21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

قریب آلگا لوگوں سے ان کے حساب (کا وقت) اور وہ غفلت ہی میں پڑے ہیں اعراض کئے ہوئے،1۔

1۔ یعنی وقت قیامت ہے کہ ہر روز ان سے قریب تر ہوتا جاتا ہے، اور یہ لوگ ہیں کہ اس کے لئے تیاریاں تو کیا کرتے، اس خبر ہی کا نہیں یقین کررہے ہیں۔ (آیت) ” الناس “۔ آیت میں اس سے مراد منکرین قیامت عموما ہیں اور مشرکین عرب خصاصا۔ قال ابن عباس المراد المشرکون وھذا من اطلاق اسم الجنس علی بعضہ للدلیل القائم (کبیر) آج یورپ اور یورپ زدہ مشرق کی ساری آبادی کا بھی نقشہ غفلت واعراض کے لحاظ سے یہی ہے۔ (آیت) ” حسابھم “۔ مراد ہے وقت حساب یعنی روز قیامت۔ المعنی اقترب للناس وقت حسابھم (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ غفلت مذموم وہ ہے جو اعراض کے ساتھ ملی جلی ہو، ورنہ مطلق غفلت سے تو عادۃ کوئی بھی خالی نہیں۔
Ayahs 21:2–3

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس جو بھی تازہ نصیحت آتی ہے اسے یہ اس حال میں سنتے ہیں کہ ہنسی کرتے ہوتے ہیں۔

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل (اس کی طرف سے) بےتوجہ۔ اور یہ لوگ یعنی ظلم کار اور اپنی سرگوشیوں کو چھپاتے رہتے ہیں،2۔ کہ یہ تو محض تم جیسے ایک آدمی ہیں تو کیا تم جادو (کی بات) سننے کو جاؤ گے درآنحالیکہ تم سوجھ بوجھ رکھتے ہو،3۔

2۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ سے مراد اسلام کے خلاف سازش کرنے والے منکرین ہیں۔ ابوجھل و اصحابہ (ابن عباس ؓ اور آج بھی جو لوگ عداوت اسلام و رسول اسلام میں اسی ابو جہلی روش پر چلیں اسی میں شامل ہیں، سازش کے لئے اخفاء لازمی ہے، اس لئے یہ لوگ اپنی کمیٹیوں، کانفرنسوں، مشورت کے جلسوں کو چھپا چھپا کر کرتے تھے۔ (آیت) ” مایاتیھم ...... یلعبون “۔ ہر تازہ نشان کو، بجائے عنوان عبرت وتذکیر کے سرمایہ تفریح و تمسخر بنالینا منکرین کا عام دستور اگلوں پچھلوں سب میں مشترک ہے۔ (آیت) ” لاھیۃ قلوبھم “۔ یعنی موعظہ ونصیحت کو اس کان سننا اور اس کان اڑا دینا یہ آخرت فراموشی ہی سے پیدا ہوتا ہے جس طرح جاہلیت قدیم میں عام تھا، آج جاہلیت جدید میں بھی رائج ہے۔ ان کے علوم وفنون میں، سائنس میں، آرٹ میں، التزام اس کا رہتا ہے کہ کوئی شے بھی آخرت کی یاد دلانے والی نہ آجانے پائے۔ اور یہ آخرت فراموش نظام جو کہنا چاہیے کہ ساری مہذب ونیم مہذب دنیا پر مسلط ومستولی ہوچکا ہے۔ اس نے لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کو بھی آہستہ آہستہ دین فراموش وآخرت فراموش بنادیا۔ ذکر رسول تو محفل میلاد وغیرہ کے نام سے بعض طبقوں میں خواہ رسما سہی، پھر بھی قائم ہے۔ آخرت کی ذمہ داری اور یوم الحساب کا تذکر ہ، اتنا بھی کہیں نہ سنائی دے گا۔ (آیت) ” لاھیۃ قلوبھم دین کے معاملات میں غیر ذمہ داری کی ہوا ہر سر میں سمائی ہوئی ہے۔ (آیت) ” اسروا النجوی “۔ نجوی میں تو خود ہی پہلواخفاء کا شامل ہے۔ (آیت) ” اسروا “۔ کے لفظ نے اس میں مزید تاکید اور زور پیدا کردیا۔ معناہ بالغوا فی اخفاءھا وجعلوھا بحیث لایفطن احد لتناجیھم (کبیر) 3۔ منکرین ومشرکین عرب اپنے میں سے کسی کو کمزور ومذبذب پاکر اس سے کہتے تھے کہ جو رسالت کے مدعی ہیں، ان میں بات ہی کونسی نئی اور ہم سب سے انوکھی ہے۔ یہ نہ کوئی دیوتا ہیں، نہ کوئی اوتار، نہ کسی اور طرح پر فوق البشر، جیسے انسان ہم تم سب ویسے ہی انسان یہ بھی، ان میں بشریت کے علاوہ اور بشریت سے زیادہ ہے کیا، جو ہم ان کا دین اختیار کریں اور ان کی راہ پر چلنے لگیں، اور ان کے کلام قرآن میں جو اثر تم پاتے ہو وہ تو تمامتر ثمرہ ان کے سحر ساحری کا ہے۔ سو کیا تم سوجھ بوجھ رکھ کر ہوش و حواس رکھتے ہوئے بھی ادھر ادھر جاؤ گے ؟ ....... یہ سب توضیح انہی سرگوشیوں کی ہے جن کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

پیغمبر نے) فرمایا کہ میرا پروردگار (ہر) بات کو جانتا ہے آسمان اور زمین میں اور وہی خوب سننے والا ہے، خوب جاننے والا ہے،4۔

4۔ (چنانچہ وہ تمہارے بھی ان اقوال کفریہ سے خوب باخبر اور تمہاری سازشوں پر پوری طرح مطلع ہے) اسلام کا خدا جاہلی مذہبوں کے دیوتاؤں کی طرح ناقص العلم نہیں۔ حاضر و غائب، جلی وخفی اس پر سب یکساں روشن ہے۔ خفیہ سے خفیہ سازش بھلا اس سے کون مخفی رہ سکتی ہے ؟
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

نہیں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ (یہ قرآن) پریشان خیالات ہیں،5۔ نہیں بلکہ یہ کہ انہوں نے اسے گڑھ لیا ہے،6۔ نہیں بلکہ وہ تو ایک شاعر ہیں،7۔ ورنہ وہ لے نہ آئیں ہمارے پاس کوئی (بڑا) نشان جیسا کہ پہلے لوگ رسول بنائے گئے ہیں،8۔

5۔ مشرکین مکہ کے اسی گروہ کی نمائندگی آج یورپ اور یورپ زدہ طبقہ کررہا ہے۔ ٹامس کارلایل (برطانوی) اوروں کے دیکھتے ہوئے اسلام کا بہت ہمدرد ہے اور قرآن کی خوبیوں کا معترف ہے وہ تک یہ لکھ گیا ہے کہ قرآں کیسی غیر مربوط، پریشان کتاب ہے تو دوسروں کا ذکر ہی کیا۔ 6۔ یہ پہلی تشخیص پر ترقی ہے۔ (آیت) ” اضغاث احلام “ میں تو پھر ایک شان بےاختیاری اور مجذوبیت کی تھی، ایک گروہ کھلم کھلا کہنا شروع کیا کہ نہیں یہ کلام تو انہوں نے دیدہ و دانستہ اپنے دل سے تراش رکھا ہے۔ 7۔ یہ اور اس دوسری تشخیص پر بھی ترقی ہے، منکرین کہتے ہیں کہ ان کی زندگی ہی شاعر کی طرح تراشیدہ اور خیالی ہے۔ اور ان کا یہ کلام (قرآن) تو بس شروع سے آخر تک اعلی شاعرانہ اور خیالی مضامین کا مجموعہ ہے۔ 8۔ (اور وہ اپنے ساتھ بڑے بڑے عجائب وخوارق لائے تھے) ایۃ سے مراد یہاں کسی معجزہ عظیم خارق عادت سے ہے۔
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان لوگوں کے قبل بھی کوئی بستی والے جنہیں ہم نے ہلاک کیا ہے ایمان تو لائے نہیں تھے۔ سو کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟ ،9۔

9۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان بڑے بڑے، معجزات، خوارق عادت سے حاصل کیا ؟ پرانے انبیاء کے وقت میں تو بارہا اس کا تجربہ ہوچکا۔ انہوں نے سب کچھ دکھا ڈالا، پھر بھی ان کے زمانہ کے منکرین کی بھی وہی ہے جو ان قدیم منکرین کی نفسیت (سائکالوجی) ان جدید منکرین بھی وہی ہے جو ان قدیم منکرین کی تھی، پھر آج ان کے ایمان لے آنے کی کیا امید ہے ؟
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے قبل مردوں ہی کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے جن پر ہم وحی کرتے رہے ہیں،10۔ سو تم اہل کتاب سے پوچھ دیکھو اگر تم علم نہیں رکھتے،11۔

10۔ یعنی سلسلہ نبوت تو ہمیشہ انسانوں ہی کی معرفت جاری رکھا گیا ہے نبی تو ہر دور میں، ہر ملک میں، آدمی ہی بنا کر بھیجا گیا ہے کوئی جن، کوئی فرشتہ، کوئی فوق البشر انسانی آبادی کے لئے پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے۔ (آیت) ” الارجالا “۔ بشر کے بجائے رجل کے لفظ کے استعمال میں اشارہ اس طرف بھی ہے کہ نبوت ہمیشہ مردوں ہی کو ملی ہے نہ کہ عورتوں کو۔ عارف تھانوی (رح) نے یہاں فرمایا کہ اسی اصل کی بناء پر اہل طریق بھی خلافت مردوں ہی کو دیتے ہیں۔ 11۔ (کہ تم تو سرے سے سلسلہ نبوت و طریق وحی ہی کے منکر ہو) مشرکین تو تمامتر بروز، حلول وغیرہ کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں، نبوت، رسالت نزول وحی کے اصول ومبادیات ہی سے منکر وبیگانہ۔ (آیت) ” اھل الذکر “۔ سے مراد اہل کتاب ہیں، اے اھل التورۃ والانجیل (ابن عباس ؓ اے اھل الکتاب (روح، عن الحسن وقتادۃ وغیرہا) وھم اھل الکتاب (کبیر)
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور نہ ہم نے ان (رسولوں) کے جسم ایسے بنائے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ غیرفانی ہوئے ہیں،12۔

12۔ مشرکین کے تہ بہ تہ جہل کا شافی جواب ہے۔ رسول نہ بشری ضروریات غذا وغیرہ سے برتر ہوتا ہے اور نہ وہ غیر فانی ہو کر دنیا میں آتا ہے اس کی ترکیب جسمانی اور اس کی طبعی ضروریات سب وہی ہوتی ہیں جو گوشت پوست کے بنے ہوئے ہر بشر کی ہوتی ہے۔ اس کا اصل مشن تو بس محض صحیح خدائی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہوتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کھانا نہ کھانا کمالات اور علامات مقبولیت میں سے نہیں، جیسا کہ بہت سے عوام اور بعض خواص بھی خیال کرتے ہیں۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے (کئے ہوئے) وعدہ کو سچا کردیا،13۔ پھر ہم نے نجات دے دی ان کو اور جن کو ہم نے چاہا، نجات دے دی،14۔ اور ہم نے حد سے گزر نے والوں کو ہلاک کردیا

13۔ وعدہ یہی تھا کہ ایمان لانے والے اور تصدیق کرنے والے عذاب سے محفوظ رہیں گے، اور انبیاء بھی باوجود اپنی ہر طرح کی ظاہری بےسروسامانی اور منکرین کی شوکت وقوت کے بالآخر مظفر ومنصور رہیں گے۔ 14۔ ان نجات پانے والوں مومنین تو یقیناً داخل ہیں، باقی بعض منکرین بھی ممکن ہے کسی مصلحت تکوینی سے بچا دیئے گئے ہوں۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

یقیناً ہم تمہاری طرف ایسی) کتاب اتارچکے جس میں تمہارے لئے نصیحت موجود ہے تم کیا پھر بھی نہیں سمجھتے،15۔

15۔ خطاب قرآن کے معاصر منکرین سے ہے۔ ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ نہ قرآن کی بلیغ موعظت تم پراثر کرتی ہے، اور نہ تم گزشتہ منکرین کے انجام سے سبق حاصل کرتے ہو۔ الذکر بمعنی التذکیر والمعنی فیہ موعظتکم (روح)
Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے کتنی ہی بستیاں غارت کرڈالیں (جن کے رہنے والے) ظالم تھے اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی،16۔

16۔ (اور اللہ کی زمین ویران اور غیر آباد نہ رہی) (آیت) ” قریۃ کانت ظالمۃ “ سے مراد وہ قومیں ہیں جو اپنے حق میں ظلم کرتی رہیں۔
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

سو جب انہوں نے ہمارا عذاب (آتا ہوا) دیکھا تو لگے اس بستی سے بھاگنے بھاگو مت،17۔

17۔ یہ گویا ندائے غیبی ان کے کان میں آئی۔” انہوں نے “ یعنی انہیں ظالم، کافر وفاسق، عذاب زدہ لوگوں نے۔
Ayah 21:13

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

اور واپس چلو اپنے سامان عیش اور اپنے مکانوں کی طرف شائد کہ تم سے کوئی پوچھ پاچھ ہی ہو،18۔

18۔ (ازراہ ہمدردی کہ کیا گزری) ” مقصود اس سے تعریض ہے کہ نہ وہ سامان رہا نہ مکان رہا، نہ کسی ہمدرد کا نام ونشان رہا “ (تھانوی (رح)
Ayah 21:14

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری شامت، بیشک ہم ہی ظالم تھے،19۔

19۔ عین نزول عذاب کے وقت بدکار وفسق پیشہ قومیں پچھتاتی ہیں، اپنے جرائم کا اعتراف کرتی ہیں، اور ہر طرح واویلا مچاتی ہیں۔
Ayah 21:15

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

ان کی یہی پکار جاری رہی کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی، بجھی ہوئی آگ بنا دیا،0 2۔

20۔ یعنی آخر وقت میں ان کی آہ وفریاد کچھ ان کے کام نہ آئی اور وہ نیست ونابود اس طرح ہوگئے جیسے کٹی ہوئی کھیتی یا بجھی ہوئی آگ۔ ع :۔ اب نہ خود ہیں نہ ہے مکاں باقی نام کو بھی نہیں نشاں باقی :
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو (اس طرح) نہیں بنایا کہ ہم کھیل کررہے ہوں،21۔

21۔ (بلکہ ان کی تخلیق سے بیشمار حکمتیں اور مخلوق کی بےحساب مصلحتیں وابستہ ہیں) اس میں رد ہے ان مشرک قوموں کا جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ کائنات محض ” ایشور کی لیلا “ یا خدا کی تماشا گاہ ہے اور حق تعالیٰ کا مقصود اس سے کچھ نہیں، بجز تماشہ دیکھنے اور دکھانے کے۔
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم کو یہی منظور ہوتا کہ ہم کھیل کے طور پر کریں تو ہم اپنے ہی پاس (کی چیز) کو (کھیل) بنالیتے اگر ہم کو (یہ) کرنا ہی تھا،2 2۔

22۔ یعنی بالفرض ہمیں تفریح وتماشہ ہی مقصود ہوتا تو ہم بلاواسطہ مخلوقات اپنے ہی یا براہ راست تعلق رکھنے والی کسی چیز کو اختیار کرلیتے مثلا اپنی صفات کمال کے مشاہدہ کو، ذی شعور مخلوق کو اس چکر میں کیوں ڈالتے۔ آیت سے معلوم ہوا کہ تخلیق کائنات خود مخلوق ہی کے نفع ومصلحت کے لئے ہے۔ عارف رومی (رح) ۔ ع : من نہ کردم امر تاسود کنم بلکہ تربربندگاں جو دے کنم :
Ayah 21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

ہم تو حق کو باطل کے اوپر پھینک مارتے ہیں سو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے تو وہ دفعۃ مٹ جاتا ہے اور تمہاری (بڑی) کم بختی آئے گی اس سے کہ جو تم گڑھتے رہتے ہو،23۔

23۔ (یعنی تمہارے شرک سے) یہ کائنات تماشاگاہ، تفریح گاہ نہیں، حق و باطل، صدق وکذب، نور وظلمت کی جنگ گاہ، معرکہ گاہ ہے۔
Ayah 21:19

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور اسی کی ملک ہے، جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے نزدیک ہیں اور اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے اور نہ وہ تھکتے ہیں،4 2۔

24۔ مراد فرشتہ ہیں۔ ہم الملائکۃ باجماع الامۃ (کبیر) یعنی الملائکۃ المنزلین (بیضاوی) یہ خصوصیات انہیں کے بیان ہورہے ہیں کہ وہ عبادت الہی سے کسی قسم کا عار محسوس کرنا الگ رہا، اس میں ہر وقت لگے رہنے کے باوجود اس سے تھکتے تک نہیں، (آیت) ” من عندہ “۔ یہ نزدیکی شرف ومنزلت کے لحاظ سے ہے نہ بہ اعتبار مقام ومکان۔ لایراد بھا ظرف المکان لانہ تعالیٰ منزہ عن المکان بل المعنی شرف المکانۃ وعلوہ المنزلۃ (بحر) والمراد بالعندیۃ الشرف لاعندیۃ المکان (روح) ھذہ العندیۃ عندیۃ الشرف والرتبۃ لاعندیۃ المکان والجھۃ (کبیر)
Ayah 21:20

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات اور دن تسبیح کرتے رہتے ہیں موقوف نہیں کرتے،25۔

25۔ ذکر فرشتوں کا چل رہا ہے۔ جاہلی مذہب والے انہیں کو اپنے جہل سے دیوی دیوتا قرار دے لیتے ہیں، آگے ذکر زمینی معبودوں کا آرہا ہے۔ سیاق خود چاہتا ہے کہ یہاں ذکر آسمانی دیوتاؤں کا ہو۔
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین سے (ایسے) معبود اختیار کر رکھے ہیں جو (کسی کو) زندہ کرتے ہوں ؟ ،26۔

26۔ سوال مشرکین کی حماقت محض سے ہے کہ آخر کیا سمجھ، کیا دیکھ کر انہوں نے مخلوق کو جو خود بےقدرت ہے اپنا معبود تسلیم کرلیا ہے ؟ زمینی معبودوں اور دیوتاؤں کی مثالوں کے لئے ہندوستانیوں کو دور جانے کی ضرورت نہیں، اردگرد، حیوانات ونباتات، جمادات سب میں کثرت سے موجود ہیں گؤماتا، گنگامائی، سرجومائی بندھیا چل، گوری شنکر، ناگ (سانپ) ہنومان (بندر) پیپل، تلسی وغیرہا۔
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر ان دونوں (جگہوں) میں علاوہ اللہ کے کوئی معبود ہوتا تو یہ دونوں درہم برہم ہوگئے ہوتے،27۔ اللہ مالک عرش، پاک ہے ان امور سے جو یہ لوگ بیان کررہے ہیں،28۔

27۔ یعنی نظام عالم میں ابتری پڑجاتی، خدا کے تصور وتعریف ہی میں یہ امر داخل ہے کہ وہ مطلق لارادہ ومطلق الاختیار اور مالک کل ہو، اگر اس کے اختیارات یا اس کی ملک محدود ومقید ہوئی تو وہ خدا ہی کیوں کہلائے گا، اس تعریف کو پیش نظر رکھنے کے بعد غور کیجئے کہ دو (یا زائد) خداؤں کے وجود کے معنی ہی کیا ہوسکتے ؟ ایک خدا کی ملک سے کوئی بھی جزو موجودات اگر باہر رہا، یا اسے اپنا ارادہ کسی مصلحت سے مغلوب کرنا پڑا، یا اپنے موجودات پر کسی ضرورت سے پابندی عائد کرنی پڑی تو اسکے خدا باقی رہنے کا امکان ہی کیا رہ گیا ؟ تصادم وتراجم کی تکذیب کررہا ہے سو اس نظام کائنات کا وجود جس کے آگے بشری صناعوں کی بڑی بڑی صناعیاں گرد ہیں، دلیل قاطع ہے توحید صانع عالم پر، جس دلیل کو قرآن کریم نے اس قدر سادہ طور پر ادا کردیا، اسی کو متکلمین نے حسن صنعت ونظم کائنات سے توحید صانع پر استدلال ککا لقب دے کر اس سے بڑے بڑے کام لئے ہیں اور اسے شرح وبسط سے اور اپنی اصطلاحات کے ساتھ لکھا ہے اور اس کو برہان تمانع کالقب دیا ہے۔ (آیت) ” فیھما “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ آسمان اور زمین ہیں۔ (آیت) ” لفسدتا “۔ قیامت میں جو دور فنا وہلاکت کا آئے گا، وہ ایک نظم کے ماتحت اور ایک ضابطہ معین کے موافق ہوگا۔ (جیسا کہ آج بھی افراد اپنے وقت معین پر ہلاک ہوتے رہتے ہیں) اس پر اطلاق ” فساد “ کا کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ 28۔ عرش مخلوقات میں خود بھی سب سے اعظم و اشرف ہے، پھر جو اس کا بھی مالک ورب ہو، اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہے ! اللہ کی صفت یہاں (آیت) ” رب العرش “۔ لا کر اس کی بےانتہاعظمت اور شرک کی بےعقلی کو اور زیادہ نمایاں کردیا۔
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

اور جو کچھ بھی کرے اس سے کچھ باز پرس نہیں کی جاسکتی، اور اوروں سے باز پرس کی جاتی ہے،29۔

29۔ اس میں ان مشرک قوموں کا رد آگیا جو خدا کو بھی محدود الاختیار، محدود القوی مانتے ہیں، یونان کے مشرک فلاسفہ کا یہی مذہب ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریز ی۔ ہندوستان میں عقیدہ ” کرم “ کے ماننے والوں کا بھی یہی خیال ہے۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے سوا معبود اختیار کر رکھے ہیں ؟ آپ کہیے تم اپنی دلیل پیش تو کرو،30۔ یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے قبل والوں کی کتاب (موجود) ہے لیکن اس پر بھی اکثر لوگ حق کا یقین نہیں رکھتے پس اس سے اعراض کررہے ہیں،31۔

30۔ یعنی توحید پر تو بہت سی دلیلیں قائم ہیں عقلی بھی، نقلی بھی، تم شرک پر بھی کوئی دلیل پیش کرکے دکھاؤ ...... افسوس ہے کہ ہمارے ہاں کے متکلمین نے اس پہلو پر اب تک بہت کم توجہ کی ہے۔ عموما اب تک بجائے عقیدہ شرک پر مطالبہ دلیل کے دلائل توحید ہی پر قائم کئے جاتے رہے ہیں۔ 31۔ یعنی چونکہ حق سے اعراض کئے ہوئے ہیں، اس کی طلب اور تڑپ اپنے دل میں رکھتے ہی نہیں، اس لئے ایمان ویقین کی دولت سے بھی محروم ہیں۔ المعنی فھم معرضون ولذلک لایعلمون (بحر) ھذا ...... قبلی۔ مطلق (آیت) ” ذکر سے یہاں مراد کتب الہی ہے۔ فالذکرھنا مراد بہ الکتب الالیھۃ (بحر) قیل المراد بالذکر الکتاب۔ (آیت) ’ ذکر من معی “۔ سے مراد قرآن ہے اور (آیت) ” ذکر من قبلی “۔ سے صحف قدیم ہیں، گویا ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ ان کتابوں میں دیکھ لو، تعلیم کس عقیدہ کی موجود ہے۔ توحید کی یا شرک کی ؟...... دلیل عقلی اثبات توحید پر ابھی اوپر پیش ہوچکی تھی، اب دلیل نقلی پیش ہو رہی ہے۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے قبل کوئی (ایسا) رسول نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے (یہ) وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو عبادت میری ہی کرو،32۔

32۔ (اور اس میں کسی کو شریک نہ کرو) (آیت) ” انہ لاالہ الا انا “۔ یہ عقیدہ ہوا توحید کا (آیت) ” فاعبدون “۔ یہ عمل ہوا توحید کا۔ یہ دین توحید جس کا دوسرا نام دین اسلام ہے، دنیا کا قدیم ترین دین ہے۔ اور انبیاء کے ذریعہ سے ہمیشہ تبلیغ اسی دین کی ہوتی رہی ہے۔ دین شرک تمامتر ذہن انسانی کی اختراع ہے، اور بہت بعد کی پیداوار ہے۔
Ayah 21:26

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن نے اولاد بنارکھی ہے وہ پاک ہے (اس سے) البتہ وہ (فرشتے) بندے ہیں معزز،33۔

33۔ ذکر ان مشرکوں کا ہے، جو فرشتوں کو خدا کی اولاد سمجھتے تھے۔ قزلت فی خزاعۃ حیث قالوا الملئکۃ بنات اللہ (کشاف) ان کی تردید میں ارشاد ہورہا ہے کہ توبہ توبہ خدائے برتر وقدوس کو اولاد سے کیا واسطہ جن ہسیتوں کو تم اس کی اولاد قرار دے رہے ہو، یہ سب تمامتر اس کے بندے ہیں، البتہ معزز ذی رتبہ بندے۔
Ayah 21:27

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے،34۔ اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں،35۔

34۔ (بلکہ اسی کے حکم کے منتظر رہتے ہیں) یہ کیفیت ہے ان مقرب بندوں کے ادب، خشوع وتعبد کی۔ 35۔ اس میں رد آگیا یہود ونصاری کی گمراہی کا جو ” نافرمان “ فرشتوں کے وجود کے قائل ہیں، یہاں ان کی صحیح کیفیت بیان کردی ہے کہ ان سے نہ قولی مسابقت ہی ہوتی ہے اور نہ فعلی مخالفت۔ والمعنی انھم یتبعونہ فی قولہ ولا یقولون شیئا حتی یقولہ وکما ان قولھم تابع لقولہ فعملھم ایضا کذلک مبنی علی امرہ (کبیر)
Ayah 21:28

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے،36۔ اور وہ شفاعت بھی نہیں کرسکتے (کسی کی) بجز اس کے کہ جس کیلئے (اللہ کی) مرضی ہو اور وہ (سب) اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں،37۔

36۔ فرشتوں کو یہ بھی یقین ہے کہ اللہ سب کے اگلے پچھلے احوال خوب جانتا ہے، اس لئے اس کا جو اور جب حکم ہوگا حکمت کے موافق ہی ہوگا، اس لئے چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں۔ 37۔ یہ نقشہ ہے ان کے ادب و اطاعت گزاری، اور ان کی مغلوبیت ومحکومیت کا، فرشتوں والا شرک دنیا میں بہت پھیلا رہا ہے، اسی لئے اس کی تردید کی مفصل اور بار بار ضرورت ہوئی۔ ہندوستان میں دیوتا پرستی کے نام سے جو شرک چلا ہوا ہے وہ حقیقۃ یہی ملائکہ پرستی ہی ہے۔
Ayah 21:29

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو کوئی ان میں سے یہ کہہ بھی دے کہ میں (بھی) معبود ہوں اللہ کے سوا سو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں،38۔

38۔ یعنی جس طرح اور مخلوقات تمامتر خدا کے قابو اور اختیار میں ہے، فرشتے بھی ہیں، ان کا یہ قول کہ ہم بھی معبود ہیں، ظاہر ہے کہ بطور فرض محال نقل ہوا ہے۔ ومن یقل منھم علی سبیل الفرض (روح) اور قرآن مجید میں ایسے مفروضات و احتمالات کا استعمال بار بار ہوا ہے۔
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں انہیں علم نہیں کہ آسمان اور زمین بند تھے،39۔ پھر ہم نے دونوں کو کھول دیا،40۔ اور ہم نے پانی سے ہر جان دار چیز کو بنایا ہے کہ پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ؟ ،41۔

39۔ چناچہ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے پیداوار۔ آسمان اور زمین جامد محض ہیں۔ کوئی دیوی دیوتا یا صاحب اختیار مخلوق ہی سرے سے نہیں کہ خودبخود اپنے ارادہ ومرضی سے کسی کے کام آنے لگیں (آیت) ” اولم یر الذین کفروا “۔ سے مراد یہ ہے کہ یہ مشرکین جو توحید کے منکر ہیں، کیا طبعیات ومادیات کے ان حقائق پر بھی غور نہیں کرتے ؟ آسمان اور زمین جیسے قوی الجثہ مخلوقات تک میں یہ قدرت کب تھی کہ اپنے ارادہ واختیار سے وہ کچھ کرنے لگیں ؟ رؤیت سے مراد رؤیت عینی نہیں، رؤیت عقلی یا علم ہے۔ المراد من الرؤیۃ ھو العلم (کبیر) (آیت) ” کانتا “۔ (آیت) ” سموت “۔ صیغہ جمع ہے۔ مراد یہاں مجموعہ سموت یا طبقہ سموت ہے۔ اسی لئے اسے بہ طور منفرد لا کر اس کے اور ارض کے لئے ضمیر تثنیہ کی لائی گئی۔ 40۔ چناچہ آسمان سے بارش ہونے لگی اور زمین سے نباتات پیدا ہونے لگی۔ 41۔ (اور توحید کے قائل نہیں ہوجاتے) پانی سے مراد یہاں اگر بارش ہے تو بارش کے پانی سے براہ راست یا بالواسطہ ہر جاندار کا مستفید ہونا ظاہر ہی ہے۔ اے خلقنا من الماء کل حیوان (کشاف) اور اگر مراد نطفہ حیوانی لی جائے تو اس سے بھی ہر جاندار کا وجود میں آنا مشاہد ہے۔ قال قطرب وجماعۃ المراد بالماء النطفۃ (روح) جدید ماہرین علم الحیات کی تحقیق ہے کہ ہر جاندار کی ترکیب میں عنصر اصلی پروٹو پلازم (نخرمایہ) کا ہوتا ہے۔ اگر اسی کو مانا جائے تو اس جوہر میں بھی حصہ غالب پانی ہی کا ہوتا ہے ! ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” کل “۔ لفظ کل محاورہ میں تقریبا کل یا بہت بڑی اکثر یت کے مرادف مستعمل ہے۔ اس لئے اگر کسی جاندار کی پیدائش کا استثناء اس قاعدہ سے ثابت ہوجائے تو یہ عموم قانون کے منافی نہیں۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ اس لئے رکھ دیئے کہ وہ لوگوں کو لے کر ہلنے نہ لگے،42۔ اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنادئیے تاکہ لوگ راستہ پاتے رہیں

42۔ مراد یہاں ڈانواڈول حرکت سے ہے۔ نفی یہاں مطلق حرکت ارض کی نہیں بلکہ اس کی اضطرابی حرکت کی ہورہی ہے۔ یہ پہاڑ جو ہیں گویا زمین کا توازن برابر رکھنے کا کام دے رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو وہ ایک طرف کو جھک جائے، ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 99 الحجر پارہ 14۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا،43۔ اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں،44۔

43۔ یعنی ہر طرح کی شکست ریخت، نقصان سے محفوظ۔ آسمان کے چھت ہونے یا عمارت حاشیہ سورة بقرہ پ 1 رکوع 4 گزر چکا۔ عدیم المثال بلندی اور عدیم المثال احاطت دونوں کے لحاظ سے آسمان کا جو بہترین صفاتی نام دیا جاسکتا ہے وہ چھت ہی کا ہوسکتا ہے۔ ہئیت و فلکیات کی ہر علمی اصطلاح سے کہیں بہتر اور کہیں واضح تر۔ 44۔ مقصود ان سارے مادی و طبعی حقائق کی طرف اشارہ کرنے سے یہ ہے کہ یہ سب اللہ کی توحید اور کمال صناعی ہی پر دلالت کررہی ہیں۔ (آیت) ” کل “۔ تنوین حذف مضاف کے ظاہر کرنے کو ہے۔ تقدیر کلام کلھم ہے۔ التنوین فیہ عوض من المضاف الیہ اے کلھم (کشاف)
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہ وہی تو ہے جس نے رات کو اور دن کو اور سورج کو اور چاند کو پیدا کردیا ہے سب (اپنے اپنے) دائرہ میں تیر رہے ہیں،45۔

45۔ (اور جو قاعدہ قانون ان کیلئے بنادیا گیا ہے، اس سے باہر نہیں جاسکتے) اور یہ ضمیر (آیت) ” ھم “ جنس طوالع کی جانب ہے۔ الضمیر للشمس والقمر والمراد بھما جنس الطوالع (کشاف) الغرض الدلالۃ علی الجنس (کشاف)
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے قبل بھی کسی بشر کو ہمیشگی کے لئے نہیں بنایا تھا،46۔ سو کیا اگر آپ کی وفات ہوجائے تو یہ ہمیشہ رہیں گے ؟ ،47۔

46۔ (سو آپ بھی غیر فانی بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں اور نہ کوئی اور انسان مدارج قرب میں ترقی کرتے کرتے غیر فانی دیوتا بن سکا ہے) آیت میں تردید ہے یونان، ہندوستان وغیرہ کے اس مشرکانہ عقیدہ کی کہ فلاں فلاں انسان ترقی کرتے کرتے دیوتا بن گیا اور غیرفانیوں (HEROES) کی صف میں شامل ہوگیا۔ 47۔ (سو یہ کافر معاند آپ کی وفات کا خیال کر کرکے خوش کیوں ہورہے ہیں ؟ )
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جان دار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تم کو آزماتے ہیں برائی سے اور بھلائی سے خوب طرح اور ہماری ہی طرف تم لوٹ کر آؤ گے،48۔

48۔ یہاں انسان کے لئے تین قانون بیان کردیئے۔ (1) ایک یہ کہ ہر ذی حیات کے لئے موت لازمی ہے، خواہ جلد خواہ طویل ترین مدت کے بعد۔ (2) انسان جب تک زندہ رہے گا اس کا امتحان برابر ہوتا رہے گا۔ کہ کن کن حالات میں وہ ایمان وطاعت کی طرف مائل رہتا ہے اور کن کن حالات میں کفر ومعصیت کی طرف جھک جاتا ہے۔ (آیت) ” بالشر والخیر “۔ شر سے مراد انسان کے مخالف طبع حالات ہیں۔ حالات ہیں، مرض، افلاس وغیرہ۔ خیر سے مراد انسان کے موافق طبع حالات ہیں، صحت، خوشحالی وغیرہ۔ اے بالمکروہ والمحبوب و تفسیر الشر والخیر مما ذکر مروی عن ابن زید وروی عن ابن عباس انھا الشدۃ والرخاء وقال الضحاک الفقر والمرض والغنی والصحۃ والتعمیم اولی (روح) (3) ہر انسان کو اللہ ہی کے حضور میں واپس جا کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہے۔ (آیت) ” فتنۃ “۔ مصدر (آیت) ” فتنۃ “ فعل (آیت) ” نبلوکم “ کی تاکید کے لئے ہے۔ اور تاکید کے موقع پر کبھی تو اسی فعل کا مصدر دہرادیا جاتا ہے اور کبھی کوئی اس کا مرادف۔ مصدر موکد لنبلوکم من غیرلفظہ (کشاف)
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور یہ کافر لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے بس تمسخر کرنے لگتے ہیں،49۔ کیا یہی وہ (حضرت) ہیں جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتے ہیں درآنحالیکہ یہ لوگ خدائے رحمن کے ذکر پر کفر کرتے رہتے ہیں،50۔

49۔ (آپس میں) کافروں کی اخلاقی پستی کا نقشہ ہے۔ آج بھی کتنے ہی بدنفس کافر ایسے موجود ہیں جو شریعت اسلامی کے احکام ومسائل کو کبھی سنجیدگی سے سنتے ہی نہیں۔ سرین سے تمسخر ہی کرتے رہتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل اللہ کی بےقدری اس تشنیع کے عموم میں آجاتی ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ 50۔ تو تمسخر و استہزاء کے مستحق اگر ہیں خود یہ لوگ ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت کو یوں ٹھکرائے ہوئے یوں بھلائے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” یذکر “۔ سے مراد ہے کہ برائی سے ذکر کرتے ہیں۔ اے بسوء وانما اطلقہ بدلالۃ الحال (بیضاوی)
Ayah 21:37

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان کی خلقت ہی جلدی (کے خمیر) سے ہوئی ہے،51۔ ہم عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھادیں گے سو تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ،52۔

51۔ انسان سے مراد کافر قسم کا انسان ہے جس کا ذکر ہورہا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس قسم کا انسان کچھ ایسا جلد باز ہوتا ہے کہ گویا عجلت پسندی اس کے اجزاء عنصری اور ہئیت ترکیبی میں شامل ہے۔ آج کل کے دہریے اپنے کو سوشلسٹ، کمیونسٹ، وغیرہ کے مختلف ناموں سے سے یاد کرنے والے نیم دہریے جن کا حق تعالیٰ کے وجود پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ کیسا قادر مطلق ومنصف مزاج خدا ہے جو ظالم پر فی الفور کیوں نہیں کرتا اور قاتل کو معا مقتول کے وارثوں کی گرفت میں کیوں نہیں دے دیتا۔ ان کی ذہنیت بھی ٹھیک اس کلیہ کے ماتحت ہوجاتی ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ طریق تصوف میں اکثر تشویشات اسی عجلت پسندی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ 52۔ قدرت کا، قہر کا ہر نشان اپنے وقت پر قانون حکمت کے ماتحت ظاہر ہو کر رہے گا۔ خود کسی عذاب کی فوری آمد مطالبہ کرتے رہنا حماقت محض ہے۔
Ayah 21:38

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کس وقت پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،53۔

53۔ وعدہ سے مراد وعدۂ قہر عذاب ہے۔ مشرکین معاندین یہ سوال مسلمانوں سے تمسخر اور بےیقینی کے لہجہ میں کیا کرتے۔
Ayah 21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ان کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب یہ آگ کو نہ روک سکیں گے نہ اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ انہیں مدد پہنچ سکے گی،54۔

54۔ یعنی کاش ان منکروں کو اس وقت کا استحضار ہوتا جب آتش دوزخ ان پر ہر طرف سے بےپناہ حملے کرے گی اور انہیں بچاؤ کا، یا مدد کا، کسی طرف سے کوئی ادنی بھی سہارا نہ ملے گا تو آج یہ اس طرح کی بڑھ بڑھ کر باتیں نہ بناتے۔
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ (آگ تو) انہیں یک بیک آلے گی سو انہیں بدحواس کردے گی پھر نہ انہیں اس کے دور کرنے کی مہلت ہوگی اور نہ انہیں مہلت ہی دی جائے گی،55۔

55۔ وہ عذاب شدید اگر ان کے معلوم و متعین وقت پر آتا، جب بھی کچھ غنیمت تھا، وہ تو بالکل دفعۃ نازل ہوگا کہ وہ بالکل ہکا بکا رہ جائیں گے اور کچھ ان کے بنائے بن بھی نہ پڑے گی۔