23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 23:39–41

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

بولا اے رب میرے36 مدد کر کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

اب تھوڑے دنوں میں صبح کو رہ جائیں گے پچھتانے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

پھر پکڑا ان کو چنگھاڑ نے تحقیق پھر کردیا ہم نے ان کو کوڑا سو دور ہوجائیں گناہ گار لوگ

36:۔ ” قَالَ رَبِّ الخ “ جب حضرت ہود (علیہ السلام) عوام و خواص مشرکین کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے ان کی ہلاکت کی بد دعا کی۔ واعلم ان ذالک الرسول لما یئس من قبول الاکابر والاصاغر فزع الی ربہ وقال رب النصرنی بما کذبون فاجابہ اللہ فیما سال (کبیر ج 6 ص 284) ۔ ” قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ الخ “” عن “ بمعنی ” بعد “ ہے اور ” مَا “ نکرہ موصوفہ ہے اور ظرف ” لیصبحن “ سے متعلق ہے یا ” مَا “ زائدہ ہے (ابو السعود۔ روح) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا صبر کرو بہت تھوڑے سے وقت کے بعد ہی ان پر عذاب آنیوالا ہے جسے دیکھ کر وہ بہت نادم اور پشیمان ہوں گے۔ ” فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَةَ الخ “ چناچہ فورا ہی ان پر ایک تند و تیز ہوا کا طوفان بھیجا گیا جس میں جبریل (علیہ السلام) کی ہیبت ناک آواز بھی شامل تھی اس طوفان نے ان کو اس طرح برباد کیا کہ ان کی نعشیں خس و خاشاک کی مانند ٹکڑے اور چور چورہ ہوگئیں۔ ” غُثَاءً “ وہ خس و خاشاک جو پانی کی سطح پر تیرتا ہے۔ ای کغثاء الیل وھو ما یحملہ من الورق والعیدان البالیۃ (روح ج 18 ص 34) ۔ یہ اس دلیل کا ثمرہ ہے مشرکین قوم ہود نے جن خود ساختہ معبودوں کو کارساز سمجھ رکھا تھا ان میں سے کسی نے بھی ان کی مدد نہ کی اور انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچایا۔
Ayahs 23:42–43

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر پیدا کیں ہم نے ان سے پیچھے37 جماعتیں

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

اور نہ آگے جائے کوئی قوم اپنے وعدہ سے اور نہ پیچھے رہے

37:۔ ” ثُمَّ اَنْشَانَا الخ “ ان کے بعد ہم نے کئی قرن آباد کیے اور ان میں اپنے پیغمبر بھیجے اور سرکش قوموں کو ہلاک کیا۔ ” مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ الخ “ ہر قوم کی ہلاکت کا جو وقت مقرر تھا اس وقت پر اسے ہلاک کردیا گیا نہ مقررہ وقت سے پہلے کسی قوم پر عذاب آیا اور نہ وقت معین میں تاخیر ہی ہوئی۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر بھیجتے رہے38 ہم اپنے رسول لگاتار جہاں پہنچا کسی امت کے پاس ان کا رسول اس کو جھٹلا دیا پھر چلاتے گئے ہم ایک کے پیچھے دوسرے اور کر ڈالا ان کو کہانیاں سو دور ہوجائیں جو لوگ نہیں مانتے

38:۔ ” ثُمَّ اَرْسَلْنَا الخ “ یہ توحید پر تیسری نقلی دلیل ہے یہاں اجمالاً ذکر فرمایا کہ پھر ہود (علیہ السلام) کے بعد ہم نے مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے جو اپنی امتوں کو دعوت توحید دیتے رہے جب ایک قوم نے ہمارے رسول کی تکذیب کی اور دعوت توحید کو نہ مانا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی جگہ اوروں کو پیدا کیا۔ ” تَتْرٰي “ اصل میں ” وَ تَرٰي “ تھا واؤ کو تا سے بدل دیا گیا اور یہ ” اَرْسَلْنَا “ سے حال واقع ہے ای ارسلنا رسلنا متواترین (بحر، روح) ۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ الخ “ یعنی دعوت توحید کو رد کرنے والوں اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو ہم نے نیست و نابود کردیا اور دنیا سے ان کا نام و نشان ہی مٹا ڈالا البتہ ان کی باتیں باقی رہ گئیں لوگ تعجب اور عبرت کے طور پر ان کی کہانیاں بیان کرنے لگے۔ اخبارا یسمع بھا یتعجب منھا (مدارک ج 3 ص 93) ۔
Ayahs 23:45–47

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے39 موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر اور کھلی سند

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، پھر لگے بڑائی کرنے اور وہ لوگ زور پر چڑھ رہے تھے

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

سو بولے کیا ہم مانیں گے اپنے برابر کے دو آدمیوں کو اور ان کی قوم ہمارے تابعدار ہیں

39:۔ ” ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسی الخ “ یہ نفی شرک فی التصرف پر چوتھی نقلی دلیل ہے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کو ہم نے واضح دلائل اور کھلے معجزات دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھرے دربار میں فرعون اور قوم فرعون کو توحید کی دعوت دی۔ ” فَاسْتَکْبَرُوْا الخ “ لیکن انہوں نے حکومت اور دولت و اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر اس کو ٹھکرا دیا۔ ” اَنُوْمِنُ لِبَشَرَیْنِ الخ “ اور صاف کہہ دیا کہ موسیٰ وہارون دونوں بشر ہیں ہم انہیں کس طرح اللہ کے نبی مان لیں۔ اور پھر ساتھ ہی وہ ہیں تو قوم بنی اسرائیل کے افراد جو ساری کی ساری ہماری غلام ہے اور ہر وقت ہماری خدمت اور غلامی میں لگی رہتی ہے تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم ایک پست قوم کے دو آدمیوں کو نبی مان لیں بنی اسرائیل اصل میں ایک بہت بلند مرتبہ اور شریف قوم تھی لیکن انقلاب زمانہ کی وجہ سے وہ قوم فرعون کے محتاج اور دست نگر ہوچکے تھے کیونکہ قوم فرعون حاکم تھی اور وہ محکوم اسی لیے فرعون اور اس کی قوم انہیں حقیر سمجھتے تھے۔
Ayahs 23:48–49

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

پھر جھٹلایا ان دونوں کو40 پھر ہوگئے غارت ہونے والوں میں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ راہ پائیں

40:۔ ” فَکَذَّبُوْھُمَا الخ “ قوم فرعون نے موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی تکذیب کی تو انہیں عذاب غرق سے ہلاک کردیا گیا۔ ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسی الْکِتٰبَ الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب بھی دی جو سراپا ہدایت تھی تاکہ وہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں۔ ان واقعات سے اہل مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہئے ہم نے پہلی قوموں میں اپنے پیغمبر بھیجے جنہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی لیکن مشرکین دعوت کو رد کردیا۔ آخر ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ مشرکین مکہ بھی ان معاند و سرکش کافروں کی طرح دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس انکار و جحود سے باز نہ آئے اور ضد وعناد سے ہمارے پیغمبر کی تکذیب کرتے رہے تو انہیں بھی دردناک عذاب سے ہلاک کردیا جائے گا۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور بنایا ہم نے41 مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو ایک نشانی اور ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلہ پر جہاں ٹھہرنے کا موقع تھا اور پانی نتھرا42

41:۔ ” وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ الخ “ یہ توحید پر پانچویں نقلی دلیل ہے۔ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ بھی ہماری قدرت کاملہ اور وحدانیت کی واضح دلیل تھیں مریم صدیقہ، طبیہ و طاہرہ محض ہماری قدرت سے حاملہ ہوئیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ پیدا ہوئے اور پھر پیدا ہوتے ہی والدہ کی گود ہی میں توحید کا اعلان بھی کردیا۔ ” وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ الخ “ (مریم رکوع 2) یعنی میرا اور تم سب کا مالک اور کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے عبادت صرف اسی کی کرو اور حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو یہی سیدھی راہ ہے۔ ” رَبْوَةٍ “ کے لغوی معنی بلند زمین کے ہیں۔ ھی مارتفع من الارض دون الجبل (روح ج 18 ص 38) ۔ ربوہ سے مراد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ ربوہ سے ارض بیت المقدس مراد ہے کیونکہ وہ دوسرے علاقوں کی نسبت بلند بھی ہے اور اس میں ندیاں بھی رواں دواں ہیں یہ قول حضرت ابن عباس امام قتادۃ، ضحاک اور کعب سے منقول ہے۔ قال ابن عباسھی بیت المقدس (خازن ج 5 ص 38) ۔ قال قتادۃ کنا نحدث ان الربوۃ بیت المقدس (ابن جریر) ۔ قال الضحاک و قتادۃ (الی ربوۃ ذات قرار و معین) ھو بیت المقدس فھذا واللہ اعلم ھو الاظہر (ابن کثیر ج 3 ص 246) ۔ قال قتادۃ وکعب بیت المقدس و زعم ان فی التوراۃ ان بیت المقدس اقرب الارض الی السماء (بحر ج 6 ص 408) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک مجوسی بادشاہ کے زمانے میں بیت لحم میں پیدا ہوئے۔ نجومیوں کے ذریعہ سے اس کی اطلاع ہوگئی۔ اب اس نے انہیں تلاش کرنا شروع کردیا تاکہ انہیں ہلاک کردیا جائے حضرت مریم اس بادشاہ کے ڈر سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو لے کر بیت المقدس چلی گئیں جب تک وہ بادشاہ زندہ رہا اس وقت تک وہیں رہیں۔ وذکر ان سبب ھذا الایواء ان ملک ذالک الزمان عزم علی قتل عیسیٰ (علیہ السلام) ففرت بہ امہ الخ (روح ج 18 ص 38) ۔ وسبب الایواء انھا فرت بابنھا عیسیٰ الی الربوۃ وبقیت بھا اثنتی عشرۃ سنۃ وانما ذھب بھما ابن عمھا یوسف ثم رجعت الی اھلھا بعد ان مات ملکھم (کبیر ج 6 ص 289) ۔ یا ربوۃ سے وہی وضع حمل کی جگہ مراد ہے کیونکہ اس کے بارے میں ارشاد ہے۔ ” فَنَا دٰھَا مِنْ تَحْتِھَا اَنْ لَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکَ تَحْتَکِ سَرِیًّا “ (مریم رکوع 2) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہ بلند تھی اور نیچے چشمہ یا ندی تھی (ابن کثیر) ۔ 42:۔ ” ذَاتَ قَرَارً “ پر امن اور فراخ جگہ۔ ” مَعِیْن “ بروزن فعیل، جاری اور تازہ پانی۔ (قرطبی و روح) ۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو43 کھاؤ ستھری چیزیں اور کام کرو بھلا جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں

43:۔ ” یَا اَیُّھَا الرُسُلُ الخ “ یہ توحید پر چھٹی نقلی دلیل ہے۔ ” یا ایھا الرسل “ سے پہلے ” قُلْنَا “ مقدر ہے یعنی ہم نے تمام رسولوں سے کہا پہلی پانچ نقلی دلیلیں نفی شرک فی التصرف پر قائم کی گئیں اور اس دلیل سے نفی شرک فعلی مقصود ہے تمام انبیاء ورسل (علیہم السلام) کو خطاب کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور انہیں استعمال کرو اور اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام نہ ٹھہراؤ نیز حلال چیزیں کھاؤ اور حرام و ناپاک مثلاً غیر اللہ کی نذر و نیاز سے اجتناب کرو۔ یعنی نہ غیر اللہ کے لیے تحریمات کرو اور نہ غیر اللہ کی نذریں نیازیں دو ۔ من الطیت یعنی غیر الرجس من الاوثان۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یا ایہا الرسل الخ کا خطاب بطور حکایت آنضرت ﷺ سے ذکر کیا گیا ہے یعنی ہر پیغمبر کو اس کے وقت میں ہم نے یہ حکم دیا تھا حکایۃ لرسول اللہ ﷺ علی وجہ الاجمال لما خوطب بہ کل رسول فی عصرہ (روح ج 18 ص 39) ۔ ھذا النداء والخطاب لیسا علی ظاھرھما لانھم ارسلوا متفرقین فی ازمنۃ مختلفۃ وانما المعنی الاعلام بان کل رسول فی زمانہ نودی بذالک ووصی بہ (مدارک ج 3 ص 93) ۔ ” وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا “ اور اللہ کی وحی اور اسکی شریعت کے مطابق عمل کرو اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے اور میں تمہارے اعمال سے باخبر ہوں اور تمام اعمال صالحہ کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ لوگ ہیں44 تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں تمہارا رب سو مجھ سے ڈرتے رہو

44:۔ ” وَ اِنَّ ھٰذِہٖ الخ “ اس میں خطاب حسب سابق تمام رسولوں سے ہے یا خطاب عام ہے انبیاء (علیہم السلام) اور دوسرے سب لوگوں کو شامل ہے یا خاص امت محمدیہ سے خطاب ہے اس صورت میں یہ جملہ معترضہ ہوگا۔ والخطالب للرسل (علیہم السلام) علی نحو ما مر وقیل عام لھم ولغیرھم (روح ج 18 ص 40) ۔ ” اُمَّةٌ“ کے معنی ملت و شریعت کے ہیں۔ ای ملتکم و شریعتکم ایھا الرسل ” اُمَّةً وَّاحِدَةً “ ای ملۃ و شریعۃ متحدة (ابو السعود ج 6 ص 295) ۔ ” امة واحدۃ “ یہ ” اِنَّ ھٰذِهٖ اُمَّتُکُمْ “ کے مضمون سے حال ہے اور یہ گذشتہ تمام دلائل عقلیہ ونقلیہ سے متعلق ہے یعنی دلائل عقلیہ سے بھی ثابت ہوگیا اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی دعوت (دلائل نقلیہ) سے بھی واضح ہوگیا کہ تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کی ملت ایک تھی اور سب کی شریعتوں کے اصول متحد تھے اور وہ سارے کے سارے مسئلہ توحید پر متفق تھے۔ شرک اعتقادی اور شرک فعلی کی نفی سب کی دعوت میں شامل تھی اور ان سب کا متحدہ دعویٰ تھا کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں، اس کے سوا کوئی حاجت روا اور دور و نزدیک سے فریادیں سننے والا نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی نذر و منت کا مستحق ہے۔ ” وَاَنَا رَبُّکُمْ الخ “ یہ ” اِنَّ ھٰذِهٖ اُمَّتُکُمْ الخ “ پر معطوف ہے اور عطف تفسیری ہے یہ ملت واحدہ کی تفسیر ہے یعنی وہ ملت واحدہ یہ تھی کہ تم سب کا مالک اور کارساز میں ہوں اس لیے میرے عذاب سے ڈرو اور میرے سوا کسی کو کارساز نہ سمجھو اور نہ کسی کو حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب پکارو۔
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر پھوٹ ڈال کر کرلیا اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے45 ہر فرقہ46 جو ان کے پاس ہے اس پر ریجھ رہے ہیں

45:۔ ” فَتَقَطَّعُوْا الخ “ یہ جواب سوال مقدر ہے سوال یہ تھا جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ایک تھی اور سب توحید پر متفق تھے تو یہ اختلاف کس طرح پیدا ہوگیا تو اس کا جواب دیا گیا کہ سب لوگوں اور امتوں کے لیے اللہ نے ایک ہی دین مقرر فرمایا تھا اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں کی بنیاد توحید پر تھی لیکن امتوں کے دنیا پرست عالموں اور دین حق کے باغی مولویوں نے اللہ کی توحید میں اختلاف ڈال دیا۔ اور دین واحد کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور لوگوں کو مختلف اور متضاد فرقوں میں تقسیم کردیا۔ ” فَتَقَطَّعُوْا “ کی ضمیر فاعل باغی اور گمراہ پیشواؤں سے کنایہ ہے کیونکہ ہر زمانے میں انہوں نے ہی توحید میں اختلاف ڈالا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْه اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَتْھُمُ الْبَیِّنٰت بَغْیًا بَیْنَھُمْ الایة “ (بقرہ ع 26) ۔ اور آل عمران (رکوع 2) میں فرمایا۔ ” وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ الایة “۔ ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ یہ لوگوں کو مختلف فرقوں میں متفرق کرنے والے گمراہ اور باغی مولی اور پیر ہی تھے۔ ” زُبُرًا “ زبور کی جمع ہے جس کے معنی یہاں فرقہ اور جماعت کے ہیں۔ زبرا ای فرقا و قطعا مختلفۃ (خازن ج 5 ص 39) 46:۔ ” کُلُّ حِزْبٍ الخ “ ان مختلف فرقوں میں سے ہر فرقہ اپنے خود ساختہ دین و عقیدہ پر مطمئن ہے اپنے کو حق پر اور دوسروں کو باطل پر سمجھتا ہے۔ والمراد انھم معجوبون بہ معتقدون انہ الحق (روح ج 18 ص 42) ۔
Ayah 23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو چھوڑ دے ان کو ان کی بیہوشی میں ڈال دیتے ایک وقت تک47

47:۔ ” فَذَرْھُمْ الخ “ یہ مشرکین قریش پر شکوی ہے بطور زجر۔ یعنی مشرکین قریش بھی ان لووں سے کم نہیں ہیں انہوں نے بھی دین کے معاملے میں گروہ بندی کر رکھی ہے وہ خالص شرک کو اپنا دین سمجھتے ہیں اور پھر اس پر خوش بھی ہیں فرمایا ایسے واضح اور روشن دلائل کے باوجود بھی اگر وہ نہیں مانتے تو آپ انہیں ان کے حال پر چھور دیں اور انہیں ایک وقت تک غفلت میں پڑے رہنے دیں جب ہم نے انہیں پکڑ لیا اس وقت ان کی آنکھوں اور ان کے دلوں سے غفلت کے پردے خود بخود اٹھ جائیں گے لیکن اس وقت حق کو سمجھنے اور ماننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ جو ہم ان کو دیے جاتے ہیں مال48 اور اولاد

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

سو دوڑ دوڑ کر پہنچا رہے ہیں ہم ان کو بھلائیاں یہ بات نہیں وہ سمجھتے نہیں

48:۔ ” اَیَحْسَبُوْنَ الخ “ ہم نے ان مشرکین کو دنیا کی تمام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے اس سے انہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہم ان کے بھلے میں ہیں اور ان سے خوش ہیں اور ان ک نیک کاموں کے کے بدلے میں یہ سب کچھ انہیں دے رہے ہیں۔” بَلْ لَّایَشْعُرُوْنَ “ یہ ” یَحْسَبُوْنَ “ کے مضمون سے اضراب ہے یعنی ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ تو کالنعام ہیں اصل بات کو سمجھنے کا شعور ہی نہیں رکھتے ضد وعناد کی وجہ سے ان کے مسلسل انکار کی بناء پر ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے اور ان سے حقیقت کا احساس و شعور سلب کرلیا گیا ہے یہ دنیا کی نعمتیں تو ہم نے ان کو استدراج اور امہال کے طور پردے رکھی ہیں یعنی ہم نے ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی ہے کہ خوب نافرمانی کرلو اور اپنے لیے زیادہ سے زیادہ جہنم کا سامان بہم پہنچالو۔ بل لایشعرون اضراب من قولہ ایحسبون ای بل ھم اشباہ البھائم لافظنۃ لھم ولا شعور فیتاملواوی تفکروا اھو استدراج ام مسارعۃ فی الخیر فیہ تھدید و وعید (بحر ج 6 ص 410) ۔
Ayah 23:57

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے رب کے خوف سے49 اندیشہ رکھتے ہیں

49:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ الخ “ دفع عذاب کے لیے ابتداء سورت میں جن امور ثلاثہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہاں ان کا اعادہ کیا گیا ہے پہلی آیتوں میں ان مشرکوں کا ذکر تھا جو دنیوی انعامات، مال و اولاد اور مادی منافع کی وجہ سے اس غلط خیال میں مبتلا تھے کہ اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہے اسی لیے ہر قسم کی خیرات و برکات ان پر نازل فرما رہا ہے حالانکہ یہ دولت و ثروت ان کے لیے خیر و برکت نہیں بلکہ وبال جان ہے اب ان آیتوں میں ان مومنوں کا ذکر فرمایا جو صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی برکات و خیرات کو حاصل کر رہے ہیں جو ان صفات سے متصف ہوتے ہیں اور یہی لوگ آخرت میں اللہ کے عذاب سے نجات پائیں گے۔ اعلم انہ تعالیٰ لما ذم من تقدم ذکرہ بقولہ ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین نسارع لھم فی الخیرات ثم قال بل لا یشعرون بین بعدہ صفات من یسارع فی الخیرات و یشعر بذالک (کبیر ج 6 ص 291) ۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ “ میں ” اَلَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ “ کا اعادہ ہے۔
Ayahs 23:58–59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو لوگ50 اپنے رب کی باتوں پر یقین کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے

50:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِ الخ “ اس میں ” قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ “ کا اعادہ ہے۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِرَبِّھِمْ لَایُشْرِکُوْنَ “ میں ” ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ “ کا اعادہ ہے۔ یہاں شرک سے بعض نے شرک خفی (ریاء) مراد لیا ہے لیکن محققین کی رائے یہ ہے کہ شرک عام ہے خواہ جلی ہو خواہ خفی۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کرتے نہ شرک اعتقادی، نہ شرک فعلی اور نہ اپنے اعمال میں ریاء ہی کو شامل ہونے دیتے ہیں۔ اختار بعض المحققین التعمیم ای لایشرکون بہ تعالیٰ شرکا جل یا ولا خفیا ولعلہ الاولی (روح ج 18 ص 44) ۔
Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ دیتے ہیں51 جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل52 ڈر رہے ہیں اس لیے کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے

51:۔ ” وَالَّذِیْنَ یُوْتُوْنَ الخ “ اس میں ” اَلَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ “ کا اعادہ ہے۔ ” یُوْتُوْنَ “ بمعنی یفعلون ہے اور یہ لفظ تمام اعمال خیر اور افعال تر کو شامل ہے۔ قال ابن عباس وابن جبیر ھو عام فی جمیع اعمال البر کانہ قال والذین یفعلون من انفسہم فی طاعۃ اللہ ما بلغہ جھدہم (بحر ج 6 ص 410) ۔ یعنی اللہ کی اطاعت اور اعمال خیر میں وہ حسب طاقت حصہ لیتے اور جو کام کرنے کے ہیں انہیں بجالاتے ہیں۔ 52:۔ ” وَقُلُوْبُھُمْ وَجِلَةٌ الخ “ وہ حسب طاقت نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتے ہیں مگر اس کے باوجود آخرت کے حساب سے خائف ہیں اور انہیں اس بات کا ڈر رہاتا ہے کہ ان کی نیکیاں قبول بھی ہوئی ہیں یا نہیں جیسا کہ حضور ﷺ سے منقول ہے۔ الذین یصومون ویصلون و یتصدقون وھم یخافون ان لا یقبل منھم اولئک الذین یسارعون فی الخیرات (قرطبی ج 12 ص 132) ۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

وہ لوگ53 دوڑ دوڑ کرلیتے ہیں بھلائیاں اور وہ ان پر پہنچے سب سے آگے

53:۔ ” اُلئِکَ یُسَارِعُوْنَ الخ “ یہ مذکورہ بالا صفات سے متصف لوگوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ ان کے لیے بشارت ہے یعنی یہ لوگ بیشک دنیا اور آخرت کی برکات حاصل کر رہے ہیں اور ان کے اعمال صالحہ رائیگاں نہیں جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں شرف قبول عطا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ شرک جلی اور شرک خفی کی آمیزش سے پاک ہیں۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے54 مگر اس کی گنجائش کے موافق اور ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بولتا ہے سچ اور ان پر ظلم نہ ہوگا

54:۔ ” وَ لَا نُکَلِّفُ الخ “ جملہ معترضہ ہے دنیا اور آخرت کی برکات و خیرات حاصل کرنے کے لیے ہم کسی کو اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ تمام اعمال سیئہ سے اجتناب کرو اور حسب طاقت اعمال صالحہ بجا لاؤ۔ ” وَلَدَیْنَا کِتٰب الخ “۔ کتاب اسم جنس ہے اور اس سے اعمالنامے مراد ہیں اور یہ تخویف اخروی ہے یعنی ہمارے پاس تمہارے اعمال کا مکمل ریکارڈ موجود ہے اس لیے سب کو ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء ملے گی۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

کوئی نہیں ان کے دل55 بیہوش ہیں اس طرف سے اور ان کو اور کام لگ رہے ہیں اس کے سوا کہ وہ ان کو کر رہے ہیں

55:۔ ” بَلْ قُلُوْبُھُمْ الخ “ یہ بل لا یشعرون سے بھی ترقی ہے اور ” ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون “ سے متعلق ہے۔ یعنی یہ بات نہیں کہ وہ سمجھتے نہیں۔ سمجھتے خوب ہیں لیکن اس کے باوجود غفلت میں پڑے ہیں۔ اور شرک کی نئی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔ مومنین تو اللہ تعالیٰ سے ہر وقت ترسان و لرزاں رہتے اور تمام معاصی سے حتی الوسع اجتناب کرتے اور ہر قسم کے شرک سے بچتے ہیں۔ مشرکین غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور مذکورہ بالا اعمال خیر سے دور بھاگتے ہیں انہیں چاہئے تھا کہ وہ اللہ سے ڈرتے اس کے ساتھ شرک نہ کرتے اور تمام دیگر اعمال شر سے اجتناب کرتے۔ ” وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ الخ “۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ توحید کو مان لیں اور شرک کو چھوڑ دیں وہ شرک کی نئی نئی رسمیں ایجاد کر رہے ہیں۔ سورة حج میں غیر اللہ کی نذر و نیاز سے منع فرمایا اور یہاں ان مشرکین کی مذمت میں ارشاد فرمایا۔ غیر اللہ کی نذر و نیاز کو چھوڑنا تو رہا ایک طرف یہ ظالم تو اور بھی کئی قسم کا شرک کرتے ہیں۔
Ayahs 23:64–65

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک56 کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے آسودہ لوگوں کو آفت میں تبہی وہ لگیں گے چلانے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

مت چلاؤ آج کے دن تم ہم سے چھوٹ نہ سکو گے

56:۔ ” حَتّی اذا الخ “ یہاں سے لے کر ” اِذَا ھُمْ فِیهِ مُبْلِسُوْنَ “ تک تخویفیں شکوے اور زجریں ہیں۔ ” حَتّٰی اِذَا اخَذَنَا الخ “ یہ تخویف دنیوی اور ماقبل کے لیے غایت ہے یہ مشرکین مسلسل غفلت میں ڈوبے رہیں گے یہاں تک کہ ہم ان کے رئیسوں اور سرداروں کو رسوا کن عذاب میں مبتلا کردیں گے اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ دوریں گے اور عاجزی وزاری کریں گے مگر اس وقت اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے عذاب سے یوم بدر میں قتل اور قید و بند کا عذاب مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر ائمہ سے منقول ہے۔ والمراد بالعذاب ما اصابھم یوم بدر من القتل والاسر کما روی عن ابن عباس و مجاھد وابن جبیر وقتادۃ و قد قتل و اسر فی ذالک الیوم کثیر من صنادیدھم ورساءھم (روح ج 18 ص 47) ۔
Ayahs 23:66–67

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

تم کو سنائی جاتی تھیں میری آیتیں57 تو تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے اس سے تکبر کر کے

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

ایک قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے

57:۔ ” قَدْکَانَتْ الخ “ یہ ماقبل کی علت ہے تنکصون ای ترجعون، مستکبرین، تنکصون کے فاعل سے حال ہے۔ بہ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے جو ” آیاتی “ سے مفہوم ہورہا ہے۔ ” سٰمرًا “ ، ” تَھجرون “ کا مفعول بہ مقدم ہے۔ ” سامر “ سے واعظ اور قاری قرآن مراد ہے جو قرآن پڑھ کر تمہیں سناتا اور توحید کی تبلیغ کرتا ہے یعنی آج تمہاری مدد نہیں کی جائے گی کیونکہ پہلے تمہارا یہ حال تھا کہ ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم استکبار کرتے تھے اور آیتیں سنانے والے کو چھوڑ کر اور پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تھے۔
Ayahs 23:68–69

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

سو کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا58 اس کلام میں یا آئی ہے ان کے پاس ایسی چیز جو نہ آئی تھی ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا پہچانا نہیں انہوں نے اپنے پیغام لانے والے کو سو وہ اس کو اوپرا سمجھتے ہیں

58:۔ ” افلم یدبروا الخ “ یہ زجر ہے یہ لوگ حق کا انکار کیوں کرتے ہیں اور ضد پر کیوں اڑے ہوئے ہیں کیا ان لوگوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا اور مسئلہ توحید کی حقیقت کو نہیں سمجھا ؟ ” ام جاءھم الخ “ یا یہ مسئلہ توحید کوئی نئی بات ہے جس کی دعوت ان کے باپ دادا کو بھی نہیں پہنچی ؟۔ ” ام لم یعرفوا الخ “ یا وہ اب تک پیغمبر خدا ﷺ کو دیانت و امانت، صدق، مقا۔ اور حسن فعال سے بھی نہیں پہچان سکے ؟ ” ام یقولون بہ جنۃ “ یا وہ اس خیال سے نہیں مانتے کہ وہ پیغمبر (علیہ السلام) کو عیاذا باللہ مجنون سمجھتے ہیں ؟ ان آیتوں میں مشرکین کے لیے تاکید زجر و توبیخ ہے اور ہر جگہ استفہام انکاری ہے جس سے مشرکین کے خیالات کی برائی اور شناعت کا اظہار مقصود ہے۔ الھمزۃ لانکار الواقع و استقباحہ (روح) مذکورہ بالا امور میں سے کوئی ایک بھی مشرکین کے انکار کی وجہ نہیں تھا بلکہ ان سے پہلے حضرت اسمعیل کے ذریعہ ان کے باپ دادا کو بھی اس کی دعوت پہنچ چکی تھی۔ وہ حضرت محمد ﷺ کی دیانت و امانت اور آپ کی سچائی کو بھی خوب جان چکے تھے اور انہیں یہ بھی خوب معلوم تھا کہحضور ﷺ نہایت ہی دانا اور دانشمند ہیں اور اعلی درجہ کی عقل و فراست کے مالک ہیں اس لیے ان کے انکار کی اصل وجہ ضد و حسد اور بغض وعناد تھی قال سفیان بلی قد عرفوہ ولکنھم حسدوہ (قرطبی ج 12 ص 140) ۔ ” اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ“ جنون ولیس کذالک لانھم یعلمون انہ ارجحھم عقلا واثبتھم ذھنا (مدارک ج 3 ص 95) ۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے59 ان کے پاس سچی بات اور ان بہتوں کو سچی بات بری لگتی ہے

59:۔ ” بَلْ جَاءَھُمْ الخ “ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی ہمارا پیغمبر ﷺ ایسا پیغام لے کر ان کے پاس آیا ہے جو سراپا حق ہے اور ایسا ثابت وعیاں ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے اور یہ وہی پیغام حق ہے جو پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کو پہنچا چکے ہیں اور نبوت سے سرفراز ہو کر پیغام توحید لے کر قوم کے پاس جانا ہی ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کے صدق وامانت کی واضح دلیل ہے اور پھر جو شخص ایسا پیغام حق پیش کرے جس کی تائید دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ہوتی ہو اس کو دیوانہ اور مجنون کہنا سراسر باطل ہے اس لیے انکار حق کی وجوہات یہ نہیں ہیں۔ ” وَ اَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ “ انکار حق کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین کی اکثریت کو حق (مسئلہ توحید) سے چر اور حق بیان کرنے والے حضرت محمد ﷺ ضد ہے اس لیے وہ محض حسد و ضد کی وجہ سے اور اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کی بناء پر انکار کرتے ہیں۔ ” جاءھم بالحق “ یعنی القران و التوحید الحق والدین الحق ” واکثرھم للحق کارھون “ حسدا وبغیا و تقلیدا (قرطبی ) ۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر60 سچا رب چلے ان کی خوشی پر تو خراب ہوجائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے کوئی نہیں61 ہم نے پہنچائی ہے ان کو ان کی نصیحت سو وہ اپنی نصیحت کو دھیان نہیں کرتے

60:۔ ” ولو اتبع الحق الخ “ یہ زجر ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین یہ چاہتے تھے کہ حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے لیکن یہ ناممکن ہے اس لیے مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حق ویسا ہی ہو جیسا کہ وہ کہتے ہیں یعنی ان کی خواہشات ہی حق اور نفس الامر کے مطابق ہوں مثلاً وہ کہتے ہمارے معبود کارساز ہیں۔ لات مناۃ عزی وغیرہ جہان میں متصرف ہیں۔ دعاء، پکار اور نذر و نیاز کے مستحق ہیں اور خدا کے نزدیک شفیع غالب ہیں ہمارے ان عقائد کو حق مان لیا جائے یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ” الشعراء یتبعہم الغاون “ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گمراہ لوگ شاعروں کے پیچھے چلتے ہیں لیکن مقصود یہ ہے کہ اکثر شاعر خود گمراہ ہوتے ہیں جیسا کہ اس کے بعد ارشاد ہے۔ ” الم تر انھم فی کل واد یھیمون وانھم یقولون ما لا یفعلون “ یہ دونوں باتیں خود شعراء کے بارے میں بیان کی گئی ہیں اس طرح یہاں دو باتیں بیان کرنا مقصود ہے اول یہ کہ شعراء خود غاوی اور گمراہ ہوتے ہیں دوم یہ کہ جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں وہ بھی گمراہ ہوتے ہیں۔ اس سے مومن شعراء مستثنی ہیں جن کی شاعری میں حق کی ترجمانی ہو۔ ” لفسدت السموت الخ اگر ان مشرکین کی خواہشات حق ہوتیں اور ان کی مرضی کے مطابق اس جہان کا نظم ونسق بہت سے معبودوں اور کارسازوں کے سپرد ہوتا تو یہ سارا نظام عالم درہم برہم ہوجاتا اور ایک لمحہ کیلئے بھی قائم نہ رہ سکتا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” لوکان فیھما اٰلہۃ الا اللہ لفسدتا “ (انبیاء رکوع 2) ای لو وافق الامر المطابق للوقاقع اھواءھم بان کان الشرک حقا لفسدت السموت والارض جسما قرر فی قولہ تعالیٰ لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا۔ (روح ج 18 ص 52) ۔ 61:۔ ” بل اتینھم الخ “ ذکر سے مراد قرآن ہے جو دنیا و آخرت میں ان کے لیے باعث شرف و فضیلت ہے یہ ان کی انتہائی شقاوت اور بد نصیبی ہے کہ جو قرآن ان کے لیے دنیوی اور اخروی برکات و خیرات کا سرچشمہ ہے وہ اس سے بھی اعراض کر رہے ہیں۔ یا ” ذکر “ بمعنی مذکور ہے یعنی وہی بات جسے وہ آپس میں ہمیشہ ذکر کرتے رہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کا اقرار جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مشرکین خود بھی تلبیہ حج میں کہا کرتے تھے۔ اللھم لبیک لا شریک لک الخ (سنن ابو داود) تو اس قرآن نے ان ہی کے قول واقرار کی مزید تشریح و تنویر کردی ہے کوئی نئی بات نہیں کہی تو اس سے کیوں اعراض کرتے ہیں جو ان کی اپنی بات کی وضاحت کر رہا ہے۔ قالہ الشیخ (رح) جیسا کہ آجکل کے مشرک بھی لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں لیکن اسی کلمہ توحید کی تشریح کر کے ان کے خود ساختہ کارسازوں کی نفی کی جائے تو آمادہ پیکار ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 23:72–73

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

یا تو ان سے مانگتا ہے62 کچھ محصول سو محصول تیرے رب کا بہتر ہے اور وہ ہے بہتر روزی دینے والا

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تو تو بلاتا ہے ان کو سیدھی راہ پر

62:۔ ” ام تسئلھم الخ “ اور پھر آپ ان سے اس وعظ و تبلیغ اور تعلیم و تدریس پر کوئی اجرت یا تنخواہ بھی نہیں مانگتے۔ اور ان کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) کی طرف دعوت دیتے ہیں جو خالص اللہ تعالیٰ کی توحید ہے کسی ناجائز یا برے کام کا ان سے مطالبہ نہیں کرتے۔ مگر اس کے باوجود وہ حق کا انکار کیے جا رہے ہیں۔ ” فخراج ربک خیر “ آپ کو ان مشرکین کی دولت کی کیا ضرورت ہے اس تبلیغ توحید پر اللہ تعالیٰ جو آپ کو اجر دے گا وہ اس سے کہیں بڑھ کر بہتر اور مبارک ہے اور روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے جو پاکیزہ اور حلال روزی اس نے آپ کی قسمت میں لکھ دی ہے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ ای مایعطیک اللہ من رزقہ وثوابہ خیر (خازن و معالم ج 5 ص 41) ۔
Ayahs 23:74–75

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ63 نہیں مانتے آخرت کو راہ سے ٹیڑھے ہوگئے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور کھول دیں جو تکلیف پہنچی ان کو تو بھی برابر لگے رہیں گے اپنی شرارت میں بہکے ہوئے

63:۔ ” و ان الذین الخ “ ان لوگوں کے دلوں میں نہ خدا کا خوف ہے نہ حساب آخرت کا ڈر اس لیے وہ علانیہ دین حق سے اعراض کرتے ہیں۔ ” ولو رحمنھم الخ “ ان کی سرکشی اور ضد اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ اگر ہم ان پر مہربانی فرما دیں اور انہیں مصائب سے نجات دے دیں تو وہ حق کو ماننے کے بجائے سرکشی، ضد وعداوت اور بغض و حسد میں اور آگے بڑھ جائیں گے۔
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے پکڑا تھا ان کو آفت میں64 پھر نہ عاجزی کی اپنے رب کے آگے نہ گڑگڑائے

64:۔ ” ولقد اخذنھم الخ “ ضمیر مفعول سے مشرکین مراد ہیں اور عذاب سے وہ قحط مراد ہے جو سات سال تک مکہ میں ان پر مسلط رہا ھو القحط والجوع الذی اصابھم بدعاء رسول اللہ ﷺ وھذا مروی عن ابن عباس وابن جریج (بحر ج 6 ص 415) ۔ ان کی سرکشی اور ضد وعناد کی انتہا ہے کہ سات سال تک قحط کے شدید عذاب میں مبتلا رہے مگر ایک بار بھی اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی اور زاری نہ کی۔
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب کھول دیں ہم ان پر دروازہ ایک سخت آفت کا65 تب اس میں ان کی آس ٹوٹے گی

65:۔ ” حتی اذا فتحنا الخ “ عذاب سے عذاب آخرت، یا جنگ بدر یا یوم فتح مکہ کا عذاب مراد ہے اب تو نہیں مانتے اور آرزو رکھتے ہیں اسلام کے خلاف ان کے منصوبے کامیاب ہوجائیں گے لیکن جب ہم نے ان پر دنیا یا آخرت کے عذاب کا دروازہ کھول دیا تو پھر دین اسلام کی سچائی کو مان لیں گے اور اس وقت وہ اپنے پروگراموں کی کامیابی اور ہر خیر و برکت سے مایوس ہوجائیں گے (روح) یہاں تک سورة کا پہلا حصہ ختم ہوا۔