Ayah 21:11 یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ یعنی آخرالزمان کی بعثت ہی اس بات کی علامت ہے کہ زمین میں بنی آدم کی آبادی کا آخری دور ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : میں اور قیامت ایسے ہی جیسے یہ دو انگلیاں (بخاری : کتاب الرقاق، باب بعثت انا والساعہ کھاتین۔۔ ) اس حدیث کے بھی دو مطلب ہیں : ایک یہ کہ جتنی لمبائی شہادت کی انگلی کی ہے۔ یہ حضرت آدم سے لے کر محمد ﷺ تک کا زمانہ ہے اور جتنی وسطی انگلی شہادت کی انگلی سے بڑی ہے یہ مجھ سے لے کر قیامت تک کا زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے تقریباً پانچ حصے عرصہ گزر چکا ہے اور ایک حصہ باقی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ اسی طرح میرے بعد تاقیامت کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ یہ بات بھی قریب قیامت کی علامت ہوئی۔ نیز اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کی موت کا وقت قریب ہے اور موت کے ساتھ ہی ان کا حساب اور جزاء و سزا کام سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اگرچہ یہ حساب اور جزاء و سزا کا سلسلہ قیامت کی نسبت بہت ہلکے پیمانہ پر ہوگا اور اس مطلب پر دلیل آپ کا یہ ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص مرگیا، اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ (مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن۔ باب فی قرب الساعۃ)
Ayah 21:23 نئی نصیحت سے مراد کوئی نئی سورت ہے۔ یعنی جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو اسے سن کر بھی ان سنی کردیتے ہیں۔ دنیا کے کاروبار اور مشاغل میں ایسے منہمک ہیں کہ ان آیات الٰہی میں غور کرنے کی نہ انھیں فرصت ملتی ہے اور نہ اس کی ضرورت یا اہمیت سمجھتے ہیں۔ پس اپنے دنیا کے دھندوں میں ہی مست رہتے ہیں۔
Ayah 21:34 قریش مکہ قرآن کی دعوت کے شدید مخالف تھے لیکن اس کے انداز بیان، فصاحت و بلاغت اور جادو کی سی تاثیر کے وہ خود بھی معترف تھے اور قرآن کو اسی لحاظ سے جادو کہتے تھے اور اس جادو کو روکنے کا طریقہ ابتداًء انہوں نے یہ اختیار کرلیا تھا کہ سب قریشی سرداروں نے مل کر یہ معاہدہ کیا کہ جہاں تک ہوسکے قرآن کے سننے اور پڑھنے پر پابندی لگا دی جائے۔ سننے پر پابندی تو انہوں نے اپنے آپ پر لگائی تھی مگر یہ قریشی سردار خود بھی اس پابندی کو نباہ نہ سکے اور خود بھی چوری چھپے قرآن سن لیتے تھے کیونکہ ان کے دل اور ان کے کام قرآن کی لذت سے محظوظ ہونا چاہتے تھے۔ چناچہ ایک دفعہ تین سردار رات کے وقت کعبہ کے گرد کھڑے ہو کر آپ کا قرآن سن رہے تھے۔ بعد میں یہ راز فاش ہوگیا تو ان میں سے ایک سردار نے ابو جہل سے پوچھا کہ جو قرآن تم نے سنا ہے اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے اس سوال کا صحیح جواب دینے کے بجائے رخ کو دوسرا طرف موڑ دیا اور کہا کہ ہم اور بنی عبدمناف سب باتوں میں ایک دوسرے کے ہم پلہ تھے، اب ہم ان کے نبی کو تسلیم کرکے ان کی اس برتری کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں ( ابن ہشام : ص 108) ابو جہل کے اس جواب سے دو باتوں کا صاف طور پر پتا چلتا ہے۔ ایک یہ کہ سب قریشی سردار قرآن کی تاثیر سے متاثر تھے اور دوسری یہ بات کہ آپ کی نبوت کو تسلیم کرنے میں صرف یہ بات آڑے نہیں آرہی تھی کہ آپ بشر تھے بلکہ اس کی اور بھی کئی وجوہ تھیں۔
اور قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے پر پابندی ان لوگوں نے مسلمان پر لگا رکھی تھی۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ تھا کہ قرآن سن کر ان کی عورتیں اور ان کے بچے متاثر ہوجاتے ہیں اور یہ پابندی مسلمانوں پر ہجرت نبوی تک قائم رہی۔ علاوہ ازیں ایک تدبیر انہوں نے یہ اختیار کی تھی کہ جب کہیں قرآن پڑھا جارہا ہو تو وہاں خوب شوروغل مچاؤ تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے۔ یہ تھے وہ طریقے جو انہوں نے اس جادو کے شر سے بچنے کے لئے اختیار کئے تھے۔
Ayah 21:45 ایسی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ان کے درمیان جو خفیہ مجلس منعقد ہوتی اور سازشیں تیار ہوتی تھیں۔ وہ طشت از بان تو ہو ہی جاتی تھیں۔ آپ نے ان سب باتوں کے جواب صرف اتنا ہی کہا کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی رازداری سے کی جائے، میرا پروردگار اس سے پوری طرف واقف ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری ان ساری سرگرمیوں کے باوجود اللہ اپنے دین کی دعوت کے کام کو آتے بڑھاتا رہے گا اور تمہاری کوئی تجویز کارگر نہ ہونے پائے گی۔
Ayahs 21:5–76 اصل بات یہ ہے کہ آپ کی مخالفت کی حد تک سارے قریشی سردار متفق تھے لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ کو کہیں تو کیا کہیں۔ جادوگر کہیں، آسیب شدہ کہیں، کاہن کہیں یا شاعر کہیں۔ لوگوں کو کیا کہہ کر اس ( محمد ﷺ سے باز رکھیں۔ چناچہ اسی غرض کے لئے قریشی سردار والید بن مغیرہ کے پاس گئے جو ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ میں آئی تھی۔ سوال یہ سامنے آیا کہ اس نبی کی دعوت کو کیونکر غیر موثر بنایا جاسکتا ہے تاکہ باہر سے آنے والے حجاج اس شخص کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ ولید بن مغیرہ سمجھدار آدمی تھی۔ بولا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو
ایک شخص نے کہا : ہم کہیں گے کہ یہ شخص کاہن ہے ولید کہنے لگا : واللہ ! یہ شخص کاہن نہیں۔ اس کے کلام میں نہ کاہنوں جیسی گنگناہٹ ہے، نہ قاغیہ نہ کوئی اور تک بندی، وہ کاہن کیسے ہوسکتا ہے ؟
دوسرے نے کہا : ہم کہیں گے وہ دیوانہ ہے ولید کہنے لگا، بخدا وہ پاگل بھی نہیں۔ ہم نے پاگلوں کو بھی دیکھا ہے۔ اس کے اندر نہ پاگلوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ان جیسی بہکی بہلی باتیں ہیں
تیسرے نے کہا : ہم کیں گے وہ شاعر ہے ولید کہنے لگا، وہ شاعر بھی نہیں۔ ہمیں رجز، حجز، قریض، مقبوض، مبسوط سارے ہی اصناف سخن معلوم ہیں۔ اس کی بات بہرحال شعر نہیں ہے
چوتھے نے کہا : ہم کہیں گے کہ وہ جادوگر ہے ولید نے کہا، وہ جادوگر بھی نہیں۔ یہ شخص نہ تو کی طرح جھاڑ پھونک کرتا ہے اور نہ گرہ لگاتا ہے
تب لوگوں نے جھنجھلا کر کہا : پھر تم ہی اپنی بےداغ رائے پیش کرو وہ کہنے لگا۔ مجھے ذرا سوچ لینے دو ۔ بڑی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنی رائے پیش کی کہ تم لوگ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص ایسا کلام پیش کرتا ہے جو ایسا جادو ہے جس سے بھائی بھائی سے، باپ بیٹے سے، شوہر بیوی سے جدا ہوجاتا ہے۔ اور کنبے، قبیلے میں پھوٹ پڑجاتی ہے چناچہ اس تجویز پر متفق ہو کر سب لوگ رخصت ہوگئے۔
چناچہ اس تجویز پر عمل درآمد کے لئے قریش نے ایک گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کا سربراہ ابو لہب تھا۔ جہاں کہیں رسول اللہ ﷺ تبلیغ کے لئے پہنچتے، وہاں ابو لہب بھی پیچھے پیچھے پہنچ جاتا اور کہتا : لوگو ! اس شخص کی بات پر کان نہ دھرنا، یہ بےدین ہے اور ایسا کلام پیش کرتا ہے جس سے کنبے قبیلے میں دشمنی پڑجاتی ہے۔ ان لوگوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا نتیجہ ان کے خواہش کے بالکل برعکس نکلا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کا نام ان کے ذریعہ عرب کے گوشے گوشے میں پہنچ گیا اور لوگوں میں جستجو پیدا ہوگئی کہ آخر ایسے شخص کی بات تو ضرور سننا چاہئے۔ اس طرح دشمنوں نے وہ کام تھوڑے ہی عرصہ میں کرکے دکھلا دیا جو مسلمان شائد مدت تک نہ کرسکتے۔ کافروں کی ایسی معاندانہ سرگرمیوں سے ہی اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے خیر کا پہلو پیدا کردیا۔
ابو لہب کے علاوہ ایک دوسرا شخص نضر بن حارث تھا جس کا طریق کار ابو لہب سے بالکل جداگانہ تھا۔ ایک دفعہ وہ سرداران قریش سے کہنے لگا : اے قریشیو ! محمد ﷺ تمہارے سب سے زیادہ پسندیدہ، سچے اور امانت دار آدمی تھے، اب اگر وہ اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں تو تم کبھی انھیں شاعر کہتے ہو، کبھی کاہن، کبھی پاگل اور کبھی جادوگر کہتے ہو۔ حالانکہ وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن ہے، نہ پاگل ہے اور نہ جادوگر ہے۔ کیونکہ ہم ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔ اے اہل قریش ! سوچو، تم پر یہ کیسی افتاد آپڑی ہے پھر اس افتاد کا حل جو نضر بن حارث نے سوچا وہ یہ تھا کہ خود حیرہ گیا۔ وہاں سے بادشاہوں کے حالات اور ستم و اسفندیار کے قصے سیکھے۔ پھر یہ بھی ابو لہب کی طرح ہر اس مقام پر جا پہنچتا۔ جہاں پیغمبراسلام تبلیغ کے لئے جاتے۔ وہاں پہنچ کر یہ اپنے قصے سنا کر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد کا کلام مجھ سے بہتر ہے ؟ اس کی سرگرمیوں کا بھی وہی اثر ہوا جو ابو لہب کی سرگرمیوں کا ہوا تھا۔
7 یعنی وہ معجزہ کا مطالبہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے وہ ایمان لانے کو بالکل تیار بیٹھے ہیں بس صرف ایک معجزہ دیکھنے کی ہی کسر باقی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اقوام سابقہ کی ہلاکت کا سبب ہی یہ بنا تھا کہ انہوں نے معجزہ کا مطالبہ کیا۔ جو انھیں دیا گیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے ؟ یہ بھی سابقہ اقوام کی طرح اپنی ہلاکت کے درپے ہوچکے ہیں ؟
Ayah 21:88 اب کفار مکہ کے ایک بنیادی اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ یہ نبی ہم ہی جیسا ایک بشر ہے۔ سب بشری کمزوریاں اور بشری تقاضے اس میں بھی موجود ہیں جو ہم میں ہیں۔ وہ ہماری طرح ہی کھانے پینے اور چلنے پھرنے کا محتاج ہے اور ہماری طرح نکاح شادیاں بھی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اسے نہ تو کوئی دنیی جاہ چشم میسر ہے اور نہ ہی کوئی فرشتہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ان سب باتوں کا انھیں جواب یہ دیا گیا کہ تم لوگ جو اہل کتاب سے پوچھ پوچھ کر اس نبی سے کئی طرح کے سوال اور کئی طرح کے اعتراض کرتے ہو تو ایک سوال یہ بھی پوچھ لو کہ آیا موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے یا نہیں ؟ ان کے جواب سے تمہیں تسلی ہوجائے گی کہ موسیٰ (علیہ السلام) خود بھی اور ان کے علاوہ دوسرے تمام انبیاء بھی سب کے سب بشر ہی تھے۔ سب بشری تقاضے ان کے ساتھ بھی لگے ہوئے تھے۔ کھانے پینے کے علاوہ وہ سب کے سب موت سے بھی دوچار ہوئے اور آج ان میں سے کوئی بھی زندہ موجود نہیں ہے۔ (نیز دیکھئے سورة نحل کا حاشیہ 44۔ الف)
Ayah 21:99 البتہ یہ بات ہر نبی سے پیش آتی رہی کہ اس کی دعوت پر کچھ لوگوں نے لبیک کہی اور زیادہ قرآن کے مخالف بن گئے۔ پھر ہم نے اپنے انبیاء اور مومنوں سے فتح و نصرت کے جو وعدے کئے تھے وہ سب پورے کردیئے اور ایسے لوگوں کو ہم نے بروقت اپنے عذاب سے بچا بھی لیا تھا۔ لیکن جن لوگوں نے سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ ان سب کو ہلاک کر ڈالا تھا۔ یہ بات بھی تم اے قریش مکہ ! ان اہل کتاب سے پوچھ سکتے ہو۔
Ayah 21:1010 یعنی اس میں کوئی نرالی داستانیں اور عجیب و غریب ملک کے حالات نہیں ہیں بلکہ تم ہی جیسے لوگوں کے حالات مذکور ہیں۔ تمہارا اپنا ہی حال بیان کیا گیا ہے۔ تمہارے ہی نفسیات اور تمہارے ہی معاملات زندگی زیربحث ہیں۔ تمہاری ہی فطرت اور ساخت، آغاز اور انجام پر گفتگو ہے۔ تمہارے ہی اخلاقی اوصاف میں سے اچھے اور برے اخلاق کے فرق کو نمایاں کرکے دکھایا جارہا ہے اس کتاب میں کوئی ایسی چیز نہیں جسے سمجھنے سے تمہاری عقل عاجز ہو۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے کہ اگر تم کچھ بھی غور و فکر کرو تو اس میں تمہارے لئے نصیحت اور تمہارا بھلا ہی بھلا ہے۔
Ayahs 21:11–1211 یعنی یہ نہیں ہوا تھا کہ ظالم قوموں کو بلاک کرنے کے بعد یہ زمین بےآباد اور ویران رہ گئی تھی۔ جبکہ اس زمین کو ہم نے فوراً دوسرے لوگو لاکر آباد کردیا تھا اور اس کا اگر کچھ نقصان پہنچتا تھا تو صرف ظالموں ہی کو پہنچا تھا۔
Ayahs 21:13–1412 یعنی اب اپنی مجالس کی مسندوں پر کیوں براجمان نہیں ہوتے۔ تاکہ لوگ آپ کے سامنے اپنی درخواستیں پیش کریں۔ اپنے مسائل حل کروائیں۔ آپ سے مشورے کریں۔ آپ کی رائے پوچھیں۔ اب کہاں جاتے ہو یہیں بیٹھو اور کچھ نہیں تو کم از کم بعد میں آنے والوں کو یہی بتلا دینا کہ تم پر عذاب الٰہی کیسے آیا تھا ؟ اور کس کس قسم کے حالات پیش آئے تھے۔
Ayah 21:1513 اللہ کے نافرمان اور سرکش لوگوں کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ ڈنڈے کے بغیر سیدھے نہیں ہوتے۔ ان پر جب عذاب الٰہی آجاتا ہے اور موت اپنے سامنے کھڑی دیکھتے ہیں۔ تو اس وقت اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرنے لگتے ہیں اور ایمان بھی لانے پر فوراً تیار ہوجاتے ہیں۔ مگر جس طرح عذاب الٰہی یک دم نہیں آن پڑتا اور اس کے آنے کے لئے تدریج و امسال کا قانون مقرر ہے اس طرح اس کے لئے ایک قانون یہ ہے کہ جب آجائے تو پھر واقع ہو کے رہتا ہے پھر ٹل نہیں سکتا اور اس قوم کا صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹا دیا جاتا ہے۔
Ayahs 21:16–1714 دنیا دار اور اللہ کی یاد سے غافل انسان ہمیشہ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ یہ دنیا بس ایک کھیل تماشا ہے۔ ہم یہاں عیش و عشرت کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے یہاں ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ جتنی عیش و عشرت اپنے لئے مہیا کرسکتا ہے اور جس طرح کرسکتا ہے، کرلے۔ گویا دنیا دار لوگوں کا منتہائے مقصود ہی یہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے بھی دنیا کو متعدد مقامات پر کھیل تماشا قرار دیا ہے مگر یہ بات صرف اس پہلو سے کہ یہ چند روزہ دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایک کھیل تماشا کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ تھوڑی مدت بعد فنا ہوجانے والی ہے اور آخرت کی زندگی دائمی اور پائیدار ہے لہذا تمہیں اپنی تمام تر توجہ دنیا پر مرکوز کرنے کے بجائے آخرت پر مرکوز کرنا چاہئے۔ یہاں اس مقام پر صرف دنیا کی زندگی پر نہیں بلکہ کائنات کے پورے نظام کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ یہ کچھ کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ جس میں اس دنیا کی زندگی بھی شامل ہے جو زمین و آسمان ہی کے سہارے قائم ہے۔ اور انسان کی تمام ضروریات زمین، ہوا، سورج اور بادلوں وغیرہ سے وابستہ ہیں۔ سمین میں اشرف المخلوقات یعنی انسان کو پیدا کیا تو صرف اس لئے نہیں کہ وہ اسے کھیل تماشا سمجھتے ہوئے جیسے چاہے یہاں زندگی گزار کر یہیں سے رخصت ہوجائے اور اس سے کچھ مواخذہ نہ ہو۔ خالق کائنات بسی یہی تماشا دیکھتا رہے کہ اس دنیا میں لوگ کیسے ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں اور وہ بس دیکھ کر اسے محض تفریح طبع کا ہی سامان سمجھتا رہے۔ جیسا کہ رومی اکھاڑے میں ہوتا تھا کہ انسانوں کا درندوں سے مقابلہ کرایا جاتا تھا اور درندے جس انداز سے انسانوں کو پھاڑ کھاتے تھے۔ بادشاہ اور اس کے درباری یہ منظر دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ اور یہ ان کی تفریح طبع کا سامان تھا۔ ایسی بات ہرگز نہیں۔ اگر اللہ کو محض تفریح طبع ہی منظور ہوتی تو اس کے کئی اور بھی طریقے ہوسکتے تھے جن میں ظلم و جور کا نام و نشان تک نہ ہوتا نہ ہی انسان جیسی کوئی ذی شعور اور صاحب ارادہ و اختیار کوئی مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔
Ayah 21:1815 بلکہ تخلیق کائنات کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہاں میدان کار زار گرم ہو۔ حق و باطل کا معرکہ جاری رہے۔ حق باطل پر حملہ آور ہو اور اس کا کچھومر نکال کر بھاگنے پر مجبور کردے۔ پھر جن لوگوں نے حق کا ساتھ دیا ہو۔ اللہ انھیں اپنے انعامات سے نوازے اور اہل باطل کو تباہ و برباد کردے۔
یہاں ایک اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ باطل قوتیں ہی غالب نظر آتی ہیں اور حق دبا رہتا ہے۔ انبیاء یا بعض دوسرے مصلحین آتے ہیں حق و باطل کا معرکہ ہوتا ہے اور حق غالب آجاتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد پھر باطل سر نکال لیتا ہے اور حق دب جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حق کی راہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی وحدانیت اور اس کائنات پر صرف اسی کا مکمل اقتدار و اختیار۔ جبکہ باطل کا راہیں لاتعداد ہیں۔ وہ اپنے روپ کو بدلتی رہتی ہیں اور اپنے الٰہ بھی۔ حق آتا ہے تو باطل کی راہوں کو مٹا دیتا ہے پھر باطل کسی نئے روپ میں ازسر نو جنم لیتا ہے۔ کبھی الٰہ بتوں کو ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی شمس و قمر کو، کبھی ستاروں کو، کبھی فرشتوں کو، کبھی جنوں کو، کبھی انسانوں کو، کبھی ان کے آستانوں اور مزاروں کو اور کبھی شجر و حجر وغیرہ کو۔ تو یہ سب راہیں حق کے مقابلہ میں مغلوب ہی رہی ہیں اور اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک حق کی راہ ایک ہی رہی ہے اور موجود رہی ہے۔ آج بھی موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گی۔ توحید کے پرستار قیامت تک موجود رہیں گے۔ خواہ ان کی تعداد کتنی ہی تھوڑی ہو۔ جبکہ باطل کے تمام راستے ہمیشہ سے بگڑتے اور حق سے زک ہی اٹھاتے رہے ہیں۔ اور حق اکثر اوقات میں دبا رہنے کے باوجود بھی قائم اور برقرار رہتا ہے۔ گویا جن کو جو استقلال میسر ہے وہ باطل کو کبھی نصیب نہیں ہوتا۔
Ayahs 21:19–2016 یعنی فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے۔ جو ہر آں اللہ کی تسبیح و تمحید میں مشغول رہتے ہیں اور وہ اللہ کی بندگی کو ناگوار سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ نہایت خوشدلی سے بجا لاتے ہیں۔ قرآن نے یہاں یستحسرون کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور استحسار ایسی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کو کہتے ہیں جو کسی ناگوار کام کے کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ اور ان کی یہ تسبیح بالکل ایسے ہی بلاوقفہ ہوتی ہے جیسے انسان مسلسل سانس لیتا ہے اور اس میں کبھی وقفہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا انسان کی تخلیق سے مقصود محض اپنی عبادت ہی ہوتی تو فرشتے یہ کام بطریق احسن بجا لارہے تھے۔ لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ یہاں حق و باطل کا معرکہ بپا ہو اور وہ انسان کو پیدا کرنے اور اسے عقل اور قوت ارادہ و اختیار رہنے سے ہی ہوسکتا تھا اور انسانوں کی آزمائش اسی طرح ہوسکتی تھی۔
Ayah 21:2117 یَنْشُرُوْنَ کا مطلب ہے کسی بےجان چیز میں روح پھونک کر اسے زندہ کرنا، جلا دینا، اس لحاظ سے اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو ترجمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ آیا ان کے معبودوں میں یہ طاقت ہے کہ جب وہ عذاب الٰہی سے ہلاک ہوجائیں تو ان کے معبود انھیں دوبارہ زندہ کردکھائیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کیا ان میں یہ طاقت ہے کہ وہ کسی بھی مادہ اور بےجان چیز میں روح پھونک کر اسے زندہ بنادیں۔ اور اگر وہ یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر وہ الٰہ کیسے بن سکتے ہیں ؟
Ayah 21:2218 بڑی موٹی سی بات ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ ایک اقلیم کے دو فرمانروا نہیں ہوسکتے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی ادارہ اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کا کرتا دھرتا صرف ایک شخص نہ ہو۔ جبکہ ایک گھر تک کا بھی انتظام اس وقت تک چل نہیں سکتا جب تک کہ سربراہ ایک نہ ہو۔ اور اگر میاں بیوی میں بھی اقتدار کی جنگ ہو تو اس کا نظام بھی تباہ و برباد ہوجائے گا۔ پھر اس عظیم کارخانہ کائنات کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے سربراہ ایک سے زیادہ ہوں ؟ چونکہ یہ ایسی عام مثال ہے جس سے ہر شخص کو سابقہ پڑتا ہے۔ لہذا اس کے مختلف پہلوؤں پر ہر شخص خود بھی غور کرسکتا ہے یہاں تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے۔ جاہل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ایک بادشاہ نے اپنے تحت بیشمار امیر وزیر رکھے ہوتے ہیں۔ جو تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرتے ہیں اور وہ اس کے محکوم ہی ہوتے ہیں۔ اس کے برابر کی چوٹ نہیں ہوتے یہی صورت ہمارے معبودوں کی ہے۔ اللہ نے کچھ برگزیدہ ہستیوں کو کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ جو اس کے محکوم اور اس کے بندے ہی ہیں۔ تاہم اللہ نے انھیں بھی کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ اس دلیل میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی معرفت کو سمجھا ہی نہیں۔ بادشاہ ایک عاجز مخلوق ہے۔ وہ خود نہ ہر ایک کی فریاد سن سکتا ہے اور نہ سالمیت کا انتظام چلا سکتا ہے۔ اسے مددگاروں کی احتیاج ہے، ان کے بغیر اس کا کام چل ہی نہیں سکتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ اسے کسی طرح کے مددگاروں کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر ایک کی فرید خود سنتا ہے اور قبول کرتا ہے اور سارے نظام کائنات کو خود ہی چلا رہا ہے اور ان کاموں کے لئے اسے کسی کی۔۔ احتیاج نہیں ہے اور جو فرشتے مدبرات امر ہیں۔ انھیں بھی کچھ اختیارات تفویض نہیں کئے گئے بلکہ وہ اللہ ہی کے حکم کے پابند اور اس حکم کے سامنے مجبور و بےبس ہوتے ہیں۔
Ayah 21:2319 یعنی اللہ تعالیٰ اس کائنات کا ایسا مطلق العنان اور مختار کل فرمانروا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی کرے کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔ جبکہ اس کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اور الٰہ وہی ذات ہوسکتی ہے۔ جس میں یہ صفت بدرجہ اتم پائی جاتی ہو۔ یعنی وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ اور جس سے باز پرس ہوسکتی ہے وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 21:2420 پہلے دو دلائل عقلی تھے جو اثبات توحید اور شرک کے ابکال پر پیش کئے گئے تھے۔ اب نقلی دلیل کا ذکر کیا کہ ان سے پوچھو کہ ان معبودوں کے جواز پر تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے ؟ اگر ہے تو لاؤ دکھاؤ۔ یہ قرآن بھی موجود ہے۔ جو میرے دور کے لوگوں اور میرے بعد آنے والوں کے لئے الہامی کتاب ہے اور تورات و انجیل بھی موجود ہے جو مجھ سے پہلے کے لوگوں کے لئے راہ ہدایت تھے۔ ان میں سے کسی میں بھی یہ بات لکھی ہوئی دکھلا دو کہ اللہ نے فلاں فلاں کو فلاں فلاں اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ کیونکہ قاعدہ ہے کہ کوئی فرمانروا اگر اپنے لئے کوئی نائب یا مددگار یا امیر وزیر مقرر کرتا ہے تو ان کا ریکارڈ بھی اس کے پاس موجود ہوتا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اتنی جاہل ہے کہ ان باتوں کی طرف غور ہی نہیں کرتی۔ بس تقلید اتباء کی گھسی پٹی راہ پر اندھا دھند بھاگے جارہے ہے۔
Ayah 21:2521 مشرکوں سے ایسی دلیل کے مطالبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ وضاحت فرما دی کہ میں نے تو جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتا رہا کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر ان منزل من اللہ کتابوں میں کوئی ایسی بات نکل بھی کیسے سکتی ہے جس میں شرک کے لئے جواز کی سند موجود ہو ؟ اور اتفاق کی بات ہے کہ سابقہ الہامی کتب میں اگرچہ بہت سی تحریف ہوچکی ہے پھر بھی وہ توحید ہی کے دلائل مہیا کرتی ہیں ان میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی جس سے شرک کی تائید ہوسکے۔
Ayahs 21:26–2722 یہ خطاب صرف مشرکین مکہ کو ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ کیونکہ آگے اسی بات کی وضاحت آرہی ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے دست بستہ غلام ہیں اور معزز اس لحاظ سے ہیں کہ ہر وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ باادب اتنے ہیں کہ اللہ کے حضور کوئی بات ہی نہیں کرتے بس صرف حکم کے منتظر رہتے ہیں۔ اور جب انھیں کوئی حکم دیا جاتا ہے تو فوراً اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayah 21:2823 مشرکین مکہ دو وجوہ سے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ دوسرے اس لئے کہ وہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اور اللہ کے حضور ہمارے قرب کا ذریعہ ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ سفارشی نہیں کریں گے کیونکہ کتاب و سنت کی رو سے انبیاو و صالحین فرشتوں اور خود قرآن کا سفارش کرنا ثابت ہے۔ بلکہ یوں فرمایا کہ وہ سفارش صرف اس کے حق میں کرسکتیں گے جس کے حق میں سفارش اللہ کو منظور ہو اور اس کی وجہ یہ بتلائی کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں ہے۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ جس کے حق میں وہ سفارش کر رہے ہیں اس کے اعمال کی کیا صورت اور کیفیت ہے اور یہ حالات صرف اللہ ہی کو معلوم ہیں۔ اس لئے سفارش صرف انہی کے حق میں کرسکیں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور وہ اللہ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں پھر اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کیسے کرسکیں گے۔ اب اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسے سفارش کی اجازت ملے گی بھی یا نہیں۔ پھر بالخصوص فلاں شخص کے حق میں ملے گی یا نہیں تو پھر ایسے بےاختیار شفیع اس بات کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں کہ ان کے آگے سر نیاز خم کیا جائے اور اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے ان کے آگے دست سوال دراز کیا جائے یا انھیں پکارا جائے۔
Ayah 21:2924 ان سب باتوں کے باوجود اگر کوئی شخص بالفرض اپنی خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ جیسا کہ فرعون اور نمرود جیسے کئی سرکش انسانوں نے کیا تھا تو یہ ان کا اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے اور وہ دوہرے تہرے مجرم ہیں۔ ان ظالموں کو ہم جہنم میں پھینک دیں گے اور ان کے جرائم کے مطابق انھیں قرار واقعی سزا دیں گے۔
Ayah 21:3025 اس آیت میں رتق اور فتق کے الفاظ استمعال ہوئے ہیں۔ اور یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ رتق کے معنی دو چیزوں یا کئی چیزوں کا مل کر جڑ جانا اور چیدہ ہوتا ہے اور فتق کے معنی ایسی گڈ مڈ شدہ اور جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کردیتا ہے۔ اس آیت میں کائنات کا نقطہ آغاز بیان کیا گیا ہے کہ ابتداء صرف ایک گڈ مڈ اور کئی چیزوں سے مخلوط مادہ تھا۔ اسی کو کھول کر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور دوسرے اجرام فلکی کو پیدا فرمایا۔
26 ہر وہ چیز جس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہوں اس کی زندگی کا سبب پانی ہی ہوتی ہے اور اس میں نباتات، حیوانات سب شامل ہیں۔ اور ایسی تمام اشیاء پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے جیسے فرمایا : (وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَاۗبَّةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي بَطْنِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي رِجْلَيْنِ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰٓي اَرْبَعٍ ۭ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 45) 24 ۔ النور :45) اس لحاظ سے اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہر چیز کی پیدائش میں پانی کی موجودگی ضروری ہے اگرچہ یہ غالب عنصر کے طور پر نہ ہو۔ جیسے انسان کی پیدائش میں غالب عنصر مٹی ہے اور جنوں کی پیدائش میں آگ۔ اور اس کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات میں پانی کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ جیسا کہ کتاب و سنت میں یہ صراحت میں ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب صرف پانی ہی پانی تھا اور اس پر اللہ کا عرش تھا اور پانی کے علاوہ کوئی دوسری چیز موجود نہ تھی۔ پھر ہر طرح کی تخلیق کا آغاز پانی سے ہی ہوا۔ حتیٰ کہ جمادات میں بھی پانی کا کچھ نہ کچھ حصہ موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ جڑی ہوئی ہے اگر اس سے پانی کو ختم کردیا جائے تو وہ چیز ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔
Ayah 21:3127 اس جملہ کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة نحل کی آیت نمبر 15 کا حاشیہ۔
28 یعنی پہاڑ پیدا کئے۔ پھر ان میں وادیاں اور ندی نالے بن گئے۔ انھیں ندی نالوں سے نشیب و فراز کو معلوم کرکے انسان کو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ تک پہنچنے کے لئے راستوں کی نشاندہی ہوتی گئی۔ پھر اس زمین میں اور کئی طرح کی علامات پیدا کردیں۔ کہیں گھاٹیاں ہیں، کہیں چھوٹے پہاڑ، کہیں درے، کہیں بڑے بڑے پہاڑ اور ندی نالے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کی ساخت بھی ایسی بنادی ہے کہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ تک پہنچنے کی راہ بن جاتی ہے یا بنائی جاسکتی ہے۔
29 اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک تو واضح ہے کہ زمین میں چلنے پھرنے کے لئے راہ پالیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ان نشانیوں میں غور و فکر کرکے اللہ کی معرفت اور حقیقت حال معلوم کرسکیں۔
Ayah 21:3230 یعنی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایسی بیشمار نشانیاں موجود ہیں جن میں غور کرنے سے باسانی انسان اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ان اشیاء کو پیدا کرنے والی اور ان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے والی ضرور کوئی نہ کوئی ہستی موجود ہے جو اتنی بااختیار، علیم اور مقتدر ہے کہ ان تمام اشیاء پر کنٹرول کر رہی ہے اور وہ ایک ہی ہوسکتی ہے اور یہ لوگ جو کسی نئی نشانی یا کسی نئے معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے اگر وہ توجہ دیتے تو پھر انھیں کسی معجزہ کے مطالبہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
Ayah 21:3331 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نام تو دو سیاروں سورج اور چاند کا لیا اور بعد میں فرمایا سب (اپنے اپنے) فلک میں تیر رہے ہیں۔ جس سے بہت سے حقائق کا پتہ چلتا ہے۔
(1) سبح کے معنی پانی یا فضا میں تیرنا یا تیز رفتاری سے گزر جانا ہے۔ گویا سیارے فضا یا خلا میں تیز رفتاری سے گردش کر رہے ہیں۔
(2) سورج اور چاند کے علاوہ بھی جتنے سیارے ہیں وہ سب کے سب محو گردش ہیں۔
(3) چاند کی طرح سورج ہی یقیناً محو گردش ہے۔ یہاں ایک نہایت اہم سوال سامنے آتا ہے۔ جو یہ ہے کہ آیا ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے یا سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں آج تک چار مختلف نظریات پیش آچکے ہیں۔ ابتدائی نظریہ یہی تھا کہ ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ جیسا کہ بظاہر سب کو نظر آتا ہے۔ تقریباً ساڑھے پانچ سو سال قبل مسیح میں یونان کے ایک فلاسفر اور ہیئت دان نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور ہماری زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ نیز ہماری زمین کے علاوہ اور بھی بہت سے سیارے ہیں۔ جو سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ بعد ازاں چوتھی صدی قبل مسیح میں بطلیموس فلاسفر علم ہیئت کے متعلق وہی پہلا نظریہ پیش کیا کہ حقیقت میں ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ بطلیموس علم ہندسہ ہیئت اور نجوم میں استاد وقت اور یکتائے روزگار تھا۔ اس نے اجرام فلکی کی تحقیق کے لئے ایک رصد گاہ کی بھی تیار کی تھی۔ علم ہیئت پر اس کی کتاب مجسطی نہایت معتبر سمجھی جاتی ہے۔ یہ تیسرا بطلیموسی نظریہ اپنے تمام معتقدات سمیت تقریباً 1800 سو سال تک دنیا بھر میں مشہور و مقبول رہا۔ بالآخر یورپ کے ایک ہیئت دان کو ہرنیکس (1473۔ 1543 ئ) نے سولہویں صدی کے آغاز میں یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے اور ہماری زمین اپنے محور کے گرد بھی گھومتی ہے اور سورج کے گرد بھی سال بھر میں ایک چکر لگاتی ہے۔ لیکن کو ہرنیکس کے بعد ایک دوسرے ہیئت دان ٹیکو براہی نے کو ہرنیکس کے نظریے کو رد کردیا اور تھوڑی سی ترمیم کے بعد بطلیموسی نظریہ کو ہی صحیح قرار دیا۔ جس میں زمین کو ساکن قرار دیا گیا ہے اور سورج اور دوسرے تمام سیارے اس کے گرد حرکت کر رہے ہیں۔ بعد ازاں اٹلی کے ایک ہیئت دان گیلیلیو نے ایک دوسرے ہیئت دان جنسی (ہالھینڈ) کی مدد سے کئی قسم کی دوربینیں تیار کرکے اجرام فلی کا مشاہدہ کیا تو کو ہرنیکس کے نظریہ کو بہت درست پایا۔ جو اس بارے میں چوتھا نظریہ تھا۔ بعد ازاں کئی ہیئت دانوں نے اس نظریہ کی تائید کی اور آج کے دور میں یہی نظریہ رائج اور درست سمجھا جارہا ہے۔ یہ کہ سورج ساکن ہے اور نو ستارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں اور یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ ہمارا سورج اپنے پورے خاندان (نظام شمسی) سمیت اپنے سے کسی بڑے سورج کے گرد گھوم رہا ہو۔
زمین کی گردش کے متعلق ہمیں کتاب و سنت میں کوئی صراحت نہیں ملتی کہ آیا وہ ساکن ہے یا متحرک ؟ البتہ دلالہ~ن~ یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ زمین بھی ایک سیارہ ہے اور گول ہے لہذا وہ بھی کل کے حکم میں داخل ہو اور حرکت کر رہی ہو۔ البتہ سورج کے متعلق کتاب و سنت میں بالصراحت مذکور ہے کہ وہ حرکت کر رہا ہے اور اس حرکت سے مراد محض محوری گردش ہی نہیں۔ بلکہ جریان یا سبح کے الفاظ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرنا اور کرتے جانا مراد ہے۔ گویا موجودہ ہیئت دانوں کا احتمال محض احتمال نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ سورج بمعہ اپنے خاندان اپنے سے کسی بڑے سورج (یعنی شمس الشموس یا ثافت الثوایت) کے گرد گھوم رہا ہے۔
(4) اس آیت میں فلک کا استعمال ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ گو اردو زبان میں آسمان ہی کرلیا جاتا ہے تاہم اس سے مراد وہ سات آسمان نہیں جن کی تعداد کتاب و سنت میں (سبع سماوات) بتلائی گئی ہے۔ بلکہ اس سے مراد سیاروں کے مدار (Orbits) یا وہ راستے ہیں جن پر وہ گھوم رہے ہیں۔ بطلیموسی نظریہ کے مطابق سیارے سات تھے اور افلاک بھی سات ہی تھے۔ پہلے فلک پر چاند دوسرے پر عطارد، تیسرے پر زہر، چوتھے پر سورج، پانچویں پر مریخ، چھٹے پر مشتری اور ساتویں پر زحل ہے۔ ان سات افلاک کو سات سیاروں سے منسوب کیا گیا ہے۔ پھر ان کے اوپر آٹھواں فلک ہے جو کس فلک ہشتم، فلک ثوابت اور فلک البروج بھی کہتے ہیں۔ اس آٹھویں فلک کے دائرہ کو 12 حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصہ کو ایک برج قرار دیا ہے۔
5۔ بطلیموسی نظریہ کے مطابق صرف سیارے ہی محو گردش نہیں بلکہ یہ افلاک بھی گردش کرتے ہیں۔ اور ان سیاروں اور افلاک کی گردش کے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جیسا کہ غالب کے درج ذیل شعر سے بھی معلوم ہوتا ہے۔
رات دن گردش میں ہیں سات آسمان۔۔ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
اس آیت میں سیاروں کے گردش کا تو ذکر موجود ہے لیکن یہ بھی بتلا دیا گیا کہ یہ فلک (مدار) گردش نہیں کرتے۔
Ayah 21:3432 جب کفار مکہ کے ظلم و ستم اور چیرہ دستیوں سے تنگ آکر 80 کے قریب مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ تو قریش مکہ کے سب گھروں میں کہرام مچ گیا۔ کیونکہ مشکل ہی سے کوئی گھرانا ایسا بچا رہ گیا ہوگا جس کے کسی لڑکے یا لڑکی نے ہجرت نہ کی ہو۔ ان لوگوں کو اپنی ایذا رسانیوں کا تو خیال تک نہ آتا تھا مگر یہ ضرور سمجھتے تھے کہ ہمارے گھروں کی بربادی کا باعث صرف یہ شخص (محمد ﷺ ہے۔ لہذا وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر یہ شخص مرجائے تو ہمارے گھر پھر سے آباد ہوسکتے ہیں۔ پھر وہ آپ کے لئے موت کی بددعا بھی کرتے تھے۔ اس آیت میں انہی لوگوں کو مخاطب کرکے بتلایا جارہا ہے کہ موت ہر ایک کو آنے والی ہے۔ پہلے بھی سب لوگ۔۔ اور اس نہی کو بھی اپنے وقت پر موت آنے والی ہے۔ مگر تم بتاؤ کہ تم موت سے بچ سکتے ہو۔ وہ تو تمہیں بھی آکے رہے گی اور کیا معلوم کہ تم سے اکثر اس سے پہلے ہی مرجائیں۔
Ayah 21:3533 فتنہ سے مراد ایسی آزمائش ہے جس کا انسان کو پتہ بھی نہ چلے اور وہ اندر ہی اندر اپنا کام کئے جارہی ہو۔ جیسے مال اور اولاد اور دوسری مرغوبات کی محبت انسان کے لئے فتنہ ثابت ہوتی ہے۔ اس آیت میں خیر سے مراد مالی دولت کی فراوانی اور خوشحالی کا زمانہ ہے اور شر سے مراد تنگ دستی اور بدحالی کا دور۔ اور اللہ تعالیٰ ہر حال میں ہی انسان کی آزمائش کرتا رہتا ہے۔ ایک مومن تو خوشحالی کے اوقات میں اللہ کا شکر ادا کرکے اور تنگ دستی کے دور میں مصائب پر صبر کرکے اس آزمائش میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دنیوی اور اخروی انعامات کا مستحق بن جاتا ہے۔ لیکن ایک دنیا دار پر جب مال و دولت کی فراوانی اور خوشحالی کا دور آتا ہے تو اس کا دماغ ہی درست نہیں رہتا اور اس میں فرعونیت اور تکبر آجاتا ہے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور اگر برے دن آجائیں تو صبر کرنے کی بجائے کفر و شرک راہوں۔۔ کرتا ہے اور در در پر اپنی ناک رگڑنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ دنیا و آخرت میں اللہ کے غضب کا مستحق بن جاتا ہے۔
Ayah 21:3634 یعنی مشرکین مکہ کے نزدیک ان کے اپنے معبودوں کی شان نبی ﷺ کے مقابلہ میں بہت ارفع و اعلیٰ تھی۔ لہذا وہ آپ کو دیکھ کر از راہ مذاق و استہزا یوں کہتے کہ دیکھو یہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کی باتیں کرتا ہے (یعنی ان کے مقابلہ میں اس کی اوقات ہی کیا ہے ؟ ) حالانکہ آپ ان کے معبودوں کو نہ گالی دیتے تھے اور نہ برا بھلا کہتے تھے۔ اور کہتے تھے تو صرف یہ کہتے تھے کہ تمہارے یہ معبود تمہارا نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں۔ اور اسے ہی وہ اپنے لئے سب سے بڑی گالی سمجھتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک آپ کے اس نظریہ سے ان کے معبودوں کی، ان کی اپنی اور ان کے آباؤ و اجداد کی سب کی توہین ہوجاتی تھی۔ اب وہ سنجیدگی سے معاملہ کو سمجھنے کی کوشش تو کرتے نہیں تھے۔ مگر ضد اور تعصب میں آکر آپ کا مذاق اڑانے لگتے تھے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جب اس ہستی کا ذکر ہوتا جو فی الواقعہ ہر ایک کے نفع و نقصان کی مالک ہے تو انھیں یہ تکلیف شروع ہوجاتی کہ اللہ اکیلے کا کیوں ذکر کرتا ہے اور ہمارے معبودوں کو کیوں ساتھ شامل نہیں کرتا، حالانکہ اللہ کو وہ خود بھی اپنے معبودوں سے بڑا معبود سمجھتے تھے اور جب موت سامنے کھڑی نظر آتی تو اسے ہی پکارتے تھے۔ لہذا اللہ اکیلے کو پکارنے میں بھی تکلیف ہوتی تھی۔ اور رحمن کے لفظ سے تو انھیں ویسے بھی چڑ تھی جیسا کہ پہلا سورة رعد کی آیت نمبر 30 کے حاشیہ نمبر 39 میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 21:37–3835 یعنی جلد بازی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ وہ چاہتا یہ ہے کہ جو خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی ہے وہ جلد از جلد وقوع پذیر ہوجائے۔ خواہ یہ خواہش اچھی ہو یا بری۔ اس آیت میں چونکہ انسان کی فطرت کا ذکر ہوا ہے۔ لہذا اس آیت کے مخاطب مسلمان بھی ہوسکتے ہیں اور کافر بھی۔ بات یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے دعوت اسلام کے سلسلہ میں قرآن میں مذکور وعید سنائی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرو گے، ان کا مذاق اڑاؤ گے یا یہ راستہ روکو گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ جیسا کہ سابقہ اقوام پر آچکا ہے۔ اب کافر یہ سوچتے تھے کہ اس دعوت کا علی الاعلان انکار بھی کر رہے ہیں اور صرف انکار ہی نہیں ان مسلمانوں پر سختیاں بھی کر رہے ہیں۔ اور اتنی مدت گزر چکی ہے تو ہمارا تو بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ لہذا اب وہ بےباک ہو کر کہنے لگے کہ یہ روز روز کی تکرار چھوڑو اور جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے ؟ اور ممکن ہے کہ بعض مسلمانوں کو بھی یہ خیال آتا ہو کہ ان ظالموں پر اگر فوراً عذاب آجائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ ہر کام کا میرے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے اور وقت معین ہے۔ لہذا اپنے وقت تمہیں ایسی سب نشانیاں دکھلا دی جائیں گی اور ان نشانیوں کے وقوع پذیر ہونے کی داغ بیل آپ کے واقعہ ہجرت سے ہی پڑگئی تھی۔
Ayahs 21:39–4036 یعنی ان کے اس مطالبہ کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس آگ کے عذاب سے انھیں ڈرایا جاتا ہے اس پر ان کا یقین ہی نہیں۔ اگر ان پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے اور وہ اس ہولناک گھڑی کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں تو کبھی ایسی درخواست نہ کریں۔ پھر جب وہ وقت سامنے آجائے گا اور انھیں آگے سے پیچھے سے، دائیں سے بائیں سے، اوپر سے، نیچے سے غرض ہر طرف سے آگ گھیرے ہوئے ہوگی تو اس سے بچاؤ کی انھیں کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ اور آج جو کچھ یہ باتیں بنا رہے ہیں اس دن ایسے حواس باختہ ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بات بھی انھیں یاد نہ رہے گی۔