23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 23:78–80

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور اسی نے بنا دیے تمہارے کان66 اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور اسی نے تم کو پھیلا رکھا ہے زمین میں اور اسی کی طرف جمع ہو کر جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جلاتا اور مارتا اور اسی کا کام ہے بدلنا رات اور دن کا سو کیا تم کو سمجھ نہیں

66:۔ حصہ دوم۔ نفی شرک اعتقادی پر عقلی دلیلیں۔ ایک تفصیلی اور تین علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ ” وھو الذی انشا لکم الخ “ پہلی تفصیل عقلی دلیل برائے نفی شرک اعتقادی سننے، دیکھنے اور سوچنے کی قوتیں اللہ تعالیٰ ہی نے عطا فرمائی ہیں لیکن انسان نہ ان نعمتوں سے کام لیتا ہے اور نہ ان کا شکر ادا کرتا ہے کہ توحید کے دلائل کو دیکھ سن کر اور ان میں غور و فکر کر کے ان کو تسلیم کرلے ان قوتوں کو صحیح استعمال کرنا ہی ان کا شکر ہے۔ ” وھوَ الذی یحی و یمیت الخ “ زندگی اور موت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور رات دن کا اختلاف یعنی رات دن کی آمدو رفت اور ان کی کمی بیشی بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ ’‘ افلا تعقلون “ کیا تم اب بھی اصل حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے کہ جس قادر وقیوم نے سب کو پیدا کیا ہے ہر ایک کو سننے دیکھنے اور سوچنے کی قوتیں دی ہیں۔ موت وحیات اور سارا نظام عالم جس کے قبضہ میں ہے وہی سب کا کارساز ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے عبادت اور پکار میں اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ حشر ونشر پر بھی قادر ہے ” افلا تعقلون “ کنہ قدرتہ و ربوبیتہ ووحدانیتہ و انہ لا یجوز ان یکون لہ شریک من خلقہ و انہ اقادر علی البعث (قرطبی ج 12 ص 144) ۔
Ayahs 23:81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

کوئی بات نہیں یہ تو وہی کہہ رہے ہیں جیسا کہا کرتے تھے پہلے لوگ67

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کیا جب ہم مرگئے اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو زندہ ہو کر اٹھنا ہے

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

وعدہ دیا جاتا ہے ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو یہی پہلے سے اور کچھ بھی نہیں یہ نقلیں ہیں پہلوں کی

67:۔ ” بل قالواء اذا متنا الخ “ کہتے ہیں ہم جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو پھر دوبارہ کس طرح زندہ کردئیے جائیں گے۔ ” لقد وعدنا نحن الخ “ یہ بات صرف ہم ہی سے نہیں کہی جا رہی بلکہ ہمارے باپ دادا سے بھی یہی کہا گیا تھا کہ تم مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے یہ تو سراسر باطل اور جھوٹ ہے جو پہلے لوگ سنتے سناتے چلے آرہے ہیں مشرکین کے اس قول کے بطلان پر اللہ تعالیٰ نے تین عقلی دلیلیں ذکر فرمائی ہیں اور ان میں ایسے حقائق کا ذکر کیا ہے جنہیں مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں ان تینوں دلیلوں سے جہاں شرک اعتقادی کی نفی ہوتی ہے وہاں اس سے حشر و نشر کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔
Ayahs 23:84–89

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

تو کہہ کس کی ہے زمین68 اور جو کوئی اس میں ہے بتاؤ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

اب کہیں گے سب کچھ اللہ کا ہے تو کہہ پھر تم سوچتے نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

تو کہہ کون ہے مالک ساتوں آسمان کا اور مالک اس بڑے تخت کا

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

اب بتائیں گے اللہ کو تو کہہ پھر تم ڈرتے نہیں

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

تو کہہ کس کے ہاتھ میں ہے حکومت ہر چیز کی اور وہ بچا لیتا ہے اور اس سے کوئی بچا نہیں سکتا بتاؤ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

اب بتائیں گے اللہ کو تو کہہ پھر کہاں سے تم پر جادو آپڑتا ہے

68:۔ ” قل لمن الارض الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین اور زمین میں رہنے والی ساری مخلوق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تذکرون “ تعلموا ان من فطر الارض و من فیھا کان قادرا علی اعادۃ الخلق وکان حقیقا بان لایشرک بہ بعض خلقہ (مدارک ج 3 ص 96) ۔ ” قل من رب السموت الخ “ یہ تیسرے عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ مشرکین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تتقون “ ظالمو ! کچھ تو خدا کا خوف کرو جب تم مانتے ہو کہ ساری کائنات کا خالق ومالک وہی ہے اس سے واضح ہوگیا کہ سب کا کارساز بھی وہی ہے افلا تخافونہ فلا تشرکوا بہ او افلا تتقون فی جحودکم قدرتہ علی البعث مع اعترافکم بقدرتہ علی خلق ھذہ الاشیاء (مدارک ج 3 ص 97) ۔ ” قل من بیدہ ملکوت الخ “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ مشرکین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے ملک میں ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار و تصرف میں ہے ’ وھو یجیر ولا یجار علیہ “ اور جسے وہ چاہے بچا لے مگر اس کی گفرت سے کوئی بچانے والا نہیں ای من ارادہ اللہ اھلا کہ وخوفہ لم یمنعہ منہ مانع و من اراد نصرہ وامنہ لم یدفعہ من نصرہ وامنہ دافع (قرطبی ج 12 ص 175) ۔ ” قل فانی تسحرون “ آپ ان سے کہیں پھر تمہاری عقلیں کیوں ماری گئی ہیں جب تم مانتے ہو کہ قادر علی الاطلاق اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر اس کی عاجز مخلوق کو کیوں کارساز سمجھتے ہو۔ ای فانی تخدعون و تصرفون عن توحیدہ وطاعتہ (خازن ج 5 ص 43) ۔ ای کیف یخیل الیکم ان تشرکوا بہ مالا یضر و لاینفع۔ (قرطبی) ۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

کوئی نہیں ہم نے ان کو پہنچایا سچ69 اور وہ البتہ جھوٹے ہیں

69:۔ ” بل اتینھم “ یہ ” ان ھذا الا اساطیر الاولین “ سے اضراب ہے الخ دلائل عقلیہ بیان کرنے کے بعد بطور زجر ارشاد فرمایا کہ مسئلہ توحید اور حشر و نشر جھوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ حق ہیں اور ایسے مضبوط دلائل سے ثابت ہیں کہ ہر عقلمند ان کو سمجھ سکتا ہے۔ ” وانھم لکذبون “ اس لیے مشرکین اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ والمراد بالحق الوعد بالبعث وقیل ما یعمہ والتوحید ویدل علی ذالک السیاق (روح ج 18 ص 59) ۔
Ayahs 23:91–92

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

ف 70 اللہ نے کوئی بیٹا نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کسی کا حکم چلے یوں ہوتا تو لے جاتا ہر حکم والا اپنی بنائی چیز کو اور چڑھائی کرتا ایک پر ایک اللہ نرالہ ہے71 ان کی بتلائی باتوں سے

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

جاننے والا چھپے اور کھلے کا وہ بہت اوپر ہے اس سے جس کو شریک بتلاتے ہیں

70:۔ ” ماتخذ اللہ الخ “ مسئلہ توحید کو دلائل کے ساتھ ثات و مبرہن کرنے کے بعد دعوی کو صراحت سے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور عالم الغیب ہے اور اس کا کوئی نائب نہیں جس کو اس نے مافوق الاسباب تصرف کی اجازت دے رکھی ہو۔ ” و ما کان معہ الخ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کا نائب کوئی نہیں اسی طرح الوہیت میں اس کا شریک وسہیم بھی کوئی نہیں کیونکہ اگر کوئی اسکا شریک ہوتا تو اپنی مخلوق میں اور اپنے ملک میں وہ خود مختار اور متصرف ہوتا۔ ” ولعلا بعضھم الخ “ اور ان کے درمیان اقتدار کی باقاعدہ جنگ ہوتی مگر تم دیکھ رہے ہو سارا عالم اللہ تعالیٰ ہی کے زیر تصرف ہے اور یہاں دوسرا کوئی متصرف نہیں تو معلوم ہوا کہ وہ وحدہ لا شریک ہے وہی قادر و متصرف اور مختار و کارساز ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار و تصرف میں ہے۔ واذا کان کذالک فاعلموا انہ الہ واحد بیدہ ملکوت کل شیء ویقدر علی کل شیء (خازن ج 5 ص 43) ۔ 71:۔ ” سبحن اللہ الخ “ لہذا اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے۔ ” عالم الغیب والشہادۃ الخ “ متصرف و مختار بھی وہی ہے اور عالم الغیب بھی وہی ہے لہذا وہ ہر شریک سے پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے۔
Ayahs 23:93–95

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

تو کہہ اے رب72 اگر تو دکھانے لگے مجھ کو جو ان سے وعدہ ہوا ہے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے رب مجھ کو نہ کریو ان گناہ گار لوگوں میں

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور ہم کو قدرت ہے کہ تجھ کو دکھلا دیں جو ان سے وعدہ کردیا ہے

72:۔ ” قل رب اما الخ “ تخویف دنیوی ہےحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس طرح اللہ سے دعا مانگیں کہ اے اللہ جس عذاب کا تو نے ان منکرین سے وعدہ کیا ہے اگر وہ عذاب میری زندگی ہی میں ان پر نازل ہوجائے تو میرے پروردگار مجھے اس سے بچائیو یہ اس عذاب کی شدت و فظاعت کے اظہار کے لیے کہا گیا ورنہحضور ﷺ تو عذاب سے محفوظ تھے ہی تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ عذاب اس قدر شدید اور دردناک ہوگا کہ ہر ایک کو اس سے پناہ مانگنی چاہیے (روح) ۔ ” وانا علی ان نریک الخ “ جس عذاب کی ہم ان کو دھمکی دے چکے ہیں وہ ہم آپ کی زندگی میں ان پر مسلط کرسکتے ہیں ہمیں اس کی قدرت و طاقت ہے لیکن ہم عذاب کو موخر کریں گے تاکہ کچھ لوگ ان میں سے ایمان لے آئیں۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

بری بات کے جواب میں وہ کہہ73 جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں

ٖ 73:۔ ” ادفع بالتی الخ “ یہ طریق تبلیغ کی تعلیم فرمایا مشرکین اگرچہ سخت لہجہ اور درشت کلامی سے آپ کی دعوت کو رد کرتے ہیں اور آپ کی دعوت کو اساطیر الاولین (اگلے لوگوں کی جھوٹی کہانیاں) کہتے ہیں لیکن پھر بھی آپ نرم کلامی اور حسن اخلاق سے ان کی باتوں کا جواب دیں لیکن مسئلہ خوب کھول کر اور دلائل کے ساتھ بیان کریں۔ ” نحن اعلم بما یصفون “ باقی جو کچھ وہ کہتے ہیں ہمیں وہ سب کچھ معلوم ہے اس کی ان کو پوری پوری سزا ملے گی۔
Ayahs 23:97–98

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہہ اے رب74 میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی چھیڑ سے

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور پناہ تیری چاہتا ہوں اے رب اس سے کہ میرے پاس آئیں

74:۔ ” و قل رب الخ “ توحید بیان کرتے وقت آپ شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگیں نیز اس سے پناہ مانگیں کہ شیاطین میرے پاس آکر میرے اعمال و افعال میں دخل دیں۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچے ان میں75 کسی کو موت کہے گا اے رب مجھ کو پھر بھیج دو

75:۔ ” حتی اذا جاء الخ “ یہ تخویف اخروی ہے یہ مشرکین اب تو غفلت میں ہیں۔ اور انکار پر اصرار کر رہے ہیں لیکن جب موت کا فرشتہ آپہنچے گا اور وہ اپنا بد انجام آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اب اللہ تعالیٰ سے بار بار التجا کریں گے کہ مجھے اب دنیا میں واپس بھیجدے میں نے دنیا میں جو کو تاہیاں کی ہیں اب ان کی جگہ میں نیک اعمال بجا لاؤں گا تیری توحید کو مانوں گا۔ تیرے ساتھ شرک ہرگز نہیں کروں گا تیرے پیغمبروں پر ایمان لاؤں گا۔ ” ارجعون “ جمع برائے تکرار ہے ای ارجعنی ارجعنی ارجعنی یعنی وہ بار بار یہ کہے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” القیا فی جہنم “ یہ خطاب واحد سے ہے اور تثنیہ تکرار کے لیے ای الق الق۔ اسی طرح امراء القیس کا قول۔ ع۔ قفا نبک من ذکر حبیب ومنزل ای قف قف۔ ارجعون علی جھۃ التکریر ای ارجعنی ارجعنی (قرطبی ج 12 ص 149) ۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

شاید کچھ میں بھلا کام کرلوں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے76 کہ وہی کہتا ہے اور ان کے پیچھے پردہ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں

76:۔ ” کلا الخ “ ” کلا “ کلمہ ردع ہے یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتے گا۔ اس کا یہ خیال غلط اور یہ امید باطل ہے کہ اب اسے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا حسرت اور ندامت کی وجہ سے وہ یہ بات کہتا رہے گا مگر بےفائدہ۔ ” و من ورائھم برزخ الخ “ ان کا موت کے بعد دنیا میں واپس آنا محال ہے کیونکہ اب وہ عالم برخ میں داخل ہوچکے ہیں۔ عالم برزخ موت سے قیامت تک کا زمانہ ہے جو دنیا اور آخرت میں حائل ہے جو شخص اس عالم میں پہنچ گیا اب دنیا کی طرف اس کی واپسی محال ہے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب پھونک ماریں صور میں تو نہ قرابتیں ہیں77 ان میں اس دن اور نہ ایک دوسرے کو پوچھے

77:۔ ” فاذا نفخ الخ “ تخویف اخروی ہے نفخ سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب سب لوگ قبروں سے زندہ ہو کر نکلیں گے اس وقت عالم برزخ ختم ہوجائے گا اور عالم آخرت کی ابتدا ہوگی۔ دنیا میں تو لوگ خاندانی وجاہت پر فخر کرتے ہیں ایک دوسرے کے خاندان پوچھتے ہیں مگر اس جہان میں نسلی امتیاز کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی اور نہ کسی سے کوئی یہ پوچھے گا کہ تو کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے وہاں کوئی رشتہ کام نہیں آئے گا۔ اور نہ خاندانی فخر و غرور سے کچھ فائدہ ہوگا۔
Ayahs 23:102–104

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

سو جس کی بھاری ہوئی تول78 تو وہی لوگ کام لے نکلے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جس کی ہلکی نکلی تول سو وہی لوگ ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان دوزخ ہی میں رہا کریں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

جھلس دے گی ان کے منہ کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہو رہے ہوں گے

78:۔ ” فمن ثقلت الخ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” و من خفت موازینہ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے وہاں نسلی اور خاندانی بڑائی کام نہ آئیگی بلکہ اعمال صالحہ کام آئیں گے۔ جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نجات پائیں گے اور جن کا ہلکا ہوگا وہ خسارے میں رہیں گے اور جہنم میں جائیں گے۔ ” تلفح وجوھم الخ “ جہنم کی آگ دوزخیوں کے چہرے جلا ڈالے گی اور ان کی شکلیں جل کر بدنما اور قبیح ہوجائیں گی۔
Ayahs 23:105–108

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو سنائی نہ تھیں ہماری آیتیں79 پھر تم ان کو جھٹلاتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

بولے اے رب زور کیا ہم پر ہماری کم بختی نے اور رہے ہم لوگ بہکے ہوئے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب نکال لے ہم کو اس میں سے اگر ہم پھر کریں تو ہم گناہ گار

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

فرمایا پڑے رہو پھٹکارے ہوئے اس میں اور مجھ سے نہ بولو

79:۔ ” الم تکن الخ “ یہ زجر ہے اور اس سے پہلے یقال لھم مقدر ہے جب انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتے ان سے کہیں گے کیا دنیا میں میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں اور تم ان کا انکار کرتے تھے۔ ” قالوا ربنا الخ “ جواب میں وہ کہیں گے۔ ہمارے پروردگار ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے ہمارے پروردگار ایک بار ہمیں دوزخ سے نکال کر عمل کرنے کا موقع عطا فرما۔ اب بھی اگر ہم نے ویسے ہی برے کام کیے تو واقعی ہم ظالم ہوں گے پھر جس طرح تو چاہے ہمیں عذاب دے لینا۔ ” قال اخسئوا الخ “ اللہ کی طرف سے آواز آئے گی دور ہوجاؤ اور مت بولو۔ یہ کلمہ تحقیر ہے جس طرح کتے کو دھتکارا جاتا ہے اسی طرح ان کو دھتکار دیا جائے گا۔
Ayahs 23:109–110

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

ایک فرقہ تھا80 میرے بندوں میں جو کہتے تھے اے رب ہمارے ہم یقین لائے، سو معاف کر ہم کو اور رحم کر ہم پر، اور تو سب رحم والوں سے بہتر ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

پھر تم نے ان کو ٹھٹھوں میں پکڑا یہاں تک کہ بھول گئے ان کے پیچھے میری یاد اور تم ان سے ہنستے رہے

80:۔ ” انہ کان الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے اور جملہ ماقبل کے لیے علت تمہیں یہ سزا اس لیے دی جارہی ہے کہ تم عناد اور سرکشی میں انتہا کو پہنچ چکے تھے دین حق استہزاء کرتے تھے یہاں تک کہ جو لوگ ایمان لا چکے تھے تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے جو ضعاء مومنین مثلاً حضرت بلال، صہیب اور خبیب وغیرہم ؓ اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی دعائیں مانگتے تھے یہ صنادید قریش ابو جہل وغیرہ ان کی ہنسی اڑاتے۔ فرمایا حق کے انکار اور حق ماننے والے سے تمسخر ہی نے تمہیں عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ ” حتی انسوکم الخ “ یعنی ان ایمان والوں عداوت و تمسخر میں تم اس قدر منہمک تھے کہ یہی چیز تمہارے لیے میرے زکر اور میری توحید کو ماننے سنیان کا باعث بن گئی ای اشغلتم بالاستہزاء بھم عن ذکری (قرطبی ج 12 ص 155) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی توحید کو ماننے والوں اور توحید کی تبلیغ کرنے والوں کو حقیر سمجھنا اور استہزاء و تمسخر سے ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کرنا غضب خداوندی اور عذاب آخرت کا موجب ہے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

میں نے آج دیا ان کو بدلہ ان کے صبر کرنے کا81 کہ وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے

81:۔ ” انی جزیتھم الیوم بما صبروا ا الخ “ تم نے اپنا حال تو دیکھ ہی لیا کہ کس عذاب میں مبتلا ہو۔ ان غریب مسلمانوں کا حال بھی سن لو جن سے تم تمسخر کرتے تھے اور جن کے بارے میں تمہاری خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کوئی مرتبہ نہیں دے گا آج میں نے ان کو ان کے صبر و تحمل کی پوری پوری جزا دی ہے اور آج وہ خوش و خرم ہیں اور کامیاب و کامران ہیں۔
Ayahs 23:112–113

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

فرمایا تم کتنی دیر رہے82 زمین میں برسوں کی گنتی سے

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

بولے ہم رہے ایک دن یا کچھ دن سے کم تو پوچھ لے گنتی والوں سے

82:۔ ” قال کم لبثتم الخ “ جو کافر دنیا میں واپس جانے کی تمنا ظاہر کریں گے ان سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ بتاؤ تم دنیا میں کتنے سال رہے۔ ” قالوا لبثنا یوما الخ “ وہ کہیں گے ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن یا اسے بھی کم رہے ہیں اے ہمارے پروردگار شدت ہول و عذاب سے ہم سب کچھ بھول چکے ہیں ہمیں کچھ یاد نہیں فرشتوں سے پوچھ جو انسانوں کی عمریں لکھتے تھے انہیں اچھی طرح معلوم ہوگا۔ الملئکۃ العادین لا عماد العباد واعمالھم (روح ج 18 ص 70) ۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

فرمایا تم اس میں بہت نہیں83 تھوڑا ہی رہے ہو اگر تم جانتے ہوتے

83:۔ ” قال ان لبثتم الخ “ اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے گا بیشک تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا میں بہت کم عرصہ رہے ہو ” لوانکم کنتم تعلمون “ مگر افسوس کہ تم نے اس قلیل وقت کی قدر نہ کی اور اس سے فائدہ نہ اٹھایا اب دوبارہ دنیا میں جا کر تم کیا کرلو گے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

سو کیا تم خیال رکھتے ہو84 کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے

ٖ 84:۔ ” افحسبتم الخ “ یہ زجر ہے دنیا میں تم اس طرح غافل رہے اور سرکشی کرتے رہے گویا تم ہمیشہ ہی دنیا میں رہو گے اور کبھی ہمارے سامنے حاضر نہیں ہوگے تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بس یونہی بغیر کسی حکمت کے پیدا کردیا ہے اور تم ہمارے احکام اور اوامرو نواہی سے بالکل آزاد ہو۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

سو بہت اوپر ہے اللہ وہ بادشاہ85 سچا کوئی حاکم نہیں اس کے سوائے مالک اس عزت کے تخت کا

85:۔ ” فتعالی اللہ الخ “ یہ سورت کا خلاصہ ہے اور سورت میں بیان کردہ تمام دلائل عقلیہ ونقلیہ کا ثمرہ و نتیجہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو ساری کائنات کا مالک اور حقیقی بادشاہ ہے وہ تمام شریکوں سے پاک ہے، عیب سے منزہ اور عبث کام کرنے سے اس کی شان بلند ہے وہ سارے عالم کا کارساز اور سارے جہان میں متصرف و مختار ہے اس کے سوائے کوئی کارساز اور حاجت روا نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی دعا، پکار اور نذر و نیاز کا مستحق ہے۔ ای تنزہ و تقدس اللہ الملک الحق عن الاولاد والشرکاء والانداد الخ (قرطبی ج 12 ص 157) ۔ ” لا الہ الا ھو الخ “ اس کے سوا کوئی کارساز اور مشکل کشا نہیں اور وہ عزت والے عرش کا مالک ہے جو سارے جہان کو محیط ہے۔
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی پکارے86 اللہ کے ساتھ دوسرا حاکم جس کی سند نہیں اس کے پاس، سو اس کا حساب ہے اس کے رب کے نزدیک بیشک بھلا نہ ہوگا منکروں کا

86:۔ ” ومن یدع الخ “ یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں حالانکہ غیر اللہ کی الوہیت کسی دلیل اور برہان سے ثابت نہیں ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ فرمائے گا اور انہیں سخت سزا دے گا۔ اور ایسے کافر و مشرک ہرگز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ ثم زکر ان من کان بذالک فجزاءہ العقاب العظیم بقولہ فانما حسابہ عند رب ؟ ؟ قال ان عقابلہ ابلغ الی حیث لا یقدر احد علی حسابہ الا اللہ تعالیٰ (کبیر ج 6 ص 309) ۔ اس سورت کی ابتدا میں فرمایا ” قد افلح المومنون “ اور آخر میں فرمایا ” انہ لا یفلح الکفرون “ ایمان والے کامیاب ہوں گے اور کافر و مشرک ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے آخر میں بندوں کو طلب مغفرت و رحمت کی تلقین فرمائی۔