21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 21:1–4

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو ؟

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے، میرا پروردگار اسے جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

آیت 1-4 یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انہیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انہیں صرف دنیا کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انہیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں۔ اس لئے فرمایا مایاتیھم من ذکر من ربھم محدث ” نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔ “ جو انہیں ایسی باتوں کی یاد دہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انہیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لئے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ الا استمعوہ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے وھم یلعبون۔ لاھیۃ قلوبھم یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ” ذکر “ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں۔ جب کہ ان کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امر ونہی کو قبول کریں، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کیلئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہوگی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (اقترب للناس حسابھم) ” لوگوں کے لئے ان کا حساب قریب آگیا ہے۔ “ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔ (1) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہوگی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں۔ “ اور آپ ﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔ (1) (2) دوسرا قول یہ ہے کہ ” حساب “ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مرجاتا ہے، اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لئے دارالجزا میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آجائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لئے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کرلیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہوگا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمہارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لئے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لئے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو ! (افتاتون السحر وانتم تبصرون) یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آرہے ہو۔۔۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا، لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کررکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لئے فرمایا : (قل ربی یعلم القول) یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے (فی السماء والارض) ” آسمان اور زمین میں۔ “ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے (وھو السمیع) یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے (العلیم) وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
Ayahs 21:5–6

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں (نہیں بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے (نہیں) بلکہ یہ شعر جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھیں تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

آیت 5-6 اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ” یہ پراگندہ خواب ہیں “ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ” یہ اس کا من گھڑت کلام ہے “ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ” یہ شاعر ہے “ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسول ﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کردکھائیں، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کرسکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کردیا ؟۔۔۔ وہ حق کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کرسکتی ؟ اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی وشافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنہوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لئے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد وضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہوچکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لئے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے۔۔۔ تو اس صورت میں بھی جب کہ قرض کرلیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کردیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آجائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا : (فلیاتنا بایۃ کما ارسل الاولون) ” وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔ “ جیسے صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور اس جیسے معجزات۔ بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ما امنت قبلھم من قریۃ اھلکنھا افھم یومنون) ” نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟ “ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کئے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے، تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے ؟ آخر ان (عربوں) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے ؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ ایمان لے آئیں۔
Ayahs 21:7–9

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بناکر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانانہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

آیت 7-9 یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ” کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا ؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی ؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔ “ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لئے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو۔۔۔ جو رسول اللہ ﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں، بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں۔۔۔ ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کردیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا، تو محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت کے انکار کے لئے باطل شبہات قائم کئے جاتے ہیں، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء ومرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمد ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں۔۔۔ پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انہوں نے کسی بشر رسول کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انہوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کرلیا ہے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہوسکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (الانعام 6/8، 9) ” اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہوگیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کردیتے جسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔ “ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا : (قل لو کان فی الارض ملئکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا) (بنی اسرائیل : 17/ 09) ” کہہ دیجئے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ “ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمہیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں (فسئلوا اھل الذکر) (تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔ “ 1660 یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمہیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے مقتدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے، کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے۔۔۔ مگر یہ دین کے اصول وفروغ کے تمام مسائل کے لئے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لئے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینافرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لئے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں، حضرت مریم (علیہ السلام) نبی تھیں نہ کوئی اور عورت کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ( الا رجالاً ) یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

آیت 10 اے وہ لوگو ! جن کی طرف محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، ہم نے تمہاری طرف ایک جلیل القدر کتاب اور ایک واضح قرآن نازل کیا ( فیہ ذکر کم) یعنی جو کچھ اس میں سچی باتیں بیان کی گئیں ہیں اگر تم اس سے نصیحت پکڑو، انہیں اپنا اعتقاد بناؤ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو تو اس میں تمہارا اشرف و فخر اور تمہاری سر بلندی ہے، تمہاری قدر بڑھے گی اور تمہارا معاملہ عظیم ہوجائے گا۔ (افلا تعقلون) کیا تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے جن میں تمہارا نفع و نقصان ہے ؟ تم اس چیز پر کیوں عمل پیرا نہیں ہوتے جس میں تمہارا ذکر اور جس میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کا شرف ہے ؟ اگر تم میں عقل ہوتی تو تم اسی راستے پر گامزن ہوتے۔ چونکہ تم اس راستے پر نہیں چلے بلکہ تم نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرلیا ہے جس میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی ذلت اور تحقیر ہے اور جس کی منزل تمہارے لئے دنیا و آخرت کی بدبختی ہے، اس لئے معلوم ہوا کہ تم صحیح معقولات اور راجح آراء سے تہی دامن ہو، جو کچھ واقع ہوا یہ آیت کریمہ اس کا مصداق ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے اہل ایمان نے اس قرآن سے نصیحت پکڑی تو انہیں غلبہ، سر بلندی، عظیم شہرت اور بادشاہوں پر سرداری حاصل ہوئی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر شخص جانتا ہے جیسے اس شخص کے بارے میں معلوم ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے سر بلندی حاصل نہیں کی، اس کی راہنمائی قبول نہیں کی اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک نہ کیا، اس کے نصیب میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی، ذلت و رسوائی، گمنامی اور بدبختی ہے۔ پس دنیا و آخرت کی سعادت تک رسائی صرف اس کتاب عظیم کے ذریعے نصیحت پکڑنے ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
Ayahs 21:11–15

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو سمتگار تھیں ہلاک کرمارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش و آسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ، شاید تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا

آیت 11-15 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنہوں نے دیگر انبیاء ومرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ( وکم قصمنا) اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کردیں۔ یعنی جڑ کاٹنے والے عذاب کے ذریعے سے ( من قریۃ) بستیاں جنہوں نے اپنے انجام کو نظر انداز کیا۔ (وانشانا بعد ھا قوماً اخرین) اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔ جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اسکے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لئے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنے کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر قاؤں پٹختے تھے، تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا۔ (لا ترکضوا وارجعوا الی ما اترفتم فیہ و مسکنکم لعلکم تسئلون) یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم قدرت رکھت ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمہیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو ، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمہارا حال تھا۔ لیکن یہ بہت بعید ہے۔ اب دنیا میں کیسے واپس جایا جاسکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہوگیا، ان کا عزو شرف ختم ہوگیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہوگئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اسی لئے (قالو یویلنا انا کنا ظلمین۔ فما زالت ثلک دعوھم) انہوں نے کہا ہائے افسوس ! ہم ہی ظالم تھے، تو ان کی یہی پکار رہی یعنی وہ پکار پکار کر کہتے رہے کہ ہائے ہم تباہ و برباد ہوگئے انہوں نے ندامت کا اظہار کیا اور اس حقیقت کا اعتراف کیا۔ کہ خود انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ( حتی جعلنھم حصیداً خمدین) یہاں تک کہ کردیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ ( کی طرح) یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑگئیں اور آوازیں ختم ہوگئیں، اس لئے اے لوگوں جن کو مخاطلب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول ﷺ کو جھٹلانے سے بچو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہوجائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
Ayahs 21:16–17

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہو و لعب کے لئے پیدا نہیں کیا

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن و فرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہی ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے

آیت 16-17 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لئے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کی مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا اور بد کو اس کو بدی کی سزا دے۔ (لو اردنا ان نتخذ لھو) ” اگر ہم کھیل تماشے ہی کا ارادہ کرتے “ یعنی بفرض محال اگر یہ تسلیم کرلیا جائے (لا تخذنہ من لدنا) تو ہم اسے بنا لیتے اپنی ہی طرف سے (ان کنا فعلین) اگر ہوتے ہم کرنے والے۔ اور کھیل تماشے کی بابت تمہیں مطلع بھی نہ کرتے کیونکہ یہ نقص اور براوصف ہے، جسے ہم تمہیں دکھانا پسند نہ کرتے۔ یہ زمین و آسمان جو ہمیشہ سے تمہارا سامنے ہیں، ممکن نہیں کہ ان کو عبث اور کھیل تماشے کے مقصد سے پیدا کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ موٹی عقل کے لوگوں کی سطح پر اتر کر کہا گیا ہے تاکہ ان کو ہر لحاظ سے مطمئن کیا جائے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو حلم والی، رحم کرنے والی اور حکمت والی ہے، وہ تمام اشیاء کو ان کے اپنے مقام پر رکھنے میں حکمت سے کام لیتی ہے۔
Ayahs 21:18–20

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اسکا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری خرابی ہے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اسی کے مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کتراتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

آیت 18-20 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہوجاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہوجاتا ہے ( فاذا ھوا زاھق) یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لئے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نفلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کردیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہوجاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا اسقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا (ولکم) اور تمہارے لئے۔ اے لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قرار دینا۔ ان باطل باتوں میں سے تمہارا حصہ اور تمہارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمہارے لئے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمہارے لئے کوئی فائدہ ہے نہ تمہارے لئے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لئے تم کوشاں ہو، البتہ تمہارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمہارے نصیب میں نا کامی اور محرومی ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرسکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جاسکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جاسکتا ہے ؟۔۔۔۔۔۔ بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں۔ بناء بریں فرمایا (ومن عندہ) ” اور جو اس کے پاس ہیں “۔ یعنی فرشتے (لا یستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون) ” وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں۔ “ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں۔ (یسبحون الیل و النھار ولا یفترون) یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تمہید میں مستغرق رہتے ہیں ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کی با وصف سے متصف ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
Ayahs 21:21–25

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ انکو (مرنے کے بعد) اٹھا کھڑا کریں گے ؟

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو (زمین و آسمان) درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرسش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرسش ہوگی

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر معبود بنا لیے ہیں ؟ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں انکی کتابیں بھی ہیں بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے منہ پھیر لیتے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو

آیت 21-25 اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنہوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لئے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ( ھم ینشرون) ” وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکیں گے ؟ “ یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشر و نشر پر قادر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ (الفرقان 52، 3) (یٰسین : 63، 47، 57) پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو ترک کردیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ یہ توفیق سے محرومی، اس بدقسمتی، اس کی جہالت کی فروانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجودکائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لئے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لئے فرمایا ( لوکان فیھا) اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ( الھہ الا اللہ لفسدتا) کئی معبود اللہ کے سوا، تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے “۔ خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہوجاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہوجاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی۔۔۔۔ جیسا کہ نظر آرہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ۔۔۔۔۔ پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہوجاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہوجاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو معبودوں میں سے ایک معبود کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہوگئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد وقہار ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے باہم ممانعت کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ (المومنون : 32، ا 9) ” اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی عبودت میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہوجاتا اور غالب آنے کے لئے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے، جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔ “ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ (بنی اسرائیل : 7 ا، 24، 34) ” کہہ دیجئے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لئے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند وبالا ہے، ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں “۔ اسی لئے فرمایا (فسبحن اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ پاک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ( رب العرش) ” رب ہے عرش کا “۔ وہ عرش و مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لئے اس کا رب ہونا تو بطریق اولیٰ ثابت ہے۔ ( عما یصفون) یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے، ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔ (لا یسئل عما یفعل) ” نہیں پوچھا جائے گا اس سے ( اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے “۔ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بناء پر کوئی اس کے افعال میں، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہوسکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کرسکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ( وھم) یعنی تمام مخلوقات ( یسئلون) یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لئے ہیں، لہٰذا ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہو (ام اتخذو و من دونہ الھۃ قل ھاتوا بھانکم) یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لاسکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں، اس لئے فرمایا ( ھذا ذکر من معی و ذکر من قبلی) یعنی تمام آسمان کتابیں اور شریعتیں، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحبت پر متفق ہیں۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نفلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت وبرہان قائم ہوگئی اس لئے صاف ظاہر ہوگیا کہ ان کے پاس کوئی نہیں دلیل نہیں کیونکہ دلیل وبرہان قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں اور جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آسکتے۔ (بل اکثرھم لا یعلمون) یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے، ورنہ اگر انہوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ( فھم معرضون) پس وہ اعراض کرنے والے ہیں۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے مقتدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلہ کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لئے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے (وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) پس آپ ﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد وحید، اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
Ayahs 21:26–29

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے وہ پاک ہے (اسکے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے اور بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور جو پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اسکے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے (اور) ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

آیت 26-29 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے۔۔۔۔ ان کا برا ہو۔۔۔۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہر زہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہر زہ سرائی سے بلند وبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربویت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انہیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انہیں رذائل سے پاک اور بیشمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں۔ (لا یسبقونہ بالقول) تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پر موؤب اور اللہ تعالیٰ کے کمال و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ( وھم بامرہ یعملون) وہ انہیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انہیں لگاتا ہے وہ اسے سر انجام دیتے ہیں، وہ لمحہ بھر کے لئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے وہ اس کے احاطہ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرہ امر و تدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کرسکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کرسکتے ہیں، اس لئے جب اللہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لئے اور رسول ﷺ کی اتباع میں کیا گیا ہو۔۔۔۔۔ یہ آیت کریمہ شفاعت کے اتبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ (وھم من خشیتہ مشفقون) یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، ان کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان ( فرشتوں) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے بھی ذکر فرما دیا کہ الوہیت میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ (انی الہ من دونہ) کہ میں اللہ کے سوامعبود ہوں “ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ( انی الہ من دونہ) ” کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں “ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ( فذلک نجزیہ جھنم کذلک نجزی الظلمین) تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزا دیتے ہیں “۔ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہوسکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے ؟
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کو جدا جدا کردیا ؟ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟

آیت 30 کیا ان لوگوں نے۔۔۔۔ جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور عبودیت کو اس کے لئے خالص کرنے سے انکار کیا۔۔۔۔ ان نشانیوں کو نہیں دیکھا جو عیاں طور پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رب محمود و کریم اور معبود۔ وہ زمین و آسمان کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ ان کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا پاتے ہیں، آسمان میں کوئی بادل ہوتا ہے نہ بارش، زمین مردہ، بےآب وگیاہ اور بنجر دکھائی دیتی ہے، پھر ہم دونوں کو جدا کردیتے ہیں، آسمان کو پانی کے ذریعے سے اور زمین کو نباتات کے ذریعے سے۔ کیا وہ ہستی جو آسمان پر بادل وجود میں لائی تھی جبکہ آسمان بالکل صاف تھا کہیں بادل کا ٹکڑا نہیں آتات ھا، پھر اس نے اس میں بہت سا پانی ودیعت کیا، پھر وہ ہستی اس بادل کو ایک ایسی مردہ زمین پر لے گئی جہاں پانی کی نایابی کی وجہ سے اس کے کناروں تک خاک اڑتی تھی۔ پس اس نے اس مردہ زمین میں بارش برسائی اور وہ لہلہا اٹھی، حرکت کرنے اور بڑھنے لگی اور اس نے مختلف انواع اور متعدد فوائد کی خوشنما نباتات اگائی۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کی دلیل نہیں کہ صرف وہی حق ہے اور اس کے سوال سب باطل ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، وہی رحمن و رحیم ہے ؟۔ اس لئے فرمایا (افلا یومنون) یعنی کیا وہ صحیح طور پر ایمان نہیں لاتے جس میں کوئی شک ہو نہ شرک۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دلائل آفاقی شمار کرتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 21:31–33

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

آیت 31- یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں کے ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے۔۔۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے، وہ محتاج وضاحت نہیں۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لئے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہوتا کہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہ ہدایت پالیں۔ (وجعلنا السما سقفا) یعنی آسمان کو اس زمین کے لئے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو (محفوظا) یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا (فاطر : 53،۔ ا 4) ” بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں “ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔ (وھم عن ایتھا معرضون) یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہو و لعب میں مبتلا ہے۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لئے عام ہے، مثلاً اس کی بلندی، کشادگی، عظمت اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، مثلاً ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں، مثلاً گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور ان کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لئے زمین میں پھیل جاتے ہیں۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بیناہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کیلئے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کرلیں اور فائدہ اٹھا لیں۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائد ہو کر مضمحل ہوجائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود سے لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس سے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوجائیں گے جہاں انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لئے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

آیت 34-35 رسول اللہ ﷺ کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس رسول ﷺ کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو ! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزر گاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں۔ ( وما جعلنا لمشرمن قبلک الخلد) ” اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ سے پہلے دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی “۔ اگر آپ ﷺ موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپ ﷺ کی طرح دیگر رسول، انبیا اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ (افائن مت فھم الخلدون) یعنی اگر آپ ﷺ وفات پاجائیں گے تو کیا آپ ﷺ کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں ؟ معاملہ اس طرح نہیں ( جس طرح انہوں نے سمجھ رکھا ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی زمین پر ہے اس کی منزل فنا ہے، اس لئے فرمایا ( کل نفس ذائقۃ الموت) ” ہر جان موت کا مزہ چھکنے والی ہے “۔ یہ آیت کریمہ تمام خلائق کے نفوس کو شامل ہے۔ بندے کو خواہ کتنی ہی لمبی مہلت اور کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ دے دی جائے آخر موت کا پیالہ اسے پینا ہی پڑے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کو وجود بخشا، ان کو اوامرو نواہی عطا کئے ان کو خبر و شر، غنا و فقر، عزت و ذلت اور موت وحیات کے ذریعے سے آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ دیکھے کہ فتنے کے مواقع پر کون فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور کون فتنے سے نجات پاتا ہے۔ فرمایا (والینا ترجعون) ” پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤگے “۔ پھر ہم تمہیں تمہارے اعمال کا بدل دیں گے، اگر اچھے اعمال ہیں تو جزا ابھی ہوگی، اگر برے اعمال ہیں تو جزا بھی بری ہوگی۔ (وما ربک بظلام للعبید) (حم السجدۃ ا 4، 64) ” اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا “۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو حضرت خضر (علیہ السلام) کی بقاء کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت خضر (علیہ السلام) ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں، نیز یہ دلائل شرعیہ کے بھی منافی ہے۔