مشرکین کو ہلاک کرنے میں ہماری قدرت کا ملہ کی نشانیاں ہیں اور منکرین کے لیے عبرت اور موعظت ہے اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کی مدد کرتا اور ان کے دشمنوں اور منکرین توحید کو ہلاک کرتا ہے۔ ای دلالات علی کمال قدرۃ اللہ تعالیٰ وانہ ینصر انبیاء ہ و یھلک اعداءھم (قرطبی ج 12 ص 120) ۔
Ayahs 23:30–3130:۔ ” وَ اِنْ کُنَّا الخ “ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان محذوف ہے۔ ” ابتلاء “ بلاء سے ہے بمعنی امتحان یا عذاب حضرت شیخ قدس سرہ نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے و ان ای انہ کنا لمبتلین مخبرین قوم نوح البلاء او عبادنا لننظر من یعتبر او مصیبین قوم نوح ببلاء عظیم (جامع البیان ص 300) ای وان الشان کنا مصیبین قوم نوح ببلاء عظیم و عقاب شدید او مختبرین بھذہ الایات عبدنا لننظر من یعتبر و یتذکر (روح) ۔ یعنی ہم نے یہ اس لیے کیا تاکہ قوم نوح کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کریں یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ بندوں کو آزمانے کے لیے کیا کہ ان میں سے کون عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے۔ یہ پہلی دلیل کا ثمرہ ہے۔ ہم نے قوم نوح کو سخت دردناک عذاب میں مبتلا کیا مگر ان کا کوئی معبود اور خود ساختہ کارساز ان کی مدد کو نہ پہنچا تو اس سے معلوم ہوا کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” ثُمَّ اَنْشَانَا الخ “ قوم نوح کی تباہی کے بعد ہم نے کئی اور قومیں پیدا کیں۔
Ayah 23:3231:۔ ” فَاَرْسَلْنَا فِیْھِمْ الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے از ہود (علیہ السلام) برائے نفی شرک فی التصرف۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو پیغام دیا تھا۔ ” اُعْبُدُوْا اللّٰهَ مَالَکُمْ الخ “ تم صرف اللہ ہی کو حاجات و مصائب میں پکارو کیونکہ اس کے سوا تمہارا کارساز اور حاجت روا نہیں۔
Ayahs 23:33–3432:۔ ” وَ قَالَ الْمَلَاُ الخ “ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم کے مشرکین نے وہی کچھ کہا جو دعوت نوح (علیہ السلام) کے جواب میں ان کی قوم کے رؤسا کہہ چکے تھے۔ ” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ “ وہ توحید کے بھی منکر تھے اور قیامت کے بھی۔ ” وَ اَتْرَفْنٰھُمْ الخ “ ہم نے ان کو دنیوی انعامات سے مالا مال کر رکھا تھا۔ یعنی نعمنا ھم و وسعنا علیھم فی الحیاۃ الدنیا (خازن ص 37) ۔ ہم نے ان کو دنیا میں انعام و اکرام سے نوازا مگر انہوں نے ہمارے پیغام توحید کا سختی سے مقابلہ کیا اور ضد وعناد سے اس کا انکار کیا۔
33:۔ ” مَاھٰذَا الخ “ روساء مشرکین نے عوام سے کہا یہ پیغمبر تو تم جیسا بشر ہی ہے تمہاری طرح کھاتا پیتا ہے اس میں نبی ہونے کی کونسی خصوصیت ہے جس طرح تم کھانے پینے کے محتاج ہو اسی طرح وہ بھی محتاج ہے۔ فلا فضل لہ علیکم لانہ محتاج الی الطعام والشراب کانتم (قرطبی ج 12 ص 121) ان کا خیال تھا کہ پیغمبر تو فرشتہ ہونا چاہئے جو کھانے پینے اور دیگر حوائج بشریہ سے بےنیاز ہو۔ ” وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ الخ “ جب ہود (علیہ السلام) کو تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں بلکہ وہ بھی تم جیسا ایک بشر ہی ہے تو اگر تم اس کی بات مان کر اپنے معبودوں کی عبادت اور حاجات میں انہیں پکارنا چھوڑ دو گے تو بہت بڑے خسارے میں رہو گے اور پھر اپنے جیسے بشر کی پیروی کرنے اور اس کو اپنا متبوع ومطاع مان لینے میں تمہاری ذلت اور توہین ہے یرید لمغبونون بترککم الھتکم و اتباعکم ایاہ عن غیر فضیلۃ لہ علیکم (قرطبی ج 2 ص 122) لخسرون عولکم و مغبونون فی اراء کم حیث اذللتم انفسکم (ابو السعود ج 6 ص 287) ۔
Ayahs 23:35–3634:۔ ” اَیَعِدُکُمْ الخ “ یہ بھی رؤساء مشرکین کا مقولہ ہے۔ ” اَیَعِدُکُمْ “ ای ایقول لکم یعنی وہ (ہود علیہ السلام) یہ بھی کہتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہوجاؤ گے اور تمہاری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو تمہیں پھر دوبارہ قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ ” ھیھات “ اسم فعل ہے بمعنی ماضی ای بعد اور لام زائدہ ہے اور ھیھات کا تکرار تاکید تاکید کے لیے ہے (بحر، روح) یعنی جس چیز کا تمہیں وعدہ دیا جا رہا ہے وہ بہت ہی بعید بات ہے اس کا وقوع ناممکن ہے امام زجاج کی تفسیر سے اس کا مصدر ہونا معلوم ہوتا ہے۔ قال الزجاج البعد لما توعدون اور بعد لما توعدون اور بعد لما توعدون (بحر ج 6 ص 405) ۔ اس صورت میں لام زائدہ نہیں ہوگا لیکن زجاج کا قول نقل کرنے کے بعد علامہ ابو حبان لکھتے ہیں و ینبغی ان یجعل کلامہ تفسیر اعراب لانہ لم یثبت مصدریۃ ھیھات یعنی زجاج کا قول ھیھات کے معنی کی تفسیر ہے نہ کہ اعراب کی کیونکہ ھیھات کا مصدر ہونا ثابت نہیں واللہ اعلم۔
Ayahs 23:37–3835:۔ ” اِنْ ھِیَ الخ “ دوبارہ زندہ ہونا بالکل عقل و قیاس سے بعید بات ہے اور نہ کوئی اور زندگی ہے بس اصل زندگی یہی دنیا ہی میں ہے جسے ہم اس زمین پر بسر کرتے ہیں جب ہم مرجائیں گے تو یہ زندگی ختم ہوجائے گی اور ہم بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔ ” اِنْ ھُوَ اِلَّا رَجُلٌ الخ “ یہ ہود (عیاذا باللہ) خدا پر بہتان باندھتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اس نے مجھے مسئلہ توحید اور حشر و نشر کے عقیدے کی تبلیغ و اشاعت کے لیے بھیجا ہے اس لیے ہم تو اس کی بات ہرگز نہیں مانیں گے ای ما ھو الا مفتر علی اللہ فیما یدعیہ من استنبائہ لہ وفیما یعدنا من البعث (مدارک ج 3 ص 92) ۔